*حلب(شہر) کے چالیس رافضیوں کا زمین میں دھنس جانے کا مشہور اور عبرت ناک واقعہ* تاریخ کے اوراق میں محفوظ چلا آرھا ھے
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم کی سیرت کو داغدار کرنے کی تمام تر ناکام کوششوں کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم کو بُرا بھلا کہنا رافضی مذہب میں ایک عبادت سمجھا گیا ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم سے ان کی دشمنی اس انتہا کو پہنچی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم کی وفات کے بعد بھی ان شریروں کی طرف سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم کو معاف نہیں کیا گیا جیسا کہ علامہ محب طبری رحمۃ اللہ نے "ریاض النظرہ" میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ نے "جذب القلوب" میں اور علامہ ابراہیم عبیدی مالکی رحمۃ اللہ نے "عمدۃ التحقیق فی بسائر آل الصدیق" میں تحریر فرمایا:
"حلب کے رافضیوں کی چالیس 40 افراد پر مشتمل ایک جماعت امیر مدینہ منورہ کے پاس آئی اور ان کو نہایت قیمتی سامان اور نادر تحفے بطور رشوت دے کر اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا فارق اعظمؓ کے پاک اجسام کو حرم پاک سے نکال کر لے جانے میں مدد دیں گے۔ چنانچہ امیر مدینہ منورہ نے حرم نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خدام کے رئیس شمس الدین صواب کو بلایا اور یہ حکم دیا کہ آج رات کچھ لوگ مسجد نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں آئیں گے، وہ جو کچھ کریں انہیں کرنے دینا۔ شیخ صواب کو کسی طرح یہ معلوم ہو گیا کہ یہ لوگ کس ناپاک ارادہ سے آئیں گے، پھر عشاء کی نماز کے بعد جب سب لوگ چلے گئے اور شیخ نے حرم نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دروازے بند کر دیے تو کچھ دیر کے بعد حرم نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے باب السلام پر دستک ہوئی۔ شیخ نے دروازہ کھولا تو ایک دم وہ لوگ پھاوڑے، کدال، ٹوکریاں وغیرہ لے کر حرم نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں داخل ہو گئے، وہ لوگ روضہ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف بڑھتے چلے گئے اور ابھی منبر رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قریب ہی نہ پہنچ پائے تھے کہ اچانک زمین پھٹ گئی اور ان بد باطنوں کو مع ساز و سامان کے نگل گئی۔ اور دوسری طرف اللہ کے حکم سے حاکم مدینہ منورہ کو یہ سزا ملی کہ وہ ایسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوا کہ اس کے اعضاء کٹ کٹ کر گرنے لگے اور اس طرح وہ نہایت ذلت کی موت مرا"
عبداللہ ابن سباء یہودی جو رافضی مذھب کا بانی تھا نے جس ہوشمندی سے حضوراکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ورثہ (صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم ) کو مٹانے کی منصوبہ بندی کی تھی وہ اپنی معراج پر پہنچ گئی گو خدائے غیور (اللہ تعالیٰ) کو اپنے محبوب رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جان نثار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم کا جس قدر پاس تھا اس کا منظر بھی سامنے آگیا بے ۔ زمین خدائے غیور کے حکم سے دشمنانِ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم کو جیتے جاگتے نگل گئی آج بھی مسجد نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں اس مقام پر ایک سیاہ پتھر سارے فرش سے الگ نظر آتا ہے اور دیکھنے والوں کو زبان حال سے دعوت دیتا ہے.
"دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو"
اس واقعۂ خسف کے ساتھ ایک ضمنی واقعہ بھی پیش آیا۔ ان چالیس رضا کاروں کی پشت پر ایک بڑی جماعت مسجد نبوی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے باہر موجود تھی۔ خادم کے شور مچانے پر وہ بہت غضبناک ہوئے انہوں نے خادم سے انتقام لینے کی یہ سکیم بنائی کہ اسے دھوکہ سے ایک جگہ لے گئے اور اس کی زبان کاٹ دی۔
عمدۃ التحقیق صفحہ 225 پر اس کی تفصیل یوں دی گئی ہے:
"ان چالیس آدمیوں کو اندر بھیج کر ان کے ساتھی جو باہر کھڑے تھے خادم کا شور سن کر خادم کو قابو کرنے کا حیلہ (بہانہ) سوچنے لگے۔ آخر اسے ایک ویران مکان میں لے گئے اس کی زبان کاٹ دی ۔ وہ شخص روضہ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر حاضر ہوا اور رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اس ظلم کی شکایت کی ۔ جب وہ سو گیا تو خواب میں رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت ھوئی ۔ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے (خواب میں اس کے جسم پر ہاتھ مبارک پھیرا صبح اٹھا تو تمام اعضاء درست تھے۔ اس کے بعد انہوں نے دو دفعہ یہی حلیہ کیا اور حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسی طرح شفقت فرمائی اور وہ صبح اٹھتا تو صحیح سلامت ہوتا"
*خدائے غیور کو اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جاں نثاروں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم کا جو لحاظ تھا اس کا ثبوت واقعہ خسف سے ملتا ہے اور حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اپنے رفقاء سے جو محبت ہے اس کا ثبوت اس امر سے ملتا ہے کہ جو زبان صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم کی حفاظت کی خاطر حرکت میں آئی دشمنانِ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم اسے کاٹتے رہے اور حضور اکرم اسے خواب میں جوڑتے رہے اور وہ خواب عالم بیداری میں حقیقت نفس الامری بن کر سامنے آتی رہی۔ یعنی حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم کے ناموس کی خاطر جو شخص نقصان اٹھائے گا اس کی تلافی حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خود فرمائیں گے
اسی قسم کا ایک اور واقعہ امام یافعی رحمۃ اللہ نے "کفایة المعتقد" میں اور "جامع کرامات اولیاء اللہ" میں جلد 2 صفحہ 414 پر اور "اساليب بدهيد في فصل الصحابہ او امتناع شیعہ" میں درج کیا ہے:
"ایک عارف کامل عمر بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ حج کے لیے آئے روضہ اطہر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر حاضری کے وقت حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نعت اور مدح شیخین کرام رضوان اللہ تعالی عنھم (سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ) میں درد ناک شعر پڑھے۔ ان اشعار میں شیخین کرام رضوان اللہ تعالی عنھم کی اسلامی خدمات کا ذکر تھا۔ جب مسجد سے باہر آئے تو ایک شخص انہیں بلا کر گھر لے گیا. اندر گئے تو دروازہ بند کیا اور ان کی زبان کاٹ دی۔ اور زبان کا وہ ٹکرا ان کے ہاتھ میں دے کر گھر سے نکال دیا. وہ روضہ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر حاضر ھو کر بہت روئے رات جب سو گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مع شیخین کرام رضوان اللہ تعالی عنھم تشریف لائے ہیں حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے زبان کا کٹا ہوا ٹکڑا اس سے لیا اور زبان کے ساتھ لگا دیا۔ بیدار ہوئے تو دیکھا کہ ٹکڑا غائب ہے اور زبان بالکل درست ہے ۔ دوسرے سال پھر یہی قصہ ھوا کہ جب وہ قصیدہ پڑھ چکے تو ایک شخص نے ان کی دعوت کی اور گھر لے گیا جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہی گزشتہ سال والا مکان ہے۔ خیر اندر گئے کھانا کھایا پھر وہ آدمی انہیں ایک اور کمرے میں لے گیا۔ دیکھا کہ ستون سے ایک بندر بندھا ھوا ہے میزبان نے کہا *"یہ میرا والد ہے یہ رافضی تھا گذشتہ برس اس نے آپ کی زبان کاٹی تھی رات کو اچھا بھلا سویا صبح دیکھا تو اس کی شکل بندر کی تھی میں نے یہاں باندھ دیا کہ باہر نکلا تو رسوائی ہوگی میں نے اس کی حالت دیکھ کر رافضی مذہب سے توبہ کر لی ہے۔ اب آپ اس کے لیے دعا فرما دیں"*
اس واقعہ سے ظاہر ھوتا ہے کہ تحفظ ناموسِ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم کے جرم میں دشمنِ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم نے ایک شخص کی زبان کاٹ دی حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خواب میں اس کا علاج کر دیا اور خدائے غیور نے اس دشمن کی صورت ہی مسخ کر دی۔ واقعی اللہﷻ اور رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ناموسِ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم کا بڑا لحاظ ہے۔
[تحذیر المسلمین عن کید الکاذبین:صفحہ 208 *مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللّٰہ* ]