قران پاک اللہ تعالی کا کلام ھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا گیا ۔ یہ کتابِ ھدایت ھے جس پر عمل کرنا دنیا و آخرت میں کامیاب ھونا ھے ۔ قران کریم پر عمل کرنے کے لئے ضروری ھے کہ اس کو درست طریقہ سے سمجھا اور سمجھایا جائے اور اس کے معانی و مطالب سمجھنے اور سمجھانے میں ان غلطیوں سے بچا جائے جو گمراھی کا سبب بنتی ھیں ۔ یہ حقیقت ھے کہ صرف ترجمہ پڑھ کر قران مجید کو سمجھنا ممکن نہیں ھوتا بلکہ اس کے لئے جن علوم کی ضرورت ھے انہیں سیکھنا بھی از حد ضروری ھے ۔ اُستادِ محترم متکلمِ اسلام حضرت مولانا محمد الیاس گھمن صاحب حفظہ اللہ اپنی کتاب “ اصولِ تفسیر" میں قرآن مجید کی درست تفہیم اور تفسیر کے لیے (15) بنیادی علوم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ پندرہ علوم دراصل علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق تصنیف "الاتقان فی علوم القرآن" سے ماخوذ ہیں، جن کے بغیر قرآن پاک کا ترجمہ، تشریح یا تفسیر کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہوتی۔
ان پندرہ علوم کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. علمِ لغت:
جس کے ذریعے قرآن مجید کے مفرد (الگ الگ) الفاظ کے حقیقی معانی معلوم ہوتے ہیں۔ چند لغات کا معلوم ھو جانا کافی نہیں ھے اس لئے کہ بعض اوقات ایک لفظ کے کئی معانی ھوتے ھیں اور اگر وہ شخص ان میں سے ایک یا دو معانی ھی جانتا ھے جبکہ اس جگہ کوئی اور معنی مراد ھوتا ھے جسے یہ نہیں جانتا اس صورت میں یہ شخص صحیح مفہوم تک نہیں پہنچ سکتا
2. علمِ صرف:
جس سے الفاظ کے تغیرات، ان کی ساخت اور گردانیں معلوم ہوتی ہیں تاکہ صیغوں کی صحیح پہچان ہو سکے۔
3. علمِ نحو:
یہ جملوں کی بناوٹ اور اعراب (زیر، زبر، پیش) کے بدلنے سے معانی میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کا علم کا علم ھے یعنی الفاظ کے اعراب کا علم علمِ نحو سے ھوتا ھے
4. علمِ اشتقاق:
جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک لفظ کی اصل (روٹ ورڈ) کیا ہے، کیونکہ مادہ بدلنے سے معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ جب دو مادوں سے مشتق ھو تو اس کے معانی مختلف ھوں گے اس صورت میں یہ معلوم ھونا بہت ضروری ھے کہ کس جگہ کون سا معنی کرنا ھے
5. علمِ معانی:
اس علم سے کلام کی خصوصیات اور اس کے مقاصد کو جملے کی ساخت کے مطابق سمجھا جاتا ہے۔ یعنی یہ بات معلوم ھو کہ اللہ تعالی نے کس پس منظر میں یہ بات فرمائی ھے مزید یہ کہ اسے اپنے مخاطب کی ذھنی صلاحیت کا علم ھو کیونکہ اس علم کی وجہ سے متکلم مقتضی حال کے مطابق کام کرتا ھے
6. علمِ بیان:
یہ وہ علم ھے جس سے تشبیہ، استعارہ، کنایہ اور مجاز کے اصول معلوم ہوتے ہیں تاکہ کلام کا چھپا ہوا حسن واضح ہو۔ یعنی متکلم قرانی مفاھیم مقصودی معنی کو خوب آچھی طرح واضح کر سکے
7. علمِ بدیع:
یہ وہ علم ھے جس سے متکلم قرآن ہاک کی لفظی اور معنوی خوبصورتی اور اس کے اسلوب کی فصاحت و بلاغت کو جان کر بیان کرے ۔
۸ علمِ قراءة :
قرآن مجید کو پڑھنے کے مختلف مستند طریقوں کا علم، کیونکہ بعض اوقات قراءت کے اختلاف سے معانی میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ تو علمِ قراءة کے ذریعہ سے ایک معنی کع دوسرے پر ترجیح دی جا سکتی ھے
9. علمِ اصولِ دین (عقائد):
اللہ تعالیٰ کی صفات، نبوت اور آخرت جیسے بنیادی ایمانیات کا علم یعنی عقائد کا علم ، تاکہ مفسر کسی ایسی تشریح سے بچے جو اسلامی عقائد کے خلاف ہو۔ علمِ کلام کے ذریعہ انسان اعتقادی غلطی سے محفوظ رہ سکتا ھے بالخصوص آیاتِ تشبیہ میں
10. علمِ اصولِ فقہ:
قرآن کریم سمجھانے والے میں احکام الٰہی اور مسائل کا استنباط (نکالنے) کے قوانین اور طریقوں کا علم ھو اور وہ آصولِ فقہ کی روشنی میں قرآنی آیات سے استدلال کر سکے
11. علمِ شانِ نزول:
متکلم کے لئے یہ جاننا بہت ضروری ھے کہ کون سی آیت یا سورت کس پسِ منظر، واقعے یا سوال کے جواب میں نازل ہوئی یعنی شانِ نزول کیا تھا ؟ بعض اوقات شانِ نزول جانے بغیر آیت کا آصل معنی سمجھ میں نہیں آ سکتا
12. علمِ ناسخ و منسوخ:
قرآن مجید سمجھانے والے کو اس بات کا علم ھونا بھی ضروری ھے کہ احکام کے اعتبار سے کون سی آیت کا حکم باقی ہے اور کس کا حکم بعد کی کسی آیت سے تبدیل ہو چکا ھے یعنی اس میں ناسخ اور منسوخ کو الگ الگ کرنے کی صلاحیت موجود ھو
13. علمِ فقہ:
قران کریم کے سمجھنے اور سمجھانے والے کو حلال و حرام اور روزمرہ کے شرعی احکام و مسائل کا تفصیلی علم ھونا ضروری ھے یعنی وہ فقہی مسائل پر گہری نظر رکھتا ھو
14. علمِ حدیث:
رسول اللہ ﷺ کے فرامین اور اقوالِ مبارکہ کے علم کو علمِ حدیث کہا جاتا ھے ، علم حدیث کی بغیر قرآن مجید کو سمجھنا یا سمجھابا ناممکن ھے کیونکہ قرآن مجید کی سب سے پہلی اور معتبر تفسیر خود احادیثِ مبارکہ ھی ہیں۔
15. علمِ وہبی:
علم دین سمجھنے اور سمجھانے والے کا خود باعمل ھونا بہت ضروری ھے ۔ اگر اس کی اپنی زندگی قرآن و سنت کے مطابق ھوگی تو اللہ تعالی کی طرف سے اُس پر برکات کا ظہور بھی اُسی طرح ھوگا۔ اسی برکت کے نتیجہ میں “علمِ وھبی” جیسا وہ خاص علم اور بصیرت بھی اسے ملے گی جو اللہ تعالیٰ صرف اپنے ایسے خاص بندوں کو ھی تحفے میں عطا فرماتا ہے جو اپنے علم پر پوری طرح عمل کرتے ہیں اور اپنی زندگی میں تقویٰ اختیار کرتے ھیں اس علم کو “ علمِ لدنی “ بھی کہتے ہیں