دور حاضر میں پیش آنے والے زکوة کے چند اہم جدید مسائل درج ذیل ہیں:
- موجودہ کاغذی نوٹوں پر زکوٰۃ کا حکم وہی ہے جو سونے اور چاندی کا ہے۔
- اگر کسی کے پاس اتنی نقدی ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر پہنچ جائے، تو اس پر اڑھائی فیصد (2.5%) زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے.
- فیکٹری کی زمین، عمارت اور مشینوں پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی.
- زکوٰۃ صرف اس مال پر فرض ہوتی ہے جو تیار شدہ ہو یا فروخت کے لیے رکھا گیا ہو، اور فیکٹری کے خام مال (Raw Material) پر بھی زکوٰۃ لازم ہوتی ہے.
- اگر شیئرز کاروبار یا تجارت کی نیت سے خریدے گئے ہیں، تو ان کی موجودہ مارکیٹ ویلیو پر زکوٰۃ فرض ہے۔
- اگر شیئرز صرف منافع (ڈوینڈنڈ) حاصل کرنے کے لیے رکھے گئے ہیں اور آگے بیچنے کی نیت نہیں ہے، تو صرف ملنے والے منافع پر زکوٰۃ لازم ہوگی، پورے شیئر کی مالیت پر نہیں۔
- ملازم کی تنخواہ سے جو کٹوتی جبری طور پر ہوتی ہے، اس پر قبضہ تام نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔
- جب یہ فنڈ ریٹائرمنٹ یا ملازمت کے ختم ہونے پر موصول ہوتا ہے، تب اس پر قبضہ ہوتا ہے (بعض صورتوں میں گزشتہ سالوں کا حساب کرکے کٹوتی کی جاتی ہے)۔
- اگر آپ زکوٰۃ کی رقم آن لائن یا بذریعہ بینک غریب تک پہنچاتے ہیں، تو ٹرانسفر یا بینک چارجز زکوٰۃ میں شمار نہیں ہوں گے۔
- مستحق کو زکوٰۃ کی مکمل اور پوری مقدار پہنچانا لازمی ہے۔
- بینک کی طرف سے زکوة کٹنے کا حکم
- اجازت اور نیت: اگر کھاتہ دار کی طرف سے بینک کو وکیل بنایا گیا ہو یا کھاتہ دار نے زکوة کی نیت کی ھوئی ھو تو زکوٰۃ ادا ہو جاتی ھے ۔
- بینک یا حکومت کی طرف سے اکائونٹ سے کاٹی جانے والی زکوٰۃ سے آپ کی فرض زکوٰۃ اس وقت ادا ہوتی ہے جب آپ کی طرف سے نیت اور باقاعدہ رضامندی شامل ہو، لیکن احتیاطاً اس کا الگ حساب رکھنا بہتر ہوتا ہے
- زیورات کی زکوٰۃ
- عورتوں کے زیرِ استعمال سونے یا چاندی کے زیورات پر بھی زکوٰۃ فرض ہے، خواہ وہ ذاتی استعمال میں ہوں یا محفوظ ہوں۔
- قرض کی رقم کی زکوة
- جو قرض آپ نے کسی کو دیا ہو اور اس کی واپسی کی امید ہو، اس پر بھی زکوٰۃ فرض ہے