Pages - Menu

سجدۂ سہو کے مسائل (حنفی مسلک کی تشریحات کی روشنی میں )

 سجدۂ سہو 

   “ سہو “ کا معنی  ھے بھولنا ،  نماز میں بھول کی وجہ سے جو کمی پیدا ہو جاتی ہے،اس کمی کو دور کرنے کے لئے شریعتِ مطہرہ نے سجدۂ سہو کرنے کی آجازت دی ھے اس مقصد کے لئے آخری قعدہ میں دو سجدے کئے جاتے ہیں،اس کو"سجدہ سہو" کہا جاتا ہے۔ سجدۂ سہو کر لینے سے نماز مکمل ھو جاتی ھے 


نماز میں سجدہ سہو  واجب ہونے کے  اسباب

نماز میں سجدہ سہو  واجب ہونے کے کیا اسباب ھوتے ہیں؟  یہ ھر نمازی کے لئے جاننا بہت  ضروری ھے کیونکہ ان میں سے جب بھی کوئی سبب پایا جاتا ھے  تو سجدہ سہو واجب ہوجاتا ھے اور سجدۂ سہو  نہ کرنے کی صورت میں نماز نہیں ھوتی بلکہ نماز دوبارہ پڑھنا ضروری  ھو جاتا ھے

نماز میں سجدہ سہو  واجب ہونے کے درج ذیل اسباب ہیں، ان میں سے جب بھی کوئی سبب پایا جائے تو سجدۂ سہو واجب ہوجائے گا۔ یعنی  نماز میں بھول کر درج ذیل غلطیاں کرنے سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔

[۱] ترک واجب ۔[۲] تقدیم واجب ۔[۳]تاخیر واجب ۔[۴]تبدیل واجب ۔[۵]تکرار واجب [۶] تقدیم فرض۔ [۷] تاخیر فرض۔[۸] تکرار فرض۔


:[۱] ترکِ واجب : 

اس کا مطلب یہ ہےکہ نماز کے واجبات میں سے کوئی ایک یا ایک سے زیادہ واجب  کسی شخص سے بھول کر رہ جائیں . مثلا  فرض کی پہلی یا دوسری  رکعت میں سورت فاتحہ رہ گئی تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۲] تقدیمِ واجب: 

اس کا مطلب ہےکہ کسی واجب کو اس کے اصلی وقت سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ مثلا فرض نماز کی پہلی یا دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے کوئی سورت پڑھ لی ، تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۳]تاخیرِ واجب: 

اس کا مطلب ہے کہ کسی واجب کو اس کےاصلی مقام کے بعد ادا کرنا۔ مثلا کسی شخص نے سورۃ فاتحہ کو رکوع میں پڑھ لیا حالانکہ اس کا مقامِ اصلی قیام تھا،تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۴]تبدیلِ واجب: 

اس کا مطلب ہےکہ کسی ایک واجب کو دوسرے واجب سے تبدیل کرنا۔ مثلا امام نے جہری نماز میں سری قرآت کر دی یا سری نماز میں جہرا قرآت کر دی تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۵] تکرارِ واجب؛

اس کا مطلب ہے کہ کسی واجب کو ایک سے زیادہ مرتبہ ادا کرنا۔ مثلا پہلے قعدہ میں ایک مرتبہ کی بجائے دو مرتبہ "التحیات" پڑھ لی تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۶] تقدیمِ فرض: 

اس کا مطلب ہے کہ کسی فرض کو اس کے اصلی مقام سے پہلے اداکرنا۔ مثلارکوع چھوڑ کر سجدہ کیا پھر سجدہ سے واپس آکر رکوع کردیا اور دوبارہ سجدہ کیا تو آخر میں سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۷]تاخیر فرض: 

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی فرض کو اس کے اصلی مقام سے موخر کرنا۔مثلا ایک ہی سجدہ کیا پھر سلام سے پہلے یاد آیا تو دوسرا سجدہ کر دیا تو اب سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۸]تکرار فرض: 

اس کا مطلب یہ ہےکہ کسی فرض کو اس کی مقررہ حد سے زیادہ مرتبہ ادا کرنا۔ مثلا بھول کر دو رکوع کر دیے یا بھول کر تین سجدے کر دیے تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔


سجدہ سہو کرنے کا مکمل طریقہ

سجدہ سہو  کا طریقہ یہ ہے کہ قعدہ اخیرہ میں پوری التحیات پڑھنے کے بعد (درود شریف اور دعا پڑھے بغیر) صرف دائیں طرف سلام پھیر کر دو سجدے کرلیے جائیں، اور ہر سجدے میں حسبِ معمول  "سبحان ربي الأعلى" کہے اور سجدے کے بعد  بیٹھ  کر التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر دائیں اور بائیں سلام پھیر دیا جائے۔ سجدہ سھو کرنے کے اس کے علاوہ اور بھی طریقے ھیں۔  تاھم نصوص کی روشنی میں فقہاءِ احناف نے اسی طریقے کو ترجیح دی ہے، لہٰذا فقہ حنفی کے مطابق اسی پر عمل کیا جائے۔


سجدۂ سہو کے بعض مسائل

اگر کوئی قعدہ اخیرہ میں بھول کر تشہد، درود شریف اور دعا پڑھ چکا ہو، اور پھر اسے یاد آئے کہ مجھ پر سجدہ سہو لازم ہے، تو اسی وقت دائیں طرف سلام پھیرنے کے بعد وہ سہو کے دو سجدے کرکے دوبارہ التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیرے تو سجدہ سہو ادا ہوجائے گا۔

سجدہ سہو  واجب ہونے کے بعد ساقط نہیں ہوتا، بلکہ اس کو ادا کرنا ضروری ہوتا ہے،  اگر  نماز میں سجدہ سہو واجب ہوجائے اور اس کو نہیں کیا تو ایسی نماز کا وقت کے اندر اعادہ واجب ہوتا ہے

اگر کسی شخص کو یہ گمان تھا کہ اس پر سجدہ سہو واجب ھو گیا ہے اور اس نے سجدہ سہو کرلیا بعد میں اُسے پتہ چلا کہ اس پر سجدہ سہو نہیں تھا تو اس کی نماز بلاکراہت صحیح ہوگئی ھے، اعادہ کی ضرورت نہیں

 فرض ترک ہو جانے سے نماز جاتی رہتی ہے ۔ سجدۂ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہو سکتی لہٰذا نماز دوبارہ پڑھے اور سنن و مستحبات مثلاً تعوذ، تسمیہ ، آمین، تکبیرات انتقال اور تسبیحات رکوع و سجود کے ترک سے بھی سجدۂ سہو نہیں ھے بلکہ نماز ہو گئی مگر اعادہ مستحب ہے ۔سہوا ً ترک کیا ہو یا قصداً۔

کسی واجب کو جان بوجھ کر ترک کر دیا تو سجدہ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہوگی بلکہ اُس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا۔اسی طرح اگر بھول کر کسی واجب کو چھوڑ دیا اور سجدہ سہو نہیں کیا تب بھی نماز کا دو بارہ پڑھنا واجب ہوگا۔ ایک نماز میں کئی واجب بھول سے چھوٹ جائیں تو اس صورت میں بھی سہو کے دو سجدے ہی کافی ہیں۔

چار رکعت والی فرض یا وتر میں قعدۂ اولیٰ بھول کر تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہو رہا تھا کہ یاد آگیا تو  حکم یہ ہے کہ جب تک سیدھا کھڑا نہ ہو۔لوٹ آئے اور سجدۂ سہو  نہیں اور اگر سیدھا کھڑا ہو گیا تو نہ لوٹے اور آخر میں سجدۂ سہو  کرے اور اگر سیدھا کھڑا ہو کر لوٹا تو پھر سجدۂ سہو  کرے ، نماز ہو جائے گی۔ مگر گناہگار ہوگا۔ لہٰذا حکم ہے کہ اگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو واپس نہیں آئے۔

اگر سنت اور نفل کا قعدہ نہیں کیا اور بھول کر کھڑا ہو گیا تو کیونکہ سنت اور نفل کا ہر قعدہ ،قعدۂ اخیرہ ہے یعنی فرض ہے،اس لئے اگر قعدہ نہیں کیا اور بھول کر کھڑا ہو گیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہیں کیا ہو لوٹ آئے اور سجدہ سہو کرلے۔

اگر قعدۂ اخیرہ میں التحیات پڑھنے کے بعد بھول کر کھڑا ہو گیا تو جب تک اُس رکعت کا سجدہ نہیں کیا ہو تو واپس لوٹ آئے اور دوبارہ التحیات پڑھے بغیر سجدہ سہو کرے، پھر التحیات درود شریف  وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔

قعدۂ اولیٰ میں بھول کر درود شریف بھی پڑھ دیا تو اگر "اللھم صل علی محمد" یا اللھم صل علی سیدنا" تک یا اس سے زیادہ پڑھا تو سجدہ سہو واجب ہے اور اگر اس سے کم پڑھا تو سجدہ سہو نہیں ھے مگر یہ حکم صرف فرض، وتر اور ظہر وجمعہ کی پہلی چار رکعت والی سنتوں کے لئے ہے،باقی دوسرے سنتوں اور نفل نمازوں کے ہر قعدہ میں درود شریف بھی پڑھنے کا حکم ہے۔

 جس پر سجدہ سہو واجب تھا لیکن بھول کر سجدہ سہو نہیں کیا اور نماز ختم کرنے کی نیت سے سلام پھیر دیا تو سلام پھیرنے کے فورا بعد یا د آگیااور ابھی تک کوئی ایسا کام نہیں کیا جو نماز کے منافی ہو تو سجدہ سہو کرے اور تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے نماز ہو جائے گی،لیکن اگر سلام پھیر نے کے بعد کوئی بات کر لی  یا کھڑا ہوگیا پھر یاد آیا تو اب پھر سے نماز پڑھے۔

سجدہ سہو واجب نہیں تھا اور کر لیا تو تنہا نماز پڑھنے کی صورت میں ایسا کیا تو نماز ہو گئی اور اگر امام نے ایسا کیا تو امام اور وہ مقتدی جو پہلی رکعت سے آخر تک امام کے ساتھ پڑھ رھے تھے  ان سب کی نماز ہوگئی،البتہ  مسبوق کی نماز میں اختلاف ہے ، فساد اورعدم فساد دونوں قول منقول ہیں ۔ ایسی صورت میں مسبوق کا  احتیاطا  نماز کا اعادہ کرنا بہتر ہے تاھم  اعادہ نہ کرنے کی بھی گنجائش ہے ۔  امام کے ساتھ سجدہ سہو کرنے کی صورت میں مسبوق کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ سجدہ سہو کا سلام نہ پھیرے، البتہ سجدے اور تشہد میں امام کی متابعت کرے۔

نماز میں شک ہونے کی صورت میں کہ سجدہ سہو واجب ہے یا نہیں؟ تو واضح رھے کہ  شک کی سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے لیکن  غلبۂ ظن میں نہیں مگر جبکہ سوچنے میں ایک رکن کا وقفہ ہوگیا تو سجدۂ سہو واجب ہو گیا۔

اگر مفرد یا امام چوتھی رکعت کے قعدہ میں بیٹھا تھا اور اس کے بعد  پانچویں رکعت کے لیے غلطی سے کھڑا ہوگیا تو  اس کے لیے یہ حکم ہے کہ  جب تک  وہ پانچویں رکعت کا سجدہ  نہ کرلے  قعدہ  کی طرف  واپس لوٹ آئے  اور سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرلے، اور اگر  پانچویں رکعت کا سجدہ کرلیا ہو تو اب اس کے  ساتھ چھٹی رکعت بھی ملادے اور آخر میں سجدہ سہو کرلینے سے نماز ہوجائے گی، چار رکعت فرض اور دو نفل ہوجائے گی۔

اور اگر مفرد یا  امام نے  چوتھی رکعت پر قعدہ  نہیں کیا تھا اور اس کے بعد پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا تو پانچویں رکعت کے سجدہ سے پہلے پہلے واپس قعدہ میں آجائے، اور سجدہ سہو کرکے نماز  مکمل کرلے، اور اگر پانچویں رکعت کا سجدہ بھی کرلیا ہو تو اب  فرض نماز باطل ہوگئی،  اب اس نماز کا اعادہ کرنا لازم ہے۔

اللہ پاک ھمیں عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے

آمین یا رب العالمین