قرآن کریم کے بنیادی پانچ نام اور وجہ تسمیہ


 علماء کرام کے متفقہ اصولوں کے مطابق قرآن کریم کے اصل اور بنیادی نام پانچ ہیں جو خود قرآن مجید کی مختلف آیات میں مذکور ہیں:


1. اَلْقُرْآنُ:

(وجہ تسمیہ: حق اور باطل اور سب سے زیادہ پڑھی جانے والی  کتاب ) 

وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ0 


2. اَلْکِتَابُ: 

جیسے سورۃ البقرہ کے شروع میں ہے: 

"ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ"۔

 (وجہ تسمیہ: چونکہ یہ حروف اور برکات کو اپنے اندر لکھے ہوئے اور جمع کیے ہوئے ہے)۔


3. اَلْفُرْقَانُ:

 "تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ"۔

 (وجہ تسمیہ: حق اور باطل، حلال اور حرام کے درمیان واضح فرق کرنے والی کتاب)۔


4. اَلذِّکْرُ:

 "اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ"۔ 

(وجہ تسمیہ: یہ انسانوں کے لیے نصیحت، یاد دہانی اور شرف کا باعث ہے)۔


5. اَلتَّنْزِیْلُ:

 "وَاِنَّہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ"۔ 

(وجہ تسمیہ: یہ اللہ رب العزت کی طرف سے نازل کردہ وحی ہے)۔


نوٹ: ان پانچ ناموں کے علاوہ جتنے بھی نام قرآن مجید کے لیے استعمال ہوتے ہیں (جیسے ھدیٰ، نور، شِفاء، رحمة وغیرہ)، وہ دراصل قرآن کریم کے آصلی نام نہیں ھیں بلکہ صفاتی نام ہیں۔

Share:

وحی کے لغوی اور اصطلاحی معنی اور اس کی نزول کی صورتیں

 وحی کے لغوی اور اصطلاحی معنی اور اس کی نزول کی صورتیں درج ذیل ہیں:


وحی کے لغوی معنی

لغت کے اعتبار سے ”وحی“ کے بنیادی معنی ہیں:

• خفیہ طور پر یا جلدی سے اشارہ کرنا (الإشارة السريعة)

• چپکے سے بات کرنا یا پیغام دینا

• دل میں کوئی بات ڈالنا (القاء في الروع)

• لکھنا یا کتابت کرنا

• غضب یا حکم الہی


وحی کے اصطلاحی معنی

• ”اللہ تعالیٰ کا اپنے انبیاء اور رسولوں میں سے کسی برگزیدہ نبی پر وہ کلام نازل کرنا جو ان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ہوتا ہے“.


نزولِ وحی کی صورتیں و طریقے

قرآن و سنت کی روشنی میں  وحی کے نزول کی بنیادی صورتیں درج ذیل ہیں:


1. سچے خواب (الرؤیا الصادقہ):

• نبی کریم ﷺ پر نزولِ وحی کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی، جو بیداری میں صبح کے اجالے کی طرح سچ ثابت ہوتے تھے.

2. دل میں بات کا القا (نفث فی الروع):

• فرشتہ بغیر دکھائی دیے نبی کے دل یا عقل میں براہِ راست بات ڈال دیتا تھا (جسے بیدار یا ہوش کی حالت میں القا کہا جاتا ہے).

3. گھنٹی یا زنبور کی آواز:

• وحی کی یہ صورت نبی کریم ﷺ پر سب سے زیادہ شدید گزرتی تھی۔ اس میں گھنٹی بجنے جیسی آواز آتی تھی، جو آپ ﷺ پر بہت بوجھل ہوتی تھی یہاں تک کہ سخت سردی میں بھی آپ ﷺ کا پسینہ آ جاتا تھا.

4. فرشتے کا انسانی شکل میں آنا:

• فرشتہ (حضرت جبرئیل علیہ السلام) انسانی شکل میں، مثلاً صحابی حضرت دحیہ کلبی رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ کی شکل میں آکر کلام پہنچاتے تھے، جسے صحابہ کرام بھی دیکھ لیتے تھے.

5. فرشتے کا اپنی اصل  شکل میں ظاہر ہونا:

• حضرت جبرئیل علیہ السلام اپنی اصل خلقت اور شکل میں ظاہر ہوئے (قرآن کے مطابق ایسا دو یا تین مرتبہ ہوا).

6. اللہ تعالیٰ کا بلا واسطہ کلام کرنا:

• بیدارئ قلب یا معراج کی رات اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی فرشتے کے واسطے کے براہِ راست کلام کیا جیسا کہ شبِ معراج نمازوں کی فرضیت کے وقت ہوا

Share:

قران مجید کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے پندرہ بنیادی ضروری علوم

قران پاک اللہ تعالی کا کلام ھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا گیا ۔ یہ کتابِ ھدایت ھے جس پر عمل کرنا دنیا و آخرت میں کامیاب ھونا ھے ۔ قران کریم پر عمل کرنے کے لئے ضروری ھے کہ اس کو درست طریقہ سے سمجھا اور سمجھایا جائے اور اس کے معانی و مطالب سمجھنے اور سمجھانے میں ان غلطیوں سے بچا جائے جو گمراھی کا سبب بنتی ھیں ۔ یہ حقیقت ھے کہ صرف ترجمہ پڑھ کر قران مجید کو سمجھنا ممکن نہیں ھوتا بلکہ اس کے لئے جن علوم کی ضرورت ھے انہیں سیکھنا بھی از حد ضروری ھے ۔ اُستادِ محترم  متکلمِ اسلام حضرت مولانا محمد الیاس گھمن صاحب  حفظہ اللہ اپنی کتاب  “ اصولِ تفسیر" میں  قرآن مجید کی درست تفہیم اور تفسیر کے لیے (15) بنیادی علوم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ پندرہ علوم دراصل علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق تصنیف "الاتقان فی علوم القرآن" سے ماخوذ ہیں، جن کے بغیر قرآن پاک کا ترجمہ، تشریح یا تفسیر کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہوتی۔

ان پندرہ علوم کی تفصیل درج ذیل ہے:

1. علمِ لغت: 

جس کے ذریعے قرآن مجید کے مفرد (الگ الگ) الفاظ کے حقیقی معانی معلوم ہوتے ہیں۔ چند لغات کا معلوم ھو جانا کافی نہیں ھے اس لئے کہ بعض اوقات ایک لفظ  کے کئی معانی ھوتے ھیں  اور اگر وہ شخص ان میں سے ایک یا دو معانی ھی جانتا ھے جبکہ اس جگہ کوئی اور معنی مراد ھوتا ھے جسے یہ نہیں جانتا اس صورت میں یہ شخص صحیح مفہوم تک نہیں پہنچ سکتا


2. علمِ صرف: 

جس سے الفاظ کے تغیرات، ان کی ساخت اور گردانیں معلوم ہوتی ہیں تاکہ صیغوں کی صحیح پہچان ہو سکے۔


3. علمِ نحو: 

 یہ جملوں کی بناوٹ اور اعراب (زیر، زبر، پیش) کے بدلنے سے معانی میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کا علم کا علم ھے یعنی الفاظ کے اعراب کا علم علمِ نحو سے ھوتا ھے


4. علمِ اشتقاق:

 جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک لفظ کی اصل (روٹ ورڈ) کیا ہے، کیونکہ مادہ بدلنے سے معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ جب دو مادوں سے مشتق ھو تو اس کے معانی مختلف ھوں گے اس صورت میں یہ معلوم ھونا بہت ضروری ھے کہ کس جگہ کون سا معنی کرنا ھے


5. علمِ معانی:

 اس علم سے کلام کی خصوصیات اور اس کے مقاصد کو جملے کی ساخت کے مطابق سمجھا جاتا ہے۔ یعنی یہ بات معلوم ھو کہ اللہ تعالی نے کس  پس منظر میں یہ بات فرمائی ھے مزید یہ کہ اسے اپنے مخاطب کی ذھنی صلاحیت کا علم ھو کیونکہ اس علم کی وجہ سے متکلم مقتضی حال کے مطابق کام کرتا ھے


6. علمِ بیان: 

یہ وہ علم ھے جس سے تشبیہ، استعارہ، کنایہ اور مجاز کے اصول معلوم ہوتے ہیں تاکہ کلام کا چھپا ہوا حسن واضح ہو۔ یعنی متکلم قرانی مفاھیم مقصودی معنی کو خوب آچھی طرح واضح کر سکے


7. علمِ بدیع: 

 یہ وہ علم ھے جس سے متکلم قرآن ہاک  کی لفظی اور معنوی خوبصورتی اور اس کے اسلوب کی فصاحت و بلاغت کو جان کر بیان کرے ۔ 


۸ علمِ قراءة : 

قرآن مجید کو پڑھنے کے مختلف مستند طریقوں کا علم، کیونکہ بعض اوقات قراءت کے اختلاف سے معانی میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ تو علمِ قراءة کے ذریعہ سے ایک معنی کع دوسرے پر ترجیح دی جا سکتی ھے


9. علمِ اصولِ دین (عقائد): 

اللہ تعالیٰ کی صفات، نبوت اور آخرت جیسے بنیادی ایمانیات کا علم یعنی عقائد کا علم ، تاکہ مفسر کسی ایسی تشریح سے بچے جو اسلامی عقائد کے خلاف ہو۔ علمِ کلام کے ذریعہ انسان اعتقادی غلطی سے محفوظ رہ سکتا ھے بالخصوص آیاتِ تشبیہ میں 


10. علمِ اصولِ فقہ: 

قرآن کریم سمجھانے والے میں احکام الٰہی اور مسائل کا استنباط (نکالنے) کے قوانین اور طریقوں کا علم ھو اور وہ آصولِ فقہ کی روشنی میں قرآنی آیات سے استدلال کر سکے 


11. علمِ شانِ نزول: 

متکلم کے لئے یہ جاننا بہت ضروری ھے  کہ کون سی آیت یا سورت کس پسِ منظر، واقعے یا سوال کے جواب میں نازل ہوئی یعنی شانِ نزول کیا تھا ؟ بعض اوقات شانِ نزول جانے بغیر آیت کا آصل معنی سمجھ میں نہیں آ سکتا


12. علمِ ناسخ و منسوخ: 

قرآن مجید سمجھانے والے کو اس بات کا علم  ھونا بھی ضروری ھے کہ احکام کے اعتبار سے کون سی آیت کا حکم باقی ہے اور کس کا حکم بعد کی کسی آیت سے تبدیل ہو چکا ھے یعنی اس میں ناسخ اور منسوخ کو الگ الگ کرنے کی صلاحیت موجود ھو 


13. علمِ فقہ: 

 قران کریم کے سمجھنے اور سمجھانے والے کو حلال و حرام اور روزمرہ کے شرعی احکام و مسائل کا تفصیلی علم ھونا ضروری ھے یعنی وہ فقہی مسائل پر گہری نظر رکھتا ھو


14. علمِ حدیث:

 رسول اللہ ﷺ کے فرامین اور اقوالِ مبارکہ کے علم کو علمِ حدیث کہا جاتا ھے ، علم حدیث کی بغیر قرآن مجید کو سمجھنا یا سمجھابا ناممکن ھے  کیونکہ قرآن مجید کی سب سے پہلی اور معتبر تفسیر خود احادیثِ مبارکہ ھی ہیں۔


15. علمِ وہبی:

 علم دین سمجھنے اور سمجھانے والے کا خود باعمل ھونا بہت ضروری ھے ۔ اگر اس کی اپنی زندگی قرآن و سنت کے مطابق ھوگی تو اللہ تعالی کی طرف سے اُس پر برکات کا ظہور بھی اُسی طرح  ھوگا۔  اسی برکت کے نتیجہ میں “علمِ وھبی” جیسا  وہ خاص علم اور بصیرت بھی اسے ملے گی جو اللہ تعالیٰ صرف اپنے ایسے خاص بندوں کو ھی تحفے میں عطا فرماتا ہے جو اپنے علم پر پوری  طرح عمل کرتے ہیں اور اپنی زندگی میں تقویٰ اختیار کرتے ھیں اس علم کو  “ علمِ لدنی “ بھی کہتے ہیں

Share:

 غزوہ بدر: حق اور باطل کا پہلا معرکہ

غزوہ بدر اسلامی تاریخ کا سب سے پہلا اور اہم ترین معرکہ ہے جو 17 رمضان المبارک 2 ہجری کو مدینہ منورہ کے قریب بدر کے مقام پر مسلمانوں اور کفارِ قریش کے درمیان لڑا گیا۔ یہ معرکہ صرف ایک جنگ نہیں تھا بلکہ اسلام کی بقا اور کفر کے خاتمے کا فیصلہ کن دن تھا، جسے قرآن مجید میں "یوم الفرقان" یعنی  حق اور باطل میں فرق کرنے والا دن کہا گیا ہے۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ مدینہ منورہ  ہجرت کے بعد مسلمانوں کو مکہ کے مشرکین کی طرف سے مسلسل خطرات لاحق تھے۔ آپ ﷺ کو اطلاع ملی کہ ابو سفیان کی قیادت میں قریش کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ شام سے مالِ تجارت لے کر مکہ واپس آ رہا ہے۔اس قافلے میں تقریباً 50 ہزار دینار کا مال اور 1000 اونٹ شامل تھے، جس میں مکہ کے تقریباً ہر قریشی کا سرمایہ لگا ہوا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اس قافلے کو روکنے کے لیے صحابہؓ کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ سے خروج کیا تاکہ قریش کی معاشی رگ کو دبایا جائے۔ ابو سفیان کو مسلمانوں کے نکلنے کا علم ہو گیا تو اس نے ساحلی راستہ اختیار کر کے اپنی جان اور قافلہ بچا لیا اور مکہ پیغام بھیج  دیا 

جب مکہ والوں کو ابو سفیان کا پہلا پیغام ملا کہ ان کا قافلہ خطرے میں ہے، تو ابو جہل کی قیادت میں 1000 جنگجوؤں پر مشتمل ایک لشکرِ جرار ہتھیاروں سے لیس ہو کر مدینہ منورہ  پر چڑھائی کی نیت سے نکل پڑا۔ اگرچہ انہیں راستے میں ابو سفیان کی طرف سے اطلاع مل گئی تھی کہ قافلہ محفوظ ہے، لیکن ابو جہل لعین نے غرور اور تکبر میں آکر سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور بدر کے مقام پر آکر پڑاؤ ڈالا تاکہ نعوذ باللہ مسلمانوں کو کچل کر رکھ دے۔

ادھر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قیادت میں اسلامی لشکر مدینہ منورہ سے نکلا اور بدر پہنچ گیا

مسلمانوں کی کل تعداد 313 تھی (جن میں تقریباً 82 مہاجرین اور باقی انصار یعنی اوس و خزرج شامل تھے)۔ سواری کے لیے صرف 70 اونٹ اور 2 گھوڑے تھے۔ ہتھیار بھی انتہائی قلیل تھے (چند تلواریں اور زرہیں)۔

کفارِ قریش کی تعداد  1000 کے قریب تھی۔ ان کے پاس 100 گھوڑے، 700 سے زائد اونٹ اور کثیر تعداد میں بہترین ہتھیار اور ساز و سامان تھا 

جنگ سے اگلی رات اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر سکون کی نیند طاری کی اور ہلکی بارش برسائی، جس سے ریت زمین پر جم گئی اور مسلمانوں کے قدم مضبوط ہو گئے جبکہ کفار کی طرف کی زمین کیچڑ بن گئی۔

نبی کریم ﷺ نے عاجزی اور گریہ و زاری کے ساتھ میدانِ جنگ میں دعا فرمائی: «اے اللہ! اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہو گئی، تو پھر روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔» قرآن مجید کے مطابق اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کی غیبی مدد فرمائی۔

 جنگ کا آغاز روایتی طور پر "تنظیمِ مبارز" (انفرادی جنگ) سے ہوا۔ مسلمانوں کی طرف سے حضرت حمزہؓ، حضرت علیؓ اور حضرت عبیدہ بن حارثؓ نے اور کفار کی طرف سے عتبہ، شیبہ اور ولید نے مقابلہ کیا، جس میں مسلمانوں نے تینوں مشرک سرداروں کو جہنم رسید کیا۔اس کے بعد گھمسان کی جنگ ہوئی۔ لشکرِ اسلام نے پامردی کا مظاہرہ کیا۔ لشکرِ کفار کے بڑے بڑے سردار جیسے ابو جہل، عقبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف وغیرہ مارے گئے۔ یہ معرکہ مسلمانوں کی شاندار اور فیصلہ کن فتح پر منتج ہوا۔

اس جنگ میں  14 صحابہ کرامؓ شہید ہوئے (6 مہاجرین اور 8 انصار)۔ کفار کی فوج میں سے  70 کافر ہلاک ہوئے اور 70 کے قریب گرفتار کیے گئے

 قیدیوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے حسنِ سلوک کیا اور انہیں فدیہ لے کر آزاد کر دیا جو قیدی فدیہ نہیں دے سکتے تھے لیکن  لکھنا پڑھنا جانتے تھے، انہیں مدینہ کے 10 بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے کے عوض آزاد کر دیا گیا


Share:

روزے کے مکروھات


روزه مكروه ہونے سے مراد   روزہ کے ثواب میں کمی آجانا ھے۔مثلاً روزہ کی حالت میں غیبت ، جھوٹ اور فحش گوئی وغیرہ کرنے سے اس کے ثواب میں کمی آجاتی ہے

 کچھ باتیں روزے میں مکروہ ھیں جن میں چند درج ذیل ہیں :


 بلا عذر کوئی چیز چکھنا یا چبانا:

بلا عذر زبان سے کوئی چیز چکھنا یا منہ میں رکھ کر چبانا (جبکہ حلق سے نہ اُتارے، ورنہ روزہ ٹوٹ جائے گا) روزہ دار کے لیے مکروہ ہے، اگر عذر سے چکھے مثلاً کسی عورت کا خاوند بد مزاج ہے اور عورت کو ڈر ہے کہ اگر سالن میں نمک کم و بیش ہوگیا تو خاوند بگڑ جائے گا تو زبان سے چکھنے میں کراہت نہیں۔

اسی طرح عورت کا چھوٹے بچے کو بلا عذر کوئی چیز چبا کر کھلانا بھی مکروہ ہے، لیکن عذر سے کھلائے کہ بچہ کے لیے دوسری نرم غذا موجود نہ ہو، نہ ہی بغیر روزہ کے کوئی دوسرا آدمی موجود ہو جو بچے کو غذا چبا کر دے تو ایسی صورت میں کراہت نہیں، اسی طرح روزہ دار اگر کھانے کی چیز خریدتے وقت زبان سے چکھ لے تو کراہت نہیں، بشرطیکہ اس چیز کی طرف اسے سخت احتیاج ہو اور بغیر چکھے خریدنے میں نقصان کا اندیشہ ہو۔

 ان تمام صورتوں میں کراہت کا حکم فرض و واجب روزہ سے متعلق تھا، نفلی روزہ ہو تو کراہت نہیں۔



 2 :۔قصداً تھوک جمع کر کے نگلنا:

منہ میں قصداً تھوک جمع کر کے نگل جانا مکروہ ہے لیکن بلا قصد جمع ہو جائے تو نگلنا مکروہ نہیں۔



 3 :۔ منجن یا پیسٹ: 

کوئلے، منجن اور ٹوتھ پیسٹ سے دانت صاف کرنا اور عورتوں کا مسی یا دنداسہ لگانامکروہ ہے، اگر ان کا کوئی جز ء حلق سے نیچے اتر گیا تو روزہ فاسد ہو جائے گا۔ 


 4 :۔بلا ضرورت دانت نکلوانا:       

روزہ میں ڈاکٹر سے دانت یا ڈاڑھ نکلوانا اور اس جگہ دواء لگانا بوقت ِضرورت ِشدیدہ جائز ہے اور بلا ضرورت مکروہ ہے، اگر دواء یا خون پیٹ کے اندر جائے اور تھوک پر غالب ہو جائے یا اس کے برابر ہو یا اس کا مزہ محسوس ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔


 5 :۔ غیبت ،جھوٹ ، چغلی اور فحش گوئی  وغیرہ کرنا 

غیبت، چغلی، جھوٹ، بہتان تراشی، بیہودہ گوئی، گالی گلوچ، ایذا رسانی اور گناہ کے تمام کام یوں تو ہر وقت ہر حال میں حرام و نا جائزہیں مگر روزہ دار آدمی کے لیے ان کی حرمت و شناعت دو چند ہو جاتی ہے اور ان کے سبب روزہ سخت مکروہ ہو جاتا ہے بلکہ حدیث کے مطابق ان گناہوں کی نحوست سے روزہ کا اجر و ثواب ہی غارت ہو جاتا ہے۔

Share:

روزے کے بارے میں چند کوتاھیاں

روزہ کے بارے میں چند کوتاہیاں

دوسری عبادات کی طرح روزہ کے معاملہ میں بھی مسلمانوں میں بہت سی کوتاہیاں پائی جاتی ہیں جن کی اصلاح ضروری ہے، یہاں روزہ کے مکروہات یا مفسدات کی تفصیل پیش کرنا مد نظر نہیں، بلکہ بعض ایسی کوتاہیوں کی نشان دہی مقصود ہے جن کی طرف عام روزہ داروں کی توجہ کم جاتی ہے۔

1 :۔بلا عذر روزہ نہ رکھنا:

معذور و مجبور آدمی کے لیے روزہ نہ رکھنا اور رکھنے کے بعد بعض حالات میں توڑنا جائز ہے، مگر شرعاً کون لوگ معذور کی فہرست میں آتے ہیں؟ اس کا فیصلہ کرنا ہر شخص کا کام نہیں، بعض جی چور اور کاہل لوگ روزہ کبھی رکھتے ہی نہیں اور از خود فیصلہ کرلیتے ہیں کہ ہم سے روزہ نہ رکھا جائے گا، حالانکہ رکھ کر دیکھ لیں تو آسانی سے رکھ سکیں، بے ہمتی اور کم حوصلگی کا نام مجبوری رکھ لیا گیا ہے۔ بعض لوگوں کو عذر ہوتا ہے مگر وہ اختیاری اور خود ساختہ قسم کا ہوتا ہے، مثلاً شرعی سفر کے دوران روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے مگر اسے سفر کی ضرورت در پیش نہیں،یونہی گھر سے نکل پڑا۔ غرض کسی مفتی سے پوچھے بغیر عذر کا فیصلہ جائز نہیں۔

2 :۔غیرمعذور کا فدیہ دینا:

بعض بے باک قسم کے لوگ اس گھمنڈ میں روزہ ضائع کرتے رہتے ہیں کہ ہم فدیہ دے دیں گے۔ حالانکہ زندگی میں فدیہ اداء کرنا صرف ایسے شخص کے لیے جائز ہے جو روزہ رکھنے سے بالکل معذور اور آیندہ کے لیے بھی مایوس ہو، اگر مرنے سے پہلے کسی وقت بھی روزہ رکھنے کی قوت آگئی تو یہ فدیہ معتبر نہ رہے گا۔الہندیۃ (۱/۲۰۷)

3 :۔قریب البلوغ صحت مند بچوں کو روزہ سے روکنا:

بعض دیندار لوگ بھی بچوں سے روزہ نہیں رکھواتے، حالانکہ بعض بچوں کی عمر اور قوت و صحت ایسی ہوتی ہے کہ وہ بآسانی روزہ رکھ سکتے ہیں، بلوغ سے پہلے اگرچہ بچوں پر روزہ واجب نہیں، مگر ان کے سرپرستوں پر لازم ہے کہ جب قریب البلوغ ہوں اور روزہ کا تحمل کرسکیں تو ان سے روزہ رکھوائیں، دس سال کی عمر ہونے کے بعد تو روزہ نہ رکھنے پر مارنے کا حکم بھی موجود ہے، بچہ جب عبادت کا خوگر ہوگا تو بلوغ کے بعد اعمال کی پابندی میں اسے کوئی دشواری نہ ہوگی۔(درمختار: ۲/۴۰۹) 

4:۔ معذور کا رخصت پر عمل نہ کرنا:

بعض لوگ افراط اور غلو کا شکار ہو کر شریعت کی دی ہوئی رخصت سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ مثلاً پر مشقت سفر یا تکلیف دہ بیماری میں بھی روزہ نہیں چھوڑتے۔

بعض حاملہ یا دودھ پلانے والی عورتیں اپنی جان اور بچے کو ضرر پہنچا کر بھی روزہ رکھتی ہیں اوربعض غلط اندیش کمسن معصوم بچوں سے بھی روزہ رکھواتے ہیں حالانکہ انہیں روزہ کا تحمل نہیں ہوتا، یہ سب علماء وصلحاء کی صحبت سے دور رہنے اور مقصد شریعت نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ اپنے آپ کو یا بچوں کو ناقابل تحمل مشقت میں ڈالنا جائز نہیں، ایسے مواقع پر رخصت پر عمل کرنا ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ اور شرعاً افضل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’إن اللّٰہ یحب أن تؤتی رخصہ کما یحب أن توتی عزائمہ۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبۃ: ۴۴۵))الشامیۃ (۱/۲۶۴)

5 :۔سحری میں عجلت یا تاخیر:

سحری بعض لوگ بہت جلد آدھی رات کو کھا کر فارغ ہو جاتے ہیں، ایسی تعجیل بھی گو جائز ہے، مگر سحری کی اصل حکمت (کہ روزہ میں ضعف لاحق نہ ہو اور قوت برقرار رہے) کے خلاف ہے اور بعض جگہ عوام یہ غلط اعتقاد بھی رکھتے ہیں کہ جب ایک بار سحری کھا کر نیت کرلی یا سوگئے تو اب کوئی چیز کھانا پینا جائز نہیں،اگرچہ رات باقی ہو۔اس غلط اعتقاد سے توبہ کرنا واجب ہے۔ بعض اس کے برعکس سحری اتنی تاخیر سے کرتے ہیں کہ روزہ ہی مشتبہ ہو جاتا ہے، ان کی نظر نقشوں اور گھڑیوں پر ٹکی رہتی ہے، حالانکہ دونوں میں غلطی کا امکان ہے۔ پس احتیاط اسی میں ہے کہ نقشوں اور گھڑیوں کے وقت سے بھی کچھ دیر پہلے آدمی فارغ ہو جائے یا کم از کم گھڑی کا وقت معیاری وقت کے مطابق رکھنے کا اہتمام کرے اور نقشے میں دیے گئے وقت سے تین منٹ پہلے سحری سے فارغ ہوجائے۔

کچھ حضرات یہ سوچ کر کہ لوگ سحری چھوڑ دیں فجر کی اذان وقت سے کچھ پہلے دیتے ہیں، اس میں بھی بہت سی قباحتیں ہیں، اس لیے اذان اپنے وقت پر ضروری ہے۔ (ردالمحتار مع الدر: صـ ۴۱۹)

6 :۔افطار میں عجلت یا تاخیر:

افطار میں بعض لوگ بہت عجلت سے کام لیتے ہیں جس سے روزہ مشتبہ ہو جاتا ہے۔ نقشوں میں تو اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ پھر سحر و افطار کے نقشوں میں دیئے گئے اوقات یقینی نہیں ہوتے بلکہ حسابی اعتبار سے تقریبی ہوتے ہیں۔ بعض نا سمجھ ریڈیو کی اذان (خواہ وہ کسی دوسرے شہر کی ہی ہو) سن کر افطار کردیتے ہیں، پھر ریڈیو کی اذان اور سائرن وغیرہ عموماً نقشوں کے مطابق بجائے جاتے ہیں، اور کبھی اذان دینے والے وقت دیکھنے میں غلطی کرجاتے ہیں اور غلط وقت پر اذان دے دیتے ہیں، لہٰذا ان پر مکمل اعتماد رکرنا صحیح نہیں، خصوصاً جبکہ کئی ایسے واقعات ہو بھی چکے ہیں کہ سائرن یا اذان کے وقت آفتاب کو آنکھوں سے دیکھا گیا ہے، ۱۳ رمضان ۱۳۹۷ھ کو ریڈیو پاکستان نے چار پانچ منٹ قبل ہی اذان دینا شروع کردی، جو ابھی مکمل نہ ہونے پائی تھی کہ اس کے بعد صحیح وقت پر اذان نشر کی، لاکھوں افراد نے پہلی اذان پر روزہ افطار کر کے اپنا روزہ خراب کیا، اس لیے اپنی گھڑیوں کو معیاری وقت پر رکھیں اور افطار کسی ماہر کے بنائے ہوئے نقشے میں دیئے گئے وقت کے ۳ منٹ بعد کریں، جہاں اتنے گھنٹے صبر کرلیا وہاں دو تین منٹ کا انتظار کیا مشکل ہے؟ 

 بعض وہمی لوگ وقت ہو جانے کے باوجود افطار میں تاخیر کرتے ہیں، ایسی تاخیر حدیث کی رو سے ممنوع ہے۔

افطار میں مشغول ہو کر ترکِ جماعت یا تأخیر:

 کئی لوگ افطارکے بعد کھانے پینے میں اتنی دیر تک مشغول رہتے ہیں کہ مغرب کی جماعت بالکل فوت ہو جاتی ہے یا ایک دو رکعت نکل جاتی ہیں۔

 مسجد کی جماعت نکل جانے پر کچھ حضرات گھر میں اپنی جماعت کرلیتے ہیں جو اکیلے نماز پڑھنے سے تو بہتر ہے مگر مسجد کی جماعت کا کسی طرح بدل نہیں۔

اس مسئلہ کا آسان حل یہ ہے کہ افطاری گھر کی بجائے مسجد میں کی جائے،لیکن اس میں مسجد کے آداب کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ کھانے کی کوئی چیز مسجد میں گرنے نہ پائے، اس میں شور و غل بلکہ بلا ضرورت گفتگو بھی نہ ہو اور کوئی ایسا کام بھی نہ کیا جائے جس سے مسجد میں آنے والے نمازیوں کو تشویش ہو۔

اگر گھر مسجد کے قریب ہو تو گھر میں بھی مختصر افطاری کے بعد تکبیرئہ تحریم کے ساتھ نماز پڑھنے کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔(ردالمحتار مع الدر: ۲/۴

Share:

وہ چیزیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا

 

شریعت اسلامیہ کے مطابق کچھ امور ایسے ھیں جن کے کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ان میں چند درج ذیل  ھیں : 
  • تھوک نگلنا: 
  • منہ کا طبعی تھوک نگلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، خواہ کتنا ہی بار بار نگلا جائے۔
  • بلا ارادہ قے (اُلٹی) آنا: 
  • اگر طبعاً قے آجائے (چاہے منہ بھر کر بھی ہو) تو اس سے روزہ خراب نہیں ہوتا، بشرطیکہ اسے خود جان بوجھ کر نہ نکالا گیا ہو۔
  • غیر ارادی طور پر کھانا یا پینا: بھول چوک (نسیان) کی حالت میں کچھ کھا یا پی لینا، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور روزہ جاری رہتا ہے۔
  • آنکھ یا کان میں دوا ڈالنا: 
  • آنکھ میں قطرے ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا (اگرچہ اس کا ذائقہ حلق میں بھی محسوس ہو)۔ اسی طرح کان میں عام پانی یا دوا جانے سے بھی جمہور حنفیہ کے نزدیک روزہ نہیں ٹوٹتا جب تک کہ کان کا پردہ پھٹا ہوا نہ ہو اور دوا دماغ تک نہ پہنچ جائے۔
  • حالتِ جنابت (غسل فرض ہونا): 
  • ناپاکی کی حالت میں صبح ہونا یا دن میں سونا اور احتلام ہو جانا، ان سے روزہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا (البتہ غسل فرض ہونے پر جلد از جلد غسل کرنا ضروری ہے)۔
  • سر میں تیل لگانا یا سرمہ لگانا:
  • تیل لگانے، مہندی لگانے یا آنکھوں میں سرمہ ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
  • انجکشن لگوانا: 
  •   روزے کی حالت میں انجکشن لگوانا جائز ہے، خواہ رگ میں لگوایا جائے یا گوشت میں؛  کیوں کہ انجکشن کے ذریعہ جو دوا بدن میں پہنچائی جاتی ہے وہ   خلقی راستوں سے نہیں، بلکہ رگوں یا مسامات کے ذریعہ بدن  میں  جاتی ہے، جب کہ روزہ  فاسد  ہونے  کے لیے ضروری ہے  کہ بدن کے خلقی  راستوں سے کوئی چیز معدے یا دماغ تک پہنچے اور انجکشن میں ایسا نہیں  ہوتا؛  لہٰذا  روزے کی حالت میں انجکشن لگوانا جائز ہے،  اس  سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ تاہم صرف اس لیے طاقت کا انجکش لگوانا کہ روزہ محسوس نہ ہو، مکروہ ھے ( فتوی بنوری ٹاون) 

Share: