یہ فرشتہ صفت بسترے والے لوگ


 آج کل لبرل قسم کے لوگوں کے پاس ایک ھی مشغلہ رہ گیا ھے  کہ جتنا بھی ھوسکے تبلیغی جماعت پر تنقید کی جائے اور حیرت کی بات یہ ھے کہ وہ اسے اپنا بہت بڑا کارنامہ سمجھتے ھیں  بالکل جس طرح دس روپے والا ماسک50 روپے میں فروخت کرنے والا بندہ دوسرے سے کہہ رہا  ھوتا ھے کہ کرونا وائرس حرام کھانے سے پھیلتا ہے۔ یہ ایک انسانی فطرت ہے کہ انسان اپنے برے کام کو ہمیشہ جسٹیفائی کرنے کی کوشش کرتا ہے بچے ہوں یا بڑے  سب ہی اپنے غلط کاموں پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنے لیول پر جھوٹ اور پراپیگنڈے کا سہارا لیتے ہیں۔

جیسا کہ آج کل کچھ لوگ تبلیغی جماعت والوں کے پیچھے پڑے ہوئے  ہیں کچھ ہمارے نادان دوست سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں بہت جھوٹی اور بے بنیاد خبریں پھیلا رہے ہیں۔اور یہ کون لوگ ہیں اور ان کا تعلق کس جگہ سے ہے یہ تقریبا ہم سب کو پتہ ہے 

.کوئی بھی ایسی جماعت جو اسلام کی اشاعت کے لئے کام کر رہی ہے تو وہ انسانیت کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہے کیونکہ کامیاب تو وہی ہے جو آخرت میں کامیاب ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ والی بات بھی نہیں ہے  یہ تبلیغ والے تو کبھی بھی کسی سے کوئی چندہ کوئی امداد بھی نہیں لیتے اپنے پیسے خرچ کر کے بیوی بچوں کو چھوڑ کر اسلام کے لئے جنگلوں اور پہاڑوں میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں جو کہ اتنا آسان کام نہیں ہے اپنی جان آپنا مال اپنا وقت نکال کر کام کر رہے ہیں تو بھائی آپ لوگوں کو  آخر ان سے کیا تکلیف ہے۔اور کچھ لوگوں کو تو ان کے طریقہ کار کا پتہ ہی نہیں کہ تبلیغ والے کیسے کام کرتے ہیں بس وہ سینہ بسینہ ان کو غلط سنتے آئے ہیں تو ان کو غلط کہنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔آپ تاریخ کھول کر دیکھ لیں تو پتہ چلے کہ زیادہ تر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کی قبور مدینہ طیبہ سے باہر ہی ملیں گی جن کا مقصد اسلام کو پھیلانا تھا۔۔۔

 آج کل تو میڈیا نے آسانی کر دی ہے اب تو اس کے ذریعے سے بھی بہت اچھا کام ہورہا ہے، لیکن دین قربانی مانگتا ہے تو ایک آدمی ایرکنڈیشنز کمرے یا ہال میں بیٹھ کر اسلام کی بات کرتا ہے وہ بھی ٹھیک ہے ، لیکن ایک جنگلوں اور پہاڑوں میں اپنے ذاتی پیسے خرچ کر کے موسم کی پرواہ کیے بغیر ایسی جگہ پر جا کر دین کی بات کرتا ہے جہاں پر بجلی تک بھی نہیں ہے تو دونوں میں واضح  فرق ہے۔۔۔۔‏

موجودہ دور میں  اگر آخرت کی فکر رکھنے والوں کی جانچ کی جائے تو انکی جڑیں تبلیغی جماعت سے جاکر مل جائیں گی۔ اس جماعت میں شامل ہونے والے اکثر افراد وہ عام و خاص لوگ ہوتے ہیں جو “سیکھنے” کے ارادے سے ایک دینی ماحول کے طالب ہوتے ہیں ناکہ تربیت یافتہ۔ 

تبلیغ کی اصل محنت آخرت کی فکر پیدا کرنا ہے۔

‏تبلیغی جماعت کی بنیاد چھ اُصولوں پر ہے، اور انکی تمام تر محنت کا حاصل ہر مسلمان کو ان چھ اُصولوں کا فکرمند و پابند بنانے کی کوشش کرنا ہے۔ وہ چھ اُصول یہ ہیں:

① ایمان ② نماز③ علم و ذکر

④ اکرام مسلم ⑤ اخلاص نیت ⑥ دعوت و تبلیغ

اور سب سے بڑی بات تو مقصد کی ہوتی ہے کیا ہماری افواج میں غلط لوگ نہیں ہوں گے،ضرور ہوں گے کیونکہ جب انسان کی بات ہوگی تو شیطان بھی ساتھ ہوگاجس طرح ہماری افواج کا مقصد ہمارے ملک کی سلامتی اور سرحدوں کی حفاظت ہے جس سے وہ ایک منٹ کے لئے بھی غافل نہیں تو اسی طرح ان جماعتوں کا مقصد  پیارے آقاحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کو پھیلانا ہے اس میں کوئی کمی کوتاہی یا کچھ مجھ جیسے ان پڑھ یا ناسمجھ لوگوں کی وجہ سےکوئی غلطی واقع ہو جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری جماعت یا ادارہ ہی خراب ہے

تحریر کا مقصد صرف موجودہ  حالات میں آپس میں پیار محبت کو قائم رکھنا ہے ، ورنہ اس تحریر کے جواب میں بہت سارے لوگوں کے پاس بہت باتیں اور بحث کے لیے مواد موجود ہوگا لیکن اس کی ہمیں ضرورت نہیں ۔اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور اس کرونا وائرس سے پوری انسانیت اور خصوصاً مسلمانوں کو  کلی نجات عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

Share: