بانئ دیوبند ، حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمة اللہ علیہ

حجة الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمة اللہ علیہ غیر منقسم ہندوستان کے ایک متبحر عالم،جلیل القدر محدث، مفکر اور تحریک دیوبند کے سرکردہ قائد اور دار العلوم دیوبند کے بانیان میں سے ہیں۔  حضرت مو لانا قاسم نانوتوی رحمة اللہ علیہ کی پیدائش 1833ء میں بھارت کے شہر سہارنپور کے قریب واقع ایک گاؤں نانوتہ میں ہوئی۔ قصبہ نانوتہ، کاندھلہ، دیوبند اور تھانہ بھون مشہور علمی مراکزہیں۔ یہاں خاندانِ فاروقی، صدیقی، عثمانی اور انصاری آباد تھے، یہ قصبے ہمیشہ سے بزرگوں اور مشائخ کے مسکن رہے ہیں۔

حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمة اللہ علیہ کا مولد اور وطن عزیز قصبہ نانوتہ ضلع سہارنپور ہے جو دیوبند سے بارہ میل مغربی جانب واقع ہے۔ آپ رحمة اللہ علیہ کا سلسلہ نسب سیدنا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے جا ملتا ہے۔ تاریخی نام خورشید حسین اور تاریخ پیدائش شعبان ۱٢٤۸ھ ہے۔ والد کا نام شیخ اسد علی بن غلام شاہ ہے، جو نہایت پرہیزگار، صاحبِ اخلاق اور صوم و صلوۃ کے پابند بزرگ تھے۔ آپ رحمة اللہ علیہ بچپن ہی سے ذہین، محنتی اور سعادت مند تھے۔ تعلیم کے دوران ہمیشہ اپنے ساتھیوں میں نمایاں رہے۔ آپ رحمة اللہ علیہ نے قصبہ دیوبند میں فارسی، عربی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعدمولانا مملوک علی نانوتوی ؒ  کے ہمراہ دہلی تشریف لے گئے اور محدث حضرت مولانا شاہ عبدالغنی مجددی الحنفی ؒ سے حدیث شریف کا دورہ پڑھا۔

تعلیم سے فراغت کے بعد آپ رحمة اللہ علیہ نےمولانا احمد علی سہارنپوری الحنفی رحمة اللہ علیہ کے کتب خانے ’’مطبع احمدی‘‘ میں کتابت کا کام شروع کردیا۔ ساتھ ساتھ درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ، مولانا حکیم محمد صادق مرادآبادیؒ اور مولانا فیض الحسن گنگوہیؒ وغیرہ رحمہم اللہ کو آپ نے زمانہ کتابت میں حدیث کی اکثر کتابیں پڑھائیں۔ اسی زمانہ میں مولانا احمد علی سہارنپوریؒ نے بخاری شریف پر حاشیہ لکھنے کا کام شروع کیا تھا، چو بیس پاروں کا حاشیہ تو حضرت سہارنپوری رحمة اللہ علیہ نے مکمل کیا تھا، آخر کے چھ پارے رہ گئے تھے، وہ انہوں نے حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے ذمے لگادئے، مولانا رحمة اللہ علیہ نے ان کو لکھا اور قابل رشک لکھا۔ اس دوران آپ رحمة اللہ علیہ نے شیخ المشائخ، مجاہد کبیر حضرت مولانا حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ کے دستِ حق پرست پر بیعت کرکے تصوف کی راہ اختیار کی۔ ظاہری علوم کے علاوہ باطنی علوم و معارف میں وہ مقام حاصل کرلیا جو ان کے زمانے میں واہب حقیقی نے ان کے لئے مخصوص کر رکھا تھا۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ علمی قابلیت اور تقویٰ میں بے مثل و بے نظیر تھے، آپ رحمة اللہ علیہ کے مرشد حضرت حاجی صاحب ؒ نے آپ کے بارے میں فرمایا تھا: ’’ایسے لوگ کبھی پہلے زمانے میں ہوا کرتے تھے، اب مدتوں سے نہیں ہوتے۔‘‘ ایک موقع پر حضرت حاجی امداداللہ صاحب رحمة اللہ علیہ نے یہ بھی فرمایا: ’’اللہ اپنے بعض بندوں کو ایک لسان عطا فرماتے ہیں، چنانچہ حضرت شمس تبریز رحمة اللہ علیہ کے واسطے مولانا روم رحمة اللہ علیہ کو لسان بنایا تھا اور مجھ کو مولانا محمد قاسم رحمة اللہ علیہ عطا ہوئے جو میرے قلب میں آتا ہے بیان کردیتے ہیں۔‘‘ ایک مرید کے لئے مرشد کا یہ خراج تحسین بہت بڑی سعادت کی بات ہے۔

مولانا قاسم نانوتوی رحمة اللہ علیہ کی سب سے بڑی کامیابی اور زندگی کا روشن ترین پہلو تحریکِ قیامِ مدارس ہے۔ اس تحریک نے ہندوستان کے طول وعرض میں دینی علوم کے حوالے سے بیداری کی ایک زبردست لہر برپا کردی جس کے نتیجہ میں سیکڑوں مدارس کا قیام عمل میں آیا اور گویا دینی علوم کی نشأۃ ثانیہ کی داغ بیل پڑ گئی۔ مرادآباد، دیوبند اور رامپور کے مدارس اسی تحریک کا نتیجہ تھے

حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒکی شخصیت ہندستان میں خاص طور پر دینی مدارس میں محتاجِ  تعارف نہیں ہے،آپ رحمة اللہ علیہ نے انگریز عہد حکومت میں اسلام اور مسلمانوں کی کثیرجہات خدمات انجام دی ہیں،ملک و قوم کے لیے آپ رحمة اللہ علیہ کی جدوجہد آبِ زر سے لکھے جانے کے لائق ہے ،آپ رحمة اللہ علیہ تقوی و طہارت میں آفتاب تاباں اور سادگی و وضع داری میں ماہ درخشاں تھے، آپ رحمة اللہ علیہ ایک انقلابی ہستی ہیں جنہوں نے ہندوستان میں دینی تعلیم کا ایک نیا، انوکھا ،پائدار ، مفید اور غیر معمولی مؤثر نظام تعلیم رائج کیا۔

            مولانا نانوتوی ؒرحمة اللہ علیہ کا نظریۂ تعلیم  یہ تھا کہ عصری تعلیم کے لیے حکومت ادارے قائم کررہی ہے، اس کی سرپرستی کررہی ہے اور دینی تعلیم جس کے ذریعہ مسلمانوں کے ایمان وعقیدہ ، تہذیب و تمدن اور اسلامی تشخص کی حفاظت ہوگی ،اس کو ختم کرنے اور انگریزی کلچر کے فروغ کی مکمل سعی و کوشش ہورہی ہے ایسے حالات میں دینی مدارس کا قائم کرنا بہت ضروری ہے ،اور اسے حکومتی امداد سے آزاد رکھنا بھی ضروری ہے؛ تاکہ آئندہ اس پر کسی قسم کا کوئی خطرہ درپیش نہ ہو ’’اصول ہشت گانہ‘‘ میں حضرت نانوتویؒ نے اس کی صراحت کی کہ دارالعلوم کو سرکاری امداد سے محفوظ رکھا جائے ۔

            مولانا نانوتوی رحمة اللہ علیہ کا بنیادی نقطۂ نظر یہ تھا کہ دینی تعلیم کے فروغ پر خاص توجہ دی جائے اور اسے عوامی چندہ پر قائم کیا جائے؛ تاکہ عوام اور علماء کے درمیان رابطہ کی شکل پیدا ہو اور کسی کی اس نظام پر اجارہ داری نہ ہو ،حکومت کی دخل اندازی سے نظامِ تعلیم کو کوئی نقصان نہ پہنچے ،حضرت نانوتوی رحمة اللہ علیہ نے جو نظام پیش کیا اس کا زیادہ ترحصہ دینی علوم پر مرکوز تھا؛ اس لیے کہ عصری تعلیم حکومت دے رہی تھی، اگر مسلمان بھی عوامی چندوں سے عصری ادارے قائم کرتے تو تحصیل حاصل لازم آتا ، اور عوام کو کہنے کا موقع ملتا کہ جو تعلیم حکومت دے رہی ہے، اسے عوامی چندے سے قائم کرنے کی کیا ضرورت ہے ، پھراس وقت سب سے اہم مسئلہ دینی تعلیم کے تحفظ کا تھا؛ اس لیے بھی اس پر بہت زیادہ زور دیا گیا ۔

حضرت نانوتوی رحمة اللہ علیہ نے طالب علمی کے زمانے میں بہت سے خواب دیکھے تھے جو آنے والے دور میں ان کی خدمات اور رفع درجات کی طرف مشیر اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشریٰ و خوش خبری تھے، چنانچہ مولانا محمد یعقوب نانوتوی ؒ جو مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے ہم وطن، رفیق درس اور ہم زلف بھائی تھے، فرماتے ہیں: ’’ایام طالب علمی میں مولوی محمد قاسم صاحب رحمة اللہ علیہ نے ایک خواب دیکھا کہ "وہ خانہ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہیں اور ان سے ہزاروں نہریں جاری ہیں۔" انہوں نے یہ خواب جناب والد  (حضرت مولانا مملوک علیؒ) صاحب سے ذکر کیا، انہوں نےفرمایا کہ "تم سے علم دین کا فیض بکثرت جاری ہوگا۔‘‘   (سوانح مولانا قاسم، ص: ۹)

آپ کا یہ خواب ازہرِ ہند یعنی  دارالعلوم دیوبند کی شکل میں شرمندۂ تعبیر ہوا اور اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ دار العلوم دیوبند اور اس کی دیگر سینکڑوں شاخوں سے قرآن و حدیث، فقہ اور علم دین کی جو نشر و اشاعت ہوئی اس کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔

 مولانا نانوتوی رحمة اللہ علیہ نے توحید و رسالت، خدا خوفی اور فکر آخرت پیدا کر کے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کو اللہ والا بنا دیا۔ معاشرتی و تمدنی زندگی میں حقوق العباد کا صحیح جذبہ پیدا کیا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے حال کو ماضی سے جوڑ دیا۔ برصغیر پاک و ہند میں قدم جمانے کے بعد فرنگیوں نے مختلف ہتھکنڈوں سے دوسرے مذاہب کو پامال کرنے اور عیسائیت کو پھیلانے کے لئے کوششیں شروع کیں تو اس کی مدافعت اور مزاحمت کے لئے مسلمانوں کی ایک انقلابی جماعت تیار ہوگئی۔ حاجی صاحب رحمة اللہ علیہ کے رفقاء کار میں سے مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حافظ ضامن تھانوی شہیدؒ وغیرہ شامل تھے۔ جہادِ حریت کے کارکن ہونے کی وجہ سے فرنگی حکومت نے حضرت نانوتویؒ کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کردیا۔ احباب کے اصرار پر آپ تین دن تک روپوش رہے۔ تین دن کے پورے ہوتے ہی یک دم باہر نکل آئے اور آزادانہ چلنے پھرنے لگے۔ لوگوں نے پھر روپوش ہونے کے لئے عرض کیا تو فرمایا کہ تین دن سے زیادہ روپوش رہنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ھے ؛ کیوں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غار ثور میں تین دن تک روپوش رہے۔ حضرت نانوتویؒ نے جس طرح دشمنانِ اسلام کے خلاف سیف و سنان سے جہاد کیا، عمر کے آخری دور میں قلم و لسان کے جہاد کا فریضہ بھی اس خوبی کے ساتھ ادا کیا کہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک حجت اور دستاویز چھوڑ گئے۔ اسی جذبہ جہاد نے ہی حضرت کے ذمے احقاق حق کی ذمہ داری لگائی تھی۔ اہل تشیع سے مباحثے کئے، دلائل سے لبریز خطوط لکھے۔ فرقۂ اہل حدیث کو راہ راست پر لانے کے جذبے سے ان کو ہر طرح کی فہمائش کی، بریلوی مکتب فکرکے طبقہ کی اصلاح کے لئے سنت و بدعت کی حقیقت واضح فرمائی۔ اس سلسلے کا ایک واقعہ حکیم الاسلام قاری محمدطیب رحمہ اللہ کی زبانی نقل کرنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ایک مرتبہ حضرت نانوتوی ؒ قاضی پور گاؤں تشریف لے گئے، اتفاق سے دس محرم کا دن تھا۔ روافض نے حضرت کو اپنی مجلس میں آنے کی دعوت دی، حضرت نے فرمایا کہ منظور ہے مگر اس شرط پر جب آپ مجلس میں وعظ کریں گے تو ہمیں بھی کچھ کہنے کی اجازت ہوگی، اس پر وہ آمادہ نہ ہوئے اور وہیں کچھ مذہبی گفتگو کرتے ہوئے حضرت سے مطالبہ کیا کہ اگر آپ بیداری میں ہم کو حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرادیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرمادیں کہ آپ حق پر ہو تو ہم اہل السنۃ و الجماعۃ میں داخل ہوجائیں گے، حضرت نانوتوی نے فرمایا کہ ’’اگر تم اپنی کہی ہوئی بات پر پختہ ہو تو میں بیداری میں زیارت کرانے کے لئے تیار ہوں‘‘ مگر روافض حضرت نانوتوی رحمة اللہ علیہ کے اس چیلنج کو قبول نہ کرسکے اور اپنے مطالبہ سے رجوع کرلیا۔ اس قسم کے واقعات ہر مرحلہ پر ملیں گے جویقیناً اس حدیث مبارکہ  کا مصداق ہیں:

إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ.

 (الصحيح للبخاري، رقم الحدیث: 2703)

کہ کچھ اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم کھائیں تو اللہ ان کی قسم پوری کر ہی دیتا ہے۔

اسلام کے اس جرنیل نے دیگر فتنوں کے تعاقب کےساتھ ساتھ عیسائیت اور آریہ دھرم کے خلاف بھی مناظرانہ جہاد کیا۔ ۱۸۷۸ء میں شاہ جہاں پور میں عیسائی پادری اسکاٹ اورنولس کے ساتھ دلائل نقلیہ و عقلیہ میں ایسی صحیح اور قطعی دلیلیں پیش کیں کہ ان پادریوں کو بھی تحریف و منسوخیتِ انجیل کا قائل ہونا پڑا۔ اس موقع پر ہندو رہنما ’’منشی پیارے لال‘‘ نے کہا کہ مولوی قاسم کے کیا کہنے؟ ان کے دل پر علم کی سرسوتی (دیوی) بول رہی تھی۔"

قلم و قرطاس کی نعمت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت نانوتوی  رحمة اللہ علیہ کو انتہا درجے کے عشق رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے بھی نوازا تھا، چنانچہ مولانا سید مناظر احسن گیلانی رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ حضرت نانوتوی رحمة اللہ علیہ جب حج کے لئے تشریف لے گئے تو مدینہ طیبہ سے کئی میل دور ہی برہنہ پا چلتے رہے، آپ رحمة اللہ علیہ کے دل اور ضمیر نے اجازت نہ دی کہ دیار حبیب میں جوتا پہن کر چلے حالاں کہ وہاں سنگریزوں اور نوکیلے پتھروں کی بھر مار تھی۔ (سوانح قاسمی، ج: ۳)

درس و تدریس اور تبلیغ و ارشاد کے علاوہ آپ رحمة اللہ علیہ نے متعدد کتابیں بھی تحریر فرمائی ہیں۔ حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی ؒ آپ رحمة اللہ علیہ کی لکھی گئی کتابوں کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ اگر ان کتابوں کا ترجمہ عربی زبان میں کیا جائے اور نام نہ لکھا جائے تو یہی کہا جائے گا کہ یہ کتابیں امام رازی ؒ يا امام غزالیؒ کی لکھی ہوئی ہیں۔ (قصص الأکابر، ص: ۱۵٤)

آپ کی مشہور تصانیف یہ ہیں:

📖 تقریر دلپذیر (اسلام کے اصول پرجامع مانع تقریر)

📖 تحذیر الناس (زمینوں کے سات ہونے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے خاتم النبین ہونے پر عجیب بحث)

📖 آب حیات (حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ و سلم پر نفیس بحث)

📖قبلہ نما (جہت کعبہ سے شرک کا ایہام اور اس کا شافی جواب)

📖توثیق الکلام (مسئلہ ترک قراءت خلف الإمام پرمحققانہ بحث)

📖 الدلیل المحکم (اجرت تعلیم کے متعلق فتوی)

📖 انتصار الإسلام (آریوں کے مقابلہ میں اسلامی اصول کی فلاسفی)

📖 ہدیۃ الشیعہ (شیعہ عقائد پر مفصل بحث)

📖 أجوبة  اربعین (تحذیر الناس پر علماء رامپور کے اعتراضات کا جواب وغیرہ)

شہر شاملی اب بھی آباد ہے اور صدیوں سے ہے انیسویں صدی کے نصف یعنی 1857ءمیں مڑکر دیکھیے اس انقلابی عہد میں جب پورا ملک جنگ ِ آزادی کے طوفان کی زد میں تھا- شاملی بھی اس ولولے کی آگ سے نہ بچ سکا، فرنگی فوج کی اندھاد ھند گولہ باری چل رہی تھی اور ہرسو بندوقوں کی فائرنگ ہو رہی تھی اس معرکہ میں ایک محاذ محبانِ وطن کا بھی قائم تھا یہ ایک مختصر سی جماعت دیسی ہتھیاروں اور چند توڑے دار بندوقوں سے توپ خانہ اور برطانیہ کی تربیت یافتہ فورس سے سینہ سپر تھی، ہندوستانی جاں بازوں میں اکثر ادھیڑ عمر افراد شامل تھے مگر ایک پچیس سالہ نوجوان نہایت دلیری اور جوش سے میدان حرب میں مورچے پرڈٹا تھا جس کو آگے چل کر حجة الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمة اللہ علیہ کے نام سے دوامی شہرت وعظمت حاصل ہوئی

 جمادی الاولیٰ ۱۲۹۷ھ مورخہ ۱۵ اپریل ۱۷۷۹ء بروز جمعرات بعد نماز ظہر حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمة اللہ علیہ  دارالعلوم دیوبند اس دارفانی سے دار باقی کی طرف رحلت فرما گئے۔ مولانا رحمة اللہ علیہ کی قبر دار العلوم دیوبند کے شمال میں واقع مقبرہ قاسمی میں موجود ہے۔ اس قبرستان میں کثیر تعداد میں علماء کرام اور مشائخ  کرام مدفون ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی کروڑوں رحمتیں نازل ہوں اس ہستی پر جس نے بادہ عرفان مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تشنہ لبوں کو سیراب کیا۔ 

مثلِ ایوانِ سحَر مرقد فرُوزاں ہو ترا 

نُور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا 

آسماں تیری لحَد پر شبنم افشانی کرے

 سبزۂ نَورُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے


۔

Share: