والدین متوجہ ھوں

 .....تحریر ضرور پڑھئیے گا ....

والدين متوجه هوں

==========

عاجز کے پاس جو طلباء تعلیم حاصل کرتے ہیں ان طلباء کی حوصلہ افزائی کے لئے گذشته دنوں مدرسه ميں انعامات تقسیم کئے گئے۔۔۔آپ سب جانتے ہیں کہ مدارس میں ايك حاضری رجسٹر ھوتا ھے جس پہ روزانہ طلباء كي حاضری لگائی جاتی ھے تاکہ معلوم ھوسکے کے کونسا طالب علم  حاضر ھے اور کون غیر حاضر۔۔۔عاجز بھی انہی روایات کو قائم رکھتے ھوئے طلباء كي روزانه حاضری لگاتا ھے۔۔

اسی طرح نماز کی حاضری کے لئے بھی ايك ڈائری ھوتی ھے میری کلاس ميں تقریباً چالیس کے قریب بچے پڑھتے ہیں تو تمام کي نماز كي حاضري لگوائی جاتي ھے نماز كي يه حاضري کلاس کے اختتام پر  لگائی جاتی ھے۔۔۔

اچھا اب آپ کو بتاتا چلوں کہ جو حاضری روزانہ حاضري رجسٹر پر لگائی جاتی ھے اس میں یہ ترتیب رکھی ھوئی ھے کہ جس طالب علم کی مہینے میں ایک بھی غیر حاضری نہیں ھوگی اسکا نام اسی طرح ھر ماہ آگے نمبر میں چلتا جائے گا جسکے نمبر زیادہ ھوں گے وہ اول پھر دوم پھر سوم ۔۔۔ اور یہ بھی بتاتا چلوں کے اگر چھٹی بتا کر کی هو گي  تو leave  لگے گی وگرنہ بنا بتائے چھٹی کرنے پر غیر حاضری لگائی جائے گی اور جسکی ایک ماہ میں ایک بھی غیر حاضری ھوئی اسکا نام اس ماہ میں نمبر لسٹ  میں شمار نہیں ھوگا۔۔۔

اسی طرح نماز کی بھی جو حاضری لگتی ھے وه بهي  ھر ماہ کے اختتام پر ڈائری عاجز کے پاس جمع ھو جاتی ھے اور جب ایک سال مکمل ھوجاتا ھے تو ان سب ڈائریوں میں لگائی گئی ھر نماز کی گنتی ھوتی ھے جسکی نمازیں سب سے زیادہ ھوں وہ اول پھر دوم پھر سوم كي پوزيشن مين هوتا هے تو يه سلسلہ رمضان المبارک سے رمضان المبارک تک کا ھوتاھے حاضری رجسٹر کا بھی اور حاضری نماز کا بھی ۔۔۔

تو ان سب بچوں کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کو انعامات دئیے جاتے ہیں اسی طرح بچوں میں ایک تو ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا ذوق شوق پیدا ھوتا ھے لیکن اصل بات یہ ھے کہ انکی اس طرح پابندی کرنے سے انکو نماز کی عادت بھی ھوجاتی ھے اور اوقات پر آنے کی اور وقت پہ آکر پڑھنےکی بھی عادت ھوجاتی ھے بچہ اس طرح نمازی بھی بن جاتا ھے اور اسی بہانے قرآن کریم بھی پڑھ لیتا ھے۔۔۔

پہلا دور تھا جب نماز کا اور تلاوت کا والدین کو بھی ذوق شوق  هوا كرتا تھا  اسي طرح والدين ذوق وشوق سے بچوں كو مسجد / مدرسہ بھیجتے تهے  اور خود بچوں کو بھی نماز /قرآن پڑھنے کا ذوق وشوق هوا كرتا تها  اب بدقسمتي سے نه تو بچوں كو هي كوئي ذوق وشوق هے اور نه هي  والدين كو كوئي خاص دلچسپي هے الا ما شاء الله  کوئی سو میں سے پانچ  فیصد  والدين ایسے ھوں گے جن کو ذوق شوق ھوگا وگرنہ اب تو پچانوے فیصد والدین تو ایسے هي  ہیں جو بچے كو  نہ نماز کی تلقین کرتے ہیں نه قرآن كي اور نه هي  بچے كو مسجد /مدرسہ جانے کا کوئي شوق ھوتا ھے  

 ایک قصور والدین کی طرف سے يه بھی ھے کہ وہ بچوں پہ بوجھ ہی اس عمر میں ڈال دیتے ہیں جبکہ بچے کی عمر ابھی دودھ پینے کی ھوتی ھے مائیں جان چھڑوا کر سکول بھیج دیتی ہیں جہاں پلے گروپ میں بچہ کھیل کے آجاتا ھے اور باپ جان چھڑا کر کام کاج پہ چلے جاتے ہیں  بچہ جب سکول سے آتا ھے تو تھوڑی دیر بعد ٹیوشن کا وقت ھوجاتا ھے وہاں جا کر جب فارغ ھوکر واپس آتا ھے تو آگے ماشاء ﷲ گھر میں ہی قاری صاحب کا بندوبست ھوتا ھے تو آدھا گھنٹہ اب قاري صاحب نے بهي لينا هي هوتا هے  تو اب  آپ خود هي  بتائیں بچہ کیا پڑھے گا بلكه  اس طرح بچہ باغی بن جاتا ھے چڑچڑا ھوجاتا ھے بدتمیز ھوجاتا ھے تو نماز کیا پڑھے گا پھر جب کے سب کام ریڈیمیٹ دستیاب ھوں گے۔۔۔

خدارا : بچوں پہ اس طرح کا ظلم مت کریں کہ بچہ بجائے ایک اچھا نمازی بننے کے ایک اچھا دین دار بننے کے ایک اچھا اخلاق والا بننے کے بس ایسے بن جائے کہ جب والدین میں کوئی مر جائے تو اسے نماز جنازہ کی دعا تک نه آتی ھو 

بچوں کو ریلیکسیشن دیں انکو اپنے ساتھ سیر و تفريح کروائیں انکے ساتھ دوستی رکھیں سب سے پہلے انہیں قرآن کریم کے لئے مسجد/ مدرسہ بھیجیں نماز کے لئے مسجد بھیجیں اس طرح جب اسكي عادت ھوجائے گی تو بے شک سکول پڑھوائیں اچھی تعلیم دلوائیں  ليكن  خدارا بچوں کی لائف کو ٹف مت بنائیں یہ انکے نقصان ھونے کے ساتھ ساتھ آپکا بھی دين ودنيا كا نقصان ھے 

بچوں سے دوستی رکھیں جہاں وہ پڑھنے جائیں انکے اس ادارے کے ساتھ رابطہ رکھیں اساتذہ سے گاھے بگاھے رپورٹ طلب کرتے رہیں ۔۔۔

اس طرح آپکا بچہ مستقبل کا ایک روشن ستارہ بنے گا بلکہ آپکی آنکھوں کی ٹھنڈک اور آپکا سہارہ بننے کے ساتھ ساتھ آپکے لئے صدقہ جاریہ بھی بنے گا ۔۔۔۔

اللہ تعالی تمام والدین کو ان باتوں پر عمل کی توفیق عطافرمائے -  امین 

والسلام  علیکمم 

منجانب : خادم الاسلام والمسلیمین 

محمد خبیب احمد قاضی غفرلہ 

خادم جامع مسجد الغنی گوجرانواله

Share: