علماء کرام کے فتاویٰ کے مطابق بہت سی ایسی چیزیں ھیں جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ھےان میں سے روزہ توڑنے والی چند بنیادی چیزیں درج ذیل ہیں:
1. قصداً کھانا پینا یا دوا لینا
- غذا یا دوا کا استعمال: روزے کی حالت میں جان بوجھ کر کوئی چیز کھانا، پینا یا دوا (خواہ وہ گولی ہو یا قطرے) حلق سے نیچے اتارنا۔
- حلق میں پانی جانا: وضو کے دوران کلی کرتے ہوئے بلا مبالغہ یا غفلت کی وجہ سے پانی کا قصداً یا غلطی سے حلق میں چلے جانا (جبکہ روزہ یاد ہو)۔
2. جماع (ہمبستری) اور انزال
- جماع: روزے کی حالت میں شوہر اور بیوی کا آپس میں ہمبستری کرنا، خواہ انزال (منی خارج) ہو یا نہ ہو۔ (اس سے قضا اور کفارہ دونوں لازم آتے ہیں)۔
- غیر فطری انزال: کسی بھی غیر فطری طریقے یا چھونے وغیرہ سے قصداً انزال کرنا۔
3. مخصوص منافذ (راستوں) سے چیزوں کا داخل ہونا
- ناک کا اسپرے یا قطرے: ناک میں دوا یا اسپرے ڈالنا جو دماغ یا پیٹ تک پہنچ جائے۔
- کان کے قطرے: کان میں دوا یا تیل ڈالنا (بشرطیکہ کان کا پردہ پھٹا ہوا ہو اور دوا اندر پہنچے)۔
- حقنہ (اینما لینا): پچھلے راستے (دبر) سے کسی دوا یا مائع کا اندر پہنچانا۔
4. قصداً قے (Vomit) کرنا
- منہ بھر قے: روزے کی حالت میں جان بوجھ کر انگلی وغیرہ ڈال کر منہ بھر قے کرنا۔ اگر خود بخود قے آئے تو روزہ نہیں ٹوٹتا جب تک کہ اسے قصداً واپس نہ نگلا جائے۔
5. دھواں اور نشہ آور اشیاء
- سگریٹ اور نوشی: سگریٹ، بیڑی، حقہ یا شیgroup کا دھواں جان بوجھ کر حلق میں لے جانا۔
- لوبان یا اگر بتی کا دھواں: اگر بتی یا لوبان کا دھواں قصداً ناک کے ذریعے اندر کھینچنا۔
6. دانتوں سے نکلنے والا خون یا پھنسے ہوئے اجزاء
- خون نگلنا: دانتوں سے خون نکل کر حلق میں چلا جائے اور خون کی مقدار تھوک کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، یا اس کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو۔
- دانتوں میں پھنسی چیز: دانتوں کے درمیان پھنسی ہوئی کوئی چیز جو چنے کے برابر یا اس سے بڑی ہو، اسے نگل جانا۔
بھول کر کھانا پینا
اگر کوئی شخص بھول کر کچھ کھا پی لے یا کوئی ایسا کام کر لے جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ھے (یعنی اسے یاد ہی نہ رہے کہ اس کا روزہ ہے)، تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، خواہ وہ پیٹ بھر کر ہی کیوں نہ کھا لے لیکن جیسے ہی روزہ یاد آئے، فوراً رک جانا ضروری ہے اگر یاد آنے کے بعد بھی کچھ کھا پی لیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا