مسلمان اپنى سارى زندگى كى نيت اللہ كے ليے كيسے كرے؟

مسلمان اپنى سارى زندگى كى نيت اللہ كے ليے كيسے كرے؟
مسلمان وہ ہے جو اللہ سبحانہ و تعالى كا مطيع اور فرمانبردار ہو اس كے احكام كو تسليم كرے، اور شريعت كے امر اور نواہى كے تابع ہو كر اس پر عمل كرے، مسلمان اللہ كى عبادت كرتا ہے كيونكہ وہ اس كا خالق و مالك اور عبادت كا مستحق ہے، وہ اللہ تعالى كى عظمت اور وحدانيت پر ايمان ركھتا ہے، اللہ تعالى اس كے دل و جان كا مالك ہے، اور اس نے اللہ كے ليے اپنى محبت كو اپنى معاش اور معاد كا مقصد بنايا ہے، اور اميد ركھى ہے كہ وہ اسے قبول كرتے ہوئے نيك لوگوں ميں شامل كرے گا
 چنانچه  اللہ سبحانہ و تعالى كا سورة الأنعام ميں فرمان ہے
قُلْ اِنَّنِىْ هَدَانِىْ رَبِّىٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْـمٍۚ دِيْنًا قِيَمًا مِّلَّـةَ اِبْرَاهِيْـمَ حَنِيْفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (161)
آپ كہہ ديجئے کہ  مجھ كو ميرے رب نے ايك سيدھا راستہ بتايا ہے كہ وہ ايك مستحكم دين ہے جو ابراہيم عليہ السلام كا طريقہ ہے، جو اللہ كى طرف يكسو تھے، اور وہ شرك كرنے والوں ميں سے نہ تھے
قُلْ اِنَّ صَلَاتِىْ وَنُسُكِىْ وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِىْ لِلّـٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (162)
آپ كہہ ديجئے کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے۔
لَا شَرِيْكَ لَـهٝ ۖ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ (163)
اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا تھا اور میں سب سے پہلے فرمانبردار ہوں۔
اگر هم آيات بالا كے معنى سمجھ ليں اور هميں اس كا اچهي طرح شعور ہو جائے توهم  يقيناً اپنى زندگى كے تمام معاملات ميں اللہ كے قرب كى نيت ركھنے كي ضرور كوشش كريں گے مثلاً
جب هم سونے كا اراده كريں تو اس سے  اجر و ثواب كى نيت ركھيں يعني  كہ يه نيت كريں ميں سو اس ليے رہا /رهي ہوں كہ بيدار ہو كر عبادت كرنے كے ليے طاقت وراحت حاصل كروں
جب هم كھانے يا پينے كا اراده كريں تو اس سے  اجر و ثواب كى نيت ركھيں يعني  كہ يه نيت كريں ميں كھا يا پي اس ليے رہا /رهي ہوں كہ  حقوق كى ادائيگى كے ليے قوت  حاصل ہو اور عبادت كرنے كے ليے طاقت وراحت حاصل كروں
 اور اسي طرح  جب شادى كرے تو اس كا مقصد عفت و عصمت كو محفوظ ركھنا ہو، اور حرام سے اجتناب كر كے حلال كا حصول مقصود هو ، اور جب اولاد طلب كرے تو اس كا مقصد نيك و صالح اولاد ہو جو زمين ميں اللہ كے منہج كو چلائے، اور جب كلام كرے تو خير و بھلائى كى بات كرے، اور جب خاموش رہے تو شر سے رك كر ايسا كرے
اپنے اور اپنے اہل و عيال پر خرچ كرے تو اجروثواب كى اميد ركهے، اور جب تعليم حاصل
كرے، اور پڑھے تو بھى اس ميں اجروثواب كى نيت ركھے.. تو اس طرح سارے اعمال ميں اس كا مقصد يہى ہو
  اور اسي طرح  يہ چيز وزن كم كرنے كے متعلق  فٹ هوتي  ہے، چنانچہ جو شخص اپنى صحت كى حفاظت كرنے كے ليے وزن كم كرنا چاہتا ہے تا كہ وہ اپنے واجبات اور فرائض كى بجا آورى اور اللہ كے حقوق كى مكمل طور پر ادائيگى كر سكے، يا اس كا ارادہ بيوى كے ليے خوبصورت بننا ہو تا كہ وہ آپس ميں سعادت و مودت اور محبت كى زندگى بسر كر سكيں، يا اس مخلوق كے ليے خوبصورتى اختيار كرنے كا ارادہ ہو تا كہ وہ لوگوں كے درميان مقبول بن سكے، اور ان سے تعلقات ركھ سكے، تو يہ ايك اچھا اور بہتر مقصد ہے ان شاء اللہ اس پر اسے اجروثواب بهي حاصل ہو گا
ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں
 چاہيے كہ وہ وہى مباح كام كرے جو اس كے ليے اطاعت و فرمانبردارى ميں ممد و معاون ہوں، اور اس كا اس سے مقصد اطاعت ميں معاونت ہو
اسى طرح اس مباح فعل سے وہ كفار كى مشابہت، يا پھر نوجوان لڑكيوں كو فتنہ ميں ڈالنے كے ليے خوبصورت بنے، يا اس طرح كے دوسرے شيطانى مقاصد تو اس سے وہ ضرور سزا اور گناہ كا مستحق ٹھرے گا
اور اسى طرح باقى سارے مباح اٌمور سر انجام دينے والے كو آجروثواب اسى صورت ميں حاصل ہو گا جب وہ اس ميں خير و فضل اور اجروثواب كے مقاصد كى نيت بهي كرے
ابن الحاج رحمہ اللہ كہتے ہيں
" مباح عمل نيت كے ساتھ مندوب ميں منتقل ہو جاتا ہے " 
  اور ابن قيم رحمہ اللہ نے ان مقربين كے خواص ذكر كيے ہيں اچھى اور بہتر نيت كى وجہ سے جن كے حق ميں مباح اُمور اطاعت و فرمانبردارى اور تقرب ميں بدل جاتے ہيں
ايك مسلمان اپنى زندگى اور سارے اعمال كس طرح اللہ كے ليے بنانے كى نيت كر سكتا ہے، جو 
اختصار كے ساتھ بيان ہوا اور اسے دو چيزوں ميں اجمالى طور پر بيان كرنا ممكن ہے
  أ- وہ اپنے اعمال ميں شريعت كا التزام كرے، نہ تو كوئى واجب اور فرض ترك كرے، اور نہ ہى كسى ممنوعہ امر كا مرتكب ٹھرے
ب - وہ اپنے دل ميں احساس ركھے كہ وہ اس عمل كے ذريعہ اجروثواب اور اللہ كے قرب تك كيسے پہنچ سكتا ہے؟ ـ چاہے وہ اصل ميں دنياوى كام ہى كيوں نه هو ہو
  اور حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے آپ نے سعد بن ابى وقاص رضى اللہ تعالى عنہ كو فرمايا
 تم جو بھى نفقہ اور خرچ كرو اور اس سے مقصد اللہ كى رضا ہو تو اس پر تمہيں اجروثواب حاصل ہو گا، حتى كہ جو لقمه تم اپنى بيوى كے منہ ميں ركھتے ہو 
صحيح بخارى  -  صحيح مسلم  
امام نووى رحمہ اللہ اس حديث پر تعليقا كہتے ہيں
اس حديث ميں يہ بيان ہوا ہے كہ: جب مباح چيز كے ساتھ اللہ كى رضا كا ارادہ كيا جائے تو وہ اطاعت بن جاتا ہے اور اس پر اجروثواب حاصل ہوتا ہے، اور اسى چيز پر متنبہ كرتے ہوئے رسول كريم صلى اللہ عليہ وآله وسلم نے فرمايا
" حتى كہ وہ لقمہ جو تم اپنى بيوى كے منہ ميں ڈالتے ہو "
كيونكہ انسان كى بيوى دنياوى حصہ ميں سب سے زيادہ خاص چيز اور اس كى مباح شہوات اور جائے پناہ ہے، اور جب وہ اس كے منہ ميں لقمہ ركھے تو عام طور پر عادتاً مباح سے ہنسى و مزاح اور اور لذت حاصل كرنے ميں شامل ہوتا ہے، اور يہ چيز اطاعت و فرمانبردارى اور اخروى اُمور سے سب سے زيادہ بعيد ہے، ليكن اس كے باوجود نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بتايا كہ اگر اس لقمہ ميں بھى اللہ كى رضا كا مقصد ہو تو اس سے اجروثواب حاصل ہوتا ہے، تو اس حالت كے علاوہ دوسرى حالتوں ميں جب اللہ كى رضا كا ارادہ ہو تو بالاُولى اجروثواب حاصل ہو گا، اور اس ضمن ميں يہ بھى آتا ہے كہ انسان جب كوئى ايسا كام  كرے جو اصل ميں مباح ہو، اور اس كا مقصد اللہ كى رضا ہو تو اسے اس پر اجر و ثواب حاصل ہو گا يہ بالكل اس كھانے كى طرح جس ميں يہ نيت كى جائے كہ اس سے اللہ كى اطاعت و فرمانبردارى ميں تقويت حاصل كرنى ہے، اور اسى طرح نيند سے ارادہ يہ ہو كہ وہ نشيط اور چست ہو كر عبادت كے ليے اٹھ سكے، اور اپنى بيوى اور لونڈى سے استمتاع اور فائدہ اس ليے حاصل كرتا ہے تا كہ اپنى نظر اور نفس كو حرام سے بچا سكے، اور بيوى كا حق پورا كر سكے، اور اسے نيك و صالح اولاد مل جائے، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے درج ذيل فرمان كا معنى بھى يہى ہے
" اور تم ميں سے كسى ايك كے ٹكڑے ( شرمگاہ ) ميں بھى صدقہ ہے "
واللہ تعالى اعلم 
اور امام سيوطى رحمہ اللہ كہتے ہيں
 مباح امور اور عادات ميں اگر انسان نيك نيت ركھے تو بندے كو اس كا اجروثواب حاصل ہوتا ہے، اس كى انہوں نے جو دليليں دى ہيں ان ميں سب سے بہتر اور اچھا استدلال نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے درج ذيل فرمان سے ہے
" اور ہر آدمى كے ليے وہى ہے جو اس نے نيت كى ہو "
اس ليے اگر اس سے اللہ كے قرب كا مقصد ہو تو اس پر انسان كو اجروثواب حاصل ہوتا ہے، اور اگر وہ قرب كا مقصد نہ ركھے تو اسے كوئى ثواب حاصل نہيں ہوتا 
اور اس سلسلہ ميں اہل علم كى جانب سے بہت سارى نقول موجود ہيں
ليكن  يہ معلوم ہونا چاہيے كہ  مباحات ميں اچھى اور قرب كى نيت كرنے كے متعلق جو كچھ   ہے وہ بطور وجوب اور لازم كے نہيں كيونكہ اگر يہ واجب اور لازم ہو تو پهر يه مباح نہيں ہو گا، بلكہ  واجب ہو گا جس كے ترك كرنے پر انسان گناه گار ہوتا ہے
ليكن جس شخص كا كسى كام كو سرانجام دينے ميں مقصد صرف اپنى نفسى رغبت، يا اپنى شہوت يا حاجت و ضرورت پورى كرنا ہو، يا مباح سے فائدہ حاصل كرنا ہو تو اس عمل ميں بلاشبهه اسے كوئى گناه تو نہيں، ليكن شرط يہ ہے كہ اسے اس بات كا علم ہونا چاهيے كہ وہ جو عمل كر رہا ہے اس كى شريعت نے رخصت اور اجازت دى ہے ليكن يه بات بهي سمجهنے والي هے كه جس طرح مجرد عمل كرنے كا اس پر كوئى گناہ نہيں هے بالكل اسى طرح مباح كاموں ميں اس كو مجرد  عمل كرنے كا كوئى اجروثواب بهي حاصل نہيں ہو گا
واللہ اعلم .
Share:

معافي نامه - افسوس بلکہ صد افسوس

معافي نامه - افسوس بلکہ صد افسوس 
ساتھ والے کمرے میں ماں باپ ناراض - بھائی سے بھائی ناراض - بهن سے بهن ناراض - رشته دار سے رشته دار ناراض - همسايه سے ھمسائے ناراض
اور بڑے زور و شور سے معافیاں مانگی جارہی ہیں فیس بُک اور وٹس ایپ پر ، كيا إتنا آسان هے معاف هونا ؟ اگر الله تعالى سے معافي مانگني هے تو اسكا در 24 گهنٹے هر وقت كهلا هے وضو كركے دو نفل صلاة التوبه كے ادا كيجيے اور اپنے الله سے شرمندگي اور ندامت كے ساتهـ گڑ گڑا كر معافي مانگ ليجيے إن شاء الله معافي مل جائے گي اور اگر بندوں كے حقوق كا معامله هے تو ان سے رابطه كيجيے انكے حقوق ادا كيجيے اور ان سے معافي مانگ ليجيے إن شاء الله معافي مل جائے گي اور ویسے بهی معافی اللہ یا بندوں سے مانگنے کا کبھی بهی کوئی مخصوص دن نہیں ہوتا بلكه جب اور جس وقت بهي ممكن هو معافي كا إهتمام كريں يا جب بهی کوئی بات ہوجائے تو اسی وقت معافی مانگ لینی چاہیے،،،،
سوشل ميديا پر معافي كے أشتهار لگانا سراسر بيوقوفي اور جهالت هے جسكا كوئي فائده نهيں محض إيك دكهلاوه اور فضول پريكٹس هے

----
Share:

حضرت حسين أحمد مدني رحمة الله عليه كي حيرت انگیز كرامت

حضرت حسين أحمد مدني رحمة الله عليه كي
حيرت انگیز كرامت كا إيك واقعه
مدینہ منوره کی مبارک دھرتی ہے،مسجد نبوي صلى الله عليه وآله وسلم كا مبارك اور روحاني ماحول هے- روضہ رسول صلى الله عليه وآله وسلم کے سامنے بیٹھ کر، گنبد خضراء کی چھاؤں میں ایک انتہائی وجیہ و دلکش شخصیت (جنهيں دنيا حضرت حسين أحمد مدني رحمة الله عليه كے نام سے جانتي هے ) اپنے شاگردوں کے جھرمٹ میں آہستہ آہستہ ، مدھم مدھم آواز میں قال الله تعالى وقال قال رسول الله کی دلنشیں صدا لگا رہی ہے
روضہ رسول صلى الله عليه وآله وسلم کی جالیاں سامنے تھیں . . . اور . . . شاگردوں میں سے ایک شاگرد کو حیات النبی صلی الله علیہ وآله وسلم سے متعلق کافی شکوک شبهات تھے . . . دوران درس أس شاگرد نے جسكو حيات النبي صلى الله عليه وآله وسلم كے متعلق شکوک شبهات تھےجو نگاہیں اٹھائیں تو يه ديكهـ كر حيران هوگيا كه سامنے نہ گنبد خضراء هے اور نہ جالیاں . . . بلکہ حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآله وسلم بنفس نفيس خود تشریف فرما ہیں. . .ان صاحب نے کچھ کہنا چاہا (شائد اپنے ساتھیوں کو متوجہ کرنا چاھتے ہوں) مگر حضرت حسين أحمد مدنی رحمة الله عليه نے اشارے سے اسے منع فرما دیا . . . أس شاگرد نے اب دوباره جو نظر أٹها كر ديكها تو روضه رسول صلى الله عليه وآله وسلم - گنبد خضراء اور تمام چیزیں اپنی سابقہ حالت پر موجود تھیں.
ماخوز؛ مولانا حسین احمد مدنیؒ کے حیرت انگیز واقعات، ص ٣٣
Share:

حضرت مولانا عبد الله درخواستي رحمة الله عليه

قافلۂ شاه ولي الله كے جرنيل - حافظ القرآن والحديث - شيخ الاسلام - حجة الله على الارض حضرت مولانا عبدالله درخواستي رحمة الله عليه
سرزمين پاك وہند ميں بے شمار علماء گزرے ہيں جنہيں ديكھ كر يوں معلوم هوتا تھا كہ كوئي نوراني فرشته انساني صورت ميں زمين پر اتر آيا ہے. انہيں ہستيوں ميں الله كے دين كے خادم، قافلۂ شاه ولي الله كے جرنيل حافظ القرآن والحديث شيخ الاسلام حجة الله على الارض حضرت مولانا عبد الله درخواستي رحمه الله عليه كي ذات گرامي ہے، جن كا نام سنتے ہي آنكھوں ميں ايك وجيه ممتاز پرنور خوبصورت، خوب سيرت، خوش پوشاك، شيريں بيان، خوش الحان شيخ كا ہنستا مسكراتا چہرہ گھوم جاتا ہے. جن كا شمار ماضي كي برگزيده ہستيوں ميں كيا جاتا ہے جنہوں نے اپني زندگي اور توانائيوں كا استعمال نہ صرف مملكت خدا داد كي ترقي وخوشحالي بلكہ مسلم امة كے اتحاد ويكجہتي اور اپنے پيغام محبت كو اعلٰی انساني اقدار كے فروغ كيلئے استعمال كيا، پاك وہند ميں آپ كا نام محتاج تعارف نہيں بلكہ آپ كے نام نامي سے تو امة مسلمه خوب واقف ہے. تحريك آزادي ہند ميں دين پور شريف جدوجہد آزادي كي پہلي فوجي چوكي كي حيثيت سے تاريخ ميں سنہري حروف سے محفوظ ہے. سلسلۂ دين پور كے يہ عظيم مجاهد 1324 هجري، محرم الحرام، جمعة المبارك كے دن اپنے آبائي گاؤں درخواست ميں پيدا هوئے. ابتدائي تعليم اپنے والد محترم كي نگراني ميں حاصل كي. دس سال كي عمر ميں حفظ القرآن كي سعادت سے مشرف هوئے. اعلى ديني تعليم كيلئے مشهور ديني وعلمي مركز دين پور (ضلع رحيم يار خان) تشريف لے گئے. اٹھارہ سال كي عمر ميں سند حديث حاصل كي. شيخ العارفين پير ومرشد خليفه محمد رحمه الله نے اپني دستار ان كے سر پر ركھي اور انہيں رندگي بھر قرآن وسنت كي تعليمات عام كرنے كي تلقين فرمائي.
آپ رحمة الله عليه نے اپنے محبوب شيخ اور استاذ كي دستارِ ارشاد كا حق اس طرح ادا كيا كہ ساري زندگي قرآن وسنت، درس وتدريس كي ترويج واشاعت، جگہ جگہ ديني مدارس كے قيام، عقيدۀ ختم نبوة كے تحفظ، باطل فتنوں كے تعاقب، نظام مصطفٰی صلى الله عليه وآله وسلم كے نفاذ وبالادستي كے لئے خود كو وقف كرديا. پاكستان، بنگلہ ديش، آزاد قبائل، كشمير وافغانستان، عرب وافريقي ممالك كا كوئي خطه ايسا نہيں جہاں حضرت درخواستي رحمه الله عليه كے قدم مبارك نہ پہنچے هوں اور اس عظيم الشان مشن كے حوالے سے آپ كي آواز نہ گونجي هو. 1954ء ميں خان پور ضلع رحيم يار خان ميں ديني مركز جامعه مخزن العلوم كي بنياد ركھي، صرف اسي ايك ديني مدرسے كي نہيں بلكہ سندھ، بلوچستان، سرحد اور پنجاب ملك بھر ميں جہاں جهالت وگمراہي كي تاريكياں چھائي هوئي تھيں، لوگ دين اور كلمے سے نابلد تھے وہاں جا كر ديني مدارس اور علمي مراكز كي بنياد ركھي، مساجد تعمير كرائيں، وطن عزيز ميں پانچ سو سے زائد ديني وعلمي، روحاني درسگاہيں، خانقاہيں اور جامعات كي سرپرستي شيخ الاسلام حضرت درخواستي رحمه الله تعالى بنفس نفيس خود فرمايا كرتے تھے. وہ عظيم المرتبه انسان تھے الله تعالى نے علم وعمل كي دولت اور قوت حافظه سے انہيں نوازا تھا. انيس سال كي عمر ميں صحيح البخاري شريف كے حافظ بن گئے. ہندوستان كي مشهور علمي شخصيت علامه طالوت اپني تصنيف ميں رقم طراز ہيں كہ
"تاريخ اس بات پر گواه ہے كہ علامه سيّد انور شاه كشميري رحمه الله كے بعد اس قدر انتهائي قوت حافظه كا مالك شخص حضرت مولانا عبدالله درخواستي رحمه الله عليه كے علاوه شايد ہي كوئي اور گزرا هو
آپ جيد عالم دين، عظيم محدث، محقق اور بلند پايہ سياستدان تھے، بر صغير پاك وہند كے علماء ومشائخ ہي نہيں، بر اعظم افريقه، عرب دنيا كے علماء بهي حضرت كے سامنے دوزانو هو كر بيٹھتے تھے. اسلام كے پيغام امن واتحاد كے فروغ كے لئے آپ نے مشرق ومغرب كے طويل سفر كئے، مختلف حكومتوں اور سربراہان مملكة نے آپ كے لئے ديدۀ دل فرش راه كئے. مسلم دنيا كے سربراہان مملكة اور زعماء واكابرين حضرت مولانا عبدالله درخواستي رحمة الله عليه سے فيض حاصل كرنے ميں فخر وانبسات محسوس كرتے تھے
آپ نے ھر ميدان ميں كارہائے نماياں سرانجام ديے. جدوجہد آزادي ميں مقتدر علماء كے ساتھ شريك سفر رہے. قيام پاكستان كے بعد مولانا شبير احمد عثماني رحمة الله عليه , مولانا احمد علي لاهوري رحمة الله عليه ، مولانا عبد الحق رحمة الله عليه اور ديگر اكابر علماء كے ہمراہ دين كي سربلندي كے لئے ہمہ تن جدوجہد ميں مشغول رہے، وطن عزيز كي كوئي ديني وسياسي تحريك ايسي نہيں جس كي قيادت وسرپرستي حضرت مولانا عبدالله درخواستي رحمة الله عليه نے نہ كي هو، آپ جميعة علماء اسلام پاكستان كے تا حيات مركزي امير رہے. آپ كي جلائي هوئي شمع آج بھي روشن ہے، آپ كے ديني علمي، روحاني مشن كو پھيلانے كے لئے آپ كے جانشين مولانا فدا الرحمٰن درخواستي مولانا فضل الرحمٰن درخواستي، مولانا مطيع الرحمٰن درخواستي اور آپ كے خانوادے كے ديگر حضرات جدوجہد ميں مصروف ہيں اس كے علاوه آپ كے فيض يافتہ ہزاروں شاگرد مكه مكرمه اور مدينه منوره سميت دنيا بھر ميں آپ كے پيغام كو پھيلا رہے ہيں (حفظهم الله تعالى).
آپ نے 1415 هجري تك زندگي كے آخري لمحات جامعه مخزن العلوم ميں تشنگان علوم نبوت كو سيراب كرتے هوئے گزارے. 11 ربيع الاول بمطابق 28 اگست 1994ء كو اتوار صبح ساڑے سات بجے جامعه ميں آپ كا انتقال پرملال هوا. لاكھوں عقيدتمند، شيدائي خان پور پہنچ كر اپنے پير ومرشد كي نماز جنازه ميں شريك هوئے، آپ كے فرزند مولانا فضل الرحمٰن درخواستي نے نماز جنازه پڑھائي اور جسد خاكي لحد ميں اتارا، آپ اپنے پير ومرشد خليفه غلام محمد رحمة الله عليه اور تحريك ريشمي رومال كے بطل جليل مولانا عبيد الله سندھي رحمة الله عليه اور ديگر اكابر علماء وصلحا ومجاهدين كے ہمراہ دين پور شريف كے قبرستان ميں ابدي نيند سو رہے ہيں. -- آسمان تيري لحد په شبنم آفشاني كرے
---------
Share:

صلاة التراویح اور إس كي فضیلت و اہمیت


صلاة التراویح اور إس كي فضیلت و اہمیت
رمضان شریف کا مہینہ عالمِ روحانیت کا موسم بہار ہے۔ دن کو فرض روزہ رکھنا اور رات کو سنت تروایح ادا کرنا اس مبارک مہینہ کی مخصوص عبادات ہیں۔ حدیث مبارکه میں ارشاد ہے:
شَهْرٌکَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَہٗ وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ۔ (سنن ابن ماجۃ)
ترجمہ:اس مہینہ کے روزے اللہ تعالیٰ نےتم پر فرض فرمائے ہیں اور میں نے اس کے قیام (تراویح) کو تمہارے لیے سنت قرار دیا ہے۔
رمضان المبارک میں نفل عبادت کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا زیادہ عطا کیا جاتا ہے۔
اس لیے ان مبارک گھڑیوں کوغنیمت سمجھا جائے اورایک لمحہ بھی ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے شائد آئندہ ہمیں یہ مقدس گھڑیاں نصیب ہوں یا نہ ہوں۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صديقه رضی اللہ تعالى عنہا فرماتی ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ شَدَّ مِئْزَرَهُ ، ثُمَّ لَمْ يَأْتِ فِرَاشَهُ حَتَّى يَنْسَلِخَ ۔ (شعب الایمان للبیہقی)

ترجمہ:جب رمضان کا مہینہ آتا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله و سلم کمر کَس لیتے اوراپنے بستر پرتشریف نہ لاتے ،یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا۔
لیکن جب رمضان کی آخری دس راتیں آتیں توسیدہ عائشہ صديقه رضی اللہ عنہا ہی فرماتی ہے کہ :
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِى الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مَا لاَ يَجْتَهِدُ فِى غَيْرِهَا۔

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم آخری دس دنوں میں جو کوشش فرماتے وہ باقی دنوں میں نہ فرماتے تھے۔(صحیح مسلم)
نیز امت کوبھی اس مہینے میں عبادت کی ترغیب فرماتے تھے ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالى عنہ روایت فرماتے ہیں:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔ (صحیح بخاری)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے تروایح پڑھی تواس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآله و سلم رمضان المبارک میں خود بھی بکثرت عبادت فرماتے تھے اورامت کوبھی بکثرت عبادت کی ترغیب فرماتے تھے۔اس لیے اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ جتنی عبادت ہوسکے پوری ہمت اورکوشش سے کرنی چاہیے۔
۔ ماہ رمضان کی راتوں میں ادا کی جانے والی بیس رکعات نماز باجماعت کا نام ’’تراویح‘‘ اس لئے رکھا گیا کہ جب لوگوں نے جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنا شروع کی تو وہ ہر چار رکعت کے بعد اتنی دیر آرام کرتے تھے، جتنی دیر میں چار رکعات پڑھی جاتی تھیں، یعنی تراویح کے معنی آرام والی نماز ہے۔
نماز تراویح بالاجماع سنت مؤکدہ ہے اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآله وسلم میں اس کی اہمیت و فضیلت بیان ہوئی ہے۔ خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے نماز تراویح کی مداومت فرمائی ہے، چنانچہ تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو اپنے اوپر لازم کرلو‘‘۔ خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز تراویح ادا فرمائی اور اسے پسند فرمایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ’’جو رمضان میں قیام کرے ایمان کی وجہ اور طلب ثواب کے لئے، اس کے اگلے سب گناہ بخش دیئے جائیں گے‘‘
تراویح کی تعداد ِرکعت کے سلسلہ میں علماء کرام کے درمیان اختلاف ہے۔ تراویح پڑھنے کی اگرچہ بہت فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے؛ لیکن فرض نہ ہونے کی وجہ سے تراویح کی تعدادِ رکعت میں یقینا گنجائش ہے۔ جمہور محدثین اورفقہاء کی رائے ہے کہ تراویح ۲۰ رکعت پڑھنی چاہئیں۔ تراویح کی تعداد ِرکعت میں علماء کرام کے درمیان اختلاف کی اصل بنیاد یہ ہے کہ تراویح اور تہجد ایک نماز ہے یا دو الگ الگ نمازیں۔ جمہور محدثین،فقہائے کرام نے اِن دونوں نمازوں کو الگ الگ نماز قرار دیا ہے، اُن کے نقطہٴ نظر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے، جس میں انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم رمضان اور رمضان کے علاوہ گیارہ رکعت سے زائد نماز نہیں پڑھتے تھے۔ جس کے انہوں نے مختلف دلائل بهي دیے ہیں
حضرت عائشہ رضي الله تعالى عنه کی روایت (جس میں انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم ا رمضان اور رمضان کے علاوہ گیارہ رکعت سے زائد نماز نہیں پڑھتے تھے) میں لفظ ِتراویح کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا اس حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے؛ کیونکہ محدثین نے اس حدیث کو تہجد کے باب میں نقل کیا ہے، نہ کہ تراویح کے باب میں۔ (ملاحظہ ہو : مسلم ج۱ ص ۱۵۴، ابوداوٴد ج۱ ص ۱۹۶، ترمذی ج۱ ص۵۸، نسائی ج۱ ص ۱۵۴، موٴطا امام مالک ص ۴۲) اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان محدثین کے نزدیک یہ حدیث تہجد کی نماز سے متعلق ہے نہ کہ تراویح سے متعلق۔
تراویح كي بیس رکعت پر حضرات خلفاءِ راشدین میں سے حضرت عمررضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اورحضرت علی رضی اللہ عنہ، دیگرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم، ائمہ مجتہدین و حضرات مشائخ رحمہم اللہ عمل پیرا رہے، بلاد اسلامیہ میں چودہ سو سال سے اسی پر عمل ہوتا رہا ہے اورامت کا اسی پر اجماع ہے ۔
فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِى وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ۔ )سنن ابی داؤد: 

ترجمہ: تم میری سنت کواورہدایت یافتہ خلفاء راشدین (رضی اللہ عنہم) کی سنت کو اپنے اوپرلازم پکڑو اور اسے مضبوطی سے تھام لو۔
اس حدیث مبارک میں جہاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی سنت پر لفظ ’’علیکم‘‘(تم پر لازم ہے) اور عضواعلیھاب النواجذ (مضبوطی سےتھام لو) سے عمل کرنے کی تاکید فرمائی اسی طرح حضرات خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی سنت پر بھی عمل کرنے کی تاکید فرمائی جوکہ تراویح کے سنت موکدہ ہونے کی دلیل ہے۔
علامہ ابن تیمیہ رحمه الله فرماتے ہیں کہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے سب صحابہ رضوان الله عليهم کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں جمع کیا تو وہ بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضي الله تعالى عنه ان خلفاء راشدین میں سے ہیں، جن کی بابت نبی اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا ہے کہ میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کرو اور اسی کو ڈاڑھوں سے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔ علامہ ابن تیمیہ رحمه الله فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ڈاڑھوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ڈاڑھوں کی گرفت مضبوط ہوتی ہے، لہٰذا حضرت عمر فاروق رضي الله تعالى عنه کا یہ اقدام عینِ سنت ہے۔ (فتاوی ابن تیمیہ)
قرآن وحدیث کی روشنی میں ساری امت مسلمہ متفق ہے کہ رمضان کی راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے، نیز حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت سے امت مسلمہ جماعت کے ساتھ ۲۰ ہی رکعت تراویح پڑھتی آئی ہے، حرمین (مسجد حرام اور مسجد نبوی) میں آج تک کبھی بھی بيس رکعت تراویح سے كم تراويح نہیں پڑھی گئیں۔
علامہ نووی رحمه الله فرماتے ہے کہ جان لو کہ نماز تراویح کے سنت ہونے پر تمام علماء کا اجماع ہے اور یہ بیس رکعت ہیں، جن میں ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جاتا ہے۔ (الاذکار ص ۸۳)
مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان مرحوم بھوپالی رحمه الله نے تحریر فرمایا ہے کہ حضرت عمرفاروق رضي الله تعالى عنه کے دور میں جو طریقہ بیس رکعت پڑھانے کا ہوا ، اس کو علماء نے اجماع کے مثل شمار کیا ہے۔
(عون الباری )
خصوصی توجہ
سعودی عرب کے نامور عالم ، مسجد نبوی کے مشہور مدرس اور مدینہ منورہ کے (سابق) قاضی الشیخ عطیہ محمد سالم رحمه الله (متوفی 1999) نے نماز تراویح کی چودہ سو سالہ تاریخ پر عربی زبان میں ایک مستقل کتاب (التراویحُ أکْثَرُ مِنْ ألْفِ عَامٍ فِی الْمَسْجِدِ النبوی) لکھی ہے۔ کتاب کے مقدمہ میں تصنیف کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسجد نبوی میں نماز تراویح ہورہی ہوتی ہے تو بعض لوگ آٹھ رکعت پڑھ کر ہی رک جاتے ہیں ، ان کا یہ گمان ہے کہ آٹھ رکعت تراویح پڑھنا بہتر ہے اور اس سے زیادہ جائز نہیں ہے، اس طرح یہ لوگ مسجد نبوی میں بقیہ تراویح کے ثواب سے محروم رہتے ہیں۔ ان کی اس محرومی کو دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے ،لہٰذا میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں؛ تاکہ ان لوگوں کے شکوک وشبہات ختم ہوں اور ان کو بیس رکعت تراویح پڑھنے کی توفیق ہوجائے․․․․ اس کتاب میں 1400 سالہ تاریخ پر مدلل بحث کرنے کے بعد شیخ عطیہ محمد سالم رحمه الله لکھتے ہیں: اس تفصیلی تجزیہ کے بعد ہم اپنے قراء سے اولاً تو یہ پوچھنا چاہیں گے کہ کیا ایک ہزار سال سے زائد اس طویل عرصہ میں کسی ایک موقع پر بھی یہ ثابت ہے کہ مسجد نبوی صلى الله عليه وآله وسلملامیں مستقل آٹھ تراویح پڑھی جاتی تھیں؟ یا چلیں بیس سے کم تراویح پڑھنا ہی ثابت ہو؟ بلکہ ثابت تو یہ ہے کہ پورے چودہ سو سالہ دور میں بیس یا اس سے زائد ہی پڑھی جاتی تھیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی صحابی یا ماضی کے کسی ایک عالم نے بھی یہ فتویٰ دیا کہ ۸ سے زائد تراویح جائز نہیں ہیں اور اس نے حضرت عائشہ رضي الله تعالى عنها کی حدیث کو اس فتوے کی بنیاد بنایا ہو ؟

با جماعت نمازِتراویح: تین راتیں
رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم سے تراویح کی جماعت صرف تین دن ثابت ہے، پورا مہینہ آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے صحابہ كرام رضی اللہ عنہ کو تراويح كي نماز نهيں پڑھائی جیسا کہ احادیث مباركه میں اس کی صراحت موجود ہے۔ چنانچہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِىَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَلَمَّا كَانَتِ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ. قَالَ فَقَالَ « إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ ». قَالَ فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلاَحُ. . . . ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا بَقِيَّةَ الشَّهْرِ. (سنن ابی داؤد)
ترجمہ: فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ نے پورا مہینہ ہمیں رات میں نمازنہیں پڑھائی یہاں تک کہ سات دن باقی رہ گئے تو(تیئسویں رات میں) آپ نے ہمیں نمازپڑھائی یہاں تک کہ تہائی رات گزر گئی جب چھ دن رہ گئے تونمازنہیں پڑھائی پھر جب پانچ دن رہ گئے تونماز پڑھائی(یعنی پچیسویں رات میں)یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم اگر آپ اس رات کے باقی حصے میں بھی ہمیں نفل پڑھا دیتے توکیا ہی اچھا ہوتا!آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص امام کے ساتھ نماز(عشاء)پڑھے پھر اپنے گھر واپس جائےتو اسے پوری رات کے قیام کا ثواب ملے گا۔
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب چار دن باقی رہ گئے توآپ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی، جب تین دن باقی رہ گئے توآپ نے اپنے گھروالوں، عورتوں اوردیگرلوگوں کوجمع کیا اور نماز پڑھائی (یعنی ستائیسویں رات)اتنی لمبی نماز پڑھائی کہ ہمیں اندیشہ ہونے لگا کہ ہم سے سحری رہ جائے گی، پھرباقی ایام بھی آپ نے ہمیں نمازنہیں پڑھائی۔

تسبیح تراویح
نمازِ تروایح میں ہر چار رکعت ادا کرنے کے بعد کچھ توقف کیا جاتا ہے، جس میں تسبیح تراویح، اَذکار اور صلوٰۃ و سلام پڑھا جاتا ہے۔ تسبیح تراویح یہ ہے:
سُبْحَانَ ذِی الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوْتِ ط سُبْحَانَ ذِی الْعِزَّةِ وَالْعَظَمَةِ وَالْهَيْبَةِ وَالْقُدْرَةِ وَالْکِبْرِيَآئِ وَالْجَبَرُوْتِ ط سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْحَيِ الَّذِی لَا يَنَامُ وَلَا يَمُوْتُ ط سُبُّوحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوْحِ ط اَللّٰهُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ يَا مُجِيْرُ يَا مُجِيْرُ يَا مُجِيْر.
’’پاک ہے (وہ اﷲ) زمین و آسمان کی بادشاہی والا۔ پاک ہے (وہ اﷲ) عزت و بزرگی، ہیبت و قدرت اور عظمت و رُعب والا۔ پاک ہے بادشاہ (حقیقی، جو) زندہ ہے، سوتا نہیں اور نہ مرے گا۔ بہت ہی پاک (اور) بہت ہی مقدس ہے ہمارا پروردگار اور فرشتوں اور روح کا پروردگار۔ اِلٰہی ہم کو دوزخ سے پناہ دے۔ اے پناہ دینے والے! اے پناہ دینے والے! اے پناہ دینے والے!‘‘
الله تعالى هم سبكو عمل كي توفيق عنايت فرمائے (آمين يا رب العلمين)
Share:

رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كا إيك محبوب عمل - إعتكاف

رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كا 
إيك محبوب عمل - إعتكاف

اعتکاف وہ محبوب عمل ہے جس کو حضور آكرم صلى الله عليه وآله وسلم نے اپنی زندگی میں ہمیشہ کیا اور امت کو اس کے کرنے کی ترغیب دی اس عمل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خاص محبوبیت اور تعلق حاصل ہوتا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے کبھی یہ سعادت نصیب فرمائی ہو تو وہ اس کے انوار و برکات کو محسوس کر سکتا ہے۔
مگر ہر عمل کی مقبولیت کے لئے دو باتیں بہت اہم ہیں ایک اخلاص اور دوسرا سنت رسول صلى الله عليه وآله وسلم کی اتباع ۔ اگر کسی عمل میں حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم کا محبوب طریقہ نہ ہو تو وہ عمل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو ۔ اللہ کے ہاں اس کی قیمت ایک ذرہ کے برابر بھی نہیں ہوتی۔ آ ج زندگی کے ہر شعبے سے نبوی تعلیمات ختم ہوتی جا رہی ہیں ۔ یہاں تک کہ عبادات کے بارے میں بھی ہمارا وہ حال بن چکا ہے کہ حضور صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا تھا کہ ایسا وقت بھی آئے گا کہ بھری مسجد میں ایک شخص بھی خشوع سے نماز پڑھنے والا نہ ملے گا۔
اعتکاف بہت ہی اہم عبادت ہونے کے ساتھ ساتھ بہت نازک عبادت بھی ہے۔ کہ تھوڑی لغزش سے یہ فاسد ہو جاتی ہے ایک سیکنڈ کے لیے بھی شرعی ضرورت کے بغیر اعتکاف میں مسجد سے باہر نکل گیا تو اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔
عمومی طور پر اعتکاف میں جو حال دیکھا جاتا ہے اس کو دیکھا جائے تو اکثر لوگوں کا اعتکاف نہیں ہوتا۔ معمولی معمولی بہانے سے مسجد سے باہر آنا جانا لگا رہتا ہے۔ اور خاص طور پر نوجوان مسجد میں اعتکاف کے دوران زیادہ وقت دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں ہی گزارتے ہیں۔ اِلاَّ مَا شَآءَ اللّٰہُ
إعتكاف شروع كرنے سے پهلے إعتكاف كرنے والوں كيلئےموجودہ اعتکاف کی خامیوں اور صحیح اعتکاف کا طریقہ معلوم كرنا بهي بهت ضروري هے تا کہ اعتکاف میں بیٹھنے والے اپنا وقت قیمتی بنائیں۔ اور یہ اہم عبادت صحیح طریقے سے ادا ہو سکے۔
اس کے لیے علماء كرام سے مسائل معلوم كيے جائيں اگر يه ممكن نه هو تو اکابر کی کتابوں سے بهي مسائل اخذ كيے جاسكتے هيں ۔خاص کر محترم شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی کتاب"احکام اعتکاف" بهت هي مفيد كتاب هے إس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جاسكتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس حقیر سی کوشش کو قبول فرما کر میری ، میرے والدین، میرے أفراد خانه ، اساتذہ، مخلص دوستوں اور رشته دارونکی بخشش فرمائیں ۔ آمین۔


اعتکاف كي تعريف اور أقسام

تعريف 
اِعْتَکَفَ عربی زبان میں کسی مکان میں بند ہونے کو کہتے ہیں۔(مصباح اللغات ص ۵۷۰
اور شریعت کی اصطلاح میں اعتکاف کہتے ہیں: "مسجد میں ٹھہرنا روزے اور اعتکاف کی نیت کے ساتھ " (ہدایہ۱/۲۱۱

اعتکاف کی قسمیں
اعتکاف کی تین قسمیں ہیں۔
 واجب اعتکاف
 سنّت مؤکدہ اعتکاف
مستحب اور نفل اعتکاف

واجب اعتکاف
اگر کسی نے اعتکاف کی نذر مان لي هو تو وہ اعتکاف واجب ہو گیا هر صورت كرنا هوگا۔
نذر کی دو قسمیں ہیں۔

أ۔ نذر مطلق
مثلاً اس طرح نذر کرے کہ میں اللہ تعالیٰ کے لئے دس دن یا سات دن كا اعتکاف کروں گا۔

ب ۔ نذر معلّق
کوئی یہ شرط لگائے کہ اگر میر ا فلاں کام ہو گیا تو میں اللہ تعالیٰ کے لئے دس دن كا اعتکاف کروں گا۔
تو اب نذر کی دونوں صورتوں میں اعتکاف واجب ہو گیا ۔ اب اس اعتکاف کے ساتھ روزہ بھی لازم ہو گیا اگرچہ یہ نیت کرے کہ روزہ نہ رکھوں گا اسی وجہ سے فقہا ء نے مسئلہ لکھا ہے کہ:
کوئی شخص رات کے اعتکاف کی نیت کرے تو وہ لغو سمجھی جائے گی کیونکہ رات روزہ کا محل نہیں ہاں اگر رات دن دونوں کی نیت کرے یا صرف دن کی نیت کرے تو پھر رات ضمناً داخل ہو جائے گی اور رات کو بھی اعتکاف کرنا ضروری ہو گا۔

 سنّت مؤکدہ اعتکاف
رمضان کے آخری عشرة يعني 21ويں رمضان كي رات(غروب آفتاب ) سے آخر رمضان المبارك تك کا اعتکاف سنّت مؤکدہ علی الکفایہ ہے یعنی محلہ یا بستی میں بعض لوگوں کے کر لینے سے سب کے ذمہ سے ادا ہو جاتا ہے اور اگر کوئی بھی نہ کرے تو سب گناہگار ہوں گے۔ إس إعتكاف كے لئے روزه كا هونا بهي شرط هے اگر دوران إعتكاف كسي بهي وجه سے روزه ٹوٹ گيا تو إعتكاف بهي ختم هوجائے گا اور إس كي قضا ديني بهي ضروري هوگي

 مستحب اور نفل اعتکاف
مستحب اور نفل اعتکاف کے لئے کوئی مقدار اور وقت متعین نہیں جتنا جي چاهے كرلے ۔تھوڑی دیر کے لئے بھی نفل اعتکاف ہو سکتا ہے جب مسجد میں داخل ہو ساتھ ساتھ اعتکاف کی نیت بھی کر لے تو جب تک مسجد میں رہے گا اعتکاف کا ثواب بھی ملتا رہے گا۔ إس إعتكاف كے لئے روزه كا هونا بهي ضرورى نهيں
نیت دل میں ہوتی ہے۔ دل میں یہ عزم کر لے کہ جب تک میں مسجد کے اندر ہو ں اعتکاف کی نیت کرتا ہوں زبا ن سے نیت کرنا فرض اور ضروری نہیں اصل نیت دل کے ارادے کا نام ہے ۔ ہاں زبان سے بھی کہہ لے تو بہتر ہے۔ مسجد میں داخل ہوتے ہوئے اس طرح داخل ہو کہ دایاں پاؤں پہلے مسجد میں رکھے اور دعا پڑھے۔
بِسْمِ اللّٰہِ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ اَللّٰہُمَّ افْتَحْ لِیْ ٓ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ

اس کے ساتھ ساتھ اعتکاف کی بھی دعا پڑھ لے۔
نَوَیْتُ الْاِعْتِکَافَ مَا دُمْتُِ فیْ ھٰذَه الْمَسْجِدِ

اعتکاف کرنے کا طریقہ
جس کا اعتکاف کرنے کا ارادہ ہو وہ رمضان کی بیس (۲۰) تاریخ کا سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے اپنی ضروریات ، بستر ، کپڑوں وغیرہ کے ساتھ مسجد میں آ جائے اگر بیس تاریخ کا سورج غروب ہونے کے بعد کوئی آیا تو اس کا سنت اعتکاف ادا نہ ہو گا بلکہ وہ نفلی اعتکاف شمار ہو گا۔
عورت اگر اعتکاف کرتی ہے تو وہ بھی بیس تاریخ کا سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے اعتکاف کی جگہ میں چلی جائے۔ اگر بیس تاریخ کا سورج غروب ہونے کے بعد آئی تو اس کا سنت اعتکاف ادا نہ ہو گا بلکہ وہ نفلی اعتکاف شمار ہو گا۔

معتكف عورتوں کے لئے خاص ہدایت
عورت اگر اعتکاف کرتی ہے تو گھر کی مسجد میں کرے۔ یعنی اس جگہ جس کو گھر میں عبادت کے لئے خاص کیا گیا ہے۔ اگر کسی جگہ کو گھر میں عبادت کے لئے خاص نہیں کیا گیا تو پھر کسی جگہ بھی اعتکاف کر سکتی ہے ۔ مگر بہتر یہ هے کہ وہ پورے کمرے کو اعتکاف کے لئے خاص کرے۔اگر کمرے کا ایک حصہ اعتکاف کے لئے خاص کیا تو اس میں مشقت ہو گی۔ کیونکہ معتکف (اعتکاف کرنے والا ) اگر بغیر کسی شرعی اور طبعی حاجت کے ایک سیکنڈ کے لئے بھی اعتکاف کی جگہ سے نکلا تو اس کا اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے۔ اگر پورا کمرہ اعتکاف کے لئے خاص کر لے تو اس میں آسانی ہو گی۔ پو رے کمرے میں جہاں چا ہے ذکر و عبادت ، تلاوت وغیرہ کر سکے گی۔
مگر يهاں إيك مسئله ياد ركهنا ضروري هے كه عورت کے اعتکاف کے لئے شوہر سے اجازت لینا ضروی ہے ۔ اور اسی طرح عورت کا حیض و نفاس سے پاک ہونا بھی ضروری ہے البتہ استحاضہ کی حالت میں ہو تو عورت اعتکاف کر سکتی ہے ۔

إعتكاف كا فاسد هونا
اعتکاف کے لئے الگ کپڑا وغيره باندھنا ضروری تو نہیں البتہ بہتر ضرور ہے اور سنت سے ثابت بھی ہے۔ کہ اس میں یکسوئی نصیب ہوتی ہے۔ اور اپنی مرضی سے آدمی اعمال اور عبادات کر سکتا ہے۔
اعتکاف کا رکن اور فرض مسجد کے اندر ٹھہرنا ہے اس لئے وہی شخص اعتکاف میں بیٹھے جو مسجد میں بیٹھنے کی پابندی کر سکے اگر بغیر شرعی اور طبعی حاجت کے ایک سیکنڈ بھی مسجد سے باہر نکلا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اعتکاف کرنے والے نوجوان لڑکے ہوتے ہیں۔وہ اپنی مرضی سے مسجد میں آتے ہیں اور اپنی مرضی سے مسجد سے باہر نکلتے ہیں اور وضو کرنے کے بعد بھی دیر تک دوستوں سے گپ شپ لگاتے رہتے ہیں۔حالانکہ وضو سے فارغ ہونے کے بعد ایک سیکنڈ بھی ٹھہرا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ اس سے معلوم ہو ا کہ آج کل مسجدوں میں جو اعتکاف ہو رہا ہے ان میں اکثر لوگوں کا اعتکاف نہیں ہوتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اعتکاف میں ان لوگوں کو بٹھایا جائے جو مسجد میں ٹھہرنے کی پابندی کر سکیں۔اور عورتيں بهي وه مسنون إعتكاف كريں جو إعتكاف والي جگه پر بيٹهنے كي پابندي كرسكيں

إعتكاف ميں وقت كو قيمتي بنانا 
عورت گھر میں اگر اعتکاف بیٹھی ہے تو وہ بھی اس کی پابندی کرے کہ بغیر شرعی اور طبعی ضرورت کے اعتکاف کے کمرے اور اعتکاف کی جگہ سے نہ نکلے۔ اگر نکلی خواہ ایک سیکنڈ کے لئے ہی ہو اعتکاف فاسد ہو جائے گا- اعتکاف اصل میں اسی پابندی کا نام ہے۔۔
چوبیس گھنٹے عبادت کرنا کوئی ضروری نہیں، جتنی ہمت ہو عبادت کرے ،پھر آرام کرلے مگر یہ ضروری ہے کہ اعتکاف کے دوران فضول باتوں ، غیبت ، چغلی اور جھوٹ وغیرہ سے مكمل پرہیز کرے جتنا ہو سکے اپنا وقت نماز، تلاوت، ذکر و عبادت ، دینی کتابوں کے مطالعے اور دعاؤں میں گزارے۔لوگوں سے زیادہ اختلاط نہ کرے جب دوست اور ساتھی ساتھ بیٹھیں گے تو شروع میں تو جائز باتیں ہوں گی۔ مگر آہستہ آہستہ غیبت اور لایعنی باتوں میں مشغول ہو جائیں گے اور آج کل ویسے بھی ہماری مجالس غیبت اور فضول باتوں سے خالی نہیں ہوتیں اس لئے اگر کوئی دینی مجلس ہو ،سبق کا سیکھنا سکھانا ہو تو وہ بہت بہتر ہے ورنہ تنہائی اختیار کر کے اپنا وقت ذکروعبادت میں خرچ کیا جائے۔

دورانِ إعتكاف معمولات
اعتکاف کرنے والے کو تکبیر تحریمہ کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ تہجد، اشراق، چاشت، اوابین، صلوٰۃ التسبیح، تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد کا بھی خوب اہتمام کرے۔
جس شخص کے ذمه گزشتہ نمازیں قضا باقی ہیں وہ زیادہ نوافل پڑھنے کے بجائے اپنا وقت قضا نمازوں میں گزارے۔ تاکہ موت سے پہلے پہلے فرائض ، واجبات ذمےّ سے ساقط ہو جائیں۔
اخیر عشرہ سارے کا سارا ہی بہت قیمتی ہے مگر اس کی طاق راتوں کی فضیلت بہت زیادہ ہے لہٰذا طاق راتوں کو زیادہ سے زیادہ شب بيداري کرنے کی کوشش کرے۔ان میں عبادات اور دعا میں خوب کوشش کرے اور کثرت سے شب قدر کی یہ دعا پڑھتا رہے۔
اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ
"اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے معافی کو پسند کرتا ہے مجھے معاف فرما لے"
موقعہ ہو تو مسجد کی خدمت اور صفائی کرنے کو سعادت سمجھے مگر مسجد سے باہر قدم نہ رکھے اگر ایک سیکنڈ کے لئے بھی باہر نکل گیا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا اس لئے اندر اندر مسجد کی خدمت کر سکتا ہے۔
کوشش کرے کہ اس کے کسی عمل سے کسی نمازی کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ مثلاً اگر کوئی نمازی نماز پڑھ رہا ہو تو اونچی آواز میں دعا یا تلاوت نہ کرے۔ اپنی قیمتی اشیاء کو سامنے نہ چھوڑے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اعتکاف کرنے والے موبائل فون پر لوگوں سے مسجد کے اندر گپ شپ لگاتے رہتے ہیں یہ مسجد کے اندر گناہ ہے۔اسی طرح مسجد کے اندر موبائل فون پر گیم کھیلنا بھی گناہ ہے۔مسجد صر ف اللہ کی عبادت کے لئے ہے۔
البتہ سخت ضرورت ہو، کو ئی چیز منگوانی ہو ، گھر کے لئے کوئی چیز خریدنی ہو ،تو موبائل فون پر بتا سکتے ہیں۔اسی طرح کوئی عالمِ دین مسجد میں بیٹھ کر موبائل فون پر مسائل بتاتا ہے تو وہ بھی جائز ہے۔ مگر دنیاوی باتیں کرنا گناہ ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ مسجد میں بیٹھ کر دنیاوی باتیں کرنے سے نیکیاں اس طرح مٹ جاتی ہیں۔ جس طرح آگ خشک لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔

معتكف كا دورانِ إعتكاف سونا
اعتکاف کرنے والوں كے لئے سونا منع نهيں هے البته ان کو چاہیے کہ سونے کے لئے ایسے وقت کا انتخاب کریں کہ جو نمازیوں کے مسجد میں آنے کا وقت نہ ہو۔ ورنہ لوگ یہ بد گمانی کریں گے کہ اعتکاف والے ہر وقت مسجد میں سوئے رہتے ہیں۔ لہٰذا لوگوں کو یہ موقع بھی نہ دینا چائیے۔ مسجد میں سوئیں تو موٹا کپڑا بچھا کر سوئیں اور اپنی قیمتی اشیاء مثلاً موبائل فون ، پیسوں کی خود حفاظت کر کے سوئیں تا کہ آپ کی وجہ سے کوئی دوسرا شخص گناہگار نہ ہو جائے۔

دورانِ إعتكاف تعليم و تعلم كا عمل
مسجد میں اگر امام صاحب عالمِ دین ہوں تو اس کو اپنی سعادت سمجھیں۔اور ان سے روزانہ تھوڑا وقت لے کر دین سیکھیں۔ تاکہ ان دس دنوں میں کم از کم نماز ، کلمے وغیرہ تو ٹھیک ہو جائیں۔ اور اگر دین دار، سمجھ دار ساتھی ہوں تو جماعت کی ترتیب بنا کر روزانہ اجتماعی تعلیم فضائل اعمال ، فضائل صدقات اور حیات صحابہ سے ہو اور اس کے بعد کھانے پینے ، سونے جاگنے کی سنّتوں کے مذاکرے کریں ۔

مسجد کی حد اور معتكف كي إحتياط
مسجد وہ حصہ ہے جسے مسجد بنانے والوں نے مسجد قرار دے کر وقف کیا ہو۔ لہٰذا بعض مقامات کو ہم تو مسجد کہتے ہیں مگر وہ شرعاً مسجد كے حكم ميں نہیں ہوتے ۔ مثلاً وضو خانہ، غسل خانہ، استنجا خانہ ، امام کا حجرہ وغیرہ ان پر مسجد کے احکام جاری نہ ہو ں گے۔ لہٰذا اگر معتکِف ان جگہوں میں بغیر کسی شرعی حاجت کے چلا گیا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
عام طور پر مسجد کی سیڑھیاں بھی مسجد سے باہر ہوتی ہیں ۔ جن کے ذریعے اوپر منزل پر جاتے ہیں لہٰذاان سیڑھیوں پر بھی بغیر شرعی حاجت کے گیا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ ہاں وہ سیڑھیاں اگر مسجد کے اندر ہو ں تو پھر ان سیڑھیوں پر جانا اور ان کے ذریعے اوپر والی منزل پر بھی جانا جائز ہے۔
بعض مساجد میں امام کا حجرہ اور بچوں کے پڑھنے کی جگہ بھی مسجد سے باہر ہوتی ہے۔ وہاں جانے سے بھی اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ اسی طرح بعض مساجد میں سامان رکھنے کے سٹور اور گودام بھی مسجد سے باہر ہوتے ہیں وہاں جانے سے بھی اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
بعض مساجد کے صحن میں جو حوض بنا ہوتا ہے وہ بھی مسجد سے خارج ہوتا ہے وہاں جانے سے بھی اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔اسی طرح بعض مساجد میں کُلّی وغیرہ کرنے کے لئے جوتوں کی جگہوں پر واش بیسن لگے ہوتے ہیں ۔ وہ مسجد سے عموماً باہر ہوتے ہیں ۔ وہاں جاکر کُلّی کرنے سے بھی اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
اسی طرح معتکف نے افطاری کی، کھانا کھایا، تو صرف ہاتھ دھونے اور کُلّی کرنے کے لیے وضو خانے نہیں جا سکتا۔ گیا تو اعتکاف ٹو ٹ جائے گا۔ ہاں وضو کرنے جائے تو ساتھ میں ہاتھ بھی دهل جائیں گے اور کُلّی بھی ہو جائے گی ۔
حرمين شريفيں ميں بهي بعض مقامات إيسے هيں جو مسجد كے حكم ميں نهيں هيں ليكن عوام الناس أن كو مسجد سمجهـ كر وهاں بغير شرعي حاجت كے آتے جاتے رهتے هيں جس سے مسنون إعتكاف باقي نهيں رهتا جن لوگوں كو الله تعالى حرمين شريفين ميں إس سعادت كي توفيق عنايت فرمائے تو انهيں چاهيے كه نهايت باريك بيني سے إن تمام چيزوں كي جانكاري حاصل كرے اور پهر پوري إحتياط سے اپنا وقت وهاں گزارے حرمين شريفين ميں رش هونے كي وجه سے بعض لوگ لڑتے جهگڑتے اور إيك دوسرے كو جگت بازي كرتے بهي نظر آتے هيں إن تمام چيزوں سے معتكف كا اپنے آپ كو بچانا بهت ضروري هے
إسي طرح إعتكاف كرنے والي عورت پر بهي درج بالا سب پابندياں هوں گي مسجد كي طرح اس كي مقرر كرده جگه اس كا ٹهرنے كا مقام هے وه اس مقام كو اگر بغير شرعي يا طبيعي حالات كے إيك سيكنڈ كے لئے بهي چهوڑے گي تو إعتكاف فاسد هوجائے گا
لهذا إعتكاف كرنے والے خواتين حضرات كو بهت إحتياط سے يه عشره گزارنا چاهيے جب وقت فارغ كرليا هے تو پهر بے إحتياطي سے إس عظيم دولت كو ضائع هونے سے بچانا بهت ضروري هے إسي طرح معتكف كو اپني زبان كي بهي حفاظت كرني ضروري هے اگر كوئي خلاف طبيعت كچهـ كهه دے تو معتكف كو خاموشي أختيار كرليني چاهيے تاكه إعتكاف كے ثواب ميں كوئي كمي واافع نه هو الله تعالى سب كو عمل كي توفيق عنايت فرمائے - آمين يا رب العلمين

معتکف کو پیش آنے والی حاجتیں
ان حاجتوں کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔
 حاجت شرعیہ -  حاجت طبعیہ -  حاجت ضروریہ
 حاجت شرعیہ
جن اُمور کی ادائیگی شرعاً فرض و واجب ہو اور اعتکاف کی جگہ میں معتکِف انھیں ادا نہ کر سکتا ہو ان کو حاجتِ شرعیہ کہتے ہیں مثلاً جمعہ کی نماز۔
مسئلہ: معتکِف کی مسجد میں جمعہ کی نماز نہ ہوتی ہو تو اس کو جامع مسجد میں اتنی دیر پہلے جانا چاہے کہ خطبہ شروع ہونے سے پہلے وہاں دو رکعت نفل تحیۃ المسجد اور چار سنت اطمینان سے پڑھ لے پھر جمعہ کے فرضوں کے بعد چھ رکعت سنت اور نفل پڑھ کر اپنی اعتکاف والی مسجد آ جائے۔
مسئلہ: جمعہ کی سنتیں پڑھ کر اگر جامع مسجد میں کچھ دیر ٹھہر گیا تو جائز ہے لیکن بہتر نہیں۔ اسی طرح اگر جامع مسجد میں جانے کے بعد بقیہ اعتکاف وہیں پورا کر لے تو یہ بهي جائز تو ہے مگر بہتر نہیں بلکہ مکروہ ہے۔ (مسائل اعتکاف

معتکف کے لئے اذان
 اگر کوئی مؤذن اعتکاف میں بیٹھا ہو اور اسے اذان دینے کے لئے مسجد سے باہر جانا پڑے تو اس کے لئے بھی باہر نکلنا جائز ہے۔ مگر اذان کے بعد نہ ٹھہرے۔
 اگر کوئی مؤذن باقاعدہ مؤذن تو نہیں ہے لیکن کسی وقت کی اذان دینا چاہتا ہے تو اس کے لئے بھی اذان کی غرض سے باہر نکلنا جائز ہے۔
 مسجد کے مینارہ کا دروازہ اگر مسجد کے اندر ہو تو معتکِف کے لئے مینارہ پر چڑھنا مطلقاً جائز ہے کیونکہ وہ مسجد ہی کا حصہ ہے البتہ اگر دروازہ باہر ہو تو اذان کی ضرورت کے سوا اور كسي بهي ضرورت كے لئے اس پر چڑھنا معتکف کے لئے جائز نہیں۔ (احکامِ اعتکاف

 حاجتِ طبعیہ
ایسے اُمور جن کے کرنے کے لئے انسان مجبور ہے اور وہ مسجد میں نہیں ہو سکتے ان کو حاجت طبعیہ کہتے ہیں جیسے پیشاب ، پاخانہ ، استنجاء، غسلِ جنابت وغیرہ ۔
مسئلہ: طبعی ضرورت کے لئے جب معتکف مسجد سے باہر چلا جائے تو حتی الامکان ایسی جگہ رفع حاجت کرے جو قریب ہے یا خود معتکِف کا گھر دور ہے اورکسی بے تکلف دوست کا گھر قریب ہے یا خود معتکفِ کے دو گھر ہیں ایک قریب دوسرا دور ، یا مسجد کے قریب سرکاری بیت الخلاء ہے ،یا مسجد کے قریب بیت الخلاء بنا ہوا ہے تو ان میں سے جو بیت الخلاء بھی مسجد سے قریب ہو اس میں رفع حاجت کرنی ہوگی البتہ قریب والی جگہ سے طبیعت مانوس نہ ہو، جس کی وجہ سے رفع حاجت پوری نہ ہوتی ہو ، خواہ بتقاضائے طبیعت یا دوسرے آدمی کو تکلیف ہوتی ہو، پردہ کرانا پڑتا ہے یا کوئی اور دشواری ہے تو دور جگہ جہاں پر دشواری نہ ہو چلا جانا جائز ہے۔
مسئلہ:معتکف کو حاجتِ طبعیہ سے فارغ ہوتے ہی مسجد میں آ جانا چاہیے۔ بلا وجہ گھر میں رہنا جائز نہیں۔
مسئلہ:معتکف کی ریح (ہوا) خارج ہونے لگے اگر يه ممکن ہو سکے تو اس کو مسجد سے باہر جا کر خارج کرے تاكه دوسر لوگ پريشان نه هوں ۔ اگر بلا اختیار مسجد ہی میں خارج ہو جائے تو بھی مضائقہ نہیں معذور ہے۔
مسئلہ:جب معتکف حاجت شرعیہ اور حاجت طبعیہ کے لئے جائے تو اپنی عادت کے مطابق چال سے چلے، جلدی چلنا ضروری نہیں ، بلکہ ذرا ہلکی آہستہ چال سے چلنا اس کے لئے بہتر ہے تا کہ چلتے ہوئے سلام کرنے اور جواب دینے میں آسانی ہو ۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ جس کو اس کا معتکف ہونا معلوم نہیں وہ اس کو رُکانا چاہتا ہے، یا خود اس کو جواب دینا ہوتا ہے تو ایسی صورت میں ٹھہرے بغیر یہ کام ہو سکتے ہیں تیز چال میں ٹھہر جانے یا کسی کے روک لینے کا اندیشہ ہے اور ایک منٹ بھی ٹھہر جائے تو اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے۔ اس لئے ہلکی چال بہتر ہے۔ ورنہ ہر چال چلنا جائز ہے۔
مسئلہ:وضو کرنے کی ایک جگہ قریب ہے اور دوسری جگہ ذرا دور ہے تو قریب والی جگہ بہتر ہے اگر کوئی دشواری ہو تو دور بھی جا سکتا ہے اسی طرح پیشاب پاخانے، استنجاء خانے اور غسل خانے کا حکم ہے کہ جب تک قریب ترین جگہ پر ضرورت پوری ہوتی ہوتو بلا ضرورت دور نہ جائے۔ ( مسائلِ اعتکاف 
مسئلہ:وضو کرنے کے بعد اگر کوئی شخص کسی سے بات کرنے کے لئے رکا یا موبائل فون پر بات کرنے لگا یا نسوار ڈالنے ، سگریٹ پینے کے لئے رکا تو ایک لمحہ کے لئے رکنے سے بھی اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔

معتکف کا غسل
معتکف کو غسلِ جنابت کے لئے مسجد سے باہر جانا جائز ہے۔اور غسل جنابت کے سوا کسی اور غسل کے لئے مسجد سے نکلنا جائز نہیں۔جمعہ کے غسل یا ٹھنڈک کی غرض سے غسل کرنے کے لئے مسجد سے باہر جانا جائز نہیں۔اس غرض سے مسجد سے باہر نکلے گا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ ( احکامِ اعتکاف
وضو کے بعد معتکف مسواک، منجن وغیرہ کر سکتا ہے لیکن اگر صرف مسواک یا منجن کے لئے مسجد سے نکلا تو اعتکا ف ٹوٹ جائے گا۔ (شمائل کبرٰی ۸ /۲۰۰

 حاجتِ ضروریہ
معتکف کو اچانک کوئی ایسی شدید ضرورت پیش آ جائے جس کی وجہ سے اسے اعتکاف کی جگہ چھوڑنا پڑجائے تو ایسی باتوں کو حاجتِ ضروریہ کہتے ہیں۔
مثلاً مسجد گرنے لگے ۔ اور معتکف کو دب جانے کا خطرہ ہو جائے یا ظالم حاکم گرفتار کرنے آ جائے یا ایسی شہادت دینا ضروری ہو گیا ہو جو شرعاً معتکف کے ذمے واجب ہے کہ مدعی کا حق اسکی شہادت پر موقوف ہے دوسرا کوئی گواہ نہیں ہے اگر معتکف گواہی نہ دے تو مدعی کا حق فوت ہو جائے گا ۔ یا کوئی آدمی یا بچہ پانی میں ڈوب رہا ہے یا آگ میں گر پڑا ہے یا خطرہ ہے یا سخت بیمار ہو گیا یا گھر والوں میں سے کسی کی جان، مال ، آبرو کا خطرہ ہے یا جنازہ آ گیا ہے۔ اور جنازہ کی نماز کوئی بھی پڑھانے والا نہیں یا جہاد کا حکم ہو گیا، اور جہاد میں شریک ہونا فرض عین ہو گیا یا کسی نے زبردستی ہاتھ پکڑ کر مسجد سے نکال دیا یا جماعت کے نمازی سب چلے گے اب مسجد میں جماعت کا انتظام نہ رہا اس قسم کی سب حاجتیں حاجاتِ ضروریہ کہلاتی ہیں۔اکثر صورتوں میں اعتکاف ترک کرنا فرض اور واجب ہو جاتا ہے۔ اور اعتکاف چھوڑنے کا گناہ بھی نہیں ہوتا ۔ البته اعتکاف چھوڑ دینے کی قضا کرنا ہو گی۔

اعتکاف کے مکروہات و ممنوعات

اعتکاف کے مکروہات


 بالکل خاموشی اختیار کرنا
کیونکہ شریعت میں بلا وجه بالکل خاموش رہنا کوئی عبادت نہیں ، اگر خاموشی کو عبادت سمجھ کر کرے گا تو بدعت کا گناہ ہو گا۔ البتہ اگر اس کو عبادت نہ سمجھے، لیکن گناہ سے اجتناب کی خاطر حتی الامکا ن خاموشی کا اہتمام کرے تو اس میں کچھ حرج نہیں ہے۔

 فضول اور بلا ضرورت باتیں کرنا
فضول اور بلا ضرورت باتیں کرنا بھی مکروہ ہے۔ ضرورت کے مطابق تھوڑی بہت گفتگو تو جائز ہے، لیکن مسجد کو فضول گوئی کی جگہ بنانے سے پرہیز لازم ہے۔

سامانِ تجارت مسجد میں لا کر بیچنا
سامانِ تجارت مسجد میں لا کر بیچنا بھی مکروہ ہے۔

 اعتکاف کے لئے مسجد کی جگہ گھیر لینا
اعتکاف کے لئے مسجد کی اتنی جگہ گھیر لینا جس سے دوسرے معتکفین یا نمازیوں کو تکلیف پہنچے مکروہ ہے۔

 اٌجرت پر کتابت کرنا یا کپڑے سینا یا تعلیم دینا
اجرت پر کتابت کرنا یا کپڑے سینا یا تعلیم دینا بھی معتکف کے لئے فقہاء نے مکروہ لکھا ہے۔ البتہ جو شخص اس کے بغیر ایام اعتکاف کی روزی بھی کما نہ سکتا ہو اس کیلئے بیع پر قیاس کر کے گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ ( احکامِ اعتکاف 

اعتکاف کے ممنوعات
درج ذیل باتیں اعتکاف میں ممنوع اور حرام ہیں ۔

   بیوی سے تعلقات رکھنا
بیوی سے تعلقات رکھنا حرام هے بلكه شہوت سے اس کو چھونا بھی حرام ہے۔

  بلا ضرورت شرعي مسجد سے باهر جانا 
بلا ضرورت شرعي مسجد سے باهر جانا بهي ممنوع هے چاهے إيك سيكنڈ كيلئے هي كيوں نه هو (مسائلِ اعتکاف

متفرق ممنوعات 
بعض باتیں ویسے بھی حرام ہیں مگر مسجد میں اور اعتکاف کی حالت میں ان کو کرنا اور بھی سخت حرام ہے۔ مثلاً غیبت کرنا، چغلی کرنا، لڑنا اور لڑانا، جھوٹ بولنا اور جھوٹی قسمیں کھانا، بہتان لگانا، کسی مسلمان کو ناحق ایذا پہنچانا، کسی کے عیب تلاش کرنا ، کسی کو رسوا کرنا، تکبر اور غرور کی باتیں کرنا، ریا کاری کرنا وغیرہ۔

اعتکاف کے مباحات
بعض باتیں اعتکاف کی حالت میں مباح اور جائز ہیں لهذا أن كے كرنے ميں كوئي حرج نهيں هے

  أ- كھانا پینا

  ب - سونا اور آرام كرنا

 ج - ضروری خریدو فروخت کرنا بشرطیکہ سامان مسجد میں نہ لایا جائے يعني سامان تجارت باهر كهيں موجود هو مسجد ميں معتكف أسكا سودا كرسكتا هے اور خریدو فروخت ضروریاتِ زندگی کے لئے ہو لیکن مسجد کو باقاعدہ تجارت گاہ بنانا جائز نہیں۔

 د - حجامت کرانا بشرطیکہ بال مسجد میں بالكل نہ گریں 

 ه - بات چیت کرنا لیکن فضول گوئی سے پرہیز ضروری ہے۔

  و - نکاح یا کوئی عقد کرنا۔

  ز - مسجد ميں کپڑے بدلنا، خوشبو لگانا، سر میں تیل لگانا۔

  ح - مسجد میں کسی مریض کا معائنہ کرنا اور نسخہ لکھنا یا دوا بتا دینا۔

  ط - قرآن کریم یا دینی علوم کی تعلیم دینا۔

  ي - كپڑے دھونا اور کپڑے سینا البتہ کپڑے دهوتے وقت پانی مسجد سے باہر گرے اور خود مسجد میں رہیں۔ یہی حکم برتن دهونے کا بھی ہے - احکام اعتکاف 

  ك - ناخن کاٹنا، مونچھیں کاٹنا، خط بنانا جائز ہے لیکن يه إحتياط لازمي هے كه بال ، ناخن وغیرہ مسجد میں نہ گریں۔ (مسائلِ اعتکاف 

  ل - حسبِ ضرورت سامان مسجد میں رکھنا جائز ہے تاهم فضول سامان ركهنے سے گريز كيا 
جا ئے
۱۳ اگر مجبوري هو تو چارپائی بھی مسجد میں رکھ سکتا ہے۔ (شمائل کبرٰی

اعتکاف کے مفسدات يعنی اعتکاف کو فاسد کرنے والی چیزیں
بعض باتوں سے اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے۔
 أ- معتکف اگر مسجد سے یا عورت اپنی اعتکاف کی جگہ سے حاجتِ شرعیہ اور حاجتِِ طبعیہ کے بغیر نکلے تو اس سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔

  ب- اگر بھول کر نکل جائے تب بھی اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے

  ج- كسی نے زبردستی باہر نکا ل دیا تب بھی اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے مگر اس صورت میں گناہگار نہ ہو گا۔ بعد میں قضا کر لے۔


 د- اگر میت کے نہلانے، کفن دینے، جنازہ پڑھنے گیا تب بھی اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔
(مسائلِ اعتکاف 

  ه- مریض کی عیادت کے لئے نکلا خواہ بیٹا، بیوی کیوں نہ ہو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔

  و- كسی کے بارے میں گواہی دینا ضروری تھا اس کے لئے مجبورًا نکلا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔

  ز- اگر روزہ کسی وجہ سے فاسد ہو گیا تو اعتکاف بھی فاسد ہو جائے گا۔

  ح- اپنی بیماری کے علاج کے لئے ڈاکٹر کے پاس گیا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا

ط - پاخانہ، پیشاب کے لئے نکلا فارغ ہونے کے بعد ٹھہر گیا ،رک کر کسی سے باتیں کرنے لگا تو اعتکاف فاسد ہو گیا۔
 ي - بال اور حجامت بنوانے کے لئے نکلا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا

 ك - جمعہ کے غسل کے لئے جو مستحب ہے يا غسل تبريد کے لئے مسجد سے باہر غسل خانہ میں جانے سے اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔

 ل - منجن یا مسواک کرنے ( کلی کرنے) کے لئے مسجد سے باهر نکلا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔
م-  بیڑی ، سگریٹ پینے (اسی طرح نسوار ڈالنے) کے لئے مسجد سے باہر نکلا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔ اور مسجد میں ان چیزوں کا استعمال جائز نہیں۔

ن -  گاؤں میں جہاں جمعہ واجب نہیں اگر اس مسجد سے معتکف جمعہ پڑھنے کے لئے نکلا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔ (شمائلِ کبرٰی 

س-  اعتکاف کی حالت میں بیوی سے صحبت کی تو اس سے بھی اعتکاف فاسد ہو گیا۔
 بیوی سے صرف بوس و کنار بھی حالت اعتکاف میں ناجائز ہے۔ اگر اس سے اِنزال ہو گیا تو اعتکاف بھی ٹوٹ گیا۔

 ع - كوئی شخص احاطۂ مسجد کے کسی حصے کو مسجد سمجھ کر چلا گیا (مثلاً امام کے کمرہ میں گیا حالانکہ وہ تو عام طور پر مسجد سے باہر ہوتا ہے اس نے اس کو مسجد کا حصہ سمجھا اور اندر چلا گیا ) حالانکہ در حقیقت وہ حصہ مسجد میں شامل نہیں تھا تو اس سے بھی اعتکاف فاسد ہو گیا۔ (احکامِ اعتکاف)

 ف - کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کے لئے مسجد سے نکلا تو اعتکاف فاسد ہو گیا
(احسن الفتاوٰی )

 ص - اگر معتکف امام مسجد ہے اور نماز جنازہ پڑھانے کے لئے نکلا تو اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے
البتہ اگر ابتداء میں نماز جنازہ کے لئے نکلنے کی شرط رکھی جائے تو اس صورت میں نمازِ جنازہ کا پڑھنا یا پڑھانا مفسدِ اعتکاف نہیں لیکن بغیر شرط کے نمازِ جنازہ پڑھنے یا پڑھانے کے لیے نکلنا فسادِ اعتکاف کا ذریعہ ہے۔ (فتاوٰی حقانیہ
(مگر اس صورت میں یہ نذر اور واجب اعتکاف ہو گا سنّت إعتكاف نہ ہو گا)

ق - عورت کو اگر اعتکاف کے دوران حیض (ماہواری) آ جائے تو اعتکاف ختم ہو جائے گا پاک ہونے کے بعد روزہ رکھ کر ایک دن کی اعتکاف کی قضا کر لے۔
(خیر الفتاوٰی)

 ر - معتکف دوسری مسجد میں تراویح پڑھانے نہیں جا سکتا
مگر اعتکاف بیٹھتے وقت یوں نیت کر لے کہ ’’میں اللہ تعالیٰ کے لئے آخری عشرہ کے اعتکاف کی نذر مانتا ہوں البتہ تراویح میں قرآن سنانے کے لئے جایا کروں گا‘‘ پھر تراویح کے وقت کے بالکل قریب جائے اور فارغ ہوتے ہی اعتکاف والی مسجد میں آ جایا کرے راستہ میں آتے جاتے کسی جگہ کھڑا نہ ہو۔ (خیر الفتاوٰی
( مگر اس صورت میں یہ نذر اور واجب اعتکاف ہو گا سنّت إعتكاف نہ ہوگا)

 ش- اگر وضو سے قبل وضو خانہ پر بیٹھ کر صابن سے ہا تھ منہ دھوئے تو اس سے اعتکاف فاسد ہو جائے گا ۔

ت -  اسی طر ح اگر وضو کے بعد وضو خانہ پر کھڑ ے ہو کر رومال سے وضو کا پانی خشک کیا تو اعتکاف فاسد ہو جا ئے گا ۔ (احسن الفتا ویٰ 

ث - اگر عورت اعتکاف میں ہے اور درس دینے کیلئے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جائے تو اعتکاف ٹو ٹ جائے گا۔
ہاں اگر اعتکا ف بیٹھنے سے پہلے زبان سے نیت کی تصر یح کر لی جائے (کہ میں اللہ کے لئے اعتکاف کی نیت کر تی ہوں بشرطیکہ میں دوران اعتکاف درس دینے کے لئے جاؤں گی تو جانا جائز ہے ۔ (خیر الفتاویٰ
( مگر اس صورت میں یہ نذر اعتکا ف ہو گا سنّت إعتكاف نہ ہو گا )

خ - جو مسجد کئی منزلہ ہو اس کی اوپر والي منز ل میں بهي اعتکا ف ہو سکتا ہے اور کسی اور ایک منزل میں اعتکا ف کی غر ض سے بیٹھ جانے کے بعد اس کی دو سری منزل پر بھی معتکف جا سکتا ہے ، بشر طیکہ آنے جانے کا زینہ (سیٹرھی ) مسجد کے اندر ہی ہو ، حدود مسجد سے باہر نہ ہو ، اگر مسجد کی حدو د سے دو چا ر سیٹرھیا ں بھی باہر ہو جاتی ہوں تو بھی جائز نہیں ہے ۔
ہاں اگر زینہ مسجد سے باہر ہو کر جاتا ہو اوراوپر جانا ضروری ہو تو اس کی ایک صورت یہ ہے کہ اعتکاف میں بیٹھنے کے وقت جب اعتکاف کی نیت کرے اسی وقت نیت میں یہ شرط لگا لے کہ میں فلاں زینہ سے اوپر جایا کروں گا تو یہ شرط کر لینے سے زینہ سے اوپر جانا جا ئز ہو جائے گا  (مسائلِ اعتکاف
(مگر یہ نذر اعتکاف ہو گا سنت إعتكاف نہ ہو گا)

ذ- اعتکاف سے اگر بغیر شرعی وطبعی حاجت کے مسجد سے نکلا اور ایک پاؤں مسجد سے نکالا اور ایک پاؤں مسجد کے اندر ہے تو اعتکاف نہیں ٹوٹتا اگر دونوں پاؤں مسجد سے نکالے تو تب اعتکاف ٹوٹے گا ۔(فتاوٰی محمودیہ

   أأ - اگر مسجد میں پانی ٹھنڈا ہے اور سردی زیادہ ہے اور اگر پانی سے وضو کرنے کیلئے گھر جاتا ہے تو دیکھا جائے گا کہ
اگر سرد پانی سے وضو کرنے میں زیادہ دقّت ہوتی ہے اورمرض لاحق ہونے کا یا مرض بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو جا سکتا ہے ۔(فتاوٰی محمودیہ
اگر زیادہ مشقت نہیں مرض کا بھی اندیشہ نہیں پھر گیا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا ۔

أب - کوئی طالب علم اعتکاف میں بیٹھا تو علم حاصل کرنے مسجد سے باہر نہیں جا سکتا، گیا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔

أج - إعتکاف کے دوران کوئی ووٹ ڈالنے گیا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا
(فتاوٰی محمودیہ )
أد - کوئی ماسٹر صاحب اعتکاف میں بیٹھے اور ٹیوشن پڑھانے کے لئے مسجد سے نکلے تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا ۔(فتاوٰی محمودیہ



اعتکاف کے متفرق مسائل
 أ - عورت كا شوهر كي آجازت كے بغير إعتكاف كرنا درست نهيں ليكن اگر شوہر بیوی کو اعتکاف کی اجازت دے چکا تو پھر اس کے بعد اس کو منع کرنے کا اختیار نہیں اور اگر منع کرے تو ممانعت صحیح نہیں ۔( فتاوى عالمگیری 

 ب - عورت  اعتکاف کے دوران ضرورت کے وقت گھر کا کام کاج کر سکتی ہے، کھانا پکا سکتی ہے مگر اعتکاف کی جگہ سے باہر نہ نکلے  ۔اور بہتر یہ ہے کہ اس کو یکسو کر دیا جائے تا کہ وہ مكمل يكسوئي سے عبادت اور ذکر میں زیادہ سے زیادہ وقت گزار سکے ۔

 ج - ایک جگہ عورت نے جب اعتکاف کے  لئے متعیّن کر لی تو اب اس کو تبدیل نہیں کر سکتی
(جامع الفتاوٰی)

د - عورت نے اگر پورا کمرہ اعتکاف کیلئے متعیّن کر لیا تو کمرے میں جس جگہ چاہے ٹھہر سکتی ہے ۔اسی طرح مسجد کے اندر معتکف جہاں چا ہے ٹھہر سکتا ہے

ه - اعتکاف والی عورت کے ساتھ کمرے میں گھر کے دوسرے افراد رہ سکتے ہیں، کھانا کھا سکتے ہیں۔ مگر دنیاوی اور فضول باتوں سے پرہیز کریں ۔

 و - معتکف کو حالت اعتکاف میں مسجد کے اندر اجرت لیکر کوئی کام کرنا جائز نہیں 

ز - اسی طرح مسجد کے اندر اخبار بھی نہ پڑھا جائے کیونکہ عموماً اخبار تصاویر سے خالی نہیں ہوتے ۔(مسائلِ اعتکاف 

ح -  نابالغ لڑکا سمجھ دار ہو نماز کو سمجھتا ہو اور صحیح طریقہ سے پڑھتا ہو تو معتکف ہو سکتا ہے۔ نفل اعتکاف ہو گا ،مسنون نہ ہو گا اگر نا سمجھ ہو تو نہیں بیٹھ سکتا کہ مسجد کی بے ادبی کا اندیشہ ہے۔(فتاوٰی رحیمیہ 

ط - معتکف کیلئے اگر مسجد میں کھانے پینے کا انتظام ہو سکتا ہے تو اسے کھانے کیلئے گھر جانا جائز نہیں لیکن اگر کوئی شخص کھانا لانے والا نہ ہو تو کھانا لانے کیلئے معتکف باہر جا سکتا ہے لیکن کھانا مسجد میں لا کر ہی کھانا چاہئیے نیز ایسے شخص کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئیے کہ ایسے وقت مسجد سے نکلے جب اسے کھانا تیار مل جائے ،تاہم اگر کچھ دیر کھانے کے انتظار میں ٹھہرنا پڑے تو مضائقہ نہیں ۔(احکامِ اعتکاف

ي - بعض دیہاتوں میں تو یہ ظلم ہوتا ہے کہ کوئی شخص اعتکاف بیٹھنے کیلئے تیار نہیں ہوتا اس سے سارا محلہ گناہگار ہوتا ہے ۔اور بعض جگہوں پر کوئی نہ ملے تو کسی کو اجرت دے کر اعتکاف میں بٹھاتے ہیں اس طرح نہ معتکف کو کوئی ثواب ہوتا ہے نہ بٹھانے والوں کو ۔۔اور اگر اس کو اجرت مسجد کے فنڈ سے دی ہے تو جن لوگوں نے مسجد کے فنڈ سے وہ روپیہ دیا ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی جیب سے مسجد کے فنڈ میں وہ روپیہ جمع کریں ۔



شرائط اعتکاف
اعتکافِ مسنون کے صحیح ہونے کے لیے مندرجہ ذیل چیزیں ضروری ہیں

  أ - مسلمان ہونا

  ب - عاقل و بالغ ہونا
نابالغ مگر سمجھدار کا اعتکاف بهي درست ہے
علم الفقہ، حصہ سوم)

 ج - اعتکاف کی نیت کرنا
غروب آفتاب سے پهلے پهلے نيت كرنا ضروري هے

 د - مرد کا مسجد میں اعتکاف کرنا (جس مسجد میں اعتکاف کیا جائے اس میں پانچ وقتی نماز باجماعت بهي ہوتی ہو
 ه - مرد اور عورت کا جنابت یعنی غسل واجب ہونے والی حالت سے پاک ہونا
( اگر کوئی شخص حالت جنابت میں اعتکاف شروع کر دے تو اعتکاف تو صحیح ہو جائے گا لیکن یہ شخص گناہگار ہو گا)

  و - عورت کا حیض ونفاس سے خالی ہونا

  ز - روزے سے ہونا ( اگر اعتکاف کے دوران کوئی ایک روزہ نہ رکھ سکے یا کسی وجہ سے روزہ ٹوٹ جائے تو مسنون اعتکاف بھی ٹوٹ جائے گا۔

  ح - عورت كا گهر ميں كوئي جگه يا كوئي إيك كمره مخصوص كرنا

  ط - جس شخص کے بدن سے بدبو آتی ہو یا ایسا مرض ہو جس کی وجہ سے لوگ تنگ ہوتے ہوں تو ایسا شخص اعتکاف میں نہ بیٹھے البتہ اگر بدبو تھوڑی ہو جو خوشبو وغیرہ سے دور ہوجائے اور لوگوں کو تکلیف نہ ہو، تو جائز ہے۔

  ي - عورت كے لئے شوهر سے آجازت لينا بهي ضروري هے


اعتکاف کے فضائل
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتّٰى تَوَفَّاهُ اللّهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ(صحیح البخاری
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآله و سلم رمضان المبارك کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے
دی۔ پھر آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اعتکاف فرماتی رہیں۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ۔۔۔ مَنِ اعْتَكَفَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ تَعَالٰى جَعَلَ اللهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ ثَلَاثَ خَنَادِقَ کُلُّ خَنْدَقٍ أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ (المعجم الاوسط للطبرانی
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی رضا کیلیے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہےتو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کو آڑ بنا دیں گے، ایک خندق کی مسافت آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے۔
فائدہ: سبحان اللہ!ایک دن کے اعتکاف کی یہ فضیلت ہے تو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے اعتکاف کی کیا فضیلت ہو گی؟ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو رمضان کی مبارک گھڑیوں میں اعتکاف کرتے ہیں اور مذکورہ فضیلت کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمُعْتَكِفِ ہُوَ یَعْكِفُ الذُّنُوبَ، وَيَجْرِيْ لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ کَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا. (سنن ابن ماجۃ
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اعتکاف کرنے والا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کی تمام نیکیاں اسی طرح لکھی جاتی رہتی ہیں جیسے وہ ان کو خود کرتا رہا ہو۔
فائدہ: اس حدیث میں اعتکاف کے فوائد میں سے دو بیان کیے گئے ہیں
معتکف جتنے دن اعتکاف کرے گا اتنے دن گناہوں سے بچا رہے گا۔
جو نیکیاں وہ باہر کرتا تھا مثلاً مریض کی عیادت، جنازہ میں شرکت، غرباء کی امداد، علماء کی مجالس میں حاضری وغیرہ، اعتکاف کی حالت میں اگرچہ ان کاموں کو نہیں کر سکتا لیکن اس قسم کے اعمال کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔
ایک حدیث میں آتا ہے
مَنِ اعْتَکَفَ اِیْمَانًا وَ احْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ. (کنز العمال 
ترجمہ: جس نے اللہ کی رضا کے لیے ایمان و اخلاص کے ساتھ اعتکاف کیا تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے۔
فائدہ: اس حدیث میں اعتکاف کرنے پر جن گناہوں کی معافی کا وعدہ کیا گیا ہے ان سے مراد گناہ صغیرہ ہیں، کیونکہ گناہ کبیرہ کی معافی کے لئے توبہ شرط ہے۔ اعتکاف کرنے والا جب مبارک ساعات میں خدا تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتا ہے، آہ وبکا کرتا ہے اور اپنے سابقہ گناہوں سے سچی توبہ کرتے ہوئے آئندہ نہ کرنے کا عزم کرتا ہے تو یقینی بات ہے اس کے کبیرہ گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں، اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے ارشاد مبارک میں گناہوں سے مراد کبیرہ بھی ہو سکتے ہیں جن کی معافی اعتکاف میں ہوتی ہے۔ لہٰذا معتکف کو چاہیے کہ توبہ و استغفار کا ضرور اہتمام کیا کرے۔

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ وَيَقُولُ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ. (صحیح البخاری
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے کہ لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری راتوں میں تلاش کیا کرو۔
فائدہ: اعتکاف سے مقصود لیلۃ القدر کو پانا ہے جس کی فضیلت ہزار مہینوں سے زیادہ ہے۔ نیز اس حدیث میں لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کیلیے آخری عشرہ کا اہتمام بتایا گیا ہے جو دیگر احادیث کی رو سے اس عشرہ کی طاق راتیں ہیں۔ لہٰذا بہتر تو یہی ہے کہ اس آخری عشرہ کی ساری راتوں میں بیداری کا اہتمام کرنا چاہیے ورنہ کم از کم طاق راتوں کو تو ضرور عبادت میں گزارنا چاہیے۔

حضرت علی بن حسین ؓ اپنے والد (حضرت امام حسینؓ ) سے روایت کرتے ہیں كه أنهوں نے فرمايا کہ رسول اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا
مَنِ اعْتَکَفَ عَشْرًا فِی رَمَضَانَ کَانَ کَحَجَّتَيْنِ وَ عُمْرَتَيْنِ. (بيهقی، شعب الإيمان
جو کوئی رمضان میں دس دن اعتکاف بیٹھتا ہے تو وہ دو حج اور دو عمروں کی طرح ہے۔
احادیث بالا کی روشنی میں معلوم ہوگیا کہ اعتکاف کی فضیلت اور اس کی اہمیت کا مقام کتنا بلند و بالا ہے۔ اور اللہ رب العزت کس قدر اعتکاف کرنے والوں پر اپنا فضل وكرم فرماتے هيں اس لئے ہم سب مسلمان بھائیوں اور بهنوں کو چاہیے کہ اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو رمضان المبارك کے آخری عشرہ کے اعتکاف کی عظيم سعادت حاصل کرنے كي ضرور كوشش كریں اگر ہر سال نہ ہو سکے تو جب موقع ميسر هو تو إس سے فائده اٹهائيں يا پهر کم از کم زندگی میں ایک بار تو ضرور إس سعادت كو حاصل كريں الله تعالى هم سب كو هر سال إس كي توفيق عنايت فرمائے
 (آمين يا رب العلمين )
-------
Share:

ماہِ رمضان اور قرآن کریم

ماہِ رمضان اور قرآن کریم
ماہِ رمضان کے روزے رکھنا ہر مسلمان، بالغ، عاقل، صحت مند، مقیم، مردوعورت پر فرض ہے، جس کی ادائیگی کے ذریعہ خواہشات کو قابو میں رکھنے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے اور وہی تقویٰ کی بنیاد ہے، جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ (سورۃ البقرۃ )
لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ میں اشارہ ہے کہ زندگی میں تقویٰ پیدا کرنے کے لئے روزہ کا بڑا اثر ہے۔
اسی ماہِ مبارک کی ایک بابرکت رات میں قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم أسمان دنیا پر نازل ہوئی، جس سے استفادہ کی بنیادی شرط بھی تقویٰ ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد قرآن کریم میں ہے
ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ
یہ کتاب ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں، یہ ہدایت ہے متقیوں یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈر نے والوں کے لئے۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق قرآن کریم سے ہر شخص کو ہدایت نہیں ملتی بلکہ قرآن کریم سے استفادہ کی بنیادی شرط تقویٰ ہے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں روزوں کی فرضیت کا مقصد بتاتے ہوئے فرمایا: لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ یعنی تم پر روزے فرض کئے گئے تاکہ تم متقی بن جاؤ، غرض رمضان اور روزہ کے بنیادی مقاصد میں تقویٰ مشترک ہے۔
اس ماہ مبارک میں ایک رات ہے جس میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ افضل ہے۔یہ ماہِ مبارک اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور جہنم سے چھٹکارے کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مبارک میں سرکش شیاطین قید کردئے جاتے ہیں۔ جہنم کے دروازے بند کرکے جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے،ہر نیکی کا اجروثواب بڑھا دیا جاتا ہے۔ غرضیکہ یہ مہینہ اللہ کی عبادت، اطاعت اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی وغمگساری اور قرآن کریم کا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں روزہ رکھنا فرض ہے اور روزہ ایسا عظیم الشان عمل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر عمل کا دنیامیں ہی اجر بتا دیا کہ کس عمل پر کیاملے گا مگر روزہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا یا فرمایا کہ میں خود ہی روزہ کا بدلہ ہوں۔

رمضان المبارک کی فضیلت و اہمیت
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ​
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
(البقرہ، آیت 183)
"اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے ان پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ۔"
عربی زبان میں روزے کے لئے صوم کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی رک جانا کے ہیں یعنی انسانی خواہشات اور کھانے پینے سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک رک جاتا ہے اور اپنے جسم کے تمام اعضاءکو برائیوں سے روکے رکھتا ہے۔
رمضان کا لفظ ”رمضا“ سے نکلا ہے اور رمضا اس بارش کو کہتے ہیں جو کہ موسم خریف سے پہلے برس کر زمین کو گردوغبار سے پاک کر دیتی ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کی بارش کا ہے جس کے برسنے سے مومنوں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔
رمضان المبارک کی فضیلت و عظمت اور فیوض و برکات کے باب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چند احادیث مبارکہ درج ذیل ہیں 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالى عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِيْنُ.(بخاری
’’جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو پابہ زنجیر کر دیا جاتا ہے۔‘‘
رمضان المبارک کے روزوں کو جو امتیازی شرف اور فضیلت حاصل ہے اس کا اندازہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث مبارک سے لگایا جا سکتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَّإِحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّم مِنْ ذَنْبِهِ. (بخاری
’’جو شخص بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘
رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت اس قدر برکتوں اور سعادتوں کی حامل ہے کہ باقی گیارہ ماہ مل کر بھی اس کی برابری و ہم سری نہیں کر سکتے۔
ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا
(الصوم جنۃ یسجن بھا العبد من النار) (صحیح الجامع)
’’روزہ ایک ڈھال ہے جس کے ذریعے سے بندہ جہنم کی آگ سے بچتا ہے۔‘‘
ایک دوسری روایت کے الفاظ اس طرح ہیں
(الصوم جنة من عذاب الله ) (صحیح الجامع)
’’روزہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے (بچاؤ کی ) ڈھال ہے۔‘‘
ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ آله وسلم نے فرمایا
من صام يوما في سبيل الله، بعد الله وجهه عن النار سبعين خريف
(صحیح البخاری وصحیح مسلم)
’’جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا، تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال (کی مسافت کے قریب) دور کر دیتا ہے۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا
إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَقُومُونَ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ فَلَمْ .(صحیح البخاری وصحیح مسلم)
’’جنت (کے آٹھ دروازوں میں سے) ایک دروازے کا نام ’’ رَیّان‘‘ ہے، جس سے قیامت کے دن صرف روزے دار داخل ہوں گے، ان کے علاوہ اس دروازے سے کوئی داخل نہیں ہوگا، کہا جائے گا روزے دار کہاں ہیں؟ تو وہ کھڑے ہو جائیں گے اور (جنت میں داخل ہوں گے) ان کے علاوہ کوئی اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا۔ جب وہ داخل ہو جائیں گے، تو وہ دروازہ بند کر دیا جائے گا اور کوئی اس سے داخل نہیں ہوگا۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا
الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ الصِّيَامُ أَيْ رَبِّ مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ وَيَقُولُ الْقُرْآنُ مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ قَالَ فَيُشَفَّعَانِ هل يصح هذا ... (صحیح الجامع، مسند احمد، طبرانی کبیر، مستدرک حاکم وشعب الایمان)’’روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا : اے میرے رب! میں نے اس بندے کو دن کے وقت کھانے (پینے) سے اور جنسی خواہش پوری کرنے سے روک دیا تھا، پس تو اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما۔ قرآن کہے گا: میں نے اس کو رات کے وقت سونے سے روک دیا تھا، پس تو اس کے بارے میں سفارش قبول فرما۔ چنانچہ ان دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا:
(فتنة الرجل فی اھلہ ومالہ۔۔۔۔۔۔والصدقة) (صحیح البخاری وصحیح مسلم)
’’آدمی کی آزمائش ہوتی ہے اس کے بال بچوں کے بارے میں، اس کے مال میں اور اس کے
پڑوسی کے سلسلے میں۔ ان آزمائشوں کا کفارہ نماز روزہ اور صدقہ ہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ ﴾ (ھود:۱۱۴)’’نیکیاں برائيوں کو دور کر دیتی ہیں۔‘‘ اس حدیث و آیت سے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان کو نماز، روزہ اور صدقہ و خیرات اور دیگر نیکیوں کا اہتمام کرتے رہنا چاہیے، تاکہ یہ نیکیاں اس کی کوتاہیوں اور گناہوں کا کفارہ بنتی رہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا
لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا؛ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ, وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ
(صحیح البخاری وصحیح مسلم)
’’روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے۔ ایک جب وہ روزہ کھولتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور (دوسری خوشی) جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے سے خوش ہوگا۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا
(لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا؛ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ, وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ
(صحیح البخاری وصحیح مسلم)
’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، روزے دار کے منہ کی بدلی ہوئی بو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ (صحیح البخاری وصحیح مسلم
’’روزہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا۔‘‘
یعنی دیگر نیکیوں کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے یہ ضابطہ بیان فرمایا ہے کہ ﴿الحسنة بعشر امثالھا﴾(حوالہ ہائے مذکورہ) نیکی کم از کم دس گنا اور زیادہ سے زیادہ سات سو گناہ تک ملے گا۔ لیکن روزے کو اللہ تعالیٰ نے اس عام ضابطے اور کلیے سے مستثنیٰ فرما دیا اور یہ فرمایا کہ قیامت والے دن اس کی وہ ایسی خصوصی جزاء عطا فرمائے گا، جس کا علم صرف اسی کو ہے اور وہ عام ضابطوں سے ہٹ کر خصوصی نوعیت کی ہوگی۔
خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جن کی زندگی میں یہ مہینہ آئے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں حاصل کرنے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر ديں۔

ماہِ رمضان کا قرآن کریم سے خاص تعلق
قرآن کریم کو رمضان المبارک سے خاص تعلق اور گہری خصوصیت حاصل ہے۔ چنانچہ رمضان المبارک میں اس کا نازل ہونا، حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم کا رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن زیادہ كرنا، حضرت جبرئیل علیہ السلام کا رمضان المبارک میں نبی اکرم صلى الله عليه وآله وسلم کو قرآن کریم کا دور کرانا، تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کرنا، صحابۂ کرام اور بزرگان دین کا رمضان میں تلاوت کا خاص اہتمام کرنا، یہ سب اُمور اس خصوصیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ لہذا اس ماہ میں کثرت سے تلاوتِ قرآن میں مشغول رہنا چاہئے۔
ماہِ رمضان کا قرآن کریم سے خاص تعلق ہونے کی سب سے بڑی دلیل قرآن کریم کا ماہ ِرمضان میں نازل ہونا ہے۔ اس مبارک ماہ کی ایک بابرکت رات میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اس کے بعد حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا تقریباً ۲۳ سال کے عرصہ میں قرآن مکمل نازل ہوا۔ قرآن کریم کے علاوہ تمام صحیفے بھی رمضان میں نازل ہوئے جیساکہ مسند احمد میں ہے کہ حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مصحف ابراہیمی اور تورات وانجیل سب کا نزول رمضان میں ہی ہوا ہے۔ نزول قرآن اور دیگر مقدس کتب وصحائف کے نزول میں فرق یہ ہے کہ دیگر کتابیں جس رسول ونبی پر نازل ہوئیں ایک ساتھ ایک ہی مرتبہ میں، جبکہ قرآن کریم لوح محفوظ سے پہلے آسمان پر رمضان کی مبارک رات یعنی لیلۃ القدر میں ایک بار نازل ہوا اور پھر تھوڑا تھوڑا حسب ضرورت نازل ہوتا رہا۔ جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:
اِنَّآاَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْر ۔
بے شک ہم نے قرآن کریم کو شب قدر میں اتارا ہے۔
سورۂ العلق کی ابتدائی چند آیات (اِقْرَاْ بِسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق....) سے قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد آنے والی سورۂ القدر میں بیان کیا کہ قرآن کریم رمضان کی بابرکت رات میں اترا ہے، جیساکہ سورۂ الدخان کی آیت ۳ اِنَّا اَنْزَلْنَاہٗ فِیْ ليْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ ہم نے اس کتاب کو ایک مبارک رات میں اتارا ہے) اور سورۂ البقرہ کی آیت ۱۸۵ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فیہ القرآن يعني رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا) میں یہ مضمون صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ غرض قرآن وحدیث میں واضح دلائل ہونے کی وجہ سے امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قرآن کریم لوح محفوظ سے سماء دنیا پر رمضان کی مبارک رات میں ہی نازل ہوا، اس طرح رمضان اور قرآن کریم کا خاص تعلق روز روشن کی طرح واضح ہوجاتا ہے۔
رمضان المبارک کا قرآن کریم کے ساتھ خاص تعلق کا مظہر نماز تراویح بھی ہے۔ احادیث میں وارد ہے کہ ہر سال ماہ رمضان میں آپ صلى الله عليه وآله وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصوں کا دور کرتے تھے۔ جس سال آپ صلى الله عليه وآله وسلم کا انتقال ہوا اس سال آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے دوبار قرآن کریم کا دور فرمایا۔ (بخاری ومسلم)

قرآن كريم اور رمضان المبارك کے درمیان 
چند مشترک خصوصیات
قرآن اور رمضان کی پہلی اہم مشترک خصوصیت تقویٰ ہے، جیساکہ قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں ذکر کیا گیا۔
دوسری مشترک خصوصیت شفاعت ہے۔حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ روزہ اور قرآن کریم دونوں بندہ کے لئے شفاعت کرتے ہیں۔ روزہ عرض کرتا ہے کہ یا اللہ میں نے اس کو دن میں کھانے پینے سے روکے رکھا ، میری شفاعت قبول کرلیجئے، اور قرآن کہتا ہے کہ یا اللہ میں نے رات کو اس کو سونے سے روکا ، میری شفاعت قبول کرلیجئے، پس دونوں کی شفاعت قبول کرلی جائے گی۔ ( احمد والطبرانی والحاکم)
تیسری خصوصیت جو رمضان اور قرآن دونوں میں مشترک طور پر پائی جاتی ہے وہ قرب الہی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کے وقت اللہ تعالیٰ سے خاص قرب حاصل ہوتا ہے، ایسے ہی روزہ دار کو بھی اللہ تعالیٰ کا خاص قرب حاصل ہوتا ہے کہ روزہ کے متعلق حدیث قدسی میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں خود ہی روزہ کا بدلہ ہوں۔

اسلاف کا ماہِ رمضان میں تلاوتِ قرآن کا خاص اہتمام
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ وتابعین وتبع تابعین رمضان المبارک میں قرآن کریم کے ساتھ خصوصی شغف رکھتے تھے۔ بعض اسلاف واکابرین کے متعلق کتابوں میں تحریر ہے کہ وہ رمضان المبارک میں دیگر مصروفیات چھوڑ کر صرف اور صرف تلاوت قرآن میں دن ورات کا وافر حصہ صرف کرتے تھے۔ امام مالکؒ رمضان شروع ہونے پر حدیث پڑھنے پڑھانے کے سلسلہ کو بند کرکے دن ورات کا اکثر حصہ تلاوتِ قرآن میں لگاتے تھے۔ اسلاف سے منقول ہے کہ وہ ماہ رمضان اور خاص کر آخری عشرہ میں تین دن یا ایک دن میں قرآن کریم مکمل فرماتے تھے۔ ریاض الصالحین کے مؤلف نے اپنی کتاب "الاذکار" ص ۱۰۲ میں ایسے شیوخ کا ذکر فرمایا ہے جو ایک رکعت میں قرآن کریم ختم فرماتے تھے۔ رمضان کے مبارک مہینہ میں ختم قرآن کریم کے اتنے واقعات کتابوں میں مذکور ہیں کہ ان کااحاطہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لہذا اس مبارک مہینہ میں زیادہ سے زیادہ اپنا وقت قرآن کریم کی تلاوت میں لگائیں۔ نماز تراویح کے پڑھنے کا اہتمام کریں اور تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کیا جائے
ماہِ رمضان کے بعد بھی تلاوتِ قرآن کا روزانہ اہتمام کریں خواہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو، نیز علماءِ کرام کی سرپرستی میں قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں۔ قرآن کریم میں وارد احکام ومسائل کو سمجھ کر اُن پر عمل کریں اور دوسروں تک پہونچائیں۔ اگر ہم قرآن کریم کے معنی ومفہوم نہیں سمجھ پا رہے ہیں تب بھی ہمیں تلاوت کرنا چاہئے کیونکہ قرآن کی تلاوت بھی مطلوب ہے۔ حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایک حرف قرآن کریم کا پڑھے اس کے لئے اس حرف کے عوض ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجردس نیکی کے برابر ملتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ آلم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف،لام ایک حرف اور میم ایک حرف۔ (ترمذی)
تلاوت قرآن کے کچھ آداب ہیں جن کا تلاوت کے وقت خاص خیال رکھا جائے تاکہ ہم عند اللہ اجر عظیم کے مستحق بنیں۔ تلاوت چونکہ ایک عبادت ہے لہذا ریا وشہرت کے بجائے اس سے صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ومقصود ہو، نیز وضو وطہارت کی حالت میں ادب واحترام کے ساتھ اللہ کے کلام کی تلاوت کریں۔ تیسرا اہم ادب یہ ہے کہ اطمینان کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر اور اچھی آواز میں تجوید کے قواعد کے مطابق تلاوت کریں۔ تلاوت قرآن کے وقت اگر آیتوں کے معانی پر غور وفکر کرکے پڑھیں تو بہت ہی بہتر ہے۔ قرآن کریم کے احکام ومسائل پر خود بھی عمل کریں اور اس کے پیغام کو دوسروں تک پہونچانے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو روزہ اور تلاوت قرآن کی برکت سے تقویٰ والی زندگی گزارنے والا بنائے اور ہمیں دونوں جہاں میں کامیابی وکامرانی عطا فرمائے۔
آمین يا رب العلمين

روزے میں کوتاہیاں
حضرت حکیم الاُمت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه نے اپني كتاب “اصلاح انقلاب” میں تفصیل سے ان کوتاہیوں کا بھی ذکر فرمایا ہے جو روزے کے بارے میں کی جاتی ہیں، اس کتاب کا مطالعہ کرکے ان تمام کوتاہیوں کی اصلاح کرنی چاہئے، یہاں اس کے چند اقتباس نقل کئے جاتے ہیں
“بہت سے لوگ بلا کسی قوی عذر کے روزہ نہیں رکھتے، ان میں سے بعض تو محض کم ہمتی کی وجہ سے نہیں رکھتے، ایسے ہی ایک شخص کو، جس نے عمر بھر روزہ نہ رکھا تھا اور سمجھتا تھا کہ پورا نہ کرسکے گا، کہا گیا کہ تم بطور امتحان ہی رکھ کر دیکھ لو، چنانچہ رکھا اور پورا ہوگیا، پھر اس کی ہمت بندھ گئی اور رکھنے لگا۔ کیسے افسوس کی بات ہے کہ رکھ کر بھی نہ دیکھا تھا اور پختہ یقین کر بیٹھا تھا کہ کبھی رکھا ہی نہ جاوے گا۔ یہ لوگ سوچ کر دیکھیں کہ اگر طبیب کہہ دے کہ آج دن بھر نہ کچھ کھاوٴ نہ پیئو، ورنہ فلاں مہلک مرض ہوجائے گا، تو اس نے ایک ہی دن کے لئے کہا، یہ دو دن نہ کھاوے گا، کہ احتیاط اسی میں ہے۔ افسوس! خدا تعالیٰ صرف دن دن کا کھانا چھڑاویں اور کھانے پینے سے عذابِ مہلک کی وعید فرمائیں اور ان کے قول کی طبیب کے برابر بھی وقعت نہ ہو؟
انا لله وإنا إليه راجعون
“بعضوں کی یہ بے وقعتی اس بدعقیدگی تک پہنچ جاتی ہے کہ روزہ کی ضرورت ہی کا طرح طرح سے انکار کرنے لگتے ہیں، مثلاً: روزہ قوّتِ بہیمیہ کے توڑنے یا تہذیبِ نفس کے لئے ہے، اور ہم علم کی بدولت یہ تہذیب حاصل کرچکے ہیں 
“اور بعض تہذیب سے بھی گزر کر گستاخی اور تمسخر کے کلمات کہتے ہیں، مثلاً: “روزہ وہ شخص رکھے جس کے گھر کھانے کو نہ ہو” یا “بھائی ہم سے بھوکا نہیں مرا جاتا” سو یہ دونوں فریق بوجہ انکارِ فرضیتِ صوم، زُمرہٴ کفار میں داخل ہیں، اور پہلے فریق کا قول محض “ایمان شکن” ہے، اور دُوسرے کا “ایمان شکن” بھی اور “دِل شکن” بھی 
“اور بعض بلا عذر تو روزہ ترک نہیں کرتے، مگر اس کی تمیز نہیں کرتے کہ یہ عذر شرعاً معتبر ہے یا نہیں؟ ادنیٰ بہانے سے اِفطار کردیتے ہیں، مثلاً: خواہ ایک ہی منزل کا سفر ہو، روزہ اِفطار کردیا، کچھ محنت مزدوری کا کام ہوا، روزہ چھوڑ دیا۔ ایک طرح سے یہ بلا عذر روزہ توڑنے والوں سے بھی زیادہ قابلِ مذمت ہیں، کیونکہ یہ لوگ اپنے کو معذور جان کر بے گناہ سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ شرعاً معذور نہیں اس لئے گناہگار ہوں گے۔”
“بعض لوگوں کا اِفطار تو عذرِ شرعی سے ہوتا ہے، مگر ان سے یہ کوتاہی ہوتی ہے کہ بعض اوقات اس عذر کے رفع ہونے کے وقت کسی قدر دن باقی ہوتا ہے، اور شرعاً بقیہ دن میں اِمساک، یعنی کھانے پینے سے بند رہنا واجب ہوتا ہے، مگر وہ اس کی پرواه نہیں کرتے، مثلاً: سفرِ شرعی سے ظہر کے وقت واپس آگیا، یا عورت حیض سے ظہر کے وقت پاک ہوگئی، تو ان کو شام تک کھانا پینا نہ چاہئے۔ علاج اس کا مسائل و اَحکام کی تعلیم و تعلّم ہے۔”
“بعض لوگ خود تو روزہ رکھتے ہیں، لیکن بچوں سے (باوجود ان کے روزہ رکھنے کے قابل ہونے کے) نہیں رکھواتے۔ خوب سمجھ لینا چاہئے کہ عدمِ بلوغ میں بچوں پر روزہ رکھنا تو واجب نہیں، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کے اولیاء پر بھی رکھوانا واجب نہ ہو، جس طرح نماز کے لئے باوجود عدمِ بلوغ کے ان کو تاکید کرنا بلکہ مارنا ضروری ہے، اسی طرح روزے کے لئے بھی يه إهتمام ضروري هے اتنا فرق ہے کہ نماز میں عمر کی قید ہے اور روزہ میں تحمل پر مدار ہے (کہ بچہ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو)، اور راز اس میں یہ ہے کہ کسی کام کا دفعةً پابند ہونا دُشوار ہوتا ہے، تو اگر بالغ ہونے کے بعد ہی تمام اَحکام شروع ہوں تو ایک بارگی زیادہ بوجھ پڑ جائے گا، اس لئے شریعت کی رحمت ہے کہ پہلے ہی سے آہستہ آہستہ سب اَحکام کا خوگر بنانے کا قانون مقرّر کیا۔”
“بعض لوگ نفسِ روزہ میں تو اِفراط و تفریط نہیں کرتے، لیکن روزہ محض صورت کا نام سمجھ کر صبح سے شام تک صرف جوفین (پیٹ اور شرم گاہ) کو بند رکھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ حالانکہ روزے کی نفسِ صورت کے مقصود ہونے کے ساتھ اور بھی حکمتیں ہیں، جن کی طرف قرآن مجید میں اشارہ بلکہ صراحت ہے کہ: “لعلکم تتقون” ان سب کو نظرانداز کرکے اپنے صوم کو “جسدِ بے رُوح” بنالیتے ہیں۔ خلاصہ ان حکمتوں کا معاصی و منہیات سے بچنا ہے، سو ظاہر ہے کہ اکثر لوگ روزہ میں بھی معاصی سے نہیں بچتے، اگر غیبت کی عادت تھی، تو وہ بدستور رہتی ہے، اگر بدنگاہی کے خوگر تھے، وہ نہیں چھوڑتے، اگر حقوق العباد کی کوتاہیوں میں مبتلا تھے، ان کی صفائی نہیں کرتے، بلکہ بعض کے معاصی تو غالباً بڑھ جاتے ہیں، کہیں دوستوں میں جا بیٹھے کہ روزہ بہلے گا، اور باتیں شروع کیں، جن میں زیادہ حصہ غیبت کا ہوگا، یا چوسر، گنجفہ، تاش، ہارمونیم، گراموفون لے بیٹھے اور دن پورا کردیا۔ بھلا اس روزے کا کوئی معتد بہ حاصل کیا؟ اتنی بات عقل سے سمجھ میں نہیں آتی کہ کھانا پینا، جو فی نفسہ مباح ہے، جب روزے میں وہ حرام ہوگیا، تو غیبت وغیرہ دُوسرے معاصی، جو فی نفسہ بھی حرام ہیں، وہ روزے میں کس قدر سخت حرام ہوں گے! حدیث میں ہے کہ: “جو شخص بدگفتاری و بدکرداری نہ چھوڑے، خدا تعالیٰ کو اس کی کچھ پرواه نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔” اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ بالکل روزہ ہی نہ ہوگا، لہٰذا رکھنے ہی سے کیا فائدہ؟ روزہ تو ہوجائے گا، لیکن ادنیٰ درجے کا۔ جیسے اندھا، لنگڑا، کانا، گنجا، اپاہج آدمی، آدمی تو ہوتا ہے، مگر ناقص۔ لہٰذا روزہ نہ رکھنا اس سے بھی اشد ہے، کیونکہ ذات کا سلب، صفات کے سلب سے سخت تر ہے۔”
پھر حضرت مولانا أشرف علي تهانوي رحمة الله عليه نے روزے کو خراب کرنے والے گناہوں (غیبت وغیرہ) سے بچنے کی تدبیر بھی بتلائی جو صرف تین باتوں پر مشتمل ہے، اور ان پر عمل کرنا بہت ہی آسان ہے:
“خلق سے بلاضرورت تنہا اور یکسو رہنا، کسی اچھے شغل مثلاً: تلاوت وغیرہ میں لگے رہنا اور نفس کو سمجھانا، یعنی وقتاً فوقتاً یہ دھیان کرتے رہنا کہ ذرا سی لذّت کے لئے صبح سے شام تک کی مشقت کو کیوں ضائع کیا جائے؟ اور تجربہ ہے کہ نفس پھسلانے سے بہت کام کرتا ہے، سو نفس کو یوں پھسلاوے کہ ایک مہینے کے لئے تو ان باتوں کی پابندی کرلے، پھر دیکھا جائے گا۔ پھر یہ بھی تجربہ ہے کہ جس طرز پر آدمی ایک مدّت رہ چکا ہو، وہ آسان ہوجاتا ہے، بالخصوص اہلِ باطن کو رمضان میں یہ حالت زیادہ مدرک ہوتی ہے کہ اس مہینے میں جو اعمالِ صالحہ کئے ہوتے ہیں سال بھر ان کی توفیق رہتی ہے۔

روزہ دار کے لئے ضروري إحتياطيں اور پرہيز
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ: “جس شخص نے (روزے کی حالت میں) بیہودہ باتیں (مثلاً: غیبت، بہتان، تہمت، گالی گلوچ، لعن طعن، غلط بیانی وغیرہ) اور گناہ کا کام نہیں چھوڑا، تو اللہ تعالیٰ کو کچھ حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔”
(بخاری، مشکوٰة)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ: “کتنے ہی روزہ دار ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے سوائے (بھوک) پیاس کے کچھ حاصل نہیں (کیونکہ وہ روزے میں بھی بدگوئی، بدنظری اور بدعملی نہیں چھوڑتے)، اور کتنے ہی (رات کے تہجد میں) قیام کرنے والے ہیں، جن کو اپنے قیام سے ماسوا جاگنے کے کچھ حاصل نہیں۔” (دارمی، مشکوٰة)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ: “روزہ ڈھال ہے (کہ نفس و شیطان کے حملے سے بھی بچاتا ہے، اور گناہوں سے بھی باز رکھتا ہے، اور قیامت میں دوزخ کی آگ سے بھی بچائے گا)، پس جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو نہ تو ناشائستہ بات کرے، نہ شور مچائے، پس اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے یا لڑائی جھگڑا کرے تو (دِل میں کہے یا زبان سے اس کو) کہہ دے کہ: میں روزے سے ہوں! (اس لئے تجھ کو جواب نہیں دے سکتا کہ روزہ اس سے مانع ہے)۔”
(بخاری و مسلم، مشکوٰة)
حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ: “روزہ ڈھال ہے، جب تک کہ اس کو پھاڑے نہیں۔”
(نسائی، ابنِ خزیمہ، بیہقی، ترغیب)
اور ایک روایت میں ہے کہ: عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم ! یہ ڈھال کس چیز سے پھٹ جاتی ہے؟ فرمایا: “جھوٹ اور غیبت سے!(طبرانی الاوسط )
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا: “جس نے رمضان کا روزہ رکھا، اور اس کی حدود کو پہچانا، اور جن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہئے ان سے پرہیز کیا، تو یہ روزہ اس کے گزشتہ گناہوں کا کفاره ہوگا۔”
(صحیح ابنِ حبان، بیہقی، ترغیب)

دو عورتوں کا قصہ
حضرت عبید رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے آزاد شدہ غلام، کہتے ہیں کہ: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم سے عرض کیا کہ: یہاں دو عورتوں نے روزہ رکھا ہوا ہے، اور وہ پیاس کی شدّت سے مرنے کے قریب پہنچ گئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے سکوت اور اِعراض فرمایا، اس نے دوبارہ عرض کیا (غالباً دوپہر کا وقت تھا) کہ: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم ! بخدا! وہ تو مرچکی ہوں گی یا مرنے کے قریب ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے ایک بڑا پیالہ منگوایا، اور ایک سے فرمایا کہ اس میں قے کرے، اس نے خون، پیپ اور تازہ گوشت وغیرہ کی قے کی، جس سے آدھا پیالہ بھر گیا، پھر دُوسری کو قے کرنے کا حکم فرمایا، اس کی قے میں بھی خون، پیپ اور گوشت نکلا، جس سے پیالہ بھر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ: “انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیزوں سے تو روزہ رکھا، اور حرام کی ہوئی چیز سے روزہ خراب کرلیا کہ ایک دُوسری کے پاس بیٹھ کر لوگوں کا گوشت کھانے لگیں (یعنی غیبت کرنے لگیں)۔” (مسندِ احمد - مجمع الزوائد)

روزے کے درجات
حجة الاسلام امام غزالی رحمة الله عليه فرماتے ہیں کہ: روزے کے تین درجے ہیں۔
   أول : عام   
دوئم : خاص
سوئم : اص الخاص
عام روزہ تو یہی ہے کہ شکم اور شرم گاہ کے تقاضوں سے پرہیز کرے، جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے۔
خاص روزہ یہ ہے کہ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ، پاوٴں اور دیگر اعضاء کو گناہوں سے بچائے، یہ صالحین کا روزہ ہے، اور اس میں چھ باتوں کا اہتمام لازم ہے:
اوّل:… آنکھ کی حفاظت، کہ آنکھ کو ہر مذموم و مکروہ اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کرنے والی چیز سے بچائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآله وسلم کا ارشاد ہے کہ: “نظر، شیطان کے تیروں میں سے ایک زہر میں بجھا ہوا تیر ہے، پس جس نے اللہ تعالیٰ کے خوف سے نظرِبد کو ترک کردیا، اللہ تعالیٰ اس کو ایسا ایمان نصیب فرمائیں گے کہ اس کی حلاوت (شیرینی) اپنے دِل میں محسوس کرے گا۔”
(الحاکم ، مجمع الزوائد )
دوم:  زبان کی حفاظت، کہ بیہودہ گوئی، جھوٹ، غیبت، چغلی، جھوٹی قسم اور لڑائی جھگڑے سے اسے محفوظ رکھے، اسے خاموشی کا پابند بنائے اور ذکر و تلاوت میں مشغول رکھے، یہ زبان کا روزہ ہے۔ حضرت سفیان ثوریرحمة الله عليه کا قول ہے کہ: غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، مجاہد کہتے ہیں کہ: غیبت اور جھوٹ سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآله وسلم کا ارشاد ہے کہ: “روزہ ڈھال ہے، پس جب تم میں کسی کا روزہ ہو تو نہ کوئی بیہودہ بات کرے، نہ جہالت کا کوئی کام کرے، اور اگر اس سے کوئی شخص لڑے جھگڑے یا اسے گالی دے تو کہہ دے کہ میرا روزہ ہے۔” (صحاح)
سوم: کان کی حفاظت، کہ حرام اور مکروہ چیزوں کے سننے سے پرہیز رکھے، کیونکہ جو بات زبان سے کہنا حرام ہے، اس کا سننا بھی حرام ہے۔
چہارم: بقیہ اعضاء کی حفاظت، کہ ہاتھ پاوٴں اور دیگر اعضاء کو حرام اور مکروہ کاموں سے محفوظ رکھے، اور اِفطار کے وقت پیٹ میں کوئی مشتبہ چیز نہ ڈالے، کیونکہ اس کے کوئی معنی نہیں کہ دن بھر تو حلال سے روزہ رکھا اور شام کو حرام چیز سے روزہ کھولا۔
پنجم: اِفطار کے وقت حلال کھانا بھی اس قدر نہ کھائے کہ ناک تک آجائے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآله وسلم کا ارشاد ہے کہ: “پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں، جس کو آدمی بھرے۔” ( احمد والترمذی وابن ماجہ والحاکم )
يعني جب شام کو دن بھر کی ساری کسر پوری کرلی تو روزہ سے شیطان کو مغلوب کرنے اور نفس کی شہوانی قوّت توڑنے کا مقصد کیونکر حاصل ہوگا؟
ششم: اِفطار کے وقت اس کی حالت خوف و رجا کے درمیان مضطرب رہے کہ نہ معلوم اس کا روزہ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہوا یا مردُود؟ پہلی صورت میں یہ شخص مقرّبِ بارگاہ بن گیا، اور دُوسری صورت میں مطرود و مردُود ہوا، یہی کیفیت ہر عبادت کے بعد ہونی چاہئے۔
اور خاص الخاص روزہ یہ ہے کہ دُنیوی افکار سے قلب کا روزہ ہو، اور ماسوا اللہ سے اس کو بالکل ہی روک دیا جائے، البتہ جو دُنیا کہ دین کے لئے مقصود ہو وہ تو دُنیا ہی نہیں، بلکہ توشہٴ آخرت ہے۔ بہرحال ذکرِ الٰہی اور فکرِ آخرت کو چھوڑ کر دیگر اُمور میں قلب کے مشغول ہونے سے یہ روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اربابِ قلوب کا قول ہے کہ دن کے وقت کاروبار کی اس واسطے فکر کرنا کہ شام کو اِفطاری مہیا ہوجائے، یہ بھی ایک درجے کی خطا ہے، گویا اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رزقِ موعود پر اس شخص کو وثوق اور اعتماد نہیں، یہ انبیاء، صدیقین اور مقربین کا روزہ ہے۔ (احیاء العلوم ً

روزه آفطار كروانے كي فضيلت
رمضان المبارک عبادت و ریاضت، ایثار و ہمدردی، رب کی رضا کی تلاش اور اس کے قرب کا مہینہ ہے،اس میں بندۂ مومن کے ہر نیک عمل اور ہر نیکی کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے
رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم نے رمضان المبارک کی عظمت و اہمیت کو اجاگر فرمايا اور اس میں نیکیوں پر بے شمار اجر و ثواب کی نوید سنائي اور روزے داروں کو روزہ افطار کرانے کی فضیلت اور اس پر ملنے والے اجر و ثواب سے آگاہ فرمایا ہے۔ روزہ افطار کرانے میں ہر فرد کی حیثیت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ صحابہ کرام رضوان الله عليهم کے عرض کرنے پر کہ یا رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم! ہم میں سے ہر ایک تو اس کی استطاعت اور قدرت نہیں رکھتا کہ وہ روزے دار کو روزہ افطار کرا سکے؟ اس پر آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا؟ اللہ تعالیٰ یہ اجر و ثواب اسے بھی عطا فرمائے گا،جو روزے دار تھوڑی لسی (شربت وغیرہ) یا پانی پلا دے (کیوں کہ اللہ کے یہاں نیت کا اجر ہے) رمضان المبارک میں روزہ افطار کرانے کا یہ عمل اور یہ روایت مسلم دنیا کے بیش تر علاقوں میں پوری شان و شوکت سے نظر آتی ہے، بالخصوص عرب دنیا اور خاص طور پر حرمین شریفین کے مقدس مقامات پر سحر و افطار کے بابرکت لمحات اور پرنور ساعتوں میں یہ مناظر عام دیکھنے میں آتے ہیں۔وہاں اس کارخیر اور باعثِ اجر و ثواب عمل میں مسابقت کے مناظر عام نظر آتے ہیں۔ خوش قسمتی سے روزہ افطار کرانے کی یہ اسلامی روایت اب وطن عزيز ميں بھی عام ہوتی جارہی ہے۔ صاحب خیر اور اہل ثروت حضرات اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں
روزہ افطار کرانا انفاق فی سیبل اللہ کا ایک اہم شعبہ ہے،اس میں لوگوں کو کھانا کھلانے اور پیاسوں کو سیراب کرنے کا عمل اور اس کا اجر و ثواب بھی شامل ہوجاتا ہے۔ غربت و افلاس،مہنگائی، بے روزگاری، معاشی بدحالی اور کئی دیگر عوامل کے باعث ہمارے معاشرے میں خود داری،عزت نفس، سفید پوشی اور اپنا بھرم قائم رکھنے کے اعلیٰ اخلاقی وصف کے حامل یہ افراد نہ دست سوال دراز کرتے ہیں اور نہ کسی سے امید لگاتے ہیں۔ انہیں اپنا مہمان بنانا اور انہیں افطار میں شریک کرنا باعثِ اجر و ثواب عمل اور ایک عظیم نیکی ہے۔ تاہم ایسے میں بندگان خدا کی عزت نفس اور خودداری کا پورا لحاظ رکھنا چاہیے، نیک کام اور نیکی تب ہی بارگاہ الہٰی میں مقبول ہے، جب وہ نام نمود، شہرت و ناموری اور ریاکاری جیسی بری صفات سے پاک ہو۔اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور نیت کا اخلاص اور ارادے کا پرخلوص ہونا نیک اعمال اور نیکیوں کی قبولیت کی بنیادی شرط ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے كه جو لوگ اپنا مال راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اور جو کچھ انہوں نے خرچ کیا ہو،اس پر کوئی احسان نہیں جتاتے اور اذیت نہیں پہنچاتے،ان کی جزا ان کے پروردگار کے پاس محفوظ ہے، اور انہیں نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم نے ’’انفاق فی سبیل اللہ‘‘ کے اہم شعبے ’’بھوکوں کو کھانا کھلانا اور پیاسوں کو سیراب کرنے کے بے شمار فضائل بیان فرمائے ہیں۔محسن انسانیت صلى الله عليه وآله وسلم کا ارشاد ہے: ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے فرمائے گا، اے ابن آدم! میں بیمار ہوا، تو نے میری عیادت نہیں کی، وہ گھبرا کر عرض کرے گا، اے میرے رب! تو تو سارے جہاں کا پروردگار ہے،تو کب بیمار تھا! اور میں تیری عیادت کیسے کرتا! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہے، اس کے باوجود تو نے اس کی مزاج پُرسی نہیں کی، اگر تو عیادت کے لیے اس کے پاس جاتا تو مجھے وہاں پاتا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا! ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا، لیکن تو نے مجھے کھانا نہیں دیا۔‘‘ بندہ عرض کرے گا، اے رب العالمین! تو کب بھوکا تھا اور میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا! اللہ تعالیٰ فرمائے گا! کیا تجھے یاد نہیں، میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا،لیکن تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا،اگر تو نے اس کا سوال پورا کیا ہوتا تو آج اس کا ثواب یہاں پاتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا، لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا، بندہ عرض کرے گا، اے دونوں جہانوں کے پروردگار! تو کب پیاسا تھا، اور میں کیسے تجھے پانی پلاتا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی طلب کیا تھا،تو نے اس کی پیاس بجھانے سے انکار کردیا تھا۔ اگر تو نے اس کی پیاس بجھائی ہوتی تو آج اس کا اجر و ثواب یہاں پاتا۔‘‘(صحیح مسلم)
حضرت ابو سعید خدری رضي الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس جس مسلمان نے (اپنے) مسلمان بھائی کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلایا تو قیامت کے دن اللہ عزوجل اسے جنت کے پھل کھلائے گا، جس مسلمان نے کسی مسلمان کو پیاس کی حالت میں پانی پلایا تو اللہ اسے روز قیامت مہر بند شراب (یعنی نشے سے پاک جنت کا مشروب) پلائے گا، جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کپڑا پہنایا برہنہ جسم ہونے کی حالت میں تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن جنتی پوشاک پہنائے گا۔ (ترمذی)
حضرت عبداللہ بن عمر رضي الله تعالى عنه کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنے مسلمان بھائی کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا اور پانی سے اس کی پیاس بجھائی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے جہنم سے سات خندقوں کے فاصلے پر رکھے گا،اور ہر دو خندقوں کے درمیان پانچ سو سال کے سفر کا فاصلہ ہے۔ (الترغیب و الترہیب)
رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم کے ان ارشادات سے بھوکوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب،اس کی عظمت و اہمیت اور اس عمل خیر پر اجر و ثواب کا پتا چلتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضي الله تعالى عنه کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلى الله عليه وآله وسلم سے عرض کیا کونسا اسلام افضل ہے؟ آپ صلى الله عليه وآله وسلمنے فرمایا! تم (بھوکوں کو) کھانا کھلائو اور سلام کرو ہر اس شخص کو جسے تم پہچانتے ہو یا نہیں پہچانتے۔ (بخاری)
حضرت عبداللہ بن سلام رضي الله تعالى عنه کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلى الله عليه وآله وسلم جب مدینۂ منورہ تشریف لائے تو میں آپ صلى الله عليه وآله وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جوں ہی میری نگاہ آپ صلى الله عليه وآله وسلم کے چہرۂ انور پر پڑی، میں سمجھ گیا کہ یہ کسی راست گو اور سچے انسان کا چہرہ ہے، پہلی بات جو اس وقت آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمائی وہ یہ تھی!
’’لوگو! سلام کو رواج دے کر اسے پھیلاؤ (بھوکوں کو) کھانا کھلاؤ،رشتے داروں سے جُڑو،رات میں جب لوگ سو رہے ہوں، تو تم نماز پڑھو، اور سلامتی کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاؤ۔‘‘ (جامع ترمذی)
اسلام دین رحمت،نظام فطرت اور مذہب انسانیت ہے،اس کی تعلیمات بنی نوع آدم کی فلاح اور نجات کی حقیقی ضامن ہیں۔ قرآن کریم اور تعلیماتِ نبوی صلى الله عليه وآله وسلم میں ایثار و سخاوت، انفاق فی سبیل اللہ، خدمتِ خلق، سماجی بہبود اور رفاہ عامہ کو اعلیٰ درجے کی نیکی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسلام میں ضرورت مندوں کی حاجت روائی کو دین کا ایک اہم شعبہ قرار دیا گیا ہے۔انفاق فی سبیل اللہ میں ’’بھوکوں کو کھانا کھلانا اور پیاسوں کو پانی پلانا‘‘۔ ایک عظیم کارخیر اور باعثِ اجر و ثواب عمل ہے۔ پیغمبر رحمت، محسن انسانیت حضرت محمد صلى الله عليه وآله وسلم کے اسوۂ حسنہ اور آپ صلى الله عليه وآله وسلم کی سیرتِ طیبہ کا امتیازی اور روشن پہلو مظلوموں کی داد رسی،حاجت مندوں کی حاجت روائی، خدمتِ خلق اور معاشرے کے مفلوک الحال طبقے کی مدد و اعانت ہے۔
رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم پر نازل ہونے والی آخری الہامی کتاب،صحیفۂ ہدایت، نسخۂ کیمیاء قرآن کریم فرقان حمید جو اسلامی تعلیمات کا دستور اور مثالی منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔اس کتاب مبین میں اللہ عزوجل نے اپنے مقرب اور نیک بندوں کی صفات و علامات بیان کرتے ہوئے ایک مقام پر ارشاد فرمایا:’’وہ کھانے کی خواہش اور ضرورت کے باوجود اسے مسکین، یتیم اور قیدی کو کھلا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اللہ کی (رضا اور) خوشنودی کے لیے تمہیں کھلا رہے ہیں۔ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ، ہمیں تو اپنے رب سے اس دن کا ڈر ہے جو بہت سخت اور غصے سے بھرا ہوا ہوگا۔(سورۃ الدھر)
انفاق فی سبیل اللہ کے قرآن کریم اور احادیث نبوی صلى الله عليه وآله وسلم میں بے شمار فضائل بیان کیے گئے ہیں،راہِ خدا میں مال خرچ کرنا ایک ایسا عمل ہے جس کی فضیلت میں قرآن مبارك ميں فرمایا گیا:
’’مثال ان لوگوں کی جو اپنا مال راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں، جیسے ایک دانہ، جس سے سات بالیاں اگیں، ہر بالی میں سو دانے ہیں اور اللہ جس کا چاہتا ہے،اجر دوگنا کردیتا ہے،اللہ وسعت والا اور باخبر ہے۔‘‘
رمضان المبارک‘‘ عبادت و ریاضت، ایثار و ہمدردی، غمگساری، رب کی رضا کی تلاش اور اس کے قرب کا مہینہ ہے۔اس میں بندۂ مومن کے ہر نیک عمل اور ہر نیکی کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے۔ یہ اہل ایمان کے انعام و اکرام کا مہینہ ہے۔ اس ماہِ مبارک میں آدمی کے ہر عمل کا اجر دس سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضي الله تعالى عنه فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم قیدی کو رہا فرما دیتے اور ہر سائل کی داد رسی فرماتے تھے۔‘‘ (مشکٰوۃ)
حديث شريف ميں هے كه شعبان المعظّم کی آخری تاریخ کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خطبہ دیا۔اس میں آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا:’’لوگو! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے،جو شخص اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی غیر فرض عبادت (یعنی سُنّت،یا نفل) ادا کرے گا،تو اسے دوسرے زمانے کے فرضوں کے برابر اس کا اجر ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستّر فرضوں کے برابر ملے گا۔یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنّت ہے،یہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے،اور یہی وہ مہینہ ہے، جس میں مومن بندوں کے رزق میں فراخی اور اضافہ کیا جاتا ہے۔ جس نے اس مہینے میں کسی روزے دار کو (اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لیے) افطار کرایا،تو یہ اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور آتشِ دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا،اسے اس روزے دار کے برابر ثواب دیا جائے گا، بغیر اس کے کہ روزے دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔
حضرت زید بن خالد رضي الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی روزے دار کو افطار کروائے یاکسی مجاہد کا سامان سفر تیار کروائے تو اسے بھی اس کے مثل اجر ملے گا۔(بیہقی/ شعب الایمان)
حضرت زید بن خالد جہنی رضي الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص کسی روزے دار کو افطار کرائے تو روزے دار کے ثواب میں سے کچھ کمی کیے بغیر افطار کرانے والے کو اتنا ہی اجر وثواب ملے گا،جتنا روزے دار کو ملے گا۔(ترمذی،ابن ماجہ)
الله تعالى هميں إخلاص كے ساتهـ إس كا إهتمام كرنے كي توفيق عنايت فرمائے اور همارے تمام أعمال كو شرف قبوليت بخشے - آمين يا رب العلمين

رمضان المبارک كا أصل مقصد حصول تقوى
رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بڑی عظیم نعمت ہے، اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انوار وبرکات کا سیلاب آتا ہے اور اس کی رحمتیں موسلادھار بارش کی طرح برستی ہیں، مگر ہم لوگ اس مبارک مہینے کی قدرومنزلت سے واقف نہیں، کیونکہ ہماری ساری فکر اور جدوجہد مادّیت اور دنیاوی کاروبار کے لیے ہے، اس مبارک مہینے کی قدردانی وہ لوگ کرتے ہیں جن کی فکر آخرت کے لیے اور جن کا محور ما بعد الموت ہو۔ ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ آتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وبَلِّغْنَا رَمَضَانَ، (شعب الایمان
ترجمہ: اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینے میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا دیجیے، (یعنی ہماری عمر اتنی دراز کردیجیے کہ ہمیں رمضان کا مہینہ نصیب ہوجائے۔)
آپ غور فرمائیں کہ رمضان المبارک آنے سے دو ماہ پہلے ہی رمضان المبارك کا انتظار اوراشتیاق ہورہا ہے، اوراس کے حاصل ہونے کی دعا کی جارہی ہے، یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے جس کے دل میں رمضان کی صحیح قدروقیمت ہو۔

رمضان المبارك رحمت کا خاص مہینہ
اللہ تعالیٰ نے یہ مبارک مہینہ اس لیے عطا فرمایا کہ گیارہ مہینے انسان دنیا کے دھندوں میں منہمک رہتا ہے جس کی وجہ سے دلوں میں غفلت پیدا ہوجاتی ہے، روحانیت اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں کمی واقع ہوجاتی ہے، تو رمضان المبارک میں
مسلمان اللہ کی عبادت کرکے اس کمی کو دور کرسکتا ہے، دلوں کی غفلت اور زنگ کو ختم کرسکتا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرکے زندگی کا ایک نیادور شروع ہوجائے، جس طرح کسی مشین کو کچھ عرصہ استعمال کرنے کے بعد اس کی سروس اور صفائی کرانی پڑتی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کی صفائی اور سروس کے لیے یہ مبارک مہینہ مقرر فرمایا۔

روزے کا مقصد
روزے کی ریاضت کا بھی خاص مقصد اور موضوع یہی ہے کہ اس کے ذریعے انسان کی حیوانیت اور بہیمیت کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی اورایمانی وروحانی تقاضوں کی تابعداری وفرماں برداری کا خوگر بنایاجائے اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں نفس کی خواہشات اور پیٹ اور شہوتوں کے تقاضوں کو دبانے کی عادت ڈالی جائے اور چوں کہ یہ چیز نبوت اور شریعت کے خاص مقاصد میں سے ہے اس لیے پہلی تمام شریعتوں میں بھی روزے کا حکم رہا ہے، اگرچہ روزوں کی مدت اور بعض دوسرے تفصیلی احکام میں ان امتوں کے خاص حالات اور ضروریات کے لحاظ سے کچھ فرق بھی تھا، قرآنِ کریم میں اس امت کو روزے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایاگیا ہے:
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ (سورة البقرہ  ) ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کیے گئے تھے (روزوں کا یہ حکم تم کو اس لیے دیا گیا ہے) تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔
یہ بات یقینی ہے کہ نفس انسانی انسان کو گناہ، نافرمانی اور حیوانی تقاضوں میں اسی وقت مبتلا کرتا ہے جب کہ وہ سیر ہوا ہو، اس کے برخلاف اگر بھوکا ہوتو وہ مضمحل پڑا رہتا ہے اور پھر اس کو معصیت کی نہیں سوجھتی، روزے کا مقصد یہی ہے کہ نفس کو بھوکا رکھ کر مادّی وشہوانی تقاضوں کو بروئے کار لانے سے اس کو روکا جائے تاکہ گناہ پر اقدام کرنے کا داعیہ اور جذبہ سُسْت پڑجائے اور یہی ”تقویٰ“ ہے۔
اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ عالم بالا کی پاکیزہ مخلوق (فرشتے) نہ کھاتے ہیں، نہ پیتے ہیں اورنہ بیوی رکھتے ہیں، جبکہ روزہ (صبح صادق سے غروب آفتاب تک) انہی تین چیزوں (کھانا، پینا اور جماع) سے رکنے کا نام ہے، تو گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو روزے کا حکم دے کر ارشاد فرمایا ہے کہ اے میرے بندو! اگر تم ان تینوں چیزوں سے پرہیز کرکے ہماری پاکیزہ مخلوق کی مشابہت اختیار کروگے تو ہماری اس پاکیزہ مخلوق کی پاکیزہ صفت بھی تمہارے اندر پیدا ہوجائے گی اور وہ صفت ہے: لاَیَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَا اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُوٴْمَرُوْنَ۔ (سورئہ تحریم) ترجمہ: وہ (فرشتے) خداکی نافرمانی نہیں کرتے کسی بات میں جو ان کو حکم دیتا ہے اور جو کچھ ان کو حکم دیاجاتا ہے اس کو فوراً بجالاتے ہیں۔ (بیان القرآن) اور اسی کاحاصل ”تقویٰ“ ہے۔
چنانچه حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا:
لِکُلِّ شَیْءٍ زَکوٰةٌ وَزَکوٰةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ۔ (ابن ماجہ 
ہر چیز کے لیے کوئی نہ کوئی صفائی ستھرائی کا ذریعہ ہے اور بدن کی صفائی ستھرائی کا ذریعہ ”روزہ“ ہے۔
بہرحال روزے کا مقصد تقویٰ ہے، اسی تقویٰ کے حصول کے لیے اس آخری امت پر سال میں ایک مہینے کے روزے فرض کیے گئے اور روزے کا وقت طلوع صبح صادق سے غروب آفتاب تک رکھا گیا اور یہ زمانہ اِس دور کے عام انسانوں کے حالات کے لحاظ سے ریاضت وتربیت کے مقصد کے لیے بالکل مناسب اورنہایت معتدل مدت اور وقت ہے۔ پھر اس کے لیے مہینہ وہ مقرر کیا گیا جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا اور جس میں بے حساب برکتوں اور رحمتوں والی رات (شبِ قدر) ہوتی ہے، ظاہر ہے کہ یہی مبارک مہینہ اس کے لیے سب سے زیادہ مناسب اور موزوں زمانہ ہوسکتا تھا، اسی کے ساتھ ساتھ اس مہینے میں دن کے روزوں کے علاوہ رات میں بھی ایک خاص عبادت کا عمومی اور اجتماعی نظام قائم کیاگیا جس کو ”تراویح“ کہا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس مبارک مہینے کی نورانیت اور تاثیر میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور ان دونوں عبادتوں کے احادیث شریفہ میں بہت زیادہ فضائل ارشاد فرمائے گئے ہیں،
تقویٰ کے حصول میں معاون چیزیں
لیکن صرف روزہ رکھنے اور تراویح پڑھنے کی حد تک بات ختم نہیں ہوتی بلکہ اس ماہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ غفلت کے پردوں کو دل سے دور کیا جائے، اصل مقصدِ تخلیق کی طرف رجوع کیاجائے، گزشتہ گیارہ مہینوں میں جو گناہ ہوئے ان کو معاف کراکر آئندہ گیارہ مہینوں میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کے استحضار اور آخرت میں جواب دہی کے احساس کے ساتھ گناہ نہ کرنے کا داعیہ اور جذبہ دل میں پیدا کیا جائے، جس کو ”تقویٰ“ کہا جاتا ہے۔ اس طرح رمضان المبارک کی صحیح روح اوراس کے انوار وبرکات حاصل ہوں گے، ورنہ یہ ہوگا کہ رمضان المبارک آئے گا اور چلا جائے گا اور اس سے صحیح طور پر ہم فائدہ نہیں اٹھا پائیں گے، بلکہ جس طرح ہم پہلے خالی تھے ویسے ہی خالی رہ جائیں گے، چند ایسے أعمال هيں رمضان المبارك مين جن كوأختيار كركے روزے کا مقصد (تقویٰ) اور رمضان المبارک کے انوار وبرکات حاصل ہونے كي قوي أميد هے ، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

 عبادت کی مقدار میں اضافہ
رمضان المبارک کی برکتوں کو حاصل کرنے کے لیے اپنی عبادت کی مقدار میں اضافہ کرنا ہے، دوسرے ایام میں جن نوافل کو پڑھنے کی توفیق نہیں ہوتی ان کو اس مبارک ماہ میں پڑھنے کی کوشش کریں، مثلاً: مغرب کے بعد سنتوں سے الگ یا کم از کم سنتوں کے ساتھ چھ (6) رکعت اوّابین پڑھیں۔ (جب کہ ہمارا حال یہ ہے کہ اوّابین افطار کی نذر ہوجاتی ہیں) عشاء کی نماز سے چند منٹ پہلے آکر چار رکعت یا دو رکعت نفل پڑھیں۔ سحری کھانے کے لیے اٹھنا ہی ہے تو چند منٹ پہلے اٹھ کر کم از کم چار رکعت تہجد پڑھ لیں۔ اسی طرح اشراق کی نماز اور اگراشراق کے وقت نیند کا غلبہ ہوتو چاشت کی چند رکعتیں تو پڑھ ہی لیں۔ ظہر کے بعد دو سنتوں کے ساتھ دو رکعت نفل اور عصر سے پہلے چار رکعت نفل پڑھ لیں۔ کیوں کہ نماز کا خاصہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان کا رشتہ جوڑتی ہے اوراس کے ساتھ تعلق قائم کراتی ہے، جس کے نتیجے میں انسان کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے، جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضي الله تعالى عنه سے مروی حدیث شریف میں ہے:
اَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَّبِّہ وَہُوَ سَاجِدٌ (مسلم شریف
یعنی بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتاہے، تو گویا نماز کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک عظیم تحفہ عطا کیاہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے، آمین!

 تلاوتِ قرآنِ کریم کی کثرت
دوسرا کام یہ ہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت کا خاص اہتمام کرنا ہے، کیوں کہ رمضان المبارک کے مہینے کو قرآن کریم کے ساتھ خاص مناسبت اور تعلق ہے، اسی مہینے میں قرآن کریم نازل ہوا، ارشادِ مبارک ہے: شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ، (سورئہ بقرہ ) خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رمضان المبارک میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن مجید کا دور فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری) تمام بزرگانِ دین کی زندگیوں میں یوں تو قرآنِ کریم میں اشتغال بہت زیادہ نظر آتا ہے، لیکن رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی تلاوت کے معمول میں غیرمعمولی اضافہ ہوجاتا ، چنانچہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اس مبارک مہینے میں ایک قرآنِ کریم دن میں، ایک رات میں اور ایک تراویح میں، اس طرح اکسٹھ (61) قرآن کریم ختم فرماتے تھے۔ ماضی کے ہمارے تمام اکابر (حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمه الله ، مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمه الله ،مولانا رشید احمد گنگوہی رحمه الله، مولانا شاہ عبدالرحیم رائپوریرحمه الله ، شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندی رحمه الله، مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمه الله ، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله ، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمه الله ، مولانا یحییٰ کاندھلوی رحمه الله ، مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمه الله ، شاہ عبدالقادر رائپوری رحمه الله، شیخ الحدیث مولانا زکریا مہاجر مدنی رحمه الله، فقیہ الامت مولانا مفتی محمودحسن گنگوہی رحمه الله، مولانا قاری سید صدیق احمد باندوی رحمه الله، مولانا شاہ ابرارالحق ہردوئی رحمه الله، فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی رحمه الله وغیرہم) کا رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن کریم کا معمول دیدنی ہوتا تھا۔ لہٰذا ہم کو بھی اس مبارک ماہ میں عام دنوں کے مقابلے میں تلاوت کی مقدار زیادہ کرنی ہے، عام آدمی کو بھی روزانہ کم از کم تین پارے پڑھنے چاہئیں، تاکہ پورے مہینے میں کم از کم تین قرآنِ کریم ختم ہوجائیں۔

 تراویح میں قرآنِ کریم صحیح پڑھنے اور سننے کا اہتمام
اس مبارک مہینے میں ہرموٴمن کو اس بات کی بھی فکر کرنی ضروری ہے کہ تراویح میں قرآنِ مجید صحیح اور صاف صاف پڑھا جائے، جلدی جلدی اور حروف کو کاٹ کاٹ کر پڑھنے سے پرہیز کیا جائے، کیوں کہ اس طرح قرآنِ کریم پڑھنا اللہ کے کلام کی عظمت کے خلاف ہے، نیز پڑھنے والے کو خود قرآنِ کریم بددعا دیتا ہے۔ (احیاء العلوم ) اس طرح قرآن کریم پڑھنے والا اور سننے والے سب گنہگار ہوتے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ حافظ صاحب نہایت تیزگامی کے ساتھ حروف کو کاٹ کاٹ کر پڑھتے چلے جارہے ہیں، ایک سانس میں سورئہ فاتحہ کو ختم کردیا جاتا ہے ، صحیح طریقے سے رکوع، سجدہ اور تشہد ادا نہیں ہورہا ہے، چالیس پینتالیس منٹ میں پوری نماز ختم، اب گھنٹوں مجلسوں میں بیٹھ کر گپ شپ ہورہا ہے اورحافظ صاحب وسامعین میں سے کسی کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم نے قرآنِ کریم کی توہین میں کتنا حصہ لیا اور رمضان المبارك کی مبارک ساعتوں میں کتنی بے برکتی اور قرآن کریم کی کتنی بددعا لی؟ خدا را اس صورتِ حال سے بچئے اور اس مبارک مہینے میں برکتوں اور رحمتوں کے دروازے کو اپنے اوپر بند نہ کیجیے اور صاف صحیح قرآن کریم پڑھنے اور سننے کا اہتمام کرکے دارین کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔

 استغفار کی کثرت
چوتھا کام یہ کرنا ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنی ہے، حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالى عنہ سے مروی مشہور حدیث شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے منبر کی پہلی، دوسری اور تیسری سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے ”آمین“ فرمایا، صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جبرئیل امین علیہ الصلاة والسلام میرے سامنے آئے تھے اورجب میں نے منبر کے پہلے زینے پر قدم رکھا تو انھوں نے کہا: ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی، میں نے کہا آمین، الیٰ آخر الحدیث (مستدرک حاکم )
ظاہر ہے کہ اس شخص کی ہلاکت میں کیا شبہ ہے جس کے لیے حضرت جبرئیل علیہ السلام بددعا کریں اورحضور اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم آمین کہیں، اس لیے اس مبارک مہینے میں نہایت کثرت کے ساتھ گڑگڑا کر اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کرے۔

 دعا کا اہتمام
رمضان المبارک کی برکات کو حاصل کرنے کے لیے دعاؤں کا اہتمام بھی لازم ہے، بہت سی روایات میں روزے دار کی دعا کے قبول ہونے کی بشارت دی گئی ہے، حضرت ابوہریرہ رضي الله تعالى عنه سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا كه تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی (ضرور قبول ہوتی ہے) ایک روزے دار کی افظار کے وقت، دوسرے عادل بادشاہ کی، تیسرے مظلوم کی بددعاء، اس کو اللہ تعالیٰ بادلوں سے اوپر اٹھالیتے ہیں اورآسمان کے دروازے اس کے لیے کھول دیے جاتے ہیں اورارشاد ہوتا ہے کہ میں تیری ضرور مدد کروں گا گو(کسی مصلحت سے) کچھ دیر ہوجائے۔
بہرحال یہ مانگنے کا مہینہ ہے، اس لیے جتنا ہوسکے دعا کا اہتمام کیا جائے، اپنے لیے، اپنے اعزہ واحباب اور رشتے داروں کے لیے، اپنے متعلقین کے لیے، ملک وملت کے لیے اور عالم اسلام کے لیے خوب دعائیں مانگنی چاہئیں، اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرمائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

 صدقات کی کثرت
رمضان المبارک میں نفلی صدقات بھی زیادہ سے زیادہ دینے کی کوشش کرنی چاہیے، حدیث شریف میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم کی سخاوت کا دریا پورے سال ہی موجزن رہتا تھا، لیکن ماہِ رمضان المبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم کی سخاوت ایسی ہوتی تھی جیسے جھونکے مارتی ہوئی ہوائیں چلتی ہیں (بخاری شریف) جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا اس کو ضرور نوازتے۔ لہٰذا ہم کو بھی اس بابرکت مہینے میں اس سنت پر عمل کرتے ہوئے صدقات کی کثرت کرنی چاہیے۔

 کھانے کی مقدار میں کمی
ساتویں چیز جس کا لحاظ رمضان المبارک کے مقصد کو حاصل کرنے میں معاون ہے ”کھانے کی مقدار میں کمی کرنا“ ہے، کیوں کہ روزے کا مقصد قوتِ شہوانیہ وبہیمیہ کا کم کرنا اور قوتِ ملکیہ ونورانیہ کا بڑھانا ہے، جب کہ زیادہ کھانے سے یہ غرض فوت ہوجاتی ہے، بقول شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب رحمه الله ہم لوگوں کا حال یہ ہے کہ افظار کے وقت تلافیٴ مافات میں (کہ پورے دن بھوکا رہا)اور سحر کے وقت حفظ ماتقدم میں (کہ پورے دن بھوکا رہنا ہے) اتنی زیادہ مقدار میں کھا لیتے ہیں کہ بغیر رمضان کے بھی اتنی مقدار کھانے کی نوبت نہیں آتی جس کی وجہ سے کھٹی ڈکاریں آنے لگتی ہیں، حقیقتاً ہم لوگ صرف کھانے کے اوقات بدلتے ہیں یعنی افظار میں، تراویح کے بعد اور پھر سحری میں، اس کے علاوہ کچھ بھی کمی نہیں کرتے، بلکہ مختلف قسم کی زیادتی ہی ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے قوتِ شہوانیہ و بہیمیہ کم ہونے کے بجائے اور بڑھ جاتی ہے اورمقصد کے خلاف ہوجاتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے ارشاد فرمایا
مَا مَلَأ اٰدَمِیٌّ وِعَاءً شَرَّا مِنْ بَطْنٍ بِحَسْبِ ابْنِ اٰدَمَ اُکُلَاتٌ یُقِمْنَ صُلْبَہ فَاِنْ کَانَ لاَ مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِہ 
وَثُلُثٌ لِشَرَابِہ وَثُلُثٌ لِنَفسِہ۔ (ترمذی شریف
یعنی اللہ تعالیٰ کو کسی برتن کا بھرنا اتنا ناپسند نہیں جتنا پیٹ کا بھرنا ناپسند ہے،ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جن سے کمرسیدھی رہے، اگر زیادہ ہی کھانا ہے تو ایک تہائی پیٹ کھانے کے لیے رکھے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے رکھے۔ البتہ اتنا کم نہ کھائے کہ عبادات کے انجام دینے میں اور دوسرے دینی کاموں میں خلل واقع ہو۔

 گناہوں سے پرہیز
رمضان المبارک میں خاص طور پر گناہوں سے پرہیز کرنا نہایت ضروری ہے، ہر موٴمن کو یہ طے کرلینا چاہیے کہ اس برکت ورحمت اورمغفرت کے مہینے میں آنکھ، کان اور زبان غلط استعمال نہیں ہوگی، جھوٹ، غیبت، چغل خوری اور فضول باتوں سے مکمل پرہیز کرے، یہ کیا روزہ ہوا کہ روزہ رکھ کر ٹیلی ویژن کھول کر بیٹھ گئے اور فحش وگندی فلموں سے وقت گزاری ہورہی ہے، کھانا، پینا اورجماع جو حلال تھیں ان سے تو اجتناب کرلیا لیکن مجلسوں میں بیٹھ کر کسی کی غیبت ہورہی ہے، چغل خوری ہورہی ہے، جھوٹے لطیفے بیان ہورہے ہیں، اس طرح روزے کی برکات جاتی رہتی ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضي الله تعالى سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ لَمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِہ فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَةٌ فِیْ اَن یَّدَعَ طَعَامَہ وَشَرَابَہ
ترجمہ: جو آدمی روزہ رکھتے ہوئے باطل کام اور باطل کلام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ (صحیح بخاری )۔
یعنی روزے کے مقبول ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کھانا پینا چھوڑنے کے علاوہ معصیات ومنکرات سے بھی زبان ودہن اور دوسرے اعضاء کی حفاظت کرے، اگر کوئی شخص روزہ رکھے اور گناہ کی باتیں اور گناہ والے اعمال کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے روزے کی کوئی پرواه نہیں۔ (معارف الحدیث)
ایک اور حدیث شریف میں حضرت ابوہریرہ رضي الله تعالى عنه سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے ارشاد فرمایا:
رُبَّ صَائِمٍ لَیْسَ لَہ مِنْ صِیَامِہ اِلَّا الْجُوْعُ وَرُبَّ قَائِمٍ لَیْسَ لَہ مِنْ قِیَامِہ اِلَّا السَّہْرُ۔
(سنن ابن ماجہ ۔ سنن نسائی )
ترجمہ: بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو روزے کے ثمرات میں سے بھوکا رہنے کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، اور بہت سے شب بیدار ایسے ہیں کہ ان کو رات کے جاگنے (کی مشقت) کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی اگر گناہوں (غیبت وریا وغیرہ) سے نہ بچے تو روزہ، تراویح اور تہجد وغیرہ سب بیکار ہے۔
حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالى عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ مَالَمْ یَخْرِقْہَا۔ (نسائی شریف ، مسند احمد 
ترجمہ: روزہ آدمی کے لیے ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔ یعنی روزہ آدمی کے لیے شیطان سے، جہنم سے اور اللہ کے عذاب سے حفاظت کا ذریعہ ہے، جب تک گناہوں (جھوٹ وغیبت وغیرہ) کا ارتکاب کرکے روزے کو خراب نہ کرے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله تعالى عنه سے مروی ایک حدیث شریف میں ہے کہ اگر روزے دار سے کوئی شخص بدکلامی اور جھگڑا وغیرہ کرنے کی کوشش کرے تو روزے دار کہہ دے کہ میرا روزہ ہے۔ یعنی میں ایسی لغویات میں پڑکر روزے کی برکات سے محروم ہونا نہیں چاہتا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ان تمام احادیث شریفہ کا مدعا یہ ہے کہ روزے کے مقصد (تقویٰ) اور رمضان المبارک کی برکتوں اور رحمتوں کے حصول کے لیے معصیات ومنکرات سے پرہیز نہایت ضروری ہے، اس کے بغیر تقوے کی سعادت سے متمتع نہیں ہوا جا سکتا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رحمت سے ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، رمضان المبارک کی قدردانی کی توفیق بخشے اور اس بابرکت مہینے کے اوقات کو صحیح طور پر خرچ کرنے کی توفیق نصیب فرمائے،
آمین ثم آمین یا رب العالمین!
---

Share: