یاجوج ماجوج
قیامت کی علاماتِ کبری میں چوتھی علامت یاجوج ماجوج کا خروج ھے ۔ امام مہدی علیہ الرضوان کے انتقال کے بعد تمام انتظامات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں ہوں گے اور نہایت سکون و آرام سے زندگی بسر ہو رہی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسی علیہ السلام پر وحی نازل فرمائیں گے کہ میں ایک ایسی قوم نکالنے والا ہوں جس کے ساتھ کسی کو مقابلے کی طاقت نہیں ہے، آپ میرے بندوں کو کوہِ طور پر لے جائیں، اس قوم سے یاجوج ماجوج کی قوم مراد ہے۔ یاجوج ماجوج کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے، یہ قوم یافث بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے، شمال کی طرف بحر منجمد سے آگے یہ قوم آباد ہے، ان کی طرف جانے والا راستہ پہاڑوں کے درمیان ہے، جس کو حضرت ذوالقرنین نے تانبا پگھلاکر لوہے کے تختے جوڑ کر بند کردیا تھا، بڑی طاقت ور قوم ہے دو پہاڑوں کے درمیان نہایت مستحکم آہنی دیوار کے پیچھے بند ہے، قیامت کے قریب وہ دیوار ٹوٹ کر گر پڑے گی اور یہ قوم باہر نکل آئے گی اور ہر طرف پھیل جائے گی اور فساد برپا کرے گی۔ یاجوج ماجوج آہنی دیوار ٹوٹنے کے بعد ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نظر آئیں گے، جب ان کی پہلی جماعت بحیرہٴ طبریہ پر سے گزرے گی تو اس کا سارا پانی پی جائے گی، جب دوسری جماعت گزریے گی تو وہ کہے گی: ” شاید یہاں کبھی پانی تھا“
جھیل طبریہ اسرائیل کے شہر طبریہ میں واقع ہے۔ یہ اسرائیل میں سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل ہے جو 21 کلومیٹر لمبی ، 13 کلومیٹر چوڑی اور 43 میٹر گہری ہے ۔ یہ وہی جھیل ہے جسے آج اسرائیل اپنے لئے معتبر سمجھ رہا ہے وہی یاجوج ماجوج کی منزل ہوگی جس کا ذکر قرآن مجید نے چودہ سو سال پہلے فرما دیا تھا ،
یاجوج ماجوج کا ذکر سابقہ الہامی کتابوں میں بھی موجود ہے کہ اس مخلوق کو حضرت ذوالقرنین نے دیوار تعمیر کرکے انسانی دنیا کے دوسری جانب قید کردیا تھا لیکن قیامت سے پہلے یاجوج ماجوج اس دیوار سے نکلنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور جہاں سے گزریں گیں انسانی بستیوں کو تباہ و برباد کرتے چلے جائیں گے ۔ پھر وہ حملہ کرتے کرتے جھیل طبریہ پر پہنچیں گے جس کا ذکر کتابوں میں موجود ہے کہ وہ اس جھیل کا سارا پانی پی جائیں گے اور اس کے پیچھے آنے والے یاجوج ماجوج گروہ کو اس میں ایک بھی پانی کا قطرہ نہیں ملے گا اور ایسا محسوس ہوگا جیسے یہاں کبھی کوئی جھیل ہی نہیں تھی
محقیقین کے مطابق قرآن مجید کی گواہی سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ذو القرنین نے دو پہاڑوں کے درمیان سفر کیا ۔ اس پہاڑی سلسلے میں ایک جگہ بہت ہی بلند ترین پہاڑ ہیں جن کے درمیان وہ واحد راستہ ہے جہاں سے آیا جایا جاسکتا ہے مگر یہ راستہ مکمل برف سے ڈھکا ہوا ہے اس کے اندر لوہا اور دھات موجود ہے۔
تاریخ کے مطابق قومِ یاجوج ماجوج خانہ بدوش اور وحشی قبائل پر مشتمل تھی۔ ان کی تعداد بہت تیزی کیساتھ بڑھی ۔ یہ حضرت ذو القرنین کے ز مانے تک مختلف قبائل ، قوموں اور آبادیوں میں پھیل چکے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ تب سے اب تک یاجوج ماجوج اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح دیوار کو گراکر باقی دنیا سے جاملیں۔ یہ روز دیوار کو توڑتے ہیں ، جب تھوڑا سا حصہ رہ جاتا ہے اور سورج غروب ہونے لگتا ہے تو ان کا سردار واپسی کا حکم دیتا ہے کہ باقی کا کام کل کریں گے مگر اگلے روز دیوار کہیں زیادہ مضبوط ہوچکی ہوتی ہے۔
جب یاجوج ماجوج کے خروج کا وقت آپہنچے گا تو وہ تمام دن دیوار میں سوراخ کریں گے اور ہر روز کی طرح ان کا سردار شام کو واپسی کا حکم دے گا اور کہے گا باقی کام کل کریں گے ان شاء اللّٰہ ۔ اس سے پہلے کبھی انہوں نے یہ ان شاء اللہ کے الفاظ استعمال نہ کیے ھوں گے ۔ ان الفاظ کی برکت سے دوسرے روز دیوار کو ویسا ہی پائیں گے جیسا چھوڑ کر گئے تھے۔ انتہائی پر جوش ہوکر دیوار گرا دیں گے اور زمین پر پھیلتے چلے جائیں گے۔ جہاں سے گزریں گے تباہی پھیلائیں گے
جھیل طبریہ کا ذکر توریت وانجیل میں بھی آیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بڑا حصہ اسی جھیل کے ساحل پر گزارا ۔ یہاں سے قتل وغارت کرتے ہوئے یاجوج ماجوج بیت المقدس تک پہنچیں گے اور اعلان کریں گے کہ زمین پر ہمارا قبضہ ہوچکا ،اب ہم آسمانوں پر بھی قبضہ کریں گے اور آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے جو خون آلود واپس آئیں گے۔ کوئی ان کا مقابلہ نہ کر پائے گا حضرت عیسی علیہ السلام اللّٰہ کے حکم سے مسلمانوں کو لے کر کوہ طور پر پناہ لیں گے اور عام لوگ محفوظ مقامات پر بند ہوکر اپنی جانیں بچائیں گے۔
یاجوج ماجوج کی وجہ سے حضرت عیسی علیہ السلام اور مسلمان بڑی تکلیف میں ہوں گے، کھانے کی قلّت کا یہ عالم ہوگا کہ بیل کا سر سو دینار سے بھی قیمتی اور بہتر سمجھا جائے گا، حضرت عیسی علیہ السلام یاجوج ماجوج کے لئے بددُعا کریں گے، اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک بیماری پیدا کردیں گے جس سے سارے مرجائیں گے، اور زمین بدبودار تعفن سے بھر جائے گی، حضرت عیسی علیہ السلام کی دُعا سے اللہ تعالیٰ بڑی بڑی گردنوں والے پرندے بھیجیں گے جو ان کو اُٹھاکر جہاں اللہ تعالیٰ چاہیں گے پھینک دیں گے، پھر موسلا دھار بارش ہوگی جو ہر جگہ ہوگی کوئی مکان یا کوئی علاقہ ایسا نہیں ہوگا جہاں پر یہ بارش نہ پہنچے، وہ بارش پوری زمین دھوکر صاف و شفاف کردے گی اور بدبو ختم ہوجائے گی۔
بخاری شریف کی ایک حدیثِ مبارکہ میں ھے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے آدم! آدم علیہ السلام کہیں گے حاضر ہوں فرماں بردار ہوں اور ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے انہیں نکال لو۔ آدم علیہ السلام پوچھیں گے جہنم میں ڈالے جانے والے لوگ کتنے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہی وہ وقت ہو گا جب بچے غم سے بوڑھے ہو جائیں گے اور حاملہ عورتیں اپنا حمل گرا دیں گی اور تم لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھو گے، حالانکہ وہ واقعی نشہ کی حالت میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہو گا۔ صحابہ کرام کو یہ بات بہت سخت معلوم ہوئی تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! پھر ہم میں سے وہ (خوش نصیب) شخص کون ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں خوشخبری ہو، ایک ہزار( میں 999 ) یاجوج ماجوج کی قوم سے ہوں گے۔ اور تم میں سے وہ ایک جنتی ہو گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو گے۔ راوی نے بیان کیا کہ ہم نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی اور اس کی تکبیر کہی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ آدھا حصہ اہل جنت کا تم لوگ ہو گے۔ تمہاری مثال دوسری امتوں کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے کسی سیاہ بیل کے جسم پر سفید بالوں کی (معمولی تعداد) ہوتی ہے یا وہ سفید داغ جو گدھے کے آگے کے پاؤں پر ہوتا ہے۔
[صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6530]