قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں) اور خروجِ دجّال

 خروجِ دجال

قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے دوسری علامت خروجِ دجال ہے، احادیث مبارکہ میں دجال کا ذکر بڑی وضاحت سے آیا ہے، ہر نبی دجال کے فتنے سے اپنی اُمت کو ڈراتا رہا ہے، حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نشانیاں بھی بیان فرمائی ہیں، دجال کا ثبوت احادیث متواترہ اور اِجماعِ اُمت سے ہے۔ دجال کا لغوی معنی ہے: مکار، جھوٹا، حق اور باطل کو خلط ملط کرنے والا، اس معنی کے اعتبار سے ہر اس شخص کو جس میں یہ اوصاف ہوں دجال کہا جاسکتا ہے۔ یہاں دجال سے ایک خاص کافر مراد ہے، جس کا ذکر احادیث میں تواتر کے ساتھ موجود ہے، جو یہودی ہوگا، خدائی کا دعویٰ کرے گا، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک․ف․ر یعنی کافر لکھا ہوا ہوگا، دائیں آنکھ سے کانا ہوگا، دائیں آنکھ کی جگہ انگور کی طرح کا اُبھرا ہوا دانہ ہوگا، زمین پر اس کا قیام چالیس دن ہوگا، لیکن ان چالیس دنوں میں سے پہلا دن سال کے برابر، دوسرا دن مہینے کے برابر اور تیسرا دن ہفتے کے برابر ہوگا، باقی دن عام دنوں کی طرح ہوں گے، بندوں کے امتحان کے لئے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ سے مختلف خرقِ عادت اُمور اور شعبدے ظاہر فرمائیں گے، وہ لوگوں کو قتل کرکے زندہ کرے گا، وہ آسمان کو حکم کرے گا آسمان بارش برسائے گا، زمین کو حکم کرے گا زمین غلہ اُگائے گی، ایک ویرانے سے گزرے گا اور اسے کہے گا: اپنے خزانے نکال! وہ اپنے خزانے باہر نکالے گی، پھر وہ خزانے شہد کی مکھیوں کی طرح اس کے پیچھے پیچھے چلیں گے، آخر میں ایک شخص کو قتل کرے گا، پھر زندہ کرے گا، اس کو دوبارہ قتل کرنا چاہے گا تو نہیں کرسکے گا، دجال پوری زمین کا چکر لگائے گا، کوئی شہر ایسا نہیں ہوگا جہاں دجال نہیں جائے گا، سوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے، کہ ان دو شہروں میں فرشتوں کے پہرے کی وجہ سے وہ داخل نہیں ہوسکے گا، دجال کا فتنہ تاریخ انسانیت کا سب سے بڑا فتنہ ہوگا۔ حضرت امام مہدی جب قسطنطنیہ کو فتح فرماکر شام تشریف لائیں گے، دمشق میں مقیم ہوں گے کہ شام اور عراق کے درمیان میں سے دجال نکلے گا، پہلے نبوت کا دعویٰ کرے گا، یہاں سے اصفہان پہنچے گا، اصفہان کے ستر ہزار یہودی اس کے ساتھ ہوجائیں گے، پھر خدائی کا دعویٰ شروع کردے گا اور اپنے لشکر کے ساتھ زمین میں فساد مچاتا پھرے گا، بہت سے ملکوں سے ہوتا ہوا یمن تک پہنچے گا، بہت سے گمراہ لوگ اس کے ساتھ ہوجائیں گے، یہاں سے مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوگا، مکہ مکرمہ کے قریب آکر ٹھہرے گا، مکہ مکرمہ کے گرد فرشتوں کا حفاظتی پہرہ ہوگا، جس وجہ سے وہ مکہ مکرمہ میں داخل نہ ہوسکے گا، پھر مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہوگا یہاں بھی فرشتوں کا حفاظتی پہرہ ہوگا، دجال مدینہ منورہ میں بھی داخل نہ ہوسکے گا، اس وقت مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا جس سے کمزور ایمان والے گھبراکر مدینہ منورہ سے باہر نکل جائیں گے اور دجال کے فتنے میں پھنس جائیں گے۔ مدینہ منورہ میں ایک اللہ والے دجال سے مناظرہ کریں گے، دجال انہیں قتل کردے گا، پھر زندہ کرے گا، وہ کہیں گے اب تو تیرے دجال ہونے کا پکا یقین ہوگیا ہے، دجال انہیں دوبارہ قتل کرنا چاہے گا مگر نہیں کرسکے گا۔ یہاں سے دجال شام کے لئے روانہ ہوگا، دمشق کے قریب پہنچ جائے گا، یہاں حضرت امام مہدی پہلے سے موجود ہوں گے کہ اچانک آسمان سے حضرت عیسیٰ اُتریں گے، حضرت امام مہدی تمام انتظامات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے کرنا چاہیں گے وہ فرمائیں گے منتظم آپ ہی ہیں، میرا کام دجال کو قتل کرنا ہے، اگلی صبح حضرت عیسیٰ مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ دجال کے لشکر کی طرف پیش قدمی فرمائیں گے، گھوڑے پر سوار ہوں گے، نیزہ ان کے ہاتھ میں ہوگا، دجال کے لشکر پر حملہ کردیں گے، بہت گھمسان کی لرائی ہوگی، حضرت عیسیٰ کے سانس میں یہ تاثیر ہوگی کہ جہاں تک ان کی نگاہ جائے گی وہیں تک سانس پہنچے گا اور جس کافر کو آپ کے سانس کی ہوا لگے گی وہ اسی وقت مرجائے گا، دجال حضرت عیسیٰ کو دیکھ کر بھاگنا شروع کردے گا، آپ اس کا پیچھا کریں گے ”بابِ لُدّ“ پر پہنچ کر دجال کو قتل کردیں گے

Share:

قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں) اور حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کا ظہور

 اسلامی تعلیمات کے مطابق قیامت کے آنے کا قطعی وقت صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے، لیکن احادیثِ نبوی ﷺ میں اس کی بے شمار نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ ان نشانیوں کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: 

علاماتِ صغریٰ (چھوٹی نشانیاں) 

 علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)


 علاماتِ صغریٰ (چھوٹی نشانیاں) : 

یہ وہ نشانیاں ہیں جو رسول کریم ﷺ کی ولادت سے ظاہر ہو رہی ہیں اور امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور تک رونما ہوں گی۔ ان میں درج ذیل  نشانیاں شامل ہیں:

دین اور علمِ دین کا اٹھ جانا اور جہالت کا عام ہونا۔ نااہل لوگوں کو اہم عہدے سونپے جانا۔ قتل و غارت گری کی کثرت۔ زنا، جوا اور شراب نوشی کا کھلے عام رواج۔ عورتوں کی تعداد کا مردوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو جانا۔ مال کی فراوانی، سود کا عام ہونا اور وقت میں برکت کا نہ رہنا۔اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں لوگوں کا مقابلہ کرنا۔ والدین کی نافرمانی اور اولاد کا اپنے ماں باپ کے ساتھ نوکروں جیسا برتاؤ کرنا  وغیرہ


علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں) ؛ 

یہ وہ دس بڑی اور غیر معمولی نشانیاں ہیں جو حضرت امام مہدی علیہ الرضوان  کا ظہور سے شروع ھوں گی اور ایک تسلسل کے ساتھ  ظاہر ہوں گی اور ان کے بعد فوراً قیامت واقع ہو جائے گی۔

حضرت امام مہدی  علیہ الرضوان کا ظہور

قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سب سے پہلی علامت حضرت امام مہدی علیہ الرضوان  کا ظہور ہے، احادیث مبارکہ میں حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کا ذکر بڑی تفصیل سے آیا ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان ، حضرت سیّدہ فاطمة الزھراء رضی اللہ عنہا کی اولاد میں  سے ہوں گے، ان کا  اسم گرامی محمد، والد گرامی کا نام عبداللہ ہوگا،  ان کا تعلق قبیلۂ قریش سے ھو گا ۔ رسول کریم   ﷺ سے بہت مشابہت رکھتے ھوں گے ، پیشانی کھلی اور ناک بلند ہوگی، زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں گے، پہلے ان کی حکومت عرب میں ہوگی پھر ساری دنیا میں پھیل جائے گی، سات سال حکومت کریں گے۔ مہدی لغتِ عربی  میں ہدایت یافتہ کو کہتے ہیں، ہر صحیح الاعتقاد اور باعمل عالم دین کو مہدی کہا جاسکتا ہے، بلکہ ہر راسخ العقیدہ نیک مسلمان کو بھی مہدی کہا جاسکتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی ہادی اور مہدی ہونے کی دُعا دی تھی اس سے بھی یہی لغوی معنی مراد ہے لیکن  یہاں مہدی سے مراد عظیم شخصیت حضرت امام مہدی علیہ الرضوان ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے۔ 

 امام مہدی علیہ الرضوان مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے، آخری زمانے میں جب مسلمان ہر طرف سے مغلوب ہوجائیں گے، مسلسل جنگیں ہوں گی، شام میں بھی عیسائیوں کی حکومت قائم ہوجائے گی، ہر جگہ کفار کے مظالم بڑھ جائیں گے، عرب میں بھی مسلمانوں کی باقاعدہ پُرشوکت حکومت نہیں رہے گی، خبیر کے قریب تک عیسائی پہنچ جائیں گے، اور اس جگہ تک ان کی حکومت قائم ہوجائے گی، بچے کھچے مسلمان مدینہ منورہ پہنچ جائیں گے، اس وقت حضرت امام مہدی علیہ الرضوان مدینہ منورہ میں ہوں گے، لوگوں کے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوگا کہ اب امام مہدی علیہ الرضوان کو تلاش کرنا چاہئے، ان کے ہاتھ پر بیعت کرکے ان کو امام بنالینا چاہئے، اس زمانے کے علماء کرام ، نیک لوگ، اولیاء اللہ اور اَبدال سب ہی امام مہدی علیہ الرضوان کی تلاش میں ہوں گے، بعض جھوٹے مہدی بھی پیدا ہوجائیں گے، امام مہدی علیہ الرضوان اس ڈر سے کہ لوگ انہیں حاکم اور امام نہ بنالیں، مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ آجائیں گے، اور بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے ہوں گے کہ حجر اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان علماء کی ایک جماعت انہیں پہچان لے گی اور لوگ ان سے حاکم اور امام ہونے کی بیعت کرلیں گے، اسی بیعت کے دوران ایک آواز آسمان سے آئے گی جس کو تمام لوگ جو وہاں موجود ہوں گے سنیں گے، وہ آواز یہ ہوگی: ”یہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ اور حاکم بنائے ہوئے امام مہدی علیہ الرضوان ہیں“ جب آپ کی بیعت کی شہرت ہوگی تو مدینہ منورہ کی فوجیں مکہ مکرمہ میں جمع ہوجائیں گی، شام، عراق اور یمن کے اہل اللہ سب آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور بیعت کریں گے۔ 

ان کی بیعت کے بعد مخالفین کی ایک فوج حضرت امام مہدی علیہ الرضوان سے لڑنے کے لئے آئے گی، جب وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان(  مقام بیداء  ) ایک جنگل میں پہنچے گی اور ایک پہاڑ کے نیچے ٹھہرے گی تو سوائے دو آدمیوں کے سب کے سب زمین میں دھنس جائیں گے، امام مہدی علیہ الرضوان مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئیں گے، رسول اللہ  کے روضہٴ مبارک کی زیارت کریں گے، پھر شام روانہ ہوں گے، دمشق پہنچ کر عیسائیوں سے ایک خونریز جنگ ہوگی جس میں بہت سے مسلمان شہید ہوجائیں گے، بالآخر مسلمانوں کو فتح ہوگی، امام مہدی علیہ الرضوان ملک کا انتظام سنبھال کر قسطنطنیہ فتح کرنے کے لئے عازمِ سفر ہوں گے۔ قسطنطنیہ فتح کرکے امام مہدی علیہ الرضوان شام کے لئے روانہ ہوں گے، شام پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد دجال نکل پڑے گا، دجال شام اور عراق کے درمیان میں سے نکلے گا اور گھومتا گھماتا دمشق کے قریب پہنچ جائے گا، عصر کی نماز کے وقت لوگ نماز کی تیاری میں مصروف ہوں گے کہ اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمان سے اُترتے ہوئے نظر آئیں گے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے اور پھر دجال کے قتل کے لئے خروج کریں گے ۔  دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر بھاگے گا، بالآخر بابِ لُدّ پر پہنچ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کا کام تمام کردیں گے، 

مسلمان کافروں کو چن چن کر قتل کریں گے یہاں تک کہ اس وقت رُوئے زمین پر کوئی کافر نہیں رہے گا، سب مسلمان ہوں گے، حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کی عمر پینتالیس، اڑتالیس یا انچاس برس ہوگی کہ آپ کا انتقال ہوجائے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی نماز جنازہ پڑھائیں گے، آپ کا انتقال بیت المقدس میں  ہوگا اور وہیں آپ دفن ہوں گے۔

Share:

ایصال ثواب کیلئے بہترین نیت کیسے کی جائے۔

کسی بھی نفلی عبادت مثلا نفلی حج ، عمرہ  ، صدقہ و خیرات، تلاوت قرآن پاک ، نفلی نماز یا کسی بھی نیکی کا ثواب کسی بھی زندہ یا فوت شدہ مسلمان یا مسلمانوں کو ایصال کیا جا سکتا ھے

جتنے بھی لوگوں کو ثواب ایصال کیا جائے گا سب کو اس کا ثواب ملے گا اور ھر ھر کے برابر اتنا ھی ثواب ایصال کرنے والے کو بھی ملے گا

جن جن کو ایصال ثواب کرنا ھو عمل کرنے سے پہلے نیت کر لے یا پھر عمل کرنے کے بعد ایصال کر دے


بہترین نیت یعنی زندگی بھر کی نیت کرنے کا طریقہ       

      یااللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ! 

آج کے بعد میں جو بھی نفلی عبادت،  حج ، عمرہ، صدقہ و خیرات ، تلاوت قرآن پاک،  نفلی نمازیں بلکہ جو کچھ بھی ٹوٹا پھوٹا عمل تیری توفیق سے ہو سکے گا  یا اللہ  اپنے فضل و کرم کے شایانِ شان اس کا آجر و ثواب مرحمت فرما دے اور اسے ھماری  بخشش کا ذریعہ بنا دے اور اسے ہماری جانب سے اپنے پیارے محبوب، خاتم الانبیاء،  امام الانبیاء، حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں ثواب کا یہ نَذْرانہ پہنچا دے۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی برکت سے حضرت آدم علیہ السلام  سے لے کر حضرت عیسی علیہ السلام تک تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، تمام ازواج مطہرات ، تمام اھل بیت ، تمام  صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان،  تمام اولیائے عِظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُم اور تمام امت مسلمہ کی جناب میں یہ ثواب پہنچا  دے ۔ 

یا اللہ : سرکارِ دو عالم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی برکت  سے حضرت سَیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لے کر اب تک جتنے انسان و جِنّات مسلمان ہوئے یا قیامت تک ہوں گے زندہ ھیں یا وفات پا چکے ھیں سب کو اس کا ثواب پہنچا دے

 یا اللہ : سرکارِ دو عالم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی برکت  سے میرے مرحوم والدین صاحبان ، مرحوم سسر و  ساس صاحبان ،  مرحوم بیٹے عبد الرحمن صاحب ، مرحوم بھائی نصیر احمد صاحب ، مرحوم اساتذہ کرام ، مرحوم  تمام رشتے دار ،  عزیز و اقارب ، تمام دوست و احباب کو بھی اس کا ثواب پہنچادیجیے اور اپنی رحمت واسعہ کی طفیل  سب کی مغفرت فرما دیجیے

آمین یا رب العالمین


جب آپ یہ نیت ایک دفعہ کر لیں گے تو اس کے بعد آپ جو بھی نفلی نیکی کریں گے اس کا ثواب خودبخود سب کو پہنچ جائے گا اور اسی حساب سے آپ کے نامہ اعمال میں بھی ثواب  درج ھو جائے گا بس ایک مرتبہ خلوص دل سے یہ نیت کر لیں 

اللہ پاک بہت بہت قبول فرمائے

آمین یا رب العالمین

Share:

حلب(شہر) کے چالیس رافضیوں کا زمین میں دھنس جانے کا مشہور اور عبرت ناک واقعہ*

 *حلب(شہر) کے چالیس رافضیوں  کا زمین میں دھنس جانے کا مشہور اور عبرت ناک واقعہ* تاریخ کے اوراق میں محفوظ چلا آرھا ھے 

صحابہ کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم کی سیرت کو داغدار کرنے کی تمام تر ناکام کوششوں  کے بعد صحابہ کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم  کو بُرا بھلا کہنا  رافضی مذہب میں ایک عبادت سمجھا گیا ہے اور صحابہ کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم   سے ان کی دشمنی اس انتہا کو پہنچی کہ صحابہ کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم  کی وفات کے بعد بھی ان شریروں کی طرف سے صحابہ کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم کو  معاف نہیں کیا گیا جیسا کہ علامہ محب طبری رحمۃ اللہ نے "ریاض النظرہ" میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ نے "جذب القلوب" میں اور علامہ ابراہیم عبیدی مالکی رحمۃ اللہ نے "عمدۃ التحقیق فی بسائر آل الصدیق"  میں تحریر فرمایا:

  "حلب کے رافضیوں  کی چالیس 40 افراد پر مشتمل ایک جماعت امیر مدینہ منورہ کے پاس آئی اور ان کو نہایت قیمتی سامان اور نادر تحفے بطور رشوت دے کر اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ  اور سیدنا فارق اعظمؓ کے پاک اجسام کو حرم پاک سے نکال کر لے جانے میں مدد دیں گے۔ چنانچہ امیر مدینہ منورہ  نے حرم نبوی  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے خدام کے رئیس شمس الدین صواب کو بلایا اور یہ حکم دیا کہ آج رات کچھ لوگ مسجد نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میں آئیں گے، وہ جو کچھ کریں انہیں کرنے دینا۔ شیخ صواب کو کسی طرح یہ معلوم ہو گیا کہ یہ لوگ کس ناپاک ارادہ سے آئیں گے، پھر عشاء کی نماز کے بعد جب سب لوگ چلے گئے اور شیخ نے حرم نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے دروازے بند کر دیے تو کچھ دیر کے بعد حرم نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے باب السلام پر دستک ہوئی۔ شیخ نے دروازہ کھولا تو ایک دم وہ لوگ پھاوڑے، کدال، ٹوکریاں وغیرہ لے کر حرم نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میں داخل ہو گئے، وہ لوگ روضہ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی طرف بڑھتے چلے گئے اور ابھی منبر رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے قریب ہی نہ پہنچ پائے تھے کہ اچانک زمین پھٹ گئی اور ان بد باطنوں کو مع ساز و سامان کے نگل گئی۔ اور دوسری طرف اللہ کے حکم سے حاکم مدینہ منورہ کو یہ سزا ملی کہ وہ ایسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوا کہ  اس کے اعضاء کٹ کٹ کر گرنے لگے اور اس طرح وہ نہایت ذلت کی موت مرا"

عبداللہ ابن سباء یہودی جو رافضی مذھب کا بانی تھا نے جس ہوشمندی سے حضوراکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے ورثہ (صحابہ کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم ) کو مٹانے کی منصوبہ بندی کی تھی وہ اپنی معراج پر پہنچ گئی گو خدائے غیور (اللہ تعالیٰ) کو اپنے محبوب رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے جان نثار صحابہ کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم کا جس قدر پاس تھا اس کا منظر بھی سامنے آگیا بے ۔ زمین خدائے غیور کے حکم سے دشمنانِ صحابہ کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم کو جیتے جاگتے نگل گئی آج بھی مسجد نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میں اس مقام پر ایک سیاہ پتھر سارے فرش سے الگ نظر آتا ہے اور دیکھنے والوں کو زبان حال سے دعوت دیتا ہے.

           "دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو"

اس واقعۂ خسف کے ساتھ ایک ضمنی واقعہ بھی پیش آیا۔ ان چالیس رضا کاروں کی پشت پر ایک بڑی  جماعت مسجد نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے باہر موجود تھی۔  خادم کے شور مچانے پر وہ بہت غضبناک ہوئے انہوں نے خادم سے انتقام لینے کی یہ سکیم بنائی کہ اسے دھوکہ سے ایک جگہ لے گئے اور اس کی زبان کاٹ دی۔

عمدۃ التحقیق صفحہ 225 پر اس کی تفصیل یوں دی گئی ہے:

 "ان چالیس آدمیوں کو اندر بھیج کر ان کے ساتھی جو باہر کھڑے تھے خادم کا شور سن کر خادم کو قابو کرنے کا حیلہ (بہانہ) سوچنے لگے۔ آخر اسے ایک ویران مکان میں لے گئے اس کی زبان کاٹ دی ۔ وہ شخص روضہ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر حاضر ہوا اور رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے اس ظلم کی شکایت کی ۔ جب وہ سو گیا تو خواب میں رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی زیارت ھوئی ۔ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے (خواب میں اس کے جسم پر ہاتھ مبارک پھیرا صبح اٹھا تو تمام اعضاء درست تھے۔ اس کے بعد انہوں نے دو دفعہ یہی حلیہ کیا اور حضور اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اسی طرح شفقت فرمائی اور وہ صبح اٹھتا تو صحیح سلامت ہوتا"

*خدائے غیور کو اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے جاں نثاروں  صحابہ کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم کا جو لحاظ تھا اس کا ثبوت واقعہ خسف سے ملتا ہے اور حضور اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو اپنے رفقاء سے جو محبت ہے اس کا ثبوت اس امر سے ملتا ہے کہ جو زبان صحابہ کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم  کی حفاظت کی خاطر حرکت میں آئی دشمنانِ صحابہ کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم اسے کاٹتے رہے اور حضور اکرم اسے خواب میں جوڑتے رہے اور وہ خواب عالم بیداری میں حقیقت نفس الامری بن کر سامنے آتی رہی۔ یعنی حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے صحابہ کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم کے ناموس کی خاطر جو شخص نقصان اٹھائے گا اس کی تلافی حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  خود فرمائیں گے

  اسی قسم کا ایک اور واقعہ امام یافعی رحمۃ اللہ نے "کفایة المعتقد" میں اور "جامع کرامات اولیاء اللہ"  میں جلد 2 صفحہ 414 پر اور "اساليب بدهيد في فصل الصحابہ او امتناع شیعہ" میں درج  کیا ہے:

 "ایک عارف کامل عمر بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ حج کے لیے آئے روضہ اطہر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر حاضری کے وقت حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی نعت اور مدح شیخین کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم  (سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ) میں درد ناک شعر پڑھے۔ ان اشعار میں شیخین کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم  کی اسلامی خدمات کا ذکر تھا۔ جب مسجد سے باہر آئے تو ایک شخص انہیں بلا کر گھر لے گیا. اندر گئے تو دروازہ بند کیا اور ان کی زبان کاٹ دی۔ اور زبان کا وہ ٹکرا ان کے ہاتھ میں دے کر گھر سے نکال دیا. وہ روضہ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر حاضر ھو کر بہت روئے  رات جب سو گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  مع شیخین کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم  تشریف لائے ہیں حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے زبان کا کٹا ہوا ٹکڑا اس سے لیا اور زبان کے ساتھ لگا دیا۔ بیدار ہوئے تو دیکھا کہ ٹکڑا غائب ہے اور زبان بالکل درست ہے ۔ دوسرے سال پھر یہی قصہ ھوا کہ جب وہ قصیدہ پڑھ چکے تو ایک شخص نے ان کی دعوت کی اور گھر لے گیا جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہی گزشتہ سال والا مکان ہے۔ خیر اندر گئے کھانا کھایا پھر وہ آدمی انہیں ایک اور کمرے میں لے گیا۔ دیکھا کہ ستون سے ایک بندر بندھا ھوا ہے میزبان نے کہا *"یہ میرا والد ہے یہ رافضی  تھا گذشتہ برس اس نے آپ کی زبان کاٹی تھی رات کو اچھا بھلا سویا صبح دیکھا تو اس کی شکل بندر کی تھی میں نے یہاں باندھ دیا کہ باہر نکلا تو رسوائی ہوگی میں نے اس کی حالت دیکھ کر رافضی مذہب سے توبہ کر لی ہے۔ اب آپ اس کے لیے دعا فرما دیں"*

 اس واقعہ سے ظاہر ھوتا ہے کہ تحفظ ناموسِ صحابہ کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم کے جرم میں دشمنِ صحابہ کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم نے ایک شخص کی زبان کاٹ دی حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے خواب میں اس کا علاج کر دیا اور خدائے غیور نے اس دشمن کی صورت ہی مسخ کر دی۔ واقعی اللہﷻ اور رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو ناموسِ صحابہ کرام رضوان  اللہ تعالی عنھم کا بڑا لحاظ ہے۔

[تحذیر المسلمین عن کید الکاذبین:صفحہ 208 *مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللّٰہ* ]

Share:

روضۂ رسول اللهﷺ پر حاضری کے آداب اور طریقہ

  بہت سے علماء کرام نے رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے روضۂ اطہر پر حاضری کے آداب، درود و سلام پیش کرنے کے الفاظ اور طریقے بڑی تفصیل سے اپنی کتابوں میں ذکر فرمائے ہیں۔ذیل میں  مختصراً چند آداب اور درود و سلام کے صیغے ذکر کیے جاتے ہیں۔

جب آدمی مدینہ منورہ کی طرف چلے تو درود شریف کثرت سے پڑھتا رہے اور جوں جوں قریب ہوتا جائے اور زیادہ کثرت کرتا جائے، جب مدینہ منورہ کی عمارتوں پر نظر پڑے تو یہ دعا پڑھے:

“ اللھم ھذا حرم نبیک فاجعلہ وقایة لی من النارو أماناً من العذاب وسوء الحساب“۔

مستحب ہے کہ مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کرے، پاک صاف عمدہ لباس جو پاس موجود ہو پہنے، اگر نئے کپڑے ہوں تو بہتر ہے۔ خوشبو لگائے اگر ممکن ھو تو شہر میں داخل ہونے سے پہلے پیادہ چلے۔ اور اس شہر کی عظمت کا خیال کرتے ہوئے نہایت خوش وخضوع ، تواضع، ادب اور حضور قلب کے ساتھ درود شریف پڑھتا ہوا داخل ہو اور یہ پیش نظر رکھے کہ یہ وہ زمین ہے جس پر جابجا رسول اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے قدم مبارک لگے ہوئے ہیں۔

جب مسجد نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میں داخل ہونے لگے تو اگر ھو سکے تو باب جبرئیل سے داخل ہو اور پہلے دائیں پاؤں رکھے اور درود شریف پڑھ کر 

” اللھم افتح لی ابواب رحمتک“ پڑھے،

 پھرپہلے مسجد نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میں( اگر ممکن ھو تو ریاض الجنة میں )آکر دو رکعت تحیة المسجد کی پڑھے، ریاض الجنہ وہ جگہ ہے جو روضۂ اقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اور منبر شریف کے درمیان ہے، حدیث شریف میں آتا ہے: 

ریاض الجنة جنت کا ٹکڑا ہے

اس سے فارغ ہو کر الله تعالیٰ کا اپنی اس حاضری کی توفیق اور سعادت بخشی پر خوب شکر ادا کرے، اور اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کرے۔ اس کے بعد روضہٴ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے پاس حاضر ہو 

جب روضہ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی طرف جائے تو راستہ میں درود شریف کثرت سے پڑھے،  اور خوب ذوق و شوق پیدا کرے اور اظہار محبت میں کوئی کمی نہ چھوڑے۔ اگر خود یہ حالات پیدا نہ ہوں تو بتکلف پیدا کرے اور عاشقوں کی  سی صورت  ہی بنا لے۔نہایت ادب کے ساتھ روضہ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر حاضر ہواور دل کو تمام دنیاوی خیالات سے فارغ کردے ، پھر روضہ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی طرف رخ کر کے قبلہ کی طرف پشت کر کے  مواجھہ شریف کے سامنے آ جائے۔ ادھر ادھرمت دیکھے، نظر نیچی رکھے اور کوئی حرکت خلاف ادب نہ کرے۔ زیادہ قریب بھی نہ کھڑے ہو اور جالی کو ہاتھ بھی نہ لگائے، نہ بوسہ دے، نہ سجدہ کرے، کہ اس قسم کی با تیں خلاف ادب و احترام اور نا جائز ہیں اور سجدہ کرنا شرک ہے۔ اور یہ خیال کرے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   قبر شریف میں قبلہ کی طرف منہ کئے ہوئے آرام فرما ہیں اور سلام و کلام کو سنتے ہیں اور سلام کا جواب دیتے ہیں اور عظمت و جلال کا لحاظ کرتے ہوئے متوسط آواز سے سلام پڑھے۔ زیادہ زور سے مت بولے اور بالکل آہستہ سے بھی مت پڑھے ، سلام اس طرح پڑھے :

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حَبِيبَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَيْرَ خَلْقِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَيْرَةَ اللَّهِ مِنْ جَمِيعِ خَلْقِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدِ وُلْدِ آدَمَ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ، وَأَدَّيْتَ الْأَمَانَةَ، وَنَصَحْتَ الْأُمَّةَ وَ كَشَفْتَ الْغُمَّةَ، فَجَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا خَيْرًا، جَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا أَفْضَلَ وَ أَكْمَلَ مَا جَزَى بِهِ نَبِيًّا عَنْ أُمَّتِهِ. اللَّهُمَّ آتِهِ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيعَةَ وَابْعَثُهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ الَّذِي وَعَدْتَهُ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ، وَأَنْزَلُهُ الْمَنْزِلَ الْمَقَرَّبَ عِندَكَ إِنَّكَ سُبْحَانَكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ.

ان الفاظ میں کمی زیادتی بھی کرسکتے ہیں۔

حضور اقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر  صلاۃ و سلام پڑھنے کے بعد ایک ہاتھ داہنی طرف کو ہٹ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ  عنہ کے کی قبر کی جالی کے سامنے کھڑے ہو کر اس طرح سلام پڑھے:

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولَ اللَّهِ وِثَانِيهِ فِي الْغَارِ وَرَفِيقَه فِي الْأَسْفَارِ وَأَمِيْنِهِ عَلَى الْأَسْرَارِ أَبَا بَكْرِ الصِّدِّيقِ، جَزَاكَ اللَّهُ عَنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ خَيْرًا.

پھر ایک ہاتھ اور داہنی طرف کو ہٹ کر حضرت عمر  فاروق رضی اللہ  عنہ کے کی قبر کی جالی کے سامنے  کھڑے ہو کران الفاظ سے سلام پڑھے:

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ الْفَارُوقِ الَّذِي أَعَزَّ اللَّهُ بِهِ الإسلامَ إِمَامَ الْمُسْلِمِينَ مَرْضِيًّا حَيًّا وَ مَيْتًا جَزَاكَ اللَّهُ عَنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ خَيْرًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ان دونوں حضرات پر سلام کے الفاظ میں بھی کمی زیادتی کا اختیار ہے۔

واضح رہے کہ روضہ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر حاضری نہایت ہی ادب کا مقام ہے، اور عشق و محبت کا بھی۔لہٰذا آداب کی رعایت رکھتے ہوئے اگر کوئی مسلمان فرط محبت میں جناب رسالت مآب  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں اشعار کے انداز میں عرض و گزارش کرے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔بلکہ اسلاف سے ثابت بھی ہے۔ البتہ اس بات کا خیال رہے کہ آج کل رش کی وجہ سے وہاں انتظامیہ زیادہ دیر کھڑے ہونے سے منع کرے یا لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہو، تو مواجھہ شریف پر زیادہ دیر نہ ٹھہرا جائے بلکہ روضہ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے آس پاس جہاں باآسانی جگہ ملے، وہاں اطمینان سےبارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میں جو عرض کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔

روضہ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر حاضری کے موقع پر کوئی مخصوص دعا احادیث میں وارد نہیں ہوئی،  اس لیے  صلاۃ و سلام پیش کرنے کے بعد قبلہ رو ہو کر جو چاہیں دعا مانگیں، اسی طرح آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے وسیلے سے بھی جو مانگنا چاہیں اور جس زبان میں چاہیں  مانگ سکتے ہیں۔ بعد ازاں اپنے لئے اور اہل ایمان مردوں اور عورتوں کے لئے دُعا کرے، 

حضرت مولانا حافظ ذوالفقار صاحب رحمہ اللہ روضۂ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر حاضری کے وقت توبہ کی مقبولیت کا  درج ذیل ایک عمل بتایا کرتے تھے ھو سکے تو یہ عمل بھی کر لے

روضۂ رسول  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر حاضری سے پہلے دو نفل صلاة الحاجت ادا کرے پھر حسب توفیق صدقہ کرے پھر قبولیت توبہ کے لئے  ایک كام يه كرے كه رسول كريم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ كي خدمت ميں حاضر هوكر يه عرض كرے كه يا رسول الله (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) مجهـ سے گناه صادر هوگيا هے يا هوگئے هيں اور ميں الله تعالى كے حكم

" وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ  جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا "

كے مطابق آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  كي خدمتِ أقدس ميں حاضر هوگيا هوں اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے عرض كرتا هوں كه آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  بهي الله تعالى سے ميرے لئے معافي كي درخواست كريں اگر آيت ياد نه هو تو آیت کا ترجمه هي پڑهـ لے يه كام كرنے والے بنده كي إن شاء الله رب كريم توبه كو قبول فرما كر رحم وكرم كا معامله فرما ديں گے

الله تعالى هم سب كو إس كي توفيق عنايت فرمائے 

(آمين يا رب العلمين)

Share:

 روضہ رسول اللهﷺ پے حاضری کے آداب ! 


حضرت ملا علی قاری رحمہ الله نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر حاضری کے آداب، درود و سلام پیش کرنے کے الفاظ اور طریقے بڑی تفصیل سے اپنی کتاب “ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری” میں ذکر فرمائے ہیں۔ مختصراً چند آداب اور درود و سلام کے صیغے ذکر کیے جاتے ہیں۔


جب آدمی مدینہ منورہ کی طرف چلے تو درود شریف کثرت سے پڑھتا رہے اور جوں جوں قریب ہوتا جائے اور زیادہ کثرت کرتا جائے، جب مدینہ منورہ کی عمارتوں پر نظر پڑے تو یہ دعا پڑھے:

 

“ اللھم ھذا حرم نبیک فاجعلہ وقایة لی من النارو أماناً من العذاب وسوء الحساب“۔


مستحب ہے کہ مدینہ منور میں داخل ہونے سے پہلے غسل کرے، پاک صاف عمدہ لباس جو پاس موجود ہو پہنے، اگر نئے کپڑے ہوں تو بہتر ہے۔ خوشبو لگائے شہر میں داخل ہونے سے پہلے پیادہ چلے۔ اور اس شہر کی عظمت کا خیال کرتے ہوئے نہایت خوش وخضوع ، تواضع، ادب اور حضور قلب کے ساتھ درود شریف پڑھتا ہوا داخل ہو اور یہ پیش نظر رکھے کہ یہ وہ زمین ہے جس پر جابجا رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے قدم مبارک لگے ہوئے ہیں۔


جب مسجد نبوی میں داخل ہونے لگے تو باب جبرئیل سے داخل ہو اور پہلے دائیں پاؤں رکھے اور درود شریف پڑھ کر 

” اللھم افتح لی ابواب رحمتک“ پڑھے،

 پھرپہلے ریاض الجنة میں آکر دو رکعت تحیة المسجد کی پڑھے، یہ وہ جگہ ہے جو قبر شریف اور منبر شریف کے درمیان ہے، حدیث شریف میں آتا ہے: 

ریاض الجنة جنت کا ٹکڑا ہے، ا

س سے فارغ ہو کر الله تعالیٰ کا اپنی اس حاضری کی توفیق اور سعادت بخشی پر شکر ادا کرے، اور اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کرے۔ اس کے بعد روضہٴ اقدس کے پاس حاضر ہو اور سرہانے کی دیوار کے کونے میں جو ستون ہے اس سے تین چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو ،نہ بالکل جالیوں کے پاس جائے اور نہ ہی زیادہ دور بلاضرورت کھڑا ہو، اس طرح کہ رخ روضہٴ اقدس کی طرف اور پشت قبلہ کی طرف ہو اور یہ تصور کرے کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم لحد شریف میں قبلہ کی طرف چہرہ مبارک کیے ہوئے لیٹے ہیں اور پھر نہایت ادب کے ساتھ درمیانہ آواز سے نہ بہت پکار کر اور نہ بالکل آہستہ، سلام کرے۔ یہاں چند الفاظ درودوسلام لکھے جاتے ہیں۔


” السلام علیک أیھا النبی ورحمة الله وبرکاتہ،

 السلام علیک یا رسول الله، 

السلام علیک یا حبیب الله، 

السلام علیک باخیر خلق الله، 

السلام علیک یا صفوة الله،

 السلام علیک یا سید المرسلین، 

یا رسول الله إني أشھدأن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، وأشھد أنک عبدہ ورسولہ۔ 

أشھد انک بلغت الرسالة، وأدیت الامانة، ونصحت الامة، وکشفت الغمة فجزاک الله خیراً، 

جزاک الله عنا أفضل ماجازیٰ نبباً عن أمتہ۔ 

السلام علیک یا من ارسلہ الله رحمة للعالمین،

 السلام علیک یا مبشر المحسنین 


(ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری ص338)۔


جب روضہ اقدس (علی صاحبھا الف الف صلاۃ و سلام) کی طرف جائے تو راستہ میں درود شریف کثرت سے پڑھے،  اور خوب ذوق و شوق پیدا کرے اور اظہار محبت میں کوئی کمی نہ چھوڑے۔ اگر خود یہ حالات پیدا نہ ہوں تو بتکلف پیدا کرے اور عاشقوں کی  سی صورت  ہی بنا لے۔نہایت ادب کے ساتھ روضہ اقدس پر حاضر ہواور دل کو تمام دنیاوی خیالات سے فارغ کردے ، پھر روضہ اقدس کی طرف رخ کر کے قبلہ کی طرف پشت کر کے  مواجھہ شریف کے سامنے آ جائے۔ ادھر ادھرمت دیکھے، نظر نیچی رکھے اور کوئی حرکت خلاف ادب نہ کرے۔ زیادہ قریب بھی نہ کھڑے ہو اور جالی کو ہاتھ بھی نہ لگائے، نہ بوسہ دے، نہ سجدہ کرے، کہ اس قسم کی با تیں خلاف ادب و احترام اور نا جائز ہیں اور سجدہ کرنا شرک ہے۔ اور یہ خیال کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر شریف میں قبلہ کی طرف منہ کئے ہوئے آرام فرما ہیں اور سلام و کلام کو سنتے ہیں اور سلام کا جواب دیتے ہیں اور عظمت و جلال کا لحاظ کرتے ہوئے متوسط آواز سے سلام پڑھے۔ زیادہ زور سے مت بولے اور بالکل آہستہ سے بھی مت پڑھے ، سلام اس طرح پڑھے :

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حَبِيبَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَيْرَ خَلْقِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَيْرَةَ اللَّهِ مِنْ جَمِيعِ خَلْقِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدِ وُلْدِ آدَمَ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ، وَأَدَّيْتَ الْأَمَانَةَ، وَنَصَحْتَ الْأُمَّةَ وَ كَشَفْتَ الْغُمَّةَ، فَجَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا خَيْرًا، جَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا أَفْضَلَ وَ أَكْمَلَ مَا جَزَى بِهِ نَبِيًّا عَنْ أُمَّتِهِ. اللَّهُمَّ آتِهِ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيعَةَ وَابْعَثُهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ الَّذِي وَعَدْتَهُ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ، وَأَنْزَلُهُ الْمَنْزِلَ الْمَقَرَّبَ عِندَكَ إِنَّكَ سُبْحَانَكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ.

ان الفاظ میں کمی زیادتی بھی کرسکتے ہیں۔(مستفاد: معلم الحجاج)

البتہ  احادیث مبارکہ میں ایسے  مخصوص کلمات ہمیں نہیں مل سکے جوخود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قبر مبارک پر حاضری کے وقت صلاۃ و سلام پیش کرنے کے لیے سکھائے ہوں۔

۲)حضور اقدس صلی اللہ علیہ  وسلم پر  صلاۃ و سلام پڑھنے کے بعد ایک ہاتھ داہنی طرف کو ہٹ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ  عنہ کے کی قبر کی جالی کے سامنے کھڑے ہو کر اس طرح سلام پڑھے:

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولَ اللَّهِ وِثَانِيهِ فِي الْغَارِ وَرَفِيقَه فِي الْأَسْفَارِ وَأَمِيْنِهِ عَلَى الْأَسْرَارِ أَبَا بَكْرِ الصِّدِّيقِ، جَزَاكَ اللَّهُ عَنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ خَيْرًا.

پھر ایک ہاتھ اور داہنی طرف کو ہٹ کر حضرت عمر  فاروق رضی اللہ  عنہ کے کی قبر کی جالی کے سامنے  کھڑے ہو کران الفاظ سے سلام پڑھے:

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ الْفَارُوقِ الَّذِي أَعَزَّ اللَّهُ بِهِ الإسلامَ إِمَامَ الْمُسْلِمِينَ مَرْضِيًّا حَيًّا وَ مَيْتًا جَزَاكَ اللَّهُ عَنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ خَيْرًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ان دونوں حضرات پر سلام کے الفاظ میں بھی کمی زیادتی کا اختیار ہے۔

۳) روضہ اقدس کی پشت سے بھی اسی طرح مخاطب کے الفاظ کے ساتھ صلاۃ و سلام پیش کر سکتے ہیں جس طرح مواجھہ شریف سے کر سکتے ہیں۔

۴)واضح رہے کہ روضہ اقدس پر حاضری نہایت ہی ادب کا مقام ہے، اور عشق و محبت کا بھی۔لہٰذا آداب کی رعایت رکھتے ہوئے اگر کوئی مسلمان فرط محبت میں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اشعار کے انداز میں عرض و گزارش کرے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔بلکہ اسلاف سے ثابت بھی ہے۔ البتہ اس بات کا خیال رہے کہ آج کل رش کی وجہ سے وہاں انتظامیہ زیادہ دیر کھڑے ہونے سے منع کرے یا لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہو، تو مواجھہ شریف پر زیادہ دیر نہ ٹھہرا جائے بلکہ روضہ رسول کے آس پاس جہاں باآسانی جگہ ملے، وہاں اطمینان سےبارگاہِ رسالت میں جو عرض کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔

روضہ اقدس پر حاضری کے موقع پر کوئی مخصوص دعا احادیث میں وارد نہیں ہوئی،  اس لیے  صلاۃ و سلام پیش کرنے کے قبلہ رو ہو کر جو چاہیں دعا منگیں، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے بھی جو مانگنا چاہیں اور جس زبان میں چاہیں  مانگ سکتے ہیں۔

ذریعۃ الوصول میں شیخ مخدوم ہاشم ٹھٹھوی رحمہ اللہ، علامہ سخاوی ؒ کے حوالے سےروضہ اقدس پر حاضری کے وقت  کیا کلمات کہنے چاہئیں، ان کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

"بعد ازاں اپنے لئے اور اہل ایمان مردوں اور عورتوں کے لئے دُعا کرے، اس کے بعد حضرت ابوبکر، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں سلام عرض کرے، اور بارگاہ الہی میں دُعا کرے۔"

حضرت مولانا ذوالفقار صاحب رحمہ اللہ 
روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری کے وقت توبہ کا  درج ذیل ایک عمل بتایا کرتے تھے ھو سکے تو یہ عمل بھی کر لے

روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری سے پہلے دو نفل صلاة الحاجت ادا کرے پھر حسب توفیق صدقہ کرے پھر 
قبولیت توبہ کے لئے  ایک كام يه 
كرے كه رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كي خدمت ميں حاضر هوكر يه عرض كرے كه يا رسول الله (صلى الله عليه وآله وسلم) مجهـ سے گناه صادر هوگيا هے يا هوگئے هيں اور ميں الله تعالى كے حكم
" وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ 
جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا "
كے مطابق آپ كي خدمتِ أقدس ميں حاضر هوگيا هوں اور آپ سے عرض كرتا هوں كه آپ بهي الله تعالى سے ميرے لئے معافي كي درخواست كريں
اگر آيت ياد نه هو تو آیت کا ترجمه هي پڑهـ لے
يه كام كرنے والے بنده كي إن شاء الله رب كريم توبه كو قبول فرما كر رحم وكرم كا معامله فرما ديں گے
الله تعالى هم سب كو إس كي توفيق عنايت فرمائے 
(آمين يا رب العلمين)
Share:

 روضہ رسول اللهﷺ پے حاضری کے آداب ! 


حضرت ملا علی قاری رحمہ الله نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر حاضری کے آداب، درود و سلام پیش کرنے کے الفاظ اور طریقے بڑی تفصیل سے اپنی کتاب “ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری” میں ذکر فرمائے ہیں۔ مختصراً چند آداب اور درود و سلام کے صیغے ذکر کیے جاتے ہیں۔


جب آدمی مدینہ منورہ کی طرف چلے تو درود شریف کثرت سے پڑھتا رہے اور جوں جوں قریب ہوتا جائے اور زیادہ کثرت کرتا جائے، جب مدینہ منورہ کی عمارتوں پر نظر پڑے تو یہ دعا پڑھے:

 

“ اللھم ھذا حرم نبیک فاجعلہ وقایة لی من النارو أماناً من العذاب وسوء الحساب“۔


مستحب ہے کہ مدینہ منور میں داخل ہونے سے پہلے غسل کرے، پاک صاف عمدہ لباس جو پاس موجود ہو پہنے، اگر نئے کپڑے ہوں تو بہتر ہے۔ خوشبو لگائے شہر میں داخل ہونے سے پہلے پیادہ چلے۔ اور اس شہر کی عظمت کا خیال کرتے ہوئے نہایت خوش وخضوع ، تواضع، ادب اور حضور قلب کے ساتھ درود شریف پڑھتا ہوا داخل ہو اور یہ پیش نظر رکھے کہ یہ وہ زمین ہے جس پر جابجا رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے قدم مبارک لگے ہوئے ہیں۔


جب مسجد نبوی میں داخل ہونے لگے تو باب جبرئیل سے داخل ہو اور پہلے دائیں پاؤں رکھے اور درود شریف پڑھ کر 

” اللھم افتح لی ابواب رحمتک“ پڑھے،

 پھرپہلے ریاض الجنة میں آکر دو رکعت تحیة المسجد کی پڑھے، یہ وہ جگہ ہے جو قبر شریف اور منبر شریف کے درمیان ہے، حدیث شریف میں آتا ہے: 

ریاض الجنة جنت کا ٹکڑا ہے، ا

س سے فارغ ہو کر الله تعالیٰ کا اپنی اس حاضری کی توفیق اور سعادت بخشی پر شکر ادا کرے، اور اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کرے۔ اس کے بعد روضہٴ اقدس کے پاس حاضر ہو اور سرہانے کی دیوار کے کونے میں جو ستون ہے اس سے تین چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو ،نہ بالکل جالیوں کے پاس جائے اور نہ ہی زیادہ دور بلاضرورت کھڑا ہو، اس طرح کہ رخ روضہٴ اقدس کی طرف اور پشت قبلہ کی طرف ہو اور یہ تصور کرے کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم لحد شریف میں قبلہ کی طرف چہرہ مبارک کیے ہوئے لیٹے ہیں اور پھر نہایت ادب کے ساتھ درمیانہ آواز سے نہ بہت پکار کر اور نہ بالکل آہستہ، سلام کرے۔ یہاں چند الفاظ درودوسلام لکھے جاتے ہیں۔


” السلام علیک أیھا النبی ورحمة الله وبرکاتہ،

 السلام علیک یا رسول الله، 

السلام علیک یا حبیب الله، 

السلام علیک باخیر خلق الله، 

السلام علیک یا صفوة الله،

 السلام علیک یا سید المرسلین، 

یا رسول الله إني أشھدأن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، وأشھد أنک عبدہ ورسولہ۔ 

أشھد انک بلغت الرسالة، وأدیت الامانة، ونصحت الامة، وکشفت الغمة فجزاک الله خیراً، 

جزاک الله عنا أفضل ماجازیٰ نبباً عن أمتہ۔ 

السلام علیک یا من ارسلہ الله رحمة للعالمین،

 السلام علیک یا مبشر المحسنین 


(ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری ص338)۔


جب روضہ اقدس (علی صاحبھا الف الف صلاۃ و سلام) کی طرف جائے تو راستہ میں درود شریف کثرت سے پڑھے،  اور خوب ذوق و شوق پیدا کرے اور اظہار محبت میں کوئی کمی نہ چھوڑے۔ اگر خود یہ حالات پیدا نہ ہوں تو بتکلف پیدا کرے اور عاشقوں کی  سی صورت  ہی بنا لے۔نہایت ادب کے ساتھ روضہ اقدس پر حاضر ہواور دل کو تمام دنیاوی خیالات سے فارغ کردے ، پھر روضہ اقدس کی طرف رخ کر کے قبلہ کی طرف پشت کر کے  مواجھہ شریف کے سامنے آ جائے۔ ادھر ادھرمت دیکھے، نظر نیچی رکھے اور کوئی حرکت خلاف ادب نہ کرے۔ زیادہ قریب بھی نہ کھڑے ہو اور جالی کو ہاتھ بھی نہ لگائے، نہ بوسہ دے، نہ سجدہ کرے، کہ اس قسم کی با تیں خلاف ادب و احترام اور نا جائز ہیں اور سجدہ کرنا شرک ہے۔ اور یہ خیال کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر شریف میں قبلہ کی طرف منہ کئے ہوئے آرام فرما ہیں اور سلام و کلام کو سنتے ہیں اور سلام کا جواب دیتے ہیں اور عظمت و جلال کا لحاظ کرتے ہوئے متوسط آواز سے سلام پڑھے۔ زیادہ زور سے مت بولے اور بالکل آہستہ سے بھی مت پڑھے ، سلام اس طرح پڑھے :

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حَبِيبَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَيْرَ خَلْقِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَيْرَةَ اللَّهِ مِنْ جَمِيعِ خَلْقِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدِ وُلْدِ آدَمَ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ، وَأَدَّيْتَ الْأَمَانَةَ، وَنَصَحْتَ الْأُمَّةَ وَ كَشَفْتَ الْغُمَّةَ، فَجَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا خَيْرًا، جَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا أَفْضَلَ وَ أَكْمَلَ مَا جَزَى بِهِ نَبِيًّا عَنْ أُمَّتِهِ. اللَّهُمَّ آتِهِ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيعَةَ وَابْعَثُهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ الَّذِي وَعَدْتَهُ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ، وَأَنْزَلُهُ الْمَنْزِلَ الْمَقَرَّبَ عِندَكَ إِنَّكَ سُبْحَانَكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ.

ان الفاظ میں کمی زیادتی بھی کرسکتے ہیں۔(مستفاد: معلم الحجاج)

البتہ  احادیث مبارکہ میں ایسے  مخصوص کلمات ہمیں نہیں مل سکے جوخود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قبر مبارک پر حاضری کے وقت صلاۃ و سلام پیش کرنے کے لیے سکھائے ہوں۔

۲)حضور اقدس صلی اللہ علیہ  وسلم پر  صلاۃ و سلام پڑھنے کے بعد ایک ہاتھ داہنی طرف کو ہٹ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ  عنہ کے کی قبر کی جالی کے سامنے کھڑے ہو کر اس طرح سلام پڑھے:

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولَ اللَّهِ وِثَانِيهِ فِي الْغَارِ وَرَفِيقَه فِي الْأَسْفَارِ وَأَمِيْنِهِ عَلَى الْأَسْرَارِ أَبَا بَكْرِ الصِّدِّيقِ، جَزَاكَ اللَّهُ عَنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ خَيْرًا.

پھر ایک ہاتھ اور داہنی طرف کو ہٹ کر حضرت عمر  فاروق رضی اللہ  عنہ کے کی قبر کی جالی کے سامنے  کھڑے ہو کران الفاظ سے سلام پڑھے:

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ الْفَارُوقِ الَّذِي أَعَزَّ اللَّهُ بِهِ الإسلامَ إِمَامَ الْمُسْلِمِينَ مَرْضِيًّا حَيًّا وَ مَيْتًا جَزَاكَ اللَّهُ عَنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ خَيْرًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ان دونوں حضرات پر سلام کے الفاظ میں بھی کمی زیادتی کا اختیار ہے۔

۳) روضہ اقدس کی پشت سے بھی اسی طرح مخاطب کے الفاظ کے ساتھ صلاۃ و سلام پیش کر سکتے ہیں جس طرح مواجھہ شریف سے کر سکتے ہیں۔

۴)واضح رہے کہ روضہ اقدس پر حاضری نہایت ہی ادب کا مقام ہے، اور عشق و محبت کا بھی۔لہٰذا آداب کی رعایت رکھتے ہوئے اگر کوئی مسلمان فرط محبت میں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اشعار کے انداز میں عرض و گزارش کرے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔بلکہ اسلاف سے ثابت بھی ہے۔ البتہ اس بات کا خیال رہے کہ آج کل رش کی وجہ سے وہاں انتظامیہ زیادہ دیر کھڑے ہونے سے منع کرے یا لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہو، تو مواجھہ شریف پر زیادہ دیر نہ ٹھہرا جائے بلکہ روضہ رسول کے آس پاس جہاں باآسانی جگہ ملے، وہاں اطمینان سےبارگاہِ رسالت میں جو عرض کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔

الأذکار للنووی میں ہے:

١٠٦٩- وعن العتبي، قال: كنت جالسا عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم، فجاء أعرابي، فقال: السلام عليك يا رسول الله! سمعت الله تعالى يقول: {ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاءوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيما} [النساء: ٦٤] وقد جئتك مستغفرا من ذنبي، مستشفعا بك إلى ربي؛ ثم أنشد يقول من البسيط:

يا خير من دفنت بالقاع أعظمه ... فطاب من طيبهن القاع والأكم

نفسي الفداء لقبر أنت ساكنه ... فيه العفاف وفيه الجود والكرم

قال: ثم انصرف، فحملتني عيناي، فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم في النوم، فقال لي: "يا عتبي! الحق الأعرابي، فبشره بأن الله تعالى قد غفر له". والله عز وجل أعلم.

(كتاب الأذكار للنووي، أذكار الحج  فصل في زيارة قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم وأذكارها، ص: 352، ط: دار ابن حزم)

۵)  روضہ اقدس پر حاضری کے موقع پر کوئی مخصوص دعا احادیث میں وارد نہیں ہوئی،  اس لیے  صلاۃ و سلام پیش کرنے کے قبلہ رو ہو کر جو چاہیں دعا منگیں، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے بھی جو مانگنا چاہیں اور جس زبان میں چاہیں  مانگ سکتے ہیں۔

ذریعۃ الوصول میں شیخ مخدوم ہاشم ٹھٹھوی رحمہ اللہ، علامہ سخاوی ؒ کے حوالے سےروضہ اقدس پر حاضری کے وقت  کیا کلمات کہنے چاہئیں، ان کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

"بعد ازاں اپنے لئے اور اہل ایمان مردوں اور عورتوں کے لئے دُعا کرے، اس کے بعد حضرت ابوبکر، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں سلام عرض کرے، اور بارگاہ الہی میں دُعا کرے۔"

(ذریعۃ الوصول الی جناب الرسول، روایت نمبر: 94، ص: 134، مکتبہ لدھیانوی)

غنية الناسك في علم المناسك  میں ہے:

"و ينبغي أن ينوي مع زيارته صلى الله عليه وسلم التقرب إلى الله تعالى بالمسافرة إلى مسجده صلى الله عليه وسلم للصلاة فيه، و يستحب أن يغتسل قبل دخوله ويلبس أنظف ثيابه. إذا وصل باب المسجد، قدم اليمنى دخولا، واليسرى خروجا و فعل ما يفعل في سائر المساجد من الصلاة علي النبي صلي الله عليه وسلم، والسلام عليه، و يقول: "اللهم افتح لي ابواب رحمتك"، ثم يقصد الروضة الكريمة وهي ما بين المنبر والقبر فيصلي تحية المسجد بجنب المنبر، ان تيسر و الا حيث كان من المسجد.... قال محي الدين النووي - رحمه الله تعالي- : فإذا صلى التحية في الروضة أو غيرها من المسجد شكر الله تعالى على هذه النعمة ويسأله إتمام ما قصده وقبول زيارته، ثم يأتي القبر الكريم فيستدبر القبلة ويستقبل جدار القبر، ويبعد من رأس القبر نحو أربعة أذرع. و في احياء علوم الدين: أنه يستقبل جدار القبر على نحو أربعة أَذرع من السارية التي عند رأس القبر في زاوية جداره ويجعل القنديل الذي في القبلة عند القبر على رأسه ويقف ناظرًا إلى أسفل ما يستقبله من جدار القبر غاض الطرف في مقام الهيبة والإجلال فارغ القلب من علائق الدنيا مستحضرًا في قلبه جلالة موقفه ومنزلة من هو بحضرته، ثم يسلم ولا يرفع صوته بل يقتصد فيقول: "السلامُ عليك يا رسول الله، السلامُ عليك يا نبي الله، السلامُ عليك يا خِيرة الله، السلامُ عليك يا خَيْر خلقِ الله، السلامُ عليك يا حبيبَ الله، السلامُ عليك يا نذير، السلامُ عليك يا بشير، السلامُ عليك يا طاهر، السلامُ عليك يا نبيَّ الرحمة، السلامُ عليك يا نبيَّ الأمة، السلامُ عليك يا أبا القاسم، السلامُ عليك يا رسولَ ربّ العالمين، السلامُ عليكَ يا سيدَ المرسلين وخاتمَ النبيين، السلامُ عليك يا خَيْرَ الخلائق أجمعين، السلامُ عليك يا قائد الغُرّ المُحَجَّلِينَ، السلامُ عليك وعلى ءالك وأهلِ بيتك وأزواجِك وذريتِك وأصحابِك أجمعين، السلامُ عليك وعلى سائر الأنبياءِ وجميع عبادِ الله الصالحين، جزاك الله يا رسولَ الله عنا أفضلَ ما جزى نبيًّا ورسولا عن أمتهِ وصلى الله عليكَ كلما ذكركَ ذاكر وغفلَ عن ذكرك غافلٌ أفضلَ وأكملَ وأطيبَ ما صلى على أحد من الخلق أجمعين، أشهد أن لا إله إِلا الله وحده لا شريك له وأشهد أنك عبده ورسولُهُ وخِيرتُهُ من خلقهِ، وأشهدُ أنك قد بلّغتَ الرسالةَ وأدّيتَ الأمانةَ ونصحتَ الأمةَ وجاهدتَ في الله حقَّ جهاده، اللهم وءاته الوسيلةَ والفضيلةَ وابعثْه مقامًا محمودًا الذي وعدته" ثم يقول: "اللهمَّ صلّ على محمّد عبدِك ورسولِك النبيّ الأُمّي وعلى ءال محمد وأزواجِه وذريته كما صليتَ على إبراهيمَ وعلى ءال إبراهيم، وباركْ على محمد النبيّ الأُمي وعلى ءال محمد وأزواجِه وذريتِهِ كما باركت على إبراهيمَ وعلى ءال إبراهيمَ في العالمين إنكَ حميدٌ مجيد"، ... قال الشيخ محي الدين النووي: ومن عجز عن حفظ هذا أو ضاق وقته عنه اقتصر على بعضه، وأقله السلام عليك يا رسول الله صلى الله عليه وسلم".

( الفصل الثالث في حكم زيارة النبي صلي الله عليه وسلم، و آدابها و ما يتعلق بها، ص: 365-368، ط: دار ابن حزم)

فقط واللہ اعلم


Share: