صلاة التراویح کی فضیلت و اہمیت


رمضان شریف کا مہینہ عالمِ روحانیت کا موسم بہار ہے۔ دن کو فرض روزہ رکھنا اور رات کو سنت تروایح ادا کرنا اس مبارک مہینہ کی مخصوص عبادات ہیں۔ حدیث مبارکه میں ارشاد ہے:

شَهْرٌکَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَہٗ وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ۔ (سنن ابن ماجۃ) 

ترجمہ:اس مہینہ کے روزے اللہ تعالیٰ نےتم پر فرض فرمائے ہیں اور میں نے اس کے قیام (تراویح) کو تمہارے لیے سنت قرار دیا ہے۔

رمضان المبارک میں نفل عبادت کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا زیادہ عطا کیا جاتا ہے۔

اس لیے ان مبارک گھڑیوں کوغنیمت سمجھا جائے اورایک لمحہ بھی ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے شائد آئندہ ہمیں یہ مقدس گھڑیاں نصیب ہوں یا نہ ہوں۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صديقه رضی اللہ تعالى عنہا فرماتی ہیں:

كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ شَدَّ مِئْزَرَهُ ، ثُمَّ لَمْ يَأْتِ فِرَاشَهُ حَتَّى يَنْسَلِخَ ۔ (شعب الایمان للبیہقی) 

ترجمہ:جب رمضان کا مہینہ آتا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله و سلم کمر کَس لیتے اوراپنے بستر پرتشریف نہ لاتے ،یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا۔

لیکن جب رمضان کی آخری دس راتیں آتیں توسیدہ عائشہ صديقه رضی اللہ عنہا ہی فرماتی ہے کہ :

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِى الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مَا لاَ يَجْتَهِدُ فِى غَيْرِهَا۔ 

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم آخری دس دنوں میں جو کوشش فرماتے وہ باقی دنوں میں نہ فرماتے تھے۔(صحیح مسلم)

نیز امت کوبھی اس مہینے میں عبادت کی ترغیب فرماتے تھے ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالى عنہ روایت فرماتے ہیں:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔ (صحیح بخاری) 

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے تروایح پڑھی تواس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآله و سلم رمضان المبارک میں خود بھی بکثرت عبادت فرماتے تھے اورامت کوبھی بکثرت عبادت کی ترغیب فرماتے تھے۔اس لیے اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ جتنی عبادت ہوسکے پوری ہمت اورکوشش سے کرنی چاہیے۔

۔ ماہ رمضان کی راتوں میں ادا کی جانے والی بیس رکعات نماز باجماعت کا نام ’’تراویح‘‘ اس لئے رکھا گیا کہ جب لوگوں نے جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنا شروع کی تو وہ ہر چار رکعت کے بعد اتنی دیر آرام کرتے تھے، جتنی دیر میں چار رکعات پڑھی جاتی تھیں، یعنی تراویح کے معنی آرام والی نماز ہے۔

نماز تراویح بالاجماع سنت مؤکدہ ہے اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآله وسلم میں اس کی اہمیت و فضیلت بیان ہوئی ہے۔ خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے نماز تراویح کی مداومت فرمائی ہے، چنانچہ تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو اپنے اوپر لازم کرلو‘‘۔ خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز تراویح ادا فرمائی اور اسے پسند فرمایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ’’جو رمضان میں قیام کرے ایمان کی وجہ اور طلب ثواب کے لئے، اس کے اگلے سب گناہ بخش دیئے جائیں گے‘‘


تراویح کی تعداد ِرکعت کے سلسلہ میں علماء کرام کے درمیان اختلاف ہے۔ تراویح پڑھنے کی اگرچہ بہت فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے؛ لیکن فرض نہ ہونے کی وجہ سے تراویح کی تعدادِ رکعت میں یقینا گنجائش ہے۔ جمہور محدثین اورفقہاء کی رائے ہے کہ تراویح ۲۰ رکعت پڑھنی چاہئیں۔ تراویح کی تعداد ِرکعت میں علماء کرام کے درمیان اختلاف کی اصل بنیاد یہ ہے کہ تراویح اور تہجد ایک نماز ہے یا دو الگ الگ نمازیں۔ جمہور محدثین،فقہائے کرام نے اِن دونوں نمازوں کو الگ الگ نماز قرار دیا ہے، اُن کے نقطہٴ نظر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے، جس میں انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم رمضان اور رمضان کے علاوہ گیارہ رکعت سے زائد نماز نہیں پڑھتے تھے۔ جس کے انہوں نے مختلف دلائل بهي دیے ہیں

حضرت عائشہ رضي الله تعالى عنه کی روایت (جس میں انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم  رمضان اور رمضان کے علاوہ گیارہ رکعت سے زائد نماز نہیں پڑھتے تھے) میں لفظ ِتراویح کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا اس حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے؛ کیونکہ محدثین نے اس حدیث کو تہجد کے باب میں نقل کیا ہے، نہ کہ تراویح کے باب میں۔ (ملاحظہ ہو : مسلم ج۱ ص ۱۵۴، ابوداوٴد ج۱ ص ۱۹۶، ترمذی ج۱ ص۵۸، نسائی ج۱ ص ۱۵۴، موٴطا امام مالک ص ۴۲) اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان محدثین کے نزدیک یہ حدیث تہجد کی نماز سے متعلق ہے نہ کہ تراویح سے متعلق۔

تراویح كي بیس رکعت پر حضرات خلفاءِ راشدین میں سے حضرت عمررضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اورحضرت علی رضی اللہ عنہ، دیگرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم، ائمہ مجتہدین و حضرات مشائخ رحمہم اللہ عمل پیرا رہے، بلاد اسلامیہ میں چودہ سو سال سے اسی پر عمل ہوتا رہا ہے اورامت کا اسی پر اجماع ہے ۔

فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِى وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ۔ )سنن ابی داؤد: ج2،ص290، باب فی لزوم السنۃ(

ترجمہ: تم میری سنت کواورہدایت یافتہ خلفاء راشدین (رضی اللہ عنہم) کی سنت کو اپنے اوپرلازم پکڑو اور اسے مضبوطی سے تھام لو۔

اس حدیث مبارک میں جہاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی سنت پر لفظ ’’علیکم‘‘(تم پر لازم ہے) اور عضواعلیھاب النواجذ (مضبوطی سےتھام لو) سے عمل کرنے کی تاکید فرمائی اسی طرح حضرات خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی سنت پر بھی عمل کرنے کی تاکید فرمائی جوکہ تراویح کے سنت موکدہ ہونے کی دلیل ہے۔


علامہ ابن تیمیہ رحمه الله فرماتے ہیں کہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے سب صحابہ رضوان الله عليهم کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں جمع کیا تو وہ بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضي الله تعالى عنه ان خلفاء راشدین میں سے ہیں، جن کی بابت نبی اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا ہے کہ میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کرو اور اسی کو ڈاڑھوں سے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔ علامہ ابن تیمیہ رحمه الله فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ڈاڑھوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ڈاڑھوں کی گرفت مضبوط ہوتی ہے، لہٰذا حضرت عمر فاروق رضي الله تعالى عنه کا یہ اقدام عینِ سنت ہے۔ (فتاوی ابن تیمیہ)

قرآن وحدیث کی روشنی میں ساری امت مسلمہ متفق ہے کہ رمضان کی راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے، نیز حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت سے امت مسلمہ جماعت کے ساتھ ۲۰ ہی رکعت تراویح پڑھتی آئی ہے، حرمین (مسجد حرام اور مسجد نبوی) میں آج تک کبھی بھی بيس رکعت تراویح سے كم تراويح نہیں پڑھی گئیں۔

علامہ نووی رحمه الله فرماتے ہے کہ جان لو کہ نماز تراویح کے سنت ہونے پر تمام علماء کا اجماع ہے اور یہ بیس رکعت ہیں، جن میں ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جاتا ہے۔ (الاذکار ص ۸۳)


مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان مرحوم بھوپالی رحمه الله نے تحریر فرمایا ہے کہ حضرت عمرفاروق رضي الله تعالى عنه کے دور میں جو طریقہ بیس رکعت پڑھانے کا ہوا ، اس کو علماء نے اجماع کے مثل شمار کیا ہے۔ 

(عون الباری ج۴ ص ۳۱۷)



نمازِ تراویح کی چودہ سو سالہ تاریخ

سعودی عرب کے نامور عالم ، مسجد نبوی کے مشہور مدرس اور مدینہ منورہ کے (سابق) قاضی الشیخ عطیہ محمد سالم رحمه الله (متوفی ۱۹۹۹) نے نماز تراویح کی چودہ سو سالہ تاریخ پر عربی زبان میں ایک مستقل کتاب (التراویحُ أکْثَرُ مِنْ ألْفِ عَامٍ فِی الْمَسْجِدِ النبوی) لکھی ہے۔ کتاب کے مقدمہ میں تصنیف کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسجد نبوی میں نماز تراویح ہورہی ہوتی ہے تو بعض لوگ آٹھ رکعت پڑھ کر ہی رک جاتے ہیں ، ان کا یہ گمان ہے کہ آٹھ رکعت تراویح پڑھنا بہتر ہے اور اس سے زیادہ جائز نہیں ہے، اس طرح یہ لوگ مسجد نبوی میں بقیہ تراویح کے ثواب سے محروم رہتے ہیں۔ ان کی اس محرومی کو دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے ،لہٰذا میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں؛ تاکہ ان لوگوں کے شکوک وشبہات ختم ہوں اور ان کو بیس رکعت تراویح پڑھنے کی توفیق ہوجائے․․․․ اس کتاب میں ۱۴۰۰ سالہ تاریخ پر مدلل بحث کرنے کے بعد شیخ عطیہ محمد سالم رحمه الله لکھتے ہیں: اس تفصیلی تجزیہ کے بعد ہم اپنے قراء سے اولاً تو یہ پوچھنا چاہیں گے کہ کیا ایک ہزار سال سے زائد اس طویل عرصہ میں کسی ایک موقع پر بھی یہ ثابت ہے کہ مسجد نبوی صلى الله عليه وآله وسلملامیں مستقل آٹھ تراویح پڑھی جاتی تھیں؟ یا چلیں بیس سے کم تراویح پڑھنا ہی ثابت ہو؟ بلکہ ثابت تو یہ ہے کہ پورے چودہ سو سالہ دور میں بیس یا اس سے زائد ہی پڑھی جاتی تھیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی صحابی یا ماضی کے کسی ایک عالم نے بھی یہ فتویٰ دیا کہ ۸ سے زائد تراویح جائز نہیں ہیں اور اس نے حضرت عائشہ رضي الله تعالى عنها کی حدیث کو اس فتوے کی بنیاد بنایا ہو ؟


با جماعت نمازِ تراویح ؛ تین راتیں:

رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم سے تراویح کی جماعت صرف تین دن ثابت ہے، پورا مہینہ آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے صحابہ كرام رضوان اللہ عنہم کو تراويح كي نماز نهيں پڑھائی جیسا کہ احادیث مباركه میں اس کی صراحت موجود ہے۔ چنانچہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِىَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَلَمَّا كَانَتِ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ. قَالَ فَقَالَ « إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ ». قَالَ فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلاَحُ. . . . ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا بَقِيَّةَ الشَّهْرِ. (سنن ابی داؤد) 

ترجمہ: فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ نے پورا مہینہ ہمیں رات میں نمازنہیں پڑھائی یہاں تک کہ سات دن باقی رہ گئے تو(تیئسویں رات میں) آپ نے ہمیں نمازپڑھائی یہاں تک کہ تہائی رات گزر گئی جب چھ دن رہ گئے تونمازنہیں پڑھائی پھر جب پانچ دن رہ گئے تونماز پڑھائی(یعنی پچیسویں رات میں)یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم اگر آپ اس رات کے باقی حصے میں بھی ہمیں نفل پڑھا دیتے توکیا ہی اچھا ہوتا!آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص امام کے ساتھ نماز(عشاء)پڑھے پھر اپنے گھر واپس جائےتو اسے پوری رات کے قیام کا ثواب ملے گا۔

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب چار دن باقی رہ گئے توآپ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی، جب تین دن باقی رہ گئے توآپ نے اپنے گھروالوں، عورتوں اوردیگرلوگوں کوجمع کیا اور نماز پڑھائی (یعنی ستائیسویں رات)اتنی لمبی نماز پڑھائی کہ ہمیں اندیشہ ہونے لگا کہ ہم سے سحری رہ جائے گی، پھرباقی ایام بھی آپ نے ہمیں نمازنہیں پڑھائی۔


تسبیح تراویح

نمازِ تروایح میں ہر چار رکعت ادا کرنے کے بعد کچھ توقف کیا جاتا ہے، جس میں تسبیح تراویح، اَذکار اور صلوٰۃ و سلام پڑھا جاتا ہے۔ تسبیح تراویح یہ ہے:

سُبْحَانَ ذِی الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوْتِ ط سُبْحَانَ ذِی الْعِزَّةِ وَالْعَظَمَةِ وَالْهَيْبَةِ وَالْقُدْرَةِ وَالْکِبْرِيَآئِ وَالْجَبَرُوْتِ ط سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْحَيِ الَّذِی لَا يَنَامُ وَلَا يَمُوْتُ ط سُبُّوحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوْحِ ط اَللّٰهُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ يَا مُجِيْرُ يَا مُجِيْرُ يَا مُجِيْر.

’’پاک ہے (وہ اﷲ) زمین و آسمان کی بادشاہی والا۔ پاک ہے (وہ اﷲ) عزت و بزرگی، ہیبت و قدرت اور عظمت و رُعب والا۔ پاک ہے بادشاہ (حقیقی، جو) زندہ ہے، سوتا نہیں اور نہ مرے گا۔ بہت ہی پاک (اور) بہت ہی مقدس ہے ہمارا پروردگار اور فرشتوں اور روح کا پروردگار۔ اِلٰہی ہم کو دوزخ سے پناہ دے۔ اے پناہ دینے والے! اے پناہ دینے والے! اے پناہ دینے والے!‘‘


الله تعالى هم سبكو عمل كي توفيق عنايت فرمائے (آمين يا رب العلمين)

Share: