روزے کی آقسام


 شریعت اسلامیہ میں حکم کے اعتبار سے روزے کی سات اقسام ہیں

  1. فرضِ معین روزے :  یہ وہ روزے ہیں جن کا رکھنا ہر عاقل اور بالغ مسلمان پر لازمی ہے۔ جیسے رمضان المبارک کے ادائے روزے۔
  2. فرضِ غیر معین روزے : جیسے رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا یا کفارے کے روزے۔ 
  3. واجب روزے: یہ وہ روزے ہیں جو اصلاً فرض تو نہیں ہوتے لیکن کسی وجہ سے انسان پر واجب ہو جاتے ہیں۔ جیسے کسی منت یا نذر کو پورا کرنے کا روزہ (نذرِ معین یا غیر معین) اور نفلی روزہ توڑنے کی صورت میں اس کی قضا کرنا۔ 
  4. مسنون روزے: وہ روزے جو رسول اللہ ﷺ نے خود رکھے یا ان کے رکھنے کی ترغیب دی۔ جیسے عاشورہ (10 محرم) کا روزہ (بشمول 9 یا 11 محرم) اور یومِ عرفہ (9 ذوالحجہ) کا روزہ۔ 
  5. مستحب یا نفلی روزے: ان روزوں کے رکھنے پر ثواب ملتا ہے لیکن نہ رکھنے پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ جیسے شوال کے چھ روزے، ہر اسلامی مہینے کے ایامِ بیض (13، 14 اور 15 تاریخ) کے روزے، اور ہر پیر اور جمعرات کا روزہ۔
  6. مکروہِ روزے (تنزیہی): وہ روزے جن کا رکھنا ناپسندیدہ ھے  جیسے صرف ہفتہ یا صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا۔
  7. حرام روزے : سال میں پانچ دن ایسے ہیں جن میں روزہ رکھنا حرام ہے؛ عید الفطر (یکم شوال)، عید الاضحیٰ (10 ذوالحجہ) اور ایامِ تشریق (11، 12، 13 ذوالحجہ)۔ 
  8.  اس کے علاوہ صوفیاء کرام  اور اہل علم نے معنوی اور باطنی کیفیت کے لحاظ سے بھی روزے کے تین درجات بیان کیے ہیں:
  عوام کا روزہ (صرف کھانے پینے سے رکنا)، خواص کا روزہ (جسم کے تمام اعضاء کو گناہوں سے روکنا)، 
خواص الخواص کا روزہ (دل کو اللہ کے سوا تمام خیالات سے پاک رکھنا)۔ 
Share:

 کی بات بالکل درست ہے۔ اسلام میں نہ صرف گناہ کرنا جرم ہے، بلکہ گناہ کا چرچا کرنا، فحاشی کو پھیلانا اور دل میں اس کی خواہش رکھنا بھی شدید پسندیدہ اور گناہِ کبیرہ کے زمرے میں آتا ہے۔

قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ میں اس حوالے سے واضح احکامات موجود ہیں:
  • قرآن پاک کی گواہی: سورہ النور میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں میں فحاشی (بے حیائی) پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے" (سورہ النور: 19)۔
  • گناہ کو چھپانا: رسول اللہ ﷺ نے گناہ کو چھپانے اور اس پر نادم ہونے کی تلقین فرمائی ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: "میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوائے مجاہرین (علانیہ گناہ کرنے والوں اور اس کا چرچا کرنے والوں) کے" (صحیح بخاری)۔
بے حیائی کا انتظار کرنا یا اسے دیکھ کر خوش ہونا انسان کے دل سے ایمان کی مٹھاس کو ختم کر دیتا ہے اور معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔
کیا آپ اس موضوع پر قرآنی آیات اور احادیث کے تفصیلی حوالے جاننا چاہتے ہیں، یا دل کو ایسی خواہشات سے پاک رکھنے کے طریقے (روحانی علاج
Share:

روزے کی فضیلت

 

روزہ اسلام کا ایک اھم رکن ھے اور اس کی فضیلت قرآن و سنت میں بہت زیادہ بیان کی گئی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ھے

یٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo

(البقرة، 2: 183)

’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔‘‘

فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ ط وَ مَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَط یُرِیْدُ ﷲ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُکَبِّرُوا ﷲ عَلٰی مَا هَدٰکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَo

(البقرة، 2: 185)

’’پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پالے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، ﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے دشواری نہیں چاہتا، اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لیے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لیے کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔‘‘ 

رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی بہت سی آحادیث مبارکہ میں روزے کی فضیلتیں بیان فرمائی ھیں چنانچہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ھے

عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: قَالَ ﷲ: کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهٗ إِلَّا الصِّیَامَ، فَإِنَّهٗ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهٖ، وَالصِّیَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا کَانَ یَوْمُ صَوْمِ أَحَدِکُمْ فَـلَا یَرْفُثْ وَلَا یَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهٗ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهٗ فَلْیَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِهِ، لَخُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْیَبُ عِنْدَ ﷲِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ. لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ یَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهٗ فَرِحَ بِصَوْمِهٖ. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، 

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اُسی کے لیے ہے سوائے روزے کے، کیونکہ روزہ میرے لیے ہے اور اُس کی جزاء میں ہی دیتا ہوں۔ روزہ ڈھال ہے اور جس روز تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو نہ فحش باتیں کرے اور نہ جھگڑے۔ اگر اُسے کوئی گالی دے یا لڑے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضے میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پیاری ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے اُسے فرحت ہوتی ہے۔ جب افطار کرے تو خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کے(عظیم اجر کے) باعث خوش ہو گا ۔

 آحادیث مبارکہ میں بہت سے مقامات پر روزے کی بہت سی فضیلتیں بیان کی گئی ھیں جو بندہ کو اس عظیم عبادت کی ترغیب دیتی ھیں :-


1. روزے کا خاص اجر اور نسبتِ الٰہی

  • حدیثِ قدسی: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "آدم کے بیٹے کا ہر عمل اس کے لیے ہے, مگر روزہ، کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
  • بے حساب ثواب: اس عمل کو اللہ نے خاص اپنی طرف منسوب کیا ہے کیونکہ اس میں ریاکاری کا شائبہ کم ہوتا ہے، اس لیے اس کا اجر بے حد و حساب اور بغیر کسی ناپ تول کے ملے گا۔ 
2. پچھلے گناہوں کی معافی
  • فرمانِ نبوی ﷺ: "جس شخص نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔" (صحیح بخاری و مسلم
3. روزہ دار کے لیے دو خوشیاں
  • نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: "روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ شادمان ہوتا ہے: ایک خوشی اسے افطار کے وقت ہوتی ہے (جب وہ دن بھر کی بھوک پیاس کے بعد افطار کرتا ہے) اور دوسری خوشی اسے اپنے رب سے ملاقات کے وقت ہوگی (جب وہ روزے کا اجر دیکھے گا)
4. قیامت کے دن شفاعت
  • حضرت عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنهما سے مروی ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "روزہ اور قرآن بندے کے لیے قیامت کے دن شفاعت (سفارش) کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اسے دن کے وقت کھانے پینے اور خواہشِ نفس سے روکے رکھا، لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔
5. منہ کی بو کی فضیلت

  • حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک (کستوری) کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر اور پاکیزہ ہے۔
  • روزے کا منکر کافر ھے اور بلا عذر شرعی اسے ترک کرنے والا فاسق ھے
  • اللہ پاک عمل کی توفیق عنایت فرمائے
  • آمین یا رب العالمین



Share:

روزے کی تعریف اور اھمیت

 روزہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ھے جو حصولِ تقوی  اور تزکیۂ نفس کا ذریعہ ھے ۔ شریعتِ اسلامیہ میں روزے کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ بندہ صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک نیت کے ساتھ کھانے، پینے اور مباشرت سے رک جائے ۔ 


روزے کی تعریف
  • لغوی معنی: عربی میں روزہ کو "صوم" کہتے ہیں، جس کا لغوی معنی کسی کام یا ارادی فعل سے رک جانا یا باز رہنا ہے۔
  • اصطلاحی معنی: شریعتِ اسلامیہ کی اصطلاح میں صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک نیت کے ساتھ کھانے، پینے اور شہوت سے باز رہنے کا نام روزہ ہے۔
روزے کی اہمیت

  • بنیادِ اسلام: روزہ اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے ایک اہم ترین رکن ہے۔
  • تقویٰ کا حصول: روزے کا بنیادی مقصد انسان کے اندر اللہ کا خوف اور تقویٰ پیدا کرنا ہے۔
  • روحانی تربیت: یہ انسان کو نفسانی خواہشات پر قابو پانے اور صبر کی عملی تربیت دیتا ہے۔
  • خدا ترسی اور ضبطِ نفس: روزے سے انسان کے اندر خدا ترسی پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے نفس پر قابو پانا سیکھتا ہے۔
  • خصوصی جزا: احادیث کے مطابق دیگر نیکیوں کا بدلہ متعین ہے مگر روزے کی جزا کا فیصلہ براہِ راست اللہ تعالی اپنے ذمے رکھتا ہے۔
  • آگ سے بچاؤ: روزہ انسان کے لیے جہنم کی آگ سے ڈھال اور حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے۔
  • اخوت اور ہمدردی: بھوک اور پیاس کا یہ عمل معاشرے کے غریبوں اور محتاجوں کا احساس دلاتا ہے۔
    • روحانی و جسمانی اصلاح: اس سے روح کو طاقت ملتی ہے اور طبی لحاظ سے معدے کی اصلاح ہو کر جسم کو صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے [ دارالعلوم دیوبند ]. 
    • گناہوں کی مغفرت: خالص نیت اور ایمان کے ساتھ رکھے گئے روزے پچھلے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بنتے ہیں
    • عبادت کا ذوق: رمضان المبارک کے روزے انسان کو باقی گیارہ مہینے اچھے اعمال اور دیگر عبادات کے لیے توانائی اور شوق عطا کرتے ہیں 
    • نفس پر قابو: روزہ انسان کو بھوک پیاس پر صبر سکھاتا اور اخلاقی برائیوں سے روکتا ہے۔

Share: