نماز کے مکروھات

 نماز میں ایسی حرکات جو خشوع و خضوع کو کم کریں یا جن سے منع کیا گیا ہو، 'مکروہ' کہلاتی ہیں۔ مکروہاتِ نماز  کی دو قسمیں ہیں:-

 اوّل مکروہِ تحریمی:

یہ واجب کے بالمقابل ہے اور حرام کےقریب ہے۔ 

 دوم مکروہِ تنزیہی:

 یہ سنت اور مستحب و اولیٰ کے بالمقابل ہے پس مکروہات کا علم واجبات و سنن و مستحبات کے علم سے بآسانی ہو سکتا ہے ۔ مکروھاتِ نماز یہاں بغرض وضاحت درج کئے جاتے ہیں۔


لباس سے متعلق مکروہات:

1.سدل (کپڑے کو لٹکانا) یعنی کپڑے کو بغیر پہنے ہوئے سر یا مونڈھے پر اس طرح ڈالنا کہ دونوں سرے لٹکے رہیں کپڑے کو اہلِ تہذیب اور عام عادات کے خلاف استعمال کرنا بھی سدل میں داخل ہے مثلاً چوغہ یا شیروانی یا کرتے کی آستینوں میں ہاتھ نہ ڈالے اور پہنے بغیر ہی اپنے مونڈھوں و پیٹھ پر ڈال لے یا چادر یا کمبل اس طرح اوڑھے کہ اس کے دونوں سرے لٹکے رہیں ، اگر اس کا ایک سرا دوسرے کندھے پر ڈال لے یا اور دوسرا سرا لٹکتا رہے تو مکروہ نہیں۔


2.چادر یا کسی اور کپڑے میں اس طرح لپٹ جانا کہ کوئی جانب ایسی نہ رہے جس سے ہاتھ باہر نکل سکیں ، نماز کے علاوہ بھی بلا ضرورت ایسا کرنا مکروہ ہے اور خطرے کی جگہ سخت مکروہ ہے۔


3.آستین کہنیوں تک چڑھا کر یا دامن چڑھا کر نماز پڑھنا یعنی اگر وضو وغیرہ کے لئے آستین چڑھائی تھی اور اسی طرح نماز پڑھنے لگا تو مکروہ ہے ، اور اس کے لئے افضل یہ ہے کہ نماز کے اندر عمل قلیل سے آستین اتار لے کسی نے نماز کے اندر آستین چڑھائی، اگر کہنیوں تک چڑھائی تو عملِ کثیر ہو جانے کی وجہ سے نماز ٹوٹ جائے گی اور اس سے کم ہو تو نماز نہیں ٹوٹے گی مگر مکروہ ہے ، ایسی قمیض یا کرتہ وغیرہ پہن کر نماز پڑھنا جس کی آستین اتنی چھوٹی ہو کہ کہنیوں تک ہاتھ ننگے رہیں مکروہِ تحریمی ہے۔


4.کرتہ ہوتے ہوئے صرف تہبند یا پاجامہ پہن کر نماز پڑھنا۔


5.صافہ یا ٹوپی ہوتے ہوئے بلا عذر سستی یا بے پرواہی کی وجہ سے ننگے سر نماز پڑھنا۔


6.صافہ یا رومال سر پر اس طرح باندھنا کہ درمیان میں سے سر کھلا رہے ، یہ نماز کے علاوہ بھی مکروہ ہے۔


7.جنگ کے علاوہ خود و زرہ پہن کر نماز پڑھنا۔


8.کپڑے کو اس طرح پہننا کہ اس کو داہنی بغل کے نیچے سے لے کر اس کے دونوں کنارے بائیں کندھے پر ڈال لے اس کو اضطباع کہتے ہیں جو احرام کی حالت میں طوافِ عمرہ و طوافِ حج کے لئے کرتے ہیں نماز میں اس طرح کرنا مکروہ ہے


9.ایسے معمولی یا میلے کچیلے کپڑوں میں نماز پڑھنا جن کو پہن کر وہ دوسرے بڑے لوگوں کے پاس مجمع میں نہ جائے ، اگر اس کے پاس اور کپڑے ہوں تو مکروہِ تنزیہی ہے اگر اور کپڑے نہ ہوں تو مکروہ نہیں۔


10.نماز میں ناک اور منھ ڈھانپ لینا یعنی ڈھانٹھا باندھ لینا۔


11.نماز میں اپنے کپڑے یا ڈاڑھی یا بدن سے کھیلنا یا سجدہ میں جاتے وقت کپڑوں کو سمیٹنا(اوپر اٹھانا) خواہ عادت کے طور پر ہو یا مٹی سے بچانے کے لیے۔


12.نماز میں ٹوپی یا کرتے کا اتارنا یا پہننا یا موزہ نکالنا اگر عمل قلیل سے ہو تو بلا ضرورت مکروہ ہے اور اگر ضرورت ہو تو مکروہ نہیں مثلاً نماز میں ٹوپی یا صافہ وغیرہ گر پڑا تو اٹھا کر سر پر رکھ لینا افضل ہے جبکہ عمل کثیر کی ضرورت نہ پڑے


13.عمامے کے پیچ پر جو کہ پیشانی پر واقع ہو بلا عذر سجدہ کرنا مکروہِ تنزیہی ہے اور اگر عذر ہو مثلًا گرمی یا سردی سے بچاؤ کے لئے ہو تو مکروہ نہیں اور اگر پیچ اتنا موٹا اور ملائم ہے کہ اس کے نیچے زمین کی سختی معلوم نہیں ہوتی تو ہرگز نماز جائز نہیں اور اگر عمامے کے اس پیچ پر سجدہ کیا جو پیشانی پر نہیں ہے یعنی صرف سر کے پیچ پر سجدہ کیا اور پیشانی زمین پر نہ لگی تب بھی نماز جائز نہیں ہے۔


14.صرف پیشانی پر سجدہ کرنا اور ناک نہ لگانا بلا عذر مکروہ ہے عذر کے ساتھ مکروہ نہیں۔


15.بلا عذر اپنی آستین بچھا کر اس پر سجدہ کرنا، اگر اس لئے ہو کہ چہرے کو خاک نہ لگے تو مکروہِ تنزیہی ہے اور تکبر کی وجہ سے ہو تو مکروہِ تحریمی ہے اور اگر عذر ہو مثلاً گرمی یا سردی سے بچنے کے لئے ہو تو مکروہ نہیں۔


16.سجدہ میں پاؤں کو ڈھانپنا۔


17.اسبال یعنی کپڑے کو عادت کی حد سے زیادہ بڑا رکھنا مکروہِ تحریمی ہے ، دامن اور پائنچہ میں اسبال یہ ہے کہ ٹخنوں سےنیچے ہو اور آستینوں میں انگلیوں سے آگے بڑھا ہوا ہو اور عمامہ میں یہ ہے کہ بیٹھنے میں دبے۔


18.ایسے کپڑے کو پہن کر نماز پڑھنا جس میں نجاست بقدرِ معافی ہو یعنی جبکہ نجاستِ غلیظہ ایک درہم سے زیادہ نہ ہو اور نجاست خفیفہ چوتھائی حصہ سے زیادہ نہ ہو۔


بلا ضرورت عملِ قلیل کرنے سے متعلق مکروہات:

19.نماز میں سجدہ کی جگہ سے کنکریوں کا ہٹانا لیکن اگر سجدہ کرنا مشکل ہو تو ایک مرتبہ ہٹانے میں مضائقہ نہیں۔


20.ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا یا انگلیاں چٹخانا۔


21.بالوں کو سر پر جمع کر کے چٹلا (جوڑا) باندھ کر نماز پڑھنا یا عورتوں کی طرح مینڈھیاں گوندھ کر سر کے گرد باندھ لینا وغیرہ، اگر نماز کے اندر بالوں کا جوڑا باندھےگا تو عمل کثیر کی وجہ سے نماز فاسد ہو جائے گی۔


22.نماز میں کولہے یا کوکھ یا کمر وغیرہ پر اپنا ہاتھ رکھنا۔


23.دائیں بائیں اس طرح دیکھنا کہ تمام یا کچھ منھ قبلے کی طرف سے پھر جائے مکروہِ تحریمی ہے جبکہ سینہ نہ پھرے لیکن اگر اتنی دیر تک منھ پھیرے رہا کہ دور سے دیکھنے والا سمجھے کہ یہ شخص نماز میں نہیں تو نماز فاسد ہو جائے گی، بلا منھ پھیرے گوشئہ چشم سے دیکھنا بلا ضرورت ہو تو مکروہِ تنزیہی ہے اور اگر ضرورت ہو بلا کراہت مباح ہے۔


24.نماز میں آسمان کی طرف نظر اٹھانا۔


25.نماز میں قصداً جمائی لینا مکروہِ تحریمی ہے اور خود آئے تو حرج نہیں مگر روکنا مستحب ہے اور جمائی روک سکنے کی حالت میں نہ روکنا مکروہِ تنزیہی ہے۔


26.نماز میں انگڑائی لینا یعنی سستی اتارنا مکروہِ تنزیہی ہے۔


کوئی فعل کرنے اور قلبی تشویش سے متعلق مکروہات:

27.آنکھوں کا بند کرنا مکروہِ تنزیہی ہے لیکن اگر نماز میں دل لگنے کے لئے ہو تو مکروہ نہیں لیکن پھر بھی تمام نماز میں بند نہ رکھے۔


28.پیشاب یا پاخانہ یا دونوں کی حاجت ہونے کی حالت میں یا غلبہ ریح کے وقت نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے نماز کی حالت میں ان کا غلبہ ہو تب بھی نماز پڑھتے رہنا مکروہِ تحریمی ہے اس لئے وہ نماز کو توڑ دے اور بعد فراغت وضو کر کے نئے سرے سے پڑھے ورنہ گناہگار ہو گا اور نماز کا اعادہ کرنا واجب ہو گا خواہ وہ نماز فرض و واجب ہو یا سنت و نفل۔


29.نماز میں دامن یا آستین سے اپنے آپ کو ہوا کرنا اور اگر عمل کثیر ہو گیا یعنی تین بار ہو گیا تو نماز فاسد ہو جائے گی پنکھا جھلنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔


30.نماز میں تھوکنا اور سنکنا۔


31.نماز میں تشہد اور دونوں سجدوں کے درمیان کتے کی طرح بیٹھنا یعنی رانیں کھڑی کر کے بیٹھنا اور رانوں کو پیٹ سے اور گھٹنوں کو سینے سے ملا لینا اور ہاتھوں کو زمین پر رکھ لینا۔


32.نماز میں بلا عذر چار زانو( آلتی پالتی مار کر) بیٹھنا مکروہِ تنزیہی ہے۔


33.مردوں کا سجدے کی حالت میں دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک زمین پر بچھا دینا۔


34.ہاتھ یا سر کے اشارہ سے سلام کا جواب دینا مکروہِ تنزیہی ہے۔


35.کسی ایسے آدمی کی طرف نماز پڑھنا جو نمازی کی طرف منھ کئے ہوئے بیٹھا ہو جبکہ درمیان میں کوئی حائل نہ ہو اور اس طرح نماز پڑھنے والے کی طرف منھ کر کے بیٹھنا بھی مکروہ ہے ، پس اگر کسی کے منھ کی طرف نماز پڑھنا نمازی کے فعل سے ہے تو کراہت نمازی پر ہے ورنہ اس شخص پر جس نے نمازی کی طرف منہ کیا تھا۔ 


تصویر اور جگہ  سے متعلق مکروہات:

38.ایسی جگہ نماز پڑھنا کہ نمازی کے سر کے اوپر چھت وغیرہ میں یا اس کے سامنے یا دائیں یا بائیں یا پیچھے یا سجدے کی جگہ کسی جاندار کی تصویر ہو خواہ وہ تصویر لٹکی ہوئی ہو یا گڑی ہوئی ہو یا دیوار یا پردے وغیرہ پر منقوش ہو، سامنے ہونے میں سب سے زیادہ کراہت ہے پھر سر پر ہونے میں پھر داہنی طرف میں پھر بائیں طرف میں پھر پیچھے ہونے میں ایسا کپڑا پہن کر نماز پڑھنا جس پر کسی جاندار کی تصویر ہو، نماز کو علاوہ بھی اس کا پہننا مکروہ ہے۔


39.تنور یا بھٹی جس میں آگ جل رہی ہو یا کوئی اور چیز جس کو کافر پوجتے ہوں نمازی کے سامنے ہونا، لیکن چراغ یا قندیل یا موم بتی کا سامنے ہونا مکروہ نہیں ہے۔


40.امام کا محراب کے اندر اکیلا کھڑا ہونا جبکہ دونوں قدم بھی اندر ہوں ، اگر دونوں قدم باہر ہوں تو مکروہ نہیں ، اسی طرح اگر امام کے ساتھ محراب کے اندر مقتدی بھی ہوں تو مکروہ نہیں۔


41.امام کو دروازوں اور ستونوں کے درمیان کی جگہ میں اکیلا کھڑا ہونا اور امام کو بلا ضرورت محراب یعنی وسطِ صف سے ہٹ کر کھڑا ہونا۔


42.امام کا ایک ہاتھ اونچی جگہ پر اکیلا کھڑا ہونا، اگر اس کے ساتھ کچھ مقتدی بھی ہوں تو مکروہ نہیں اور ایک ہاتھ سے کم بلندی ہو تو اس پر امام کا اکیلا کھڑا ہونا مکروہِ تنزیہی ہے ، اسی طرح اس کے برعکس اکیلے امام کا نیچے کھڑا ہونا اور مقتدیوں کا بلندی پر کھڑا ہونا مکروہ ہے لیکن یہ کراہتِ تنزیہی ہے کیونکہ اس کی نہی حدیث شریف میں وارد نہیں ہے۔


43.مقتدی کا بلا عذر اکیلا بلند جگہ پر کھڑا ہونا اور مقتدی کا ایسی صف کی پیچھے اکیلا کھڑا ہونا جس میں خالی جگہ ہو۔۔


44. تنہا یعنی جماعت کے بغیر نماز پڑھنے والے کو جماعت کی صفوں کے درمیاں میں کھڑا ہونا

اللہ پاک عمل کی توفیق عنایت فرمائے

آمین یا رب العالمین





Share:

حرم شریف میں حکومتی پابندی اور دھوکہ دہی کا گناہ:

 حرمین انتظامیہ کی جانب سے مطاف کے صحن  میں  صرف احرام پوش افراد (حجاج و معتمرین) کو داخلے کی اجازت  ھے ۔ انتظامیہ کی جانب سے اس کا مقصد رش کو کنٹرول کرنا اور زائرین کو زیادہ سے زیادہ  سہولتیں  فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ انتظامی پابندی توڑنے کے لیے محض دکھاوے کے لیے احرام کی چادریں پہن کر عملہ کو دھوکہ دے کر مطاف میں داخل ہونا، جھوٹ اور دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے جو کہ سنگین گناہ ہے۔ جہاں تک طواف کا تعلق ھے وہ ایسا کرنے  کے باوجود بھی ادا ھو جائے گا لیکن جھوٹ بولنے اور حرم میں حرم کے اھلکاروں کو دھوکہ دینے کا  جو گناہ سر پر آئے گا وہ کہیں زیادہ ھو گا ۔ سوچنے کی بات ھے کہ ایسا طواف کرنے کا کیا فائدہ ھو گا جس کے لئےجھوٹ اور دھوکہ دہی جیسے گھناونے جرائم کا سہارہ لیا گیا ھو ۔ برائی بہرحال برائی ھے کہیں بھی کی جائے لیکن  حرم میں برائی کی شدت اور گرفت بھی باھر سے بہت زیادہ ھوتی  ھے ۔ تمام تر فضائل کے باوجود طواف  بہرحال ایک نفلی عبادت ھے جس کے بارے میں قیامت والے دن یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ نے یہ کیوں نہیں کیا  جبکہ  جھوٹ اور دھوکہ دہی کبائر گناہوں میں سے  ھیں ۔ ان گناھوں کے متعلق قیامت والے دن لازمی باز پرس ھو گی  پھر اس کا تعلق حقوق العباد سے بھی بنتا  ھے اس کی جواب دھی بھی ھو گی ۔ ایک نفلی عبادت کے لئے چاھے اس کے کتنے ھی فضائل کیوں نہ ھوں ، کبائر کا مرتکب ھونا کوئی دانشمندی نہیں 

Share:

نماز کے مستحبات

 فقۂ اسلامی میں نماز کے مستحبات (آداب) کی کوئی متعین یا مخصوص گنتی نہیں ھے اس لئے ان کی تعداد مختلف کتابوں میں مختلف ملتی ھے مجموعی طور پر یہ وہ آعمال ھیں جن کے کرنے پر ثواب ملتا ھے اور نہ کرنے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ 

نماز کے مستحبات  سے  مراد وہ چیزیں ھیں جو نماز میں حضور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ثابت تو ہوئی ہیں لیکن ان کی اھمیت سنتوں   کے برابر نہیں ھے ۔  اگر نماز میں کوئی مستحب  جان بوجھ کر یا بھولے سے چھوٹ جائے تو نہ نماز ٹوٹتی ہے، نہ سجدہ سہو واجب ہوتا ہے اور نہ ھی نمازی کو کوئی گناہ ہوتا ہے ، نہ ھی مستحب چھوڑنے والا  قابل ملامت ھوتا ھے البتہ نمازی کو نماز پڑھتے وقت ان  مستحبات  کا بھی اھتمام  کر لینا چاھیے اس سے ایک فائدہ تو یہی ھے کہ مفت میں بہت سی نیکیاں مل جائیں گی جو  قیامت والے دن اس وقت کام آئیں گی جب ھمیں ایک ایک نیکی کی اشد ضرورت پڑے گی ۔ دوسرا فائدہ یہ ھو گا کہ نماز میں خشوع و خضوع پیدا ھو جائے گا جو نماز میں عین مطلوب ھے


نماز کے مستحبات 

1) دونوں قدموں کے درمیان چار انگلی کی مقدار یا اس کے قریب قریب فاصلہ چھوڑنا۔

 2) ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد اگر سورت شروع سے پڑھنی ہو تو اس سے پہلے "بسم الله الرحمن الرحیم" پڑھنا۔

 3) تکبیرِ تحریمہ کے وقت جب کوئی عذر نہ ہو تو دونوں ہاتھ چادر وغیرہ سے باہر نکال کر اٹھانا۔

 4) منفرد کو رکوع وسجود میں تین تین مرتبہ سے زیادہ لیکن طاق عدد میں تسبیح پڑھنا۔

 5) جمائی آئے تو منہ خوب بند کرلینا اور اگر کسی طرح نہ رُکے تو ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت کی طرف سے روکنا۔

 6) دونوں سجدوں کے درمیان جلسے میں یہ دعا پڑھنا "اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلَیْ وَارْحَمْنِیْ وَاهْدِنِیْ وَعَافِنِیْ وَارْزُقْنِیْ" یا صرف "رَبِّ اغْفِرْلَیْ" ایک مرتبہ یا تین مرتبہ پڑھنا۔

 7) قنوت میں خاص اس دعا کا پڑھنا "اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُكَ" الخ۔

 8) جب کھڑا ہو تو اپنی نگاہ سجدے کی جگہ رکھے۔ اور جب رکوع میں جائے تو پاؤں پر اور جب سجدہ کرے تو ناک پر رکھے جلسے اور قعدہ میں نگاہ گود میں رہے اور سلام پھیرتے وقت کندھوں پر ڈالے۔ 

9) جس قدر ممکن ھو سکے کھانسی نہ آنے دینا اسی طرح جس قدر ممکن ھو جمائی کو روکنا اگر روکنے کے باوجود جمائی آ جائے تق قیام کی حالت میں دائیں ھاتھ اور باقی حالتوں میں بائیں ھاتھ کی پشت سے منہ ڈھانپنا

10) جب مؤذن  تکبیر کہہ چکے تو امام کا تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز شروع کرنا 

اللہ کریم عمل کی توفیق عنایت فرمائے

آمین یا رب العالمین

Share:

نماز کی سنتیں


 نماز میں کل اکیس  (21)  سنتیں ہیں۔ کتاب “تعلیم الاسلام “ میں مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ نے ان کو تفصیل   سے تحریر فرمایا ہے 

نماز کی سُنّتوں سے  مراد وہ چیزیں ھیں جو نماز میں حضور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ثابت ہوئی ہیں لیکن ان کی تاکید فرض اور واجب کے برابر ثابت نہیں ہوئی ۔ انہیں سنت کہتے ہیں ۔ اگر نماز میں کوئی سنت بھولے سے چھوٹ جائے تو نہ نماز ٹوٹتی ہے، نہ سجدہ سہو واجب ہوتا ہے اور نہ ھی کوئی گناہ ہوتا ہے ، قصداً ( جان بوجھ  کر )  سنت چھوڑ دینے سے نماز تو نہیں ٹوٹتی اور نہ ھی سجدہ سہو واجب ہوتا ہے لیکن ترکِ سنت کی وجہ سے یہ فعل قابل ملامت ھے یعنی سنت جان بوجھ کر چھوڑنے والا ملامت کا مستحق ہوتا ہے ۔ نمازی کو نماز پڑھتے وقت سنتوں کا بھی اھتمام ضرور کرنا چاھیے 


نماز کی  اکیس (21) سنتیں 

(۱) تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھانا۔

(۲) دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اپنے حال پر کھلی اور قبلہ رخ رکھنا۔

(۳) تکبیر کہتے وقت سر کو نہ جھکانا۔

(۴) امام کو تکبیر تحریمہ اور ایک رُکن سے دوسرے میں جانے کی تمام تکبیریں بقدر حاجت بلند آواز سے کہنا۔

(۵) سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے باندھنا۔

(۶) ثنا پڑھنا۔

(۷) تعوّذ یعنی اَعُوْذُ بِا للّٰہ الخ پڑھنا۔

(۸) بِسْمِ اللّٰہ الخ پڑھنا۔

(۹) فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورہٴ فاتحہ پڑھنا۔

(۱۰)آمین کہنا۔

(۱۱) ثنا اور تعوّذ اور بسم اللہ اور آمین سب کو آہستہ پڑھنا۔

(۱۲) سنت کے موافق کوئی قرأت کرنا یعنی جس جس نماز میں جس قدر قرآن مجید پڑھنا سنت ہے اس کے موافق پڑھنا۔

(۱۳) رکوع اور سجدے میں تین تین بار تسبیح پڑھنا ۔

(۱۴)رکوع میں سر اور پیٹھ کو ایک سیدھ میں برابر رکھنا اور دونوں ہاتھوں کی کھلی انگلیوں سے گھٹنوں کو پکڑ لینا۔

(۱۵) قومہ میں امام کو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ اور مقتدی کو رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنا ۔ اور منفرد کو تسمیع اور تحمید دونوں کہنا۔

(۱۶) سجدے میں جاتے وقت پہلے دونوں گھٹنے پھر دونوں ہاتھ پھر پیشانی رکھنا۔

(۱۷) جلسہ اور قعدہ میں بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھنا اور سیدھے پاؤں کو اس طرح کھڑا رکھنا کہ اس کی انگلیوں کے سرے قبلے کی طرف رہیں اور دونوں ہاتھ رانوں پر رکھنا۔

(۱۸) تشہّد میں اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ پر انگلی سے اشارہ کرنا۔

(۱۹) قعدہ اخیرہ میں تشہّد کے بعد درود شریف پڑھنا۔

(۲۰) درود کے بعد دعا پڑھنا۔

(۲۱) پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف سلام پھیرنا۔


اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے

آمین یا رب العالمین 

Share:

نماز کے واجبات


نماز کے چودہ واجبات ھیں جیسا کہ  مفتئ اعظم ہند مفتی محمد  کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے  اپنی کتاب "تعلیم الاسلام"  میں ان کا ذکر کیا ھے ۔ نمازی کا ان واجبات کو جاننا بہت ضروری ھے۔  نماز کے واجبات کا حکم یہ ھے کہ ان میں سے اگر کوئی واجب  بھولے سے چھوٹ جائے تو سجدۂ سہو کر لینے سے نماز درست ہوجاتی ہے اور اگر  قصداً  ( جان بوجھ کر ) کوئی واجب چھوڑ دیا جائے تو سجدہ سہو کرنے سے بھی نماز نہیں ھوتی بلکہ نماز فاسد ھو جاتی ھے اور اس نماز کا اعادہ کرنا  واجب ہوتا ہے کیونکہ  سجدۂ سہو سے بھی اس نقصان کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔   بھولے سے کوئی ایک یا ایک سے زیادہ واجب چھوٹنے کی صورت میں  اگر نمازی سجدۂ سہو کرنا بھی بھول جائے تو اس نماز کو دوبارہ پڑھنا پڑے گا اور اس نماز کے وقت کے اندر اندر اس نماز کا اعادہ کرنا واجب ہوگا۔ 


واجباتِ نماز 

  1. فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں کو قراءت کے لیے مقرر کرنا۔
  2. فرض نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت کے علاوہ تمام نمازوں کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا۔
  3. فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں اور واجب اور سنت اور نفل نمازوں کی تمام رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے بعد کوئی سورت یا بڑی ایک آیت یا چھوٹی تین آیتیں پڑھنا۔
  4. سورۂ فاتحہ کو سورت سے پہلے پڑھنا۔
  5. قراءت اور رکوع میں اور سجدوں اور رکعتوں میں ترتیب قائم رکھنا۔
  6. قومہ کرنا یعنی رکوع سے اُٹھ کر سیدھا کھڑا ہونا۔
  7. جلسہ یعنی دونوں سجدوں کے درمیان میں سیدھا بیٹھ جانا۔
  8. تعدیلِ ارکان یعنی رکوع، سجدہ وغیرہ کو اطمینان سے اچھی طرح ادا کرنا۔
  9. قعدۂ اولیٰ یعنی تین اور چار رکعت والی نماز میں دو رکعتوں کے بعد تشہد کی مقدار بیٹھنا۔
  10. دونوں قعدوں میں تشہد پڑھنا۔
  11. امام کو نمازِ فجر، مغرب، عشاء جمعہ، عیدین، تراویح اور رمضان شریف کے وتروں میں آواز سے قراءت کرنا، اور ظہر، عصر وغیرہ نمازوں میں آہستہ پڑھنا۔
  12. لفظِ سلام کے ساتھ نماز سے علیحدہ ہونا۔
  13. نمازِ وتر میں قنوت کے لیے تکبیر کہنا اور دعائے قنوت پڑھنا۔
  14. دونوں عیدوں کی نماز میں چھ  زائد تکبیریں کہنا۔

اللہ پاک ھمیں خشوع و خضوع کے ساتھ  نمازیں ادا کرنے کی توفیق عنایت فرمائے

آمین یا رب العالمین

Share:

نماز کے فرائض

 نماز میں چند چیزیں ایسی ھیں جنہیں فرائضِ نماز کہا جاتا  ھے ان میں اگر ایک فرض بھی رہ گیا تو نماز فاسد ھو جاتی ھے اور سجدہ سہو کرنے سے بھی نماز نہیں ھوتی ۔ ان فرائض کی تعداد تیرہ ھے ان میں سات فرائض ایسے ھیں جن کا  نماز سے پہلے موجود ہونا ضروری ہے ،اور ان کو نماز کے خارجی فرائض ، یا شرائط نماز کہا جاتا ہے جودرج ذیل ہیں :


شرائطِ نماز

بدن کا پاک ہونا

کپڑوں کا پاک ہونا

ستر کا چھپانا

نماز کی جگہ کا پاک ہونا

نماز کا وقت ہونا

قبلہ کی طرف رخ کرنا

نماز کی نیت کرنا


 چھ فرائض  ایسے ہیں جو نماز کے اندر فرض ہیں ۔ انہیں ارکانِ نماز کہتے ھیں 


ارکانِ نماز

(1)تکبیر تحریمہ

(2)قیام یعنی کھڑا ہونا،اگر آدمی کھڑے ہونے پر قادر ہو تو بغیر کھڑے ہوئے نماز صحیح نہیں ہوتی ، فرض اور واجب نمازوں میں قیام فرض ہے۔

(3) قراءۃ (تلاوت کرنا)

(4)رکوع

(5)سجود ،یعنی سجدہ کرنا ،ہر رکعت میں دومرتبہ فرض ہے۔

(6) قعدہ اخیرہ مقدار ِ تشہد، یعنی تشہد پڑھنے کے بقدر قعدۂ اخیرہ میں بیٹھنا۔




Share:

نماز اوابین کی فضیلت ، وقت اور رکعات

اوّابین عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنی "اللہ کی طرف بار بار رجوع کرنے والے" یا "بہت توبہ کرنے والے" ہیں。یہ لفظ "اوّاب" کی جمع ہے。

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعات (نفل) ادا کرے اور ان کے درمیان کوئی بری (دنیاوی) بات نہ کرے تو یہ بارہ سال کی عبادت کے برابر شمار ہوں گی.

(جامع ترمذی:435)


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے مغرب اور عشاء کے درمیان بیس رکعت نماز ادا کی اللہ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔

(جامع ترمذی:435)


مغرب کے فرض اور سنتوں کے بعد جو نوافل پڑھے جاتے ہیں، انہیں ’’صلاۃ الاوابین‘‘ کہتے ہیں، ان کی کم از کم تعداد چھ اور زیادہ سے زیادہ بیس ہے.


مفتی بہ قول کے مطابق یہ چھ رکعات مغرب کے بعد کی دو رکعات سنتِ مؤکدہ کے علاوہ ہیں. 

البتہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ سنتِ مؤکدہ کو ملا کر چھ رکعات ادا کرنے سے بھی یہ فضیلت حاصل ہوجائے گی.


بعض صحیح احادیث میں چاشت کی نماز کو جو  سورج چڑھنے کے بعد یعنی جب سورج میں تمازت آجائے  اس وقت،  پڑھنے  کو  بھی "اوابین کی نماز" کہا گیا ہے، اور احادیث میں چاشت کے بہت فضائل  وارد ہوئے ہیں، مثلًا ایک حدیث میں ہے جو چاشت کے وقت بارہ رکعت ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اسے سونے کا محل عطا فرمائیں گے،

Share: