غیبت ایک سنگین گناہ


وَلا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضاً أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتاً فَكَرِهْتُمُوهُ ج وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ۔ (حجرات )

اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو۔ کیا پسند کرتا ہے تم میں سے کوئی شخص کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم اسے تو مکروہ سمجھتے ہو۔ اور ڈرتے رہا کرو اللہ سے، بے شک اللہ تعالی بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

یہ آیتِ کریمہ اس پرسکون اور رحم دل معاشرہ میں شخصی عزت نفس، بزرگی اور آزادی کے ارد گرد ایک دیوار قائم کرتی ہے اور ساتھ ساتھ موثر انداز میں ہمیں یہ درس بھی دیتی ہے کہ ہم نے اپنے شعور اور ضمیر کو کیسے پاک کرنا ہے۔ بے شک لوگوں کی آزادی اور عزت نفس کی پامالی کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔۔۔۔

امام نووی  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے ان گناہوں کا ذکر فرمایا ھے جو کہ زبان سے صادر ہوتے ہیں۔ ان میں سے پہلا گناہ جس کا رواج ھمارے زمانہ میں بہت زیادہ ہو چکا ہے اور جس کو کلمہ پڑھنے والا مسلمان شاید گناہ سمجھتا ہی نہیں وہ ہے ’’غیبت کا گناہ‘‘ یہ ایسا گناہ ہے اور ایسی مصیبت ہے جو بدقسمتی سے ہماری مجلسوں پر اور ہمارے معاشرے پر چھا گئی ہے۔ کوئی محفل اس سے خالی نہیں۔ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس پر بہت سخت وعیدیں ذکر فرمائی ہیں اور ایتِ بالا میں قرآن کریم نے غیبت کے لیے اتنے سخت الفاظ استعمال کیے ہیں کہ شاید کسی اور گناہ کے لیے اتنے سخت الفاظ استعمال نہیں کیے ھوں 

قرآن کریم نے غیبت سے منع کیا اور ہمارے سامنے ایک ایسی چیز کا تصور پیش کیا جس کے تصور سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک ایسے بھائی کا تصور پیش کیا جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہا ہے۔۔۔۔


غیبت کسے کہتے ھیں ؟ 

حدیث شریف میں ہے کہ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ایک صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  نے پوچھا: یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! غیبت کیا ہوتی ہے؟ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کو اس کی غیر موجودگی میں ایسے انداز میں یاد کرنا جس کو وہ ناپسند کرتا ہو، یعنی اگر اس کو پتہ چلے کہ میرا ذکر اس مجلس میں اس طرح کیا گیا تو اس کو تکلیف پہنچے اور اس کوبرا سمجھے تو یہ غیبت ہے۔ پھر صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  نے سوال کیا: اگر وہ خرابی یا عیب واقعتا میرے بھائی میں موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں؟ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: وہ خرابی، برائی یا عیب تیرے بھائی میں پایا جاتا ہو تب ہی تو غیبت ہے اگر نہیں پایا جاتا تو بہتان ہے۔ اس کا گناہ غیبت سے بھی زیادہ ہے۔ (ابو داؤد ) 

ذرا اپنی محفلوں، مجلسوں پر نظر ڈالیے! کس قدر اس گناہ کا رواج ہو چکا ہے اور ہم دن رات اس گناہ میں مبتلا ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین بعض لوگ بڑے بہادر بنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بات تو میں اس کے منہ پر بھی کہہ سکتا ہوں۔ بات اس کے منہ پر کہو یا نہ کہو ہر حالت میں غیبت ہے اور گناہ  کبیرہ ہے۔ غیبت کی تعریف سرکار دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کردی ہے ۔ اس کے سامنے اپنے فاسد خیالات بیان نہیں کرنے چاہئیں ورنہ کفر کا خطرہ ہے۔ غیبت ایسا گناہ کبیرہ ہے جیسے ڈاکہ ڈالنا، بدکاری کرنا، بہتان لگانا، داڑھی منڈانا وغیرہ۔

علامہ راغب اصفہانی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ [قرآن مجید کی ڈکشنری مرتب کرنے والے ایک بڑے عالم] المفردات میں غیبت کی تعریف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ غیبت یہ ہے کہ ایک آدمی بلا ضرورت دوسرے شخص کا وہ عیب بیان کرے جو اس میں ہو۔ امام ابو داؤد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے حضرت عائشہ صدیقہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا سے روایت کیا۔ آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا فرماتی ہیں۔

قلت لنبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حسبک من صفیۃ کذا و کذا۔ قال عن مسدد، تعنی قصیرۃ، قال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، لقد قلت کلمۃ لو مزجت بماء البحر لمزحتہ۔ (ترمذی، کتاب البر و الصلۃ و الادب)

حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے عرض کیا کہ صفیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا میں سے فلاں فلاں چیز آپ کے لئے کافی ہے۔ ابو داؤد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے مسدد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ سے روایت کیا کہ اس سے مراد قد کا چھوٹا ہونا ہے۔ حضور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا، "تم نے ایسا کلمہ کہا کہ اگر تم دریا کے پانی میں ملاؤ تو اس کی حالت کو بدل دے۔"


غیبت  کے اسباب

غیبت کے بے شمار اسباب ہو سکتے ہیں، لیکن پانچ قابل ذکر ہیں:

·      غصے کی حالت میں ایک انسان دوسرے انسان کی غیبت کرتا ہے۔

·      لوگوں کی دیکھا دیکھی اور دوستوں کی حمایت میں غیبت کی جاتی ہے۔

·      انسان کو خطرہ ہو کہ کوئی دوسرا آدمی میری برائی بیان کرے گا، تو اس کو لوگوں کی نظروں سے گرانے کے لئے اس کی غیبت کی جاتی ہے۔

·      کسی جرم میں دوسرے کو شامل کر لینا حالانکہ وہ شامل نہ تھا، یہ بھی غیبت کی ایک صورت ہے۔

·      ارادہ فخر و مباہات بھی غیبت کا سبب بنتا ہے۔ جب دوسرے کے عیوب و نقائص بیان کرنے سے اپنی فضیلت ثابت ہوتی ہو۔۔۔۔

امام ترمذی نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:

یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! ما النجاۃ؟ قال امسک علیک لسانک و لیسعک بیتک وابک علی خطبئتک۔

عرض کیا، "یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! کامیابی کیا ہے؟" آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا، "اپنی زبان روک لو اور چاہیے کہ تمہارا گھر تم پر کشادہ ہو [یعنی اپنی زبان کو کنٹرول کرنے کے سبب تمہارے تعلقات اپنے گھر والوں سے اچھے ہو جائیں] اور اپنی غلطیوں پر رویا کرو۔"


غیبت سے بچنے کے طریقے

·      انسان ذکر خدا میں مشغول رہے۔ نماز میں خشوع و خضوع کی کیفیت اپنائے۔

·      قرآن و حدیث میں غیبت پر کی گئی وعیدوں کا تصور کرے۔

·      موت کا تصور ہر وقت ذہن میں موجود رہے۔

·      معاشرتی سطح پر عزت نفس کے مجروح ہونے کا تصور بھی ذہن نشین رہے۔

·      انسان اکثر اوقات دشمنوں کی غیبت کرتا ہے۔ اسی عادت کی بنا پر دوستوں کی غیبت بھی ہو جاتی ہے لہذا یہ تصور پیش نظر رہنا چاہیے کہ اگر میرے دوست کو میری غیبت کا علم ہو گیا تو دوستی کا بھرم ٹوٹ جائے گا۔

·      غیبت کرنے والا شخص اپنی نیکیاں بھی اس شخص کو دے دیتا ہے جس کی وہ غیبت کرتا ہے لہذا یہ تصور ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ روز قیامت میرے پاس کیا رہے گا۔

·      سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ رب نے غیبت سے منع فرمایا اور رب کے احکام کو پس پشت ڈال کر کامیابی سے ہم کنار ہونا ممکن نہیں۔


غیبت کی اقسام

علماء کرام نے غیبت کی چار اقسام بیان کی ہیں:

·      غیبت کرنا کفر ہے

وہ قسم جہاں غیبت کرنا کفر ہے وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی غیبت کر رہا ہو تو جب اس سے کہا جائے کہ تو غیبت نہ کر تو وہ جواب میں کہے، یہ غیبت نہیں۔ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں۔ تو ایسے شخص نے اللہ تعالی کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال کیا اور ہر وہ شخص جو اللہ تعالی کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال قرار دے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ لہذا اس صورت میں غیبت کرنا کفر ہے۔


·      غیبت کرنا منافقت ہے

دوسری وہ قسم جہاں غیبت کرنا منافقت ہے، وہ یہ ہے کہ انسان ایسے شخص کی غیبت کر رہا ہو جس کے بارے میں اس کی ذاتی رائے یہ ہو کہ وہ نیک ہے تو اس صورت میں غیبت کرنا منافقت ہے۔


·      غیبت کرنا معصیت ہے 

تیسری  وہ قسم جہاں غیبت کرنا معصیت ہے کہ انسان کا یہ جانتے ہوئے کہ غیبت کرنا معصیت ہے پھر بھی غیبت کر رہا ہو اور جس شخص کی غیبت کر رہا ہو اس کا نام بھی لے رہا ہو تو اس صورت میں غیبت کرنا معصیت ہے۔ وہ گناہگار ہے۔ اس کے لئے توبہ ضروری ہے۔


·      وہ قسم جہاں غیبت کرنا جائز ہے

چوتھی وہ قسم جہاں غیبت کرنا نہ صرف جائز بلکہ ثواب کا باعث بھی ہے، وہ یہ ہے کہ فاسق معلن [یعنی اعلانیہ گناہ کرنے والا] کے افعال و کردار کا ذکر، بدعتی کے کارناموں کا تذکرہ کرنا جائز ہے۔ اس میں ثواب ہے اس لئے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا کہ فاجر کے برے افعال کا تذکرہ کرو تاکہ لوگ اس سے دور رہیں۔۔۔۔


غیبت سننا بھی حرام ہے

جو شخص غیبت سن رہا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ غیبت کرنے والے کے قول کو رد کرے اور کہنے والے کا انکار کرے۔ اور اگر وہ انکار نہیں کر سکتا یا یہ کہ غیبت کرنے والا اس کی بات کو تسلیم نہیں کرتا تو پھر اگر ممکن ہو تو اس محفل کو چھوڑ دے۔ جس طرح غیبت کرنے والے سے پوچھا جائے گا کہ تو نے فلاں شخص کی غیبت کیوں کی، اسی طرح غیبت سننے والے سے بھی پوچھا جائے گا کہ تو نے فلاں شخص کی غیبت کیوں سنی۔

    اگر غیبت کو سننے والا شخص بھی صحت مند اور طاقتور ہو تو اس پر واجب ہے کہ وہ غیبت کرنے والے کو منع کرے اور اگر اتنی ہمت و جرأت نہیں ہے تو دل میں اس کے کہنے کو برا جانے۔۔۔۔ بعض اوقات بظاہر انسان کسی کو غیبت سے روک رہا ہوتا ہے مگر دلی طور پر وہ چاہتا ہے کہ غیبت ہوتی رہے۔ ایسا شخص منافق اور گناہگار ہے۔

    اگر کوئی ایسا شخص ہے جو نہ غیبت کرنے والے کو روک سکتا ہے اور نہ ہی محفل کو چھوڑ سکتا ہے تو پھر وہ غیبت کو توجہ سے نہ سنے بلکہ دل و زبان سے اللہ کا ذکر شروع کر دے۔ اس طریقہ پر عمل کے باوجود اگر کوئی بات اس کے کان میں پڑ جائے تو اس کا مواخذہ نہ ہو گا۔۔۔۔


غیبت کی جائز صورتیں

·      ظلم کی شکایت کرنا غیبت نہیں۔۔۔

·      برائی کو روکنے کے لئے مدد طلب کرنا غیبت نہیں۔

·      [اہل علم سے] فتوی طلب کرنے کے لئے کسی کا عیب بیان کرنا غیبت نہیں۔۔۔ مگر احتیاط اور افضلیت اسی میں ہے کہ وہ فتوی طلب کرتے وقت لوگوں کے نام نہ لے۔

·      [اعلانیہ] برائی کرنے والوں کی برائی کا اظہار کرنا غیبت نہیں [جیسے حکمران کی برائی۔]

·      مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے غیبت کرنا جائز ہے۔


غیبت اور حقوق العباد 

غیبت کا تعلق حقوق العباد سے بھی ہے اور حقوق العباد کا معاملہ یہ ہے کہ جب تک بندہ اس کو معاف نہ کرے اس وقت تک یہ معاف نہ ہوگا۔

جس طرح غیبت کرنا گناہ کبیرہ ہے اسی طرح غیبت سننا بھی گناہ کبیرہ ہے۔ جس مجلس میں کسی کی غیبت ہو رہی ہو تو گفتگو کا رخ بدلنے کی کوشش کریں کوئی دوسرا موضوع چھیڑ دیں اگر یہ نہ ہو سکے تو اس مجلس سے اٹھ کر چلے جائیں۔


غیبت کا کفارہ

 غیبت کا کفارہ اگلے جہان میں یہ ہوگا کہ اپنے نیک اعمال اور کی ہوئی عبادتیں ا س کو دینی پڑیں گی جس کی غیبت کی ہے اور اس کے گناہ اپنے اوپر لے کر جہنم میں جانا پڑے گا۔

حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی کسی نے غیبت کی تو آپ نے اسے تحفے بھیج دیئے لوگوں نے عرض کیا: حضرت!  اس نے تو آپ کی غیبت کی ہے پھر تحفے کیوں؟ حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے جواب دیا کہ اس غیبت کرنے والے نے وہ نیکیاں مجھے دی ہیں جو میں نے نہیں کیں اور گناہ مجھ سے لیے ہیں جو اس نے نہیں کیے تو بتاؤ اس نے میرے ساتھ احسان کیا ہے یا نہیں؟ سوچیئے! انسان آخرت کے معاملے میں کتنا خسارہ اٹھا رہا ہے۔ 

غیبت ایک بد ترین سود ہے

 حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ سود اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کے اندر بے شمار خرابیاں ہیں اور بہت سے گناہوں کا مجموعہ ہے اور سود کا کم از کم گناہ اتنا ہے جیسے کوئی آدمی اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کرے۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی  حفظہ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ایک تابعی گزرے ہیں جن کا نام ربیع رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ تھا وہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک مجلس میں پہنچا میں نے دیکھا کہ لوگ بیٹھے باتیں کر رہے ہیں میں بھی اس مجلس میں بیٹھ گیا، باتوں کے دوران کسی شخص کی غیبت شروع ہوگئی،مجھے یہ بات بری لگی کہ ہم یہاں مجلس میں بیٹھ کر کسی کی غیبت کریں چنانچہ میں اس مجلس سے اٹھ کر چلا گیا اس لیے کہ اگر کسی مجلس میں غیبت ہو رہی ہو تو آدمی کو چاہیے کہ اس کو روکے، اگر روکنے کی طاقت نہ ہو تو کم از کم اس گفتگو میں شریک نہ ہو بلکہ اٹھ کر چلا جائے۔ وہ تابعی فرماتے ہیں میں چلا گیا، تھوڑی دیر بعد خیال آیا اب اس مجلس میں غیبت کا موضوع ختم ہو گیا ہو گا اس لیے دوبارہ اس مجلس میں بیٹھ گیا، تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں پھر غیبت شروع ہوگئی اب میں اس مجلس سے نہ اٹھ سکا بلکہ غیبت ستنا رہا جب میں گھر واپس آیا اور رات کو سویا تو خواب میں ایک حبشی کو دیکھا جو ایک بڑے طشت میں میرے پاس گوشت لایا ہے جب میں نے غور سے دیکھا تو خنزیر کا گوشت تھا وہ حبشی مجھ سے کہہ رہا تھا کہ یہ خنزیر کا گوشت کھاؤ میں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں خنزیر کا گوشت کیسے کھاؤں؟ اس حبشی نے کہا: تجھے کھانا پڑے گا پھر اس نے زبردستی گوشت کے ٹکڑے میرے منہ میں ٹھونسنا شروع کردیئے، میں منع کرتا رہا وہ ٹھونستا رہا یہاںتک کہ مجھے قے آنے لگی مگر پھر بھی وہ ٹھونستا رہا اسی شدید تکلیف میں میں بیدار ہو گیا میں نے بیدار ہونے کے بعدکھانا کھایا تو جو خواب میں خنزیر کے گوشت کا بدبودار ذائقہ تھا مجھے کھانے میں محسوس ہوا، تیس دن تک میرا یہی حال رہا۔ (اصلاحی خطبات )


غیبت کی صورت میں حقوق العباد  کی تلافی کیسے کی جائے ؟

غیبت کی صورت میں حقوق کی تلافی کی صورت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب نے یہ فرمائی ہے کہ ان میں سے جن کی غیبت کی ہے اور وہ لوگ زندہ ہیں ان سے اس طرح عاجزی کے ساتھ معافی مانگی جائے کہ وہ دل سے آپ کو معاف کر دیں ۔ جو لوگ اب اس دنیا میں نہیں رھے یعنی فوت ہوچکے ہیں ان کے لیے زیادہ سے زیادہ استغفار کیا جائے اور ان کی بلندیٔ درجات کے لیے دعاؤں کا اھتمام کیا جائے۔

جب کوئی شخص دوسرے کی غیبت کرتا ھے تو گویا وہ اُس شخص کو اپنے سے کمتر اور حقیر سمجھتا ھے یہ غرور اور تکبر کی علامت ھے جو عند اللہ قطعاً پسندیدہ نہیں ھے ۔ ھر شخص کو اپنی برائیوں پر نظر رکھنی چاھیے نہ کہ دوسروں کے عیوب پر ۔ کسی نے کیا خوب کہا ھے 

تھے جب اپنی برائیوں سے بے خبر

رہے ڈھونڈتے اوروں کے عیب و ہنر​

پڑی اپنی برائیوں پہ جب نظر

تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا 


اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت سے بچنے کی توفیق عنایت  فرمائے ۔ 

آمین یا رب العالمین 

Share:

آخرت کے طلبگار اور دنیا کے طلبگار

 

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الۡاٰخِرَۃِ نَزِدۡ لَہٗ فِیۡ حَرۡثِہٖ ۚ وَ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الدُّنۡیَا نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا وَ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ نَّصِیۡبٍ ﴿۲۰﴾

جس کا ارادہ آخرت کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس میں سے کچھ دے دیں گے لیکن ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ (سورہ الشوری)

            یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والے اعمال کرے اور ان اعمال سے صرف اپنے خالق و مالک کی رضا حاصل کرنے کی نیت کرے تو اسے اللہ تعالیٰ دنیا میں  بھی نوازتا ہے اور آخرت میں  بھی اپنے لطف و کرم سے اسے ضرور نواز دے گا اور وہ شخص جو اپنی نماز، روزہ،حج ،زکوٰۃ، صدقہ و خیرات اور دیگر نیک اعمال سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت نہ کرے بلکہ ان اعمال کے ذریعے دنیا میں  مال و دولت،عزت و شہرت  چاہے تو دنیا میں  اسے صرف اتنا ہی ملے گا جتنا اس کے نصیب میں  لکھا ہے اور آخرت میں  ان اعمال کے ثواب سے اسے محروم کر دیا جائے گا ۔ چنانچہ اس بارے میں رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں ا

 حضرت زید بن ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت  ھے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص(صرف) دنیا کی فکر میں  رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے معاملے کو پَراگندہ کر دیتے ھیں اور ا س کی تنگ دستی کو اس کی آنکھوں  کے سامنے کر دیتے ھیں اور اسے دنیا سے صرف اتنا ہی حصہ ملتا ہے جتنا ا س کے لئے (پہلے سے) لکھ دیا گیا ہے اور جو شخص آخرت کا قصد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ا س کے معاملے کو اکٹھا کر دیتے ھیں اور ا س کی مالداری کو اس کے دل میں  رکھ دیتے ھیں اور دنیا اس کے پاس خاک آلود ہو کر آتی ہے۔( ابن ماجہ)

 حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت  ھے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے اپنی تمام فکروں  کو صرف ایک فکر بنا دیا اور وہ آخرت کی فکر ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی دنیا کی فکر کے لئے کافی ہے اور جس کی فکریں  دنیا کے اَحوال میں  مشغول رہیں  تو اللہ تعالیٰ کو اس کی پرواہ نہیں  ہو گی کہ وہ کس وادی میں  ہلاک ہو رہا ہے۔( ابن ماجہ)

حضرت جارود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے آخرت کے عمل کے بدلے دنیا طلب کی تو اس کا چہرہ بگاڑ دیاجائے گا،اس کا ذکر مٹا دیا جائے گا اور جہنم میں  اس کا نام لکھ دیا جائے گا۔ (معجم الکبیر)

یہ حقیقت ھے کہ یہ دنیا ایک مسافر خانہ ھے یہاں کا قیام بالکل عارضی ھے جب کہ آخرت کی زندگی دائمی ھے ۔ عقلمند شخص وھی ھے جو اس دنیا کی عارضی زندگی کے سفر کو سفر ھی سمجھے اور اپنے آپ کو اس دنیا کا مکین نہیں بلکہ مسافر سمجھے اور اپنی نظر اپنی آصل منزل یعنی آخرت پر رکھے یہی شخص صحیح معنوں میں کامیاب وکامران ھو گا چنانچہ حارثہ بن وہاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا کہ: کیا میں تمهیں بتاوں کہ اہل جنت کے بادشاه کون لوگ ہیں- لوگوں نے کہا ہاں اے اللہ کے رسول (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ) تو رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے  فرمایا : وه جو کمزور هو اور جس کو کمزور سمجهہ لیا گیا هو- گرد آلود اور بکهرے هوئے بال- (متفق علیہ)

وه لوگ جو مصلحت پرستی کے بجائے اصول پسندی کو اپنا دین بناتے ہیں- جو دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دیتے ہیں- جو مفاد کو اہمیت دینے کے بجائے حق کو اہمیت دیتے ہیں- جو بندوں کے بجائے اللہ کو اپنی توجہات کا مرکز بناتے ہیں، ایسے لوگ اکثر اوقات دنیا میں بےحیثیت هو جاتے ہیں- وه بیچارے ان چیزوں میں سے کسی چیز کا ثبوت نہیں دے پاتے جن کی دنیوی زندگی میں اہمیت هو اور جو دنیاوی اعتبار سے آدمی کو باعزت بنانے والی هوں- ان کی اس حالت کی وجہ سے بعض اوقات ایسا هوتا ہے کہ لوگ ان کو بےحیثیت اور ناکام سمجهہ لیتے ہیں- دنیوی نقشوں میں ان کو کہیں عزت کے مقام پر نہیں بٹهایا جاتا- مگر حقیقت یہ ھے کہ جب بحکمِ اللہ موجوده دنیا کو ختم کرکے آخرت کا عالم بنایا جائے گا تو اُس عالم کے اندر یہی لوگ سب سے زیاده اونچا مقام حاصل کر لیں گے- وہی سب سے زیاده کامیاب انسان قرار پائیں گے- آج کی دنیا کے  بادشاہوں سے کہیں زیادہ شان و شوکت والی زندگی گزاریں گے- مثلاً  ڈیکٹیٹرانہ نظام میں ایک جمہوری لیڈر ذلت اور گم نامی کے قید خانہ مں ڈال دیا جاتا ہے- مگر جب جمہوری حالات پیدا هوتے ہیں اور عوامی رائے سے سیاسی مناصب کا فیصلہ هوتا ہے تو وہی شخص اقتدار کی بلند ترین کرسی پر بیٹها هوا نظر آتا ہے جو کل تک ایک معمولی سپاہی کے آگے بهی بے بس  دکهائی دے رہا تها بعینہ یہی معاملہ اُس شخص کا ھے جس کا منتہائے نظر آخرت کی زندگی ھو دنیا میں تو وہ شاید گمنامی اور کسمپرسی کے ساتھ زندگی گزار لے گا لیکن مرنے کے بعد والی زندگی میں وہ ان شاء اللہ ضرور کامیاب وکامران ھوگا اور آعلی درجات پر فائز ھو جائے گا اس کے برعکس جو شخص دنیا ھی کو اپنا متمعِ نظر بنائے گا اور آخرت سے غفلت برتے گا وہ شاید دنیا میں تو کچھ اھمیت اختیار کر جائے لیکن آخرت کی ھمیشہ ھمیشہ والی زندگی میں وہ ناکام اور نامراد ھو جائے گا چنانچہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا ارشاد ھے 

“جو شخص اپنی تمام فکروں کو جمع کر کے ایک ہی فکر، یعنی آخرت کی فکر بنا لے، اللہ تعالیٰ اسے دنیاوی فکروں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ)

اس حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دُنیا و آخرت کی زندگی کی کامیابی کا ایک نہایت اہم رازِ بیان فرما دیا ہے۔ انسان کی پریشانیوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کی فکریں بکھری ہوتی ہیں؛ مال، مستقبل، لوگوں کی رائے اور دنیاوی مقابلہ۔ لیکن جب دل کی توجہ آخرت پر مرکوز ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ خود دنیا کے معاملات کو بھی سنوار دیتا ہے۔

یہ حدیث ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ جو شخص اپنی ترجیحات درست کر لیتا ہے، اس کے لیے اللہ تعالی آسانیاں پیدا فرما دیتے ھیں ۔ آخرت کی فکر انسان کو گناہوں سے بچاتی، نیک اعمال کی طرف راغب کرتی اور دل کو سکون عطا کرتی ہے، جبکہ دنیاوی فکریں خود بخود کم ہو جاتی ہیں۔

اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اصل کامیابی زیادہ سوچنے یا زیادہ جمع کرنے میں نہیں، بلکہ صحیح سمت میں سوچنے میں ہے۔ جو اللہ تعالی کی رضا کو اپنا مقصد بنا لے، اس کے لیے دنیا بوجھ نہیں رہتی بلکہ آزمائش بن کر آسان ہو جاتی ہے۔ یہ حدیث ہمیں سوچ کی اصلاح، ترجیحات کی درستگی اور اللہ پر کامل بھروسہ کی ترغیب دیتی ہے، اور یاد دلاتی ہے کہ آخرت کو مقدم رکھنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔

اللہ پاک ھمیں آخرت کی صحیح معنوں میں تیاری کرنے کی توفیق عنایت فرمائے 

آمین یا رب العالمین 

Share:

حضرت مولانا آحمد علی لاھوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا ایک مجرب عمل

 ویسے تو وظائف اور عملیات کی دُنیا میں سینکڑوں وظائف و عملیات ایسے ہیں جو مجرب ہیں اور لوگ بوقتِ ضرورت ان سے مستفید بھی ھوتے ھیں ۔  انہی میں سے ایک مجرب عمل حضرت مولانا احمد علی لاہوری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے لکھا ہے جو ھر جائز مقصد کے لئے مفید ھے ۔ وہ عمل یہ ھے

قرآن مجید میں 106 لفظ "مبین" یعنی آیات مبارکہ  "مبین" ہیں اگر  ان آیاتِ مبارکہ کا  ورد کیا جائے اور اپنے جائز مقاصد میں کامیابی کی دعا کی جائے تو اللہ تعالی کی رحمت سے امید ھے کہ ان شاء اللہ ضرور   کامیابی ہوگی.

افادہ عامہ کے لئے وہ آیات مبارکہ ذیل میں تحریر کی جارہی ہیں...


بسم الله الرحمن الرحيم....


1)وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿168 البقرة﴾


2)وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿208 البقرة﴾


3)وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿164 آل عمران﴾


4)قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ ﴿15 المائدة﴾


5)فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿٩٢ المائدة﴾


6)فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿110 المائدة﴾


7)لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿7 الأنعام﴾


8)مَنْ يُصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ ﴿١٦ الأنعام﴾


9)وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ﴿59 الأنعام﴾


10)إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿74 الأنعام﴾


11)وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿142 الأنعام﴾


12)وَأَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿22 الأعراف﴾


13)قَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿60 الأعراف﴾


14)فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ ﴿107 الأعراف﴾


15)أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِنْ جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿184 الأعراف﴾


16)قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ ﴿2 يونس﴾


17)وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ﴿61 يونس﴾


18)فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا إِنَّ هَٰذَا لَسِحْرٌ مُبِينٌ ﴿76 يونس﴾


19)وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ﴿6 هود﴾


20)لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿7 هود﴾


21)وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿25 هود﴾


22)وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿96 هود﴾


23)الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿١ يوسف﴾


24)إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿5 يوسف﴾


25)وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿8 يوسف﴾


26)قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿30 يوسف﴾


27)تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿10 ابراهيم﴾


28)الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ وَقُرْآنٍ مُبِينٍ ﴿1 الحجر﴾


29)إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُبِينٌ ﴿18 الحجر﴾


30)فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍ مُبِينٍ ﴿79 الحجر﴾


31)وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُ ﴿٨٩ الحجر﴾


32)خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ ﴿4 النحل﴾


33)فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿٣٥ النحل﴾


34)فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿٨٢ النحل﴾


35)لسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ ﴿103 النحل﴾


36)لَٰكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿38 مريم


37)قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿54 الأنبياء﴾


38)خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ﴿١١ الحج﴾


39)قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿49 الحج﴾


40)ثُمَّ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ وَأَخَاهُ هَارُونَ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿45 المؤمنون﴾


41)لَّوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَٰذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ (12 النور)


42)وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ ﴿٢٥ النور﴾


43)وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿٥٤ النور﴾


44)تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢ الشعراء﴾


45)قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَيْءٍ مُبِينٍ ﴿30 الشعراء﴾


46)فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ ﴿32 الشعراء﴾


47)تَاللَّهِ إِنْ كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿97 الشعراء﴾


48)إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿115 الشعراء﴾


49)بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ {195 الشعراء}


50)طس تِلْكَ آيَاتُ الْقُرْآنِ وَكِتَابٍ مُبِينٍ ﴿1 النمل﴾


51)فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ آيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿13 النمل﴾


52)إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ ﴿١٦ النمل﴾


53)لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَأَذْبَحَنَّهُ أَوْ لَيَأْتِيَنِّي بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿21 النمل﴾


54)وَمَا مِنْ غَائِبَةٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ﴿75 النمل﴾


55)فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِينِ ﴿٧٩ النمل﴾


56)تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢ القصص﴾


57)قَالَ هَٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُضِلٌّ مُبِينٌ ﴿15 القصص﴾


58)قَالَ لَهُ مُوسَىٰ إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُبِينٌ ﴿18 القصص﴾


59)قُلْ رَبِّي أَعْلَمُ مَنْ جَاءَ بِالْهُدَىٰ وَمَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ 85 القصص﴾


60)وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿١٨ العنكبوت﴾


61)وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَاتٌ مِّن رَّبِّهِ ۖ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ (50 العنكبوت)


62)بَلِ الظَّالِمُونَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿11 لقمان﴾


63)وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرُ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ﴿3 سبإ﴾


64)وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿24 سبإ﴾


65)وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿43 سبإ﴾


66)وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ ﴿12 يس﴾


67)وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿١٧ يس﴾


68)إِنِّي إِذًا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿24 يس﴾


69)إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿47 يس﴾


70)أَنْ لَا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿60 يس﴾


71)إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُبِينٌ ﴿69 يس﴾


72)أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ ﴿77 يس﴾


73)وَقَالُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿15 الصافات﴾


74)إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ ﴿١٠٦ الصافات﴾


75)وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِنَفْسِهِ مُبِينٌ ﴿113 الصافات﴾


76)أَمْ لَكُمْ سُلْطَانٌ مُبِينٌ ﴿156 الصافات﴾


77)إِنْ يُوحَىٰ إِلَيَّ إِلَّا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿70 ص﴾


78)أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ﴿١٥ الزمر﴾


79)فَوَيْلٌ لِلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿22 الزمر﴾


80)وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿23 مؤمن﴾


81)وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢ الزخرف﴾


82)إِنَّ الْإِنْسَانَ لَكَفُورٌ مُبِينٌ ﴿15 الزخرف﴾


83)أَوَمَنْ يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ ﴿18 الزخرف﴾


84)بَلْ مَتَّعْتُ هَٰؤُلَاءِ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ جَاءَهُمُ الْحَقُّ وَرَسُولٌ مُبِينٌ ﴿29 الزخرف﴾


85)أَفَأَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ أَوْ تَهْدِي الْعُمْيَ وَمَنْ كَانَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿40 الزخرف﴾


86)وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿62 الزخرف﴾


87)وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢ الدخان﴾


88)فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ ﴿10 الدخان﴾


89)أَنَّىٰ لَهُمُ الذِّكْرَىٰ وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُبِينٌ ﴿13 الدخان﴾


90)وَأَنْ لَا تَعْلُوا عَلَى اللَّهِ إِنِّي آتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿19 الدخان﴾


91)وَآتَيْنَاهُمْ مِنَ الْآيَاتِ مَا فِيهِ بَلَاءٌ مُبِينٌ ﴿33 الدخان﴾


92)فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِي رَحْمَتِهِ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ ﴿٣٠ الجاثية﴾


93)قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ هَٰذَا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿7 الأحقاف﴾


94)إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿9 الأحقاف﴾


95)أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿32

الأحقاف﴾


96)وَفِي مُوسَىٰ إِذْ أَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿38 الذاريات﴾


97)فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿50 الذاريات﴾


98)وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿51 الذاريات﴾


99)فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿38 الطور﴾


100)فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿6 الصف﴾


101)وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿2 الجمعة﴾


102)فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿١٢ التغابن﴾


103)قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿26 الملك﴾


104)فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿29 الملك﴾


105)قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿2 نوح﴾


106)وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ ﴿٢٣ التكوير﴾


ان ایاتِ مبارکہ کے ختم کے بعد جہاں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے دعا مانگیں وہاں تمام امتِ مسلمہ کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں..

Share:

مشورہ کی اھمیت اور افادیت

وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ () ...
اور آپ (صحابه) ســے اهم كام ميں مشوره ليا كريں سوجب فيصله كرليں تو الله پر توكل كريں بے شك الله تعالى توكل كرنــے والوں كو محبوب ركهتا هــے(العمران)
انسانی زندگی ميں مشوره كي بهت زياده إهميت هـے بہت سے اُمور ایسے ھوتے ھیں جن میں انسان مشورہ کی ضرورت محسوس کرتا ھے۔ يه جاننا بهت ضرورى هــے کہ مشوره كيا هـــے؟ اور إس کا طريقه کار كيا هــے؟
سب ســے پہلے تو مشوره كــے متعلق يه جان لينا ضرورى هــے كه يه حكمِ ربى هــے۔ قرآن مجيد ميں ارشاد هــے

وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ () اور جنهوں نــے اپنـے رب كا حكم مانا اور نماز كو قائم كيا اور ان كــے كام باهمى مشوره سـے هوتــے هيں اور وه اس ســے جو هم نــے رزق ديا هــے خرچ كرتــے هيں(شوری)

 مشوره كــے متعلق رسول كريم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كـے چند ارشادات مندرجه زيل هيں:-
مشوره ليا كريں كيونكه مشوره لينــے والــے كى(منجانب الله) مدد كى جاتي هــے اور جس ســے مشوره ليا جائــے وه آمين هــے
انفرادى رائــے ســے كوئى كامياب نهيں هوا اور مشوره كــے بعد كوئى ناكام نهيں هوا
 رسول كريم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كا( باوجود اس كــے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  صاحب وحى تهــے) يه معمول رها هــے كه تمام اهم كاموں ميں صحابه كرام رضوان الله عليهم سـے مشوره ليا كرتــے تهــے اور پهر خلفاء راشدين رضوان الله عليهم بهى اسى پر عمل كرتــے رهــے اورپهر امت كــے اكابرين كا بهي يهى معمول چلا آرها هـــے۔
مشوره دو قسم كا هوتا هــے إيك إجتمائى أمور كے لئــے حيســے كسي مسجد ، مدرسه كا مشوره يا کسی رفاھی تنظیم یا دینی جماعت كا مشوره هــے اور دوسرا إنفرادى أمور كا مشوره ۔ چونكه هميں نجي زندگي ميں إنفرادي مشوره كي بهي أكثر ضرورت پڑتي رهتي هے إس لئے اس کے متعلق بھی جاننا بہت ضروری ھے ۔
إنفرادى مشوره إنفرادى مشوره وه هــے جس كا تعلق كسى شخص كے ذاتي أمور ســے هو مثلاً كوئى تجارت يا خريد و فروخت كرنا - بچــے يا بچي كا رشته طــے كرنا اور كسى سفر پر جانا وغيره - إنفرادى مشوره ايسـے شخص ســے كرنا چاهيــے جو صالح اور ديندار هو اور جس كام كے لئــے مشوره كيا جانا هــے اسكى معلومات بھی ركهتا هو ۔ بے دين اور خود غرض شخص ســے مشوره نهيں كرنا چاهيــے كيونكه ايك تو بـے دين شخص كى عقل ميں ظلمت هوتي هــے دوسرا وه جان بوجهـ كر غلط مشوره دے گا جس ســے اور خلجان پيدا هونــے كا خدشه هــے۔ (مثلاً آپ كوئى تجارت كرنا چاهتــے هيں اســے معلوم هـے كه إس ميں فائده هــے وه آپ كو خوفزده كركــے اس ســے دور كردے گا اور پهر موقعه پا كر خود فائده اٹهانــے كي كوشش كرے گا ۔ إسي طرح آپ اپنــے بيٹــے يا بيٹى كا كهيں رشته طــے كرنا چاهتــے هيں وه دوسرے فريق ســے آپكو بدظن كرے گا ان لوگوں كى برائياں خود سے گهڑ گهڑ كر آپكو بتائــے گا - اسی طرح جس كــے بارے ميں يه معلوم هو كه يه جهوٹ بولنــے كا عادى هــے اس ســے بهي مشوره نه كيا جائــے كيونكه وه جانتـے هوئــے بهى اپكو صحيح بات نهيں بتائــے گا.- ازروئے شريعت طالبِ مشورہ کا تمام عزيزوں سـے مشوره كرنا بهي ضرورى نهيں ھے ۔ جس ســے وہ مناسب سمجهــے مشوره كرلــے اور جس ســے مناسب نه سمجهــے مشوره نه كرے ۔ بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ جس شخص میں یہ پانچ خصلتیں اور عادتیں ہوں اُس سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ایک یہ کہ مشورہ دینے والا کامل عقل مند اور متعلقہ معاملے میں تجربہ رکھتا ہو۔
دوسرے یہ کہ مشورہ دینے والا شخص متقی اور پرہیز گار ہو۔
تیسرے یہ کہ مشورہ دینے والا مشورہ لینے والے کا ہم درد اور خیر خواہ ہو۔
چوتھے یہ کہ مشورہ دیتے وقت مشورہ دینے والا رنج و غم اور ذہنی اُلجھن کا شکار نہ ہو اس لیے کہ ایسی صورت میں اُس کی رائے میں درُستگی اور سلامتی باقی نہیں رہتی۔
پانچویں یہ کہ کوئی ایسا معاملہ نہ ہو کہ جس میں مشورہ دینے والے کی اپنی ذاتی غرض اور نفسانی خواہش شامل ہو۔
رسول اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے حضرت علي رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  سے فرمایا: اے علی (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ)  ڈرپوک سے مشورہ نہ کرو، کیونکہ وہ مشکلات سے نکلنے کا راستہ تمہارے لیے تنگ کر دے گا، اور کنجوس سے مشورہ نہ کرو، کیونکہ وہ آپ کو سخاوت کرنے اور آپ کے ہدف سے دور کر دے گا، اور لالچی سے مشورہ نہ کرو کیونکہ وہ لالچ کو تمہارے لیے خوبصورت بنا دے گا۔
مشوره لينــے والــے كي ذمه دارى اور حقوق
مشوره لينــے والــے كى يه ذمه دارى هــے كه مشوره كيلئــے صالح - ديندار اور سمجهدار شخص كا إنتخاب كرے جس سـے مشوره كرے اس كــے سامنـے بات إس طرح ركهــے كه اسكو معامله سمجهـ ميں آجائــے تاكه اســے مشوره دينــے ميں آسانى هو جب وه مشوره دے تو اسكي بات كو غور ســے سنــے اگر اس کا مشوره پسند آجائــے تو اسكو بتا دے اگرنه بهي پسند هو تو اسكا إحسان مند هو كه اس نــے وقت ديا اور اس كا شكريه ادا كردے نيز اگر كوئى شخص مشوره دينــے سے كسي وجه ســے معذرت كرے تو اســے مشوره دينــے پر مجبور نه كرے۔
مشوره لينــے والے كو جس طرح شرعاً يه حق حاصل هــے کہ وه كس ســے مشوره كرے يا كس ســے نه كرے اسی طرح اسے یہ بھی حق حاصل ھے کہ وہ کسی كا مشوره قبول کرے يا رد كرے . شريعت مطهره نــے اس كے لئـے يه لازمى نهيں كيا كه وه جس ســے مشوره كرے اس كا مشوره قبول بهي ضرور هي كرے ۔ كسى شخص كــے مشوره پر عمل كرنا يا نه كرنا يه طالبِ مشوره كا شرعى حق هــے۔
مشوره دينــے والــے كي ذمه دارى اور حقوق
جس ســے مشوره طلب كيا جائــے وه اس كو آمانت سمجهـ كر جو بهترين مشوره اس كــے ذهن ميں هو وه دے دے ۔ بهتر يه هوگا كه ايســے موقعه پر وہ يه خيال كرے كه اگر ميں نــے يه كام كرنا هوتا تو ميرے لئے كيا بهتر هوتا ۔ وهى مشوره اس كے سامنــے ركهــے اگر مشوره قبول هوجائــے تو الله تعالى ســے اس كى بهلائى كے لئــے دعا كرے اور اگر قبول نه هو تو كسى قسم كي كوئى بهي ناراضگى كا أظهار نه كرے
جس ســے كوئى شخص مشوره طلب كرے تو اس كو مشوره دينــے ســے حتى الإمكان إنكار نهيں كرنا چاهيــے ۔ تاهم اگر كسى وجه ســے ايسا كرنا اس كــے لئــے ممكن نه هو تو نرمى اور عاجزى كے ساتهـ معذرت كرلـــے- مشوره لينا اور دينا چونكه حكمِ خداوندى اور سنت رسول كريم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  هــے لهذا جس ســے مشوره طلب كيا جائــے وه غرور اور تكبر نه كرے كه ميں كتنا دانا هوں كه مجهـ ســے مشوره ليا جارها هــے اور نه هي وه مشوره لينـے والــے كو حقير سمجهــے نه هي اس پر حكم چلانــے كي كوشش كرے كه يه آپ نــے مجهـے پہلے نهيں بتايا لهذا اب ميں مشوره نهيں دوں گا يا يه كه چونكه آپ نــے مجهــے إعتماد ميں نهيں ليا اس لئــے ميں اب يه كام بالكل نهيں هونے دوں گا وغيره وغيره - يه درأصل نمرودي اور فرعونى الفاظ هيں جو عندالله قطعاً پسنديده نهيں هيں ۔ اگر كسي نــے اس طرح كــے نمرودي وفرعونى الفاظ كهــے هوں تو وه شخص عندالله مجرم هے ۔ چونكه اس كے يه الفاظ صاف ظاهر كررهے هيں كه وه واقعتاً متكبر هے ۔ جبكه كبر صرف اور صرف الله تعالى كي صفت هے ۔ كسي اور كو يه نه تو زيب ديتى هے نه هي اس كا يه حق هے ۔ جن لوگوں كو جنت سے محرومي كي وعيد سنائى گئي هے ان ميں إيك متكبر شخص بهي هے . جو شخص إس گناه كا مرتكب هوا هے تو سب ســے پهلــے تو اس نـے الله اور اس كـے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كـے حكم كى خلاف ورزى كى هـے لهذا الله تعالى كے سامنے ندامت كا أظهار كرے۔ دل سے بهي اور زبان سے بهي اور پهر الله تعالى سـے رو رو كر توبه النصوح كرے اور دوسرا چونكه اس نے مشوره طلب كرنــے والــے كى بهي حق تلفى كى هــے لهذا اس ســے بهي واضح طور پرمعافى كا خواستگار هو. اگر يه الفاظ تنهائى ميں كهــے هوں تو تنهائى ميں معافي مانگــے اگر مجلس ميں كهــے هوں تو بهتر هے كه مجلس ميں معافى مانگــے ۔ اگر ايسا نه كيا تو يه شخص كل قيامت والـے دن عندالله جوابده هوگا
بهرحال مشوره قبول كرنــے پر اصرار كرنا اور قبول نه كرنے كي صورت ميں ناراض هونا سخت غلطى هــے ۔ مشوره دينــے كى حقيقت هي صرف إتنى هــے كه اپنى رائے ظاهر كردى جائے اور بس كوئى قبول كرے يا نه كرے بهرصورت ناگوارى نهيں هونى چاهيـے۔

إجتماعي مشوره 
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ اجتماعی مشورہ سے مراد مسجد ، مدرسہ یا کسی جماعت اور تنظیم وغیرہ کا مشورہ ھے اسی طرح تبلیغی جماعت میں بھی مشورے کی بہت اھمیت ھوتی ھے ۔ تمام اُمور مشورے سے ھی طے ھوتے ھیں۔ یہاں تک جب جماعتیں خروج کرتی ھیں تو تمام قیام کے دوران روزانہ مشورہ کیا جاتا ھے ۔ جب جماعت مسجد ميں پہنچ جاتي هــے اور ساتهي وضو اور تحية المسجد وغيره ســے فارغ هوكر جمع هو جاتــے هيں تو مشوره كا عمل شروع هو جاتا هــے اور پهر يه عمل پابندي كے ساتهـ هر روز كيا جاتا هــے۔ تمام دن كا اور اگلــے دن كي فجر تك كا مشوره كر ليا جاتا هــے جس ميں تمام اُمور كے لئــے ساتهي طــے هوجاتـــے هيں ۔ درميان ميں جو اور تقاضــے آتــے هيں ان كــے لئــے آمير صاحب طــے كرديتــے هيں۔ مشوره سنت كــے مطابق اور مكمل آداب كی ساتھ كيا جاتا هـــے ساتهيوں كو فكرمند كرنــے كے لئــے ايك ساتهي مشوره كے فضائل اور آداب مختصراً بيان كرتا هــے۔ اسی طرح مساجد اور مدارس وغیرہ کے مشورے ھوتے ھیں۔

مشورہ كا مقصد
مشوره الله تعالى سے خير طلب كرنے كا ايك ذريعه هے ۔ گويا مشوره كركے الله تعالى سے خير طلب كي جاتي هے ۔ مشوره كا ايك مقصد امت ميں جوڑ پيدا كرنا بهي هے لهذا مشوره امت ميں جوڑ پيدا كرنے كا بهي ايك ذريعہ هے ۔ آمير كي اطاعت كا جذبه پيدا كرنا بهي مشوره كا ايك مقصد هے كيونكه جب آمير صاحب اپني رائے كے خلاف كچهـ طے فرماتے هيں تو اسے ماننا هوتا هے اس طرح آمير كي آطاعت كي عادت بن جاتي هے اور يه عادت اگے چل كر الله تعالى اور رسول الله صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كي آطاعت كا پيش خيمه ثابت هوتي هے ۔ کسی معاملہ میں مشورہ سے ايك مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس معاملہ کے تمام تر پہلو سامنے آجائیں۔ پھر ان جملہ پہلوؤں کو سامنے رکھ کر یہ معلوم کیا جائے کہ کونسا پہلو اقرب الی الحق ہے۔ اور کتاب و سنت سے زیادہ مطابقت رکھا ہے ۔ گویا مجلس مشاورت منعقد کرنے کی غرض وغایت یہ ہے کہ کونسا اقدام اللہ کی مرضی و منشا کے مطابق ہو سکتا ہے۔
اجتماعی مشورہ كے آصول و آداب مشوره چونكه إيك سنت عمل هــے إس لئـے اســے مكمل آداب كي رعايت ركهتــے هوئــے كرنا چاهيــے ۔ إن آداب ميں ســے كچهـ مندرجه زيل هيں
1-مشوره كے لئــے ايك آمير هونا لازمى هــے اس لئــے اگر آمير صاحب موجود نه هوں تو موجود ساتھیوں میں سے كوئى آمير طــے كيا جائــے. آمير صاحب اور تمام ساتهي الله تعالى كى جانب دهيان كركــے بيٹهيں- ذهن مكمل طور پر حاضر هو. جن أمور پر مشوره هو رها هو آمير صاحب اور ساتهي اس ســے پورى طرح باخبر هوں
2-آمير صاحب كو چونكه آمير مقرر كيا گيا هــے إس لئــے وه الله تعالى ســے ڈريں اور تكبر وغيره ســے مكمل بچيں ۔ وه يه نه سمجهيں كه شايد ميں هي ذياده قابل تها اس لئــے مجهـے آمير مقرر كيا گيا بلكه يوں سمجهيں كه ميں اس ذمه دارى كــے قابل نهيں تها ليكن يا الله تيرے بندوں نــے مجهـ ناتوان كو يه ذمه دارى دے دى هــے اس لئــے يالله ميرى مدد فرما اور إس عظيم ذمه داري سے عهده برأه هونے كي توفيق عطا فرما - آمين
3-آمير صاحب الله تعالى كى طرف متوجه هو كر مطلوبه أمور پر ساتهيوں ســے مشوره ليں اور پهر جو بات آمیر صاحب کے دل ميں آئــے وه طــے كرديں كيونكه آمير صاحب كــے دل ميں جو بات آئے گى وه الله تعالى كي طرف ســے هوگي اور إن شاء الله اسي ميں خيرهوگي۔
4-يه آمير صاحب كي صوابديد پر هــے كه وه تمام ساتهيوں ســے مشوره ليں يا كچهـ ســے مشوره ليں اور كچهـ ســے نه ليں يا كسى ســے بهي مشوره ليــے بغير كسى بات كو طــے كرديں تو إن شاء الله إسي ميں خير هوگى( ليكن إيسا كسي مجبوري كے بغير نهيں كرنا چاهيے) اورجو بهي طے هوگیا اب يه متفقه أمر تصور كيا جائے گا ۔ إس مشوره ميں اكثريت اور اقليت كي بهي كوئى گنجائش نهيں ۔ بس جو بات آمير صاحب كى طرف ســے طــے هوگئى هے وهى قابل قبول هوگى ۔ چاهــے اكثريت كى رائــے اس كــے خلاف هي كيوں نه هو۔
5- تمام ساتهى مشوره ميں پورے دهيان كے ساتهـ بيٹهيں – ماننــے كى نيت ســے بيٹهيں ۔ اپنی بات منوانــے كى نيت بالكل نه هو – جس ساتهي سـے مشوره طلب كيا جائــے صرف وهي مشوره پيش كرے دوسرے ساتهــي بالكل خاموش ســـے سنيں – جس ساتهي ســے مشوره طلب كيا جائــے اس كــے ذهن ميں جو بهترين بات آرهى هو اســے آمانت سمجهـ كر پيش كردے يه نه سوچــے كه اگر ميں نــے يه رائــے دے دي تو كهيں يه ذمه دارى مجهـ پر ھی نه ڈال دى جائــے۔
6- مشوره كے دوران كسى أمر پر مختلف رائــے كا آنا إيك قدرتي أمر هــے ليكن مشوره ميں جو بهي بات آمير صاحب كي جانب سے طــے هو جائے اب هر ساتهي اســے اپنى هي رائــے سمجهـے اور اس پر دل و جان ســے عمل كرے۔ گو طـے شده أمر اس كى رائــے كـے خلاف هي كيوں نه هو – مشوره سے پهلــے كوئى مشوره نه هو اور مشوره كــے بعد اس پر كوئى تبصره نه كيا جائــے بلكه جو كچهـ طــے هوچكا وه اب وہ تمام ساتھیوں كا مشوره تصورهوگا اور آمير صاحب سميت هر ساتهي إس كا پابند هوگا۔
7۔ جس طرح دین امانت ہے اسی طرح مشورہ بھی امانت ہے ۔ جس طرح دین کا اہم رکن نماز ہے اسی طرح دعوتِ دین  کا اہم رکن مشورہ ہے۔ جس کی نماز نہیں اس کا دین نہیں ۔ اسی طرح جس کا مشورہ نہیں اس کی دعوت نہیں۔
8 ۔ کام کی کمزوری مشورے کی کمزوری ہے کام اس لیے کمزور ہوگا کہ مشورہ کمزور ہوگا۔
مشورے کا مقصد تقاضے کو پورا کرنا نہیں ہے، بلکہ مشورے کا مقصد ساتھیوں کو لے کر چلنا ہے تقاضے وہ پورا کرے گا جو ساتھی قربانی دے گا۔ جس مشورے سے تقاضے پورے نہیں ہوئے وہ مشورہ کمزور نہیں، بلکہ جس مشورے سے ساتھی کٹ گیا وہ مشورہ کمزور ہے۔
 کام کرنے کا ساتهي جو تیار ہوتا ہے وہ مشورے سے تیار ہوتا ہے، اور جو ساتھی کٹتا ہے وہ مشورے سے کٹتا ہے۔

9۔ مشورے کے بعد مشورہ کرنا یہ بھی مشورے کی کمزوری ہے۔ جس کے اندر مشورے کے اہمیت نہیں ہوگی، اس مشورے سے طے ہونے والی امور کی بھی اہمیت نہیں ہو گی۔
10۔ مشورے میں فیصلہ رائے کی کثرت پر نہیں ہوگا، رائے کی کثرت اختلاف نہیں ہے، بلکہ رائے کی کثرت اور رائے کو نکھارتا ہے۔
11- جس ساتهي سے رائے طلب كي جائے صرف وهي رائے دے جو ساتهـي رائــے دے وه صرف اپنى رائــے پيش كرے دوسرے ساتهيوں كى بات كو بالكل نه كاٹـے بلكه يوں كهــے كه بهائيوں نــے بهت اچهى رائــے دى هيں اور ميرے ذهن ميں يه بات آرهي هـے - ساتهى كى رائــے اگر طــے هوجائــے تو الله تعالى ســے ڈرے كه ميں نــے رائــے پيش كى تهي جو طــے بهي هوگى يالله اس ميں خير كا فيصله فرما دے اور اگر بات طــے نه هو تو ناراض نه هو بلكه خوش هو كه هوسكتا هــے ميرى رائے درست نه هو يه ملال نه كرے كه مجهـے تو كچهـ سمجها هي نهيں گيا اس لئــے ميرى رائے كو كوئى وقعت نهيں دى گى .
مشورے کي اہمیت وفضيلت
قرآن مجيد ميں ارشادِ ربّانی ہے: اور شریک مشورہ رکھو، انہیں ایسے (اہم اور اجتماعی) کاموں میں، پھر جب آپ (کسی معاملے میں) پختہ ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسه کرو ،بے شک اللہ محبت رکھتا (اور پسند فرماتا) ہے ایسے بھروسه کرنے والوں کو‘‘۔(سورۂ آل عمران )
اسی طرح مومنین کے بارے میں ارشاد فرمایا :اور جو اپنے (اہم) معاملات باہمی مشورے سے چلاتے ہیں۔ بلاشبہ مشورہ خیر و برکت، عروج و ترقی اور نزول رحمت کا ذریعہ ہے، اس میں نقصان اور ندامت و شرمندگی کا کوئی پہلو نہیں۔
 رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: کوئی انسان مشورے سے کبھی نا کام اور نامراد نہیں ہوتا اور نہ ہی مشورہ ترک کر کے کبھی کوئی بھلائی حاصل کرسکتا ہے۔ (قرطبی)
ایک موقع پر رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ’’ جس نے استخارہ کیا، وہ نا کام نہیں ہوا اور جس نے مشورہ کیا وہ شرمندہ نہیں ہوا۔‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی)
اسی طرح رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کا یہ بھی ارشاد ہے: مشورہ شرمندگی سے بچاؤ کا قلعہ ہے اور ملامت سے مامون رہنے کا ذریعہ ہے۔‘‘(ادب الدنیا والدّین)
حضرت سعید بن مسیب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے فرمایا: کوئی انسان مشورے کے بعد ہلاک نہیں ہوتا۔‘‘( ابن ابی شیبہ)
حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کا قول ہے: مشورہ عین ہدایت ہے اور جو شخص اپنی رائے سے ہی خوش ہوگیا، وہ خطرات سے دوچار ہوا۔ (المدخل)
خلاصہ یہ کہ مشورہ ایک مہتم بالشان امر ہے، رشدوہدایت اور خیر وصلاح اس سے وابستہ ہے، جب تک مشاورت کا نظام باقی رہے گا، فساد اور ضلالت و گمراہی راہ نہیں پاسکے گی، امن اور سکون کا ماحول رہے گا، یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا: جب تمہارے حکام تم میں سے بہترین افراد ہوں اور تمہارے مال دار سخی ہوں اور تمہارے معاملات آپس میں مشورے سے طے ہوا کریں تو زمین کے اوپر رہنا تمہارے لیے بہتر ہے اور جب تمہارے حکام بدترین افراد ہوں اور تمہارے مال دار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو زمین کے اندر دفن ہوجانا تمہارے زندہ رہنے سے بہتر ہوگا۔“ (روح المعانی)
مشورے کو مسلمانوں کا وصف خاص قرار دیا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ایمان والے وہ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم کو مانا، نماز قائم کی اور ان کے کام باہم مشورے سے ہوتے ہیں اور جو ہم نے (مال انہیں) دیا ہے، اسے خرچ کرتے ہیں۔(سورۂ شوریٰ) اس آیت میں مسلمانوں کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں، ان میں ایک وصف باہمی مشورہ بھی ہے یعنی کسی اہم معاملے کو باہمی رائے کے ذریعے حل کیا جانا کامل اور پختہ ایمان مسلمانوں کی صفت ہے، اطاعت ِ خداوندی اور اقامت ِ صلوٰۃ کے بعد فوری طور پر مشورے کے معاملے کو بیان کرنے سے اس کی غیر معمولی اہمیت کا پته چلتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم اور بالخصوص خلفائے راشدین رضوان الله عليهم نے مشاورت اورباہمی مشورے کو اپنا معمول بنایا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كو بھی مشورے کا حکم دیا، ارشاد فرمایا: اے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ! آپ معاملات اور متفرق امور میں صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم سے مشورہ کیا کیجیے۔ (سورۂ آل عمران) بظاہر رسولِ اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو مشورے کی حاجت نہیں تھی، کیوں کہ آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے لیے وحی کا دروازہ کھلا ہوا تھا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  چاہتے تو وحی کے ذریعے معلوم ہوسکتا تھا کہ کیا اور کس طرح کرنا چاہیے؟ حضرت قتادہؓ، ربیع اوردوسرے بعض مفسرین کا خیال ہے کہ صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم کے اطمینانِ قلب اورانہیں وقار بخشنے کے لیے یہ حکم دیا گیا تھا،اس لیے کہ عرب میں مشورہ اور رائے طلبی باعثِ عزت و افتخار سمجها جاتا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ وحی کے ذریعے اگرچہ بہت سے امور میں آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی رہنمائی کردی جاتی تھی، مگر حکمت اور مصلحتوں کے پیش نظر چند امور کو رسول كريم آ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كي رائے اور صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا، ان ہی مواقع میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کو صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم سے مشورےکا حکم دیا گیا، تا کہ امت میں مشورےکی سنت جاری ہوسکے اور لوگ یہ سمجھیں کہ جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کو مکمل فہم و بصیرت ہونے کے باوجود مشورے کا حکم دیا گیا تو پھر ہم اس کے زیادہ محتاج اور ضرورت مند ہیں،
چناںچہ فرمایا گیا: یاد رکھو! اللہ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  مشورے سے بالکل مستغنی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے امت کے لیے رحمت کا سبب بنایا ہے۔ (درمنثور) اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ذریعے مسلمانوں کو مشورے کی فضیلت کا درس دیا ہے، تاکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی امت اس کی پیروی کرے‘‘۔ (قرطبی)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کا بیان ہے کہ میں نےرسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے زیادہ مشورہ کرنے والا کسی کو نہیں پایا یعنی آپ ہر قابلِ غور معاملے میں اپنے صحابہؓ سے مشورہ کر کے ہی کوئی فیصلہ فرماتے، مثلاً :جنگ بدر سے فراغت ہوچکی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے اسیرانِ بدر کے بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ تَعَالٰی عَنْہُم سے مشورہ فرمایا کہ انہیں معاوضہ لے کر رہا کر دیا جائے یا قتل کیا جائے ۔ غزوہٴ اُحد کے بارے میں مشورہ کیا کہ کیا مدینہ شہر کے اندر رہ کر مدافعت کی جائے یا شہر سے باہر نکل کر۔ عام طور سے صحابہ کرام رضوان الله عليهم کی رائے باہر نکلنے کی تھی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے اسے قبو ل فرمایا۔ غزوہٴ خندق میں ایک خاص معاہدے پر صلح کرنے کا معاملہ درپیش ہوا تو حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  اورحضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اس معاملے کو مناسب نہیں سمجھا، اس لیے ان دونوں نے اختلاف کیا، آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ان دونوں کی رائے قبول کرلی، حدیبیہ کے ایک معاملے میں مشورہ لیا تو حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کی رائے پر فیصلہ فرمایا،واقعہٴ اِفک میں صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم سے مشورہ لیا، اسی طرح اذان کی بابت بھی صحابہ كرام رضوان الله عليهم سے مشورہ کیا کہ نماز کی اطلاع دینے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟ اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جن امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی حکمت کی بناء پر کسی خاص جانب رہنمائی نہ کی جاتی، ان میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم سے مشورہ فرماتے۔
قرآن و سنت کی تعلیمات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نہ صرف یہ کہ اہم امور اورمعاملات میں صحابۂ کرام رضوان الله عليهم سے مشورہ لیتے ،بلکہ ان پر عمل بھی فرماتے تھے۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کے بعد جب صحابۂ کرام رضوان الله عليهم کا دور آیا تو ان کے سامنے ایک طرف تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کا اسوہ ٔ حسنہ تھا اور دوسری طرف قرآن و حدیث۔ دونوں میں نہایت واضح ہدایات خود صحابہ كرام رضوان الله عليهم کو دی گئی تھیں کہ وہ کس اساس پر اپنا سیاسی نظام قائم کریں اور اس میں قانون سازی کا طریقہ کیا ہو۔ اس سلسلے میں قرآن مجید میں اصولی ہدایت یہ دی گئی ہے: اور ان کا نظام باہمی مشورے پر مبنی ہے۔(سورۂ شوریٰ)اس اصولی ہدایت کی وضاحت بھی نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے اس طرح فرمائی تھی: حضرت ابوسلمہ رضي الله تعالى عنه کا بیان ہےکہ میں نے نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  سے عرض کیا کہ اگر کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جس کا ذکر نہ تو کہیں قرآن میں ہو اور نہ سنت میں تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا کہ اس معاملے پر مسلمانوں کے صالح لوگ غور کرکے اس کا فیصلہ کریں گے۔ (سنن دارمی)
مشورہ ہمیشہ ایسے شخص سے کرنا چاہیے جسے متعلقہ معاملے میں پوری بصیرت اور تجربہ حاصل ہو، چناںچہ دینی معاملات میں ماہر اور صاحب ِ نظر عالم ِ دین سے مشورہ کرنا چاہیے اور کسی بیماری اور جسمانی صحت کے بارے میں کسی اچھے طبیب کا انتخاب ہی مفید ہوگا۔ غرض جس طرح کا معاملہ ہے، اسی فن کے ماہرین اور تجربہ کار کا انتخاب کیا جائے، کیوں کہ تجربہ کے بغیر صرف عقل کامیابی سے ہمکنار نہیں کرسکتی، گویا مشورہ لینے کے لیے عقل اور تجربہ دونوں کا بیک وقت موجود ہونا نہایت ضروری ہے۔ ایک دوسرے کے بغیر صحیح رہنمائی نہیں مل سکتی۔ رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: عقل مندوں سے مشورہ کرو، کامیابی ملے گی اور ان کی مخالفت نہ کرو، ورنہ شرمندگی ہوگی۔
رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : جس شخص سے مشورہ کیا جاتا ہے، وہ امانت دار ہوتا ہے ، اسے امانت داری کا پورا حق ادا کرنا چاہیے۔ ( جامع ترمذی )اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ باہمی امور میں مشاورت سے کام لیا جائے ،یہ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ہے اور سنت ِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   بھی۔ لہٰذا ہر موقع پر مشورے اور مشاورت کا اہتمام ایک ضروری امر ہے۔
مشورہ کن اُمور میں کرنا چاھیے
اور کن میں نہیں کرنا چاھیے
ایک سوال یہ ہے کہ مشورہ کہاں اور کن چیزوں میں کیا جائے؟ اس سلسلہ میں یاد رکھنا چاہیے کہ جن امور میں شریعت کا فیصلہ متعین ہے کہ یہ چیز فرض ہے یا واجب ہے یا حرام یا مکروہ ہے، ان امور میں مشورہ کی ضرورت نہیں؛ بلکہ جائز بھی نہیں ہے، جیسے کوئی شخص یہ مشورہ کرے کہ نماز پڑھے یا نہیں، زکوٰة دے یا نہیں، حج کرے یا نہیں، یہ چیزیں مشورہ کی نہیں ہیں، ان کے لیے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم متعین ہے کہ ان کا کرنا ہر حال میں ضروری ہے یا اسی طرح جن چیزوں کو شریعت نے منع کیا ہے، جیسے زناکاری، شراب نوشی، ڈاکہ زنی وغیرہ ان میں بھی مشورہ کی حاجت نہیں، ان سے تو بہرحال رکنا لازمی ہے؛ البتہ طریق کار کے بارے میں مشورہ کیا جاسکتا ہے، جیسے حج میں جانے کے لیے مختلف راستے ہیں، بعض پُراَمن ہیں اور بعض میں خطرہ ہے، تو اس موقع پر تجربہ کار افراد کی رائے معلوم کی جاسکتی ہے کہ ان مختلف راستوں میں اس کے لیے کون سا راستہ بہتر ہوگا، یا اسی طرح ایک شخص مریض ہے اس کو تردد ہے کہ مجھ کو اس حالت میں تیمم کی اجازت ہے یا نہیں، اس بارے میں اطباء یا تجربہ کاروں سے مشورہ کرسکتا ہے، اسی طرح وہ احکام ومسائل جن کے بارے میں قرآن و حدیث، اقوالِ صحابہ یا سلف کی کتابوں میں کوئی صراحت نہیں ہے، جدید اور نئے زمانہ سے ان کا تعلق ہے، ان میں مشورہ کرنا نہ صرف جائز؛ بلکہ اربابِ فقہ اور صاحب ِ نظر علمائے دین سے ان کے بارے میں پوچھنا اور حکم ِ شرعی معلوم کرنا واجب ہے۔ حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کا بیان ہے کہ میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  سے عرض کیا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے بعد اگر ہمیں کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جس کا حکم صراحتا ً قرآن میں نازل نہیں ہوا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  سے بھی اس کے متعلق کوئی ارشاد ہم نے نہ سنا ہو تو ہم کیا کریں؟ آنحضرت   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا کہ ایسے کام کے لیے اپنے لوگوں میں سے عبادت گزار فقہا کو جمع کرو اور ان کے مشورہ سے اس کا فیصلہ کرو، کسی کی تنہا رائے سے فیصلہ نہ کرو۔ (معارف القرآن)
دینی امور کے علاوہ معاشی، معاشرتی، سماجی، انفرادی اور اجتماعی زندگی میں پیش آنے والے معاملات میں بھی مشورہ کو اپنانا چاہیے، جہاں شریعت، عقل و عادت کے اعتبار سے کوئی جانب متعین ہو اور نہ ہی اس کا نافع ہونا یقینی ہو، امورِ طبعیہ جیسے بھوک اور پیاس کے وقت روٹی کھانا یا پانی پینا، اس میں مشورہ کرنے اور کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ مجھے بھوک لگی ہے کھانا کھانا چاہیے یا نہیں؟ عام حالات میں یہ سوال حماقت ہے، ہاں بیماری کے وقت یا اس کے ذرائع اور طرق یا مختلف اغذیہ اور اشربہ میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے میں اگر کسی کے اندر خطرہ کا احتمال ہو تو مشورہ کرنا مستحسن یا ضروری ہوگا۔ یہاں اس پہلو پر بھی نظر رہے کہ اللہ تعالیٰ نے مشورہ کی ترغیب اور ہدایت تو دی ہے؛ مگر اپنی رحمت ِ عامہ کی بناء پر چند مخصوص جگہوں کے علاوہ انسان کو مقید نہیں کیا کہ کوئی معاملہ بلامشورہ کر ہی نہ سکے، بسااوقات اہم معاملات پیش آتے ہیں اور ایک تجربہ کار انسان کو اس کے انتظام و انصرام اور حل کا طریقہ معلوم ہوتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ کسی صاحب ِ عقل و دانش سے مشورہ کرے گا تو اس کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں بتلا سکتا، اس حالت میں اگر وہ بلامشورہ کام کربیٹھے تو کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح معاملات کی نوعیت اور منافع و خطرات کی عظمت و وقعت اور قوت و ضعف کے اعتبار سے مشورہ کے حکم ِ استحسان میں فرق ہوجائے گا، بعض مواقع میں مشورہ نہایت اہم اور ضروری ہوگا اور بعض جگہ درجہٴ استحسان میں رہے گا۔ بہرحال وہ امور جن میں کوئی جانب شرعاً، عقلاً، عرفاً، عادتاً معین نہیں اور جن کے مختلف جوانب میں خطرات و منافع کا احتمال ہے، یعنی نتائج مبہم اور مخفی ہوں، ان میں مشورہ کو اپنا معمول بنانا چاہیے۔ اس میں اتباعِ سنتِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے علاوہ ہزاروں فوائد ہیں، اہلِ علم اور مشورہ کے پابند حضرات اس سے اچھی طرح واقف ہیں۔
اللہ پاک ھمیں رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی سنت کی اتباع کرنے کی توفیق عنایت فرمائے
آمین یا رب العالمین

Share:

بائیس رجب یومِ وفات سیدنا حضرت آمیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ

 

کاتبِ وحی، جلیل القدر صحابی ، فاتح شام و قبرص حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنه


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ وہ خوش نصیب انسان ہیں جن کو جلیل القدر صحابی ہونے کے ساتھ کاتبِ وحی اور پہلے اسلامی بحری بیڑے کے امیر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے حضورأكرم   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی زبان سے کئی دفعہ دعائیں اور بشارتیں نکلیں ، آپ رضی الله  تعالی عنہ کی بہن حضرت سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کو حضور اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کی زوجہ محترمہ اور ام المومنین ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔
آ پ رضی اللہ تعالی عنہ نے 19 سال تک 64 لاکھ مربع میل یعنی آدھی دنیا پر حکومت کی، تاریخِ اسلام کے روشن اوراق آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے کردار و کارناموں اور فضائل ومناقب سے بھرے پڑے ہیں۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضورأكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  سے مل جاتا ہے۔
حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں حضور أكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے فرمایا کہ اللہ تعالی قیامت کے دن معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اس طرح اٹھائیں گے کہ ان پر نور ایمان کی چادر ہو گی''کنزالاعمال'' ایک موقعہ پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں حضورأكرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے فرمایا کہ اے اللہ ! معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ہدایت دینے والا، ہدایت پر قائم رہنے والا اور لوگوں کیلئے ذریعہ ہدایت بنا۔
( جا مع ترمذی)
حضورأكرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا کہ معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ میری امت میں سب سے زیادہ بردبار اور سخی ہیں۔(تطہیرالجنان)۔ حضرت امیر معاویہ رضی تعالی عنہ سروقد ، لحیم وشحیم، رنگ گورا، چہرہ کتابی ،آنکھیں موٹی گھنی داڑھی، وضع قطع، چال ڈھال میں بظاہر شا ن وشوکت اورتمکنت مگر مزاج اور طبیعت میں زہد و تواضع، فرونتی، حلم برد باری اور چہرہ سے ذہانت اور فطانت مترشح تھی۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جب اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تو حضور أكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے انہیں مبارکبا د دی اور ''مرحبا۔۔۔۔۔۔'' فرمایا (البدایہ والنہایہ  ) حضورأكرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  چونکہ حضرت آمير معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سابقہ حالاتِ زندگی اور ان کی صلاحیت و قابلیت سے آگاہ تھے اس لئے انہیں خاص قرب سے نوازا ۔ فتح مکہ کے بعد آپ رضی اللہ تعالی عنہ حضورأكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کے ساتھ ہی رہے اور تمام غزوات میں حضورأكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت و معیت میں بھرپور حصہ لیا۔
قرآن مجید کی حفاظت میں ایک اہم سبب ''کتابت وحی'' ہے۔ حضور أكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے جلیل القدر صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین پر مشتمل ایک جماعت مقرر کر رکھی تھی جو کہ '' کاتب وحی '' تھے ان میں حضرت آمير معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا چھٹا نمبر تھا۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی لکھتے ہیں کہ حضورأكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو کاتب وحی بنایا تھا۔۔۔ اورآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  اسی کو کاتب وحی بناتے تھے جو ذی عدالت اور امانت دار ہوتا تھا  (''ازالتہ الخفا ازشاہ ولی اللہ'')
حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ وہ خوش قسمت انسان ہیں جن کو کتابت ِوحی کے ساتھ ساتھ حضورأكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ    کے خطوط تحریر کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ حضورأكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کی خدمت میں حاضر رہتے یہاں تک کہ سفرو خضر میں بھی خدمت کا موقع تلاش کرتے۔۔۔۔
چنانچہ ایک بار حضورأكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ    کہیں تشریف لے گئے تو سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پیچھے پیچھے گئے۔ راستہ میں حضورأكرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کو  وضو کی حاجت ہوئی پیچھے مڑے تو دیکھا، معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پانی لئے کھڑے ہیں ، آپ   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  بڑے متاثر ہوئے چنانچہ وضو کے لئے بیٹھے تو فرمانے لگے '' معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ تم حکمران بنو تو نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرنا اور برے لوگوں کے ساتھ درگزر کرنا ''۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اسی وقت مجھے امید ہو گئی تھی کہ حضور أكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی پیشن گوئی صادق آئے گی۔
حضور أكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت اور بے لوث محبت سے اتنا خوش تھے کہ بعض اہم خدمات آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے سپرد فرمادی تھیں ۔ علامہ اکبر نجیب آبادی'' تاریخ اسلام'' میں رقمطراز ہیں کہ حضور  أكرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے اپنے باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کی خاطر مدرات اور ان کے قیام وطعام کا انتظام واہتمام بھی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد کر دیا تھا۔ حضور أكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی وفات کے بعد خلیفہ اوّل سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے مانعینِ زکوة، منکرینِ ختم ِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   ، جھوٹے مدعیانِ نبوت اور مرتدین کے فتنوں کے خلاف بھرپور حصہ لیا اور کئی کارنامے سر انجام دیئے ۔
عرب نقاد رضوی لکھتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کسی کا خون بہانا پسند نہیں کرتے تھے مگر آپ رضی اللہ تعالی عنہ اسلامی ہدایات کے مطابق مرتدین کے قتل و قتال میں کسی کے پیچھے نہ ہوتے ایک روایت کے مطابق مسلیمہ کذّاب حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وار سے جہنم رسید ہوا۔
خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں جو فتوحات ہوئیں اس میں حضرت امیر معاویہ کا نمایاں حصہ اور کردار ہے جنگ یرموک میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ بڑی بہادری اور دلیری کے ساتھ لڑے اس جنگ میں غرضیکہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا خاندان جنگ میں حصہ لے رہا تھا۔
خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہاد وفتوحات میں مصروف رہے اور آپ نے رومیوں کو شکست فاش دیتے ہوئے طرابلس ، شام، عموریہ، شمشاط، ملطیہ، انطاکیہ، طرطوس، ارواڑ ، روڑس اور صقلیہ کو حدود نصرانیت سے نکال کر اسلامی سلطنت میں داخل کردئیے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان علاقوں کی فتوحات کے بعد اب یہ چاہتے تھے کہ اسلام ایک آفاقی اور عالمگیر مذہب ہے اس کو اب سمندر پار یورپ میں داخل ہونا چاہئے ''فتح قبرص'' کی خواہش آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے دل میں مچل رہی تھی یورپ وافریقہ پر حملہ اور فتح کے لئے بحری بیڑے کی اشد ضرورت تھی۔
بحرِروم میں رومی حکومت کا ایک بہت بڑا بحری مرکز تھا جو کہ شام کے ساحل کے قریب ہونے کے باعث شام کے مسلمانوں کے لئے بہت بڑا خطرہ تھا اسے فتح کیے بغیر شام ومصر کی حفاظت ممکن نہ تھی اس کے علاوہ سرحدی رومی اکثر مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے مسلمانوں کو تنگ کرتے رہتے تھے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے بحری بیڑے کو تیار کرنے کی اجازت ملنے کے بعد حضرت امیر معاویہ نے بڑے جوش خروش کے ساتھ بحری بیڑے کی تیاری شروع کردی اور اپنی اس بحری مہم کا اعلان کردیا جس کے جواب میں جزبہ جہاد سے سرشار مجاہدین اسلام شام کا رخ کرنے لگے۔
  آٹهائيس هجری میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ پوری شان وشوکت تیاری وطاقت اور اسلامی تاریخ کے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ بحر روم میں اترے لیکن وہاں کے باشندوں نے مسلمانوں کے ساتھ صلح کرلی لیکن بعد میں مسلمانوں کو تنگ کرنے اور بدعہدی کرنے پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پوری بحری طاقت اور عظیم الشان بحری بیڑے کے ساتھ جس میں تقریباً پانچ سو کے قریب بحری جہاز شامل تھے قبرص کی طرف روانہ ہوئے اور بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے قبرص کو فتح کرلیا۔
اس لشکر کے امیر و قائد خود امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں اس پہلی بحری لڑائی اور فتح قبرص کے لئے بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیم اجمعین جن میں حضرت ابو ایوب انصاری ، حضرت ابوذرغفاری، حضرت ابودردا، حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت شداد بن اوس، سمیت دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین شریک ہوئے۔
اس لڑائی میں رومیوں نے بڑے جوش وخروش سے حصہ لیا، تجربہ کار رومی فوجوں اور بحری لڑائی کے ماہر ہونے کے باوجود اس لڑائی میں رومیوں کو بد ترین شکست ہوئی اور مسلمانوں کو تاریخی فتح حاصل ہوئی۔
حضور  أكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے حدیث میں دو اسلامی لشکروں کے بارے میں مغفرت اور جنت کی بشارت وخوشخبری فرمائی ان میں سے ایک وہ لشکر جو سب سے پہلے اسلامی بحری جنگ لڑے گا اور دوسرا وہ لشکر جو قیصر کے شہر میں جنگ کرے گا۔
پہلی بشارت سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں پوری ہوئی جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب سے پہلی بحری لڑائی لڑتے ہوئے قبرص کو فتح کر کے رومیوں کو زبردست شکست دی تھی اور دوسری بشارت سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور حکومت میں اس وقت پوری ہوئی جب لشکر اسلام نے قیصر کے شہر قسطنطنیہ پر حملہ کرکے اس کو فتح کیا۔
اس جنگ میں حصہ لینے کے لئے شوقِ شہادت اور جذبہ جہاد سے سرشار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین وتابعین دنیا کے گوشہ سے دمشق پہنچے، ان میں حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت سیدنا حسین بن علی، اور میزبان رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   سیدنا حضرت ابو ایوب انصاری رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، اور دیگر مدینہ منورہ سے تشریف لاکر اس لشکر میں شریک ہوئے جس کے بارے میں حضور آکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے جنت کی بشارت وخوشخبری فرمائی تھی۔
سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دور حکومت فتوحات اور غلبۂ اسلام کے حوالہ سے شاندار دور حکومت ہے ایک طرف بحر اوقیانوس اور اور دوسری طرف سندھ اور افغانستان تک میں اسلام کی فتح کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلفائے راشدین کے ترقیاتی کاموں کو جاری رکھتے ہوئے اس مندرجہ ذیل نئے اُمور کی داغ بیل ڈال کر اس کو فروغ دیا۔
 أ- حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب سے پہلا آقامتی ہسپتال دمشق میں قائم کیا۔
 ب - سب سے پہلے اسلامی بحریہ قائم کیا، جہاز سازی کے کارخانے بنائے اور دنیا کی زبردست رومن بحریہ کو شکست دی۔

 ج - آبپاشی اور آبنوشی کیلئے دور اسلامی میں پہلی نہر کھدوائی۔
 د -  ڈاکخانہ کی تنظیم نو کی اور ڈاک کا جدید اور مضبوط نظام قائم کیا۔
ه - احکام پر مہر لگانے اور حکم کی نقل دفتر میں محفوظ رکھنے کا طریقہ ایجاد کیا۔
 و - آپ سے پہلے خانہ کعبہ پر غلافوں کے اوپر ہی غلاف چڑھائے جاتے تھے آپ نے پرانے غلافوں کو اتار کر نیا غلاف چڑھانے کا حکم دیا۔
 ز -  خط دیوانی ایجاد کیا اور قوم کو الفاظ کی صورت میں لکھنے کا طریقہ پیدا کیا۔
 ح -  انتظامیہ کو بلند تر بنایا اور انتظامیہ کو عدلیہ میں مداخلت سے روک دیا۔
ط -  آپ نے دین اخلاق اور قانون کی طرح طب اور علم الجراحت کی تعلیم کا انتظام بھی کیا۔
 ي - آپ نے بیت المال سے تجارتی قرضے بغیر اشتراک نفع یا سود کے جاری کرکے تجارت وصنعت کو فروغ دیا اور بین الاقوامی معاہدے کئے۔
 ك-  سرحدوں کی حفاظت کیلئے قدیم قلعوں کی مرمت کر کے اور چند نئے قلعے تعمیر کرا کر اس میں مستقل فوجیں متعین کیں۔
 ل - حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں ہی سب سے پہلے منجنیق کا استعمال کیا گیا۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضور أكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی 163 آحادیث مروی ہیں۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آئینہ اخلاق میں اخلاص ، علم وفضل، فقہ واجتہاد، تقریر وخطابت، غریب پروری، خدمت خلق، مہمان نوازی، مخالفین کے ساتھ حسنِ سلوک، فیاضی وسخاوت، اور خوف الہٰی کا عکس نمایاں نظر آتا ہے۔
 بائيس رجب المرجب 60ھ میں کاتبِ وحی، جلیل القدر صحابی رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   ، فاتح شام و قبرص اور 19سال تک 64 لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ 78 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور دمشق کے باب الصغیر میں دفن کئے گئے
------
Share: