حضرت امام ابو حنیفہ رحمة الله عليه کی علمی فراست اور یہودی کے تین سوال


حضرت امام ابو حنیفہ رحمة الله عليه کی نوجوانی کا دور تھا اور  عبدالملک بن مروان مسلمانوں کا خلیفہ تھا  اس وقت دارالخلافہ بغداد علم وحکمت کا مرکز تھا۔ 

یہودیوں نے اسلام کو نظریاتی طور پر کمزور کرنے اور بظاہر مسلم علماء کو لاجواب کر دینے والے تین سوالات تیار کیے اور یہ سوالات ایک انتہائی ھوشیار اور چالاک یہودی شخص کو دے کر بغداد بھیجا جو اعلیٰ طبقہ تک رسائی کی صلاحیت ،بہترین مقررانہ صلاحیتوں اور بارعب شخصیت اور آواز کاحامل تھا۔ اس نے پہلے پہل بغداد میں آکر ایسی بڑی مساجد کا انتخاب کیا جہاں اسے زیادہ  سے زیادہ سامعین مل سکتے تھے، اور پھر ان کے سامنے اپنا پہلا سوال رکھا کہ :

*خدا سے پہلے زمین پر کیا تھا؟*

جس کا جواب نہ تو عام آدمی نہ ھی ائمہ مساجد جو بخوبی دینی تعلیم سے آگاہ ہوتے تھے دے سکے۔ مختلف مساجد میں جا کر یہ فتنہ پھیلانے کے بعد اس نے مدارس کا رخ کیا اور ہر کسی کو لاجواب کرتا چلا گیا۔ اس دوران اس سازشی اور چالاک یہودی کی شہرت دربار خلافت تک بھی پہنچ چکی تھی یہودی نے درجہ بدرجہ آگے بڑھتے ہوئے دربار خلافت تک بھی رسائی حاصل کر لی اور شاہی علماء دین کو چیلنج کرتے ہوئے اس سوال کا جواب مانگا، لیکن بدقسمتی سے کوئی بھی عالم دین اس کے سامنے لب کشائی نہ کر سکا ...


اب خلیفہ عبدالملک بن مروان جو کہ، خود بھی ایک بہت بڑا عالم دین تھا اس کو اس بات کا بہت رنج تھا اس نے اس یہودی کو دربار خلافت میں بطور شاہی مہمان ٹھہرنے کی اجازت دی اور کہا کہ :

“تمہارے اس قیام کے دوران میں تمہارے تینوں سوالوں کے جواب دوں گا “


یہودی شائد یہی چاہتا تھا اس نے شاہی دعوت قبو ل کر لی۔ خلیفۂ وقت نے ایسے علماء کی تلاش کا حکم دے دیا جو اس کے سوالات کے جواب دینے کے متحمل ہو سکتے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے کوئی بھی عالم اس کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا اور یکے بعد دیگرے تمام علماء  شکست خوردہ انداز میں سر جھکائے واپس چلے گئے 


خلیفہ عبدالملک اگرچہ تکلیف میں تھا، لیکن مایوس نہ ہوا۔ بالآخر ایک دن ایک  درباری نے انہیں کہا کہ :

" جہاں پناہ ! اگر کوفے کے ایک نوجوان عالم کو طلب کیا جائے تو یقین کامل ہے کہ وہ اس یہودی کو لاجواب کر سکے گا ... "


خلیفہ عبدالملک مذکورہ عالم  کی عمر معلوم  کر کے قدرے پریشان ہوا کہ اس قدر جہاندیدہ علماء جن سوالوں کے جواب نہ دے سکے، ان کا جواب ایک نوجوان عالم کیا دے گا۔ لیکن مرتا کیا نہ کرتا نیم دلی سے کہا کہ :

                 ٹھیک_ہے_اسے_بھی_آزمالو "


شاہی اہلکاروں کو کوفہ روانہ کر دیا گیا۔ جنہوں نے حضرت نعمان بن ثابتؒ جو کہ بعد میں امام ابوحنیفہ کے نام سے مشہور ہوئے کے دروازے پر دستک دی اور مدعا بیان کیا۔

آپ اپنی والدہ محترمہ اور اپنے محترم استاد امام حمادؒ سے اجازت لے کر دربار شاہی پہنچے اور وہ معرکہ جس نے اسلامی دنیا اور خاص طور پر خلیفۂ وقت کی نیندیں اڑا رکھی تھیں کو سر کرنے کے لیے اگلے دن دربار سجایا گیا ...


وہ یہودی انتہائی تکبرانہ انداز کے ساتھ خلیفہ کے ساتھ کرسی پر براجمان ہوا اور پھر چند ہی لمحوں کے بعد نورانی چہرے کا حامل ایک نوجوان چپکے سے درباریوں میں آکر بیٹھ گیا خلیفہ نے روایت کے مطابق سوال وجواب کاسلسلہ شروع کرنے کاحکم دیا۔ اس یہودی نے اپنے مخصوص متکبرانہ لہجے اور بارعب آواز میں کہا کہ :

               "بتاؤ_اللہ_سے_پہلے_کیا_تھا”


ابھی وہ اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ امام ابوحنیفہ ؒ نے اسے روکتے ہوئے کہا کہ :

         “تم_مانگنے_والے_ہو_جبکہ_میں_دینے_والا "


اور ساتھ ہی خلیفہ سے درخواست کی کہ :

" دینے والے کے منصب کا لحاظ کرتے ہوئے میری نشست کو اس کے ساتھ بدلنے کا حکم دیں ... "


خلیفہ نے نہ صرف خوش ہو کر اس یہودی کو عام درباریوں میں جا کر بیٹھنے کا حکم دیا اور آپ کو اس کی نشست سونپ دی بلکہ آپ کے لہجے کے اعتماد کی بدولت اس کی امید بھی برآنے لگیں ...


بہرحال سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا اور اس نے دوبارہ پوچھا کہ :

      #مجھے_بتایا_جائے_کہ_خدا_سے_پہلے_کیا_تھا ...؟


آپ نے انتہائی اطمینان سے فرمایا کہ :

                       "اعداد_کا_شمار_کرو "


جس پر اس نے گنتی گننا شروع کر دی آپ نے ٹوکا اور فرمایا کہ :

                        "صحیح_شمار_کرو "


اس نے دوبارہ گنتی شروع کر دی لیکن پھر درستگی کا حکم دیا جس پر اس نے اکتا کر کہا کہ :

                 "اور_کس_طرح_شمار_کروں “ "


آپ نے فرمایا کہ :

                    "ایک_سے_پہلے_شمار_کر "


اس نے کہا کہ :

         "ایک_سے_پہلے_تو_کچھ_بھی_نہیں_ہوتا "


تو آپ نے ہنس کر کہا کہ :

#ایک_سے_پہلے_پوچھنے_والا_بےمعنی_سوال_کیوں_کرتے_ہو ...؟ 


اس موقع پرخلیفۂ وقت اور درباریوں کی خوشی دیدنی تھی۔ خلیفہ نے دوسرے سوال کا حکم دیا یہودی نے سوال پوچھا کہ : 

                   #خدا_کا_رخ_کس_طرف_ہے#


آپ ؒ نے چند گھڑی توقف فرمایا اور حکم دیا کہ :

                         "شمع_لائی_جائے "


جس کو جلانے کے بعد یہودی سے سوال کیا کہ :

        #مجھے_اس_روشنی_کا_رخ_متعین_کر_کے_دو#


جس کے جواب میں اس نے کمزور لہجے میں کہا کہ :

                         "یہ_ممکن_نہیں "


آپ ؒ نے فرمایا کہ :

" اللہ رب العزت بھی ایک نور ہے، جس کے رخ کا تعین بھی ممکن نہیں اور تم یہ جاننے کے باجود بےمعنی سوالات کر رہے ہو ...


یہودی اندر سے ٹوٹ چکا تھا، لیکن اس نے پھر بھی بےدلی سے اگلا سوال کیا کہ :

#آپ_مجھے_بتائیں_کہ_خدا_اس_وقت_کیا_کر_رہا_ہے .#


آپ ؒ نے ہنس کر فرمایا کہ :

" وہ ایک جہاں دیدہ دماغ  کے حامل یہودی شخص کو ایک مسلمان نوجوان کے سامنے شرمندہ کر رہا ہے ... "


اس پر دربار میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور یوں وہ فتنہ ختم ہو گیا ...

Share: