نماز کے چودہ واجبات ھیں جیسا کہ مفتئ اعظم ہند مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "تعلیم الاسلام" میں ان کا ذکر کیا ھے ۔ نمازی کا ان واجبات کو جاننا بہت ضروری ھے۔ نماز کے واجبات کا حکم یہ ھے کہ ان میں سے اگر کوئی واجب بھولے سے چھوٹ جائے تو سجدۂ سہو کر لینے سے نماز درست ہوجاتی ہے اور اگر قصداً ( جان بوجھ کر ) کوئی واجب چھوڑ دیا جائے تو سجدہ سہو کرنے سے بھی نماز نہیں ھوتی بلکہ نماز فاسد ھو جاتی ھے اور اس نماز کا اعادہ کرنا واجب ہوتا ہے کیونکہ سجدۂ سہو سے بھی اس نقصان کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ بھولے سے چھوٹنے کی صورت میں اگر سجدۂ سہو کرنا بھی بھول جائے تو اس نماز کا وقت کے اندر اندر اعادہ کرنا واجب ہوگا۔
واجباتِ نماز
- فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں کو قراءت کے لیے مقرر کرنا۔
- فرض نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت کے علاوہ تمام نمازوں کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا۔
- فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں اور واجب اور سنت اور نفل نمازوں کی تمام رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے بعد کوئی سورت یا بڑی ایک آیت یا چھوٹی تین آیتیں پڑھنا۔
- سورۂ فاتحہ کو سورت سے پہلے پڑھنا۔
- قراءت اور رکوع میں اور سجدوں اور رکعتوں میں ترتیب قائم رکھنا۔
- قومہ کرنا یعنی رکوع سے اُٹھ کر سیدھا کھڑا ہونا۔
- جلسہ یعنی دونوں سجدوں کے درمیان میں سیدھا بیٹھ جانا۔
- تعدیلِ ارکان یعنی رکوع، سجدہ وغیرہ کو اطمینان سے اچھی طرح ادا کرنا۔
- قعدۂ اولیٰ یعنی تین اور چار رکعت والی نماز میں دو رکعتوں کے بعد تشہد کی مقدار بیٹھنا۔
- دونوں قعدوں میں تشہد پڑھنا۔
- امام کو نمازِ فجر، مغرب، عشاء جمعہ، عیدین، تراویح اور رمضان شریف کے وتروں میں آواز سے قراءت کرنا، اور ظہر، عصر وغیرہ نمازوں میں آہستہ پڑھنا۔
- لفظِ سلام کے ساتھ نماز سے علیحدہ ہونا۔
- نمازِ وتر میں قنوت کے لیے تکبیر کہنا اور دعائے قنوت پڑھنا۔
- دونوں عیدوں کی نماز میں چھ زائد تکبیریں کہنا۔
اللہ پاک ھمیں خشوع و خضوع کے ساتھ نمازیں ادا کرنے کی توفیق عنایت فرمائے
آمین یا رب العالمین