مصارف (مستحقین) زکوة

 قرآن کریم کی سورہ التوبہ (آیت نمبر 60)  میں اللہ رب العزت نے مصارف زکوة كی تفصیل بیان فرمائی ھے  مصارف زکوة سے مراد وہ مستحق لوگ ھیں جنہیں زکوة دی جا سکتی ھے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ھے 

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

ترجمہ: "صدقات (زکوٰة) تو صرف فقیروں کا حق ہے اور محتاجوں کا اور جو کارکن اس پر مقرر ہیں اور جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور قرض داروں کے مال میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو (مدد دینے میں)۔ یہ اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا فریضہ ہے، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔


آیت مبارکہ مذکورہ بالا 

کے مطابق  زکوٰۃ کے کل آٹھ مصارف (مستحقین) ہیں۔ ان آٹھ مصارف کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے


:1

۔ فقراء (الْفُقَرَاء)

وہ افراد جن کے پاس کچھ نہ کچھ مال یا آمدنی تو ہو، لیکن وہ ان کی بنیادی اور ضروریاتِ زندگی کے لیے ناافی ہو۔ایسا شخص جو صاحبِ نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کا مالک) نہ ہو

۔2

۔ مساکین (الْمَسَاكِين)

وہ انتہائی مجبور اور خستہ حال لوگ جن کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔جو ایک ایک وقت کے کھانے یا بنیادی ضرورت کے لیے دوسروں کے محتاج ہوں

۔3

۔ عاملین (الْعَامِلِينَ عَلَيْهَا)

وہ سرکاری ملازمین یا افراد جنہیں اسلامی حکومت نے زکوٰۃ و عشر جمع کرنے، اس کا حساب رکھنے اور اسے تقسیم کرنے پر مامور کیا ہو۔ان کی خدمات کے معاوضے کے طور پر زکوٰۃ کے مال سے انہیں اجرت دی جا سکتی ہے، چاہے وہ خود مالدار ہی کیوں نہ ہوں

۔4

۔ مؤلّفۃ القلوب (الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ)

جن کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرنا مقصود ہو۔

فقہاء کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا اج کے زمانہ میں مؤلفۃ القلوب کو زکوٰۃ کا مال دیا جا سکتا ہے یا نہیں:

اج کے دور میں مؤلفۃ القلوب کو زکوٰۃ کا مال دینے کے حوالے سے فقہاء کے دو بڑے مکاتبِ فکر ہیں:

:احناف (فقہ حنفی) کا موقف:

 امام ابو حنیفہؒ اور دیگر حنفی فقہاء کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے وصال اور حضرت ابوبکر صدیقؓ و عمر فاروقؓ کے دور میں اسلام کے غلبے کے بعد زکوٰۃ کی مد سے غیر مسلموں کو تالیفِ قلب کے لیے رقم دینے کا حکم ساقط ہو گیا تھا۔ چنانچہ آج بھی زکوٰۃ کی رقم کسی غیر مسلم کو نہیں دی جا سکتی۔ تالیفِ قلب کا کام زکوٰۃ کے بجائے حکومت کے بیت المال (خمس، مالِ فئے) یا عام نفلی صدقات و عطیات سے کیا جائے گا۔

مالکی، شافعی، حنابلہ اور جدید فقہی مجالس کا موقف: 

امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور دورِ حاضر کے کچھ  فقہی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ حکم منسوخ نہیں ہوا، بلکہ حالات کے تابع ہے۔ اگر کسی دور یا ملک میں مسلمان کمزور ہوں یا انہیں دعوتِ دین کے لیے ضرورت پیش آئے، تو زکوٰۃ کا فنڈ مؤلفۃ القلوب پر خرچ کرنا جائز ہے۔



۔5

۔ فی الرقاب (وَفِي الرِّقَابِ)

غلاموں کو آزادی دلانے کے لیے زکوٰۃ کی رقم دینا۔چونکہ موجودہ دور میں غلامی کا وجود ختم ہو چکا ہے، اس لیے یہ مصرف فی الحال عملی طور پر موجود نہیں ہے

۔6

۔ غارمین (الْغَارِمِينَ)

وہ قرض دار جو شدید معاشی دباؤ میں ہوں اور ان کے پاس قرض کی ادائیگی کے لیے وسائل نہ ہوں۔بشرطیکہ وہ خود صاحبِ نصاب نہ ہوں اور ان کا قرض کسی گناہ کے کام کے لیے نہ لیا گیا ہو

۔7

۔ فی سبیل اللہ (وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ)

اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدینِ اسلام کی مدد کرنا۔فقہ حنفی کی روشنی میں اس سے مراد وہ مسافر غازی (مجاہدین) یا علمِ دین حاصل کرنے والے وہ غریب طلبہ (طالبِ علم) بھی ہیں جو وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم حاصل نہ کر پا رہے ہوں۔ 

(نوٹ: کسی مسجد، مدرسے کی تعمیر، یا رفاہی کاموں میں براہِ راست زکوٰۃ کا مال لگانا جائز نہیں جب تک کہ مستحق کو اس کا مالک نہ بنایا جائے)


۔8۔ ابنِ سبیل (وَابْنِ السَّبِيلِ)

وہ مسافر جو اپنے گھر یا وطن میں تو مالدار ہو، لیکن دورانِ سفر بالکل تہی دست اور محتاج ہو جائے۔ایسے مسافر کو سفر کی ضرورت پوری کرنے اور گھر واپس پہنچنے کے لیے زکوٰۃ کی رقم دی جا سکتی ہے۔

Share:

 قرآن کریم کی سورہ التوبہ (آیت نمبر 60) کے مطابق اور متکلمِ اسلام مولانا محمد الیاس گھمن صاحب کے بیانات و تشریحات کی روشنی میں زکوٰۃ کے کل آٹھ مصارف (مستحقین) ہیں۔ ان آٹھ مصارف کی تفصیل درج ذیل ہے: [1, 2]

1۔ فقراء (الْفُقَرَاء)
  • وہ افراد جن کے پاس کچھ نہ کچھ مال یا آمدنی تو ہو، لیکن وہ ان کی بنیادی اور ضروریاتِ زندگی کے لیے ناافی ہو۔
  • ایسا شخص جو صاحبِ نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کا مالک) نہ ہو۔ [1, 2, 3]
2۔ مساکین (الْمَسَاكِين)
  • وہ انتہائی مجبور اور خستہ حال لوگ جن کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔
  • جو ایک ایک وقت کے کھانے یا بنیادی ضرورت کے لیے دوسروں کے محتاج ہوں۔ [1, 2]
3۔ عاملین (الْعَامِلِينَ عَلَيْهَا)
  • وہ سرکاری ملازمین یا افراد جنہیں اسلامی حکومت نے زکوٰۃ و عشر جمع کرنے، اس کا حساب رکھنے اور اسے تقسیم کرنے پر مامور کیا ہو۔
  • ان کی خدمات کے معاوضے کے طور پر زکوٰۃ کے مال سے انہیں اجرت دی جا سکتی ہے، چاہے وہ خود مالدار ہی کیوں نہ ہوں۔ [1]
4۔ مؤلّفۃ القلوب (الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ)
  • جن کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرنا مقصود ہو۔
  • احناف (اور مولانا الیاس گھمن صاحب کے مسلک) کے مطابق، عہدِ فاروقی میں اسلام کو غلبہ اور عزت ملنے کے بعد یہ مصرف اب ساقط ہو چکا ہے، کیونکہ اب غیر مسلموں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے زکوٰۃ کا مال دینے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ [1, 2]
5۔ فی الرقاب (وَفِي الرِّقَابِ)
  • غلاموں کو آزادی دلانے کے لیے زکوٰۃ کی رقم دینا۔
  • چونکہ موجودہ دور میں غلامی کا وجود ختم ہو چکا ہے، اس لیے یہ مصرف فی الحال عملی طور پر موجود نہیں ہے۔ [1]
6۔ غارمین (الْغَارِمِينَ)
  • وہ قرض دار جو شدید معاشی دباؤ میں ہوں اور ان کے پاس قرض کی ادائیگی کے لیے وسائل نہ ہوں۔
  • بشرطیکہ وہ خود صاحبِ نصاب نہ ہوں اور ان کا قرض کسی گناہ کے کام کے لیے نہ لیا گیا ہو۔ [1]
7۔ فی سبیل اللہ (وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ)
  • اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدینِ اسلام کی مدد کرنا۔
  • فقہ حنفی کی روشنی میں اس سے مراد وہ مسافر غازی (مجاہدین) یا علمِ دین حاصل کرنے والے وہ غریب طلبہ (طالبِ علم) بھی ہیں جو وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم حاصل نہ کر پا رہے ہوں۔ (نوٹ: کسی مسجد، مدرسے کی تعمیر، یا رفاہی کاموں میں براہِ راست زکوٰۃ کا مال لگانا جائز نہیں جب تک کہ مستحق کو اس کا مالک نہ بنایا جائے)۔ []
8۔ ابنِ سبیل (وَابْنِ السَّبِيلِ)
  • وہ مسافر جو اپنے گھر یا وطن میں تو مالدار ہو، لیکن دورانِ سفر بالکل تہی دست اور محتاج ہو جائے۔
  • ایسے مسافر کو سفر کی ضرورت پوری کرنے اور گھر واپس پہنچنے کے لیے زکوٰۃ کی رقم دی جا سکتی ہے۔ [1]
Share:

زکوٰۃ کی صحیح ادائیگی کی شرائط


مالدار (صاحبِ نصاب) ہونے کے بعد جب زکوٰۃ ادا کی جائے، تو اس کی آدائیگی کی صحت کے لیے درج ذیل شرائط  کا ھونا ضروری ھے :- 


پہلی شرط : نیت کا ہونا

 زکوٰۃ کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے نیت کرنا فرض ہے، نیت کے بغیر دیا گیا مال زکوٰۃ نہیں بلکہ عام صدقہ شمار ہوگا۔ نیت کے لیے زبان سے کہنا ضروری نہیں ھوتا بلکہ دل کا ارادہ کافی ہے۔ نیت کا درج ذیل دو اوقات میں سے کسی ایک وقت موجود ہونا لازمی ہے:

۱- اپنے مال سے زکوٰۃ کی رقم علیحدہ (الگ) کرتے وقت۔

۲- مستحق/ وکیل کو زکوٰۃ کی رقم دیتے وقت۔

اگر کسی مستحق کو نیت کے بغیر پیسے دے دیے اور رقم الگ کرتے وقت بھی نیت نہیں کی تھی، تو جب تک مستحق نے وہ رقم خرچ نہ کی ہو، دل میں زکوٰۃ کی نیت کر لینے سے بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔

اگر کسی مستحق کو زکوة کی نیت کے بغیر پیسے دے دیے اور رقم الگ کرتے وقت بھی زکوة کی نیت نہیں کی تھی، تو اگر مستحق نے وہ رقم خرچ کر لی ھو تو اب نیت کرنا معتبر نہیں ھو گا  زکوة ادا نہیں ھوئی لہذا دوبارہ زکوة  ادا  کرنا ھو گی ۔ 

کسی کو قرض یا کسی اور مد میں رقم  دی ھوئی ھو اور بعد میں زکوة کی نیت کر لی یا زکوة كی مد میں کٹوتی کر لی تو یہ بھی جائز نہیں ھے اس صورت میں زکوة ادا نہیں ھوئی لہذا زکوة دوبارہ ادا کرنی پڑے گی۔ 


دوسری شرط : تملیک (مالک بنانا)

زکوٰۃ کی ادائیگی کے صحیح ھونے کے لیے مستحق کو مال کا بلا شرکتِ غیرے مالک بنانا بھی شرط ہے۔ یعنی زکوٰۃ کی رقم یا اشیاء مستحق کے ہاتھ میں اس طرح دی جائیں کہ وہ اس کا تنہا مالک بن جائے اور جیسے چاہے استعمال کرے۔اس شرط کی وجہ سے زکوٰۃ کے پیسے مساجد، مدارس کی تعمیر، سڑکوں، یا کسی فلاحی ادارے کی عمارت بنانے میں براہِ راست استعمال نہیں کیے جا سکتے (جب تک کہ وہاں تملیک کا شرعی طریقہ نہ اپنایا جائے)۔

زکوٰۃ کے پیسوں سے کسی غریب کو کھانا پکا کر کھلانے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، بلکہ اناج یا رقم اس کے ہاتھ میں دینا ضروری ہے تاکہ تملیک (مالک بنانا) پایا جائے۔

Share:

استعمالی اور غیر استعمالی زیورات پر زکوة


خیر القرون سے عصر حاضر تک کے جمہور علماء فقہاء اور محدثین کرام  قرآن کریم اور سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی روشنی میں سونے چاندی کے استعمالی و غیر استعمالی تمام زیورات پر وجوب زکوة کے قائل ھیں  کیونکہ قرآن و سنت کے عمومی احکام میں سونے چاندی پر بغیر کسی استعمالی یا غیر استعمالی شرط کے زکوة واجب ھونے کا ذکر آیا ھے  اور عدم ادائیگی پر شدید وعیدیں وارد ھوئی ھیں 

چنانچہ سورہ التوبہ میں ارشاد باری تعالیٰ ھے

وَالَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۟ۙ

 اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راه میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے۔[

 یہ بات سمجھنی ضروری ھے کہ زکوٰۃ ادا کرنا جس طرح مالِ تجارت پر ضروری ہے، زکوٰۃ ادا کرنا جس طرح نقدی ، سونا اور چاندی وغیرہ اگر مرد کے پاس ہو اُس پر ضروری ہے، اسی طرح خاتون کے پاس جو قابل زکوة اموال ہوں اُن پر بھی زكوة ضروری ہے، اسی طرح اگر کسی خاتون کے پاس زیورات ہوں اور وہ زیورات ساڑھے باون تولہ چاندی ہو۔ یا ساڑھے سات تولے سونا ہو۔ یا کچھ سونا ہے اور کچھ چاندی کے زیور ہیں، دونوں کی قیمت کو ملائیں تو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو۔ یا کسی کے پاس سونا ہے اور کچھ پیسے ہیں، اب سونے کو بیچیں، وہ پیسے، اور جو پیسے موجود ہیں، ان دونوں کو جمع کریں تو ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، تو ایسی عورت پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔  چاھے وہ زیورات استعمال میں ھوں یا نہ ھوں 

 شاید آپ کو  ایسی خاتون دنیا میں مشکل سے ھی ملے  جس کے پاس صرف زیور ھی ہو، باقی نقدی میں  ایک روپیہ بھی نہ ہو، ایک درہم نہ ہو، ایک ریال  نہ ہو، ایک ڈالر نہ ہو، ایک پاؤنڈ نہ ہو، کوئی اس کے پاس اور کرنسی میں پیسے موجود نہ ہوں۔ کوئی ایسی عورت نہیں ملے گی۔ اس لیے خواتین اس مسئلے کو بطور خاص سمجھیں کہ استعمالی اور غیر استعمالی زیور پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔  اگر زکوٰۃ ادا کر سکتی ہیں تو زیور رکھیں، اور اگر زکوٰۃ نہیں ادا کر سکتیں تو زیور فروخت کر کے پیسے اللہ کے راستے میں صدقہ کر دیں یا اسے کسی کام میں استعمال کے اندر لے آئیں، خوامخواہ جہنم کا ایندھن نہ بنیں۔ 

ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں ، سنن ابی داؤد، کتاب الزکوٰۃ، میں یہ روایت موجود ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت  فرماتے ہیں کہ  ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان کے ساتھ ان کی بیٹی بھی تھی، ’’ومعہا ابنۃ لہا‘‘۔ اور وہ بیٹی ’’وفی ید ابنتہا مسکتان غلیظتان من ذہب‘‘ اس کی بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو بھاری کنگن تھے۔ سونے کے دو کنگن پہنے ہوئے تھے۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا، ’’اتعطین زکوٰۃ ہذا؟‘‘ کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ اس نے کہا ’’لا‘‘، اللہ کے رسول! میں تو ادا نہیں کرتی۔ فرمایا، ’’ایسرک ان یسورک اللہ بہما یوم القیامۃ سوارین من نار؟‘‘ کیا تم یہ چاہتی ہو کہ ان دو کنگنوں کے بدلے میں اس بیٹی کو جہنم کی آگ کے دو کنگن پہنا دیے جائیں۔ اس عورت نے فورً‌ا ان کو نکالا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔ ’’فخلعتہما الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘۔ اور کہا، اللہ کے رسول! یہ اللہ کے راستے میں صدقہ ہے، قبول فرما لیجیے۔ 

تو غور فرمائیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے استعمالی زیور پر  کس قدر سخت تنبیہ فرمائی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  اس قدر سخت تنبیہ فرمائیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  استعمالی زیور پر زکوٰۃ کی بات فرمائیں، تو پھر بھلا دوسرا  کوئی کون ہوتا ھے جو اپنی طرف سے زکوة نہ دینے کی  گنجائش پیدا کرنے والا ؟ 

یہ بات بھی ذہن نشین فرما لیں، مرد کے لیے سونے کی  کوئی بھی  چیز پہننا حرام ہے۔ چاندی کی زیادہ سے زیادہ ساڑھے چار ماشہ تک کی اجازت تو ہے لیکن مستحب یا بہتر یہ بھی نہیں ھے اس کے باوجود اگر  مرد کے پاس بھی سونے کی انگوٹھی یا کوئی اور سونے کا زیور موجود ہو جیسا کہ بعض مردوں کو بھی یہ حرام شوق ہوتا ہے، وہ کنگن پہنتے ہیں۔ بعض مردوں کو شوق ہوتا ہے، انگوٹھیاں پہنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے۔ تاھم اس مرد پر بھی اس زیور کی زکوٰۃ فرض ہو گی۔ عورت تو پہنتی ہے، اس کو اچھا لگتا ہے، زیب و زینت اس کی شان کے لائق ہے، لیکن مرد اگر سونے کا کوئی زیور پہننے کا جرم کرتا ہو، وہ فعلِ حرام کا جرم اپنی جگہ موجود ھے جس کا گناہ اسے ھو گا لیکن یہ بات ذہن نشین فرما لیں کہ اس زیور پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا ھر صورت ضروری ہو گا۔ 

 خلاصئہ کلام یہ کہ کہ استعمالی اور غیر استعمالی زیورات ، مرد و عورت جس کی بھی ملکیت میں ھوں ان پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا لازم اور ضروری ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی بھی کوتاہی ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ وگرنہ مرنے میں تو کسی کو بھی کوئی شک نہیں ھے تو مرنے کے بعد آخرت میں اس کی جواب دھی ھو گی 

Share:

زکوٰۃ کی آدائیگی کے لئے حساب کرنے کا آسان طریقہ


زکوٰۃ کی آدائیگی کے لئے حساب کرنے میں بھی بعض اوقات پریشانی ھوتی ھے ۔ اس کا  آسان سا طریقہ ملاحظہ فرمائیں اور خود ھی اپنی زکوة کا حساب بآسانی کر لیں  ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے بنیادی طور پر آپ دو چیزیں آچھی طرح ذھن نشین کر  لیں:

۱- قابلِ زکوٰۃ اموال اور اثاثہ جات۔

 یعنی وہ اموال، پراپرٹی اور چیزیں جن کی آپ نے زکوٰۃ ادا کرنی ہے۔ 

۲مالیاتی ذمہ داریاں۔ 

یعنی وہ رقوم جو قابلِ زکوٰۃ اموال میں سے مائنس کرنی ہیں، اور پھر بقیہ اموال سے زکوٰۃ ادا کرنی ہے۔ 


قابلِ زکوٰۃ اشیاء اور اثاثہ جات

سونا اور چاندی، کسی بھی شکل میں ہوں، کسی بھی مقصد کے لیے ہوں۔ کھوٹ اور نگینے نکال کر اِن کی جو مالیت بنے وہ نوٹ کر لیں۔

گھر میں یا جیب میں موجود رقم۔

بینک اکاؤنٹ یا لاکر میں موجود رقم۔

غیر ملکی کرنسی کی موجودہ مالیت۔ 

پرائز بانڈ۔

مستقبل کے کسی منصوبے، حج، بچوں کی شادی وغیرہ کے لیے جمع شدہ رقم۔ 

تکافل یا انشورنس پالیسی میں جمع شدہ رقم۔

جو قرض دوسروں سے (واپس) لینا ہے۔ 

کمیٹی  کی جو رقم جمع کرا چکے ہیں اور ابھی کمیٹی نہیں نکلی۔ 

کسی بھی چیز کے لیے ایڈوانس میں دی گئی رقم جب کہ وہ چیز ابھی نہ ملی ہو، ابھی تک موصول نہیں ہوئی، لیکن ایڈوانس میں مثلاً‌ کار کے پیسے آپ نے دے دیے، لیکن کار ابھی تک آپ کو ملی نہیں ہے۔ 

سرمایہ کاری، مضاربت، شراکت میں لگی ہوئی رقم۔ 

شیئرز، سیونگ سرٹیفکیٹس، این آئی ٹی یونٹس، این ڈی ایف سیونگ سرٹیفکیٹس، پراویڈنٹ فنڈ کی وصول شدہ، یا کسی اور ادارے میں مالک کے اختیار سے منتقل شدہ رقم۔ 

مالِ تجارت، یعنی دوکان، گودام، یا فیکٹری میں جو سٹاک قابلِ فروخت موجود ہے اس کی موجودہ قیمت۔ 

خام مال جو فیکٹری، دوکان یا گودام میں موجود ہے، اس کی موجودہ قیمت۔ 

فروخت شدہ مال کے بدلے میں حاصل شدہ اشیاء کی مالیت، اور فروخت شدہ مال کی قابلِ وصول رقم۔

فروخت کرنے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ، گھر یا دوکان کی موجودہ قیمت۔ یعنی فروخت کی نیت سے پلاٹ خریدا ہو، یا گھر خریدا ہو، یا دوکان خریدی ہو، ان کی موجودہ مالیت۔ 

یہ جو تمام سولہ اشیاء جن کا ذکر اوہر کیا گیا ھے ۔  آپ ان سولہ اشیاء کی کل مالیت کا حساب کر کے ٹوٹل کر لیں۔ اور  اس کو “ اے “  کا نام دے دیں۔ 


مالیاتی ذمہ داریاں

یعنی جو رقم قابلِ زکوٰۃ اموال سے کم کرنی ہیں، وہ بھی آچھی طرح چیک کر لیں۔ 

قرض جو ادا کرنا ہے، یعنی ادھار لی ہوئی رقم۔ 

ادھار خریدی ہوئی چیزوں کی جو رقم ادا کرنی ہے۔

بیوی کا حق مہر جو ابھی تک ادا نہیں کیا، اور ادا کرنا ہے۔ 

پہلے سے نکلی ہوئی کمیٹی  کی جو بقیہ قسطیں ابھی ادا کرنی ہیں۔ 

آپ کے ملازمین کی تنخواہیں، جو اِس تاریخ تک واجب الادا ہیں۔

ٹیکس، دوکان، مکان وغیرہ کا کرایہ، یوٹیلٹی بلز وغیرہ، جو اِس تاریخ تک واجب الادا ہوں۔ اس تاریخ تک جو ادا کرنے ہوں، اس تاریخ کے بعد نہیں۔

گزشتہ برسوں کی زکوٰۃ جو ابھی ادا نہیں کی گئی۔ 

 اب ان تمام اشیاء کی کل مالیت کا حساب لگا کر اس کا بھی ٹوٹل کریں اور اسے “بی”  کا نام دے دیں۔

اب  آپ کے سامنے “اے “ اور” بی “ کی شکل میں دو چیزیں آ گئیں۔

 “اے” میں وہ تمام اموال اور اثاثہ جات جو قابلِ زکوٰۃ ہیں۔ 

اور “ بی” میں وہ مالیاتی ذمہ داریاں جو آپ کے ذمے واجب الادا ہیں۔ 

اب “اے” کی مالیت میں سے “بی” کی کل مالیت کو تفریق کر دیں۔ جو جواب آئے، اس کو چالیس  پر تقسیم کریں۔ تقسیم کے بعد جو جواب آئے، وہ آپ کے ذمے واجب الادا زکوٰۃ کی کل رقم ہے۔  

 مثال  

بالفرض “اے” میں کل مقدار 20 لاکھ روپے ہے۔ یعنی جو اثاثے آپ کے پاس موجود ہیں، سونا ہے، چاندی ہے، کچھ اور تجارت کا چھوٹا موٹا سامان ہے، کچھ نقدی مال بھی ہے۔ 

“ بی” کی مقدار 2 لاکھ  روپے ہے۔ مثلاً‌ 25 ہزار بیوی کا حق مہر دینا ہے۔ آپ نے 5 ہزار ٹیکس دینا ہے اِس تاریخ تک۔ 10 ہزار مکان کا کرایہ دینا ہے وغیرہ ۔ اس کی مقدار 2 لاکھ روپے ہے۔ 

اب بیس لاکھ روپے میں  سے دو لاکھ روپے کو منفی کریں تو جواب آئے گا آٹھارہ لاکھ روہے  ، تو گویا یہ آپ کی قابلِ زکوة رقم ھے ۔ اس 18 لاکھ  کو 40 پر تقسیم کریں، تو جواب آئے گا 45 ہزار۔ تو یہ   45 ہزار روپے آپ کے ذمہ زکوٰۃ کی کل  واجب الادا رقم ہے۔ یہ پینتالیس ہزار اکٹھی بھی دے سکتے ہیں، اور تھوڑی تھوڑی کر کے بھی دے سکتے ہیں۔


Share:

صاحبِ نصاب کی تعریف

 صاحبِ نصاب وہ عاقل، بالغ اور مسلمان شخص ہے جس کے پاس اس کی بنیادی ضروریات (حوائج اصلیہ) اور قرض سے بچ جانے والا مال اتنی مقدار میں موجود ہو جو شریعتِ اسلامیہ میں مقرر کردہ حد (نصاب) تک پہنچ جائے۔ 

نصاب کی مقدار اور شرائط
  • سونا: 
  • اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو چاھے کسی بھی شکل میں ھو ، استعمال میں ھو یا استعمال میں نہ ھو تو اس کا نصاب ساڑھے سات (7.5) تولہ ہے۔

  • چاندی: 
  • اگر کسی کے پاس صرف چاندی ہو ہو چاھے کسی بھی شکل میں ھو ، استعمال میں ھو یا استعمال میں نہ ھو  تو اس کا نصاب ساڑھے باون (52.5) تولہ ہے۔

  • نقدی اور مالِ تجارت: 
  • اگر کسی کے پاس نقدی، مالِ تجارت یا سونا و چاندی کی مکس شکل ہو، تو اگر ان سب کی مالیت مل کر  ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ھو جائے تو اسے صاحب نصاب مانا جاتا ہے۔

  • بنیادی ضروریات سے فاضل:

    مال رہائشی مکان، روزمرہ کے کپڑے اور عام استعمال کی چیزوں سے زائد ہونا چاہیے۔

Share:

شرائطِ زکوۃ مال کے اعتبار سے

مال کے اعتبار سے فرضیتِ زکوة کی چھ شرائط ھیں جو مندرجہ ذیل ھیں 


مال مکمل ملکیت میں ھو 

صاحبِ نصاب کی کسی چیز کی مکمل ملکیت تب ثابت ھوتی ھے جب وہ اس کا مالک ھو اور اس پر اس کا قبضہ بھی ھو  لہذا ایسا مال جس پر بطورِ آمانت قبضہ ھو  اس پر زکوة نہیں ھے ۔ اسی طرح اگر کسی نے اپنا مال زمین میں دفن کر دیا اور جگہ بھول گیا اور پھر برسوں بعد وہ جگہ یاد آئی اور مال مل گیا، تو جب تک مال نہ ملا تھا اس زمانہ کی زکوٰۃ واجب نہیں کیونکہ وہ اس عرصہ میں نصاب کا مالک تو تھا مگر قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے پورے طور پر مالک نہ تھا۔ اسی طرح وہ مال جو عورت کو بطورِ حق مہر ملے لیکن عورت نے اس ہر قبضہ نہ کیا ھو اس پر بھی زکوة نہیں ھے 


 مال نصاب کے بقدر ھو 

شریعت کے مقرر کردہ نصاب کے مطابق مال ھو گا تو زکوة واجب ھو گی  اگر نصاب سے کم مال  ھو تو مالک پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔


 مال حاجاتِ اصلیہ سے زائد ھو 

 حاجاتِ اصلیہ سے مراد یہ ہے کہ آدمی کو زندگی بسر کرنے میں بعض بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جیسے رہنے کیلئے مکان، پہننے کیلئے بلحاظ موسم کپڑے،  سواری کے لئے گاڑی ،    گھریلو اشیائے ضرورت جیسے فرنیچر ، برتن،  الات صنعت و حرفت یعنی روزگار کے لئے خریدے ھوئے اوزار ، مطالعہ کے لئے کتابیں ، حفاظت کی غرض سے خریدا ھوا آسلحہ وغیرہ۔ اگرچہ یہ سب سامان زکوٰۃ کے مقررہ نصاب سے زائد مالیت کا ہی ہو مگر اس پر زکوٰۃ نہیں ہوگی کیونکہ یہ سب مال و سامان حاجاتِ اصلیہ میں آتا ہے۔


  مال دَین  (قرض ) سے خالی ھو 

مثلاً کسی کے پاس مقررہ نصاب کے برابر مال تو ہے مگر وہ اتنے مال کا مقروض بھی ہے تو اس کا مال قرض سے خالی  نہیں ہے لہٰذا اس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ البتہ اگر قرض مائنس کرکے بھی مال نصاب کے بقدر باقی بچتا ھو تو ہھر زكوة دینا ھو گی 


مال نامی ھو یعنی بڑھنے والا ھو 

  نامی سے مراد وہ مال  ھے جو بڑھنے والا ہو خواہ حقیقتاً بڑھنے والا مال ہو جیسے مال تجارت اور چرائی پر چھوڑے ہوئے جانور یا حکماً بڑھنے والا مال ہو جیسے سونا چاندی۔ یہ ایسا مال ہے جس کی قیمت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور اس کے بدلے دیگر اشیاء خریدی جاسکتی ہیں۔ لہٰذا سونا چاندی جس حال میں بھی ہو خواہ زیورات اور برتنوں کی شکل میں ہو یا زمین میں دفن ہو ہر حال میں یہ مالِ نامی یعنی بڑھنے والا مال ہے اور ان پر زکوٰۃ واجب ہے۔ اگر مال بڑھنے والا نہ ھو اگر چہ ضرورت سے زائد ھو اس پر زکوة فرض نہیں ھو گی 

مال نامی چار ھیں 

۱- سونا (خواہ جسی بھی شکل میں ھو مثلا زیورات، ڈلی، بسکٹ، سکے وغیرہ

۲-  چاندی  (خواہ جسی بھی شکل میں ھو مثلا زیورات، ڈلی، بسکٹ، سکے وغیرہ

۳- نقدی رقم

۴- مالِ تجارت


حولانِ حول  یعنی مال پر قمری سال گزر چکا ھو 


نصاب کا مال پورا ہوتے ہی زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی بلکہ ایک سال تک وہ نصاب مِلک میں باقی رہے تو سال پورا ہونے کے بعد اس پرزکوٰۃ نکالی جائے گی۔

مال پر سال گزرنے کا یہ مطلب نہیں ھے کہ ھر ھر روپے یا مال پر سال گزرے بلکہ جس تاریخ کو  اپ کے ہاس پیسہ یا نصاب موجود ھو وہ تاریخ  قمری مہینے کے حساب سے طے کرلیں اگر تاریخ یاد نہ ھو تو اندازے سے قمری تاریخ طے کر لیں اور آئندہ  سال جب وہ تاریخ آئے تو جتنا مال  اس وقت موجود ھو اس کا حساب کرکے زکوة دے دیں۔ مال خواہ سال کے کسی بھی حصہ میں آپ کے پاس آیا ھو

مثلا آپ کی زكوة نکالنے کی تاریخ دس رمضان المبارک ھے اب دس رمضان المبارک والے دن جتنا بھی مال آپ کے پاس موجود ھو گا ، اس پر زکوة  فرض ھو گی 



Share: