خلیفۂ ثانی ،امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ

 حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی پیدائش مکۃ المکرمہ میں واقعہ فیل سے تیرہ سال بعد ہوئی۔ آپؓ صحابی رسول اور مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد ہیں۔ آپؓ کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا ہے۔ حضرت عمرؓ رسول اللہ ؐ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خسربھی ہیں ۔آپؓ کی صاحبزادی ام المومنین حضرت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما رسول اللہؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج میں سے ایک ہیں۔آپؓ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص ہے۔ لقب و کنیت دونوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؐسے جا ملتا ہے۔۔

حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا شمار مکہ کے ان لوگوں میں ہوتا تھا جو پڑھ لکھ سکتے تھے۔ جب حضور ؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے اسلام کی تبلیغ شروع کی تو حضرت عمرؓ اسکے مخالف تھے۔ آپ ؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا سے آپ نے نبوت کے چھٹے سال ستائیس برس کی عمر میں چالیس مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد مشرف بااسلام ہوئے۔ اسی لئے آپکو مراد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہا جاتا۔ ہجرت کے موقعہ پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کیلئے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپؓ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارا نہیں کیا۔ آپؓ نے تلوار ہاتھ میں لی، کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا ' 'تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہو جائے، اس کے بچے یتیم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے''۔ مگر کسی کافر کی ہمت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا۔ رسول اللہ ؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپؓ کو مخاطب کرتے ہوئے ایک دفعہ ارشاد فرمایا کہ '' قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، آپ جس راستے پر چلتے ہیں شیطان وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے'' (مصنف ابن ابی شیبہ)۔ ہجرت کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں رہے۔

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کفر و نفاق کے مقابلہ میں بہت جلال والے تھے اور کفار و منافقین سے شدید نفرت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ ایک یہودی و منافق کے مابین حضور ؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودی کے حق میں فیصلہ فرمایا مگر منافق نہ مانا اور آپؓسے فیصلہ کیلئے کہا۔ آپؓ کو جب علم ہوا کہ نبیؐ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ کے بعد یہ آپ سے فیصلہ کروانے آیا ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر کے فرمایا جو میرے نبیؐ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ نہیں مانتا میرے پاس اس کا یہی فیصلہ ہے۔کئی مواقع پر نبی کریمؐ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشورہ مانگنے پر جو مشورہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے دیا قرآن کریم کی آیات مبارکہ اس کی تائید میں نازل ہوئیں۔

حضرت عمر فاروقؓ باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران تھے۔ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا۔ حضرت عمرؓ حق و صداقت کے علمبردار تھے۔ امیر المومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے وقت وصال امت کی زمام آپؓ ہی کے سپرد کی تھی، 22؍جمادی الثانی 13 ھجری کو آپ مسند نشین خلافت ہوئے۔آپؓ کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے۔ آپ ہی کہ دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آگیا۔آپؓ نے 22 لاکھ مربع میل کے رقبے پر اسلام کا جھنڈا لہرایا اور قبلہ اول بیت المقدس کی شاندار فتح کا سہرا بھی آپ کے سر ہے۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے جس مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کو جس خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا وہ ان کی عبقریت کی دلیل ہے۔آپؓ کا دور خلافت عدل و انصاف کا درخشندہ باب اور مثالی دور ہے نیز بہت مبارک اور اشاعت و اظہار اسلام کا باعث تھا۔ آپؓ ہی نے تقویم اسلامی (اسلامی کیلنڈر) کی ابتداء ہجرت مدینہ کی بنیاد پر یکم محرم الحرام سے کروائی۔ مفتوحہ علاقوں میں900 جامع مساجد اور 4000 عام مساجد تعمیر کروا کر اس میں تعلیم و تدریس کا انتظام کروایا، جب کہ حرمین شریفین کی توسیع بھی آپؓ کے دور خلافت میں ہوئی۔تاریخ کی سب سے پہلی مردم شماری ،کرنسی سکہ کا اجراء،مہمان خانوں(سرائے) کی تعمیر،لاوارث بچوں کی خوراک ،تعلیم و تربیت کا انتظام اور وطائف کا اجراء دور فاروقی میں کیا گیا۔ آپؓ کا مقام و مرتبہ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ''میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتے تو عمر بن خطاب ہوتے۔''(ترمذی)

Share: