کی بات بالکل درست ہے۔ اسلام میں نہ صرف گناہ کرنا جرم ہے، بلکہ گناہ کا چرچا کرنا، فحاشی کو پھیلانا اور دل میں اس کی خواہش رکھنا بھی شدید پسندیدہ اور گناہِ کبیرہ کے زمرے میں آتا ہے۔

قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ میں اس حوالے سے واضح احکامات موجود ہیں:
  • قرآن پاک کی گواہی: سورہ النور میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں میں فحاشی (بے حیائی) پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے" (سورہ النور: 19)۔
  • گناہ کو چھپانا: رسول اللہ ﷺ نے گناہ کو چھپانے اور اس پر نادم ہونے کی تلقین فرمائی ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: "میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوائے مجاہرین (علانیہ گناہ کرنے والوں اور اس کا چرچا کرنے والوں) کے" (صحیح بخاری)۔
بے حیائی کا انتظار کرنا یا اسے دیکھ کر خوش ہونا انسان کے دل سے ایمان کی مٹھاس کو ختم کر دیتا ہے اور معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔
کیا آپ اس موضوع پر قرآنی آیات اور احادیث کے تفصیلی حوالے جاننا چاہتے ہیں، یا دل کو ایسی خواہشات سے پاک رکھنے کے طریقے (روحانی علاج
Share:

روزے کی فضیلت

 



یٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo

(البقرة، 2: 183)

’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔‘‘

فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ ط وَ مَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَط یُرِیْدُ ﷲ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُکَبِّرُوا ﷲ عَلٰی مَا هَدٰکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَo

(البقرة، 2: 185)

’’پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پالے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، ﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے دشواری نہیں چاہتا، اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لیے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لیے کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔‘‘


عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: قَالَ ﷲ: کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهٗ إِلَّا الصِّیَامَ، فَإِنَّهٗ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهٖ، وَالصِّیَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا کَانَ یَوْمُ صَوْمِ أَحَدِکُمْ فَـلَا یَرْفُثْ وَلَا یَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهٗ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهٗ فَلْیَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِهِ، لَخُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْیَبُ عِنْدَ ﷲِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ. لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ یَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهٗ فَرِحَ بِصَوْمِهٖ. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، 

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اُسی کے لیے ہے سوائے روزے کے، کیونکہ روزہ میرے لیے ہے اور اُس کی جزاء میں ہی دیتا ہوں۔ روزہ ڈھال ہے اور جس روز تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو نہ فحش باتیں کرے اور نہ جھگڑے۔ اگر اُسے کوئی گالی دے یا لڑے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضے میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پیاری ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے اُسے فرحت ہوتی ہے۔ جب افطار کرے تو خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کے(عظیم اجر کے) باعث خوش ہو گا۔‘‘ 



Share:

روزے کی تعریف اور اھمیت

 روزہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ھے جو حصولِ تقوی  اور تزکیۂ نفس کا ذریعہ ھے ۔ شریعتِ اسلامیہ میں روزے کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ بندہ صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک نیت کے ساتھ کھانے، پینے اور مباشرت سے رک جائے ۔ 


روزے کی تعریف
  • لغوی معنی: عربی میں روزہ کو "صوم" کہتے ہیں، جس کا لغوی معنی کسی کام یا ارادی فعل سے رک جانا یا باز رہنا ہے۔
  • اصطلاحی معنی: شریعتِ اسلامیہ کی اصطلاح میں صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک نیت کے ساتھ کھانے، پینے اور شہوت سے باز رہنے کا نام روزہ ہے۔
روزے کی اہمیت

  • بنیادِ اسلام: روزہ اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے ایک اہم ترین رکن ہے۔
  • تقویٰ کا حصول: روزے کا بنیادی مقصد انسان کے اندر اللہ کا خوف اور تقویٰ پیدا کرنا ہے۔
  • روحانی تربیت: یہ انسان کو نفسانی خواہشات پر قابو پانے اور صبر کی عملی تربیت دیتا ہے۔
  • خدا ترسی اور ضبطِ نفس: روزے سے انسان کے اندر خدا ترسی پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے نفس پر قابو پانا سیکھتا ہے۔
  • خصوصی جزا: احادیث کے مطابق دیگر نیکیوں کا بدلہ متعین ہے مگر روزے کی جزا کا فیصلہ براہِ راست اللہ تعالی اپنے ذمے رکھتا ہے۔
  • آگ سے بچاؤ: روزہ انسان کے لیے جہنم کی آگ سے ڈھال اور حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے۔
  • اخوت اور ہمدردی: بھوک اور پیاس کا یہ عمل معاشرے کے غریبوں اور محتاجوں کا احساس دلاتا ہے۔
    • روحانی و جسمانی اصلاح: اس سے روح کو طاقت ملتی ہے اور طبی لحاظ سے معدے کی اصلاح ہو کر جسم کو صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے [ دارالعلوم دیوبند ]. 
    • گناہوں کی مغفرت: خالص نیت اور ایمان کے ساتھ رکھے گئے روزے پچھلے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بنتے ہیں
    • عبادت کا ذوق: رمضان المبارک کے روزے انسان کو باقی گیارہ مہینے اچھے اعمال اور دیگر عبادات کے لیے توانائی اور شوق عطا کرتے ہیں 
    • نفس پر قابو: روزہ انسان کو بھوک پیاس پر صبر سکھاتا اور اخلاقی برائیوں سے روکتا ہے۔

Share:

زکوٰۃ کے جدید چند مسائل

 

دور حاضر میں پیش آنے والے زکوة کے چند اہم جدید مسائل درج ذیل ہیں:

کاغذی کرنسی اور بینک نوٹ
  • موجودہ کاغذی نوٹوں پر زکوٰۃ کا حکم وہی ہے جو سونے اور چاندی کا ہے۔
  • اگر کسی کے پاس اتنی نقدی ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر پہنچ جائے، تو اس پر اڑھائی فیصد (2.5%) زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے. 
 فیکٹریوں اور کارخانوں کا حکم
  • فیکٹری کی زمین، عمارت اور مشینوں پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی.
  • زکوٰۃ صرف اس مال پر فرض ہوتی ہے جو تیار شدہ ہو یا فروخت کے لیے رکھا گیا ہو، اور فیکٹری کے خام مال (Raw Material) پر بھی زکوٰۃ لازم ہوتی ہے. 
شیئرز اوراسٹاک ایکسچینج
  • اگر شیئرز کاروبار یا تجارت کی نیت سے خریدے گئے ہیں، تو ان کی موجودہ مارکیٹ ویلیو پر زکوٰۃ فرض ہے۔
  • اگر شیئرز صرف منافع (ڈوینڈنڈ) حاصل کرنے کے لیے رکھے گئے ہیں اور آگے بیچنے کی نیت نہیں ہے، تو صرف ملنے والے منافع پر زکوٰۃ لازم ہوگی، پورے شیئر کی مالیت پر نہیں۔
پراویڈنٹ فنڈ (Provident Fund)
  • ملازم کی تنخواہ سے جو کٹوتی جبری طور پر ہوتی ہے، اس پر قبضہ تام نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔
  • جب یہ فنڈ ریٹائرمنٹ یا ملازمت کے ختم ہونے پر موصول ہوتا ہے، تب اس پر قبضہ ہوتا ہے (بعض صورتوں میں گزشتہ سالوں کا حساب کرکے کٹوتی کی جاتی ہے)۔
آن لائن زکوٰۃ کی منتقلی
  • اگر آپ زکوٰۃ کی رقم آن لائن یا بذریعہ بینک غریب تک پہنچاتے ہیں، تو ٹرانسفر یا بینک چارجز زکوٰۃ میں شمار نہیں ہوں گے۔
  • مستحق کو زکوٰۃ کی مکمل اور پوری مقدار پہنچانا لازمی ہے۔

  • بینک کی طرف سے زکوة کٹنے کا حکم
  • اجازت اور نیت: اگر کھاتہ دار کی طرف سے بینک کو وکیل بنایا گیا ہو یا کھاتہ دار نے زکوة کی نیت کی ھوئی ھو  تو زکوٰۃ ادا ہو جاتی ھے ۔ 
  • بینک یا حکومت کی طرف سے اکائونٹ سے کاٹی جانے والی زکوٰۃ سے آپ کی فرض زکوٰۃ اس وقت ادا ہوتی ہے جب آپ کی طرف سے نیت اور باقاعدہ رضامندی شامل ہو، لیکن احتیاطاً اس کا الگ حساب رکھنا بہتر ہوتا ہے
    • زیورات کی زکوٰۃ
    • عورتوں کے زیرِ استعمال سونے یا چاندی کے زیورات پر بھی زکوٰۃ فرض ہے، خواہ وہ ذاتی استعمال میں ہوں یا محفوظ ہوں۔

    • قرض کی رقم کی زکوة 
      • جو قرض آپ نے کسی کو دیا ہو اور اس کی واپسی کی امید ہو، اس پر بھی زکوٰۃ فرض ہے
Share:

بکریوں کی زکوٰۃ کا نصاب

 

بکریوں کی زکوٰۃ کا نصاب کم از کم 40 بکریاں (جن میں بھیڑ اور دنبہ بھی شامل ہیں) ہے، اور چالیس سے کم بکریوں پر زکوٰۃ فرض نہیں  ھوتی ۔ شریعت میں مویشیوں کی زکوة  کا یہ نصاب ان جانوروں پر لاگو ھوتا ھے جو سائمہ ھوں یعنی سارا سال یا سال کا اکثر حصہ جنگل  میں چر کر خود گھاس کھانے والے ھوں  نہ کہ گھر میں چارہ کھلانے والے ۔ 


بکریوں کی زکوٰۃ کی تفصیل
  • 40 سے 120 بکریاں: ان میں صرف ایک بکری زکوٰۃ میں واجب ہے۔ 
  • 121 سے 200 بکریاں: ان میں دو بکریاں واجب ہیں۔
  • 201 سے 399 بکریاں: ان میں تین بکریاں واجب ہیں۔
  • 400 بکریاں: ان میں چار بکریاں واجب ہیں۔
  • 400 کے بعد: اس کے بعد ہر ایک سو (100) بکری کے اضافے پر ایک اور بکری بڑھتی جائے گی (مثلاً 500 پر پانچ بکریاں)


Share: