عقیدۂ ختمِ نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* ( قسط: 70 )


*  مرزائی ریشہ دوانیاں،سرکاری چشم پوشی اور اربابِ اختیار کی مرزائیوں پر نوازشیں! *




*مرزائی اور نواز شریف حکومت*



بے نظیر نے اپنے ادوار میں مرزائیوں کی ھمدردیاں سمیٹنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی لیکن نواز شریف اس سے بھی دس ھاتھ اگے رھے وہ مرزائیوں کے ساتھ بھائی چارہ قائم کرنے کی ھر ممکن کوشش کرتے رھے اور ھر طرح سے مرزائیوں کو باور کرواتے رھے کہ وہ مرزائیوں کے ھمدرد ھیں

لیجیے مرزائیوں کے بارے میں نواز شریف کے اپنے ذاتی خیالات اور احساسات ملاحظہ فرمائیں


میاں محمد نواز شریف صاحب نے اپنی پہلی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں اپنی پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں یہ ارشاد فرمایا تھا :-

قادیانیوں سے متعلق اگر ترمیم آئین سے ختم کردی جائے تو ہمارے سارے قرضے معاف ہوجائیں گے۔ اس کے لیے امریکا تیار ہے، جناب راجہ ظفرالحق صاحب  نے اس وقت ایک سچے مسلمان کا کردار ادا کیا اور ڈٹ گئے اور نواز شریف کو کہا  کہ آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ جو آپ نے کہا اس کے ردِ عمل کا بھی آپ کو اندازہ ہے؟ تو اس پر نواز شریف صاحب طرح دے گئے کہ نہیں، وہ تو میں نے ویسے ہی کہا تھا


جناب نواز شریف صاحب نے برملا اپنے جذبات کا اظہار کرتے ھوئے قادیانیوں کو اپنا بھائی کہا۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ازلی ابدی مخالفین، ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منکرین اور اہانت رسول  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کرنے والوں کو اپنا بھائی کہنے کا کام جناب میاں صاحب نے ہی انجام دیا اس سے پہلے کسی بھی سربراہ نے مرزائیوں کے حوالے سے ایسے الفاظ زبان سے نہیں نکالے 



میاں محمد نواز شریف صاحب نے قائد اعظم یونیورسٹی سے ملحق فزکس کے ادارہ کا نام ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام پر رکھا، جس عبدالسلام قادیانی نے پاکستان کی سرزمین کو لعنتی کہا تھا ان قادیانیوں کے لیے میاں صاحب کا یہ نرم گوشہ کیا ظاھر کر رھا ھے 

علامہ اقبالؒ  نے تو جواہر لال نہرو کو  بھی کہہ دیا تھا کہ قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔ قادیانیوں کے بارہ میں علامہ اقبال کا فرمان اور میاں محمد نواز شریف کے عمل میں واضح تضاد آخر کیوں؟



مبینہ طور پر نواز شریف صاحب نے اپنے تیسرے  دورِ اقتدار میں اپنا پرسنل سیکریٹری ایک قادیانی کو لگایا اور پھر جناب خاقان عباسی صاحب کے وزیر اعظم بننے پر اسے نواز شریف نے پابند کیا کہ اس پرسنل سیکریٹری کو تبدیل نہ کیا جائے۔ وہ عباسی صاحب کے ساتھ امریکا کے دورے پر بھی گیا  اور بعد میں اسے ورلڈ بینک میں بھیجنے  کا پروگرام بنایا گیا



خوشاب میں پہلے ضلعی پولیس آفیسر (ڈی پی او) خدا بخش نتھوکہ قادیانی کو لگایا گیا۔ میاں شہباز شریف صاحب جو پنجاب کے وزیر آعلی تھے کے پاس ضلع کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کا ایک وفد گیا کہ قادیانی آفسر کو تبدیل کیا جائے۔ چھوٹے میاں صاحب نے وفد کو فرمایا کہ کیا تم نے اس کے پیچھے نمازیں پڑھنی ہیں؟ اس پر ممبران نے کہا کہ ایک ضلع قادیانی افسر کے رحم و کرم پر چھوڑنا بھی قرین انصاف نہیں۔ میاں صاحب چپ تو ہوگئے، لیکن تبادلے کے مطالبے کو تسلیم نہ کیا۔ خدا بخش نتھوکہ قادیانی کی فرعونیت کا اندازہ لگائیں کہ محکمہ انہار کے ایکسین کو اپنے ہاتھ سے پیٹا۔ صوبہ بھر میں محکمہ انہار کے ملازمین نے احتجاج کیا تو خدا بخش نتھوکہ معطل ہوا لیکن شہباز شریف صاحب نے اسے پھر بحال کر دیا اسے ترقی دی اور ڈی آئی جی بنادیا اور پھر خدا بخش نتھوکہ کی جگہ وقارالحسن نتھوکہ قادیانی کو خوشاب کا ڈی پی او لگادیا گیا، جو قادیانی بھی تھا اور خدا بخش نتھوکہ کا بھتیجا اور داماد بھی تھا سالہاسال سے خوشاب ضلع کا ضلعی پولیس آفیسر یکے بعد دیگرے قادیانی لگائے گے خوشاب میں اٹامک انرجی کا اہم شعبہ کام کررہا ہے اور قرب و جوار میں قادیانی آبادیاں ہیں اور پاکستان کے ایٹم کا ماڈل اور ایٹمی راز عبدالسلام قادیانی نے امریکا کو مہیا کیے تھے۔ ان تمام تر باتوں کے باوجود میاں صاحبان کا خدا بخش نتھوکہ کی ناز برداری کرنا محض اس لیے کہ خدا بخش نتھوکہ میاں شہباز صاحب کا کلاس فیلو تھا اور آمریکہ کا ایجنٹ تھا 


سانحہ دوالمیال میں قادیانیوں کی سپورٹ اور مسلمانوں کو تختہ مشق بنانے کے لیے جو کچھ سرکاری سطح پر ہوا  اس سے تو یہی لگتا تھا کہ شاید حکومت نے قسم کھالی ہے کہ مسلمانوں کو قادیانیوں کے سامنے سرنگوں کرنا ہے حالانکہ مرزائیوں نے نہتے مسلمانوں پر خود حملہ کیا تھا 

12ربیع الاوّل 1438ء میلاد النبی ﷺ کاروایتی جلوس تھا ۔دوالمیال کے مسلمان درود و سلام پڑھتے ہوئے مسجد مینار والی ( جس پر انتظامیہ کی ملی بھگت سے قادیانی قابض ھے ) کے قریب پہنچے اور شرکاء جلوس ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگارہے تھے کہ اچانک مقبوضہ مسجد میں موجود قادیانیوں کی جانب سے پتھراؤ شروع ہو گیا۔ جس کی وجہ سے جلوس میں بھگڈر مچ گئی اور ساتھ ہی مسجد سے گولیوں کی تڑتڑاہٹ شروع ہو گئی۔ جس کے نتیجے میں 4مسلمان زخمی اور ایک مسلمان محمد نعیم شفیق سکنہ تترال شہید ہو گیا ۔جس کی میت کو پولیس نے چھپا دیا ۔

اس واقعہ کے بعد جو حالات پیش آئے ۔وہ انتہائی پریشان کن تھے۔ مسلمان مظلوم تھے، زخمی تھے، شہید کے وارث تھے ۔اس کے باوجود انتظامیہ حکومت کی ھدایت پر مسلمانوں کوہی شدید پریشان کر رہی تھی ۔بے گناہ مسلمانوں کی گرفتاریاں اتنی ہوئیں کہ  شمار سے باہر تھیں  ۔شہر میں کرفیو لگ گیا۔ پولیس اور رینجرز کا دُوالمیال پہ قبضہ تھا ۔13ربیع الاوّل کوشہیدِ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محمد نعیم شفیق شہید کی نماز جنازہ بندوقوں کے سائے میں ادا کی گئی۔ جبکہ اس موقع پر بھی بے گناہ مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری رہا باوجود اس کے مرزائی ظالم اور قاتل تھے لیکن حکومت نے کسی مرزائی کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی نہ ھی شہید کے والدین کو انصاف ملا


میاں صاحب کی حکومت نے اپنی آکثریت کے بل بوتے پر قومی اسمبلی سے انتخابی اصطلاحات کا  ایک بل منظور کرایا  اسمبلی الیکشن کے لیے امیدواران کو جو حلف نامہ جمع کرانا پڑتا تھا  اس کے شروع میں یہ الفاظ درج تھے کہ 

“*میں حلفیہ کہتا ہوں*....“ 

اب اس بل میں عبارت کو یوں بدل دیا گیا ہے کہ 

“*میں اقرار کرتا ہوں*....“ 


سوال یہ پیدا ھوتا ھے آخر ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلف نامے کو اقرار نامے میں تبدیل کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ 

یہ تو ایک حقیقت ھے کہ  میاں صاحبان اتنے سادہ نہیں ہیں کہ وہ حلف نامہ اور اقرار نامہ کے فرق کو نہ سمجھتے ہوں۔ یہ جو کچھ بھی ہوا ایک گہری سوچ اور خطرناک چال کا حصہ تھا قادیانیوں کو رعایت دینے کے لیے اور ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعلق ترمیم کو غیر موثر بنانے کے لیے جو کچھ ہوسکتا تھا نواز حکومت نے موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا، یہ بلاوجہ نہیں، اس کے پیچھے چھپے ہوئے ہاتھ تھے  شاید میاں محمد نواز شریف نے اپنے پہلے دور کی ایسی فاش غلطیوں  سے کوئی سبق نہیں سیکھا، قادیانیت نوازی کی نحوست نے ان کو پہلے بھی اور بعد میں بھی نشان عبرت بنا دیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے غضب سے ہم مسلمان پناہ چاہتے ہیں

انٹرنیٹ فیس بک ،ٹوئیٹر ،یوٹیوب پر زبردست پروپیگنڈے چلتے رہے  کہ نواز شریف اور رانا ثناء اللہ اپنے مخصوص بیانات کی وجہ سے قادیانیوں کے زبردست حمایتی ہیں اور یہ سب کچھ بیرون بڑے سامراج کے دباؤ کا ہی نتیجہ تھا کہ اس طرح حکمران اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے ان کی ہر بات پر عملدرآمد کرنا اور ان کے ہر حکم کو من و عن ماننے میں ہی اپنی حکومت کی عافیت سمجھتے رھے بتایا جاتا ہے کہ سابق وزیر اعظم چوہدری محمد علی کے بعد تقریباً سبھی حکمرانیاں، وزارت عظمیٰ اور صدارت انہی کے حکم کے تابع تبدیل ہوتی رہیں

 اسمبلی اور سینیٹ میں  نواز شریف کو پارٹی کا صدر چن لینے کی پابندی کو ختم کروانے کے لیے جو انتخابی اصلاحات کا بل منظور کروایا گیا اسی کی آڑ میں سامراج کی پرانی خواہش کہ مرزائی بھی اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچ سکیں ختم  نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلف نامے کو ان کی مرضی کے مطابق منظور کروالیا گیا مجاہدین تحفظ ختم نبوت  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور رسالت مآب ﷺکی آن بان شان کے لیے مر مٹنے والوں نے اس قدر  پریشر ڈالا کہ حکومت کو دن میں تارے نظر آنے لگے اگلے روز ہی حکومتی ممبران و دیگر نا سمجھ ممبران اسمبلی کو  اپنا تھوکا چاٹنا پڑگیااور حکمرانوں میں بیٹھے ہوئے مرزائی اور قادیانی نواز عہدیداروں اور بیورو کریٹوں کو منہ کی کھانی پڑی اور یہودیوں مرزائیوں اور سامراجیوں کا مکروہ پلان ٹیں ٹیں ہوگیا۔ 

نواز شریف تو قبل ازیں مرزائیوں کو اپنا بھائی قرار دے چکے تھے اور  رانا ثناء نے ایک نجی چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ

“اگر اس بحث کو ہم اور زیادہ ڈیٹیل میں جا کر کریں گے ،تو قادیانیوں کے متعلق جو ہمارے علمائے کرام  کہتے ہیں کہ قادیانی نان مسلم  ہیں  لیکن وہ ان کو نان مسلم تسلیم نہیں کرتے"خدا بہتر جانتا ہے کہ  ہندو پاک کی پوری تاریخ میں ان کے کہے کے بموجب کسی عالم دین نے یہ کھبی نہیں کہا کہ وہ رانا ثناء اللہ کے اوپر بیان کردہ بیان کے مطابق نان مسلم تسلیم نہیں کرتے اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ھوئے رانا ثناء نے کہا "آپ ڈیٹیل میں دیکھیں تو ان کے  بالکل وہ عقائد ھیں جو ھمارے ھیں یعنی ہماری طرح نماز ہے روزہ ہے تو یہ ان سب چیزوں پر عمل کرتے ہیں یہ اپنی مساجد بھی بناتے ہیں ان میں اذان بھی دیتے ہیں بس آکر اس پوائنٹ کے اوپر یہ اختلاف کرتے ہیں اس لیے ان کے متعلق جو جذبات یا فتوے ہیں وہ بالکل "Otherwise" ہیں رانا ثناء اللہ کا یہ بیان کسی بھی صورت ملت اسلامیہ کو قبول نہیں ہوسکتا تھا  اور نہ ہی ان کی تاویلیں وضاحتیں درست قرار دی جاسکتی تھیں  وہ خود بخود مرازئیوں کے ترجمان بن بیٹھے تھے ۔ جب پورے ملک کے جید علماء اور تمام مسالک کے مسلمان رانا ثناء اللہ کی مذمت میں اٹھ کھڑے ہوئے تو اب رانا ثناء وضاحتیں پیش کرتا پھرتا رھا سوال یہ پیدا ہوتا ہے جس پر ملک بھر کے علماء غور وفکر کررہے ہیں کہ کیا آقائے نامدارمحمد رسول اللہﷺ کی ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ٖڈاکوئوں کی حمایت میں نواز  شریف اور ثناء اللہ کے بیانات معافی کے قابل ہوسکتے ہیں یا نہیں ؟


مسلمانوں کے  عقائد کے مطابق اس بات پر اجماع ہے کہ قادیانی زندیق اور مرتد ہیں یہاں تک کہ ان کا نوزائیدہ بچہ بھی مرتد ہوگا کہ سانپ کے بچوں کی طرح مرزائیوں کا بچہ بھی بڑا ہو کر سانپ ہی بنے گا اور ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلعہ میں ڈنگ مارنے سے باز نہیں رہ سکے گا۔ مرتد کی تعریف ہی یہ ہے جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا پھرے اور پھر دین کی بنیاد سے ہٹ جائے اور اصل اسلامی عقائد کے خلاف باتیں کرتا پھرے وہ مرتد ہے یعنی قابل گردن زنی ۔ اسی لیے آئین میں295Cکی دفعہ شامل کی گئی تھی۔جس کے مطابق اب مرزائی مسجد کی شکل کے مطابق اپنے"مرزواڑے"نہیں تعمیر کرسکتے کلمہ طیبہ کو کسی جگہ نہیں لکھ سکتے " اس لیے اب کوئی مرتد یا زندیق کہیں بھی چھپتا پھرے لاکھوں طرح معافی کا خواستگار ہو وہ مرتد ہی رہے گایہی حال مرزائیوں کا ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان Claim کرتے ہیں ووٹ اندراج بھی مسلمانوں کی لسٹوں میں کرواتے ہیں مگر ان کے کفریہ عقائد ایسے ہیں کہ بیان کے قابل نہیں ہیں لیکن نقلِ کفر کفر نہ باشد مرزا غلام قادیانی  نے صرف خدا ئے بزرگ و برتر کی توہین کرتے ہوئے نعوذ باللہ کہا کہ 


میں خدا کی بیوی ہوں ،

میں خدا کا بیٹا ہوں،

میں خدا کی بیٹی ہوں،

میں خدا کا باپ ہوں،

میں خود خدا ہوں ، 

اور  میں نے زمین و آسمان تخلیق کیے ۔ 


اب ان کے کسی قسم کی مدد کرنے والوں  اور ہر قسم کے سپورٹرز پر میڈیا مرتد ہونے کااعلان نہ کرتا پھرے تو کیا کرے؟پھر ان کو کلیدی عہدوں سے ہٹانے کا پاکستانی مسلمانوں کا مطالبہ بالکل بجا ہے کہ پاکستان بننے کے بعدمرزائیوں نے اعلان کیا تھا کہ ہم ہندوستان کی تقسیم پر راضی نہیں ھیں کوشش کریں گے کہ جلد دوبارہ بھارت سے مل جائیں۔اور اپنے مردوں کو ربوہ میں امانتاًیہ کہہ کر دفن کرتے ہیں کہ انہیں بھارت پاکستان ایک ہوجانے کے بعد قادیان(بھارت) میں جا کر دفن کریں گے ان کے ملک دشمنانہ قبیح خیالات کی ہی وجہ سے انہیں بیورو کریسی اور بالخصوص افواج پاکستان کے کلیدی عہدوں سے دور رکھنا اشد ضروری ہے ۔

نواز شریف کے دورِ حکومت میں سپاہ صہابہ کے مجاھدین پر بھی بہت ظلم وستم توڑے گے بہت سے  مجاھدین بلکہ  سپاہ صہابہ کے بہت سے آکابر علماء  کرام بھی اس دور میں شہید ھوئے لیکن حکومت نے قاتلین کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی بلکہ قاتلین کی ھر طرح سے حوصلہ آفزائی کی گئی نواز شریف نے اپنے  دوسرے دور حکومت میں رائیونڈ کے عالمی تبلیغی مرکز کو بھی بند کرنے کی کوششیں کیں حاجی عبدالوھاب صاحب  رحمة اللہ علیہ پر مرکز بند کرنے کے لئے بہت پریشر ڈالا گیا حاجی صاحب رحمة اللہ علیہ کے نواز شریف کو سمجھانے کے باوجود  اس پریشر کو جاری رکھا گیا ابھی نواز  شریف کی یہ کاروائیاں  جاری تھیں اور حاجی عبدالوھاب صاحب رحمة اللہ علیہ اللہ تعالی کے حضور تبلیغی مرکز کی سلامتی کے لئے دُعائیں مانگ رھے تھے کہ اللہ پاک نے جنرل مشرف کو نواز شریف پر مسلط کردیا اور نواز شریف کو اپنی جان کے لالے  پڑ گے تاھم اپنے تیسرے دورِ حکومت میں نواز شریف نے  تبلیغی مرکز کے خلاف کوئی ایسی حرکت نہیں کی

نواز شریف کے تمام ادوار اس لہاظ سے بدترین تھے کہ ان میں دینی قوتوں کو دبانے کی بہت کوششیں کی گئیں  اور مخالف دینی طاقتوں چاھے وہ ختم نبوت ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے دشمن ھوں یا  پھر ناموس صہابہ کے دشمن ھوں  یا کوئی اور انہیں  ھر طرح سے  مختلف انداز  سے کھلی چھٹی دی گئی

Share: