حضرت سلمان فارسی رضی اللّہ تعالٰی عنہ

حضرت سلمان فارسی رضی اللّہ تعالٰی عنہ

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشہور اصحاب میں سے تھے۔ ابتدائی طور پر ان کا تعلق زرتشت مذ ہب سے تھا مگر حق کی تلاش ان کو اسلام کے دامن تک لے آئی۔ آپ کئی زبانیں جانتے تھے اور مختلف مذاہب کا علم رکھتے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں مختلف مذاہب کی پیشینگوئیوں کی وجہ سے وہ اس انتظار میں تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ظہور ہو اور وہ حق کو اختیار کر سکیں۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللّہ تعالٰی عنہ کا مجوسی نام مابہ تھا،ان کے والد اصفہان کے ایک گاؤں جی کےرہنےوالےزمیندارتھے-باپ کوبیٹےسےازحد محبّت تھی-چونکہ آتش پرست تھےاس لئےآتشکدہ کی نگرانی انھیں کےسپرد تھی-حضرت سلمان بچپن سے مذہبی شوق رکھتےتھے،جب تک آگ کےپجاری رہےبڑی سختی سےآگ کو پوجا کئےاورکبھی آگ کو بجھنے نہ دیتےتھے
ایک دن باپ کوکسی ضروری کام سےگھرجانا پڑا،اوربیٹےکوکھیتوں کی دیکھ بھال کےلیےبھیج دیا،راستےمیں ایک گِرجا تھاجہاں عیسائی بڑےخشوع خضوع سےعبادت کررہےتھے-سلمان گرجےکےاندرچلےگئےاورلوگوں کوعبادت کرتےدیکھ کربہت متاثرہوئے-ان کی زبان سےنکلا کہ یہ مذہب ہمارے مذہب سے بہترہے کھیتوں کا خیال چھوڑکرعیسائیوں سےچند باتیں دریافت کیں، پھر پوچھا کہ اس مذہب کا سرِچشمہ کہاں ہے؟ جواب ملا ملک  

میں رات واپس گھر آیا تو گھر والوں نے مجھ سے پوچھا کہ تو تمام دن کہاں رہا؟ میں نے سارا قصہ سنایا۔ میرے باپ نے مجھے سمجھایاکہ بیٹا وہ دین اچھا نہیں، اچھا دین مجوسیت ہی ہے مگر میں اپنی رائے پر قائم رہا۔ باپ کو خدشہ ہو گیا کہ میں کہیں چلا نہ جاؤں تو باپ نے میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر مجھے بند کر دیا۔ میں نے عیسائیوں کو پیغام بھیجا کہ جب شام سے سوداگر اور تاجر آئیں تو مجھے مطلع کریں۔ چنانچہ کچھ تاجر آئے تو انہوں نے مجھے مطلع کردیا۔ جب وہ واپس جانے لگے تو میں نے پاؤں کی بیڑیاں کاٹ ڈالیں اور ان کے ساتھ ملک شام چلا گیا۔

وہاں جاکر میں نے تحقیق کی کہ یہاں پر اس مذہبِ عیسائیت کا سب سے بڑا عالم کون ہے؟ تو لوگوں نے بتلایاکہ فلاں گرجے کا فلاں بشپ بڑا ماہر ہے۔ میں اس کے پاس چلا گیا اور بتایا کہ مجھے تمہارے دین میں رغبت ہے اور تمہارے پاس رہ کر تمہاری خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ اسنے منظور کرلیا مگر وہ اچھاآدمی نہ تھا، بہت بخیل اور زر پرست تھا۔ جو مال جمع ہوتا وہ اپنے خزانہ میں جمع کرلیتا اور غریبوں پر خرچ نہ کرتا۔ جب یہ مر گیا تو اسکی جگہ دوسرا راہب بٹھایا گیا۔ یہ اس سے بہتر تھا، دنیا سے بے رغبت تھا۔ میں اسکی خدمت میں رہنے لگا۔ جب اسکے مرنے کا وقت قریب آیا تو میں نےاس سے کہا کہ مجھے کسی کے پاس رہنے کی وصیت کرتے جاؤ! تو اسنے کہا کہ میرے طریقہ پر دنیا میں صرف ایک شخص ہے جو کہ ”موصل“ میں رہتا ہے، تم اس کے پاس چلے جانا۔ اس کے مرنے کے بعد میں موصل چلا گیا اور اس راہب کو سارا قصہ سنایا اور بتایا کہ میں تمہاری خدمت میں رہنا چاہتا ہو ں۔ اس نے منظور کرلیا۔ میں اسکی خدمت میں رہا۔ وہ بہترین آدمی تھا۔ جب اسکی بھی وفات ہونے لگی تو میں نے پوچھا کہ میں اب کہاں جاؤں؟ تو اس نے کہا کہ فلاں شخص ”نصیبین“ میں ہے، اس کے پاس چلے جانا۔

میں اسکے مرنے کے بعد نصیبین چلا گیا اور اس شخص کو اپنا قصہ سنایا، خدمت میں رہنے کی درخواست کی جو کہ منظور ہو گئی۔ وہ بھی اچھا آدمی تھا۔ جب اسکے مرنے کا وقت آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ میں اب کہاں جاؤں؟ اس نے کہا: ”غموریا“ میں فلاں شخص کے پاس چلے جانا۔ میں وہاں چلاگیا۔ وہاں بھی اس طرح قصہ پیش آیا۔ وہاں جاکر میں نے کام شروع کردیا اور میرے پاس چند ایک گائے اور کچھ بکریاں جمع ہو گئیں۔ جب اسکی بھی موت کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اب میں کہاں جاؤں؟ تو اس نے کہا کہ اب زمین پر کوئی شخص ایسا نہیں جو کہ ہمارے طریقہ پر چل رہا ہوالبتہ نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے کا زمانہ قریب ہے، وہ دینِ ابراہیمی پر عرب میں پیدا ہوں گے، انکی ہجرت کی جگہ ایسی زمین ہے جہاں کھجوریں کثرت سے پیدا ہوتی ہیں، اس زمین کے دونوں جانب کنکریلی زمین ہے، آپ ہدیہ نوش فرمائیں گے اور صدقہ قبول نہ فرمائیںگے، ان کے دونوں شانوں (کندھوں) کے درمیان مہرِ نبوت ہوگی۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو ان کی سر زمین پر پہنچ جا۔

اس کے مرنے کے بعد قبیلہ بنو کلب کے چند تاجر وہاں سے گزرے تو میںنے ان سے کہا کہ اگر تم مجھے اپنے ساتھ عرب لے چلو تو میں بدلہ میں تمہیں گائے اور بکریاں دے دوں گا۔ انہوں نے قبول کر لیا اور مجھے اپنے ساتھ مکہ مکرمہ لے آئے۔ میں نے گائے اور بکریاں ان کو دے دیں مگر انہوں نے مجھ پر یہ ظلم کیا کہ مجھے اپنا غلام ظاہر کیا اور مکہ مکرمہ میں بیچ دیا۔ بنو قریظہ کے ایک یہودی نے مجھے خرید لیا اور اپنے ساتھ مدینہ منورہ لے آیا۔ مدینہ منورہ پہنچتے ہی میں پہچان گیا کہ یہ وہی جگہ ہے جسکی نشاندہی غموریا کے پادری نے کی تھی۔ میں مدینہ میں رہتا رہا کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ تشریف لے آئے۔

حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم قبا میں تشریف فرما تھے۔ اطلاع ملتے ہی جو کچھ میرے پاس تھا میں لے کر حاضر ہوگیا اور عرض کیا کہ یہ صدقہ کا مال ہے۔ تو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تناول نہ فرمایا اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم کھالو! میں خوش ہو گیاکہ ایک علامت تو پوری ہوئی۔ پھر مدینہ آگیا اور کچھ جمع کیا۔ پھر خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم بھی مدینہ تشریف لا چکے تھے۔ میں نے کچھ کھجوریں اورکھانا پیش کیا اور عرض کیا کہ یہ ہدیہ ہے۔ تو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے تناول فرمایا۔ میں نے دل میں کہا کہ دوسری علامت بھی پوری ہوگئی۔ اسکے بعدمیں ایک مرتبہ پھر حاضر ہوا۔ اسوقت حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں کسی صحابی کے جنازے کے لیے تشریف فرما تھے۔ میں نے سلام کیا اور پشت کی طرف گھومنے لگا۔ آپ میری منشاء سمجھ گئے اور کمر سے چادر کو ہٹا دیا۔ میں نے مہر نبوت کو دیکھا اور جوش میں اس پر جھک گیا۔ اس کو چومتا رہا اور روتا رہا۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے آؤ میں سامنے آیا اور سارا قصہ سنایا۔

اس کے بعد اپنی غلامی میں پھنسا رہا۔ ایک مرتبہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے مالک سے مکاتبت کا معاملہ کر لو۔ میں نے اس سے معاملہ طے کیا اور بدلِ کتابت دو چیزیں مقرر ہوئیں۔ ایک یہ کہ چالیس اوقیہ سونا نقد (ایک اوقیہ چالیس درہم کا اور ایک درہم تین یا چار ماشہ کا ہوتا ہے) دوسری یہ کہ تین سو کھجور کے درخت لگاؤں اور انکی پرورش کروں اور پھل لانے تک ان کی خبر گیری کرتا رہوں۔

چنانچہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے کھجوریں لگائیں جو کہ اسی سال پھل لے آئیں اور اتفاق سے کسی جگہ سے سونا بھی آگیا۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (یعنی سلمان فارسی کو) مرحمت فرما دیا کہ جاؤ اور اس کو بدلِ کتابت میں ادا کردو۔ میں نے عرض کیا: حضرت! یہ کافی نہیں ہوگا، یہ تھوڑا ہے اور بدلِ کتابت کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جل شانُہ اسی سے پورا فرما دیں گے۔ چنانچہ میں لےکر گیا اور بدلِ کتابت اس میں سے دے دیا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ آزاد ہوگئےاور

سرورِکائنات صلی اللّہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہنےلگے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دس سے زیادہ آقاؤں کے پاس رہا ہوں۔







under completion
Share:

مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآله وسلم کی تعمير

مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآله وسلم کی تعمير
مہاجرین کی آمد سے پہلے انصار ایک جگہ باجماعت نماز ادا کرتے تھے جب نبی كريم صلی اللہ علیہ وآله وسلم تشریف لائے تو سب سے پہلے مسجد بنانے کی فکر ھوئی آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ھوئے اور اسکی لگام ڈھیلی چھوڑ دی اونٹنی چل پڑی اور اس جگہ بیٹھی جہاں آج مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآله وسلم ھے وہ جگہ بھی اس کے قریب تھی جہاں انصار نماز ادا کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا بس اس جگہ مسجد بنے گی
نبی صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے مسجد کیلئے جگہ منتخب فرمائی یہ جگہ دو یتیم بچوں سہل رضي الله تعالى عنه اور سہیل رضي الله تعالى عنه کی تھی ان کے سرپرست حضرت اسعد بن زرارہ رضي الله تعالى عنه تھے بعض روایات میں ہے کہ سرپرست حضرت معاذ بن غفراء رضي الله تعالى عنه تھے نبی صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے ان سے فرمایا کہ
تم یہ جگہ مسجد کیلئے فروخت کردو
یہ سن کر حضرت ابوایوب انصاری رضي الله تعالى عنه نے عرض کیا کہ اسکی قیمت میں ادا کردیتا ھوں آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے انکار فرمایا اور دس دینار میں زمین کا وہ ٹکڑا خرید لیا زمین کی قیمت حضرت ابوبکر صديق رضي الله تعالى عنه کے مال سے ادا کی گئی (واہ! کیا قسمت پائی ھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالى عنہ نے کہ قیامت تک مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے نمازیوں کا ثواب انکے نامہ اعمال میں بھی لکھا جا رھا ھے
ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے دونوں یتیم بچوں کو بلایا اور ان سے زمین فروخت کرنے کی بات کی ان دونوں نے عرض کیا کہ ھم یہ زمین ھدیہ کرتے ہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے ان یتیموں سے ھدیہ قبول کرنے سے انکار فرمادیا اور دس دینار میں وہ ٹکڑا خرید لیا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالى عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے حکم سے قیمت ادا کی
زمین خریدنے کے بعد نبی كريم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے مسجد کی تعمیر کا ارادہ فرمایا اینٹیں اور گارا تیار کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے اپنے دست مبارک سے پہلی اینٹ رکھی پھر حضرت ابوبکر رضي الله تعالى عنه نے آپ کے حکم پر دوسری اینٹ آپ کی لگائی ہوئی اینٹ کے برابر رکھی پھر حضرت عمر رضي الله تعالى عنه کو بلایا انھوں نے آپ کے حکم پر تیسری اینٹ رکھی پھر حضرت عثمان رضي الله تعالى عنه نے آپ کے حکم پر چوتھی اینٹ رکھی ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
میرے بعد یہی خلیفہ ھوں گے
(مستدرک حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے)
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے عام مسلمانوں کو اینٹیں لگانے کا حکم فرمایا
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآله وسلم پتھروں سے تعمیر کی گئی کھجور کے تنوں کے ستون اور کھجور کی چھال ٹہنیوں اور پتوں سے چھت بنائی گئی چھت پر کچھ مٹی ڈالی گئی دیواروں کی اونچائی انسانی قد کے برابر تھی جب بارش ہوتی تو مٹی ملا پانی اندر ٹپکتا اس سے مسجد میں کیچڑ ھوجاتا بعض صحابہ نے عرض کیا کہ
اگر اجازت ہو تو چھت پر زیادہ مٹی ڈال دیں تاکہ پانی نہ ٹپکے
آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا
نہیں یونہی رھنے دو
کچھ انصاری مسلمانوں نے مال جمع کرکے نبی صلی اللہ علیہ وآله وسلم کی خدمت میں پیش کیا کہ اس سے مسجد بنا کر اسکو آراستہ کریں ھم کب تک چھپر کے نیچے نماز پڑھیں گے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا
مجھے مسجدیں سجانے کا حکم نھیں دیا گیا
ایک اور حدیث میں ھے
قیامت قائم ھونے کی ایک نشانی یہ ھے کہ لوگ مسجدوں میں آرائش و زیبائش کرنے لگیں گے جیسے یہود و نصاری اپنے کلیسائوں اور گرجوں میں زیب و زینت کرتے ھیں
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآله وسلم کی تعمیر سے فارغ ہو کر نبی كريم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضي الله تعالى عنه اور حضرت زید بن رافع رضي الله تعالى عنه کو مکہ بھیجا تاکہ وہ آپ کے اہل و عیال کو مدینہ منوره لے آئیں خرچ کے لئے پانچ سو درھم اور دو اونٹ دیئے یہ خرچ حضرت ابوبکر رضي الله تعالى عنه نے برداشت کیا حضرت ابوبکر رضي الله تعالى عنه کے گھر والوں کو لانے کی ذمہ داری بھی انہی حضرات کو سونپی گئی رھبر کے طور پر عبداللہ بن اریقط کو ساتھ بھیجا گیا
یہ حضرات مکہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آله وسلم کی صاحبزادیوں حضرت فاطمہ و ام کلثوم، رضي الله تعالى عنهما نبی صلی اللہ علیہ وآله وسلم کی زوجہ حضرت سودہ اور دایہ ام ایمنرضي الله تعالى عنهما (جو زید بن حارثہ کی زوجہ تھیں) اور انکے بیٹے اسامہ بن زید رضي الله تعالى عنه کو لے کر مدینہ منوره آئے حضرت ابوبکر رضي الله تعالى عنه کے اہل و عیال بھی ساتھ ہی آگئے۔ ان میں حضرت ابوبکر رضي الله تعالى عنه کی زوجہ ام رومان رضي الله تعالى عنها، صاحبزادیاں حضرت عائشہ و اسماء رضي الله تعالى عنهما اور بیٹے حضرت عبداللہ رضي الله تعالى عنه شامل تھے
نبی كريم صلی اللہ علیہ وآله وسلم کی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ تعالى عنہا شادی شدہ تھیں انکے شوہر ابھی مسلمان نہ ہوے تھے لہذا انہیں ہجرت سے روک دیا گیا حضرت زینب نے بعد میں ہجرت کی اور اپنے شوہرابوالعاص بن ربیع کو کفر کی حالت میں مکہ ہی چھوڑ آئیں انکے شوہر غزوہ بدر میں گرفتار ہوئے لیکن انکو چھوڑ دیا گیا پھر یہ مسلمان ہوگئے
ھجرت کے اس سفر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالى عنہ کی بیٹی حضرت اسماء رضي الله تعالى عنها کے ہاں مدینہ پہنچنے سے پہلے قبا میں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالى عنہ پیدا ہوئے یہ ھجرت کے بعد مہاجرین کے ہاں پہلا بچہ تھا انکی پیدائش پر مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی کیونکہ کفار نے مشہور کر دیا تھا کہ ھم نے مسلمانوں پر جادو کر دیا ہے لہذا مہاجرین کے ہاں کوئی نرینہ اولاد نہیں ہوگی
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآله وسلم کی تعمیر کے بعد رات کے وقت روشنی کا مسئلہ پیش آیا تو کھجور کی شاخیں جلائی گئیں پھر حضرت تمیم داری رضي الله تعالى عنه مدینہ منوره آئے تو قندیلیں رسیاں اور زیتون کا تیل لائے اور رات کے وقت انکو روشن کیا گیا نبی صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے ان کو دعائیں دیں بعض روایات میں ہے کہ سب سے پہلے حضرت عمر رضي الله تعالى عنه نے قندیلیں جلائی تھیں
مدینہ منوره میں وہ زمینیں جو کسی کی ملکیت نہ تھیں ان کو نبی صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے مہاجرین میں تقسیم فرما دیا کچھ زمینیں انصار نے ھدیہ کیں وہ بھی مہاجرین میں بانٹ دی گئیں
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآله وسلم کی تعمیر کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے دو حجرے اپنی بیویوں کے لئے بنوائے ایک سیدہ عائشہ رضي الله تعالى عنها کے لئے دوسرا سیدہ سودہرضي الله تعالى عنها کے لئے ۔ باقی حجرے ضرورت کے مطابق بعد میں بنائے گئے یہ حجرے کچے تھے کھجور کی شاخوں پتوں اور چھال سے بنا کر ان پر مٹی لیپی گئی تھی
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے چاروں طرف حضرت حارثہ بن نعمانرضي الله تعالى عنه کے مکانات تھے نبی صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے مختلف دینی مصلحتوں اور حکمتوں کی وجہ سے متعدد نکاح فرمائے جب بھی آپ نکاح فرماتے حضرت حارثہ رضي الله تعالى عنه ایک ھجرہ ھدیہ کردیتے یہاں تک کہ سارے مکانات ھدیہ کر دیئے
Share:

خانہ کعبہ کے بارے میں کچھ دلچسپ حقائق

خانہ کعبہ کے بارے میں کچھ دلچسپ حقائق ۔
اس دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں جو خانہ کعبہ کی طرح مقدس اور مرکزی حیثیت رکھتی ہو۔ یہ مقام سعودی عرب میں وادیِ حجاز میں واقع ہے- روزانہ ہزاروں افراد چوبیس گھنٹے خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں ۔ خانہ کعبہ کی مقدس تصاویر لاکھوں گھروں کی زینت ہیں اور کروڑوں مسلمان اس مقام کو اپنا قبلہ تسلیم کرتے ہوئے اس کی جانب رخ کر کے پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہیں۔ خانہ کعبہ مکعب  کی شکل میں تعمیر ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخ کے آئینہ میں ایک انتہائی خاص مقام کا حامل بھی ہے۔ یہاں ہم خانہ کعبہ کے متعلق چند ایسے حقائق پیش کریں گے جن سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔
خانہ کعبہ کئی مرتبہ تعمیر ہو چکا ہے
خانہ کعبہ جس طرح آج ہمیں نظر آتا ہے یہ ویسا نہیں ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے دور میں دوبارہ تعمیر ہوا تھا۔ وقت کے ساتھ پیش آنے والی قدرتی آفات اور حادثات کی وجہ سے اس کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت پڑتی رہی ہے۔ بیشک ہم سب جانتے ہیں کہ خانہ کعبہ کی دوبارہ تعمیر کا ایک بڑا حصہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں نبوت ملنے سے قبل ممکن ہو چکا تھا، یہ وہ وقت تھا جب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک بڑی خون ریزی کو اپنی دور اندیشی سے روکا تھا۔ ایک بڑے کپڑے میں ہجرِ اسود کو رکھ کر ہر قبیلے کے سردار سے اُٹھوایا تھا۔ اس کے بعد آنے والے وقت میں کئی مرتبہ خانہ کعبہ کی تعمیر ہوتی رہی ہے۔ آخر میں خانہ کعبہ کی تفصیل سے آرائش 1996 میں ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں بہت سارے پتھروں کو ہٹا دیا گیا تھا اور بنیاد کو مضبوط کر کے نئی چھت ڈالی گئی تھی۔ یہ اب تک کی آخری بڑی تعمیر ہے اور اب خانہ کعبہ کی عمارت کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط تصور کیا جاتا ہے۔
اس کے دو دروازے اور ایک کھڑکی ہوا کرتی تھی
دوبارہ تعمیر کئے جانے سے قبل خانہ کعبہ کا ایک دروازہ اندر داخل ہونے کے لئے اور ایک باہر جانے کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ ایک زمانہ تک خانہ کعبہ میں ایک کھڑکی ہوا کرتے تھی۔ خانہ کعبہ کی جو شکل آج موجود ہے اُس میں صرف  ايك دروازہ ہے کھڑکی نہیں۔

خانہ کعبہ کے مختلف رنگ
ہم لوگوں نے خانہ کعبہ کو ہمیشہ کالے رنگ کی کسواہ اور سونے کے دھاگوں میں دیکھنے کی ایسی عادت ہو چکی ہے کہ ہم اس کو کسی اور رنگ میں تصور بھی نہیں کر سکتے، یہ روایت عباسد (جن کے گھر کا رنگ کالا تھا) کے دور سے چلی آ رہی ہے اور لیکن اس سے قبل خانہ کعبہ مختلف رنگ کے غلاف سے ڈھکا رہتا تھا ان رنگوں میں ہرا ، لال اور سفید رنگ شامل ہیں۔

خانہ کعبہ کی چابیاں ایک خاندان کی تحویل میں ہیں
فتح مکہ کے وقت، نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کی چابیاں دی گئی تھیں لیکن بجائے اس کے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم یہ چابیاں اپنے پاس رکھتے، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ چابیاں بنی شائبہ خاندان کے عثمان بن طلحہٰ کو واپس کر دیں۔ اُس وقت سے آج تک وہ ان چابیوں کے روایتی رکھوالے ہیں اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے نادر الفاظ کی روشنی میں یہ چابیاں ہمیشہ اُن کے پاس ہی محفوظ رہیں گی۔ ’’ اے بنی طلحہٰ، یہ چابیاں روزِ قیامت تک تیری تحویل میں رہیں گی، سوائے اس کے کہ زور زبردستی تجھ سے غیر اخلاقی طریقے سے چھین لی جائیں۔

پہلے خانہ کعبہ عوام کے لئے کُھلا رہتا تھا
پہلے خانہ کعبہ ہفتہ میں دو مرتبہ عوام کے لئے کُھلا ہوتا تھا اور کوئی بھی خانہ کعبہ کے اندر داخل ہو کر عبادت کر سکتا تھا لیکن موجودہ زمانے میں زائرین کی تعداد زیادہ ہونے اور دوسری وجوہات کی بنأ پر خانہ کعبہ کو اب سال میں صرف دو مرتبہ کھولا جاتا ہے اور اس میں صرف اعلیٰ شخصیات اور خاص مہمان ہی صرف داخل ہوسکتے ہیں۔

خانہ کعبہ کے آس پاس تیراکی کی جا سکتی تھی
خانہ کعبہ کے وادی کے نچلے حصہ میں ہونے کی وجہ سے دیگر مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ تھا کہ جب بارش ہوا کرتی تھی تو وادی میں سیلاب آ جاتا تھا- یہ مکہ جیسے شہر کے لئے کوئی انوکھی بات نہیں تھی لیکن یہ بات دوسرے مسائل کی وجہ بنتی تھی- اس وقت یہاں سیلاب کی روک تھام اور نکاسی آب کا نظام موجود نہیں تھا۔ بارش کے آخری دنوں میں خانہ کعبہ پانی میں آدھا ڈوبا رہتا تھا۔ کیا اس وجہ سے طوافِ کعبہ رُکا؟ ہرگز نہیں۔ مسلمان کعبہ کے ارد گرد تیراکی کرکے خانہ کعبہ کا طواف جاری رکھتے تھے۔

تزئین و آرائش کروانے والے حکمرانوں کے نام کی تختی
کئی سال تک بہت لوگ اندازہ لگاتے رہے کہ خانہ کعبہ اندر سے کیسا نظر آتا ہے؟ دوسری اور تیسری معلومات کے ذریعے کے مطابق وہ لوگ خوش نصیب ہیں جن کو خانہ کعبہ کے اندر داخل ہونے کی سعادت ملی اور ایک خوش نصیب وہ ہے جس کو تصویر بنانے کا موقع ملا اور لاکھوں لوگوں نے یہ تصویر انٹرنیٹ پر آن لائن دیکھی۔ خانہ کعبہ کا اندر کا حصہ سنگِ مرمر اور ہرے رنگ کے کپڑے سے ڈھکا ہوا ہے۔ جس دور کے حکمران نے خانہ کعبہ کی دوبارہ آرائش کروائی اس نے خانہ کعبہ کے اندر اپنے نام کی تختی بھی لگوائی

خانہ کعبہ کی تعداد دو ہے
خانہ کعبہ کے بالکل اوپر ساتويں آسمان  میں ایک اور خانہ کعبہ بھی موجود ہے۔ جس کو بیت المعمور کہتے ہیں۔ اس کا اشارہ قرآن پاک میں بھی موجود ہے اور نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی اس بات کی نشان دہی کی ہے ۔ اﷲ کے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے معراج کا واقعہ سناتے ہوئے فرمایا: ــــ’’جب مجھے بیت المعمور (اﷲ کا گھر) دکھایا گیا تو میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ یہ بیت المعمور ہے جہاں ستر ہزار فرشتے روزانہ اﷲ کی عبادت کرتے ہیں اور جب وہ یہاں سے جاتے ہیں تو واپس نہیں آتے (ہمیشہ نیا دستہ آتا ہے)۔یعنی ایک فرشتے کو صرف اس کے طواف کی ایک بار سعادت ملتی ہے

حجرِ اسود
کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے حجرِ اسود چاندی کے سانچے میں کیوں گھرا رہتا ہے؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حجرِ اسود "حجاج بن یوسف " کی فوج کے ہاتھوں مارے گئے پتھر لگنے کی وجہ سے وقت ٹوٹ گیا تھا جب اس نے حضر ت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر لشکر کشی کی تھی۔ کچھ ذرائع کے مطابق حجرِ اسود بحرین سے تعلق رکھنے والے اسماعیلی گروپ ــکے ہاتھوں ٹوٹ گیا تھا۔ ان لوگوں کا یہ خیال تھا کہ حج ِ مبارک ایک توہم پرستی کا عمل ہے اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے ان لوگوں نے دس ہزار حجاج کو مار کر ان کی باقیات کو آبِ زم زم کے کنواں میں پھینک دیا تھا۔ یہ غیر انسانی عمل کافی نہیں ہے، یہ شیطان حجرِ اسود کو عرب کے مشرق میں لے گئے اور پھر عراق کے شہر کفا لے گئے جہاں اس کے عوض تاوان وصول کیا جب ان کو مجبور کیا گیا تو ان لوگوں نے اسے خلیفہ عباسد کو واپس کر دیا ، لیکن جب اسے واپس کیا گیا تو یہ ٹکڑوں میں تھا اور اس کو یکجان کرنے کا صرف ایک طریقہ سمجھ آیا تھا کہ اس کو چاندی کے سانچے میں رکھا جائے، کچھ تاریخ دانوں کے مطابق اس مقدس پتھر کے کچھ حصے آج بھی کہیں گم ہیں۔

خانہ کعبہ مکعب کی شکل کا نہیں
مکعب کی شکل سے مشہور خانہ کعبہ دراصل مستطیل کی شکل کا ہے۔خانہ کعبہ کبھی بھی مکعب کی شکل کا نہیں تھا اس کی اصل زاوئے کے مطابق ایک یہ ایک آدھا گول حصہ ہے جس کو حجر اسماعیل کہا جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو نبوت ملنے سے پہلے جب خانہ کعبہ کی دوبارہ تعمیر ہوئی تھی تب قریش نے اس بات کی حامی بھری تھی کہ وہ حلال کمائی سے ہی اس کی تعمیر مکمل کریں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جوئے، لوٹ مار، جسم فروشی اور سود جیسے حرام کاموں سے کمایا ہوا پیسہ استعمال نہیں ہوگا قریش اتنے امیر تجارتی شہر میں ہونے کے باوجود اتنی رقم جمع کرنے میں ناکام ہو چکے تھے جو خانہ کعبہ کی تعمیر اُس کے اصل سائز اور رقبہ کے حساب سے کر سکیں۔ انہوں نے خانہ کعبہ کی چھوٹی عمارت تعمیر کی اور اس کی دیواریں مٹی کی اینٹوں سے بنائی (جس کو حجرِ اسماعیل کہا جاتا ہے حالانکہ  اس کا حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کوئی تعلق نہیں) جو کہ خانہ کعبہ کے حقیقی قطر کی جانب اشارہ کرتی تھیں۔ خلیفہ عبد اﷲ بن زبیر کے دورِ حکومت کے چند سال کے مختصر وقفہ میں خانہ کعبہ اپنی اُسی شکل میں موجود تھا جس میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے دیکھا تھا۔

حطیم خانہ کعبہ میں کیوں شامل نہیں کیا گیا۔
اور خانه کعبہ کا دروازہ اونچا کیوں
اس کا جواب اس حدیث شریف میں موجود ہے۔
امام مسلم رحمہ اللہ تعالٰی نے عائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا سے حدیث بیان فرمائی ہے کہ
"عائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حطیم کے بارے میں سوال کیا کہ کیا یہ بیت اللہ کا ہی حصہ ہے ؟
تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا جی ہاں!، عائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں میں نے پوچھا کہ اسے پھر بیت اللہ میں داخل کیوں نہیں کيا گيا ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب تھا کہ تیری قوم کے پاس خرچہ کے لیے رقم کم پڑگئی تھی ۔
میں نے کہا کہ بیت اللہ کا دروازہ اونچا کیوں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا تیری قوم نے اسے اونچا اس لئے کیا تا کہ وہ جسے چاہیں بیت اللہ میں داخل کریں اورجسے چاہیں داخل نہ ہونے دیں ۔
اور اگرتیری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوتی اوران کے دل اس بات کوتسلیم سے انکارنہ کرتے تو میں اسے ( حطیم ) کوبیت اللہ میں شامل کردیتا اوردروازہ زمین کے برابرکردیتا"۔
Share:

سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ

سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں۔ ان کا اصل نام عبدالشمس تھا۔ سورج کا بندہ، پھر حضورأكرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے ان کا نام عبدالرحمن رکھا لیکن شہرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) کے نام سے ہوئی۔ یہ سن سات ہجری میں ایمان لے کر آئے ہیں
 یعنی حضور أكرم  صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے دنیا سے تشریف لے جانے سے تین سال قبل۔ حضور أكرم  صلی اللہ علیہ وآله وسلم غزوه خیبر میں تشریف لے گئے تھے، اس وقت یہ ایک وفد کے ساتھ مدینہ منوّرہ اسلام قبول کرنے آئے تھے۔ انہیں پتہ چلا کہ حضور أكرم  صلی اللہ علیہ وآله وسلم غزوه خیبر کے لیے تشریف لے گئے ہیں تو یہ بھی وہاں پہنچ گئے اور وہاں پہنچ کر انہوں نے اسلام قبول کیا ہے۔
دو قسم کے بندے:
جب اللہ پاک نے دین کا کام کسی بندے سے لینا ہوتا ہے تو اللہ پاک خود اس کے اسباب پیدا فرما دیتے ہیں۔ اللہ پاک کا معاملہ اپنے بندوں کے ساتھ دو قسم کا ہے۔ ایک تو یہ کہ بندہ خود اللہ پاک کی طرف آئے اور دوسرا یہ کہ اللہ پاک خود بندہ کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، چاہے وہ محنت کرے یا نہ کرے ۔ جب اللہ پاک کو اس سے دین کا کام لینا ہوتا ہے تو اسباب خود بخود بنتے چلے جاتے ہیں۔ اللہ پاک اس کی طبیعت اور مزاج ہی ایسا بنا دیتے ہیں کہ وہ دین کا کام کرتا ہی کرتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ‘ بھی انہیں اشخاص میں سے ہیں جن سے اللہ پاک نے اپنے دین کا کام لینا تھا۔

۴۷۳۵ احادیث یاد تھیں:
عجیب بات یہ ہے کہ صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین ) ایسے بھی ہیں جو مکہ مکرمہ میں اسلام لے کر آئے ، جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ‘ اسلام قبول کرنے کے بعد تیرہ سال مکے میں رہے ، مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں بھی دس سال اسلام کی حالت میں رہے۔ اتنے عرصے میں ان کی احادیث چند سو ہیں یعنی بہت کم احادیث انہوں نے نقل کی ہیں لیکن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ‘ نے سن سات ہجری میں اسلام قبول کیا ہے اور پانچ ہزار تین سو چوہتر احادیث ان سے مروی ہیں۔ اتنی احادیث کسی بھی صحابی سے مروی نہیں البتہ یہ بات تو خود فرمایا کرتے تھے کہ کسی کومجھ سے ز یادہ احادیث یاد نہیں تھیں ، البتہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو مجھ سے زیادہ یاد تھیں وہ لکھ لیا کرتے تھے میں لکھا نہیں کرتا تھا اور مجھ سے زیادہ ان کے علاوہ اور کسی کو بھی یاد نہیں تھیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی احادیث کتابوں میں اتنی ملتی ہی نہیں ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی احادیث کتابوں میں اتنی ملتی ہیں کہ کوئی حدوحساب ہی نہیں۔ اس کی وجہ علمائے کرام نے یہ لکھی ہے کہ اصل میں اللہ پاک نے ان سے یہ کام لینا تھا، اس لیے مدینہ منورہ میں جو علم کا مرکز تھا وہیں انہوں نے قیام کیا اور وہیں بیٹھ گئے۔ دنیا بھر سے لوگ آتے اور علم دین حاصل کرتے اور دنیا کے ہر خطے میں پہنچتے اور پہنچاتے۔البتہ حضرت عمر بن العاص رضی اللہ عنہ جو تھے ان کو اللہ پاک نے مصر پہنچادیا ، مصر میں احادیث حاصل کرنے کے لیے کوئی جاتا ہی نہیں تھااس لیے ان کی احادیث لوگوں تک اتنی نہیں پہنچی ہیں۔
کثرت روایت کی دو وجہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی کثرت روایت کی دو وجہ تھیں۔ ایک وجہ اختیاری تھی اور دوسری وجہ غیر اختیاری تھی۔
پہلی وجہ اختیاری وجہ تو یہ بیان کرتے تھے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اکثر کام کاج کرتے تھے، بازاروں میں جاتے تھے، کھیتوں میں کام کرتے تھے اور میں بھوکا آدمی مسجد نبوی میں پڑا رہتا تھا ، کئی کئی دن فاقے میں گزرجاتے ، اس حال میں میں نے حدیث شریف کا علم حاصل کیا ہے۔ جب انسان کو کوئی کام کاج نہ ہو اور اس کو علم ہی حاصل کرنا ہوتو اللہ پاک اس کوپھرعلم عطا فرمائیں گے۔ آپ عام طور پر دیکھتے ہوں گے کہ علماء کام کاج نہیں کرتے اور لوگ اکثرعلماء پر اعتراض کیا کرتے ہیں کہ جی! یہ مولوی تو مفت خورے ہیں ، ان کو کوئی کام ہی نہیں ہوتا۔ لیکن اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اصل میں اللہ پاک نے جن لوگوں سے دین کا کام لینا ہوتا ہے ان کو یکسوئی عطا فرماتے ہیں، یکسوئی کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ دنیا کا کام کاج نہ کرے۔ اسی لیے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ‘ دنیا کے کام کاج میں نہیں لگے کہ انہیں علم دین حاصل کرنا مقصود تھا اور بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایسے تھے جن کا کام ہی علم دین حاصل کرنا تھا۔وہ دنیا کا کام کاج کوئی نہیں کرتے تھے بس لوگ ہی ان کے کھانے اورپینے کا انتظام کیا کرتے تھے، کوئی اپنا کھجور کا خوشہ توڑ کر لے آیا اور مسجد نبوی میں لٹکادیا۔ان بے چاروں نے اسے کھا کر اپنا گزارا کرلیا ،کھانا ان کو ملتانہیں تھا مہینوں گزر جاتے دو تین کھجور کھاکر پانی پی کر۔ بس اسی طرح ان کا گزارا ہوا کرتا تھا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ان سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم ہڈ حرام بن کر بیٹھے ہوئے ہو ، کوئی کام کاج نہیں کرتے جاوٴ جا کر کوئی کام وغیرہ کرو۔
جو حضرات بازاروں میں تجارت کرنے والے تھے وہ تو تجارت کیا ہی کرتے تھے یہ حضرات جنہوں نے اپنے آپ کو دین کے حصول کے لیے وقف کردیا تھا ان کو کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی باتیں نہیں کہیں بلکہ اللہ پاک کےحضور أكرم  صلی اللہ علیہ وآله وسلم ان کو جنت کی بشارتیں سنایا کرتے تھے۔ احادیث کی کتابوں میں آ تا ہے کہ یہ غریب قسم کے لوگ تھے ان کے پاس پہننے کو کپڑا نہیں ہوا کرتا تھا، یعنی ایک چادر ہے وہ ناف سے لے کر گھٹنوں تک آرہی ہے باقی سارا جسم ان کا ننگا ہے۔ صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ ہم مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضور أكرم  صلی اللہ علیہ وآله وسلم تشریف لائے ہم ایک دوسرے کے اندر اس طرح گھس کر بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارا ستر تو چھپا ہوا تھا مگر باقی جسم جو ہے وہ بھی نظر نہ آئے کیونکہ اس حالت میں شرم سی آتی ہے تو اس طرح ایک دوسرے سے خود کوچھپا رکھا تھا تاکہ لوگوں کو نظر نہ آئے۔ حضور أكرم  صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے ہمیں دیکھا توفرمایا :کہ دائرہ بنا لو جب ہم نے دائرہ بنا لیا تو ہم سب کے جسم نظر آنے لگے ستر تو چھپا تھا لیکن باقی جسم نظر آنے لگا۔جبحضور أكرم  صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے ان کی یہ حالت دیکھی تو آپ نے یہ بھی نہیں کہا کہ جاوٴ بازار میں جا کر کماوٴ بلکہ فرمایا: اللہ پاک تمہیں جنت عطا فرمائیں گے اور دنیا کے مال داروں سے پانچ سو سال پہلے تم لوگ جنت میں جاوٴ گے۔ معلوم ہوا کہ علم یکسوئی چاہتا ہے۔
دوسری وجہ غیر اختیاری:
ایک وجہ یہ تھی ان کی علم کے حاصل ہونے کی دوسری وجہ تھی اللہ پاک کے حضور أكرم  صلی اللہ علیہ وآله وسلم کی دعا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نے حضور أكرم  صلی اللہ علیہ وآله وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم جو یاد کرتا ہوں بھول جاتا ہوں، آپ کی حدیث سینے سے نکل جاتی ہے۔ حضور أكرم  صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا: اچھا ایسا کرو کپڑا بچھاوٴ! میں نے کپڑا بچھا دیا اور حضور أكرم  صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے کچھ پڑھا اور کپڑے کو ہاتھ لگایا اور فرمایا: اس چادر کو اپنے سینے سے لگا لو، میں نے ایسا ہی کیا۔ فرماتے ہیں:اس دن کے بعد سے میں کبھی حدیث نہیں بھولا۔ معلوم ہوا کہ یہ چیز تھی غیر اختیاری ،ہر آدمی اپنی کوشش سے حاصل نہیں کرسکتا۔ اللہ پاک ہمیں ان کی نقل کی ہوئی احادیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Share:

أحناف رفع یدین کیوں نہیں کرتے؟

أحناف رفع یدین کیوں نہیں کرتے؟ 
اہلسنّت وجماعت(احناف)اور غیر مقلد حضرات کے مابین بنیادی اختلاف تو ان کے عقائد ونظریات کی وجہ سے ہے۔علاوہ ازیں کچھ  فروعي مسائل کا اختلاف بھی ہے۔اس دوسری قسم کے حوالہ سے جن مسائل میں اختلاف جاری ہے ان میں ایک مسئلہ نماز میں’’رفع یدین‘‘ كرنے  کا بھی ہے۔
جسے اس وقت ایک معرکۃ الآراء مسئلہ بنا دیا گیا ہے اورمخالفین کی طرف سے اس پر یوں اودھم مچایا جاتا ہے ،جیسے ’’اسلام اورکفر‘‘ کا فیصلہ ایک اسی مسئلہ پر ہو،حالانکہ إهلحديث حضرات کے اپنے ’’جید‘‘ اور ’’اجل‘‘ قسم کے ’’علماء وفضلاء‘‘ نے بھی اس حقیقت کو اب چاروناچار تسلیم کرہی لیا ہے کہ ’’رفع یدین‘‘نہ کرنا بھی سنت ہے،اور اگر کوئی نمازی ساری عمربھی ’’رفع یدین‘‘ نہ کرے تو اس پر کوئی ملامت اور اعتراض نہیں ہے بلکہ انہوں نے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اس مسئلہ میں لڑنا جھگڑنا تعصب اور جہالت سے خالی نہیں ہے۔
ہم سب سے پہلے اس مسئلہ پر اپنا مؤقف اور اس پرقرآنی آیت، چند احادیث مبارکہ اورجلیل القدر صحابہ کرام   تابعین اوردیگر ائمہ دین و علماء کے اقوال وآراء پیش کریں گے،پھر آخر میں إهلديث حضرات  کی ’’عبارات‘‘ پیش کرکے روزِ روشن کی طرح واضح کردیں گے کہ اہل سنت وجماعت کا عمل برحق اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے،جبکہ مخالفین کا شور وغل بے معنٰی وبے مقصد ہے۔واللہ ولی التوفیق، علیہ توکلنا والیہ المصیر۔
اہلسنّت والجماعت کا مؤقف:
حضرت امام محمد رحمہٗ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
السنۃ ان یکبر الرجل فی صلاتہ کلما خفض وکلما رفع واذا انحط للسجود کبر واذا انحط للسجود الثانی کبر فامارفع الیدین فی الصلوٰۃ فانہ یرفع الیدین حذوالاذنین فی ابتداء الصلوٰۃ مرۃ واحدۃ ثم لایر فع فی شئی من الصلوٰۃ بعد ذلک وھذاکلہ قول ابی حنیفۃ رحمہٗ اللہ وفی ذلک اٰ ثار کثیرۃ۔
(مؤطا امام محمد ص۹۰،۹۱)

یعنی سنت یہ ہے کہ آدمی اپنی نماز میں ہر اونچ نیچ پر اللہ اکبر کہے، جب سجدہ کرے اور دوسرے سجدے کے لیے جھکے تو تکبیر کہے۔پس نماز میں رفع یدین کا مسئلہ،تو وہ یہ ہے کہ (نماز ی کا)نماز کے شروع میں صرف ایک بار کانوں کے برابر ہاتھ اٹھانا ہے،اس کے بعد نماز میں کسی مقام پر بھی رفع یدین نہیں کرے گا۔یہ امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کا مؤقف ہے اوراس بارے میں کثیر آثار ہیں۔
 حضرت امام طحاوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
فانھم قد اجمعواان التکبیرۃ الاولیٰ معھا رفع وان التکبیرۃ بین السجدتین لارفع معھا واختلفوا فی تکبیرۃ النھوض وتکبیرۃ الرکوع فقال قوم حکمھا حکم تکبیرۃ الافتتاح وفیھما الرفع کما فیھا الرفع وقال اٰخرون حکمھما حکم التکبیرۃ بین السجدتین ولارفع فیھما کما لا رفع فیھا…وھو قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمھم اللہ تعالیٰ۔
(شرح معانی الآثار ج۱ص۱۴۸)
یعنی اس بات پر ان کا اتفاق ہے کہ پہلی تکبیر کے ساتھ رفع یدین ہے اور سجدوں کے درمیان تکبیر کے ساتھ رفع یدین نہیں ہے اور انہوں نے جھکنے کے لیے اور رکوع والی تکبیر کے رفع یدین کے متعلق اختلاف کیا ہے۔پس ایک قوم نے کہا کہ ان دونوں کا حکم افتتاح والی تکبیر کے حکم کی طرح ہے جس طرح وہاں رفع یدین ہے تو ان دونوں مقامات پر بھی رفع یدین ہوگا ۔جبکہ دوسری جماعت نے کہا ہے کہ ان دونوں تکبیروں کا حکم سجدوں کے درمیان والی تکبیر کے حکم کی طرح ہے جس طرح سجدوں کے وقت رفع یدین نہیں ہے ایسے ہی رکوع کے وقت بھی رفع یدین نہیں کیا جائے گا۔ اور یہی قول امام اعظم ابوحنیفہ، قاضی ابویوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہم تینوں کا ہے(کہ رفع یدین صرف نماز کے شروع میں کیا جائے گا رکوع اور سجود کے وقت نہیں) ۔
حضرت ملا علی قاری حنفی علیہ الرحمہٗ فرماتے ہیں:
ولیس فی غیر التحریمۃ رفع یدین عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ لخبر مسلم عن جابر بن سمرۃ۔
(مرقاۃ ج۲ص۲۷۵،حاشیہ نسائی ج۱ص۱۶۱)
امام اعظم ابوحنیفہ رحمہٗ اللہ کے نزدیک تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہیں کرنا چاہیئے،اس کی دلیل سیدنا جابر بن سمرہ رضي الله تعالى عنه  والی روایت ہے۔ جسے امام مسلم نے نقل کیا ہے۔
مولانا عبدالحی لکھنوی نے لکھا ہے:
قول ابی حنیفۃ ووافقہ فی عدم الرفع الامرۃ الثوری والحسن بن حیی وسائرفقھا ء الکوفۃ قدیما وحدیثاوھو قول ابن مسعود واصحابہ…الخ
یعنی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کامؤقف ہے کہ رفع یدین صرف ایک بار کرنا چاہیئے۔اور امام سفیان ثوری ،حسن بن حیی اور تمام متقدمین اور متاخرین فقہائے کوفہ اور حضور عبداللہ بن مسعود اور آپ کے اصحاب کا بھی یہی مؤقف ہے۔(التعلیق الممجد ص۹۱)

قرآن مجید کا فیصلہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قد افلح المؤمنون الذین ھم فی صلوٰتھم خاشعون۔
(المؤمنون،۱،۲)
ترجمہ:تحقیق وہ ایمان والے کامیاب ہوگئے،جو اپنی نمازوں کو خشوع وخضوع سے ادا کرتے ہیں۔
محدثین کی وضاحت:
اس کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت امام حسن بصری تابعی ص بیان کرتے ہیں:
’’خاشعون الذین لایرفعون ایدیھم فی الصلوٰۃ الا فی التکبیرۃ الاولیٰ‘‘ ۔
(تفسیر سمر قندی ج۲ص۴۰۸)
ترجمہ:خشوع وخضوع کرنے والے وہ لوگ ہیں جو نماز کی ابتداء میں صرف ایک بار رفع یدین کرتے ہیں۔
یعنی بار بار رفع یدین کرنا نماز میں خشوع وخضوع کے منافی ہے اس لیئے صرف ایک بار شروع میں ہی رفع یدین کرنا چاہیئے۔ اس کے بعد رکوع وسجود کے وقت رفع یدین کرنا درست نہیں۔
 امام بیہقی علیہ الرحمۃ رقمطراز ہیں:
جماع ابواب الخشوع فی الصلوٰۃ والاقبال علیما ۔قال اللہ جل ثناؤہ،قد افلح المؤمنون الذین ھم فی صلوٰتھم خاشعون…عن جابر بن سمرۃ…قال دخل علینا رسول اللہا ونحن رافعی ایدینا فی الصلوٰۃ فقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کانھا اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلوٰۃ۔
(السنن الکبریٰ ج۲ص۲۸۰،۲۷۹)
ترجمہ:نماز میں خشوع وخضوع کرنے کا بیان۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: تحقیق وہ ایماندار فلاح پاگئے جو اپنی نمازیں خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں…
سیدنا جابر بن سمرہ ص…بیان کرتے ہیں:
رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے،اس حال میں کہ ہم نماز میں رفع یدین کررہے تھے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں رفع یدین کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں،جیسے وحشی گھوڑے اپنی دمیں ہلاتے ہیں۔نماز سکون سے ادا کرو
شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں:
عدم رفع راجح ست بآں کہ وے از جنس سکون ست کہ مناسب ترست بحال صلوٰۃ کہ خضوع وخشوع است ۔
ترجمہ:رفع یدین نہ کرنا راجح ہے اور اس کا تعلق سکون سے جو نماز کے مناسب ہے کہ اس میں خضوع وخشوع ہونا چاہئیے۔
(اشعۃ اللمعات ج۱ص۳۵۸)
ان حوالہ جات سے واضح ہوگیا کہ:
 نماز میں صرف ایک مرتبہ ،شروع میں ہی رفع یدین کرنا چاہیئے۔
 باربار رفع یدین کرنا نماز میں خشوع وخضوع اور سکون کے خلاف اور ناپسندیدہ ہے۔
 اللہ تعالیٰ نے نماز میں خشوع وخضوع کرنے کا حکم دیا اور رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں سکون اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔
 جو لوگ نماز میں صرف ایک بار رفع یدین کرتے ہیں وہ دونوں حکموں کو مانتے ہیں ۔
 صرف ایک بار رفع یدین والی نماز اللہ ورسول دونوں کو پسند ہے۔
 صرف ایک بار رفع یدین کرنے والے کا میاب اور بامراد ہیں۔

Share:

پہلی تکبیر (تحریمہ) کے سوا نماز میں رفع یدین نہ کرنے کے دلائل

پہلی تکبیر (تحریمہ) کے سوا نماز میں 
رفع یدین نہ کرنے کے دلائل
علماء امت کا  يه فیصلہ ہے کہ جن اختلافی مسائل میں ایک سے زائد صورتیں "سنّت" سے ثابت ہیں، ان میں عمل خواہ ایک صورت پر ہو مگر تمام صورتوں کو شرعاً درست سمجھنا ضروری ہے. اگر کوئی فرد یا جماعت ان مسائل میں اپنے مسلک_مختار (اختیار شدہ راستہ) کا اتنا اصرار کرے، کہ دوسرے مسلک پر طنز و تعریض، دشنام طرازی اور دست درازی سے بھی باز نہ آئے تو اس (فتنہ و فساد) کو ناجائز اور حرام قرار دیا گیا ہے. باہم ٹکراتی اختلافی سنّتوں کے حکم میں فرق اصولِ حدیث و فقہ میں صرف ناسخ و منسوخ کا یا اولیٰ اور غیر اولیٰ (افضل و غیر افضل) کا ہوتا ہے

رفع یعنی بلند کرنا ،  یدین یعنی دونوں ہاتھ
یہ رفع یدین (یعنی دونوں ہاتھ بلند کرنا) ہر مسلمان نماز (کے شروع) میں کرتا ہے، لہذا اختلاف یہ نہیں کہ رفع یدین نہیں کیا جاتا ، بلکہ اختلاف تو اسی بات کا ہے كه صرف نماز میں رفع یدین کتنی بار اور کن کن موقعوں پر کیا جانا چاہیے، . مثَلاً: جو لوگ نماز کے اندر رفع یدین کرتے ہیں، وہ سجدوں میں جاتے اور اٹھتے ہوۓ کیوں نہیں کرتے، جب کہ اس پر صحیح احادیث بھی موجود ہیں؟ جیسے

 سجدوں میں رفع یدین کی احادیث 
كَمَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ " يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي كُلِّ خَفْضٍ ، وَرَفْعٍ ، وَرُكُوعٍ ، وَسُجُودٍ وَقِيَامٍ ، وَقُعُودٍ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ، وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ [مشكل الآثار للطحاوي » بَابُ بَيَانِ مُشْكِلِ مَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ... رقم الحديث: 5140] المحلى(ابن حزم ) : 4/93
المحدث: ابن القطان - المصدر: الوهم والإيهام - الصفحة أو الرقم: 5/611 - خلاصة حكم المحدث: صحيح
المحدث: الألباني - المصدر: أصل صفة الصلاة - الصفحة أو الرقم: 2/709 - خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ ، وَحِينَ يَرْكَعُ ، وَحِينَ يَسْجُدُ 
[سنن ابن ماجه:850 - مسند أحمد بن حنبل:5995 - فوائد تمام الرازي: 1534 - جزء من حديث أبي عبد الله القطان :166 - شرح معاني الآثار للطحاوي:842]
المحدث: ابن كثير - المصدر: الأحكام الكبير - الصفحة أو الرقم: 3/312
خلاصة حكم المحدث: لا بأس بإسناده
المحدث: أحمد شاكر - المصدر: مسند أحمد - الصفحة أو الرقم: 9/22
خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح
المحدث: الألباني - المصدر: صحيح ابن ماجه - الصفحة أو الرقم: 707
خلاصة حكم المحدث: صحيح

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ " 
.[مسند أبي يعلى الموصلي » بَقِيَّةُ مُسْنَدِ أَنَسٍ ... رقم الحديث: 3701 - مصنف ابن أبي شيبة : رقم الحديث2365 - الأحاديث المختارة: رقم الحديث1834 - المحلى بالآثار لابن حزم: رقم الحديث613 (3 : 9) - فوائد ابن أخي ميمي الدقاق (سنة الوفاة: 390) : رقم الحديث172 - الجزء الأول من الفوائد المنتقاة لابن أبي الفوارس (سنة الوفاة: 412) : رقم الحديث110 - عروس الأجزاء للثقفي (سنة الوفاة:562) : رقم الحديث61 - جزء من مشيخة تقى الدين الأشنهى (سنة الوفاة: 738): رقم الحديث9]
المحدث: الألباني - المصدر: أصل صفة الصلاة - الصفحة أو الرقم: 2/708
خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح جدا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، أَنَّهُ رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي صَلَاتِهِ , إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ رُكُوعِهِ ، وَإِذَا سَجَدَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ سُجُودِهِ , حَتَّى يُحَاذِيَ بِهَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ 
[مسند أحمد بن حنبل » رقم الحديث: 15292 - سنن النسائى الصغرى » كِتَاب التَّطْبِيقِ » بَاب رَفْعِ الْيَدَيْنِ لِلسُّجُودِ ... رقم الحديث: 1074 - المحلى بالآثار لابن حزم » كِتَابُ الصَّلاةِ » الأَعْمَالُ الْمُسْتَحَبَّةُ فِي الصَّلاةِ وَلَيْسَتْ ... رقم الحديث: 612]
المحدث: ابن القطان - المصدر: الوهم والإيهام - الصفحة أو الرقم: 5/611 - خلاصة حكم المحدث: صحيح
المحدث: ابن حجر العسقلاني - المصدر: فتح الباري لابن حجر - الصفحة أو الرقم: 2/261 - خلاصة حكم المحدث: أصح ما وقفت عليه في هذا الباب
المحدث: العظيم آبادي - المصدر: عون المعبود - الصفحة أو الرقم: 2/256 - خلاصة حكم المحدث: صحيح الإسناد [و] لا يستلزم من صحة إسناده صحته

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ , ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ , ثنا هُشَيْمٌ , عَنْ حُصَيْنٍ , وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالا : نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى , نا جَرِيرٌ , عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَهُ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ , قَالَ : صَلَّيْنَا فِي مَسْجِدِ الْحَضْرَمِيِّينَ , فَحَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ , عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلاةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ [سنن الدارقطني » كِتَابُ الصَّلاةِ » بَابُ ذِكْرِ التَّكْبِيرِ وَرَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ ... رقم الحديث: 974]
الراوي: وائل بن حجر الحضرمي والد علقمة المحدث: الألباني - المصدر: أصل صفة الصلاة - الصفحة أو الرقم: 2/707
خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح على شرط مسلم
نا مُعَاذٌ , قَالَ : نا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ اللاحِقِيُّ , قَالَ : نا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ , عَنْ مُطَرِّفٍ , قَالَ : صَلَّيْتُ أَنَا , وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , فَكَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ , وَإِذَا سَجَدَ , فَقَالَ عِمْرَانُ : أَرَى لَقَدْ أَذْكَرَنِي صَاحِبُكُمْ صَلاةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ , صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَقَدْ أَذْكَرَنِي هَذَا صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ , صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ 
[الثالث عشر من الفوائد المنتقاة لأبي حفص البصري (سنة الوفاة:357) رقم الحديث: 104]

 ہر اٹھتے اور جھکتے وقت (یعنی سجدوں میں بھی) رفع یدین
حَدَّثَنَا يَحْيَى , ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ : ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ , وَيَقُولُ : " أَنَا أَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ 
[السادس من الفوائد المنتقاة لابن أبي الفوارس (سنة الوفاة:412) رقم الحديث: 87]

 ہر تکبیر (الله اکبر کہتے هوئے یعنی سجدے میں جاتے اٹھتے) وقت رفع یدین
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رِيَاحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ كُلِّ تَكْبِيرَةٍ 
[سنن ابن ماجه » رقم الحديث: 855 - حديث أبي بكر الأزدي: 50 - المعجم الكبير للطبراني:10781]
المحدث: الألباني - المصدر: صحيح ابن ماجه - الصفحة أو الرقم: 712
خلاصة حكم المحدث: صحيح
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا رِفْدَةُ بْنُ قُضَاعَةَ الْغَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عُمَيْرِ بْنِ حَبِيبٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ كُلِّ تَكْبِيرَةٍ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ " 
.[سنن ابن ماجه » رقم الحديث: 851 - المعجم الكبير للطبراني:13590 - أنساب الأشراف للبلاذري:2678 - معجم الصحابة لابن قانع:1150 - معرفة الصحابة لأبي نعيم:4810 - حلية الأولياء لأبي نعيم:4554 - تاريخ بغداد للخطيب البغدادي:439(3 : 49) + 3919(13 : 335) - تاريخ دمشق لابن عساكر : 16405 (18 : 154) + 38353 (37 : 373) + 43005 (41 : 248) + 56200 (52 : 350) - تهذيب الكمال للمزي : 869]
المحدث: الألباني - المصدر: صحيح ابن ماجه - الصفحة أو الرقم: 1/260
خلاصة حكم المحدث: صحيح
عن ابنِ عمرَ رضي الله عنهما أنه كان يرفعُ يدَيْه مع كلِّ تكبيرةٍ
[شرح بلوغ المرام لابن عثيمين - الصفحة أو الرقم: 2/408 - خلاصة حكم المحدث: ثابت]
عَنْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ مِنَ الصَّلَاةِ .[مسند أحمد بن حنبل » رقم الحديث: 14042 - إتحاف المهرة » رقم الحديث: 2556]
بس، بعض روایت میں جو طریقہ و قرینہ ان الفاظ_حدیث کا ((سجدے کے درمیان ہاتھ نہ اٹھاتے)) صراحت سے مذکور ہے، یہ بعد میں رفع یدین نہ کرنے (یا جاری نہ رہنے) کو، واضح کرنے کو کہے گئے. (ورنہ کیوں کہے جاتے؟) بس اسی طرح نبوی طریقہ نماز کے متعلق یہ طریقہ و قرینہ الفاظ_حدیث کا کہ (( نہیں رفع یدین کیا مگر ایک دفعہ ہی ... یعنی نماز کے شروع میں ہی)) واضح کرتا ہے نماز کی بقیہ رفع یدین کے انکار و نفی کو.
اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق ایک دفعہ بعض صحابہ کو رفع یدین کرتے دیکھتے اسے "شریر" گھوڑوں کی دموں (کی حرکت) کی طرح کی مثال دیتے یہ حکم فرمانا کہ (( سکون اختیار کرو نماز میں ))، واضح کرتا ہے نماز کے اندر کی (ساری) رفع یدین کی حرکات کا پہلا (منسوخ کردہ) طریقہ نبوی ہونا اور سکون کے منافی اور پسندیدہ طریقہ نہ رہنا.

سنی (حنفی) مسلمان شروع نماز کے علاوہ 
رفع یدین کیوں نہیں کرتے؟

صحیح مسلم اور رفع یدین
 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ ، كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ ، اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ 
[صحيح مسلم » كِتَاب الصَّلَاةِ » بَاب الأَمْرِ بِالسُّكُونِ فِي الصَّلَاةِ وَالنَّهْيِ ... رقم الحديث: 656]
حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم  ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں رافعی ایدیکم (یعنی تم کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے) دیکھتا ہوں جیسا کہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، سکون اختیار کرو نماز میں
[صحيح مسلم » كِتَاب الصَّلَاةِ » بَاب الأَمْرِ بِالسُّكُونِ فِي الصَّلَاةِ وَالنَّهْيِ ...رقم الحديث: 656(432)
تنبیہ : یہاں عام گھوڑے کی بجاۓ سرکش (شرارتی) گھوڑے کی مثال دی گئی ہے، جس کی دم اوپر نیچے ہوتی ہے.
Share:

مسئلہ رفع یدین


مسئلہ رفع یدین

رفع یدین کی شرعی حیثیت کیا ہے؟


سوال 
اہل حدیث حضرات کہتے ہیں‌ کہ رفع یدین والی تمام احادیثیں صحیح ہیں اور حنفی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس بھی دلیل موجود ہے۔ دو طرفہ دلائل موجود ہیں ایک عام آدمی کیا کرے؟ مہربانی کر کے تفصیلی جواب دیں اور یہ بھی بتائیں کہ اسناد کے اعتبار سے مضبوط دلیل کس کی ہے۔ شکریہ
جواب
بخاری شریف کی حدیث مبارکہ بھی صحیح ہے اور مسلم شریف کی حدیث مبارکہ بھی درست اور صحیح ہے۔ ہم احناف یہ نہیں کہتے کہ رفع یدین والی حدیث صحیح نہیں ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اوائلِ اسلام میں رفع یدین کیا جاتا تھا پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے منسوخ فرما دیا۔ دینِ اسلام میں یہ ایک بڑی خوبی ہے کہ حالات کے مطابق اور لوگوں کے احوال کے مطابق حکم دیا جاتا ہے قرآن مجید میں بھی ناسخ آیات اور منسوخ آیات موجود ہیں، اس طرح حدیث مبارکہ میں بھی ناسخ و منسوخ آحاديث موجود ہیں لیکن یہ ہر کسی کا کام نہیں، ماہر علما کرام یہ پہچان کر سکتے ہیں کہ فلاں حدیث منسوخ ہے اور فلاں نہیں ۔

رفع یدین کو مندرجہ ذیل حدیث مبارکہ سے منسوخ کہتے ہیں 
امام مسلم یہ روایت کرتے ہیں
عن جابر بن سمرة قال خرج علينا رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم فقال مالی اراکم رفعی يديکم کانها اذناب خيل شمس اسکنوا فی الصلوٰة الخ(صحيح مسلم، 1 : 201، طبع ملک سراج الدين لاهور)
جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم ہماری طرف تشریف لائے۔ (ہم نماز پڑھ رہے تھے) فرمایا کیا وجہ سے کہ میں تمہیں شمس قبیلے کے سرکش گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ نماز میں سکون سے رہا کرو۔
اس حدیث پاک میں رفع یدین سے نه صرف منع کیا گیا  بلكه  تشبیہ دی 
گئي کہ شمس قبیلہ کے گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ نہ اٹھاؤ۔
یہ حدیث امام احمد بن حنبل نے بھی روایت کی ہے، امام ابو داؤد نے بھی روایت کی ہے، مسند ابی عوانہ میں بھی روایت کی گئی، امام بیہقی نے سنن کبری میں روایت کی ہے، 

امام ترمذی اور  امام ابو داؤد حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں 
قال ابن مسعود الا اصلی بکم صلوٰة رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم فصلی فلم يرفع يديه
 الا فی اول مرة
ابن مسعود رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی اور تمام صحابہ سے فقہی ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ لوگو!  کیا میں تمہیں وہ نماز پڑھاؤں جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ہے؟ تو نماز پڑھائی اور رفع یدین نہیں کیا سوائے پہلی مرتبہ کے۔
اگر رفع یدین منسوخ نہ هوا ہوتا تو آپ ضرور کرتے چونکہ ان کے نزدیک منسوخ تھا۔ اس لیے فرمایا کہ وہ نماز پڑھاؤں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ہے، حالانکہ تمام عمر صحابہ کرام رضوان الله عليهم  آپ ہی کی طرح نماز ادا کرتے رهے 
۔ معلوم ہوا جب رفع یدین منسوخ ہوا تو آپ نے محسوس کیا کہ صحابہ کو بتا دوں۔
Share: