لیلۃ الجائزۃ (چاند رات ) - بخشش و مغفرت اور انعام کی رات

وَلَا تَكُـوْنُـوْا كَالَّتِىْ نَقَضَتْ غَزْلَـهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا ۖ     (92

اور اس عورت جیسے نہ بنو جو اپنا سوت محنت کے بعد کات کر توڑ ڈالے،     (سورۃ النحل)


لیلة الجائزہ یعنی عید الفطر کی رات (چاند  رات )کی فضیلت بلا شبہ احادیث مبارکہ و اقوال سلف  میں مذکور ہے،اور فقہائےاسلام و محدثینِ ملت نے  اس رات میں عبادت کرنے کو مستحب قرار دیا ہے ، اور اسی پر احناف کا عمل ہے،تاہم اس رات میں کوئی بھی اجتماعی عمل ثابت نہیں ہے لہذا ھمیں صرف انفرادی عبادات میں ھی مشغول ھونا چاھیے۔

اللہ تعالیٰ اس رات میں روزہ داروں کو انعام و اکرام  سے نوازتے ہیں، اس بابرکت رات میں بندوں کی مغفرت کے فیصلے ہوتے ہیں، اس لیے اس رات کو عبادت میں گزارنا چاہیے. تلاوت ، نماز ، دعاء و مناجات میں مشغول رہنا چاہیے۔ اپنی اور اپنے مرحومین کی بخشش مانگنی چاہیے۔ اس لیے اسےکھیل تماشے اور بازاروں میں گھومنے، لغویات اور فضول کاموں میں مشغول رہ کر برباد نہیں کرنا چاہیے۔ یہ کس قدر بیوقوفی اور نادانی کی بات ہے کہ سارا مہینہ تو مزدوری کی جائےاور جب اجرت اور مزدوری لینے کا وقت آئے تو انسان اپنے مالک کی نافرمانیوں میں لگ جائے۔ گناہوں میں مبتلا ہو جائے۔ ظاھر ھے یہ تو درحقیقت اپنی محنت کو ضائع کرنے والی بات ہے۔

یہ ایسی مبارک رات ہے اگر کوئی شخص اس میں اللہ کی عبادت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ فرماتے ہیں۔ چنانچہ حدیثِ مبارکہ ھے ۔

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَامَ لَيْلَتَيِ الْعِيدَيْنِ مُحْتَسِبًا لِلَّهِ لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ۔  سنن ابن ماجہ،

 حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے فرمایا: جو شخص نے دونوں عیدوں (عید الفطر اور عید الا ضحیٰ) کی راتوں میں ثواب کا یقین رکھتے ہوئے عبادت میں مشغول رہا تو اس کا دل اس دن نہ مرے گا جس دن لوگوں کے دل مردہ ہو جائیں گے ۔ 

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ایک طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَاأَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: فَإِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ الْفِطْرِ سُمِّيَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةُلَيْلَةَ الْجَائِزَةِ، فَإِذَا كَانَتْ غَدَاةُ الْفِطْرِ بَعَثَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ فِي كُلِّ بِلَادٍ فَيَهْبِطُونَ الْأَرْضَ، فَيَقُومُونَ عَلَى أَفْوَاهِ السِّكَكِ، فَيُنَادُونَ بِصَوْتٍ يُسْمِعَ مَنْ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ فَيَقُولُونَ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ اخْرُجُوا إِلَى رَبِّكُمْ رَبٍّ كَرِيمٍ يُعْطِي الْجَزِيلَ وَيَعْفُو عَنِ الذَّنْبِ الْعَظِيمِ فَإِذَا بَرَزُوا إِلَى مُصَلَّاهُمْ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ لِلْمَلَائِكَةِ مَا جَزَاءُ الْأَجِيرِ إِذَا عَمِلَ عَمَلَهُ؟ قَالَ فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ إِلَهَنَا وَسَيِّدَنَا جَزَاؤُهُ أَنْ تُوَفِّيَهُ أَجْرَهُ قَالَ فَيَقُولُ فَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ يَا مَلَائِكَتِي أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ ثَوَابَهُمْ مِنْ صِيَامِهِمْ شَهْرَ رَمَضَانَ وَقِيَامِهِمْ رِضَايَ وَمَغْفِرَتِي وَ يَقُولُ: عِبَادِي سَلُونِي فَوَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا فِي جَمْعِكُمْ لِآخِرَتِكُمْ إِلَّا أَعْطَيْتُكُمْ وَلَا لِدُنْيَاكُمْ إِلَّا نَظَرْتُ لَكُمْ وَعِزَّتِي لَأَسْتُرَنَّ عَلَيْكُمْ عَثَرَاتِكُمْ مَا رَاقَبْتُمُونِي وَعِزَّتِي لَاأُخْزِيكُمْ وَلَا أَفْضَحُكُمْ بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِ الْأُخْدُودِ انْصَرَفُوا مَغْفُورًا لَكُمْ قَدْ رَاضَيْتُمُونِي وَرَضِيتُ عَنْكُمْ فَتَفْرَحُ الْمَلَائِكَةُ وَتَسَتَبْشِرُ بِمَا أَعْطَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ إِذَا أَفْطَرُوا مِنْ رَمَضَانَ۔

فضائل الاوقات للبیہقی، حدیث نمبر109

 جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے جس کا نام لیلۃ الجائزہ (انعام کی رات) لیا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں یہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں، راستوں کے کناروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے پکارتے ہیں جس کو جنات اور انسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے اے محمد  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی امت اپنے پروردگار کی طرف اپنے رب کریم کی بارگاہ کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف فرمانے والا ہے۔

پھر جب لوگ عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں: اس مزدور کا کیا بدلہ ہے جو اپنا کام پورا کرچکا ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں ہمارے معبود اور ہمارے مالک اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے۔

تو اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ اے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں میں نے ان کو رمضان المبارک کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطا کردی ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے خطاب فرماتے ہیں کہ اے میرے بندو! مجھ سے مانگو،  میری عزت کی قسم! میرے جلال کی قسم! آج کے دن اپنے اس اجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے عطا کروں گا۔ دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا۔ میری عزت کی قسم! جب تک تم میرا خیال رکھو گے میں تمہاری لغزشوں کو چھپاتا رہوں گا۔ میری عزت کی قسم اور میرے جلال کی قسم! میں تمہیں مجرموں کے سامنے رسوا نہیں کروں گا۔ بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ۔ تم نے مجھے راضی کرلیا اور میں تم سے راضی ہوگیا۔ اس امت کو جو عید کے دن اجرو ثواب ملتا ہے اسے دیکھ کر فرشتے خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی رحمتِ خاصہ اس رات میں  ہماری طرف متوجہ ہوتی ہے اوربدقسمتی سے  ہم لوگ ایسے کاموں کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں جو اللہ کو ناراض کرنے والے ہیں۔ اس موقعہ پر ایک  دردمندانہ گزارش ان نوجوان بھائیوں سے ھے جو اس رات میں شیطان کا پوری محنت سے استقبال کرتے ہیں، اپنے کریم رب کو ناراض کر کے گناہوں میں خود کو مبتلا کر لیتے ہیں۔ موسیقی،   ناچ گانا، اچھل کود، فضول خرچی، نظربازی وغیرہ سے لطف اُٹھاتے ھیں ۔ اللہ معاف فرمائےبعض تو  شراب نوشی اور زنا تک کے بڑے بڑے گناہ اس رات میں کر ڈالتے ہیں۔

 کتنے ہی ایسے نوجوان بھی  ہوتے ہیں جو رمضان المبارک کا پورا مہینہ پورے ذوق و شوق سے صیام و قیام میں گزارتے ھیں  اور آخری عشرہ میں اعتکاف جیسی عظیم عبادت میں بھی مصروف ہوتے ہیں لیکن اعتکاف مکمل کرکے مسجد سے باہر نکلتے ہیں تو عید کی تیاری کے عنوان سے سب سے پہلے اپنی داڑھی کو اس طرح  منڈوا  ڈالتے ہیں جیسے داڑھی کے ساتھ اُن کی عید  ھو ھی نہیں  سکتی ۔ ان بھولے بادشاھوں کو شاید یہ معلوم ھی نہیں  ھے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں اس عمل سے شدید نفرت کا اظھارکیا ھے تو سوچنا چاھیے کہ جس عمل سے رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  ناراض ھوتےھیں اُس عمل سے اللہ تعالی کیسے راضی  ھوں گے؟۔ اسی طرح ھماری بعض بہنوں اور بیٹیوں  کا حال بھی ھے کہ وہ یہ رات  بجائے عبادات کے عید کی تیاری کے عنوان سے نعوذباللہ ارادی یا غیر ارادی طور پر  شیطان لعین  کو خوش کرنے میں گزار دیتی ھیں ۔ 

خدا کے لیے ذرا غور کریں کہ سارا رمضان  المبارک کا مہینہ عبادات میں مصروف رہ کر تم نے جتنی نیکیاں کمائی ہیں ، اب تو ان کی اجرت لینے کا وقت ہے۔ لہذا بازاروں میں جا کر چوڑیاں چڑھانے، مہندی لگوانے، بیوٹی پارلر پر فیشن کے نام پر ناجائز اور حرام کاموں سے قطعی اجتناب پرتیں اور  اس رات میں بازاروں کی رونق بننے سے خود کو بچائیں۔

اس رات میں عورتیں اپنے اپنے گھروں میں رہیں، والدین، بہن بھائی اور بیوی بچوں سے اچھی اچھی باتیں کریں، کسی غریب، بے آسرا، یتیم، مسکین اور لاوارث بچوں کے بارے میں صدقہ و خیرات کا اہتمام کریں۔ گھر میں رہ کر خوب عید کی جائز تیاری کریں۔ اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے اچھے اچھے  کھانے بنائیں۔ اپنے گھر والوں کی پسندیدہ ڈشیں تیار کریں اور اللہ تعالی کا شکر ادا کریں جس نے خوشی کے یہ لمحات نصیب فرمائے۔ فوت شدگان کو فراموش نہ کریں ۔اُنہیں نیک کام کرکے  ایصال ثواب کریں، ان کا تذکرہ خیر کے ساتھ کریں ۔ اُ ن کے آچھے کاموں کو یاد کریں  اور ان کے لیے دعائے مغفرت  کریں۔

لیلۃ الجائزہ اللہ رب العزت کے خصوصی فضل و کرم کی بڑی عظمت و فضیلت والی رات ہے، جو اللہ تعالیٰ کے طرف سے امت محمدیہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کو ایک خصوصی تحفہ ہے جس کی اس کے بندوں/مسلمانوں کو بے حد قدر کرنی چاہیے اور اس مبارک شب کے قیمتی اور بابرکت لمحات کو خرافات میں ضائع کرنے کے بجائے توبہ و مناجات، اللہ کے ذکر و اذکار، تلاوت ، نوافل اور دعاؤں میں بسر کیا جانا چاھیے ۔

دیکھا گیا ھے کہ عموماً لوگ اس رات میں شب بیداری تو کرتے ھیں لیکن عبادات کا کوئی اہتمام نہیں کرتے، بلکہ اس رات کو عبادت کی رات نہیں سمجھتے لہذا اس رات کو سیرو تفریح، ہوٹلوں میں کھانے پینے، گانے سننے اور بازاروں میں خریداری کی نذر کردیتے ہیں، جو بہت بڑی محرومی کی علامت ہے۔  بعض تاجر حضرات اس رات میں اپنے کاروبار میں اس قدر مشغول رہتے ہیں کہ اگلے دن عید کی نماز بھی ادا نہیں کر پاتے یعنی اُن کی نماز عید تک نکل جاتی ہے، لہٰذا پوری کوشش کریں کہ یہ مبارک رات کسی قیمت پر بھی  خرافات کی نظر ہوکر ضائع نہ ہونے پائے۔

ہم نے مہینے بھر، رب کریم کے ساتھ جو تعلق استوار کرنے کی سعی کی،اسے اللہ تعالیٰ سے معافی، بخشش، مغفرت اور جہنم سے آزادی کے پروانے حاصل کرنے میں صرف کرنا چاھیے ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مہینے بھر کی ہماری محنت اور جدوجہد جوکہ ہم نے اپنے رب سے اپنے ٹوٹے ہوئے رشتے کو استوار کرنے میں صرف کی اور اب جب کہ ہمارا رب ہم سے راضی ہورہا ہے،اپنے مومن بندوں اور بندیوں پر انعامات کی برکھا برسانے والا ہے، ہمارے کسی معمولی نافرمانی والے عمل سے خدانخواستہ ضائع نہ ہوجائے، لہٰذا اس مبارک رات  کو اللہ تعالیٰ سے عافیت و سلامتی ، مغفرت اور حمت طلب کرتے ہوئے خوب یادِ الٰہی میں گزارنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں پوری طرح عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

Share: