Pages - Menu

نزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام - قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)

 نزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام 

قیامت کی علاماتِ کبری میں تیسری علامت حضرت عیسی علیہ السلام کا آسمانوں سے نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا ہے، نزولِ  حضرت عیسی علیہ السلام  کا عقیدہ قرآن کریم، احادیثِ متواترہ اور اجماع اُمت سے ثابت ہے، اس کی تصدیق کرنا اور اس پر ایمان لانا ھر مسلمان پر فرض ہے، اور مسلمان ہونے کے لئے اس پر یقین ھونا ضروری ہے، اس عقیدے کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔ آسمانوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ جب حضرت امام مہدی علیہ الرضوان  مدینہ منورہ سے ہوکر دمشق پہنچ چکے ہوں گے اور دجال بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے دھتکارا ہوا دمشق کے قریب پہنچ گیا ہوگا، امام مہدی علیہ الرضوان  اور یہودیوں کے درمیان جنگیں زوروں پر ہوں گی کہ ایک دن فجر (  بعض کتابوں کے مطابق جن میں بہشتی زیور بھی شامل ھے عصر ) کی نماز کا وقت ہوگا، اَذانِ  ہوچکی ہوگی، لوگ نماز کی تیاری میں مشغول ہوں گے کہ اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمان سے اُترتے ہوئے نظر آئیں گے، سر نیچے کریں گے تو پانی کے قطرے گریں گے، سر اُونچا کریں گے تو چمک دار موتیوں کی طرح دانے گریں گے، دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی جانب کے سفید رنگ کے مینار پر نزول فرمائیں گے، وہاں سے سیڑھی کے ذریعے نیچے اُتریں گے، 

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ  (متوفی 241ھ) نے نزولِ حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق  مسند احمد بن حنبل میں کسی قدر طویل اور مفصّل روایت کو نقل کیا ہے جس میں نزولِ حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کے متعلق تفصیل سے علامات ملتی ہیں جس سے اُن کو اُن کی آمد کے وقت پہچاننا باآسانی ممکن ہو سکے گا۔ مسند احمد بن حنبل میں نقل کردہ روایت کے مطابق بوقت نزولِ حضرت  عیسی علیہ السلام کا حلیہ یوں ہوگا: ’’میانہ قد، سرخ و سفید رنگت والے ہوں گے، اُن کے بدن پر سرخی مائل دو چادریں ہوں گی اور وہ اِس حال میں نازل ہوں گے کہ گویا ابھی غسل کرکے آ رہے ہیں (یعنی سر کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہوگا)۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام عدل و انصاف قائم کریں گے، عیسائیوں کی صلیب توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ کو ختم کردیں گے، یہودیوں اور دجال کو قتل کریں گے، یہاں تک کہ یہودی ختم ہوجائیں گے، ان کے سانس میں یہ تاثیر ھو گی کہ جس کافر کو ان کا سانس پہنچے گا وہ وہیں مرجائے گا، ”بابِ لُدّ“ پر دجال کو قتل کریں گے، ان کی زمانے میں زمین  اپنی برکات اگل دے گی ۔ مال کی اتنی فراوانی ہوجائے گی کہ کوئی اسے قبول  کرنے والا نہیں ھو گا۔ حضرت اِمام مہدی علیہ الرضوان   کی وفات کے بعد تمام انتظام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سنبھالیں گے، دجال کو قتل کرنے کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام مسلمانوں کے احوال کی اصلاح فرمائیں گے، ان کے زمانے میں یاجوج ماجوج  نکلیں  گے  حضرت عیسی علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسلمانوں کو  کوہِ طور پر لے جائیں  گے اور یاجوج ماجوج کے لئے بد دعا کریں گے، اللہ تعالی کے حکم سے تمام یاجوج ماجوج ختم ھو جائیں گے ۔ اس دوران حضرت عیسی علیہ السلام  نکاح بھی کریں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی، چالیس یا پینتالیس یا انچاس برس کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام  کی وفات ہوگی، مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوگا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے روضہٴ مبارک میں دفن ہوں گے،

واضح رہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے متعلق درست اور اسلامی عقیدہ یہی ہے کہ وہ اللہ تعالی کے بندے اس کے نبی اور رسول ہیں اور  اللہ تعالٰی نے ان کو یہود و نصاری کی سازش اور مکر وفریب سے محفوظ رکھ کر انہیں آسمانوں کی طرف اُٹھا لیا ہے اور وہ آسمانوں پر حیات ہیں اور قیامت سے پہلے دوبارہ اللہ کے حکم سے دنیا میں تشریف لائیں گے اور دینِ محمدی کی پیروی کریں گے یہی مسلمانوں کا عقیدہ ہے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کی رفع الی السماء اور  حیات سے متعلق  قرآن کریم کی کئی آیات مبارکہ اور بہت ساری  احادیث مبارکہ اس ہر شاھد   ہیں

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، جس کی تصدیق قرآن و حدیث دونوں سے ہوتی ہے۔ اس پر ایمان لانا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ یہ عقیدہ نہ صرف ایمان کی پختگی کا ذریعہ ہے بلکہ ہمیں یہ یاد بھی دلاتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور قیامت ضرور برپا ہوگی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ایمان پر مضبوط رہیں، گناہوں سے بچیں، اور آخرت کی تیاری میں کوشاں رہیں۔ نزولِ مسیح کا مقصد یہی ہے کہ حق غالب آئے، باطل مٹ جائے، اور عدل و انصاف کا قیام ہو۔