“دابة الارض “ والے واقعہ کے کچھ ہی روز بعد جنوب کی طرف سے ( ملک شام کی طرف سے ) ایک ٹھنڈی اور نہایت فرحت بخش خوشبو دار ہوا چلے گی، جو ھر ھر مسلمان کو لگے گی جس سے تمام مسلمانوں کی بغل میں کچھ نکل آئے گا، جس سے وہ سب مرجائیں گے، حتیٰ کہ اگر کوئی مسلمان کسی غار میں چھپا ہوا ہوگا اس کو بھی یہ ہوا پہنچے گی اور وہ وہیں مرجائے گا، لیکن کسی کافر کو اس ھوا کا کوئی اثر نہیں ھوگا البتہ اگر کسی کے دل میں ایک ذرہ برابر بھی ایمان ھو گا تو اس کی بھی موت واقع ہو جائے گی۔اس کے بعد مشرکین اور کافر ھی باقی رہ جائیں گے اور پھر قیامت بھی انہی پر قائم ہوگی۔ اس ھوا کے بعد رُوئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں ہوگا، سب کافر ہوں گے اور شرار الناس یعنی بُرے لوگ باقی رہ جائیں گے۔
حدیث مبارکہ میں ھے
۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت بدترین لوگوں پر واقع ہوگی، اس وقت مومن اور نیکوکار لوگ موجود نہیں ہوں گے۔(صحیح مسلم )
یہ ہوا کستوری جیسی خوشبودار اور ریشم کی طرح نرم و لطیف ہوگی۔جو لوگ دنیا میں باقی رہ جائیں گے وہ بدترین اور زانی شرابی انسان ہوں گے، جن کے درمیان گناہ اور بے حیائی عام ہو جائے گی۔ انہی کافروں اور برے لوگوں پر قیامت قائم ہوگی ۔ مسلمانوں کے جانے کے بعد دنیا کا نظام مکمل طور پر بدل جائے گا، کعبہ کو ڈھا دیا جائے گا، اور قرآن پاک دلوں اور اوراق سے اٹھا لیا جائے گا۔