غسل کے فرائض


اسلام میں غسل کے تین فرائض ہیں: کلی کرنا، ناک میں پانی چڑھانا، اور پورے جسم پر پانی بہانا۔ ان تینوں میں سے اگر ایک فرض بھی کسی بھی وجہ سے رہ جائے تو غسل نہیں ہوتا۔

غسل کے تین فرائض 

کلی کرنا: 

منہ کے ہر حصے اور حلق کی جڑ تک پانی کا پہنچنا 


ناک میں پانی چڑھانا:

 ناک کے نرم حصے (نرم ہڈی) تک پانی کا اچھی طرح پہنچنا۔


تمام جسم پر پانی بہانا:

 سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے تلوؤں تک پورے بدن پر اس طرح پانی بہانا کہ بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہے۔

بدن کا اگر ایک بال یا بال برابر جسم کا کوئی حصہ بھی خشک رہ جائے تو غسل نہیں ہوگا اور انسان بدستور ناپاک رہے گا۔ ناک، کان کے سوراخوں میں پانی پہنچانا بھی فرض ہے، انگوٹھی چھلّہ اگر تنگ ہوں تو اس کو ہلا کر اس کے نیچے پانی پہنچانا بھی لازم ہے، ورنہ غسل نہیں ہوگا۔

بعض خواتین ناخن پالش وغیرہ جیسی چیزیں استعمال کرتی ہیں جو بدن تک پانی پہنچنے نہیں دیتیں، غسل میں ان چیزوں کو اُتار کر پانی پہنچانا ضروری ہے۔ بعض اوقات بے خیالی میں ناخنوں کے اندر آٹا لگا رہ جاتا ہے اس کی وجہ سے پانی ناخنوں تک نہیں پہنچتا ایسی صورت میں اس کو نکالنا بھی ضروری ہے۔ الغرض! پورے جسم پر پانی بہانا اور جو چیزیں پانی کے بدن تک پہنچنے میں رُکاوٹ ہیں ان کو ہٹانا ضروری ہے، ورنہ غسل نہیں ہوگا۔

عورتوں کے سر کے بال اگر گندھے ہوئے ہوں تو بالوں کو کھول کر ان کو تر کرنا ضروری نہیں، بلکہ بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچا لینا کافی ہے، لیکن اگر بال گندھے ہوئے نہ ہوں (جیسا کہ آج کل عموماً یہی ہوتا ہے) تو سارے بالوں کو اچھی طرح تر کرنا بھی ضروری ہے۔

Share:

وضو کا مسنون طریقہ

جب وضو کرنے کا ارادہ ہو تو وضو کی نیت کریں  کہ میں پاکی حاصل کرنے اور  اللہ تعالی کی رضا اور ثواب کے  لیے وضو کرتا ہوں  یہ نیت اگر دل میں کرلی تو بس کافی ھے تاھم زبان سے کہنے میں بھی کوئی ھرج نہیں اور  اونچی جگہ بیٹھیں تاکہ پانی کے چھنٹیں نہ پڑیں اور   " بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" پڑھنے کے بعد دونوں ہاتھ گٹوں تک تین دفعہ دھوئیں، اگر قبلہ رخ ہو تو بہتر ہے، پھر دائیں ہاتھ سے تین دفعہ کلی کریں،پھر مسواک کریں،اگر مسواک نہ ہو تو موٹے کپڑے یا انگلی سے دانت صاف کریں،اگر روزہ نہ تو کلی میں مبالغہ کریں،پھر دائیں ہاتھ سے تین بار، ہر مرتبہ نیا پانی لے کر ناک میں پانی ڈالیں،اگر روزہ نہ ہو تو پانی نتھنوں کی جڑ تک پہنچائیں ،اور بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی ناک میں ڈال کر  ناک صاف کریں، پھر تین مرتبہ پیشانی کے بالوں سے تھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک اس طرح چہرہ دھوئیں کہ سب جگہ پانی پہنچ جائے،  دونوں ابروؤں اور مونچھوں کے نیچے بھی پانی پہنچ جائے ،کوئی جگہ بال برابر بھی خشک نہ رہے۔ چہرہ دھوتے ھوئے پانی  زور سے نہ ماریں،اگر احرام بندھا ہوا نہ  ہو تو ڈاڑھی کا خلال کریں۔پھر داہنا ہاتھ کہنی سمیت دھوئیں ،ہاتھ پر پانی ڈالنے میں انگلیوں سے ابتدا کریں،انگوٹھی،چھلہ،گھڑی وغیرہ پہنا ہو تو ان کو ہلائیں تاکہ کوئی جگہ خشک نہ رہے،پھر اسی طرح بایاں ہاتھ تین دفعہ دھوئیں انگلی کا خلال کریں،اس طرح کہ ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں پھر دونوں ہاتھ کو تر کر کے پورے سر کا مسح کریں ،پھر  کانوں کا مسح کریں، شہادت کی انگلی سے کان کے اندر کی طرف اور انگوٹھے سے باہر کی طرف دونوں چھوٹی انگلی کان کے سوراخ میں ڈالیں،پھر انگلیوں کی پشت کی طرف سے  گردن کا مسح کریں،پھر دونوں پاؤں پہلے دایاں پاؤں ٹخنوں سمیت تین دفعہ دھوئیں،پھربایاں پاؤں تین بار دھوئیں، پاؤں دھوتے وقت پاؤں کی انگلیوں کا خلال کریں،اس طرح کہ بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے داہنے پاؤں کی چھنگلی سے شروع کر کے انگوٹھے تک پھر بائیں پاؤں کے انگوٹھے سے شروع کر کے چھنگلی پر ختم کریں۔ہر عضو کو دھوتے ہوئے بسم اللہ اور کلمہ و درود شریف بھی پڑھ لیا کریں،اگر وضو سے کچھ پانی بچ جائے تو قبلہ رخ کھڑے ہوکر پی لیں، پھر آسمان کی طرف منھ کر کے کلمۂ شہادت  {اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْكَ لَهٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُه }(میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،وہ یکتا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں) پڑھ کر یہ دعا  {اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ}(اے اللہ ! مجھے بہت توبہ کرنے والوں اور پاکی حاصل کرنے والوں میں بنا دیجیے) پڑھیں۔ اس کے بعد اگر  مکروہ وقت  نہ ہو تو دو رکعت تحیۃ الوضو پڑھیں۔

Share:

وضو کے مستحبات


مستحب وہ پسندیدہ عمل ہے جسے نبی کریم ﷺ، صحابہ کرام یا تابعین کرام نے خود کیا ہو یا اسے اچھا سمجھا ہو، لیکن اس پر ہمیشہ یا اکثر پابندی نہ کی ہو بلکہ کبھی کیا ہو اور کبھی چھوڑ دیا ہو. اسے "مندوب" بھی کہا جاتا ہے۔  مستحب کام کرنے والے کو اللہ کی طرف سے ثواب ملتا ہے اور نہ کرنے پر کوئی  مواخذہ نہیں یعنی  اسے چھوڑنے یا نہ کرنے والے پر کسی قسم کا کوئی گناہ یا عذاب نہیں ہوتا۔ وضو کے بہت سے مستحبات ھیں ۔ کچھ مستحبات ذیل میں ذکر کیے جاتے ھیں 


 وضو کے مستحبات

(1) وضو کیلئے کسی اونچی جگہ بیٹھنا تاکہ مستعمل پانی کی چھینٹیں نہ پڑیں۔

(2) قبلہ رخ ہو کر بیٹھنا۔

(3) وضو کے کام میں کسی سے مدد حاصل نہ کرنا۔

(4) لوگوں سے بات چیت کرنے سے پرہیز کرنا۔

(5) وضو کے دوران آنحضرت ﷺ سے منقول دعاؤں کا پڑھنا۔

(6) دل سے وضو کی نیت کرتے ہوئے زبان سے بھی کر لینا۔

(7) ہر عضو کے دھوتے وقت "بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" پڑھنا۔

(8) کانوں کے مسح کے دوران تر انگلی کانوں کے سوراخ میں داخل کرنا۔

(9) انگوٹھی کو حرکت دینا، اگر انگوٹھی ایسی تنگ ہو کہ ہلائے بغیر پانی جلد تک نہ پہنچے تو وضو کے صحیح ہونے کیلئے انگوٹھی ہلانا واجب ہے۔

(10) کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کیلئے دایاں ہاتھ استعمال کرنا، البتہ ناک صاف کرنے کیلئے بایاں ہاتھ استعمال کرنا۔

(11) اگر آدمی معذور نہ ہو تو ہر نماز کا وقت شروع ہونے سے پہلے پہلے وضو کر لینا۔

(12) وضو سے فارغ ہو کر قبلہ رخ کھڑے ہو کر یہ دعا پڑھنا: "أَشْهَدُ انْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ"-


نوٹ

اگر کوئی شخص وضو کے دوران وضو کے مستحبات اور آداب کو چھوڑ دے تو اس کا وضو بھی ہوجائے گا اور اس وضو سے پڑھی گئی نماز بھی ادا ہوجائے گی، لیکن مستقل طور پر وضو کے مستحبات و آداب کو ترک کرنے کی عادت بنالینا اچھا نہیں ہے؛ کیوں کہ جو شخص وضو کے مستحبات و آداب کی رعایت کرے گا تو اس کا وضو زیادہ کامل ہوگا اسے زیادہ ثواب ملے گا، 

Share:

وضو كي سنتين

 

وضو کی سنتیں وہ اعمال ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وضو کے دوران خود کیے اور  امت کو  بھی ان اعمال کے کرنے کی تاکید فرمائی۔ ان سنتوں پر عمل کرنے سے وضو سنت کے مطابق اور کامل ہو جاتا ہے تاھم  وضو میں اگر کوئی سنت کسی وجہ سے چھوٹ جائے تو وضو ھو جائے گا لیکن ترکِ سنت کی وجہ سے ثواب میں کمی ہو جائے گی  .

 وضو کی سنتوں کے حوالے سے بعض باتوں میں فقہاء کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہ سنت ہیں یا مستحب، مثلاً: نیت کرنا، مسواک کرنا، ترتیب سے وضو کرنا، ان امور  کو بعض فقہاء نے مستحب قرار دیا ہے، اور بعض نےسنت .  راجح یہ ہے کہ یہ سنت ہیں۔ اسی وجہ سے تعداد میں بھی فرق آجاتا ہے۔اس میں  کوئی اختلاف کی بات نہیں


وضو کی سنتیں 

نیت کرنا ۔

بسم اللّٰہ سے وضو شروع کرنا۔

دونوں ہاتھوں کو گٹوں تک تین تین بار دھونا۔ پہلے دایاں اور پھر بایاں ہاتھ دھونا۔

دانتوں میں مسواک کرنا۔ (کم سے کم تین بار دائیں بائیں اوپر نیچے کے دانتوں پر)

داہنے ہاتھ سے پانی لے کر تین بار کلی  کرنا۔ (روزہ دار نہ ہو تو  غرارہ بھی کریں)

داہنے ہاتھ سے تین بار ناک میں پانی چڑھانا۔

بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا۔

داڑھی کا خلال کرنا۔ یعنی انگلیوں کو گلے کی طرف سے داڑھی میں ڈال کر ایسے پھیرنا جیسے کنگھا کرتے ہیں۔

ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا۔

وضو میں دھلنے والے ہر حِصّے کو تین بار دھونا۔

پورے سر کا مسح کرنا۔

کانوں کا مسح کرنا۔

ترتیب سے وضو کرنا۔

داڑھی کے جو بال منہ  کے دائرے سے باہر ہیں ان کا مسح کرنا۔

وضو میں دھلنے والے حصوں کو پے در پے دھونا یعنی ایک حِصّے کے سوکھنے سے پہلے دوسرے کو دھونا۔


 توجہ: 

وضو کی سنتوں کا اھتمام کرنا باعثِ ثواب ہے اور بلاعذرِ شرعی انہیں چھوڑنا ناپسندیدہ عمل ھے ۔ حتی الامکان کوشش تو یہی کی جائے کہ وضو کرتے ھوئے وضو کی تمام سنتیں ادا ھوجائیں ، اس کے لئے ضروری ھے کہ ھم ان سنتوں کو پورے دھیان سے سیکھیں اور اپنے عمل میں لائیں 



Share:

وضو کے فرائض

 

فقہِ حنفی کے مطابق وضو کے کل چار فرائض ہیں ۔ چہرہ دھونا، دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا، چوتھائی سر کا مسح کرنا، اور دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا۔ ان میں سے کسی بھی فرض کے چھوٹ جانے سے وضو نہیں ہوتا۔ جب وضو نہ ھوا تو اس وضو سے پڑھی ھوئی نماز بھی نہ ھوئی کیونکہ وضو نماز کی شرائط میں شامل ھے 


وضو کے فرائض کی تفصیل

پورا چہرہ دھونا

پیشانی کے بالوں کے اگنے کی جگہ سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک ایک بار پورا چہرہ دھونا فرض ہے۔


دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا 

دونوں  ہاتھوں کو انگلیوں کے سروں سمیت کہنیوں سمیت (کہنیاں بھی شامل ) ایک مرتبہ دھونا فرض ہے۔


چوتھائی سر کا مسح کرنا

 پورے سر کے کم از کم چوتھائی (چوتھائی حصہ) کا ایک مرتبہ گیلے ہاتھوں سے مسح کرنا فرض ہے۔


دونوں پاؤں دھونا

دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت (ٹخنوں کو ملا کر) ایک مرتبہ دھونا فرض ہے۔

Share:

بندوں کے تین جہان

  ھمارے حضرت مولانا حافظ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب   رحمۃ  اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ *اللہ تعالٰی نے بندوں کے لئے تین جہان بنائے ھیں  

ایک کام کا جہان,  دوسرا آرام کا جہان، تیسرا انعام کا جہان 


پہلا کام کا جہان "دنیا"

یہ دین کا کام کرنے اور اپنی زندگی اللہ تعالی کے آحکامات اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والی وسلم کے طریقوں پر عمل کرتے ھوئے گزارنے کا جہان ھے جیسا کہ قرآن پاک نے اس کا خلاصہ بیان کیا ھے

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ 

 اور رسول تمہیں جو کچھ بھی دے اسے تھام لو اور جس سے روکے اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ شدید سزا دینے والا ہے۔  (سورۃ الحشر :7)

آیت مبارکہ کا مطلب یہ ھے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جس کام کے کرنے کا حکم دیا ھے اس میں کسی قسم کی سستی نہ کرو اور جن أمور سے روکا ھے ان سے پوری طرح رک جاؤ 

خلاصئہ کلام یہ کہ اس دنیا میں جیسی کھیتی کاشت کرو گے ویسی ھی اگلے دونوں جہانوں میں جا کر کاٹو گے اس دنیا میں رہ کر دین کا کام کرو گے تو اگلے جہانوں میں راحتیں اور آسائشیں ملیں گی اور اگر اس وقت کو کھیل تماشے میں ھی ضائع کر دو گے اور بس دنیا ھی میں مگن رھو گے ،  اللہ تعالی کے حکموں کو توڑتے رھو گے،  رسول کریم ﷺ کے طریقوں پر عمل نہ کرو گے تو پھر  ظاھر ھے اگلے جہانوں میں نتیجہ بھی ویسا ھی ملے گا


دوسرا  آرام کا جہان " قبر"

 مشہور حدیث مبارکہ میں  ہے جس میں رسول کریم ﷺ نے ارشاد  فرمایا کہ قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا (سنن ترمذی 2460)۔

جس نے دنیا جس طرح کی  زندگی گزاری ھو گی اس کا نتیجہ قبر ھی سے ملنا شروع ھو جائے گا جو شخص دین کی محنت کرتا ھوا اس دنیا سے جائے گا اس کے لئے قبر جیسا مشکل مقام بھی جنت کا نظارہ پیش کرے گا


تیسرا  انعام کا جہان "جنت"

 جس نے کام کیا اسی نے آرام پایا اور انعام پایا۔* 

قرآن و سنت کے مطابق جنت میں جانے والے لوگ وہ ہیں جو سچے ایمان، اچھے اعمال، تقویٰ اور اللہ تعالی کی فرمانبرداری کی زندگی گزارتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جنت میں جانے والوں کی کچھ اقسام درج ذیل ہیں:

بغیر حساب و کتاب جنت میں جانے والے 

یہ وہ خوش نصیب لوگ ھیں جو شرک سے پاک، کامل توحید اور توکل علی اللہ کے حامل ہوں گے 


تقوی اور پرہیزگاری اختیار کرنے والے

وہ لوگ جو اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں، گناہوں سے بچتے ہیں. حرام و حلال کی تمیز کرتے ھیں ، حقوق العباد کا خیال رکھتے ھیں  اور ظاہر و باطن میں اللہ سے ڈرتے ہیں۔


نیک اور صالح اعمال کرنے والے

وہ مومن جو نماز، روزہ، زکوٰۃ، اور دیگر فرائض کی پابندی کے ساتھ مخلوق خدا کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں۔


عادل حکمران اور خدمتِ خلق کرنے والے

 انصاف کرنے والا حاکم، سچ بولنے والا اور رشتہ داروں یا کمزوروں کے حقوق کا خیال رکھنے والا شخص۔


 اپنے گناھوں سے سچی توبہ کرنے والے

وہ گناہ گار جو اپنے کیے پر ندامت محسوس کریں اور زندگی میں  سچی توبہ کر کے سیدھے راستے پر آ جائیں۔


 اللہ کی رضا کے لئے دین کا کام  کرنے والے 

دعوت و تبلیغ ، اشاعتِ قران و اسلام اور تعلیم و تعلم کرنے والے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی محبوب اور افضل ترین عمل کے حامل ھیں۔ دین کا کام جو انسان کو دنیا اور آخرت میں بلندی اور عزت عطا کرتا ہے۔دین کا کام دراصل تمام انبیاء کرام اور رسولوں کا مشن ہے۔ اس راستے پر چلنے والا شخص ان کے مبارک طریقے کو اپناتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ

وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(33)

“اور اس سے بہتر کس کی بات ہو سکتی ہے جو (لوگوں کو) خدا کی طرف بلائے اور خود (بھی) نیک عمل کرے اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں“۔ (سورة حم السجدة : 33)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہارے ذریعے اللہ ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں (قیمتی مال) سے بھی بہتر ہے (صحیح بخاری)۔

جو لوگ خود عملی طور پر یا کسی بھی طرح دین کے کام میں تعاون کرتے ہیں، وہ نیکی کے اس ثواب میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔جس بندے سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتا ہے، اسے اپنے دین کی خدمت کے لیے منتخب فرما لیتا ہے۔

یااللہ! تو ھمیں اپنے دین کے لئے زندگی کے آخری سانس تک قبول فرما لے اور ہمیں جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین درجات کے ساتھ اپنے دیدار کا انعام  نصیب فرما دیجیئے

 *آمین یا رب العالمین

Share:

نماز پڑھنے کا طریقہ

 نماز کی ادائیگی کے لیے باوضو ہوکر قبلہ رخ کھڑے ہوں، نیت کریں اور "اللہ اکبر" کہتے ہوئے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھا کر ناف کے نیچے باندھ لیں۔ ثناء، سورۃ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھیں۔ پھر رکوع کریں، سیدھے کھڑے ہوں، دو سجدے کریں، اور دوسری رکعت کے لیے اٹھ جائیں۔ نماز کے مکمل اور تفصیلی مراحل درج ذیل ہیں


نیت اور تکبیر تحریمہ 

پاک صاف لباس پہن کر اور وضو کر کے قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوں۔ زبان یا دل سے نماز کی نیت کریں اور "اللہ اکبر" کہتے ہوئے دونوں ہاتھ کانوں تک اس طرح اٹھائیں کہ ہتھیلیاں قبلہ کی طرف ہوں، پھر انہیں ناف کے نیچے باندھ لیں (مرد دائیں ہاتھ کی تین انگلیاں بائیں کلائی پر رکھیں اور عورتیں ہاتھ سینے پر رکھیں


  ثناء اور قراءت 

پہلے ثناء  : سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا اِلٰـہَ غَیْرُکَ۔اس کے بعد اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھ کر سورۃ فاتحہ اور قرآن کریم کی کوئی سورت یا کوئی بڑی آیت یا تین چھوٹی آیات پڑھیں


  رکوع اور قومہ

"اللہ اکبر" کہتے ہوئے رکوع میں جائیں، دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑیں اور کمر کو سیدھا رکھیں۔ کم از کم تین بار سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْم کہیں۔ پھر "سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَه" کہتے ہوئے سیدھے کھڑے ہوجائیں اگر مفرد ہو تو اس کے بعد  رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہے،  (اسے قومہ کہتے ہیں)


سجود و جلسہ

   "اللہ اکبر" کہتے ہوئے سجدے میں جائیں۔ ناک اور پیشانی زمین پر ٹکائیں، کہنیاں زمین سے اوپر اور انگلیاں قبلہ رخ ہوں۔ کم از کم تین بار سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى کہیں۔ اس کے بعد "اللہ اکبر" کہتے ہوئے بیٹھ جائیں (اسے جلسہ کہتے ہیں)۔ پھر اسی طرح دوسرا سجدہ کریں


تشہد اور سلام (آخری رکعت پر)

 تین یا چار رکعت والی نماز میں دو رکعت کے بعد تشہد میں بیٹھیں اور التحیات پڑھ کر تیسری رکعت کے لئے کھڑے ھو جائیں 

آخری رکعت میں (یعنی دو رکعت والی نماز میں دو رکعت کے بعد تین رکعت والی نماز میں تین رکعت کے بعد اور چار رکعت  والی میں چار رکعت  کے بعد دونوں سجدے کرنے کے بعد التحیات کے لیے بیٹھیں اور التحیات (تشہد)، درودِ ابراہیمی اور دعا پڑھیں۔ اس کے بعد پہلے دائیں طرف  اور ہھر بائیں طرف چہرے کا رخ کرکے  السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ  کہتے ھوئے سلام پھیریں۔

Share: