روضۂ رسول اللهﷺ پے حاضری کے آداب اور طریقہ

  بہت سے علماء کرام نے رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے روضۂ اطہر پر حاضری کے آداب، درود و سلام پیش کرنے کے الفاظ اور طریقے بڑی تفصیل سے اپنی کتابوں میں ذکر فرمائے ہیں۔ذیل میں  مختصراً چند آداب اور درود و سلام کے صیغے ذکر کیے جاتے ہیں۔

جب آدمی مدینہ منورہ کی طرف چلے تو درود شریف کثرت سے پڑھتا رہے اور جوں جوں قریب ہوتا جائے اور زیادہ کثرت کرتا جائے، جب مدینہ منورہ کی عمارتوں پر نظر پڑے تو یہ دعا پڑھے:

“ اللھم ھذا حرم نبیک فاجعلہ وقایة لی من النارو أماناً من العذاب وسوء الحساب“۔

مستحب ہے کہ مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کرے، پاک صاف عمدہ لباس جو پاس موجود ہو پہنے، اگر نئے کپڑے ہوں تو بہتر ہے۔ خوشبو لگائے اگر ممکن ھو تو شہر میں داخل ہونے سے پہلے پیادہ چلے۔ اور اس شہر کی عظمت کا خیال کرتے ہوئے نہایت خوش وخضوع ، تواضع، ادب اور حضور قلب کے ساتھ درود شریف پڑھتا ہوا داخل ہو اور یہ پیش نظر رکھے کہ یہ وہ زمین ہے جس پر جابجا رسول اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے قدم مبارک لگے ہوئے ہیں۔

جب مسجد نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میں داخل ہونے لگے تو اگر ھو سکے تو باب جبرئیل سے داخل ہو اور پہلے دائیں پاؤں رکھے اور درود شریف پڑھ کر 

” اللھم افتح لی ابواب رحمتک“ پڑھے،

 پھرپہلے مسجد نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میں( اگر ممکن ھو تو ریاض الجنة میں )آکر دو رکعت تحیة المسجد کی پڑھے، ریاض الجنہ وہ جگہ ہے جو روضۂ اقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اور منبر شریف کے درمیان ہے، حدیث شریف میں آتا ہے: 

ریاض الجنة جنت کا ٹکڑا ہے

اس سے فارغ ہو کر الله تعالیٰ کا اپنی اس حاضری کی توفیق اور سعادت بخشی پر خوب شکر ادا کرے، اور اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کرے۔ اس کے بعد روضہٴ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے پاس حاضر ہو 

جب روضہ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی طرف جائے تو راستہ میں درود شریف کثرت سے پڑھے،  اور خوب ذوق و شوق پیدا کرے اور اظہار محبت میں کوئی کمی نہ چھوڑے۔ اگر خود یہ حالات پیدا نہ ہوں تو بتکلف پیدا کرے اور عاشقوں کی  سی صورت  ہی بنا لے۔نہایت ادب کے ساتھ روضہ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر حاضر ہواور دل کو تمام دنیاوی خیالات سے فارغ کردے ، پھر روضہ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی طرف رخ کر کے قبلہ کی طرف پشت کر کے  مواجھہ شریف کے سامنے آ جائے۔ ادھر ادھرمت دیکھے، نظر نیچی رکھے اور کوئی حرکت خلاف ادب نہ کرے۔ زیادہ قریب بھی نہ کھڑے ہو اور جالی کو ہاتھ بھی نہ لگائے، نہ بوسہ دے، نہ سجدہ کرے، کہ اس قسم کی با تیں خلاف ادب و احترام اور نا جائز ہیں اور سجدہ کرنا شرک ہے۔ اور یہ خیال کرے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   قبر شریف میں قبلہ کی طرف منہ کئے ہوئے آرام فرما ہیں اور سلام و کلام کو سنتے ہیں اور سلام کا جواب دیتے ہیں اور عظمت و جلال کا لحاظ کرتے ہوئے متوسط آواز سے سلام پڑھے۔ زیادہ زور سے مت بولے اور بالکل آہستہ سے بھی مت پڑھے ، سلام اس طرح پڑھے :

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حَبِيبَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَيْرَ خَلْقِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَيْرَةَ اللَّهِ مِنْ جَمِيعِ خَلْقِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدِ وُلْدِ آدَمَ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ، وَأَدَّيْتَ الْأَمَانَةَ، وَنَصَحْتَ الْأُمَّةَ وَ كَشَفْتَ الْغُمَّةَ، فَجَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا خَيْرًا، جَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا أَفْضَلَ وَ أَكْمَلَ مَا جَزَى بِهِ نَبِيًّا عَنْ أُمَّتِهِ. اللَّهُمَّ آتِهِ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيعَةَ وَابْعَثُهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ الَّذِي وَعَدْتَهُ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ، وَأَنْزَلُهُ الْمَنْزِلَ الْمَقَرَّبَ عِندَكَ إِنَّكَ سُبْحَانَكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ.

ان الفاظ میں کمی زیادتی بھی کرسکتے ہیں۔

حضور اقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر  صلاۃ و سلام پڑھنے کے بعد ایک ہاتھ داہنی طرف کو ہٹ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ  عنہ کے کی قبر کی جالی کے سامنے کھڑے ہو کر اس طرح سلام پڑھے:

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولَ اللَّهِ وِثَانِيهِ فِي الْغَارِ وَرَفِيقَه فِي الْأَسْفَارِ وَأَمِيْنِهِ عَلَى الْأَسْرَارِ أَبَا بَكْرِ الصِّدِّيقِ، جَزَاكَ اللَّهُ عَنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ خَيْرًا.

پھر ایک ہاتھ اور داہنی طرف کو ہٹ کر حضرت عمر  فاروق رضی اللہ  عنہ کے کی قبر کی جالی کے سامنے  کھڑے ہو کران الفاظ سے سلام پڑھے:

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ الْفَارُوقِ الَّذِي أَعَزَّ اللَّهُ بِهِ الإسلامَ إِمَامَ الْمُسْلِمِينَ مَرْضِيًّا حَيًّا وَ مَيْتًا جَزَاكَ اللَّهُ عَنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ خَيْرًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ان دونوں حضرات پر سلام کے الفاظ میں بھی کمی زیادتی کا اختیار ہے۔

واضح رہے کہ روضہ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر حاضری نہایت ہی ادب کا مقام ہے، اور عشق و محبت کا بھی۔لہٰذا آداب کی رعایت رکھتے ہوئے اگر کوئی مسلمان فرط محبت میں جناب رسالت مآب  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں اشعار کے انداز میں عرض و گزارش کرے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔بلکہ اسلاف سے ثابت بھی ہے۔ البتہ اس بات کا خیال رہے کہ آج کل رش کی وجہ سے وہاں انتظامیہ زیادہ دیر کھڑے ہونے سے منع کرے یا لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہو، تو مواجھہ شریف پر زیادہ دیر نہ ٹھہرا جائے بلکہ روضہ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے آس پاس جہاں باآسانی جگہ ملے، وہاں اطمینان سےبارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میں جو عرض کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔

روضہ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر حاضری کے موقع پر کوئی مخصوص دعا احادیث میں وارد نہیں ہوئی،  اس لیے  صلاۃ و سلام پیش کرنے کے بعد قبلہ رو ہو کر جو چاہیں دعا مانگیں، اسی طرح آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے وسیلے سے بھی جو مانگنا چاہیں اور جس زبان میں چاہیں  مانگ سکتے ہیں۔ بعد ازاں اپنے لئے اور اہل ایمان مردوں اور عورتوں کے لئے دُعا کرے، 

حضرت مولانا حافظ ذوالفقار صاحب رحمہ اللہ روضۂ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر حاضری کے وقت توبہ کی مقبولیت کا  درج ذیل ایک عمل بتایا کرتے تھے ھو سکے تو یہ عمل بھی کر لے

روضۂ رسول  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر حاضری سے پہلے دو نفل صلاة الحاجت ادا کرے پھر حسب توفیق صدقہ کرے پھر قبولیت توبہ کے لئے  ایک كام يه كرے كه رسول كريم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ كي خدمت ميں حاضر هوكر يه عرض كرے كه يا رسول الله (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) مجهـ سے گناه صادر هوگيا هے يا هوگئے هيں اور ميں الله تعالى كے حكم

" وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ  جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا "

كے مطابق آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  كي خدمتِ أقدس ميں حاضر هوگيا هوں اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے عرض كرتا هوں كه آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  بهي الله تعالى سے ميرے لئے معافي كي درخواست كريں اگر آيت ياد نه هو تو آیت کا ترجمه هي پڑهـ لے يه كام كرنے والے بنده كي إن شاء الله رب كريم توبه كو قبول فرما كر رحم وكرم كا معامله فرما ديں گے

الله تعالى هم سب كو إس كي توفيق عنايت فرمائے 

(آمين يا رب العلمين)

Share:

 روضہ رسول اللهﷺ پے حاضری کے آداب ! 


حضرت ملا علی قاری رحمہ الله نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر حاضری کے آداب، درود و سلام پیش کرنے کے الفاظ اور طریقے بڑی تفصیل سے اپنی کتاب “ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری” میں ذکر فرمائے ہیں۔ مختصراً چند آداب اور درود و سلام کے صیغے ذکر کیے جاتے ہیں۔


جب آدمی مدینہ منورہ کی طرف چلے تو درود شریف کثرت سے پڑھتا رہے اور جوں جوں قریب ہوتا جائے اور زیادہ کثرت کرتا جائے، جب مدینہ منورہ کی عمارتوں پر نظر پڑے تو یہ دعا پڑھے:

 

“ اللھم ھذا حرم نبیک فاجعلہ وقایة لی من النارو أماناً من العذاب وسوء الحساب“۔


مستحب ہے کہ مدینہ منور میں داخل ہونے سے پہلے غسل کرے، پاک صاف عمدہ لباس جو پاس موجود ہو پہنے، اگر نئے کپڑے ہوں تو بہتر ہے۔ خوشبو لگائے شہر میں داخل ہونے سے پہلے پیادہ چلے۔ اور اس شہر کی عظمت کا خیال کرتے ہوئے نہایت خوش وخضوع ، تواضع، ادب اور حضور قلب کے ساتھ درود شریف پڑھتا ہوا داخل ہو اور یہ پیش نظر رکھے کہ یہ وہ زمین ہے جس پر جابجا رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے قدم مبارک لگے ہوئے ہیں۔


جب مسجد نبوی میں داخل ہونے لگے تو باب جبرئیل سے داخل ہو اور پہلے دائیں پاؤں رکھے اور درود شریف پڑھ کر 

” اللھم افتح لی ابواب رحمتک“ پڑھے،

 پھرپہلے ریاض الجنة میں آکر دو رکعت تحیة المسجد کی پڑھے، یہ وہ جگہ ہے جو قبر شریف اور منبر شریف کے درمیان ہے، حدیث شریف میں آتا ہے: 

ریاض الجنة جنت کا ٹکڑا ہے، ا

س سے فارغ ہو کر الله تعالیٰ کا اپنی اس حاضری کی توفیق اور سعادت بخشی پر شکر ادا کرے، اور اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کرے۔ اس کے بعد روضہٴ اقدس کے پاس حاضر ہو اور سرہانے کی دیوار کے کونے میں جو ستون ہے اس سے تین چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو ،نہ بالکل جالیوں کے پاس جائے اور نہ ہی زیادہ دور بلاضرورت کھڑا ہو، اس طرح کہ رخ روضہٴ اقدس کی طرف اور پشت قبلہ کی طرف ہو اور یہ تصور کرے کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم لحد شریف میں قبلہ کی طرف چہرہ مبارک کیے ہوئے لیٹے ہیں اور پھر نہایت ادب کے ساتھ درمیانہ آواز سے نہ بہت پکار کر اور نہ بالکل آہستہ، سلام کرے۔ یہاں چند الفاظ درودوسلام لکھے جاتے ہیں۔


” السلام علیک أیھا النبی ورحمة الله وبرکاتہ،

 السلام علیک یا رسول الله، 

السلام علیک یا حبیب الله، 

السلام علیک باخیر خلق الله، 

السلام علیک یا صفوة الله،

 السلام علیک یا سید المرسلین، 

یا رسول الله إني أشھدأن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، وأشھد أنک عبدہ ورسولہ۔ 

أشھد انک بلغت الرسالة، وأدیت الامانة، ونصحت الامة، وکشفت الغمة فجزاک الله خیراً، 

جزاک الله عنا أفضل ماجازیٰ نبباً عن أمتہ۔ 

السلام علیک یا من ارسلہ الله رحمة للعالمین،

 السلام علیک یا مبشر المحسنین 


(ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری ص338)۔


جب روضہ اقدس (علی صاحبھا الف الف صلاۃ و سلام) کی طرف جائے تو راستہ میں درود شریف کثرت سے پڑھے،  اور خوب ذوق و شوق پیدا کرے اور اظہار محبت میں کوئی کمی نہ چھوڑے۔ اگر خود یہ حالات پیدا نہ ہوں تو بتکلف پیدا کرے اور عاشقوں کی  سی صورت  ہی بنا لے۔نہایت ادب کے ساتھ روضہ اقدس پر حاضر ہواور دل کو تمام دنیاوی خیالات سے فارغ کردے ، پھر روضہ اقدس کی طرف رخ کر کے قبلہ کی طرف پشت کر کے  مواجھہ شریف کے سامنے آ جائے۔ ادھر ادھرمت دیکھے، نظر نیچی رکھے اور کوئی حرکت خلاف ادب نہ کرے۔ زیادہ قریب بھی نہ کھڑے ہو اور جالی کو ہاتھ بھی نہ لگائے، نہ بوسہ دے، نہ سجدہ کرے، کہ اس قسم کی با تیں خلاف ادب و احترام اور نا جائز ہیں اور سجدہ کرنا شرک ہے۔ اور یہ خیال کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر شریف میں قبلہ کی طرف منہ کئے ہوئے آرام فرما ہیں اور سلام و کلام کو سنتے ہیں اور سلام کا جواب دیتے ہیں اور عظمت و جلال کا لحاظ کرتے ہوئے متوسط آواز سے سلام پڑھے۔ زیادہ زور سے مت بولے اور بالکل آہستہ سے بھی مت پڑھے ، سلام اس طرح پڑھے :

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حَبِيبَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَيْرَ خَلْقِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَيْرَةَ اللَّهِ مِنْ جَمِيعِ خَلْقِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدِ وُلْدِ آدَمَ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ، وَأَدَّيْتَ الْأَمَانَةَ، وَنَصَحْتَ الْأُمَّةَ وَ كَشَفْتَ الْغُمَّةَ، فَجَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا خَيْرًا، جَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا أَفْضَلَ وَ أَكْمَلَ مَا جَزَى بِهِ نَبِيًّا عَنْ أُمَّتِهِ. اللَّهُمَّ آتِهِ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيعَةَ وَابْعَثُهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ الَّذِي وَعَدْتَهُ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ، وَأَنْزَلُهُ الْمَنْزِلَ الْمَقَرَّبَ عِندَكَ إِنَّكَ سُبْحَانَكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ.

ان الفاظ میں کمی زیادتی بھی کرسکتے ہیں۔(مستفاد: معلم الحجاج)

البتہ  احادیث مبارکہ میں ایسے  مخصوص کلمات ہمیں نہیں مل سکے جوخود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قبر مبارک پر حاضری کے وقت صلاۃ و سلام پیش کرنے کے لیے سکھائے ہوں۔

۲)حضور اقدس صلی اللہ علیہ  وسلم پر  صلاۃ و سلام پڑھنے کے بعد ایک ہاتھ داہنی طرف کو ہٹ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ  عنہ کے کی قبر کی جالی کے سامنے کھڑے ہو کر اس طرح سلام پڑھے:

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولَ اللَّهِ وِثَانِيهِ فِي الْغَارِ وَرَفِيقَه فِي الْأَسْفَارِ وَأَمِيْنِهِ عَلَى الْأَسْرَارِ أَبَا بَكْرِ الصِّدِّيقِ، جَزَاكَ اللَّهُ عَنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ خَيْرًا.

پھر ایک ہاتھ اور داہنی طرف کو ہٹ کر حضرت عمر  فاروق رضی اللہ  عنہ کے کی قبر کی جالی کے سامنے  کھڑے ہو کران الفاظ سے سلام پڑھے:

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ الْفَارُوقِ الَّذِي أَعَزَّ اللَّهُ بِهِ الإسلامَ إِمَامَ الْمُسْلِمِينَ مَرْضِيًّا حَيًّا وَ مَيْتًا جَزَاكَ اللَّهُ عَنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ خَيْرًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ان دونوں حضرات پر سلام کے الفاظ میں بھی کمی زیادتی کا اختیار ہے۔

۳) روضہ اقدس کی پشت سے بھی اسی طرح مخاطب کے الفاظ کے ساتھ صلاۃ و سلام پیش کر سکتے ہیں جس طرح مواجھہ شریف سے کر سکتے ہیں۔

۴)واضح رہے کہ روضہ اقدس پر حاضری نہایت ہی ادب کا مقام ہے، اور عشق و محبت کا بھی۔لہٰذا آداب کی رعایت رکھتے ہوئے اگر کوئی مسلمان فرط محبت میں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اشعار کے انداز میں عرض و گزارش کرے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔بلکہ اسلاف سے ثابت بھی ہے۔ البتہ اس بات کا خیال رہے کہ آج کل رش کی وجہ سے وہاں انتظامیہ زیادہ دیر کھڑے ہونے سے منع کرے یا لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہو، تو مواجھہ شریف پر زیادہ دیر نہ ٹھہرا جائے بلکہ روضہ رسول کے آس پاس جہاں باآسانی جگہ ملے، وہاں اطمینان سےبارگاہِ رسالت میں جو عرض کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔

روضہ اقدس پر حاضری کے موقع پر کوئی مخصوص دعا احادیث میں وارد نہیں ہوئی،  اس لیے  صلاۃ و سلام پیش کرنے کے قبلہ رو ہو کر جو چاہیں دعا منگیں، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے بھی جو مانگنا چاہیں اور جس زبان میں چاہیں  مانگ سکتے ہیں۔

ذریعۃ الوصول میں شیخ مخدوم ہاشم ٹھٹھوی رحمہ اللہ، علامہ سخاوی ؒ کے حوالے سےروضہ اقدس پر حاضری کے وقت  کیا کلمات کہنے چاہئیں، ان کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

"بعد ازاں اپنے لئے اور اہل ایمان مردوں اور عورتوں کے لئے دُعا کرے، اس کے بعد حضرت ابوبکر، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں سلام عرض کرے، اور بارگاہ الہی میں دُعا کرے۔"

حضرت مولانا ذوالفقار صاحب رحمہ اللہ 
روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری کے وقت توبہ کا  درج ذیل ایک عمل بتایا کرتے تھے ھو سکے تو یہ عمل بھی کر لے

روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری سے پہلے دو نفل صلاة الحاجت ادا کرے پھر حسب توفیق صدقہ کرے پھر 
قبولیت توبہ کے لئے  ایک كام يه 
كرے كه رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كي خدمت ميں حاضر هوكر يه عرض كرے كه يا رسول الله (صلى الله عليه وآله وسلم) مجهـ سے گناه صادر هوگيا هے يا هوگئے هيں اور ميں الله تعالى كے حكم
" وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ 
جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا "
كے مطابق آپ كي خدمتِ أقدس ميں حاضر هوگيا هوں اور آپ سے عرض كرتا هوں كه آپ بهي الله تعالى سے ميرے لئے معافي كي درخواست كريں
اگر آيت ياد نه هو تو آیت کا ترجمه هي پڑهـ لے
يه كام كرنے والے بنده كي إن شاء الله رب كريم توبه كو قبول فرما كر رحم وكرم كا معامله فرما ديں گے
الله تعالى هم سب كو إس كي توفيق عنايت فرمائے 
(آمين يا رب العلمين)
Share:

 روضہ رسول اللهﷺ پے حاضری کے آداب ! 


حضرت ملا علی قاری رحمہ الله نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر حاضری کے آداب، درود و سلام پیش کرنے کے الفاظ اور طریقے بڑی تفصیل سے اپنی کتاب “ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری” میں ذکر فرمائے ہیں۔ مختصراً چند آداب اور درود و سلام کے صیغے ذکر کیے جاتے ہیں۔


جب آدمی مدینہ منورہ کی طرف چلے تو درود شریف کثرت سے پڑھتا رہے اور جوں جوں قریب ہوتا جائے اور زیادہ کثرت کرتا جائے، جب مدینہ منورہ کی عمارتوں پر نظر پڑے تو یہ دعا پڑھے:

 

“ اللھم ھذا حرم نبیک فاجعلہ وقایة لی من النارو أماناً من العذاب وسوء الحساب“۔


مستحب ہے کہ مدینہ منور میں داخل ہونے سے پہلے غسل کرے، پاک صاف عمدہ لباس جو پاس موجود ہو پہنے، اگر نئے کپڑے ہوں تو بہتر ہے۔ خوشبو لگائے شہر میں داخل ہونے سے پہلے پیادہ چلے۔ اور اس شہر کی عظمت کا خیال کرتے ہوئے نہایت خوش وخضوع ، تواضع، ادب اور حضور قلب کے ساتھ درود شریف پڑھتا ہوا داخل ہو اور یہ پیش نظر رکھے کہ یہ وہ زمین ہے جس پر جابجا رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے قدم مبارک لگے ہوئے ہیں۔


جب مسجد نبوی میں داخل ہونے لگے تو باب جبرئیل سے داخل ہو اور پہلے دائیں پاؤں رکھے اور درود شریف پڑھ کر 

” اللھم افتح لی ابواب رحمتک“ پڑھے،

 پھرپہلے ریاض الجنة میں آکر دو رکعت تحیة المسجد کی پڑھے، یہ وہ جگہ ہے جو قبر شریف اور منبر شریف کے درمیان ہے، حدیث شریف میں آتا ہے: 

ریاض الجنة جنت کا ٹکڑا ہے، ا

س سے فارغ ہو کر الله تعالیٰ کا اپنی اس حاضری کی توفیق اور سعادت بخشی پر شکر ادا کرے، اور اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کرے۔ اس کے بعد روضہٴ اقدس کے پاس حاضر ہو اور سرہانے کی دیوار کے کونے میں جو ستون ہے اس سے تین چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو ،نہ بالکل جالیوں کے پاس جائے اور نہ ہی زیادہ دور بلاضرورت کھڑا ہو، اس طرح کہ رخ روضہٴ اقدس کی طرف اور پشت قبلہ کی طرف ہو اور یہ تصور کرے کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم لحد شریف میں قبلہ کی طرف چہرہ مبارک کیے ہوئے لیٹے ہیں اور پھر نہایت ادب کے ساتھ درمیانہ آواز سے نہ بہت پکار کر اور نہ بالکل آہستہ، سلام کرے۔ یہاں چند الفاظ درودوسلام لکھے جاتے ہیں۔


” السلام علیک أیھا النبی ورحمة الله وبرکاتہ،

 السلام علیک یا رسول الله، 

السلام علیک یا حبیب الله، 

السلام علیک باخیر خلق الله، 

السلام علیک یا صفوة الله،

 السلام علیک یا سید المرسلین، 

یا رسول الله إني أشھدأن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، وأشھد أنک عبدہ ورسولہ۔ 

أشھد انک بلغت الرسالة، وأدیت الامانة، ونصحت الامة، وکشفت الغمة فجزاک الله خیراً، 

جزاک الله عنا أفضل ماجازیٰ نبباً عن أمتہ۔ 

السلام علیک یا من ارسلہ الله رحمة للعالمین،

 السلام علیک یا مبشر المحسنین 


(ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری ص338)۔


جب روضہ اقدس (علی صاحبھا الف الف صلاۃ و سلام) کی طرف جائے تو راستہ میں درود شریف کثرت سے پڑھے،  اور خوب ذوق و شوق پیدا کرے اور اظہار محبت میں کوئی کمی نہ چھوڑے۔ اگر خود یہ حالات پیدا نہ ہوں تو بتکلف پیدا کرے اور عاشقوں کی  سی صورت  ہی بنا لے۔نہایت ادب کے ساتھ روضہ اقدس پر حاضر ہواور دل کو تمام دنیاوی خیالات سے فارغ کردے ، پھر روضہ اقدس کی طرف رخ کر کے قبلہ کی طرف پشت کر کے  مواجھہ شریف کے سامنے آ جائے۔ ادھر ادھرمت دیکھے، نظر نیچی رکھے اور کوئی حرکت خلاف ادب نہ کرے۔ زیادہ قریب بھی نہ کھڑے ہو اور جالی کو ہاتھ بھی نہ لگائے، نہ بوسہ دے، نہ سجدہ کرے، کہ اس قسم کی با تیں خلاف ادب و احترام اور نا جائز ہیں اور سجدہ کرنا شرک ہے۔ اور یہ خیال کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر شریف میں قبلہ کی طرف منہ کئے ہوئے آرام فرما ہیں اور سلام و کلام کو سنتے ہیں اور سلام کا جواب دیتے ہیں اور عظمت و جلال کا لحاظ کرتے ہوئے متوسط آواز سے سلام پڑھے۔ زیادہ زور سے مت بولے اور بالکل آہستہ سے بھی مت پڑھے ، سلام اس طرح پڑھے :

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حَبِيبَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَيْرَ خَلْقِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَيْرَةَ اللَّهِ مِنْ جَمِيعِ خَلْقِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدِ وُلْدِ آدَمَ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ، وَأَدَّيْتَ الْأَمَانَةَ، وَنَصَحْتَ الْأُمَّةَ وَ كَشَفْتَ الْغُمَّةَ، فَجَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا خَيْرًا، جَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا أَفْضَلَ وَ أَكْمَلَ مَا جَزَى بِهِ نَبِيًّا عَنْ أُمَّتِهِ. اللَّهُمَّ آتِهِ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيعَةَ وَابْعَثُهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ الَّذِي وَعَدْتَهُ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ، وَأَنْزَلُهُ الْمَنْزِلَ الْمَقَرَّبَ عِندَكَ إِنَّكَ سُبْحَانَكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ.

ان الفاظ میں کمی زیادتی بھی کرسکتے ہیں۔(مستفاد: معلم الحجاج)

البتہ  احادیث مبارکہ میں ایسے  مخصوص کلمات ہمیں نہیں مل سکے جوخود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قبر مبارک پر حاضری کے وقت صلاۃ و سلام پیش کرنے کے لیے سکھائے ہوں۔

۲)حضور اقدس صلی اللہ علیہ  وسلم پر  صلاۃ و سلام پڑھنے کے بعد ایک ہاتھ داہنی طرف کو ہٹ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ  عنہ کے کی قبر کی جالی کے سامنے کھڑے ہو کر اس طرح سلام پڑھے:

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولَ اللَّهِ وِثَانِيهِ فِي الْغَارِ وَرَفِيقَه فِي الْأَسْفَارِ وَأَمِيْنِهِ عَلَى الْأَسْرَارِ أَبَا بَكْرِ الصِّدِّيقِ، جَزَاكَ اللَّهُ عَنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ خَيْرًا.

پھر ایک ہاتھ اور داہنی طرف کو ہٹ کر حضرت عمر  فاروق رضی اللہ  عنہ کے کی قبر کی جالی کے سامنے  کھڑے ہو کران الفاظ سے سلام پڑھے:

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ الْفَارُوقِ الَّذِي أَعَزَّ اللَّهُ بِهِ الإسلامَ إِمَامَ الْمُسْلِمِينَ مَرْضِيًّا حَيًّا وَ مَيْتًا جَزَاكَ اللَّهُ عَنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ خَيْرًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ان دونوں حضرات پر سلام کے الفاظ میں بھی کمی زیادتی کا اختیار ہے۔

۳) روضہ اقدس کی پشت سے بھی اسی طرح مخاطب کے الفاظ کے ساتھ صلاۃ و سلام پیش کر سکتے ہیں جس طرح مواجھہ شریف سے کر سکتے ہیں۔

۴)واضح رہے کہ روضہ اقدس پر حاضری نہایت ہی ادب کا مقام ہے، اور عشق و محبت کا بھی۔لہٰذا آداب کی رعایت رکھتے ہوئے اگر کوئی مسلمان فرط محبت میں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اشعار کے انداز میں عرض و گزارش کرے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔بلکہ اسلاف سے ثابت بھی ہے۔ البتہ اس بات کا خیال رہے کہ آج کل رش کی وجہ سے وہاں انتظامیہ زیادہ دیر کھڑے ہونے سے منع کرے یا لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہو، تو مواجھہ شریف پر زیادہ دیر نہ ٹھہرا جائے بلکہ روضہ رسول کے آس پاس جہاں باآسانی جگہ ملے، وہاں اطمینان سےبارگاہِ رسالت میں جو عرض کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔

الأذکار للنووی میں ہے:

١٠٦٩- وعن العتبي، قال: كنت جالسا عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم، فجاء أعرابي، فقال: السلام عليك يا رسول الله! سمعت الله تعالى يقول: {ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاءوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيما} [النساء: ٦٤] وقد جئتك مستغفرا من ذنبي، مستشفعا بك إلى ربي؛ ثم أنشد يقول من البسيط:

يا خير من دفنت بالقاع أعظمه ... فطاب من طيبهن القاع والأكم

نفسي الفداء لقبر أنت ساكنه ... فيه العفاف وفيه الجود والكرم

قال: ثم انصرف، فحملتني عيناي، فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم في النوم، فقال لي: "يا عتبي! الحق الأعرابي، فبشره بأن الله تعالى قد غفر له". والله عز وجل أعلم.

(كتاب الأذكار للنووي، أذكار الحج  فصل في زيارة قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم وأذكارها، ص: 352، ط: دار ابن حزم)

۵)  روضہ اقدس پر حاضری کے موقع پر کوئی مخصوص دعا احادیث میں وارد نہیں ہوئی،  اس لیے  صلاۃ و سلام پیش کرنے کے قبلہ رو ہو کر جو چاہیں دعا منگیں، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے بھی جو مانگنا چاہیں اور جس زبان میں چاہیں  مانگ سکتے ہیں۔

ذریعۃ الوصول میں شیخ مخدوم ہاشم ٹھٹھوی رحمہ اللہ، علامہ سخاوی ؒ کے حوالے سےروضہ اقدس پر حاضری کے وقت  کیا کلمات کہنے چاہئیں، ان کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

"بعد ازاں اپنے لئے اور اہل ایمان مردوں اور عورتوں کے لئے دُعا کرے، اس کے بعد حضرت ابوبکر، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں سلام عرض کرے، اور بارگاہ الہی میں دُعا کرے۔"

(ذریعۃ الوصول الی جناب الرسول، روایت نمبر: 94، ص: 134، مکتبہ لدھیانوی)

غنية الناسك في علم المناسك  میں ہے:

"و ينبغي أن ينوي مع زيارته صلى الله عليه وسلم التقرب إلى الله تعالى بالمسافرة إلى مسجده صلى الله عليه وسلم للصلاة فيه، و يستحب أن يغتسل قبل دخوله ويلبس أنظف ثيابه. إذا وصل باب المسجد، قدم اليمنى دخولا، واليسرى خروجا و فعل ما يفعل في سائر المساجد من الصلاة علي النبي صلي الله عليه وسلم، والسلام عليه، و يقول: "اللهم افتح لي ابواب رحمتك"، ثم يقصد الروضة الكريمة وهي ما بين المنبر والقبر فيصلي تحية المسجد بجنب المنبر، ان تيسر و الا حيث كان من المسجد.... قال محي الدين النووي - رحمه الله تعالي- : فإذا صلى التحية في الروضة أو غيرها من المسجد شكر الله تعالى على هذه النعمة ويسأله إتمام ما قصده وقبول زيارته، ثم يأتي القبر الكريم فيستدبر القبلة ويستقبل جدار القبر، ويبعد من رأس القبر نحو أربعة أذرع. و في احياء علوم الدين: أنه يستقبل جدار القبر على نحو أربعة أَذرع من السارية التي عند رأس القبر في زاوية جداره ويجعل القنديل الذي في القبلة عند القبر على رأسه ويقف ناظرًا إلى أسفل ما يستقبله من جدار القبر غاض الطرف في مقام الهيبة والإجلال فارغ القلب من علائق الدنيا مستحضرًا في قلبه جلالة موقفه ومنزلة من هو بحضرته، ثم يسلم ولا يرفع صوته بل يقتصد فيقول: "السلامُ عليك يا رسول الله، السلامُ عليك يا نبي الله، السلامُ عليك يا خِيرة الله، السلامُ عليك يا خَيْر خلقِ الله، السلامُ عليك يا حبيبَ الله، السلامُ عليك يا نذير، السلامُ عليك يا بشير، السلامُ عليك يا طاهر، السلامُ عليك يا نبيَّ الرحمة، السلامُ عليك يا نبيَّ الأمة، السلامُ عليك يا أبا القاسم، السلامُ عليك يا رسولَ ربّ العالمين، السلامُ عليكَ يا سيدَ المرسلين وخاتمَ النبيين، السلامُ عليك يا خَيْرَ الخلائق أجمعين، السلامُ عليك يا قائد الغُرّ المُحَجَّلِينَ، السلامُ عليك وعلى ءالك وأهلِ بيتك وأزواجِك وذريتِك وأصحابِك أجمعين، السلامُ عليك وعلى سائر الأنبياءِ وجميع عبادِ الله الصالحين، جزاك الله يا رسولَ الله عنا أفضلَ ما جزى نبيًّا ورسولا عن أمتهِ وصلى الله عليكَ كلما ذكركَ ذاكر وغفلَ عن ذكرك غافلٌ أفضلَ وأكملَ وأطيبَ ما صلى على أحد من الخلق أجمعين، أشهد أن لا إله إِلا الله وحده لا شريك له وأشهد أنك عبده ورسولُهُ وخِيرتُهُ من خلقهِ، وأشهدُ أنك قد بلّغتَ الرسالةَ وأدّيتَ الأمانةَ ونصحتَ الأمةَ وجاهدتَ في الله حقَّ جهاده، اللهم وءاته الوسيلةَ والفضيلةَ وابعثْه مقامًا محمودًا الذي وعدته" ثم يقول: "اللهمَّ صلّ على محمّد عبدِك ورسولِك النبيّ الأُمّي وعلى ءال محمد وأزواجِه وذريته كما صليتَ على إبراهيمَ وعلى ءال إبراهيم، وباركْ على محمد النبيّ الأُمي وعلى ءال محمد وأزواجِه وذريتِهِ كما باركت على إبراهيمَ وعلى ءال إبراهيمَ في العالمين إنكَ حميدٌ مجيد"، ... قال الشيخ محي الدين النووي: ومن عجز عن حفظ هذا أو ضاق وقته عنه اقتصر على بعضه، وأقله السلام عليك يا رسول الله صلى الله عليه وسلم".

( الفصل الثالث في حكم زيارة النبي صلي الله عليه وسلم، و آدابها و ما يتعلق بها، ص: 365-368، ط: دار ابن حزم)

فقط واللہ اعلم


Share:

حج کی فضیلت اور اھمیت


 ’’حج مبرور‘‘ ایک ایسی عالی شان عبادت ہے جس کے متعلق ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم یہ ھے کہ بجز جنت کے اس کا اور کیا بدلہ ہوسکتا ہے!۔’’ حجِ مبرور‘‘ جس کا بدلہ صرف جنت ہی ہوسکتی ہے، اس کی تشریح یہ ہے کہ اس میں گناہ کی آلودگی اور ریاکاری کا شائبہ نہ ہو، یعنی تمام سفرِ حج میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے آدمی بچے اور محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر حج کیا جائے، بلاشبہ اس شرط کا نبھانا بھی بہت مشکل ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کے فضل ہی سے یہ مشکل مرحلہ طے ہوسکتا ہے۔

آنے والے ھفتوں میں لاکھوں حجاج کرام اسلام کے پانچویں اہم رکن کی ادائیگی کے لئے دنیاوی ظاہری زیب وزینت کو چھوڑکر اللہ جل شانہ کے ساتھ والہانہ محبت میں مشاعر مقدسہ (منیٰ، عرفات اور مزدلفہ) پہنچ جائیں گے اور وہاں حضور اکرم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر حج کی ادائیگی کرکے اپنا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانیوں کے ساتھ جوڑیں گے۔ حج کو اسی لئے عاشقانہ عبادت کہتے ہیں، کیونکہ حاجی کے ہر عمل سے وارفتگی اور دیوانگی ٹپکتی ہے۔ حج اس لحاظ سے بڑی نمایاں عبادت ہے کہ یہ بیک وقت روحانی، مالی اور بدنی تینوں پہلوؤں پر مشتمل ہے،یہ خصوصیت کسی دوسری عبادت کو حاصل نہیں ہے۔

اس اہم عبادت کی خصوصی تاکید و ترغیب کئی احادیث مبارکہ میں وارد ہوئی ہے اور اُن لوگوں کے لئے جن پر حج فرض ہوگیا ہے، لیکن دنیاوی اغراض یا سستی کی وجـہ سے بلاشرعی مجبوری کے حج ادا نہیں کرتے، سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، ان میں سے چند حسب ذیل ہیں: حضرت عبد اللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فریضۂ حج ادا کرنے میں جلدی کرو، کیونکہ کسی کو نہیں معلوم کہ اسے کیا عذر پیش آجائے۔(مسند احمد)

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہے (یعنی جس پر حج فرض ہوگیا ہے) اسے جلدی کرنی چاہئے۔ (سنن ابوداؤد) حضرت ابوامامہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو کسی ضروری حاجت یا ظالم بادشاہ یا شدید مرض نے حج سے نہیں روکا اور اس نے حج نہیں کیا اور مرگیا تو وہ چاہے یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے۔ (الدارمی) (یعنی یہ شخص یہود ونصاریٰ کے مشابہ ہے)۔

حضرت عمر فاروق ؓ فرماتےہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ کچھ آدمیوں کو شہر بھیج کر تحقیق کراؤں کہ جن لوگوں کو حج کی طاقت ہے اور انھوں نے حج نہیں کیا، تاکہ ان پر جزیہ مقرر کردیا جائے۔ ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں، ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں۔اسی طرح حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : جس نے قدرت کے باوجود حج نہیں کیا، اس کے لئے برابر ہے کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا عیسائی ہوکر۔

حج بیت اللہ کی خاص اہمیت اور متعدد فضائل احادیث نبویؐ میں وارد ہوئے ہیں: حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول ﷺپر ایمان لانا۔ پھر عرض کیا گیا کہ اس کے بعد کون سا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پھر عرض کیا گیا کہ اس کے بعد کون سا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: حج مقبول۔ (بخاری ومسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے محض اللہ کی خوشنودی کے لئے حج کیا اور اس دوران کوئی بےہودہ بات یا گناہ نہیں کیا تو وہ (پاک ہوکر) ایسا لوٹتا ہے جیسا ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے روز (پاک تھا)۔ (بخاری ومسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عمرہ دوسرے عمرے تک ان گناہوں کا کفارہ ہے جو دونوں عمروں کے درمیان سرزد ہوں اور حج مبرور کا بدلہ تو جنت ہی ہے۔ (بخاری ومسلم)

حضرت عمر فاروق ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: پے درپے حج وعمرے کیا کرو۔ بے شک، یہ دونوں (حج وعمرہ) فقر یعنی غریبی اور گناہوں کو اس طرح دور کردیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ (ابن ماجـہ)

حضرت عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اپنا دایاں ہاتھ آگے کیجئے، تاکہ میں آپ ﷺ سے بیعت کروں۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ آگے کیا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، عمرو کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہﷺ! شرط رکھنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم کیا شرط رکھنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا ( گزشتہ) گناہوں کی مغفرت کی۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ اسلام (میں داخل ہونا) گزشتہ تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے، ہجرت گزشتہ تمام گناہوں کو مٹادیتی ہے اور حج گزشتہ تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے۔ (صحیح مسلم) 

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو حاجی سوار ہوکر حج کرتا ہے ،اس کی سواری کے ہر قدم پر ستّر نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جو حج پیدل کرتا ہے، اس کے ہر قدم پر سات سو نیکیاں حرم کی نیکیوں میں سے لکھی جاتی ہیں۔ آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ حرم کی نیکیاں کتنی ہوتی ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایک نیکی ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ہوتی ہے۔ (بزاز، کبیر، اوسط)

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہﷺ! ہمیں معلوم ہے کہ جہاد سب سے افضل عمل ہے، کیا ہم جہاد نہ کریں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نہیں (عورتوں کے لئے) عمدہ ترین جہاد حج مبرور ہے۔ (صحیح بخاری) ام ّالمؤمنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا عورتوں پر بھی جہاد (فرض) ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان پر ایسا جہاد فرض ہے، جس میں خوں ریزی نہیں ہے اور وہ حج مبرور ہے۔ (ابن ماجـہ)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حج اور عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں تو وہ قبول فرمائے گا، اگر وہ اس سے مغفرت طلب کریں تو اللہ ان کی مغفرت فرمائے گا۔ (ابن ماجـہ)

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کسی حج کرنے والے سے تمہاری ملاقات ہو تو اُس کے اپنے گھر میں پہنچنے سے پہلے اسے سلام کرو اور مصافحہ کرو اور اس سے اپنی مغفرت کی دعا کے لئے کہو،کیونکہ وہ اس حال میں ہے کہ اس کے گناہوں کی مغفرت ہوچکی ہے۔ (مسند احمد)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ حج کی نیکی کیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: حج کی نیکی‘ لوگوں کو کھانا کھلانا اور نرم گفتگو کرنا ہے۔ (رواہ احمد والطبرانی فی الاوسط وابن خزیمۃ فی صحیحہ) مسند احمد اور بیہقی کی روایت میں ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: حج کی نیکی‘ کھانا کھلانا اور لوگوں کو کثرت سے سلام کرنا ہے ۔

حضرت بریدہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حج میں خرچ کرنا جہاد میں خرچ کرنے کی طرح ہے، یعنی حج میں خرچ کرنے کاثواب سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔(مسند احمد) حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے عمرے کا ثواب تمہارے خرچ کے بقدر ہے یعنی جتنا زیادہ اس پر خرچ کیا جائے گا اتنا ہی ثواب ہوگا۔ (الحاکم)

حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب حاجی لبیک کہتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے دائیں اور بائیں جانب جو پتھر، درخت اور ڈھیلے وغیرہ ہوتے ہیں وہ بھی لبیک کہتے ہیں اور اسی طرح زمین کی انتہا تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے (یعنی ہر چیز ساتھ میں لبیک کہتی ہے)۔ (ترمذی، ابن ماجـہ) 


Share:

رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں کی فضیلت

رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتیں (21، 23، 25، 27، 29) بے پناہ فضیلت کی حامل ہیں، جن میں شبِ قدر (ہزار مہینوں سے بہتر رات) پوشیدہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان راتوں میں عبادت (نماز، تلاوت، ذکر) کا خاص اہتمام کرنے اور شبِ قدر تلاش کرنے کی تاکید فرمائی ہے، جس میں سچے دل سے توبہ کرنے والوں کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔  شبِ قدر کا حصول کا امکان ان پانچ راتوں میں سے کسی ایک  رات میں  زیادہ ہایا جاتا ہے۔ اس رات کی عبادت  ہزار مہینوں یعنی  83 سال 4 مہینے کی عبادت سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ ان راتوں میں نوافل، تلاوتِ قرآن، اور خصوصی دعا (اللہم انک عفو...) کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس رات فرشتے اور روح القدس (حضرت جبرائیل علیہ السلام) اللہ کے حکم سے زمین پر اترتے ہیں۔ اس رات کی خاص علامات یہ ھیں  کہ یہ رات معتدل ہوتی ہے (نہ زیادہ گرم، نہ ٹھنڈی)، اور اس کی اگلی صبح سورج بغیر شعاعوں کے طلوع ہوتا ھے 

حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنه سے ہی مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے۔ جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے ان راتوں میں قیام کرے الله تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے (تمام) گناہ بخش دیتا ہے۔ یہ رات اکیسویں، تیئسویں، پچیسویں، ستائیسویں یا رمضان کی آخری رات ہوتی ہے۔ رسول الله ﷺ نے فرمایا: شبِ قدر کی علامات یہ ہیں کہ وہ رات صاف و شفاف اور پر سکون ہوتی ہے، نہ زیادہ ٹھنڈی اور نہ زیادہ گرم (بلکہ معتدل ہوتی ہے)۔ اس رات صبح تک کسی ستارے کے لیے مناسب نہیں کہ اُسے شیاطین کے پیچھے بھگایا جائے۔ اس کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد کی صبح کو آفتاب بالکل ہموار ٹکیہ کی طرح بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے جیسا کہ چودھویں رات کا چاند ہو۔ اس دن کے آفتاب کے ساتھ شیطان نہیں نکلتا۔ ( طبرانی و احمد)

شبِ قدر  کی تعیین  اٹھالی گئی ہے اس لئے وہ متعین طور پر معلوم نہیں ہے کونسی رات میں ہو! البتہ  رمضان المبارک اور پھر خاص کر آخری عشرہ اور پھر اس میں بھی طاق راتوں میں اس کے ملنے کا زیادہ امکان ہے، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے: '' تَحَرُّوْا لَــیْلَة الْقَدْرْ فِي الْوْتْرْ مِنَ الْعَشْرْ الْاَوَاخِرْ مِنْ رَمَضَانَ''۔  [مشکاۃ المصابیح عن البخاري] ’’حضور صلی اللہ علیہ و سلم  نے ارشاد فرمایا کہ لیلۃ القدر کو رمضان کے آخر عشرہ کی  طاق راتوں میں تلاش کرو۔‘‘ طاق راتوں سے مراد ، 21، 23، 25، 27، 29  کی راتیں ہیں، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ رمضان المبارک کے پورے مہینے میں  راتوں کو عبادت کی کوشش کرے ، اگر پوری رات مشکل ہوتو کچھ وقت ، ورنہ عشاء کی نماز جماعت سے پڑھ کر تراویح پڑھے اور اس کے بعد دو ، چار رکعت پڑھ کر سوجائے، یا سحری میں بیدار ہوکر دو چار رکعات تہجد پڑھ لے اورصبح فجر کی نماز جماعت سے پڑھ لے تو  اُمید ھے اسے بھی ان شاء اللہ شبِ قدر مل جائے گی۔

شب قدر کے  اعمال  کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم  سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! اگر مجھے شب قدر کا پتا چل جائے تو کیا دعا مانگوں؟ حضور صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا کہو : « اَللّٰهم إِنَّک عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ » [ترمذی ، مشکاۃ] ’’اے اللہ! تو بے شک معاف کرنے والا ہے اور پسند کرتا ہے معاف کرنے کو‘ پس معاف فرما دے مجھے بھی‘‘ یہ نہایت جامع دعا ہے کہ حق تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے آخرت کے مطالبہ سے معاف فر ما دیں تو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے.

شبِ قدر کی تعیین اٹھانے کی ایک حکمت علماء کرام  نے یہ لکھی ہے کہ مختلف راتوں میں زیادہ سے زیادہ اعمال کی ترغیب مقصود ہے، تاکہ امت مختلف طاق راتوں میں خوب عبادت کرے، ایسا نہ ہو کہ صرف ایک رات میں مخصوص وقت مخصوص عبادت کرلے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایاہے کہ آخری عشرہ داخل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اس کی راتیں جاگتے تھے اور اپنے گھروالوں کو بھی جگاتے تھے اور کمربند کس لیا کرتے تھے۔ نیز فرماتی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جتنی محنت فرماتے تھے اتنی محنت اور دنوں میں نہیں فرماتے تھے۔ لہٰذا ھر  امتی کو چاہیے وہ تمام طاق راتوں میں فرائض کی ادائیگی کے ساتھ  ، نفل نماز، تلاوت، درود شریف، دعاؤں اور دیگر اذکار کا خوب اہتمام کرے، اس رات کا کوئی خاص عمل نہیں ہے، بہتر یہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے سبھی اعمال کیے جائیں اس طرح ہر قسم کے اعمال کا ثواب بھی حاصل ہوجائے گا  اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ اسے شبِ قدر بھی حاصل ہوجائے گی۔

اللہ پاک ھم سب کو ان راتوں کو زیادہ  سے زیادہ عبادت میں گزارنے کی توفیق عنایت فرمائے

آمین یا رب العالمین

Share:

رمضان المبارک کے تیسرے عشرہ کے خصوصی فضائل

  ماہ رمضان المبارک بڑی فضیلتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں اہل ایمان کی طرف اللہ تعالی کی خصوصی رحمتیں متوجہ ہوتی ہیں۔ احادیث و آثار میں رمضان شریف کے بڑے فضائل اور برکات مذکور ہیں۔ احادیث کے مطابق رمضان کے تین عشرے تین مختلف خصوصیات کے حامل ہیں اور ہر ایک پر خصوصی رنگ غالب ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت کاہے، دوسرا عشرہ مغفرت کااور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا۔ (صحیح ابن خزیمة، بیہقی شعب الایمان)

یوں تو رمضان المبارک کا پورا مہینہ دیگر مہینوں میں ممتاز اور خصوصی مقام کا حامل ہے، لیکن رمضان شریف کے آخری دس دنوں (تیسرا عشرہ) کے فضائل آحادیث کی کتابوں میں بہت زیادہ وارد ھوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عبادت وطاعت ، شب بیداری اور ذکر و فکر میں اور زیادہ منہمک ہوجاتے تھے۔  ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اتنا مجاہدہ کیا کرتے تھے جتنا دوسرے دنوں میں نہیں کیا کرتے تھے ۔(صحیح مسلم) 

دیگر احادیث مبارکہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات کی تفصیلات ملتی ہیں۔ جیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آخری عشرہ شروع ہوجاتا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر بیدار رہتے اور اپنی کمرکس لیتے اوراپنے گھروالوں بھی جگاتے تھے۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم )  

راتوں کو اٹھ کر عبادت کرنے کا معمول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو ہمیشہ ہی رھا تھا، لیکن رمضان المبارک میں آپ کمر کس کر عبادت کے لیے تیار ہوجاتے اور پوری پوری رات عبادت میں گزارتے۔ یہ مضمون حضرت عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی ایک دوسری روایت سے اور زیادہ واضح ہوتا ہے ، وہ بیان فرماتی ہیں: مجھے یاد نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کبھی بھی ایک ہی رات میں پورا قرآن مجید پڑھا ہو یا پھر صبح تک عبادت ہی کرتے رہے ہوں ، یا رمضان المبارک کے علاوہ کسی اورمکمل مہینہ کے روزے رکھے ہوں۔ (سنن نسائی ،)

دوسرا خصوصی معمول جس کا ذکرحدیث مبارکہ میں ہے وہ ہے اپنے اہل خانہ کو بھی رات میں عبادت کے لیے جگانا۔احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروالوں کو سارا سال ہی جگایا کرتے تھے ، لہٰذا رمضان المبارک میں خصوصیت کے ساتھ جگانے کے ذکر کا صاف مطلب یہی ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گھروالوں کو باقی سارے سال کی بہ نسبت جگانے کا زیادہ اہتمام فرماتے تھے ۔


 رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی ایک اہم خصوصیت اعتکاف ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک معمول تھا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے۔ حضرت ابن عمررضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے۔ (بخاری،)  صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا، پھر ان کے بعد ان کی ازواج مطہرات نے بھی اعتکاف کیا ۔ (بخاری) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان شریف میں دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے، اور جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ نے بیس دنوں کا اعتکاف فرمایا۔ (بخاری، )

 آخری عشرہ کا اعتکاف سنت علی الکفایہ ہے۔ اعتکاف مسجد کا حق ہے اور پورے محلہ والوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ان کا کوئی فرد مسجد میں ان دنوں اعتکاف کرے۔ اعتکاف کرنے والے کے لیے مسنون ہے کہ وہ طاعات میں مشغول رہے اور کسی شدید طبعی یا شرعی ضرورت کے بغیر مسجد سے باہر نہ نکلے۔ اعتکاف کی حقیقت مالک الملک کے دربار عالی میں پڑجانے کا نام ہے۔ اعتکاف، عاجزی و مسکنت اور تضرع و عبادت سے اللہ کی رضا و خوشنوی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ اعتکاف در اصل انسان کی اپنی عاجزی کا اظہار اور اللہ کی کبریائی اور اس کے سامنے خود سپردگی کا اعلان ہے۔

احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ کا اعتکاف خاص طور پر لیلة القدر کی تلاش اور اس کی برکات پانے کے لیے فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رمضان کے آخری دس دنوں میں لیلة القدر کو تلاش کرو۔

(صحیح بخاری )

حضرت ا بوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عشرہ کا اعتکاف کیا اور ہم نے بھی اعتکاف کیا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کو جس کی تلاش ہے وہ آگے ہے۔ چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے عشرہ کا بھی اعتکاف کیا اورہم نے بھی کیا۔ پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو بتایا کہ مطلوبہ رات ابھی آگے ہے۔ چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیسویں رمضان کی صبح کو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: جو میرے ساتھ اعتکاف کررہا تھا اسے چاہیے کہ وہ آخری عشرے کا اعتکاف بھی کرے۔ مجھے شب قدر دکھائی گئی جسے بعد میں بھلادیا گیا۔یاد رکھو لیلة القدر رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں ہے۔ (صحیح بخاری )

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی سب سے اہم فضیلت وخصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایک ایسی رات پائی جاتی ہے جوہزار مہینوں سے بھی زیادہ افضل ہے اور اسی رات کو قرآن مجید جیسا انمول تحفہ دنیائے انسانیت کو ملا۔اللہ سبحانہ وتعالی نے اس رات کی فضیلت میں پوری سورة القدر نازل فرمائی، ارشاد ہوا: ”ہم نے قرآن کریم کو شب قدر میں نازل کیا ہے ۔ آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح (جبریل) اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں ، یہ رات سراسر سلامتی ہے اورفجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔

 ایک دوسری آیت میں اس کو مبارک رات کہا گیا ہے، ارشاد ہے: ” قسم ہے اس کتاب کی جو حق کو واضح کرنے والی ہے۔ ہم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے “۔ (سورة الدخان )

چناں چہ شب قدر کی عبادت کا ثواب ایک ہزار مہینوں (یعنی کم و بیش تراسی سال) کی عبادت سے زیادہ ہے۔ نیز، اسی رات اللہ تعالی نے قرآن مجید کو یکبارگی لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر نازل فرمایا اور پھر اس کے بعد نبوت کی۲۳سالہ مدت میں حسب ضرورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل ہوتا رہا۔ انھیں آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو ملائکہ نزول کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سال بھر کے تقدیر کے فیصلے فرشتوں کے حوالے فرمادیتے ہیں تاکہ وہ اپنے اپنے وقت پر ان کی تکمیل کرتے رہیں۔ اس رات میں فرشتوں کا نزول بھی رحمت و برکت کا سبب ہوتا ہے۔

لیلة القدر کامطلب ہے قدر اور تعظیم والی رات ہے یعنی ان خصوصیتوں اورفضیلتوں کی بنا پر یہ قدر والی رات ہے۔ یا پھر یہ معنی ہے کہ جوبھی اس رات بیدار ہوکر عبادت کرے گا وہ قدروشان والا ہوگا ۔ تواللہ تعالی نے اس رات کی جلالت ومنزلت اورمقام ومربتہ کی بنا پراس کانام “ لیلة القدر “ رکھا ھے کیونکہ اللہ تعالی کے ہاں اس رات کی بہت قدر ومنزلت ہے۔ شب قدر کی فضیلت بے شمار آیات کریمہ  و احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ صحیحین کی حدیث میں ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جوشخص شب قدر کو ایمان اوراجروثواب کی نیت سے عبادت کرے ، اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مہینہ (رمضان کا) تم کو ملا ہے، اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو اس سے محروم رہا گویا وہ تمام خیر سے محروم رہا ، اور اس کی خیر و برکت سے کوئی محروم ہی بے بہرہ رہ سکتا ہے۔“ (سنن ابن ماجہ،، معجم الکبیر للطبرانی

آحادیث مبارکہ میں اس کی خاص ترغیب و تاکید آئی ہے کہ مسلمان اس رات کو اللہ تعالی کی عبادت کریں، رات کو دعا و عبادت اور ذکر وتلاوت میں گزاریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی مبارک رات کی تلاش کے لیے اعتکاف فرماتے تھے اور رمضان کے آخری عشرہ میں پوری پوری رات عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نزدیک مقبول اور بخشے بخشائے تھے، لیکن پھر بھی اللہ کی رضا کی تلاش میں آپ اتنی جدوجہد فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے۔ اللہ تعالی کی رحمت و مغفرت کے ہم بہت زیادہ محتاج ہیں۔ لہٰذا، ہمیں اس رات کی تلاش و جستجو کرنا چاہیے اور آخری عشرہ کی راتوں کو ذکر و عبادت میں گزارنا چاہیے۔

 اس رات کو اول تو پورے رمضان المبارک  تلاش کرنا چاھیے اور خاص کر اس کے آخری عشرہ میں تلاش کرنا مستحب ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو۔ (صحیح بخاری ) اورابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں تلاش کرو ،باقی نو رہ جائیں تو ان میں، باقی سات رہ جائیں توان میں ، باقی پانچ رہ جائیں تو ان میں۔ ( صحیح بخاری) 

پھر احادیث مبارکہ کی روشنی میں شب قدر کے آخری عشرہ میں بھی طاق راتوں میں وقوع کا زیادہ امکان معلوم ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ (صحیح بخاری) جب کہ بعض احادیث میں ستائیسویں رات کو شب قدر ہونے کی بات بھی وارد ہوئی ہے۔جیسا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں ہے کہ شب قدر ستائیسویں رات ہے۔ ( سنن ابوداود ، مسند احمد وغیرہ)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر مجھے شب قدر کا علم ہوجائے تو میں کیا دعا کروں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللھم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عني ) اے اللہ تومعاف کرنے والا کرم والا ہے اورمعافی کوپسند کرتا ہے، لہٰذا مجھے معاف کردے )

 (سنن ترمذی ، ، مسند احمد ، سنن ابن ماجہ وغیرہ)

 حضرات محدثین و علماء کرام فرماتے ہیں کہ شب قدر سے متعلق روایات کثرت سے مروی ہیں اور ان کے مجموعہ سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ شب قدر ہر سال منتقل ہوتی رہتی ہے، اور طاق راتوں میں اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے جب کہ ستائیسویں رات میں اور زیادہ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی بے پایاں مصلحت و حکمت سے شب قدر کو مخفی رکھا ہے ۔اس کو مخفی رکھنے میں شاید ہماری طلب اور ذوق جستجو کا امتحان مقصود ہے۔ اگر کوئی شخص خلوصِ نیت اورصدقِ دل سے کوشش کرے ، چاہے اسے علم ہو یا نہ ہو تو ان شاء اللہ وہ شخص اس کی برکات سے محروم نہیں رہے گا ۔ 

اللہ پاک ھمیں آخری عشرہ کی تمام راتوں کی قدر کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ 

آمین یا رب العالمین 


Share:

 ***یا رب العالمین :

ہمارے والدین ، اساتذہ کرام ، عزیز و اقرباء و لواحقین اور دوست احباب جو اس دنیا سے رخصت ھو چکے ھیں . رمضان المبارک کی برکت سے اُن سب کی اپنے فضل سے کامل بخشش فرما ، اُن کی قبروں کو بقعۂ نور اور تا حد نظر وسیع فرما، اُنہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔ 

آمین یا رب العالمین

یا اللہ ! 

تمام  بیماروں کو شفاء کاملہ عاجلہ عطا فرما ، تمام بے روزگاروں کو روزگار فراہم فرما، تمام بچے بچیوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک فرما ،تمام بے اولاد بہنوں اور بھائیوں کو نیک صالح اور صحت مند اولاد عطا فرما ،تمام طلباء کو دین و دُنیا کی کامیابیاں عطا فرما

آمین یا رب العالمین 

یا رب العالمین : 

ہماری تمام  جائز حاجات (جن کو تیری پاک ذات ہم سے زیادہ جانتی ہے) وہ سب کچھ بلا مانگے عطا فرما، رمضـان المبارک میں ہماری چھوٹی موٹی عبادات کو شرف قبولیت و بخشش فرما ، اور جو رمضان المبارک کی جو گھڑیاں باقی  رہ گئی ھیں ، ھم سب کو اُن کی قدر کرنے کی توفیق عنایت فرما

آمین یا رب العالمین***

Share: