حج کی فضیلت اور اھمیت


 ’’حج مبرور‘‘ ایک ایسی عالی شان عبادت ہے جس کے متعلق ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم یہ ھے کہ بجز جنت کے اس کا اور کیا بدلہ ہوسکتا ہے!۔’’ حجِ مبرور‘‘ جس کا بدلہ صرف جنت ہی ہوسکتی ہے، اس کی تشریح یہ ہے کہ اس میں گناہ کی آلودگی اور ریاکاری کا شائبہ نہ ہو، یعنی تمام سفرِ حج میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے آدمی بچے اور محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر حج کیا جائے، بلاشبہ اس شرط کا نبھانا بھی بہت مشکل ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کے فضل ہی سے یہ مشکل مرحلہ طے ہوسکتا ہے۔

آنے والے ھفتوں میں لاکھوں حجاج کرام اسلام کے پانچویں اہم رکن کی ادائیگی کے لئے دنیاوی ظاہری زیب وزینت کو چھوڑکر اللہ جل شانہ کے ساتھ والہانہ محبت میں مشاعر مقدسہ (منیٰ، عرفات اور مزدلفہ) پہنچ جائیں گے اور وہاں حضور اکرم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر حج کی ادائیگی کرکے اپنا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانیوں کے ساتھ جوڑیں گے۔ حج کو اسی لئے عاشقانہ عبادت کہتے ہیں، کیونکہ حاجی کے ہر عمل سے وارفتگی اور دیوانگی ٹپکتی ہے۔ حج اس لحاظ سے بڑی نمایاں عبادت ہے کہ یہ بیک وقت روحانی، مالی اور بدنی تینوں پہلوؤں پر مشتمل ہے،یہ خصوصیت کسی دوسری عبادت کو حاصل نہیں ہے۔

اس اہم عبادت کی خصوصی تاکید و ترغیب کئی احادیث مبارکہ میں وارد ہوئی ہے اور اُن لوگوں کے لئے جن پر حج فرض ہوگیا ہے، لیکن دنیاوی اغراض یا سستی کی وجـہ سے بلاشرعی مجبوری کے حج ادا نہیں کرتے، سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، ان میں سے چند حسب ذیل ہیں: حضرت عبد اللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فریضۂ حج ادا کرنے میں جلدی کرو، کیونکہ کسی کو نہیں معلوم کہ اسے کیا عذر پیش آجائے۔(مسند احمد)

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہے (یعنی جس پر حج فرض ہوگیا ہے) اسے جلدی کرنی چاہئے۔ (سنن ابوداؤد) حضرت ابوامامہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو کسی ضروری حاجت یا ظالم بادشاہ یا شدید مرض نے حج سے نہیں روکا اور اس نے حج نہیں کیا اور مرگیا تو وہ چاہے یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے۔ (الدارمی) (یعنی یہ شخص یہود ونصاریٰ کے مشابہ ہے)۔

حضرت عمر فاروق ؓ فرماتےہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ کچھ آدمیوں کو شہر بھیج کر تحقیق کراؤں کہ جن لوگوں کو حج کی طاقت ہے اور انھوں نے حج نہیں کیا، تاکہ ان پر جزیہ مقرر کردیا جائے۔ ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں، ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں۔اسی طرح حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : جس نے قدرت کے باوجود حج نہیں کیا، اس کے لئے برابر ہے کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا عیسائی ہوکر۔

حج بیت اللہ کی خاص اہمیت اور متعدد فضائل احادیث نبویؐ میں وارد ہوئے ہیں: حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول ﷺپر ایمان لانا۔ پھر عرض کیا گیا کہ اس کے بعد کون سا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پھر عرض کیا گیا کہ اس کے بعد کون سا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: حج مقبول۔ (بخاری ومسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے محض اللہ کی خوشنودی کے لئے حج کیا اور اس دوران کوئی بےہودہ بات یا گناہ نہیں کیا تو وہ (پاک ہوکر) ایسا لوٹتا ہے جیسا ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے روز (پاک تھا)۔ (بخاری ومسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عمرہ دوسرے عمرے تک ان گناہوں کا کفارہ ہے جو دونوں عمروں کے درمیان سرزد ہوں اور حج مبرور کا بدلہ تو جنت ہی ہے۔ (بخاری ومسلم)

حضرت عمر فاروق ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: پے درپے حج وعمرے کیا کرو۔ بے شک، یہ دونوں (حج وعمرہ) فقر یعنی غریبی اور گناہوں کو اس طرح دور کردیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ (ابن ماجـہ)

حضرت عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اپنا دایاں ہاتھ آگے کیجئے، تاکہ میں آپ ﷺ سے بیعت کروں۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ آگے کیا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، عمرو کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہﷺ! شرط رکھنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم کیا شرط رکھنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا ( گزشتہ) گناہوں کی مغفرت کی۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ اسلام (میں داخل ہونا) گزشتہ تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے، ہجرت گزشتہ تمام گناہوں کو مٹادیتی ہے اور حج گزشتہ تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے۔ (صحیح مسلم) 

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو حاجی سوار ہوکر حج کرتا ہے ،اس کی سواری کے ہر قدم پر ستّر نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جو حج پیدل کرتا ہے، اس کے ہر قدم پر سات سو نیکیاں حرم کی نیکیوں میں سے لکھی جاتی ہیں۔ آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ حرم کی نیکیاں کتنی ہوتی ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایک نیکی ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ہوتی ہے۔ (بزاز، کبیر، اوسط)

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہﷺ! ہمیں معلوم ہے کہ جہاد سب سے افضل عمل ہے، کیا ہم جہاد نہ کریں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نہیں (عورتوں کے لئے) عمدہ ترین جہاد حج مبرور ہے۔ (صحیح بخاری) ام ّالمؤمنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا عورتوں پر بھی جہاد (فرض) ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان پر ایسا جہاد فرض ہے، جس میں خوں ریزی نہیں ہے اور وہ حج مبرور ہے۔ (ابن ماجـہ)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حج اور عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں تو وہ قبول فرمائے گا، اگر وہ اس سے مغفرت طلب کریں تو اللہ ان کی مغفرت فرمائے گا۔ (ابن ماجـہ)

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کسی حج کرنے والے سے تمہاری ملاقات ہو تو اُس کے اپنے گھر میں پہنچنے سے پہلے اسے سلام کرو اور مصافحہ کرو اور اس سے اپنی مغفرت کی دعا کے لئے کہو،کیونکہ وہ اس حال میں ہے کہ اس کے گناہوں کی مغفرت ہوچکی ہے۔ (مسند احمد)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ حج کی نیکی کیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: حج کی نیکی‘ لوگوں کو کھانا کھلانا اور نرم گفتگو کرنا ہے۔ (رواہ احمد والطبرانی فی الاوسط وابن خزیمۃ فی صحیحہ) مسند احمد اور بیہقی کی روایت میں ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: حج کی نیکی‘ کھانا کھلانا اور لوگوں کو کثرت سے سلام کرنا ہے ۔

حضرت بریدہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حج میں خرچ کرنا جہاد میں خرچ کرنے کی طرح ہے، یعنی حج میں خرچ کرنے کاثواب سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔(مسند احمد) حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے عمرے کا ثواب تمہارے خرچ کے بقدر ہے یعنی جتنا زیادہ اس پر خرچ کیا جائے گا اتنا ہی ثواب ہوگا۔ (الحاکم)

حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب حاجی لبیک کہتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے دائیں اور بائیں جانب جو پتھر، درخت اور ڈھیلے وغیرہ ہوتے ہیں وہ بھی لبیک کہتے ہیں اور اسی طرح زمین کی انتہا تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے (یعنی ہر چیز ساتھ میں لبیک کہتی ہے)۔ (ترمذی، ابن ماجـہ) 


Share:

رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں کی فضیلت

رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتیں (21، 23، 25، 27، 29) بے پناہ فضیلت کی حامل ہیں، جن میں شبِ قدر (ہزار مہینوں سے بہتر رات) پوشیدہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان راتوں میں عبادت (نماز، تلاوت، ذکر) کا خاص اہتمام کرنے اور شبِ قدر تلاش کرنے کی تاکید فرمائی ہے، جس میں سچے دل سے توبہ کرنے والوں کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔  شبِ قدر کا حصول کا امکان ان پانچ راتوں میں سے کسی ایک  رات میں  زیادہ ہایا جاتا ہے۔ اس رات کی عبادت  ہزار مہینوں یعنی  83 سال 4 مہینے کی عبادت سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ ان راتوں میں نوافل، تلاوتِ قرآن، اور خصوصی دعا (اللہم انک عفو...) کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس رات فرشتے اور روح القدس (حضرت جبرائیل علیہ السلام) اللہ کے حکم سے زمین پر اترتے ہیں۔ اس رات کی خاص علامات یہ ھیں  کہ یہ رات معتدل ہوتی ہے (نہ زیادہ گرم، نہ ٹھنڈی)، اور اس کی اگلی صبح سورج بغیر شعاعوں کے طلوع ہوتا ھے 

حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنه سے ہی مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے۔ جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے ان راتوں میں قیام کرے الله تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے (تمام) گناہ بخش دیتا ہے۔ یہ رات اکیسویں، تیئسویں، پچیسویں، ستائیسویں یا رمضان کی آخری رات ہوتی ہے۔ رسول الله ﷺ نے فرمایا: شبِ قدر کی علامات یہ ہیں کہ وہ رات صاف و شفاف اور پر سکون ہوتی ہے، نہ زیادہ ٹھنڈی اور نہ زیادہ گرم (بلکہ معتدل ہوتی ہے)۔ اس رات صبح تک کسی ستارے کے لیے مناسب نہیں کہ اُسے شیاطین کے پیچھے بھگایا جائے۔ اس کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد کی صبح کو آفتاب بالکل ہموار ٹکیہ کی طرح بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے جیسا کہ چودھویں رات کا چاند ہو۔ اس دن کے آفتاب کے ساتھ شیطان نہیں نکلتا۔ ( طبرانی و احمد)

شبِ قدر  کی تعیین  اٹھالی گئی ہے اس لئے وہ متعین طور پر معلوم نہیں ہے کونسی رات میں ہو! البتہ  رمضان المبارک اور پھر خاص کر آخری عشرہ اور پھر اس میں بھی طاق راتوں میں اس کے ملنے کا زیادہ امکان ہے، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے: '' تَحَرُّوْا لَــیْلَة الْقَدْرْ فِي الْوْتْرْ مِنَ الْعَشْرْ الْاَوَاخِرْ مِنْ رَمَضَانَ''۔  [مشکاۃ المصابیح عن البخاري] ’’حضور صلی اللہ علیہ و سلم  نے ارشاد فرمایا کہ لیلۃ القدر کو رمضان کے آخر عشرہ کی  طاق راتوں میں تلاش کرو۔‘‘ طاق راتوں سے مراد ، 21، 23، 25، 27، 29  کی راتیں ہیں، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ رمضان المبارک کے پورے مہینے میں  راتوں کو عبادت کی کوشش کرے ، اگر پوری رات مشکل ہوتو کچھ وقت ، ورنہ عشاء کی نماز جماعت سے پڑھ کر تراویح پڑھے اور اس کے بعد دو ، چار رکعت پڑھ کر سوجائے، یا سحری میں بیدار ہوکر دو چار رکعات تہجد پڑھ لے اورصبح فجر کی نماز جماعت سے پڑھ لے تو  اُمید ھے اسے بھی ان شاء اللہ شبِ قدر مل جائے گی۔

شب قدر کے  اعمال  کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم  سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! اگر مجھے شب قدر کا پتا چل جائے تو کیا دعا مانگوں؟ حضور صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا کہو : « اَللّٰهم إِنَّک عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ » [ترمذی ، مشکاۃ] ’’اے اللہ! تو بے شک معاف کرنے والا ہے اور پسند کرتا ہے معاف کرنے کو‘ پس معاف فرما دے مجھے بھی‘‘ یہ نہایت جامع دعا ہے کہ حق تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے آخرت کے مطالبہ سے معاف فر ما دیں تو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے.

شبِ قدر کی تعیین اٹھانے کی ایک حکمت علماء کرام  نے یہ لکھی ہے کہ مختلف راتوں میں زیادہ سے زیادہ اعمال کی ترغیب مقصود ہے، تاکہ امت مختلف طاق راتوں میں خوب عبادت کرے، ایسا نہ ہو کہ صرف ایک رات میں مخصوص وقت مخصوص عبادت کرلے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایاہے کہ آخری عشرہ داخل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اس کی راتیں جاگتے تھے اور اپنے گھروالوں کو بھی جگاتے تھے اور کمربند کس لیا کرتے تھے۔ نیز فرماتی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جتنی محنت فرماتے تھے اتنی محنت اور دنوں میں نہیں فرماتے تھے۔ لہٰذا ھر  امتی کو چاہیے وہ تمام طاق راتوں میں فرائض کی ادائیگی کے ساتھ  ، نفل نماز، تلاوت، درود شریف، دعاؤں اور دیگر اذکار کا خوب اہتمام کرے، اس رات کا کوئی خاص عمل نہیں ہے، بہتر یہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے سبھی اعمال کیے جائیں اس طرح ہر قسم کے اعمال کا ثواب بھی حاصل ہوجائے گا  اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ اسے شبِ قدر بھی حاصل ہوجائے گی۔

اللہ پاک ھم سب کو ان راتوں کو زیادہ  سے زیادہ عبادت میں گزارنے کی توفیق عنایت فرمائے

آمین یا رب العالمین

Share:

رمضان المبارک کے تیسرے عشرہ کے خصوصی فضائل

  ماہ رمضان المبارک بڑی فضیلتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں اہل ایمان کی طرف اللہ تعالی کی خصوصی رحمتیں متوجہ ہوتی ہیں۔ احادیث و آثار میں رمضان شریف کے بڑے فضائل اور برکات مذکور ہیں۔ احادیث کے مطابق رمضان کے تین عشرے تین مختلف خصوصیات کے حامل ہیں اور ہر ایک پر خصوصی رنگ غالب ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت کاہے، دوسرا عشرہ مغفرت کااور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا۔ (صحیح ابن خزیمة، بیہقی شعب الایمان)

یوں تو رمضان المبارک کا پورا مہینہ دیگر مہینوں میں ممتاز اور خصوصی مقام کا حامل ہے، لیکن رمضان شریف کے آخری دس دنوں (تیسرا عشرہ) کے فضائل آحادیث کی کتابوں میں بہت زیادہ وارد ھوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عبادت وطاعت ، شب بیداری اور ذکر و فکر میں اور زیادہ منہمک ہوجاتے تھے۔  ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اتنا مجاہدہ کیا کرتے تھے جتنا دوسرے دنوں میں نہیں کیا کرتے تھے ۔(صحیح مسلم) 

دیگر احادیث مبارکہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات کی تفصیلات ملتی ہیں۔ جیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آخری عشرہ شروع ہوجاتا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر بیدار رہتے اور اپنی کمرکس لیتے اوراپنے گھروالوں بھی جگاتے تھے۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم )  

راتوں کو اٹھ کر عبادت کرنے کا معمول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو ہمیشہ ہی رھا تھا، لیکن رمضان المبارک میں آپ کمر کس کر عبادت کے لیے تیار ہوجاتے اور پوری پوری رات عبادت میں گزارتے۔ یہ مضمون حضرت عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی ایک دوسری روایت سے اور زیادہ واضح ہوتا ہے ، وہ بیان فرماتی ہیں: مجھے یاد نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کبھی بھی ایک ہی رات میں پورا قرآن مجید پڑھا ہو یا پھر صبح تک عبادت ہی کرتے رہے ہوں ، یا رمضان المبارک کے علاوہ کسی اورمکمل مہینہ کے روزے رکھے ہوں۔ (سنن نسائی ،)

دوسرا خصوصی معمول جس کا ذکرحدیث مبارکہ میں ہے وہ ہے اپنے اہل خانہ کو بھی رات میں عبادت کے لیے جگانا۔احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروالوں کو سارا سال ہی جگایا کرتے تھے ، لہٰذا رمضان المبارک میں خصوصیت کے ساتھ جگانے کے ذکر کا صاف مطلب یہی ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گھروالوں کو باقی سارے سال کی بہ نسبت جگانے کا زیادہ اہتمام فرماتے تھے ۔


 رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی ایک اہم خصوصیت اعتکاف ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک معمول تھا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے۔ حضرت ابن عمررضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے۔ (بخاری،)  صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا، پھر ان کے بعد ان کی ازواج مطہرات نے بھی اعتکاف کیا ۔ (بخاری) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان شریف میں دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے، اور جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ نے بیس دنوں کا اعتکاف فرمایا۔ (بخاری، )

 آخری عشرہ کا اعتکاف سنت علی الکفایہ ہے۔ اعتکاف مسجد کا حق ہے اور پورے محلہ والوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ان کا کوئی فرد مسجد میں ان دنوں اعتکاف کرے۔ اعتکاف کرنے والے کے لیے مسنون ہے کہ وہ طاعات میں مشغول رہے اور کسی شدید طبعی یا شرعی ضرورت کے بغیر مسجد سے باہر نہ نکلے۔ اعتکاف کی حقیقت مالک الملک کے دربار عالی میں پڑجانے کا نام ہے۔ اعتکاف، عاجزی و مسکنت اور تضرع و عبادت سے اللہ کی رضا و خوشنوی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ اعتکاف در اصل انسان کی اپنی عاجزی کا اظہار اور اللہ کی کبریائی اور اس کے سامنے خود سپردگی کا اعلان ہے۔

احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ کا اعتکاف خاص طور پر لیلة القدر کی تلاش اور اس کی برکات پانے کے لیے فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رمضان کے آخری دس دنوں میں لیلة القدر کو تلاش کرو۔

(صحیح بخاری )

حضرت ا بوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عشرہ کا اعتکاف کیا اور ہم نے بھی اعتکاف کیا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کو جس کی تلاش ہے وہ آگے ہے۔ چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے عشرہ کا بھی اعتکاف کیا اورہم نے بھی کیا۔ پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو بتایا کہ مطلوبہ رات ابھی آگے ہے۔ چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیسویں رمضان کی صبح کو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: جو میرے ساتھ اعتکاف کررہا تھا اسے چاہیے کہ وہ آخری عشرے کا اعتکاف بھی کرے۔ مجھے شب قدر دکھائی گئی جسے بعد میں بھلادیا گیا۔یاد رکھو لیلة القدر رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں ہے۔ (صحیح بخاری )

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی سب سے اہم فضیلت وخصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایک ایسی رات پائی جاتی ہے جوہزار مہینوں سے بھی زیادہ افضل ہے اور اسی رات کو قرآن مجید جیسا انمول تحفہ دنیائے انسانیت کو ملا۔اللہ سبحانہ وتعالی نے اس رات کی فضیلت میں پوری سورة القدر نازل فرمائی، ارشاد ہوا: ”ہم نے قرآن کریم کو شب قدر میں نازل کیا ہے ۔ آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح (جبریل) اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں ، یہ رات سراسر سلامتی ہے اورفجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔

 ایک دوسری آیت میں اس کو مبارک رات کہا گیا ہے، ارشاد ہے: ” قسم ہے اس کتاب کی جو حق کو واضح کرنے والی ہے۔ ہم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے “۔ (سورة الدخان )

چناں چہ شب قدر کی عبادت کا ثواب ایک ہزار مہینوں (یعنی کم و بیش تراسی سال) کی عبادت سے زیادہ ہے۔ نیز، اسی رات اللہ تعالی نے قرآن مجید کو یکبارگی لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر نازل فرمایا اور پھر اس کے بعد نبوت کی۲۳سالہ مدت میں حسب ضرورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل ہوتا رہا۔ انھیں آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو ملائکہ نزول کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سال بھر کے تقدیر کے فیصلے فرشتوں کے حوالے فرمادیتے ہیں تاکہ وہ اپنے اپنے وقت پر ان کی تکمیل کرتے رہیں۔ اس رات میں فرشتوں کا نزول بھی رحمت و برکت کا سبب ہوتا ہے۔

لیلة القدر کامطلب ہے قدر اور تعظیم والی رات ہے یعنی ان خصوصیتوں اورفضیلتوں کی بنا پر یہ قدر والی رات ہے۔ یا پھر یہ معنی ہے کہ جوبھی اس رات بیدار ہوکر عبادت کرے گا وہ قدروشان والا ہوگا ۔ تواللہ تعالی نے اس رات کی جلالت ومنزلت اورمقام ومربتہ کی بنا پراس کانام “ لیلة القدر “ رکھا ھے کیونکہ اللہ تعالی کے ہاں اس رات کی بہت قدر ومنزلت ہے۔ شب قدر کی فضیلت بے شمار آیات کریمہ  و احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ صحیحین کی حدیث میں ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جوشخص شب قدر کو ایمان اوراجروثواب کی نیت سے عبادت کرے ، اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مہینہ (رمضان کا) تم کو ملا ہے، اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو اس سے محروم رہا گویا وہ تمام خیر سے محروم رہا ، اور اس کی خیر و برکت سے کوئی محروم ہی بے بہرہ رہ سکتا ہے۔“ (سنن ابن ماجہ،، معجم الکبیر للطبرانی

آحادیث مبارکہ میں اس کی خاص ترغیب و تاکید آئی ہے کہ مسلمان اس رات کو اللہ تعالی کی عبادت کریں، رات کو دعا و عبادت اور ذکر وتلاوت میں گزاریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی مبارک رات کی تلاش کے لیے اعتکاف فرماتے تھے اور رمضان کے آخری عشرہ میں پوری پوری رات عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نزدیک مقبول اور بخشے بخشائے تھے، لیکن پھر بھی اللہ کی رضا کی تلاش میں آپ اتنی جدوجہد فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے۔ اللہ تعالی کی رحمت و مغفرت کے ہم بہت زیادہ محتاج ہیں۔ لہٰذا، ہمیں اس رات کی تلاش و جستجو کرنا چاہیے اور آخری عشرہ کی راتوں کو ذکر و عبادت میں گزارنا چاہیے۔

 اس رات کو اول تو پورے رمضان المبارک  تلاش کرنا چاھیے اور خاص کر اس کے آخری عشرہ میں تلاش کرنا مستحب ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو۔ (صحیح بخاری ) اورابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں تلاش کرو ،باقی نو رہ جائیں تو ان میں، باقی سات رہ جائیں توان میں ، باقی پانچ رہ جائیں تو ان میں۔ ( صحیح بخاری) 

پھر احادیث مبارکہ کی روشنی میں شب قدر کے آخری عشرہ میں بھی طاق راتوں میں وقوع کا زیادہ امکان معلوم ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ (صحیح بخاری) جب کہ بعض احادیث میں ستائیسویں رات کو شب قدر ہونے کی بات بھی وارد ہوئی ہے۔جیسا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں ہے کہ شب قدر ستائیسویں رات ہے۔ ( سنن ابوداود ، مسند احمد وغیرہ)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر مجھے شب قدر کا علم ہوجائے تو میں کیا دعا کروں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللھم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عني ) اے اللہ تومعاف کرنے والا کرم والا ہے اورمعافی کوپسند کرتا ہے، لہٰذا مجھے معاف کردے )

 (سنن ترمذی ، ، مسند احمد ، سنن ابن ماجہ وغیرہ)

 حضرات محدثین و علماء کرام فرماتے ہیں کہ شب قدر سے متعلق روایات کثرت سے مروی ہیں اور ان کے مجموعہ سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ شب قدر ہر سال منتقل ہوتی رہتی ہے، اور طاق راتوں میں اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے جب کہ ستائیسویں رات میں اور زیادہ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی بے پایاں مصلحت و حکمت سے شب قدر کو مخفی رکھا ہے ۔اس کو مخفی رکھنے میں شاید ہماری طلب اور ذوق جستجو کا امتحان مقصود ہے۔ اگر کوئی شخص خلوصِ نیت اورصدقِ دل سے کوشش کرے ، چاہے اسے علم ہو یا نہ ہو تو ان شاء اللہ وہ شخص اس کی برکات سے محروم نہیں رہے گا ۔ 

اللہ پاک ھمیں آخری عشرہ کی تمام راتوں کی قدر کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ 

آمین یا رب العالمین 


Share:

 ***یا رب العالمین :

ہمارے والدین ، اساتذہ کرام ، عزیز و اقرباء و لواحقین اور دوست احباب جو اس دنیا سے رخصت ھو چکے ھیں . رمضان المبارک کی برکت سے اُن سب کی اپنے فضل سے کامل بخشش فرما ، اُن کی قبروں کو بقعۂ نور اور تا حد نظر وسیع فرما، اُنہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔ 

آمین یا رب العالمین

یا اللہ ! 

تمام  بیماروں کو شفاء کاملہ عاجلہ عطا فرما ، تمام بے روزگاروں کو روزگار فراہم فرما، تمام بچے بچیوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک فرما ،تمام بے اولاد بہنوں اور بھائیوں کو نیک صالح اور صحت مند اولاد عطا فرما ،تمام طلباء کو دین و دُنیا کی کامیابیاں عطا فرما

آمین یا رب العالمین 

یا رب العالمین : 

ہماری تمام  جائز حاجات (جن کو تیری پاک ذات ہم سے زیادہ جانتی ہے) وہ سب کچھ بلا مانگے عطا فرما، رمضـان المبارک میں ہماری چھوٹی موٹی عبادات کو شرف قبولیت و بخشش فرما ، اور جو رمضان المبارک کی جو گھڑیاں باقی  رہ گئی ھیں ، ھم سب کو اُن کی قدر کرنے کی توفیق عنایت فرما

آمین یا رب العالمین***

Share:

غیبت ایک سنگین گناہ


وَلا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضاً أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتاً فَكَرِهْتُمُوهُ ج وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ۔ (حجرات )

اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو۔ کیا پسند کرتا ہے تم میں سے کوئی شخص کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم اسے تو مکروہ سمجھتے ہو۔ اور ڈرتے رہا کرو اللہ سے، بے شک اللہ تعالی بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

یہ آیتِ کریمہ اس پرسکون اور رحم دل معاشرہ میں شخصی عزت نفس، بزرگی اور آزادی کے ارد گرد ایک دیوار قائم کرتی ہے اور ساتھ ساتھ موثر انداز میں ہمیں یہ درس بھی دیتی ہے کہ ہم نے اپنے شعور اور ضمیر کو کیسے پاک کرنا ہے۔ بے شک لوگوں کی آزادی اور عزت نفس کی پامالی کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔۔۔۔

امام نووی  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے ان گناہوں کا ذکر فرمایا ھے جو کہ زبان سے صادر ہوتے ہیں۔ ان میں سے پہلا گناہ جس کا رواج ھمارے زمانہ میں بہت زیادہ ہو چکا ہے اور جس کو کلمہ پڑھنے والا مسلمان شاید گناہ سمجھتا ہی نہیں وہ ہے ’’غیبت کا گناہ‘‘ یہ ایسا گناہ ہے اور ایسی مصیبت ہے جو بدقسمتی سے ہماری مجلسوں پر اور ہمارے معاشرے پر چھا گئی ہے۔ کوئی محفل اس سے خالی نہیں۔ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس پر بہت سخت وعیدیں ذکر فرمائی ہیں اور ایتِ بالا میں قرآن کریم نے غیبت کے لیے اتنے سخت الفاظ استعمال کیے ہیں کہ شاید کسی اور گناہ کے لیے اتنے سخت الفاظ استعمال نہیں کیے ھوں 

قرآن کریم نے غیبت سے منع کیا اور ہمارے سامنے ایک ایسی چیز کا تصور پیش کیا جس کے تصور سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک ایسے بھائی کا تصور پیش کیا جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہا ہے۔۔۔۔


غیبت کسے کہتے ھیں ؟ 

حدیث شریف میں ہے کہ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ایک صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  نے پوچھا: یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! غیبت کیا ہوتی ہے؟ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کو اس کی غیر موجودگی میں ایسے انداز میں یاد کرنا جس کو وہ ناپسند کرتا ہو، یعنی اگر اس کو پتہ چلے کہ میرا ذکر اس مجلس میں اس طرح کیا گیا تو اس کو تکلیف پہنچے اور اس کوبرا سمجھے تو یہ غیبت ہے۔ پھر صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  نے سوال کیا: اگر وہ خرابی یا عیب واقعتا میرے بھائی میں موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں؟ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: وہ خرابی، برائی یا عیب تیرے بھائی میں پایا جاتا ہو تب ہی تو غیبت ہے اگر نہیں پایا جاتا تو بہتان ہے۔ اس کا گناہ غیبت سے بھی زیادہ ہے۔ (ابو داؤد ) 

ذرا اپنی محفلوں، مجلسوں پر نظر ڈالیے! کس قدر اس گناہ کا رواج ہو چکا ہے اور ہم دن رات اس گناہ میں مبتلا ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین بعض لوگ بڑے بہادر بنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بات تو میں اس کے منہ پر بھی کہہ سکتا ہوں۔ بات اس کے منہ پر کہو یا نہ کہو ہر حالت میں غیبت ہے اور گناہ  کبیرہ ہے۔ غیبت کی تعریف سرکار دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کردی ہے ۔ اس کے سامنے اپنے فاسد خیالات بیان نہیں کرنے چاہئیں ورنہ کفر کا خطرہ ہے۔ غیبت ایسا گناہ کبیرہ ہے جیسے ڈاکہ ڈالنا، بدکاری کرنا، بہتان لگانا، داڑھی منڈانا وغیرہ۔

علامہ راغب اصفہانی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ [قرآن مجید کی ڈکشنری مرتب کرنے والے ایک بڑے عالم] المفردات میں غیبت کی تعریف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ غیبت یہ ہے کہ ایک آدمی بلا ضرورت دوسرے شخص کا وہ عیب بیان کرے جو اس میں ہو۔ امام ابو داؤد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے حضرت عائشہ صدیقہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا سے روایت کیا۔ آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا فرماتی ہیں۔

قلت لنبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حسبک من صفیۃ کذا و کذا۔ قال عن مسدد، تعنی قصیرۃ، قال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، لقد قلت کلمۃ لو مزجت بماء البحر لمزحتہ۔ (ترمذی، کتاب البر و الصلۃ و الادب)

حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے عرض کیا کہ صفیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا میں سے فلاں فلاں چیز آپ کے لئے کافی ہے۔ ابو داؤد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے مسدد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ سے روایت کیا کہ اس سے مراد قد کا چھوٹا ہونا ہے۔ حضور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا، "تم نے ایسا کلمہ کہا کہ اگر تم دریا کے پانی میں ملاؤ تو اس کی حالت کو بدل دے۔"


غیبت  کے اسباب

غیبت کے بے شمار اسباب ہو سکتے ہیں، لیکن پانچ قابل ذکر ہیں:

·      غصے کی حالت میں ایک انسان دوسرے انسان کی غیبت کرتا ہے۔

·      لوگوں کی دیکھا دیکھی اور دوستوں کی حمایت میں غیبت کی جاتی ہے۔

·      انسان کو خطرہ ہو کہ کوئی دوسرا آدمی میری برائی بیان کرے گا، تو اس کو لوگوں کی نظروں سے گرانے کے لئے اس کی غیبت کی جاتی ہے۔

·      کسی جرم میں دوسرے کو شامل کر لینا حالانکہ وہ شامل نہ تھا، یہ بھی غیبت کی ایک صورت ہے۔

·      ارادہ فخر و مباہات بھی غیبت کا سبب بنتا ہے۔ جب دوسرے کے عیوب و نقائص بیان کرنے سے اپنی فضیلت ثابت ہوتی ہو۔۔۔۔

امام ترمذی نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:

یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! ما النجاۃ؟ قال امسک علیک لسانک و لیسعک بیتک وابک علی خطبئتک۔

عرض کیا، "یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! کامیابی کیا ہے؟" آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا، "اپنی زبان روک لو اور چاہیے کہ تمہارا گھر تم پر کشادہ ہو [یعنی اپنی زبان کو کنٹرول کرنے کے سبب تمہارے تعلقات اپنے گھر والوں سے اچھے ہو جائیں] اور اپنی غلطیوں پر رویا کرو۔"


غیبت سے بچنے کے طریقے

·      انسان ذکر خدا میں مشغول رہے۔ نماز میں خشوع و خضوع کی کیفیت اپنائے۔

·      قرآن و حدیث میں غیبت پر کی گئی وعیدوں کا تصور کرے۔

·      موت کا تصور ہر وقت ذہن میں موجود رہے۔

·      معاشرتی سطح پر عزت نفس کے مجروح ہونے کا تصور بھی ذہن نشین رہے۔

·      انسان اکثر اوقات دشمنوں کی غیبت کرتا ہے۔ اسی عادت کی بنا پر دوستوں کی غیبت بھی ہو جاتی ہے لہذا یہ تصور پیش نظر رہنا چاہیے کہ اگر میرے دوست کو میری غیبت کا علم ہو گیا تو دوستی کا بھرم ٹوٹ جائے گا۔

·      غیبت کرنے والا شخص اپنی نیکیاں بھی اس شخص کو دے دیتا ہے جس کی وہ غیبت کرتا ہے لہذا یہ تصور ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ روز قیامت میرے پاس کیا رہے گا۔

·      سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ رب نے غیبت سے منع فرمایا اور رب کے احکام کو پس پشت ڈال کر کامیابی سے ہم کنار ہونا ممکن نہیں۔


غیبت کی اقسام

علماء کرام نے غیبت کی چار اقسام بیان کی ہیں:

·      غیبت کرنا کفر ہے

وہ قسم جہاں غیبت کرنا کفر ہے وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی غیبت کر رہا ہو تو جب اس سے کہا جائے کہ تو غیبت نہ کر تو وہ جواب میں کہے، یہ غیبت نہیں۔ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں۔ تو ایسے شخص نے اللہ تعالی کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال کیا اور ہر وہ شخص جو اللہ تعالی کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال قرار دے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ لہذا اس صورت میں غیبت کرنا کفر ہے۔


·      غیبت کرنا منافقت ہے

دوسری وہ قسم جہاں غیبت کرنا منافقت ہے، وہ یہ ہے کہ انسان ایسے شخص کی غیبت کر رہا ہو جس کے بارے میں اس کی ذاتی رائے یہ ہو کہ وہ نیک ہے تو اس صورت میں غیبت کرنا منافقت ہے۔


·      غیبت کرنا معصیت ہے 

تیسری  وہ قسم جہاں غیبت کرنا معصیت ہے کہ انسان کا یہ جانتے ہوئے کہ غیبت کرنا معصیت ہے پھر بھی غیبت کر رہا ہو اور جس شخص کی غیبت کر رہا ہو اس کا نام بھی لے رہا ہو تو اس صورت میں غیبت کرنا معصیت ہے۔ وہ گناہگار ہے۔ اس کے لئے توبہ ضروری ہے۔


·      وہ قسم جہاں غیبت کرنا جائز ہے

چوتھی وہ قسم جہاں غیبت کرنا نہ صرف جائز بلکہ ثواب کا باعث بھی ہے، وہ یہ ہے کہ فاسق معلن [یعنی اعلانیہ گناہ کرنے والا] کے افعال و کردار کا ذکر، بدعتی کے کارناموں کا تذکرہ کرنا جائز ہے۔ اس میں ثواب ہے اس لئے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا کہ فاجر کے برے افعال کا تذکرہ کرو تاکہ لوگ اس سے دور رہیں۔۔۔۔


غیبت سننا بھی حرام ہے

جو شخص غیبت سن رہا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ غیبت کرنے والے کے قول کو رد کرے اور کہنے والے کا انکار کرے۔ اور اگر وہ انکار نہیں کر سکتا یا یہ کہ غیبت کرنے والا اس کی بات کو تسلیم نہیں کرتا تو پھر اگر ممکن ہو تو اس محفل کو چھوڑ دے۔ جس طرح غیبت کرنے والے سے پوچھا جائے گا کہ تو نے فلاں شخص کی غیبت کیوں کی، اسی طرح غیبت سننے والے سے بھی پوچھا جائے گا کہ تو نے فلاں شخص کی غیبت کیوں سنی۔

    اگر غیبت کو سننے والا شخص بھی صحت مند اور طاقتور ہو تو اس پر واجب ہے کہ وہ غیبت کرنے والے کو منع کرے اور اگر اتنی ہمت و جرأت نہیں ہے تو دل میں اس کے کہنے کو برا جانے۔۔۔۔ بعض اوقات بظاہر انسان کسی کو غیبت سے روک رہا ہوتا ہے مگر دلی طور پر وہ چاہتا ہے کہ غیبت ہوتی رہے۔ ایسا شخص منافق اور گناہگار ہے۔

    اگر کوئی ایسا شخص ہے جو نہ غیبت کرنے والے کو روک سکتا ہے اور نہ ہی محفل کو چھوڑ سکتا ہے تو پھر وہ غیبت کو توجہ سے نہ سنے بلکہ دل و زبان سے اللہ کا ذکر شروع کر دے۔ اس طریقہ پر عمل کے باوجود اگر کوئی بات اس کے کان میں پڑ جائے تو اس کا مواخذہ نہ ہو گا۔۔۔۔


غیبت کی جائز صورتیں

·      ظلم کی شکایت کرنا غیبت نہیں۔۔۔

·      برائی کو روکنے کے لئے مدد طلب کرنا غیبت نہیں۔

·      [اہل علم سے] فتوی طلب کرنے کے لئے کسی کا عیب بیان کرنا غیبت نہیں۔۔۔ مگر احتیاط اور افضلیت اسی میں ہے کہ وہ فتوی طلب کرتے وقت لوگوں کے نام نہ لے۔

·      [اعلانیہ] برائی کرنے والوں کی برائی کا اظہار کرنا غیبت نہیں [جیسے حکمران کی برائی۔]

·      مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے غیبت کرنا جائز ہے۔


غیبت اور حقوق العباد 

غیبت کا تعلق حقوق العباد سے بھی ہے اور حقوق العباد کا معاملہ یہ ہے کہ جب تک بندہ اس کو معاف نہ کرے اس وقت تک یہ معاف نہ ہوگا۔

جس طرح غیبت کرنا گناہ کبیرہ ہے اسی طرح غیبت سننا بھی گناہ کبیرہ ہے۔ جس مجلس میں کسی کی غیبت ہو رہی ہو تو گفتگو کا رخ بدلنے کی کوشش کریں کوئی دوسرا موضوع چھیڑ دیں اگر یہ نہ ہو سکے تو اس مجلس سے اٹھ کر چلے جائیں۔


غیبت کا کفارہ

 غیبت کا کفارہ اگلے جہان میں یہ ہوگا کہ اپنے نیک اعمال اور کی ہوئی عبادتیں ا س کو دینی پڑیں گی جس کی غیبت کی ہے اور اس کے گناہ اپنے اوپر لے کر جہنم میں جانا پڑے گا۔

حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی کسی نے غیبت کی تو آپ نے اسے تحفے بھیج دیئے لوگوں نے عرض کیا: حضرت!  اس نے تو آپ کی غیبت کی ہے پھر تحفے کیوں؟ حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے جواب دیا کہ اس غیبت کرنے والے نے وہ نیکیاں مجھے دی ہیں جو میں نے نہیں کیں اور گناہ مجھ سے لیے ہیں جو اس نے نہیں کیے تو بتاؤ اس نے میرے ساتھ احسان کیا ہے یا نہیں؟ سوچیئے! انسان آخرت کے معاملے میں کتنا خسارہ اٹھا رہا ہے۔ 

غیبت ایک بد ترین سود ہے

 حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ سود اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کے اندر بے شمار خرابیاں ہیں اور بہت سے گناہوں کا مجموعہ ہے اور سود کا کم از کم گناہ اتنا ہے جیسے کوئی آدمی اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کرے۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی  حفظہ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ایک تابعی گزرے ہیں جن کا نام ربیع رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ تھا وہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک مجلس میں پہنچا میں نے دیکھا کہ لوگ بیٹھے باتیں کر رہے ہیں میں بھی اس مجلس میں بیٹھ گیا، باتوں کے دوران کسی شخص کی غیبت شروع ہوگئی،مجھے یہ بات بری لگی کہ ہم یہاں مجلس میں بیٹھ کر کسی کی غیبت کریں چنانچہ میں اس مجلس سے اٹھ کر چلا گیا اس لیے کہ اگر کسی مجلس میں غیبت ہو رہی ہو تو آدمی کو چاہیے کہ اس کو روکے، اگر روکنے کی طاقت نہ ہو تو کم از کم اس گفتگو میں شریک نہ ہو بلکہ اٹھ کر چلا جائے۔ وہ تابعی فرماتے ہیں میں چلا گیا، تھوڑی دیر بعد خیال آیا اب اس مجلس میں غیبت کا موضوع ختم ہو گیا ہو گا اس لیے دوبارہ اس مجلس میں بیٹھ گیا، تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں پھر غیبت شروع ہوگئی اب میں اس مجلس سے نہ اٹھ سکا بلکہ غیبت ستنا رہا جب میں گھر واپس آیا اور رات کو سویا تو خواب میں ایک حبشی کو دیکھا جو ایک بڑے طشت میں میرے پاس گوشت لایا ہے جب میں نے غور سے دیکھا تو خنزیر کا گوشت تھا وہ حبشی مجھ سے کہہ رہا تھا کہ یہ خنزیر کا گوشت کھاؤ میں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں خنزیر کا گوشت کیسے کھاؤں؟ اس حبشی نے کہا: تجھے کھانا پڑے گا پھر اس نے زبردستی گوشت کے ٹکڑے میرے منہ میں ٹھونسنا شروع کردیئے، میں منع کرتا رہا وہ ٹھونستا رہا یہاںتک کہ مجھے قے آنے لگی مگر پھر بھی وہ ٹھونستا رہا اسی شدید تکلیف میں میں بیدار ہو گیا میں نے بیدار ہونے کے بعدکھانا کھایا تو جو خواب میں خنزیر کے گوشت کا بدبودار ذائقہ تھا مجھے کھانے میں محسوس ہوا، تیس دن تک میرا یہی حال رہا۔ (اصلاحی خطبات )


غیبت کی صورت میں حقوق العباد  کی تلافی کیسے کی جائے ؟

غیبت کی صورت میں حقوق کی تلافی کی صورت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب نے یہ فرمائی ہے کہ ان میں سے جن کی غیبت کی ہے اور وہ لوگ زندہ ہیں ان سے اس طرح عاجزی کے ساتھ معافی مانگی جائے کہ وہ دل سے آپ کو معاف کر دیں ۔ جو لوگ اب اس دنیا میں نہیں رھے یعنی فوت ہوچکے ہیں ان کے لیے زیادہ سے زیادہ استغفار کیا جائے اور ان کی بلندیٔ درجات کے لیے دعاؤں کا اھتمام کیا جائے۔

جب کوئی شخص دوسرے کی غیبت کرتا ھے تو گویا وہ اُس شخص کو اپنے سے کمتر اور حقیر سمجھتا ھے یہ غرور اور تکبر کی علامت ھے جو عند اللہ قطعاً پسندیدہ نہیں ھے ۔ ھر شخص کو اپنی برائیوں پر نظر رکھنی چاھیے نہ کہ دوسروں کے عیوب پر ۔ کسی نے کیا خوب کہا ھے 

تھے جب اپنی برائیوں سے بے خبر

رہے ڈھونڈتے اوروں کے عیب و ہنر​

پڑی اپنی برائیوں پہ جب نظر

تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا 


اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت سے بچنے کی توفیق عنایت  فرمائے ۔ 

آمین یا رب العالمین 

Share:

آخرت کے طلبگار اور دنیا کے طلبگار

 

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الۡاٰخِرَۃِ نَزِدۡ لَہٗ فِیۡ حَرۡثِہٖ ۚ وَ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الدُّنۡیَا نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا وَ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ نَّصِیۡبٍ ﴿۲۰﴾

جس کا ارادہ آخرت کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس میں سے کچھ دے دیں گے لیکن ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ (سورہ الشوری)

            یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والے اعمال کرے اور ان اعمال سے صرف اپنے خالق و مالک کی رضا حاصل کرنے کی نیت کرے تو اسے اللہ تعالیٰ دنیا میں  بھی نوازتا ہے اور آخرت میں  بھی اپنے لطف و کرم سے اسے ضرور نواز دے گا اور وہ شخص جو اپنی نماز، روزہ،حج ،زکوٰۃ، صدقہ و خیرات اور دیگر نیک اعمال سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت نہ کرے بلکہ ان اعمال کے ذریعے دنیا میں  مال و دولت،عزت و شہرت  چاہے تو دنیا میں  اسے صرف اتنا ہی ملے گا جتنا اس کے نصیب میں  لکھا ہے اور آخرت میں  ان اعمال کے ثواب سے اسے محروم کر دیا جائے گا ۔ چنانچہ اس بارے میں رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں ا

 حضرت زید بن ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت  ھے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص(صرف) دنیا کی فکر میں  رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے معاملے کو پَراگندہ کر دیتے ھیں اور ا س کی تنگ دستی کو اس کی آنکھوں  کے سامنے کر دیتے ھیں اور اسے دنیا سے صرف اتنا ہی حصہ ملتا ہے جتنا ا س کے لئے (پہلے سے) لکھ دیا گیا ہے اور جو شخص آخرت کا قصد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ا س کے معاملے کو اکٹھا کر دیتے ھیں اور ا س کی مالداری کو اس کے دل میں  رکھ دیتے ھیں اور دنیا اس کے پاس خاک آلود ہو کر آتی ہے۔( ابن ماجہ)

 حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت  ھے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے اپنی تمام فکروں  کو صرف ایک فکر بنا دیا اور وہ آخرت کی فکر ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی دنیا کی فکر کے لئے کافی ہے اور جس کی فکریں  دنیا کے اَحوال میں  مشغول رہیں  تو اللہ تعالیٰ کو اس کی پرواہ نہیں  ہو گی کہ وہ کس وادی میں  ہلاک ہو رہا ہے۔( ابن ماجہ)

حضرت جارود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے آخرت کے عمل کے بدلے دنیا طلب کی تو اس کا چہرہ بگاڑ دیاجائے گا،اس کا ذکر مٹا دیا جائے گا اور جہنم میں  اس کا نام لکھ دیا جائے گا۔ (معجم الکبیر)

یہ حقیقت ھے کہ یہ دنیا ایک مسافر خانہ ھے یہاں کا قیام بالکل عارضی ھے جب کہ آخرت کی زندگی دائمی ھے ۔ عقلمند شخص وھی ھے جو اس دنیا کی عارضی زندگی کے سفر کو سفر ھی سمجھے اور اپنے آپ کو اس دنیا کا مکین نہیں بلکہ مسافر سمجھے اور اپنی نظر اپنی آصل منزل یعنی آخرت پر رکھے یہی شخص صحیح معنوں میں کامیاب وکامران ھو گا چنانچہ حارثہ بن وہاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا کہ: کیا میں تمهیں بتاوں کہ اہل جنت کے بادشاه کون لوگ ہیں- لوگوں نے کہا ہاں اے اللہ کے رسول (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ) تو رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے  فرمایا : وه جو کمزور هو اور جس کو کمزور سمجهہ لیا گیا هو- گرد آلود اور بکهرے هوئے بال- (متفق علیہ)

وه لوگ جو مصلحت پرستی کے بجائے اصول پسندی کو اپنا دین بناتے ہیں- جو دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دیتے ہیں- جو مفاد کو اہمیت دینے کے بجائے حق کو اہمیت دیتے ہیں- جو بندوں کے بجائے اللہ کو اپنی توجہات کا مرکز بناتے ہیں، ایسے لوگ اکثر اوقات دنیا میں بےحیثیت هو جاتے ہیں- وه بیچارے ان چیزوں میں سے کسی چیز کا ثبوت نہیں دے پاتے جن کی دنیوی زندگی میں اہمیت هو اور جو دنیاوی اعتبار سے آدمی کو باعزت بنانے والی هوں- ان کی اس حالت کی وجہ سے بعض اوقات ایسا هوتا ہے کہ لوگ ان کو بےحیثیت اور ناکام سمجهہ لیتے ہیں- دنیوی نقشوں میں ان کو کہیں عزت کے مقام پر نہیں بٹهایا جاتا- مگر حقیقت یہ ھے کہ جب بحکمِ اللہ موجوده دنیا کو ختم کرکے آخرت کا عالم بنایا جائے گا تو اُس عالم کے اندر یہی لوگ سب سے زیاده اونچا مقام حاصل کر لیں گے- وہی سب سے زیاده کامیاب انسان قرار پائیں گے- آج کی دنیا کے  بادشاہوں سے کہیں زیادہ شان و شوکت والی زندگی گزاریں گے- مثلاً  ڈیکٹیٹرانہ نظام میں ایک جمہوری لیڈر ذلت اور گم نامی کے قید خانہ مں ڈال دیا جاتا ہے- مگر جب جمہوری حالات پیدا هوتے ہیں اور عوامی رائے سے سیاسی مناصب کا فیصلہ هوتا ہے تو وہی شخص اقتدار کی بلند ترین کرسی پر بیٹها هوا نظر آتا ہے جو کل تک ایک معمولی سپاہی کے آگے بهی بے بس  دکهائی دے رہا تها بعینہ یہی معاملہ اُس شخص کا ھے جس کا منتہائے نظر آخرت کی زندگی ھو دنیا میں تو وہ شاید گمنامی اور کسمپرسی کے ساتھ زندگی گزار لے گا لیکن مرنے کے بعد والی زندگی میں وہ ان شاء اللہ ضرور کامیاب وکامران ھوگا اور آعلی درجات پر فائز ھو جائے گا اس کے برعکس جو شخص دنیا ھی کو اپنا متمعِ نظر بنائے گا اور آخرت سے غفلت برتے گا وہ شاید دنیا میں تو کچھ اھمیت اختیار کر جائے لیکن آخرت کی ھمیشہ ھمیشہ والی زندگی میں وہ ناکام اور نامراد ھو جائے گا چنانچہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا ارشاد ھے 

“جو شخص اپنی تمام فکروں کو جمع کر کے ایک ہی فکر، یعنی آخرت کی فکر بنا لے، اللہ تعالیٰ اسے دنیاوی فکروں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ)

اس حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دُنیا و آخرت کی زندگی کی کامیابی کا ایک نہایت اہم رازِ بیان فرما دیا ہے۔ انسان کی پریشانیوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کی فکریں بکھری ہوتی ہیں؛ مال، مستقبل، لوگوں کی رائے اور دنیاوی مقابلہ۔ لیکن جب دل کی توجہ آخرت پر مرکوز ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ خود دنیا کے معاملات کو بھی سنوار دیتا ہے۔

یہ حدیث ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ جو شخص اپنی ترجیحات درست کر لیتا ہے، اس کے لیے اللہ تعالی آسانیاں پیدا فرما دیتے ھیں ۔ آخرت کی فکر انسان کو گناہوں سے بچاتی، نیک اعمال کی طرف راغب کرتی اور دل کو سکون عطا کرتی ہے، جبکہ دنیاوی فکریں خود بخود کم ہو جاتی ہیں۔

اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اصل کامیابی زیادہ سوچنے یا زیادہ جمع کرنے میں نہیں، بلکہ صحیح سمت میں سوچنے میں ہے۔ جو اللہ تعالی کی رضا کو اپنا مقصد بنا لے، اس کے لیے دنیا بوجھ نہیں رہتی بلکہ آزمائش بن کر آسان ہو جاتی ہے۔ یہ حدیث ہمیں سوچ کی اصلاح، ترجیحات کی درستگی اور اللہ پر کامل بھروسہ کی ترغیب دیتی ہے، اور یاد دلاتی ہے کہ آخرت کو مقدم رکھنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔

اللہ پاک ھمیں آخرت کی صحیح معنوں میں تیاری کرنے کی توفیق عنایت فرمائے 

آمین یا رب العالمین 

Share:

حضرت مولانا آحمد علی لاھوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا ایک مجرب عمل

 ویسے تو وظائف اور عملیات کی دُنیا میں سینکڑوں وظائف و عملیات ایسے ہیں جو مجرب ہیں اور لوگ بوقتِ ضرورت ان سے مستفید بھی ھوتے ھیں ۔  انہی میں سے ایک مجرب عمل حضرت مولانا احمد علی لاہوری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے لکھا ہے جو ھر جائز مقصد کے لئے مفید ھے ۔ وہ عمل یہ ھے

قرآن مجید میں 106 لفظ "مبین" یعنی آیات مبارکہ  "مبین" ہیں اگر  ان آیاتِ مبارکہ کا  ورد کیا جائے اور اپنے جائز مقاصد میں کامیابی کی دعا کی جائے تو اللہ تعالی کی رحمت سے امید ھے کہ ان شاء اللہ ضرور   کامیابی ہوگی.

افادہ عامہ کے لئے وہ آیات مبارکہ ذیل میں تحریر کی جارہی ہیں...


بسم الله الرحمن الرحيم....


1)وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿168 البقرة﴾


2)وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿208 البقرة﴾


3)وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿164 آل عمران﴾


4)قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ ﴿15 المائدة﴾


5)فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿٩٢ المائدة﴾


6)فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿110 المائدة﴾


7)لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿7 الأنعام﴾


8)مَنْ يُصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ ﴿١٦ الأنعام﴾


9)وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ﴿59 الأنعام﴾


10)إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿74 الأنعام﴾


11)وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿142 الأنعام﴾


12)وَأَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿22 الأعراف﴾


13)قَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿60 الأعراف﴾


14)فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ ﴿107 الأعراف﴾


15)أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِنْ جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿184 الأعراف﴾


16)قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ ﴿2 يونس﴾


17)وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ﴿61 يونس﴾


18)فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا إِنَّ هَٰذَا لَسِحْرٌ مُبِينٌ ﴿76 يونس﴾


19)وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ﴿6 هود﴾


20)لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿7 هود﴾


21)وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿25 هود﴾


22)وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿96 هود﴾


23)الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿١ يوسف﴾


24)إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿5 يوسف﴾


25)وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿8 يوسف﴾


26)قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿30 يوسف﴾


27)تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿10 ابراهيم﴾


28)الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ وَقُرْآنٍ مُبِينٍ ﴿1 الحجر﴾


29)إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُبِينٌ ﴿18 الحجر﴾


30)فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍ مُبِينٍ ﴿79 الحجر﴾


31)وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُ ﴿٨٩ الحجر﴾


32)خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ ﴿4 النحل﴾


33)فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿٣٥ النحل﴾


34)فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿٨٢ النحل﴾


35)لسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ ﴿103 النحل﴾


36)لَٰكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿38 مريم


37)قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿54 الأنبياء﴾


38)خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ﴿١١ الحج﴾


39)قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿49 الحج﴾


40)ثُمَّ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ وَأَخَاهُ هَارُونَ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿45 المؤمنون﴾


41)لَّوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَٰذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ (12 النور)


42)وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ ﴿٢٥ النور﴾


43)وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿٥٤ النور﴾


44)تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢ الشعراء﴾


45)قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَيْءٍ مُبِينٍ ﴿30 الشعراء﴾


46)فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ ﴿32 الشعراء﴾


47)تَاللَّهِ إِنْ كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿97 الشعراء﴾


48)إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿115 الشعراء﴾


49)بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ {195 الشعراء}


50)طس تِلْكَ آيَاتُ الْقُرْآنِ وَكِتَابٍ مُبِينٍ ﴿1 النمل﴾


51)فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ آيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿13 النمل﴾


52)إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ ﴿١٦ النمل﴾


53)لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَأَذْبَحَنَّهُ أَوْ لَيَأْتِيَنِّي بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿21 النمل﴾


54)وَمَا مِنْ غَائِبَةٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ﴿75 النمل﴾


55)فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِينِ ﴿٧٩ النمل﴾


56)تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢ القصص﴾


57)قَالَ هَٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُضِلٌّ مُبِينٌ ﴿15 القصص﴾


58)قَالَ لَهُ مُوسَىٰ إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُبِينٌ ﴿18 القصص﴾


59)قُلْ رَبِّي أَعْلَمُ مَنْ جَاءَ بِالْهُدَىٰ وَمَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ 85 القصص﴾


60)وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿١٨ العنكبوت﴾


61)وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَاتٌ مِّن رَّبِّهِ ۖ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ (50 العنكبوت)


62)بَلِ الظَّالِمُونَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿11 لقمان﴾


63)وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرُ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ﴿3 سبإ﴾


64)وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿24 سبإ﴾


65)وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿43 سبإ﴾


66)وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ ﴿12 يس﴾


67)وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿١٧ يس﴾


68)إِنِّي إِذًا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿24 يس﴾


69)إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿47 يس﴾


70)أَنْ لَا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿60 يس﴾


71)إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُبِينٌ ﴿69 يس﴾


72)أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ ﴿77 يس﴾


73)وَقَالُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿15 الصافات﴾


74)إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ ﴿١٠٦ الصافات﴾


75)وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِنَفْسِهِ مُبِينٌ ﴿113 الصافات﴾


76)أَمْ لَكُمْ سُلْطَانٌ مُبِينٌ ﴿156 الصافات﴾


77)إِنْ يُوحَىٰ إِلَيَّ إِلَّا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿70 ص﴾


78)أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ﴿١٥ الزمر﴾


79)فَوَيْلٌ لِلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿22 الزمر﴾


80)وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿23 مؤمن﴾


81)وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢ الزخرف﴾


82)إِنَّ الْإِنْسَانَ لَكَفُورٌ مُبِينٌ ﴿15 الزخرف﴾


83)أَوَمَنْ يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ ﴿18 الزخرف﴾


84)بَلْ مَتَّعْتُ هَٰؤُلَاءِ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ جَاءَهُمُ الْحَقُّ وَرَسُولٌ مُبِينٌ ﴿29 الزخرف﴾


85)أَفَأَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ أَوْ تَهْدِي الْعُمْيَ وَمَنْ كَانَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿40 الزخرف﴾


86)وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿62 الزخرف﴾


87)وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢ الدخان﴾


88)فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ ﴿10 الدخان﴾


89)أَنَّىٰ لَهُمُ الذِّكْرَىٰ وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُبِينٌ ﴿13 الدخان﴾


90)وَأَنْ لَا تَعْلُوا عَلَى اللَّهِ إِنِّي آتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿19 الدخان﴾


91)وَآتَيْنَاهُمْ مِنَ الْآيَاتِ مَا فِيهِ بَلَاءٌ مُبِينٌ ﴿33 الدخان﴾


92)فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِي رَحْمَتِهِ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ ﴿٣٠ الجاثية﴾


93)قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ هَٰذَا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿7 الأحقاف﴾


94)إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿9 الأحقاف﴾


95)أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿32

الأحقاف﴾


96)وَفِي مُوسَىٰ إِذْ أَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿38 الذاريات﴾


97)فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿50 الذاريات﴾


98)وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿51 الذاريات﴾


99)فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿38 الطور﴾


100)فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿6 الصف﴾


101)وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿2 الجمعة﴾


102)فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿١٢ التغابن﴾


103)قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿26 الملك﴾


104)فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿29 الملك﴾


105)قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿2 نوح﴾


106)وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ ﴿٢٣ التكوير﴾


ان ایاتِ مبارکہ کے ختم کے بعد جہاں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے دعا مانگیں وہاں تمام امتِ مسلمہ کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں..

Share: