روزے کی تعریف اور اھمیت

 روزہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ھے جو حصولِ تقوی  اور تزکیۂ نفس کا ذریعہ ھے ۔ شریعتِ اسلامیہ میں روزے کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ بندہ صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک نیت کے ساتھ کھانے، پینے اور مباشرت سے رک جائے ۔ 


روزے کی تعریف
  • لغوی معنی: عربی میں روزہ کو "صوم" کہتے ہیں، جس کا لغوی معنی کسی کام یا ارادی فعل سے رک جانا یا باز رہنا ہے۔
  • اصطلاحی معنی: شریعتِ اسلامیہ کی اصطلاح میں صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک نیت کے ساتھ کھانے، پینے اور شہوت سے باز رہنے کا نام روزہ ہے۔
روزے کی اہمیت

  • بنیادِ اسلام: روزہ اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے ایک اہم ترین رکن ہے۔
  • تقویٰ کا حصول: روزے کا بنیادی مقصد انسان کے اندر اللہ کا خوف اور تقویٰ پیدا کرنا ہے۔
  • روحانی تربیت: یہ انسان کو نفسانی خواہشات پر قابو پانے اور صبر کی عملی تربیت دیتا ہے۔
  • خدا ترسی اور ضبطِ نفس: روزے سے انسان کے اندر خدا ترسی پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے نفس پر قابو پانا سیکھتا ہے۔
  • خصوصی جزا: احادیث کے مطابق دیگر نیکیوں کا بدلہ متعین ہے مگر روزے کی جزا کا فیصلہ براہِ راست اللہ تعالی اپنے ذمے رکھتا ہے۔
  • آگ سے بچاؤ: روزہ انسان کے لیے جہنم کی آگ سے ڈھال اور حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے۔
  • اخوت اور ہمدردی: بھوک اور پیاس کا یہ عمل معاشرے کے غریبوں اور محتاجوں کا احساس دلاتا ہے۔
    • روحانی و جسمانی اصلاح: اس سے روح کو طاقت ملتی ہے اور طبی لحاظ سے معدے کی اصلاح ہو کر جسم کو صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے [ دارالعلوم دیوبند ]. 
    • گناہوں کی مغفرت: خالص نیت اور ایمان کے ساتھ رکھے گئے روزے پچھلے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بنتے ہیں
    • عبادت کا ذوق: رمضان المبارک کے روزے انسان کو باقی گیارہ مہینے اچھے اعمال اور دیگر عبادات کے لیے توانائی اور شوق عطا کرتے ہیں 
    • نفس پر قابو: روزہ انسان کو بھوک پیاس پر صبر سکھاتا اور اخلاقی برائیوں سے روکتا ہے۔

Share:

زکوٰۃ کے جدید چند مسائل

 

دور حاضر میں پیش آنے والے زکوة کے چند اہم جدید مسائل درج ذیل ہیں:

کاغذی کرنسی اور بینک نوٹ
  • موجودہ کاغذی نوٹوں پر زکوٰۃ کا حکم وہی ہے جو سونے اور چاندی کا ہے۔
  • اگر کسی کے پاس اتنی نقدی ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر پہنچ جائے، تو اس پر اڑھائی فیصد (2.5%) زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے. 
 فیکٹریوں اور کارخانوں کا حکم
  • فیکٹری کی زمین، عمارت اور مشینوں پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی.
  • زکوٰۃ صرف اس مال پر فرض ہوتی ہے جو تیار شدہ ہو یا فروخت کے لیے رکھا گیا ہو، اور فیکٹری کے خام مال (Raw Material) پر بھی زکوٰۃ لازم ہوتی ہے. 
شیئرز اوراسٹاک ایکسچینج
  • اگر شیئرز کاروبار یا تجارت کی نیت سے خریدے گئے ہیں، تو ان کی موجودہ مارکیٹ ویلیو پر زکوٰۃ فرض ہے۔
  • اگر شیئرز صرف منافع (ڈوینڈنڈ) حاصل کرنے کے لیے رکھے گئے ہیں اور آگے بیچنے کی نیت نہیں ہے، تو صرف ملنے والے منافع پر زکوٰۃ لازم ہوگی، پورے شیئر کی مالیت پر نہیں۔
پراویڈنٹ فنڈ (Provident Fund)
  • ملازم کی تنخواہ سے جو کٹوتی جبری طور پر ہوتی ہے، اس پر قبضہ تام نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔
  • جب یہ فنڈ ریٹائرمنٹ یا ملازمت کے ختم ہونے پر موصول ہوتا ہے، تب اس پر قبضہ ہوتا ہے (بعض صورتوں میں گزشتہ سالوں کا حساب کرکے کٹوتی کی جاتی ہے)۔
آن لائن زکوٰۃ کی منتقلی
  • اگر آپ زکوٰۃ کی رقم آن لائن یا بذریعہ بینک غریب تک پہنچاتے ہیں، تو ٹرانسفر یا بینک چارجز زکوٰۃ میں شمار نہیں ہوں گے۔
  • مستحق کو زکوٰۃ کی مکمل اور پوری مقدار پہنچانا لازمی ہے۔

  • بینک کی طرف سے زکوة کٹنے کا حکم
  • اجازت اور نیت: اگر کھاتہ دار کی طرف سے بینک کو وکیل بنایا گیا ہو یا کھاتہ دار نے زکوة کی نیت کی ھوئی ھو  تو زکوٰۃ ادا ہو جاتی ھے ۔ 
  • بینک یا حکومت کی طرف سے اکائونٹ سے کاٹی جانے والی زکوٰۃ سے آپ کی فرض زکوٰۃ اس وقت ادا ہوتی ہے جب آپ کی طرف سے نیت اور باقاعدہ رضامندی شامل ہو، لیکن احتیاطاً اس کا الگ حساب رکھنا بہتر ہوتا ہے
    • زیورات کی زکوٰۃ
    • عورتوں کے زیرِ استعمال سونے یا چاندی کے زیورات پر بھی زکوٰۃ فرض ہے، خواہ وہ ذاتی استعمال میں ہوں یا محفوظ ہوں۔

    • قرض کی رقم کی زکوة 
      • جو قرض آپ نے کسی کو دیا ہو اور اس کی واپسی کی امید ہو، اس پر بھی زکوٰۃ فرض ہے
Share:

بکریوں کی زکوٰۃ کا نصاب

 

بکریوں کی زکوٰۃ کا نصاب کم از کم 40 بکریاں (جن میں بھیڑ اور دنبہ بھی شامل ہیں) ہے، اور چالیس سے کم بکریوں پر زکوٰۃ فرض نہیں  ھوتی ۔ شریعت میں مویشیوں کی زکوة  کا یہ نصاب ان جانوروں پر لاگو ھوتا ھے جو سائمہ ھوں یعنی سارا سال یا سال کا اکثر حصہ جنگل  میں چر کر خود گھاس کھانے والے ھوں  نہ کہ گھر میں چارہ کھلانے والے ۔ 


بکریوں کی زکوٰۃ کی تفصیل
  • 40 سے 120 بکریاں: ان میں صرف ایک بکری زکوٰۃ میں واجب ہے۔ 
  • 121 سے 200 بکریاں: ان میں دو بکریاں واجب ہیں۔
  • 201 سے 399 بکریاں: ان میں تین بکریاں واجب ہیں۔
  • 400 بکریاں: ان میں چار بکریاں واجب ہیں۔
  • 400 کے بعد: اس کے بعد ہر ایک سو (100) بکری کے اضافے پر ایک اور بکری بڑھتی جائے گی (مثلاً 500 پر پانچ بکریاں)


Share:

گائے کی زکوة کا نصاب


فقہ حنفی جس کی بہترین ترجمانی مولانا محمد الیاس گھمن صاحب حفظہ اللہ  بھی اپنے بیانات اور کتب جیسے "زکوٰۃ کورس" میں کرتے ہیں) کے مطابق چرنے والے (سائمہ) جانوروں میں گائے اور بھینس ایک ہی جنس شمار ہوتے ہیں اور ان کا نصاب درج ذیل ہے: 

بنیادی اصول
  • بغیر نصاب کے معافی: 30 گائے یا بھینسوں سے کم تعداد پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔
  • جنس کی یکسانی: گائے اور بھینس دونوں کا حکم ایک ہی ہے، لہذا اگر دونوں مِلا کر نصاب بنتا ہو تو دونوں کو ملا لیا جائے گا۔
  • شرطِ سائمہ: یہ زکوٰۃ اس صورت میں ہے جب جانور سال کا بیشتر حصہ جنگل یا چراگاہ میں خود چرتے ہوں (سائمہ ہوں)۔ اگر وہ گھر پر پالے گئے ہوں اور ان کا چارہ مالک خود ڈالتا ہو یا وہ تجارت کے لیے ہوں، تو ان کی زکوٰۃ کا طریقہ مختلف ہوتا ہے (تجارت کی صورت میں ان کی قیمت کا ڈھائی فیصد دیا جاتا ہے)۔ [

گائے کی زکوٰۃ کا تفصیلی نصاب 
  • 30 سے 39 تک: ایک سال کا بچھڑا یا بچھیا (مادہ) واجب ہے۔
  • 40 سے 59 تک: پورے دو سال کا بچھڑا یا بچھیا واجب ہے۔
  • 60 سے 69 تک: ایک ایک سال کے دو بچھڑے یا بچھیاں واجب ہیں۔
  • 70 سے 79 تک: ایک سال کا ایک بچھڑا اور دو سال کا ایک بچھڑا واجب ہے۔
  • 80 سے 89 تک: پورے دو سال کے دو بچھڑے واجب ہیں۔
  • 90 سے 99 تک: ایک ایک سال کے تین بچھڑے واجب ہیں۔
  • 100 سے 109 تک: دو سال کا ایک اور ایک سال کے دو بچھڑے واجب ہیں۔ 
  • اس کے بعد ہر دسویں اور چالیسویں عدد کے فرق سے قاعدے کے مطابق زکوٰۃ کی شرح بڑھتی جاتی ہے)۔ 
Share: