سورج کا مغرب سے طلوع ہونا - قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)

قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے ایک بڑی علامت سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا قیامت کی دس نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اور اسے عظیم نشانی کہا گیا کیونکہ ان دس نشانیوں میں سے اس نشانی کا ظاہر ہونا توبہ کے دروازے کا بند ہونا ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں اس کا ذکر موجود ہے۔

سورج کا مغرب سے طُلوع ہونے کے بعد  توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ اب کسی کی توبہ قُبول نہ ہو گی جو کافرہے وہ کافر ہی رہے گا اورجو مسلمان ہے وہ مسلمان ہی رہے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ھے 

هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ ۗ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ۗ 

کیا وہ اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود تمہارا رب آئے یا تمہارے رب کی کوئی نشانی آئے، جس دن تمہارے رب کی کوئی خاص نشانی آ جائے گی تو کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا تھا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی، (الانعام)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو گا۔ (پھر اس کے بعد) جب وہ طلوع ہو گا تو لوگ اسے دیکھتے ہی ایمان لے آئیں گے، مگر یہ ایسا مرحلہ ہو گا جب کسی نفس کے لیے اس کا ایمان قبول کر لینا سود مند نہ ہو گا۔ کیونکہ اس سے پہلے نہ تو اس نے ایمان قبول کیا تھا اور نہ ہی اپنے ایمان سے (کسی) اچھائی کو حاصل کیا تھا۔“ (صحيح بخاري)

حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مغرب کی سمت سے آفتاب طلوع ہونے سے پہلے پہلے توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ (مسلم)​

معلوم ہو کہ جب مذکورہ قیامت کی نشانی ظاہر ہو جائےگی  تو پھر کسی شخص کی توبہ قبول نہ ہو گی اور آج اللہ پاک کی رحمت وسیع  ہے ، معافی مل سکتی ہے، لہذا ہمیں چاہیئے کہ اس وقت کے منتظر نہ رہیں کہ جب معافی نہیں ملے گی، موقع کو غنیمت جانتے ہوئے جلد از جلد توبہ کر کے اپنے تمام گناہوں کی اللہ پاک سے بخشش کروا لیں۔ یہ توبہ قبولً  ہونے کی حد ہے کہ مغرب کی سمت سے آفتاب نکلنے سے پہلے تک توبہ کا دروازہ کھلا رہے گا لہٰذا اس وقت تک جو بھی توبہ کرے گا اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی لیکن اس کے بعد کی جانے والی توبہ قبول نہیں ہوگی ۔ 

اسی طرح ھر انسان کے لئے اس وقت توبہ کا دروازہ بند ھوجاتا ھے جب وہ اس دنیا سے جا رھا ھوتا ھے اور حالتِ غرغرہ میں ھوتا ھے تو گویا توبہ قبول ہونے کی ایک حد شخصی بھی  ہوتی ہے جس کا تعلق ہر فرد سے ہوتا ہے انسان اپنی زندگی میں جب بھی سچی توبہ کرتا ھے اللہ پاک اس توبہ کو قبول فرماتے ھیں اور یہ  توبہ کی قبولیت کا وقت حالت غرغرہ (نزع) سے پہلے پہلے تک کا وقت ھوتا ہے یعنی جو شخص حالت غرغرہ سے پہلے پہلے توبہ کر لے گا اس کی توبہ قبول ہوگی۔ حالت غرغرہ کب شروع ھو جائے اس کا کسی بھی بندہ کو کوئی علم نہیں اور حالت غرغرہ میں کی جانے والی توبہ ھرگز قبول نہیں ہوگی

 ذوالحجہ کے مہینے میں دسویں ذوالحجہ کے بعد اچانک ایک رات بہت لمبی ہوگی کہ مسافروں کے دل گھبراکر بے قرار ہوجائیں گے، بچے سو سو کر اُکتا جائیں گے، جانور باہر کھیتوں میں جانے کے لئے چلانے لگیں گے، تمام لوگ ڈر اور گھبراہٹ سے بے قرار ہوجائیں گے، جب تین راتوں کے برابر وہ رات ہوچکے گی تو سورج ہلکی سی روشنی کے ساتھ مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا اور سورج کی حالت ایسی ہوگی جیسے اس کو گہن لگا ہوتا ہے، اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا اور کسی کا ایمان یا گناہوں سے توبہ قبول نہ ہوگی، سورج آہستہ آہستہ اُونچا ہوتا جائے گا، جب اتنا اُونچا ہوجائے گا جتنا دوپہر سے کچھ پہلے ہوتا ہے تو واپس مغرب کی طرف غروب ہونا شروع ہوجائے گا اور معمول کے مطابق غروب ہوجائے گا، پھر حسب معمول طلوع و غروب ہوتا رہے گا۔

سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کی کیفیت کے متعلق سیدنا ابوذر رضی الله عنہ سے مروی ایک حدیث ہے، جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟“ صحابه كرام رضى الله عنهم اجمعين نے عرض كيا: الله اور اس کا رسول صلی الله علیہ والہ وسلم خوب جانتے ہیں. تو آپ صلی الله علیہ والہ وسلم  نے فرمایا: ”یہ چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ پر عرش کے تلے آتا ہے وہاں سجدہ میں گرتا ہے (اس سجدہ کا مفہوم الله تعالیٰ ہی جانتا ہے) پھر اسی حال میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس کو حکم ہوتا ہے اونچا ہو جا اور جا جہاں سے آیا ہے، وہ لوٹ آتا ہے اور اپنے نکلنے کی جگہ سے نکلتا ہے۔ پھر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ عرش تلے آتا ہے اور سجدہ کرتا ہے پھر اسی حال میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اس سے کہا جاتا ہے اونچا ہو جا اور لوٹ جا جہاں سے آیا ہے۔ وہ نکلتا ہے اپنے نکلنے کی جگہ سے پھر چلتا ہے اسی طرح ایک بار اسی طرح چلے گا اور لوگوں کو کوئی فرق اس کی چال میں معلوم نہ ہو گا یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ پر آئے گا عرش کے تلے اس وقت اس سے کہا جائے گا اونچا ہو جا اور نکل جا پچھّم کی طرف سے جدھر تو ڈوبتا ہے وہ نکلے گا پچھّم کی طرف سے۔“ پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جانتے ہو یہ کب ہو گا (یعنی آفتاب کا پچھّم کی طرف سے نکلنا) یہ اس وقت ہو گا جب کسی کو ایمان لانا فائدہ نہ دے گا، جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو اس نے نیک کام نہ کئے ہوں اپنے ایمان میں۔“ [صحيح مسلم، كتاب الايمان، رقم: 399 ]

Share: