شریعت اسلامیہ کے مطابق کچھ امور ایسے ھیں جن کے کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ان میں چند درج ذیل ھیں :
- تھوک نگلنا:
- منہ کا طبعی تھوک نگلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، خواہ کتنا ہی بار بار نگلا جائے۔
- بلا ارادہ قے (اُلٹی) آنا:
- اگر طبعاً قے آجائے (چاہے منہ بھر کر بھی ہو) تو اس سے روزہ خراب نہیں ہوتا، بشرطیکہ اسے خود جان بوجھ کر نہ نکالا گیا ہو۔
- غیر ارادی طور پر کھانا یا پینا: بھول چوک (نسیان) کی حالت میں کچھ کھا یا پی لینا، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور روزہ جاری رہتا ہے۔
- آنکھ یا کان میں دوا ڈالنا:
- آنکھ میں قطرے ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا (اگرچہ اس کا ذائقہ حلق میں بھی محسوس ہو)۔ اسی طرح کان میں عام پانی یا دوا جانے سے بھی جمہور حنفیہ کے نزدیک روزہ نہیں ٹوٹتا جب تک کہ کان کا پردہ پھٹا ہوا نہ ہو اور دوا دماغ تک نہ پہنچ جائے۔
- حالتِ جنابت (غسل فرض ہونا):
- ناپاکی کی حالت میں صبح ہونا یا دن میں سونا اور احتلام ہو جانا، ان سے روزہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا (البتہ غسل فرض ہونے پر جلد از جلد غسل کرنا ضروری ہے)۔
- سر میں تیل لگانا یا سرمہ لگانا:
- تیل لگانے، مہندی لگانے یا آنکھوں میں سرمہ ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
- انجکشن لگوانا:
- روزے کی حالت میں انجکشن لگوانا جائز ہے، خواہ رگ میں لگوایا جائے یا گوشت میں؛ کیوں کہ انجکشن کے ذریعہ جو دوا بدن میں پہنچائی جاتی ہے وہ خلقی راستوں سے نہیں، بلکہ رگوں یا مسامات کے ذریعہ بدن میں جاتی ہے، جب کہ روزہ فاسد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ بدن کے خلقی راستوں سے کوئی چیز معدے یا دماغ تک پہنچے اور انجکشن میں ایسا نہیں ہوتا؛ لہٰذا روزے کی حالت میں انجکشن لگوانا جائز ہے، اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ تاہم صرف اس لیے طاقت کا انجکش لگوانا کہ روزہ محسوس نہ ہو، مکروہ ھے ( فتوی بنوری ٹاون)