وضو کرتے ھوئے پاؤں دھونے کی بجائے پہنے ھوئے موزوں پر مسح کرنے کی شریعت نے کچھ شرائط کے ساتھ آجازت دی ھے یعنی وضو کرتے وقت پاؤں دھونے کے بجائے ہاتھوں کی گیلی انگلیاں دائیں پاؤں کے موزے کی اوپر والی سطح پر پنجوں کی طرف سے ٹخنوں کی جانب لائی جائیں۔ دایاں ہاتھ دائیں پاؤں پر اور بایاں ہاتھ بائیں پاؤں پر پھیریں۔ ایک بار انگلیوں کو بھگو کر سیدھا لکیر کی طرح کھینچنا کافی ہے۔
مسح کا درست طریقہ
ہاتھوں کے پانی کو اچھی طرح جھاڑ لیں۔
دائیں ہاتھ کی تین یا تین سے زیادہ گیلی انگلیاں دائیں موزے کے پنجے پر رکھیں۔
انگلیوں کو ٹخنوں کی طرف کھینچتے ہوئے لے جائیں۔
اسی طرح بائیں ہاتھ سے بائیں پاؤں کے موزے پر اوپر کی جانب مسح کریں۔
مسح صرف پاؤں کے اوپر کی طرف ہوتا ہے، نیچے تلووں یا ایڑی پر مسح نہیں کیا جاتا۔
مسح کی بنیادی شرائط
پہننے والا شخص موزے پہنتے وقت غسل کی حاجت (حالتِ جنابت ) میں نہ ہو۔
دونوں موزے باقاعدہ وضو کرنے کے بعد پاؤں دھو کر پہنے گئے ہوں
موزے پہننے وقت وضو موجود ہو ( اگر وضو کیا تھا لیکن موزے پہننے سے پہلے ھی ٹوٹ گیا تو بغیر وضو پہنے ہوئے موزوں پر مسح نہیں ہو سکتا)۔
مسح کی مدت
مقیم کے لئے
مقیم (جو سفر میں نہ ہو) وہ ایک دن اور ایک رات (24 گھنٹے) تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے۔
مسافر کے لئے
مسافر تین دن اور تین راتیں (72 گھنٹے) تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے۔
کون سے موزوں پہ مسح جائز ہے؟
’’خفین‘‘ پر مسح کرنا جائز ہے اور ’’خفین‘‘ ایسے موزے کو کہتے ہیں جو پورے چمڑے کے ہوں، اسی طرح ”مجلد“ یعنی وہ موزے جن کے اوپر اور نچلے حصے میں چمڑا ہو ، اور ”منعل“ یعنی وہ موزے جن کے صرف نچلے حصے میں چمڑا ہو ان تینوں قسم کے موزوں پر مسح کرنا جائز ہے۔
اسی طرح ایسی جرابیں جن میں تین شرطیں پائی جائیں تو ان پر بھی مسح کرنا جائز ہے، وہ شرائط یہ ہیں
(1) ایسی گاڑھی (موٹی) جرابیں ہوں کہ ان میں پانی نہ چھنے یعنی اگر ان پر پانی ڈالا جائے تو پاؤں تک نہ پہنچے
(2) اتنی مضبوط جرابیں ہوں کہ بغیر جوتوں کے بھی انہیں پہن کر تین میل تک پیدل چلنا ممکن ہو
(3) وہ جرابیں کسی چیز سے باندھے بغیر اپنی موٹائی اور سختی کی وجہ سے پنڈلی پر خود قائم رہ سکیں، اور یہ کھڑا رہنا کپڑے کی تنگی اور چستی کی وجہ سے نہ ہو ۔
(4) پھٹے ہوئے موزوں یا جرابوں پر مسح کرنے کا حکم اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کتنے پھٹے ہوئے ہیں۔ اگر ایک یا دونوں موزے اتنے زیادہ پھٹے ہوں کہ پاؤں کی تین چھوٹی انگلیاں یا اس کے برابر حصہ کھل جائے تو مسح جائز نہیں ہے۔ اگر پھٹن اس سے کم ہے تو مسح درست ہے۔
ان کے علاوہ اونی، سوتی یا نائلون کی مروجہ جرابوں پر مسح کرنا ائمہ آربعہ میں سے کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں ہے۔