*مسائل زکوۃ، تیسرا سبق*

۔ مالک نصاب ہونا : شریعت کے مقرر کردہ نصاب سے کم مال کے مالک پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔


6۔ مال کا صاحبِ نصاب کے تصرف میں ہونا : مال صاحبِ نصاب کے تصرف میں ہو تو تب ہی اس پر زکوٰۃ فرض ہے مثلاً کسی نے اپنا مال زمین میں دفن کر دیا اور جگہ بھول گیا اور پھر برسوں بعد وہ جگہ یاد آئی اور مال مل گیا، تو جب تک مال نہ ملا تھا اس زمانہ کی زکوٰۃ واجب نہیں کیونکہ وہ اس عرصہ میں نصاب کا مالک تو تھا مگر قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے پورے طور پر مالک نہ تھا۔


7۔ صاحبِ نصاب کا قرض سے فارغ ہونا : مثلاً کسی کے پاس مقررہ نصاب کے برابر مال تو ہے مگر وہ اتنے مال کا مقروض بھی ہے تو اس کا مال قرض سے فارغ نہیں ہے لہٰذا اس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔


8۔ نصاب کا حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہونا : حاجتِ اصلیہ سے مراد یہ ہے کہ آدمی کو زندگی بسر کرنے میں بعض بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جیسے رہنے کیلئے مکان، پہننے کیلئے بلحاظ موسم کپڑے اور دیگر گھریلو اشیائے ضرورت جیسے برتن، وغیرہ۔ اگرچہ یہ سب سامان زکوٰۃ کے مقررہ نصاب سے زائد مالیت کا ہی ہو مگر اس پر زکوٰۃ نہیں ہوگی کیونکہ یہ سب مال و سامان حاجتِ اصلیہ میں آتا ہے۔


9۔ مالِ نامی ہونا : یعنی مال بڑھنے والا ہو خواہ حقیقتاً بڑھنے والا مال ہو جیسے مال تجارت اور چرائی پر چھوڑے ہوئے جانور یا حکماً بڑھنے والا مال ہو جیسے سونا چاندی۔ یہ ایسا مال ہے جس کی قیمت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور اس کے بدلے دیگر اشیاء خریدی جاسکتی ہیں۔ لہٰذا سونا چاندی جس حال میں بھی ہو خواہ زیورات اور برتنوں کی شکل میں ہو یا زمین میں دفن ہو ہر حال میں یہ مالِ نامی یعنی بڑھنے والا مال ہے اور ان پر زکوٰۃ واجب ہے۔


10۔ مالِ نصاب کی مدت : نصاب کا مال پورا ہوتے ہی زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی بلکہ ایک سال تک وہ نصاب مِلک میں باقی رہے تو سال پورا ہونے کے بعد اس پرزکوٰۃ نکالی جائے گی۔

*شرائط زکوۃ*


زکوۃ واجب ہونے کی دس  شرائط ہیں، جب یہ تمام شرائط بیک وقت پائی جائیں تو زکوۃ واجب ہوگی ،ان میں سے ایک بھی کم ہوگی تو زکوۃ واجب نہ ہوگی۔ان میں سے کچھ  شرائط  کا تعلق اس شخص  سے ہےجس پر زکوۃ واجب ہوتی ہےاورکچھ کا تعلق مال سے ہے جبکہ ان کے علاوہ دو شرطیں ایسی ہیں جن کا تعلق  کا زکوۃ کی ادائیگی سےہے یعنی وہ شرطیں پائی جائیں گی تو زکوۃ ادا ہوگی ورنہ نہیں۔


*شخص سے متعلق شرائط*


1۔ وہ مسلمان ہو۔کافر پرزکوۃ واجب نہیں۔

2۔ وہ آزاد ہو۔غلام پر زکوۃ واجب نہیں۔(آج کل غلام باندی کا وجود نہیں ہے)

3۔ وہ بالغ ہو، نابالغ پر زکوۃ واجب نہیں۔

4۔ وہ عاقل ہو، پاگل اور سفیہ پر زکوۃ واجب نہیں۔


*مال سے متعلق شرائط*


1۔ مال نصاب کے برابر ہو۔نصاب سے کم مال پر زکوۃ واجب نہیں۔نصاب کامطلب اگلے سبق میں آئے گا.

2۔ ملکیت تام حاصل ہو۔ملکیت تام نہ ہو تو تو زکوۃ واجب نہیں۔ملکیت تام کا مطلب آئندہ اسباق میں آئے گا.

3۔ مملوکہ مال  انسانی ضروریات  سے زائد ہو،لہذا ضرورت اور استعمال کے سامان پر زکوۃ واجب نہیں۔

4۔ مال نامی ہو۔مال نامی  چھ ہیں جن کا ذکر سبق 4 میں  آئے گا۔ان کے علاوہ اموال پر زکوۃ واجب نہیں۔

5۔  نصاب کے برابر مملوکہ مال قرضوں کو الگ کرنے کے بعد ہو!

6۔ چاند کاسال گزرچکاہو۔سال گزرنے سے پہلے زکوۃ واجب نہیں ہوتی ،گو  کوئی ادا کردے تو زکوۃ ادا ہوجائے گی۔ 


*ادائے زکوۃ کی شرائط*


1۔ نیت۔نیت کے بغیر زکوۃ ادا نہیں ہوتی۔ نیت دل میں ہوناکافی ہے، زبان سے زکوۃ کہہ کردینا ضروری نہیں۔نیت یا تو غریب کو دیتے وقت کرے یا جب زکوۃ کا حساب کرکے رقم الگ کرے تب کرلے۔فقیر کو رقم دیتے وقت  زکوۃ کی نیت نہیں تھی، بعد میں خیال آیا کہ زکوۃ کی نیت کرلینی چاہیے تھی تو اگر فقیر کی ملکیت میں رقم موجود ہو تو ابھی بھی زکوۃ کی نیت کرسکتے ہیں،لیکن اگر فقیر کی ملکیت سے وہ رقم نکل چکی ہے تو اب زکوۃ کی نیت نہیں کی جاسکتی،بس وہ صدقہ ہوگیا۔ زکوۃ دوبارہ ادا کرے۔

2۔ ضرورت مندانسان  کودے۔یعنی مال دار کو نہ دے ، زکوۃ کے مصارف میں سے کسی کو دے۔اور اداروں کو نہ دے ، بلکہ اداروں کے غرباکو دے۔

3۔ تملیک۔ غریب کو مالک بنانا ضروری ہے،مالک نہیں بنایا، اباحت کردیا تو زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔اسی طرح  براہ راست مدرسہ ،مسجد ،ہسپتال میں زکوۃ لگانا جائز نہیں؛کیونکہ وہ کوئی غریب انسان نہیں،بلکہ ادارے ہیں اور ادارے مالک نہیں بن سکتے۔انسان مالک بنتے ہیں۔

Share:

زکو ة کی شرائط فرد سے متعلق

 شریعت اسلامیہ نے ھر شخص پر زکوة فرض نہیں کی بلکہ زکوۃ واجب ہونے کی کچھ  شرائط مقرر کی ہیں، جب یہ تمام شرائط بیک وقت  کسی مسلمان میں پائی جائیں گی  تو پھر اس پر زکوۃ واجب ہوگی ، اگر ان میں سے ایک  شرط بھی کم ہوگی تو زکوۃ واجب نہ ہوگی۔ ان میں سے کچھ  شرائط  کا تعلق اس شخص  سے ہے جس پر زکوۃ واجب ہوتی ہےاورکچھ کا تعلق مال سے ھوتا ہے جبکہ ان کے علاوہ دو شرطیں ایسی ہیں جن کا تعلق  زکوۃ کی ادائیگی سے ہے یعنی وہ شرطیں پائی جائیں گی تو زکوۃ ادا ہوگی ورنہ ادا نہیں ھو گی ۔  


شرائطِ زکوة فرد سے متعلق 

زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے مکلف (فرد)  میں چند بنیادی شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔ جب یہ شرائط پوری ہوں گی، تبھی کسی شخص پر زکوٰۃ فرض ھو گی ۔ فرد کے اعتبار سے زکوة کی فرضیت کی چار شرائط  ھیں جو مندرجہ ذیل ھیں : 


مسلمان ہونا

زکوٰۃ صرف مسلمان پر فرض ہے غیر مسلم پر نہیں ۔ چونکہ زکوة خالصتاً ایک عبادت ھے جو صرف مسلمان کے لئے خاص ھے اسی لئے كافر پر زکوة لاگو نہیں ھوتی 


عاقل ہونا

صاحبِ مال کا عقل مند ہونا بھی فرضیت زکوة کی ایک شرط ہے۔ مجنون یعنی پاگل پر زکوة فرض نہیں ھوتی کیونکہ زکوة کی آدائیگی کے لئے صاحبِ نصاب کی رضامندی ضروری ھوتی ھے جو ایک پاگل شخص سے ممکن نہیں ھو سکتی 


بالغ ہونا

صاحبِ مال کا بالغ ہونا بھی زکوة کی فرضیت کے لئے شرط ہے۔ نابالغ اگر مالدار بھی ھو تو بالغ ھونے تک اس پر زکوة فرض نہیں ھوتی 


آزاد ہونا

غلام یا لونڈی پر زکوٰۃ فرض نہیں ھے ۔ زكوة کی فرضیت کے لئے آزاد ھونا بھی ایک شرط ھے ۔ پہلے زمانہ میں جب جہاد ھوتا تھا تو جہاد میں جو  لونڈیاں غلام اتے تھے وہ اس حکم میں داخل ھوتے تھے اب چونکہ بین الاقوامی معاعدوں کی وجہ سے کسی کو لونڈی یا غلام نہیں بنایا جا سکتا اس لئے یہ شرط فی الوقت مفقود ھے کیونکہ اب ھر شخص آزاد ھے 

Share:

زکوة نہ دینے کے دنیاوی نقصانات

 زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر آخرت میں شدید  عذاب کی وعیدیں قرآن پاک اور ا حادیث مبارکہ میں  کثرت سے مذکور ھیں یعنی  قیامت کے دن مال کا گلے کا طوق بننا یا زہریلے سانپ کی شکل میں ڈسنا اور  قہر الٰہی  جیسے اخروی انجام  تو بہرحال اپنی جگہ ھے ھی ھیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ زکوة نہ دینے کے دنیاوی نقصانات جن کا تذکرہ قرآن و حدیث  میں بھی کئی مقامات پر ھوا ھے  بھی بہت زیادہ ھیں ۔ان میں چند نقصانات مندرجہ ذیل ھیں 


 مال میں برکت کا خاتمہ

زکوة نہ دینے کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی ھوتا ھے کہ  زکوٰۃ نہ دینے والے کے حلال مال کی برکت بھی  مٹ جاتی ہے اور بعض اوقات  وہ مال کسی نہ کسی نقصان میں ضائع ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ھے کہ صاحب نصاب کے مال میں یہ مسکینوں کا حق اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ھے اور جب یہ شخص مسکینوں کا حق استعمال کرتا ھے یعنی زکوة  ادا نہیں کرتا تو منجانب اللہ اسے بطور سزا مال کی برکت سے محرومی کا سامنا کرنا پڑتا  ھے جیسا کہ اجکل ھمارے معاشرے میں عام مشاھدہ ھوتا ررھتا ھے 


 آسمانی آفات کا سبب

زکوٰۃ روکنے کی وجہ اللہ تعالیٰ ناراض ھوتے ھیں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی معاشرے میں آسمانی آفات، زلزلے  اور طوفان وغیرہ کا سبب بن جاتی  ہے۔


بخل کی بیماری

 زكوة کی عدم ادائیگی کی نحوست کی وجہ سے دل میں  مال کی محبت رچ بس جاتی ھے اور انسان مال کی محبت میں ھر معاملے میں کنجوسی سے کام لیتا ھے اور بعض اوقات یہ کنجوسی موت تک بھی ختم نہیں ہوتی بلکہ انسان اسی بُری صفت میں جکڑا رہتا ہے۔ اور اسی بری صفت کے ساتھ آخرکار اس دنیا سے چلا جاتا ھے 


خیر و برکت کی دعاؤں سے محرومی

جن غرباء اور مساکین  کی زکوة سے مدد ھوتی ھے وہ لوگ اس شخص کے لئے دل سے دعائیں کرتے ھیں زکوة نہ دینے سے انسان ان دعاؤں سے محروم ھو جاتا ھے اور اور زکو ة دینے سے جو اجر و ثواب اللہ تعالیٰ عطا فرماتے ھیں تارک زکوة اس ثواب سے بھی محروم ہو جاتا ہے ۔ 


 مال کی  بربادی کا سبب

  رسول پاک ﷺ کا ارشاد ھے ۔  ”خشکی وتری میں جو مال ضائع ہوتا ہے وہ  زکوة نہ دینے کی وجہ سے تلف ہوتا ہے ۔” (مجمع الزوائد)


اجتماعی قحط

  اگر اسلامی معاشرے میں لوگوں کی بڑی تعداد زكوة دینا چھوڑ دیتی ھے تو اس کی نحوست پورے معاشرے پر پڑتی ھے اور زکوٰۃ کی عدم ادائیگی پر اجتماعی قحط کا سامنا کر نا پڑ سکتا ھے  جیسا کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ”جو قوم زکاة نہ دے گی اللہ پاک اسے قحط میں مبتلا فرمائے گا ۔

(المعجم الاوسط )

 



Share:

زكوة ادا نہ کرنے پر وعیدیں

زكوة اسلام کا ایک اھم رکن ھے جسے ایک مسلمان صاحب نصاب کے لئے ھر صورت پورا کرنا ضروری ھے ۔ زکوة دینے کے جہاں بہت زیادہ فضائل ھیں وھاں زکوة نہ دینے پربہت سی وعیدیں بھی  قرآن پاک اور آحادیث مبارکہ میں وارد ھوئی ھیں چنانچہ ارشادِ باری تعالی ھے

"يَوْمَ يُحْمى عَلَيْها فِي نارِ جَهَنَّمَ ‌فَتُكْوى ‌بِها جِباهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا ما كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ." (التوبة، آيت نمبر 35)

يعني: جو لوگ زکاة ادا نہیں کرتے اُن کے مال کو جہنم کی آگ میں گرم کر کے اِس سے اُن کی پیشانیوں، پہلووٴں اور پیٹھوں کو داغاجائے گا۔

ایک اور مقام پر ارشادِ خداوندی ھے

"‌سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيامَةِ." (آلِ عمران، آیت نمبر 180)

یعنی: ایسے شخص کے مال کو طوق بنا کے اُس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔

آحادیثِ مبارکہ میں  بھی زکوة نه دینےپر بہت سی وعیدیں موجود ھیں  چنانچہ  بخاري شريف ميں هے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من آتاه الله مالا، فلم يؤد زكاته مثل له ماله يوم القيامة شجاعا أقرع له زبيبتان يطوقه يوم القيامة، ثم يأخذ بلهزمتيه - يعني بشدقيه - ثم يقول أنا مالك أنا كنزك، ثم تلا: (لا يحسبن الذين يبخلون) " الآية."

يعني: ایسے شخص کا مال قیامت کے دن ایسے زہریلے ناگ کی شکل میں آئے گا ،جس کے سر کے بال جھڑ چکے ہوں گے ، اور اس کی آنکھوں کے اوپر دو سفید نقطے ہوں گے،پھر وہ سانپ اُس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا، پھر وہ اس کی دونوں باچھیں پکڑے گا(اور کاٹے گا) اور کہے گا کہ میں تیرا ما ل ہوں ، میں تیرا جمع کیاہوا خزانہ ہوں۔

مسلم شریف میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من صاحب ذهب ولا فضة، لا يؤدي منها حقها، إلا إذا كان يوم القيامة، صفحت له صفائح من نار، فأحمي عليها في نار جهنم، فيكوى بها جنبه وجبينه وظهره ..."

یعنی: ایسے شخص کے لیے آگ کی چٹانیں بچھائی جائیں گی،اور اُن سے ایسے شخص کے پہلو ، پیشانی اور سینہ کو داغا جائے گا۔

ھر صاحبِ نصاب مسلمان کو ھر سال اپنا حساب کرکے زکوة کی آدائیگی کا  خوشدلی سے اھتمام کرنا چاھیے۔ کچھ وقت نکال کر   علماء کرام کے پاس جا کر زکوة کے مسائل سیکھنے چاھیں  تاکہ صحیح طریقہ سے زکوة کی آدائیگی ممکن ھو سکے اور آخرت کی جوابدھی سے محفوظ رھا جا سکے 

اللہ پاک عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے

آمین یا رب العالمین 

Share:

زکوة کی عدم ادائیگی کے متعدد نقصانات

زكوة اسلام کا ایک اھم رکن ھے جسے ایک مسلمان صاحب نصاب کے لئے ھر صورت پورا کرنا ضروری ھے زکوة دینے کے جہاں بہت زیادہ فوائد و فضائل ھیں وھاں زکوة نہ دینے پربہت سی وعیدیں بھی وارد ھوئی ھیں زکوة کی عدم ادائیگی کے متعدد دنیاوی و اُخروی نقصانات ہیں جن میں چند یہ ہیں :


(1) ان فوائد سے محرومی ھو جاتی ھے  جو اسے ادائیگیِ زکوة کی صورت میں مل سکتے تھے ۔


(2) بخل یعنی کنجوسی جیسی بُری صفت سے(اگر کوئی اس میں گرفتار ہوتو) چھٹکارا نہیں مل پائے گا۔ رسول پاک ﷺ کا فرمانِ پاک ہے : ”سخاوت جنت میں ایک درخت ہے جو سخی ہوا اس نے اس درخت کی شاخ پکڑ لی ،وہ شاخ اسے نہ چھوڑے گی یہاں تک کہ اسے جنت میں داخل کر دے اور بخل آگ میں ایک درخت ہے ،جو بخیل ہوا ،اس نے اس کی شاخ پکڑی ،وہ اسے نہ چھوڑے گی ،یہاں تک کہ آگ میں داخل کر ے گی ۔” (شعب الایمان )

(3)مال کی بربادی کا سبب ہے جیسا کہ رسول پاک ﷺ کا ارشاد ھے ۔  ”خشکی وتری میں جو مال ضائع ہوا ہے وہ  زکوة نہ دینے کی وجہ سے تلف ہوا ہے ۔” (مجمع الزوائد)

ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ”زکوة کا مال جس مال میں ملا ہوگا اسے تباہ وبرباد کردے گا ۔”


بعض ائمہ نے اس حدیث کے یہ معنی بیان کیے کہ

زکاۃ واجب ہوئی اور ادا نہ کی اور اپنے مال میں ملائے رہا تو یہ حرام اُس حلال کو ہلاک کر دے گا اور امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ معنی یہ ہیں کہ مال دار شخص مالِ زکاۃ لے تویہ مالِ زکاۃ اس کے مال کو ہلاک کر دے گا کہ زکوة تو فقیروں کے لیے ہے اور دونوں معنی صحیح ہیں۔ (

(4)زکات ادا نہ کرنے والی قوم کو اجتماعی نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ رسول پاک ﷺ نے فرمایا:

”جوقوم زکات نہ دے گی اللہ پاک اسے قحط میں مبتلاء فرمائے گا ۔”

(المعجم الاوسط ،حدیث نمبر۴۵۷۷،ج۳،ص۲۷۵)


ایک اورمقام پر فرمایا:

”جب لوگ زکات کی ادا ئیگی چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ پاک بارش کو روک دیتا ہے اگر زمین پر چوپا ئے مو جود نہ ہو تے تو آسمان سے پا نی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا ۔”


(سنن ابن ماجہ ،کتاب الفتن،باب العقوبات،حدیث نمبر۴۰۱۹،ج۴،ص۳۶۷)


(5) زکات نہ دینے والے پر لعنت کی گئی ہے جیسا کہ حضرت سیدناعبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

”زکات نہ دینے والے پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے ۔”


(صَحِیْحُ ابْنِ خُزَیْمَۃ،کتاب الزکاۃ،باب جماع ابواب التغلیظ،ذکر لعن لاوی…الخ،حدیث نمبر ۲۲۵۰،ج۴،ص۸)


(6)بروزِقیامت یہی مال وبال جان بن جائے گا۔

سورہ توبہ میں ارشاد ہوتا ہے:


وَالَّذِیۡنَ یَکْنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنۡفِقُوۡنَہَا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ۙ فَبَشِّرْہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿ۙ۳۴﴾یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیۡہَا فِیۡ نَارِجَہَنَّمَ فَتُکْوٰی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنُوۡبُہُمْ وَظُہُوۡرُہُمْ ؕ ہٰذَا مَاکَنَزْتُمْ لِاَنۡفُسِکُمْ فَذُوۡقُوۡا مَاکُنۡتُمْ تَکْنِزُوۡنَ ﴿۳۵﴾


اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہيں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ ميں خرچ نہيں کرتے انہيں خوش خبری سناؤدرد ناک عذاب کی جس دن وہ تپایا جائے گا جہنم کی آگ ميں پھر اس سے داغيں گے ان کی پیشانياں اورکروٹيں اور پیٹھيں يہ ہے وہ جو تم نے اپنے لئے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھو مزا اس جوڑنے کا۔

(پ۱۰،التوبۃ:۳۴،۳۵)

رسول پاک ﷺ کا فرمان ہے:

”جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ اس کی زکات ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی صورت میں کر دیا جائے گا جس کے سر پر دو چتیاں ہوں گی (یعنی دو نشان ہوں گے)، وہ سانپ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا ۔پھر اس (یعنی زکات نہ دینے والے) کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا : ”میں تیرا مال ہوں،میں تیرا خزانہ ہوں ۔” اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی :

وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبْخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمْ ؕ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ


اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ، ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا۔

(پ۴، اٰل عمران:۱۸۰ )


(صحیح البخاری،کتاب الزکات ، باب اثم مانع الزکوٰۃ،حدیث نمبر۱۴۰۳،ج۱،ص۴۷۴)


(7) حساب میں سختی کی جائے گی

جیسا کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا:

”فقیر ہر گز ننگے بھوکے ہونے کی تکلیف نہ اٹھائیں گے مگر اغنیاء کے ہاتھوں ، سن لو ایسے مالداروں سے اللہ تعالیٰ سخت حساب لے گا اور انہیں درد ناک عذاب دے گا ۔”


(مجمع الزوائد،کتاب الزکوٰۃ،باب فرض الزکوٰۃ،حدیث نمبر۴۳۲۴،ج۳،ص۱۹۷)


(8) عذاب ِ جہنم میں مبتلا ہوسکتا ہے

رسول پاک ﷺ نے کچھ لوگ دیکھے جن کے آگے پیچھے غرقی لنگوٹیوں کی طرح کچھ چیتھڑے تھے اور جہنم کے گرم پتھر اور تھوہر اور سخت کڑوی جلتی بدبو دارگھاس چوپایوں کی طرح چرتے پھرتے تھے۔ جبرائیل امین علیہ السلام سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ عرض کی : یہاں پر مالوں کی زکات نہ دینے والے ہیں اور اللہ پاک نے ان پر ظلم نہیں کیا ،اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں فرماتا ۔


(الزواجر ،کتاب الزکوٰۃ،الکبیرۃ السابعۃ،الثامنۃ والعشرون….الخ،ج۱،ص۳۷۲)


ایک مقام پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

زکات نہ دینے والا قیامت کے دن دوزخ میں ہوگا ۔


(مجمع الزوائد ،کتاب الزکوٰۃ،باب فرض الزکوۃ،حدیث نمبر۴۳۳۷،ج۳،ص۲۰۱)


ایک اور مقام پر فرمایا:

”دوزخ میں سب سے پہلے تین شخص جائیں گے ان میں سے ایک وہ مال دار جو اپنے مال میں اللہ پاک کا حق ادا نہیں کرتا۔”


(صحیح ابن خزیمہ، کتاب الزکوٰۃ،باب لذکر ادخال مانع الزکات النار….الخ ،حدیث نمبر۲۲۴۹،ج۴،ص۸ ملخصاً)


اخیر میں بارگاہ پروردگار میں دست بہ دعا ہوں کہ مولاے پاک اپنے محبوب پاک صاحب لولاک ﷺ کے طفیل ہم میں سے جو صاحب نصاب ہیں انھیں اپنے مال کی زکات نکالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ مستحقین تک اسے پہنچانے کی توفیق بخشے

Share:

زکوة ادا کرنے کی چند فضائل و فوائد

          زکوة مسلمان کے لئے  اللہ تعالی کی جانب سے جاری کردہ ایک فرض  حکم ہے، جس کا پورا کرنا ہرصاحبِ نصاب مسلمان پر ضروری ہے، اس فریضہ کے سرانجام دینے پر انعامات کا ملنا سو فیصد اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے؛ کیونکہ اس فریضے کی ادائیگی تو ہم پر ھر صورت میں لازم تھی ، اس کے پورا کرنے پر شاباش ملنا اور پھر اس پر بھی مستزاد ، انعام کا ملنا (اور پھر انعام، دنیوی بھی اوراُخروی بھی) تو ایک زائد چیز ہے، دوسرے لفظوں میں یوں  سمجھیے کہ مسلمان ہونے کے ناطے اس حکم کا پورا کرنا ہر حال میں لازم تھا، چاہے کوئی حوصلہ افزائی کرے یا نہ کرے،کوئی انعام دے یا نہ دے؛ لیکن اس کے باوجود کوئی اس پر انعام بھی دے تو پھر کیا کہنے! اور انعام بھی ایسے کہ جن کے ہم بہر صورت محتاج ہیں، ہماری دنیوی و اُخروی بہت بڑی ضرورت ان انعامات سے وابستہ ہے۔  زکوة  ادا کرنے  کے بہت سے فضائل و فوائد قران پاک اور آحادیث مبارکہ میں وارد ھوئے ھیں ۔ بطورِ نمونہ چند فضائل و فوائد کا ذکر ذیل  میں کیا جا رھا ھے :- 


تکمیلِ ایمان کا ذریعہ

زکوة دینا تکمیل ِ ایمان کا ذریعہ ہے جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے کہ تم اپنے مالوں کی زکوة ادا کرو۔


رحمتِ الہٰی کا سایہ 

زکوة دینے والے پر رحمتِ الہٰی کا سایہ ہوتا ہے۔ سورۃُ الاعراف میں ہے :

وَ رَحْمَتِیۡ وَسِعَتْ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ فَسَاَکْتُبُہَا لِلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ وَ یُؤْتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ

اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے تو عنقریب میں نعمتوں کو ان کے لئے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوة  دیتے ہیں ۔

(پ۹،الاعراف۱۵۶)


تقویٰ کا حصول

زکوة دینے سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے ۔قرآنِ پاک میں مُتَّقِیْن کی علامات میں سے ایک علامت زکوة  کا ادا کرنا بھی بیان کی گئی ہے ۔ 


فلاح کا راستہ

قرآن پاک میں فلاح کو پہنچنے والوں کا ایک کام زکوة دینا بھی گنوایا گیا ہے چنانچہ ارشاد ہے :

وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ ۙ﴿۴

اور وہ کہ زکوة  دینے کا کام کرتے ہیں۔

(پ ۱۸،المؤمنون ۱تا۴)



 اللہ کی مدد  کا مستحق

اللہ تعالیٰ  زکوة ادا کرنے والے کی مدد فرماتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے “اور بے شک اللہ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بے اس میں زکوة  دینے والیے کو بھی شامل کیا ھے ۔ 


 ھدایت یافتہ لوگوں  میں شمار

 ارشاد باری تعالی ہے اور جو نماز قائم کرتے ہیں اور  زکوة دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تو قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت والوں میں ہوں۔

(پ۱۰،التوبۃ: ۱۸)


 مال کا پاک ہونا

زکوة دینے سے مال پاک ہوجاتا ہے جیسا کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا: ”اپنے مال کی  زکوة نکال کہ وہ پاک کرنے والی ہے، تجھے پاک کردے گی ۔”


 بھائی چارے کا بہترین اظہار

نبی کریمُ ﷺ نے فرمایا ”بیشک مؤمن کیلئے مؤمن مثل عمارت کے ہے، بعض بعض کو تقویت پہنچاتا ہے۔”


فرمانِ رسول ﷺ کا مصداق

ذکوة  مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ مضبوط بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے جس سے اسلامی معاشرے میں اجتماعیت کو فروغ ملتا ہے اور امدادِ باہمی کی بنیاد پر مسلمان اپنے پیارے آقا مدینے والے مصطفی ﷺ کے اس فرمانِ عظیم کا مصداق بن جاتے ہیں: مسلمانوں کی آپس میں دوستی اوررحمت اور شفقت کی مثال جسم کی طرح ہے، جب جسم کا کوئی عضو بیمار ہو تا ہے تو بخار اور بے خوابی میں سارا جسم اس کا شریک ہو تا ہے۔


 مال میں برکت ھونا 

اگرچہ ظاہری طور پر مال کم ہوتا نظر آتا ھے لیکن حقیقت میں بڑھ رہا ہوتا ہے جیسے درخت سے خراب ہونے والی شاخوں کو اُتارنے میں بظاہر درخت میں کمی نظر آرہی ہے لیکن یہ اُتارنا اس کی نشوونما کا سبب ہے۔

 زکوة  دینے والے کی زکوة  ہر سال بڑھتی ہی رَہتی ہے۔ یہ تجرِبہ ہے۔ جو کسان کھیت میں بیج پھینک آتا ہے وہ بظاہِر بوریاں خالی کر لیتا ہے لیکن حقیقت میں مع اضافہ کے بھر لیتا ہے۔ گھر کی بوریاں چوہے، سُرسُری وغیرہ کی آفات سے ہلاک ہو جاتی ہیں یا یہ مطلب ہے کہ جس مال میں سے صَدَقہ نکلتا رہے اُس میں سے خرچ کرتے رہو، اِن شاءَ اللہ بڑھتا ہی رہے گا، کُنویں کا پانی بھرے جاؤ، تو بڑھے ہی جائے گا۔


 بُری صفات سے چھٹکارہ 

 زکوة دینے سے لالچ وبخل جیسی بُری صفات سے (اگر دل میں ہوں تو)چھٹکارا پانے میں مدد ملتی ہے اور سخاوت وبخشش کا محبوب وصف مل جاتا ہے ۔


  اللہ کی طرف سے بہترین رزق 

 زکوة دینے والے کا مال کم نہیں ہوتا بلکہ دنیا وآخرت میں بڑھتا ہے ۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا۔” پس  زکوة دینے والے کو یہ یقین رکھتے ہوئے خوش دلی سے زکوة  دینی چاہیے کہ اللہ پاک اس کو بہتر بدلہ عطا فرمائے گا ۔ رسول پاک ﷺ کا فرمان ہے: ”صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا ۔”


شر سے حفاظت

 ذکوة دینے والا شر سے محفوظ ہوجاتا ہے جیسا کہ رسول پاک ﷺ کا فرمان ہے:

”جس نے اپنے مال کی ذکوة ادا کردی بے شک اللہ پاک نے اس سے شر کو دور کردیا


حفاظتِ مال کا سبب

 ذکوة دینا حفاظتِ مال کا سبب ہے جیسا کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا:’

‘اپنے مالوں کو  ذکوة دے کر مضبوط قلعوں میں کر لو اور اپنے بیماروں کا علاج خیرات سے کرو۔”


اللہ تعالی کی جانب سے حاجت روائی

اللہ پاک  ذکوة دینے والوں کی حاجت روائی فرمائے گا جیسا کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا :”جو کسی بندے کی حاجت روائی کرے اللہ پاک دین و دنیا میں اس کی حاجت روائی کرے گا۔”ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:”جو کسی مسلمان کودنیاوی تکلیف سے رہائی دے تو اللہ پاک اس سے قیامت کے دن کی مصیبت دور فرمائے گا ۔”


دُعاؤں کے حصول کا سبب 

غریبوں کی دعائیں ملتی ہیں جس سے رحمتِ خداوندی اور مدد الہٰی حاصل ہوتی ہے جیسا کہ رسول پاک ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ھے کہ تمھیں اللہ پاک کی مدد اور رزق ضعیفوں کی برکت سے ملتا ھے

Share:

ذکوة کی تعریف اور اھمیت

زکوٰة کا معنٰی و مفہوم 

زکوة کے لغوی معنی پاکی کے ہیں، اور شریعت کی اصطلاح میں ”مخصوص مال میں مخصوص افراد کے لیے مال کی ایک متعین مقدار “کو زکوة کہتے ہی

زکوٰة کو زکوٰة کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان مال کے ساتھ مشغول ہوتا ہے، تو اس کا دل مال کی طرف مائل ہو جاتا ہے ، دل کے اس میلان کی وجہ سے مال کو مال کہا جاتا ہے، اورمال کے ساتھ اس مشغولیت کی وجہ سے انسان کئی روحانی و اخلاقی بیماریوں اور گناہوں میں مبتلاہو جاتا ہے، مثلا: مال کی بے جا محبت، حرص اور بخل و غیرہ۔ان گناہوں سے حفاظت اور نفس و مال کی پاکی کے لیے زکوٰة و صدقات کو مقرر کیا گیا ہے، اس کے علاوہ زکوٰة سے مال میں ظاہری یا معنوی بڑھوتری اور برکت بھی ہوتی ہے، اس وجہ سے بھی زکوٰة کا نام زکوٰة رکھا گیا۔

 
ذکوة كی تعریف
  • پاک ہونا: مال کو گناہوں اور بخل کی آلودگی سے پاک کرنا۔
  • بڑھنا اور نشوونما پانا: مال میں خیر و برکت اور اضافے کا ہونا۔
شرعی اصطلاح میں 
  •  مخصوص مال: صاحبِ نصاب شخص کا اپنے مال (سونا، چاندی، نقدی یا مالِ تجارت) کا ایک مخصوص حصہ (ڈھائی فیصد یا چالیسواں حصہ) نکالنا۔
  • مستحق کا حق: اس مخصوص مال کو شرائط کے مطابق کسی مستحق، غریب یا نادار شخص کی ملکیت میں دینا۔
  • اسلام کا رکن: یہ اسلام کی پانچ بنیادوں میں سے ایک اہم مالی عبادت ہے

زکوة کی اہمیت

زکوة کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآنِ حکیم میں نماز اور زکوة کا ذكر بیشتر مرتبہ  ایک ساتھ  آیا ہے۔

علاوہ ازیں زکوة دینے والا خوش نصیب دنیوی واُخری سعادتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔ زکوة کی فرضیت قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اللہ پاک قرآنِ حکیم میں ارشاد فرماتا ہے

وَمَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ رِّبًا لِّیَرۡبُوَا۠ فِیۡۤ اَمۡوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرۡبُوۡا عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ وَ مَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ زَکٰوۃٍ تُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُضۡعِفُوۡنَ ﴿۳۹﴾

 اور جو مال تم سود پر (اس لئے) دیتے ہو تاکہ (تمہارا مال) لوگوں کے مال میں مل کر بڑھتا رہے تو وہ اللہ کے نزدیک بڑھتا نہیں ھے اور جو مال تم زکوٰۃ میں دیتے ہو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے تو وہی لوگ (اپنا مال عند اللہ) کثرت سے بڑھانے والے ہیںo. (الرُّوْم )

 ذکوة کی اھمیت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں بہت سے صحابہ کرام  بالخصوص حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جیسے اولوالعزم صحابی کے اختلاف کے باوجود منکرین ذکوة سے باقاعدہ جہاد کیا تھا  بہت سی آحادیث مبارکہ میں ذکوة کی اھمیت کو اجاگر کیا گیا ھے چنانچہ حدیث مبارکہ ھے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ  وسلم نے ارشاد فرمایا؛ 

بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ"

ترجمہ: اسلام  کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:

1- اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔

2نماز قائم کرنا۔

3زکوٰۃ ادا کرنا۔ 

4بیت اللہ کا حج کرنا۔

5رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔


ذكوة  پانچ  ارکانِ اسلام میں سے ایک ھے جیسا کہ حدیث بالا  میں بھی اس کا ذکر ھے ۔ اس کا تارک گناہِ کبیرہ کا مرتکب ھوتا ھے اور اس کا منکر نماز کے منکر کی طرح  دائرہ اسلام سے خارج ھو جاتا ھے



Share: