زکوة نہ دینے کے دنیاوی نقصانات

 زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر آخرت میں شدید  عذاب کی وعیدیں قرآن پاک اور ا حادیث مبارکہ میں  کثرت سے مذکور ھیں یعنی  قیامت کے دن مال کا گلے کا طوق بننا یا زہریلے سانپ کی شکل میں ڈسنا اور  قہر الٰہی  جیسے اخروی انجام  تو بہرحال اپنی جگہ ھے ھی ھیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ زکوة نہ دینے کے دنیاوی نقصانات جن کا تذکرہ قرآن و حدیث  میں بھی کئی مقامات پر ھوا ھے  بھی بہت زیادہ ھیں ۔ان میں چند نقصانات مندرجہ ذیل ھیں 


 مال میں برکت کا خاتمہ

زکوة نہ دینے کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی ھوتا ھے کہ  زکوٰۃ نہ دینے والے کے حلال مال کی برکت بھی  مٹ جاتی ہے اور بعض اوقات  وہ مال کسی نہ کسی نقصان میں ضائع ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ھے کہ صاحب نصاب کے مال میں یہ مسکینوں کا حق اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ھے اور جب یہ شخص مسکینوں کا حق استعمال کرتا ھے یعنی زکوة  ادا نہیں کرتا تو منجانب اللہ اسے بطور سزا مال کی برکت سے محرومی کا سامنا کرنا پڑتا  ھے جیسا کہ اجکل ھمارے معاشرے میں عام مشاھدہ ھوتا ررھتا ھے 


 آسمانی آفات کا سبب

زکوٰۃ روکنے کی وجہ اللہ تعالیٰ ناراض ھوتے ھیں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی معاشرے میں آسمانی آفات، زلزلے  اور طوفان وغیرہ کا سبب بن جاتی  ہے۔


بخل کی بیماری

 زكوة کی عدم ادائیگی کی نحوست کی وجہ سے دل میں  مال کی محبت رچ بس جاتی ھے اور انسان مال کی محبت میں ھر معاملے میں کنجوسی سے کام لیتا ھے اور بعض اوقات یہ کنجوسی موت تک بھی ختم نہیں ہوتی بلکہ انسان اسی بُری صفت میں جکڑا رہتا ہے۔ اور اسی بری صفت کے ساتھ آخرکار اس دنیا سے چلا جاتا ھے 


خیر و برکت کی دعاؤں سے محرومی

جن غرباء اور مساکین  کی زکوة سے مدد ھوتی ھے وہ لوگ اس شخص کے لئے دل سے دعائیں کرتے ھیں زکوة نہ دینے سے انسان ان دعاؤں سے محروم ھو جاتا ھے اور اور زکو ة دینے سے جو اجر و ثواب اللہ تعالیٰ عطا فرماتے ھیں تارک زکوة اس ثواب سے بھی محروم ہو جاتا ہے ۔ 


 مال کی  بربادی کا سبب

  رسول پاک ﷺ کا ارشاد ھے ۔  ”خشکی وتری میں جو مال ضائع ہوتا ہے وہ  زکوة نہ دینے کی وجہ سے تلف ہوتا ہے ۔” (مجمع الزوائد)


اجتماعی قحط

  اگر اسلامی معاشرے میں لوگوں کی بڑی تعداد زكوة دینا چھوڑ دیتی ھے تو اس کی نحوست پورے معاشرے پر پڑتی ھے اور زکوٰۃ کی عدم ادائیگی پر اجتماعی قحط کا سامنا کر نا پڑ سکتا ھے  جیسا کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ”جو قوم زکاة نہ دے گی اللہ پاک اسے قحط میں مبتلا فرمائے گا ۔

(المعجم الاوسط )

 



Share: