نماز فجر کی پابندی کرنے والوں کے لئے دس بشارتیں


پہلی بشارت

نماز فجر میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔


چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ ۖ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا (78)

آپ سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک (ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی) نماز قائم فرمایا کریں اور نمازِ فجر کا قرآن پڑھنا بھی (لازم کر لیں)، بیشک نمازِ فجر کے قرآن میں (فرشتوں کی) حاضری ہوتی ہے (اور حضوری بھی نصیب ہوتی ہے)

(سورة الإسراء )


دوسری بشارت

فجر کی سنت موکدہ دنیا ومافیہا سے افضل اور بہتر ہے فجر کی سنت موکدہ دنیا ومافیہا سے افضل اور بہتر ہے تو پھر فجر کی فرض نماز کی کیا فضیلت ہوگی! چنانچہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: 

( رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ) 

(رواه مسلم )

فجر کی دونوں رکعتیں (یعنی سنت ) دنیا و مافیہا سے بہتر ہیں۔


تیسری بشارت

مسجد کی طرف زیادہ قدم چل کر آنے سے زیادہ نیکیوں کا حصول:

 رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو جو بندہ اپنے گھر سے مسجد کے لیے نکلتا ہے تو اس کے ہر ایک قدم پر دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اور مسجد میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنے والا گویا مسلسل نماز پڑھ رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے اپنے گھر کو لوٹ جائے۔ (مسند أحمد )


چوتھی بشارت


بروز قیامت  مکمل نور کی بشارت


رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں 

( بَشِّرْ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) (رواه أبو داود )

تاریکیوں میں پیدل چل کر مسجد جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور کی بشارت دے دو۔


پانچویں بشارت

جہنم سے نجات۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

 لَنْ يلجَ النَّار أَحدٌ صلَّى قبْلَ طُلوعِ الشَّمْس وَقَبْل غُرُوبَها يعْني الفجْرَ، والعصْرَ. 

وہ شخص ہرگز جہنم میں نہیں جائے گا جو طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے نماز پڑھے یعنی فجر اور عصر کی نماز۔ (صحيح مسلم )


چھٹی بشارت

اللہ تعالی کا دیدار۔

 حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم نے چاند کی طرف نظر اٹھائی جو چودھویں رات کا تھا۔ پھر فرمایا کہ تم لوگ بے ٹوک اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو ( اسے دیکھنے میں تم کو کسی قسم کی بھی مزاحمت نہ ہو گی ) یا یہ فرمایا کہ تمہیں اس کے دیدار میں مطلق شبہ نہ ہو گا اس لیے اگر تم سے سورج کے طلوع اور غروب سے پہلے ( فجر اور عصر ) کی نمازوں کے پڑھنے میں کوتاہی نہ کرو ہو سکے تو ایسا ضرور کرو۔ (صحيح البخاري والمسلم)


ساتویں بشارت

پوری رات تہجد کا ثواب۔

 پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی تو گویا اس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے فجر کی نماز باجماعت ادا کی تو گویا اس نے پوری رات تہجد پڑھی۔. (مسلم )


آٹھویں بشارت

فرشتوں کی دعا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز فجر پڑھنے کے بعد اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہے تو فرشتے اس کے لئے دعا کرتے ہیں اور فرشتوں کی دعا یہ ہوتی ہے: اے اللہ! اس بندے کی مغفرت فرما. اے اللہ! اس بندے  پر رحم فرما۔

(مسند أحمد )


نویں بشارت

مکمل حج اور عمرے کا ثواب۔

 پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ فِي جَمَاعَةٍ ثُمَّ قَعَدَ يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَتْ لَهُ كَأَجْرِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ , تَامَّةٍ تَامَّةٍ تَامَّةٍ ) رواه (الترمذي )

جو شخص فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد طلوع آفتاب تک بیٹھ کر اللہ کا ذکر و اذکار کرتا رہے پھر دو رکعت نماز ادا کرے تو اسے پورا پورا پورا حج اور عمرے کا ثواب حاصل ہوگا۔


دسویں بشارت

نماز فجر آفات و مصائب سے حفاظت کی ضامن ہے۔


 رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: 

( مَن صَلَّى الصُّبحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ ، فَلا يَطلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِن ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ فَيُدرِكَهُ فَيَكُبَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ )

جو صبح کی نماز ادا کرلے تو وہ اللہ کے حفظ و امان میں آجاتا ہے۔ (صحيح مسلم )

Share: