Pages - Menu

▼

جانوروں کی زکوٰۃ کے آحکام

مندرجہ ذیل تین قسم کے جانوروں کی زکوٰۃ فرض ہے جبکہ وہ سائمہ ہوں: 

اونٹ  : مذکر اور مونث

گائے: مذکر اور مونث نیز بھینس بھی گائے کے حکم میں شامل ھے

بکری : مذکر اور مونث ، بھیڑ،  دنبہ بھی اس میں شامل ھے 


گھوڑے گدھے خچر اگرچہ چرائی پر ہوں ان کی زکوٰۃ نہیں ہاں اگر تجارت کے لیے ہوں توان کی قیمت لگا کر اس کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ میں دیں۔ (درمختار ) 


سائمہ بننے کی شرائط

سائمہ بننے کے لئے درج ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ھے

1۔ وہ سال کے اکثر حصہ میں جنگل بیابان میں خود چرکر گزارا کرتے ہوں، اگر آدھے  سال یا اس سے کم چرکر گزارا کرتے ہوں تو زکاۃ واجب نہیں ہے، اسی طرح جن جانوروں کو گھر میں رکھ کر چارا کھلایا جاتا ہے، جیساکہ ڈیری فارم والے لوگ بھینس وغیرہ باڑے میں پالتے ہیں، ان میں بھی زکاۃ واجب نہیں ہے۔


2۔ان جانوروں کو چرانے کا مقصد ان سے دودھ حاصل کرنا یا ان کی نسل چلانا ہو؛ لہٰذا جن جانوروں کا گوشت کھانے، کھلانے کے لیے یا سواری کے لیے یا کھیت جوتنے وغیرہ کے لیے  پالا جائے تو ان میں زکاۃ واجب نہیں۔


3۔۔  جانوروں کا اتنا صحت مند ہونا شرط ہے کہ بڑھوتری ممکن ہو، اگر ایسے کمزور اور مریل جانور ہوں کہ ان میں اضافے کا امکان نہ ہو تو ان میں زکاۃ واجب نہیں۔


4۔۔  وہ جانور سب کے سب بچے نہ ہوں؛ بلکہ ان میں کوئی نہ کوئی بڑا جانور بھی ہو (اگر سب بچے ہی بچے ہوں تو زکاۃ فرض نہیں)۔


مذکورہ شرائط پائے جانے کے بعد نصاب کا پورا ہونا ضروری ہے، یعنی وہ جانور نصاب کے عدد کو پہنچ جائیں اور ان پر سال گزرجائے،