اسلام میں نہ صرف یہ کہ گناہ کرنا جرم ھے بلکہ گناہ کا چرچا کرنا ، فحاشی کو پھیلانا اور دل میں اس کی خواھش رکھنا بھی شدید ناپسندیدہ اور گناہِ کبیرہ کے زمرے میں آتا ھے قران مجید اور احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں اس حوالے سے واضح احکامات موجود ہیں چنانچہ ارشادِ باری تعالی ھے
اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ فِى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۙ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۞
ترجمہ: جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے ، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اور اللّٰه جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
(سورہ النور آیت،19)
- گناہ کا چرچا کرنا : رسول اللہ ﷺ نے گناہوں کا چرچا نہ کرنے اور اس پر نادم ہونے کی تلقین فرمائی ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: "میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوائے مجاہرین (علانیہ گناہ کرنے والوں اور اس کا چرچا کرنے والوں) کے" (صحیح بخاری)۔
بے حیائی کو پھیلانا یا اسے دیکھ کر خوش ہونا انسان کے دل سے ایمان کی مٹھاس کو ختم کر دیتا ہے اور معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔
بے حیائی (فحاشی) کی اشاعت ایک جامع بات ہے جس میں زنا، تہمت زنا، بے حیائی کی باتوں کا چرچا کرنا اور انسان کو زنا کی طرف مائل کرنے وا لی باتیں اور حرکتیں کرنا سب شامل ہیں۔ موجودہ زمانہ میں اشاعتِ فحاشی کے ماڈرن طور طریقے ایجاد ہوگۓ ہیں مثلاً نائٹ کلب، مخلوط تیراکی اور کُشتی کے مظاہرے، عشق بازی کا جنون پیدا کرنے وا لی فلمیں، جنسی بے راہ روی پیدا کرنے والے اور اخلاق سوز گانے، ذہنوں پر عورت کا بھوت سوار کرانے والے اشتہارات، حسن کے مقابلے، ٹی وی پر عورتوں کے بے ڈھنگے پن کے مظاہرے، ہیجان انگیز ناولیں اور افسانے، اخبارات و رسائل میں عورتوں کی برہنہ اور نیم برہنہ تصویریں اور ڈانس کے پروگرام وغیرہ۔
'' حدیث مبارکہ ھے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ہدایت )نیکی( کی طرف بلائے' اسے ہدایت )نیکی( پر چلنے والوں کا بھی ثواب ملے گا اور چلنے والوں کے ثواب میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی..
اور جو شخص گمراہی )برائی( کی طرف بلائے' اس کو گمراہی )برائی( پر چلنے والوں کا بھی گناہ ہوگا اور ان چلنے والوں کے گناہ میں بھی کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی
(صحیح مسلم )
دورِ حاضر میں اس حدیثِ مبارکہ کو سمجھنے کے لئے ''انٹرنیٹ '' ایک بہترین مثال ہے! یعنی جو لوگ اپنی اور لوگوں کی اصلاح و ہدایت کے لئے اسلامک پیجز، ویب سائٹس وغیرہ بنا کر دین کی تبلیغ کے لئے کوشاں رھتے ہیں وہ یقینا بہت بڑے ثواب کے مستحق ہیں اور جو لوگ اسلامک پیجز، ویب سائٹس وغیرہ سے منسلک ہیں اور دینی پوسٹ شئیر کرکے اللہ کا پیغام آگے پھیلاتے ہیں تو وہ بھی ثواب کے حقدار ہیں۔
دورِ حاضر میں اس حدیثِ مبارکہ کو سمجھنے کے لئے ''انٹرنیٹ '' ایک بہترین مثال ہے! یعنی جو لوگ اپنی اور لوگوں کی اصلاح و ہدایت کے لئے اسلامک پیجز، ویب سائٹس وغیرہ بنا کر دین کی تبلیغ کے لئے کوشاں رھتے ہیں وہ یقینا بہت بڑے ثواب کے مستحق ہیں اور جو لوگ اسلامک پیجز، ویب سائٹس وغیرہ سے منسلک ہیں اور دینی پوسٹ شئیر کرکے اللہ کا پیغام آگے پھیلاتے ہیں تو وہ بھی ثواب کے حقدار ہیں۔
دوسری طرف جو لوگ ''انٹرنیٹ '' کے ذریعہ لوگوں میں فحاشی پھیلا رہے ہیں تو ان پر گمراہ ہونے اور دوسرے لوگوں کو گمراہ کرنے کا گناہ ہوگا اور جو لوگ ایسے پیجز سے منسلک ہیں وہ بھی برابر کے گناہ گار ہو رہے ہیں۔
اس لیے جو شخص بھی آخرت کی زندگی میں خیر چاہتا ہے وہ اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں خود اپنے گریبان میں جھانکے، اپنا محاسبہ کرے اور باریک بینی سے اپنے اعمال کا جائزہ لے اور اگر خدانخواستہ اس سے یہ گناہ سرزد ہو رہا ہے تو بغیر کسی تآخیر کے اللہ تعالی کے سامنے اپنی گذشتہ غلطیوں پر ندامت کا اظہار کرے اور آئندہ کے لئے سچی اور پکی توبہ کرکے اس مصیبت سے کلی طور پر جان چھڑا لے ورنہ روز قیامت سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا اور پھر صرف پچھتاوے ہی مقدر بن کر رہ جائیں گے..!!
اللّٰہ تعالٰی ہم سب کو صراطِ مستقیم پر چلنےاور ہر گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے!
آمین یا رب العالمین
والحمد للہ رب العالمین
والحمد للہ رب العالمین