مشورہ کی اھمیت اور افادیت

وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ () ...
اور آپ (صحابه) ســے اهم كام ميں مشوره ليا كريں سوجب فيصله كرليں تو الله پر توكل كريں بے شك الله تعالى توكل كرنــے والوں كو محبوب ركهتا هــے(العمران)
انسانی زندگی ميں مشوره كي بهت زياده إهميت هـے بہت سے اُمور ایسے ھوتے ھیں جن میں انسان مشورہ کی ضرورت محسوس کرتا ھے۔ يه جاننا بهت ضرورى هــے کہ مشوره كيا هـــے؟ اور إس کا طريقه کار كيا هــے؟
سب ســے پہلے تو مشوره كــے متعلق يه جان لينا ضرورى هــے كه يه حكمِ ربى هــے۔ قرآن مجيد ميں ارشاد هــے

وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ () اور جنهوں نــے اپنـے رب كا حكم مانا اور نماز كو قائم كيا اور ان كــے كام باهمى مشوره سـے هوتــے هيں اور وه اس ســے جو هم نــے رزق ديا هــے خرچ كرتــے هيں(شوری)

 مشوره كــے متعلق رسول كريم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كـے چند ارشادات مندرجه زيل هيں:-
مشوره ليا كريں كيونكه مشوره لينــے والــے كى(منجانب الله) مدد كى جاتي هــے اور جس ســے مشوره ليا جائــے وه آمين هــے
انفرادى رائــے ســے كوئى كامياب نهيں هوا اور مشوره كــے بعد كوئى ناكام نهيں هوا
 رسول كريم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كا( باوجود اس كــے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  صاحب وحى تهــے) يه معمول رها هــے كه تمام اهم كاموں ميں صحابه كرام رضوان الله عليهم سـے مشوره ليا كرتــے تهــے اور پهر خلفاء راشدين رضوان الله عليهم بهى اسى پر عمل كرتــے رهــے اورپهر امت كــے اكابرين كا بهي يهى معمول چلا آرها هـــے۔
مشوره دو قسم كا هوتا هــے إيك إجتمائى أمور كے لئــے حيســے كسي مسجد ، مدرسه كا مشوره يا کسی رفاھی تنظیم یا دینی جماعت كا مشوره هــے اور دوسرا إنفرادى أمور كا مشوره ۔ چونكه هميں نجي زندگي ميں إنفرادي مشوره كي بهي أكثر ضرورت پڑتي رهتي هے إس لئے اس کے متعلق بھی جاننا بہت ضروری ھے ۔
إنفرادى مشوره إنفرادى مشوره وه هــے جس كا تعلق كسى شخص كے ذاتي أمور ســے هو مثلاً كوئى تجارت يا خريد و فروخت كرنا - بچــے يا بچي كا رشته طــے كرنا اور كسى سفر پر جانا وغيره - إنفرادى مشوره ايسـے شخص ســے كرنا چاهيــے جو صالح اور ديندار هو اور جس كام كے لئــے مشوره كيا جانا هــے اسكى معلومات بھی ركهتا هو ۔ بے دين اور خود غرض شخص ســے مشوره نهيں كرنا چاهيــے كيونكه ايك تو بـے دين شخص كى عقل ميں ظلمت هوتي هــے دوسرا وه جان بوجهـ كر غلط مشوره دے گا جس ســے اور خلجان پيدا هونــے كا خدشه هــے۔ (مثلاً آپ كوئى تجارت كرنا چاهتــے هيں اســے معلوم هـے كه إس ميں فائده هــے وه آپ كو خوفزده كركــے اس ســے دور كردے گا اور پهر موقعه پا كر خود فائده اٹهانــے كي كوشش كرے گا ۔ إسي طرح آپ اپنــے بيٹــے يا بيٹى كا كهيں رشته طــے كرنا چاهتــے هيں وه دوسرے فريق ســے آپكو بدظن كرے گا ان لوگوں كى برائياں خود سے گهڑ گهڑ كر آپكو بتائــے گا - اسی طرح جس كــے بارے ميں يه معلوم هو كه يه جهوٹ بولنــے كا عادى هــے اس ســے بهي مشوره نه كيا جائــے كيونكه وه جانتـے هوئــے بهى اپكو صحيح بات نهيں بتائــے گا.- ازروئے شريعت طالبِ مشورہ کا تمام عزيزوں سـے مشوره كرنا بهي ضرورى نهيں ھے ۔ جس ســے وہ مناسب سمجهــے مشوره كرلــے اور جس ســے مناسب نه سمجهــے مشوره نه كرے ۔ بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ جس شخص میں یہ پانچ خصلتیں اور عادتیں ہوں اُس سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ایک یہ کہ مشورہ دینے والا کامل عقل مند اور متعلقہ معاملے میں تجربہ رکھتا ہو۔
دوسرے یہ کہ مشورہ دینے والا شخص متقی اور پرہیز گار ہو۔
تیسرے یہ کہ مشورہ دینے والا مشورہ لینے والے کا ہم درد اور خیر خواہ ہو۔
چوتھے یہ کہ مشورہ دیتے وقت مشورہ دینے والا رنج و غم اور ذہنی اُلجھن کا شکار نہ ہو اس لیے کہ ایسی صورت میں اُس کی رائے میں درُستگی اور سلامتی باقی نہیں رہتی۔
پانچویں یہ کہ کوئی ایسا معاملہ نہ ہو کہ جس میں مشورہ دینے والے کی اپنی ذاتی غرض اور نفسانی خواہش شامل ہو۔
رسول اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے حضرت علي رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  سے فرمایا: اے علی (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ)  ڈرپوک سے مشورہ نہ کرو، کیونکہ وہ مشکلات سے نکلنے کا راستہ تمہارے لیے تنگ کر دے گا، اور کنجوس سے مشورہ نہ کرو، کیونکہ وہ آپ کو سخاوت کرنے اور آپ کے ہدف سے دور کر دے گا، اور لالچی سے مشورہ نہ کرو کیونکہ وہ لالچ کو تمہارے لیے خوبصورت بنا دے گا۔
مشوره لينــے والــے كي ذمه دارى اور حقوق
مشوره لينــے والــے كى يه ذمه دارى هــے كه مشوره كيلئــے صالح - ديندار اور سمجهدار شخص كا إنتخاب كرے جس سـے مشوره كرے اس كــے سامنـے بات إس طرح ركهــے كه اسكو معامله سمجهـ ميں آجائــے تاكه اســے مشوره دينــے ميں آسانى هو جب وه مشوره دے تو اسكي بات كو غور ســے سنــے اگر اس کا مشوره پسند آجائــے تو اسكو بتا دے اگرنه بهي پسند هو تو اسكا إحسان مند هو كه اس نــے وقت ديا اور اس كا شكريه ادا كردے نيز اگر كوئى شخص مشوره دينــے سے كسي وجه ســے معذرت كرے تو اســے مشوره دينــے پر مجبور نه كرے۔
مشوره لينــے والے كو جس طرح شرعاً يه حق حاصل هــے کہ وه كس ســے مشوره كرے يا كس ســے نه كرے اسی طرح اسے یہ بھی حق حاصل ھے کہ وہ کسی كا مشوره قبول کرے يا رد كرے . شريعت مطهره نــے اس كے لئـے يه لازمى نهيں كيا كه وه جس ســے مشوره كرے اس كا مشوره قبول بهي ضرور هي كرے ۔ كسى شخص كــے مشوره پر عمل كرنا يا نه كرنا يه طالبِ مشوره كا شرعى حق هــے۔
مشوره دينــے والــے كي ذمه دارى اور حقوق
جس ســے مشوره طلب كيا جائــے وه اس كو آمانت سمجهـ كر جو بهترين مشوره اس كــے ذهن ميں هو وه دے دے ۔ بهتر يه هوگا كه ايســے موقعه پر وہ يه خيال كرے كه اگر ميں نــے يه كام كرنا هوتا تو ميرے لئے كيا بهتر هوتا ۔ وهى مشوره اس كے سامنــے ركهــے اگر مشوره قبول هوجائــے تو الله تعالى ســے اس كى بهلائى كے لئــے دعا كرے اور اگر قبول نه هو تو كسى قسم كي كوئى بهي ناراضگى كا أظهار نه كرے
جس ســے كوئى شخص مشوره طلب كرے تو اس كو مشوره دينــے ســے حتى الإمكان إنكار نهيں كرنا چاهيــے ۔ تاهم اگر كسى وجه ســے ايسا كرنا اس كــے لئــے ممكن نه هو تو نرمى اور عاجزى كے ساتهـ معذرت كرلـــے- مشوره لينا اور دينا چونكه حكمِ خداوندى اور سنت رسول كريم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  هــے لهذا جس ســے مشوره طلب كيا جائــے وه غرور اور تكبر نه كرے كه ميں كتنا دانا هوں كه مجهـ ســے مشوره ليا جارها هــے اور نه هي وه مشوره لينـے والــے كو حقير سمجهــے نه هي اس پر حكم چلانــے كي كوشش كرے كه يه آپ نــے مجهـے پہلے نهيں بتايا لهذا اب ميں مشوره نهيں دوں گا يا يه كه چونكه آپ نــے مجهــے إعتماد ميں نهيں ليا اس لئــے ميں اب يه كام بالكل نهيں هونے دوں گا وغيره وغيره - يه درأصل نمرودي اور فرعونى الفاظ هيں جو عندالله قطعاً پسنديده نهيں هيں ۔ اگر كسي نــے اس طرح كــے نمرودي وفرعونى الفاظ كهــے هوں تو وه شخص عندالله مجرم هے ۔ چونكه اس كے يه الفاظ صاف ظاهر كررهے هيں كه وه واقعتاً متكبر هے ۔ جبكه كبر صرف اور صرف الله تعالى كي صفت هے ۔ كسي اور كو يه نه تو زيب ديتى هے نه هي اس كا يه حق هے ۔ جن لوگوں كو جنت سے محرومي كي وعيد سنائى گئي هے ان ميں إيك متكبر شخص بهي هے . جو شخص إس گناه كا مرتكب هوا هے تو سب ســے پهلــے تو اس نـے الله اور اس كـے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كـے حكم كى خلاف ورزى كى هـے لهذا الله تعالى كے سامنے ندامت كا أظهار كرے۔ دل سے بهي اور زبان سے بهي اور پهر الله تعالى سـے رو رو كر توبه النصوح كرے اور دوسرا چونكه اس نے مشوره طلب كرنــے والــے كى بهي حق تلفى كى هــے لهذا اس ســے بهي واضح طور پرمعافى كا خواستگار هو. اگر يه الفاظ تنهائى ميں كهــے هوں تو تنهائى ميں معافي مانگــے اگر مجلس ميں كهــے هوں تو بهتر هے كه مجلس ميں معافى مانگــے ۔ اگر ايسا نه كيا تو يه شخص كل قيامت والـے دن عندالله جوابده هوگا
بهرحال مشوره قبول كرنــے پر اصرار كرنا اور قبول نه كرنے كي صورت ميں ناراض هونا سخت غلطى هــے ۔ مشوره دينــے كى حقيقت هي صرف إتنى هــے كه اپنى رائے ظاهر كردى جائے اور بس كوئى قبول كرے يا نه كرے بهرصورت ناگوارى نهيں هونى چاهيـے۔

إجتماعي مشوره 
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ اجتماعی مشورہ سے مراد مسجد ، مدرسہ یا کسی جماعت اور تنظیم وغیرہ کا مشورہ ھے اسی طرح تبلیغی جماعت میں بھی مشورے کی بہت اھمیت ھوتی ھے ۔ تمام اُمور مشورے سے ھی طے ھوتے ھیں۔ یہاں تک جب جماعتیں خروج کرتی ھیں تو تمام قیام کے دوران روزانہ مشورہ کیا جاتا ھے ۔ جب جماعت مسجد ميں پہنچ جاتي هــے اور ساتهي وضو اور تحية المسجد وغيره ســے فارغ هوكر جمع هو جاتــے هيں تو مشوره كا عمل شروع هو جاتا هــے اور پهر يه عمل پابندي كے ساتهـ هر روز كيا جاتا هــے۔ تمام دن كا اور اگلــے دن كي فجر تك كا مشوره كر ليا جاتا هــے جس ميں تمام اُمور كے لئــے ساتهي طــے هوجاتـــے هيں ۔ درميان ميں جو اور تقاضــے آتــے هيں ان كــے لئــے آمير صاحب طــے كرديتــے هيں۔ مشوره سنت كــے مطابق اور مكمل آداب كی ساتھ كيا جاتا هـــے ساتهيوں كو فكرمند كرنــے كے لئــے ايك ساتهي مشوره كے فضائل اور آداب مختصراً بيان كرتا هــے۔ اسی طرح مساجد اور مدارس وغیرہ کے مشورے ھوتے ھیں۔

مشورہ كا مقصد
مشوره الله تعالى سے خير طلب كرنے كا ايك ذريعه هے ۔ گويا مشوره كركے الله تعالى سے خير طلب كي جاتي هے ۔ مشوره كا ايك مقصد امت ميں جوڑ پيدا كرنا بهي هے لهذا مشوره امت ميں جوڑ پيدا كرنے كا بهي ايك ذريعہ هے ۔ آمير كي اطاعت كا جذبه پيدا كرنا بهي مشوره كا ايك مقصد هے كيونكه جب آمير صاحب اپني رائے كے خلاف كچهـ طے فرماتے هيں تو اسے ماننا هوتا هے اس طرح آمير كي آطاعت كي عادت بن جاتي هے اور يه عادت اگے چل كر الله تعالى اور رسول الله صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كي آطاعت كا پيش خيمه ثابت هوتي هے ۔ کسی معاملہ میں مشورہ سے ايك مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس معاملہ کے تمام تر پہلو سامنے آجائیں۔ پھر ان جملہ پہلوؤں کو سامنے رکھ کر یہ معلوم کیا جائے کہ کونسا پہلو اقرب الی الحق ہے۔ اور کتاب و سنت سے زیادہ مطابقت رکھا ہے ۔ گویا مجلس مشاورت منعقد کرنے کی غرض وغایت یہ ہے کہ کونسا اقدام اللہ کی مرضی و منشا کے مطابق ہو سکتا ہے۔
اجتماعی مشورہ كے آصول و آداب مشوره چونكه إيك سنت عمل هــے إس لئـے اســے مكمل آداب كي رعايت ركهتــے هوئــے كرنا چاهيــے ۔ إن آداب ميں ســے كچهـ مندرجه زيل هيں
1-مشوره كے لئــے ايك آمير هونا لازمى هــے اس لئــے اگر آمير صاحب موجود نه هوں تو موجود ساتھیوں میں سے كوئى آمير طــے كيا جائــے. آمير صاحب اور تمام ساتهي الله تعالى كى جانب دهيان كركــے بيٹهيں- ذهن مكمل طور پر حاضر هو. جن أمور پر مشوره هو رها هو آمير صاحب اور ساتهي اس ســے پورى طرح باخبر هوں
2-آمير صاحب كو چونكه آمير مقرر كيا گيا هــے إس لئــے وه الله تعالى ســے ڈريں اور تكبر وغيره ســے مكمل بچيں ۔ وه يه نه سمجهيں كه شايد ميں هي ذياده قابل تها اس لئــے مجهـے آمير مقرر كيا گيا بلكه يوں سمجهيں كه ميں اس ذمه دارى كــے قابل نهيں تها ليكن يا الله تيرے بندوں نــے مجهـ ناتوان كو يه ذمه دارى دے دى هــے اس لئــے يالله ميرى مدد فرما اور إس عظيم ذمه داري سے عهده برأه هونے كي توفيق عطا فرما - آمين
3-آمير صاحب الله تعالى كى طرف متوجه هو كر مطلوبه أمور پر ساتهيوں ســے مشوره ليں اور پهر جو بات آمیر صاحب کے دل ميں آئــے وه طــے كرديں كيونكه آمير صاحب كــے دل ميں جو بات آئے گى وه الله تعالى كي طرف ســے هوگي اور إن شاء الله اسي ميں خيرهوگي۔
4-يه آمير صاحب كي صوابديد پر هــے كه وه تمام ساتهيوں ســے مشوره ليں يا كچهـ ســے مشوره ليں اور كچهـ ســے نه ليں يا كسى ســے بهي مشوره ليــے بغير كسى بات كو طــے كرديں تو إن شاء الله إسي ميں خير هوگى( ليكن إيسا كسي مجبوري كے بغير نهيں كرنا چاهيے) اورجو بهي طے هوگیا اب يه متفقه أمر تصور كيا جائے گا ۔ إس مشوره ميں اكثريت اور اقليت كي بهي كوئى گنجائش نهيں ۔ بس جو بات آمير صاحب كى طرف ســے طــے هوگئى هے وهى قابل قبول هوگى ۔ چاهــے اكثريت كى رائــے اس كــے خلاف هي كيوں نه هو۔
5- تمام ساتهى مشوره ميں پورے دهيان كے ساتهـ بيٹهيں – ماننــے كى نيت ســے بيٹهيں ۔ اپنی بات منوانــے كى نيت بالكل نه هو – جس ساتهي سـے مشوره طلب كيا جائــے صرف وهي مشوره پيش كرے دوسرے ساتهــي بالكل خاموش ســـے سنيں – جس ساتهي ســے مشوره طلب كيا جائــے اس كــے ذهن ميں جو بهترين بات آرهى هو اســے آمانت سمجهـ كر پيش كردے يه نه سوچــے كه اگر ميں نــے يه رائــے دے دي تو كهيں يه ذمه دارى مجهـ پر ھی نه ڈال دى جائــے۔
6- مشوره كے دوران كسى أمر پر مختلف رائــے كا آنا إيك قدرتي أمر هــے ليكن مشوره ميں جو بهي بات آمير صاحب كي جانب سے طــے هو جائے اب هر ساتهي اســے اپنى هي رائــے سمجهـے اور اس پر دل و جان ســے عمل كرے۔ گو طـے شده أمر اس كى رائــے كـے خلاف هي كيوں نه هو – مشوره سے پهلــے كوئى مشوره نه هو اور مشوره كــے بعد اس پر كوئى تبصره نه كيا جائــے بلكه جو كچهـ طــے هوچكا وه اب وہ تمام ساتھیوں كا مشوره تصورهوگا اور آمير صاحب سميت هر ساتهي إس كا پابند هوگا۔
7۔ جس طرح دین امانت ہے اسی طرح مشورہ بھی امانت ہے ۔ جس طرح دین کا اہم رکن نماز ہے اسی طرح دعوتِ دین  کا اہم رکن مشورہ ہے۔ جس کی نماز نہیں اس کا دین نہیں ۔ اسی طرح جس کا مشورہ نہیں اس کی دعوت نہیں۔
8 ۔ کام کی کمزوری مشورے کی کمزوری ہے کام اس لیے کمزور ہوگا کہ مشورہ کمزور ہوگا۔
مشورے کا مقصد تقاضے کو پورا کرنا نہیں ہے، بلکہ مشورے کا مقصد ساتھیوں کو لے کر چلنا ہے تقاضے وہ پورا کرے گا جو ساتھی قربانی دے گا۔ جس مشورے سے تقاضے پورے نہیں ہوئے وہ مشورہ کمزور نہیں، بلکہ جس مشورے سے ساتھی کٹ گیا وہ مشورہ کمزور ہے۔
 کام کرنے کا ساتهي جو تیار ہوتا ہے وہ مشورے سے تیار ہوتا ہے، اور جو ساتھی کٹتا ہے وہ مشورے سے کٹتا ہے۔

9۔ مشورے کے بعد مشورہ کرنا یہ بھی مشورے کی کمزوری ہے۔ جس کے اندر مشورے کے اہمیت نہیں ہوگی، اس مشورے سے طے ہونے والی امور کی بھی اہمیت نہیں ہو گی۔
10۔ مشورے میں فیصلہ رائے کی کثرت پر نہیں ہوگا، رائے کی کثرت اختلاف نہیں ہے، بلکہ رائے کی کثرت اور رائے کو نکھارتا ہے۔
11- جس ساتهي سے رائے طلب كي جائے صرف وهي رائے دے جو ساتهـي رائــے دے وه صرف اپنى رائــے پيش كرے دوسرے ساتهيوں كى بات كو بالكل نه كاٹـے بلكه يوں كهــے كه بهائيوں نــے بهت اچهى رائــے دى هيں اور ميرے ذهن ميں يه بات آرهي هـے - ساتهى كى رائــے اگر طــے هوجائــے تو الله تعالى ســے ڈرے كه ميں نــے رائــے پيش كى تهي جو طــے بهي هوگى يالله اس ميں خير كا فيصله فرما دے اور اگر بات طــے نه هو تو ناراض نه هو بلكه خوش هو كه هوسكتا هــے ميرى رائے درست نه هو يه ملال نه كرے كه مجهـے تو كچهـ سمجها هي نهيں گيا اس لئــے ميرى رائے كو كوئى وقعت نهيں دى گى .
مشورے کي اہمیت وفضيلت
قرآن مجيد ميں ارشادِ ربّانی ہے: اور شریک مشورہ رکھو، انہیں ایسے (اہم اور اجتماعی) کاموں میں، پھر جب آپ (کسی معاملے میں) پختہ ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسه کرو ،بے شک اللہ محبت رکھتا (اور پسند فرماتا) ہے ایسے بھروسه کرنے والوں کو‘‘۔(سورۂ آل عمران )
اسی طرح مومنین کے بارے میں ارشاد فرمایا :اور جو اپنے (اہم) معاملات باہمی مشورے سے چلاتے ہیں۔ بلاشبہ مشورہ خیر و برکت، عروج و ترقی اور نزول رحمت کا ذریعہ ہے، اس میں نقصان اور ندامت و شرمندگی کا کوئی پہلو نہیں۔
 رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: کوئی انسان مشورے سے کبھی نا کام اور نامراد نہیں ہوتا اور نہ ہی مشورہ ترک کر کے کبھی کوئی بھلائی حاصل کرسکتا ہے۔ (قرطبی)
ایک موقع پر رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ’’ جس نے استخارہ کیا، وہ نا کام نہیں ہوا اور جس نے مشورہ کیا وہ شرمندہ نہیں ہوا۔‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی)
اسی طرح رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کا یہ بھی ارشاد ہے: مشورہ شرمندگی سے بچاؤ کا قلعہ ہے اور ملامت سے مامون رہنے کا ذریعہ ہے۔‘‘(ادب الدنیا والدّین)
حضرت سعید بن مسیب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے فرمایا: کوئی انسان مشورے کے بعد ہلاک نہیں ہوتا۔‘‘( ابن ابی شیبہ)
حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کا قول ہے: مشورہ عین ہدایت ہے اور جو شخص اپنی رائے سے ہی خوش ہوگیا، وہ خطرات سے دوچار ہوا۔ (المدخل)
خلاصہ یہ کہ مشورہ ایک مہتم بالشان امر ہے، رشدوہدایت اور خیر وصلاح اس سے وابستہ ہے، جب تک مشاورت کا نظام باقی رہے گا، فساد اور ضلالت و گمراہی راہ نہیں پاسکے گی، امن اور سکون کا ماحول رہے گا، یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا: جب تمہارے حکام تم میں سے بہترین افراد ہوں اور تمہارے مال دار سخی ہوں اور تمہارے معاملات آپس میں مشورے سے طے ہوا کریں تو زمین کے اوپر رہنا تمہارے لیے بہتر ہے اور جب تمہارے حکام بدترین افراد ہوں اور تمہارے مال دار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو زمین کے اندر دفن ہوجانا تمہارے زندہ رہنے سے بہتر ہوگا۔“ (روح المعانی)
مشورے کو مسلمانوں کا وصف خاص قرار دیا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ایمان والے وہ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم کو مانا، نماز قائم کی اور ان کے کام باہم مشورے سے ہوتے ہیں اور جو ہم نے (مال انہیں) دیا ہے، اسے خرچ کرتے ہیں۔(سورۂ شوریٰ) اس آیت میں مسلمانوں کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں، ان میں ایک وصف باہمی مشورہ بھی ہے یعنی کسی اہم معاملے کو باہمی رائے کے ذریعے حل کیا جانا کامل اور پختہ ایمان مسلمانوں کی صفت ہے، اطاعت ِ خداوندی اور اقامت ِ صلوٰۃ کے بعد فوری طور پر مشورے کے معاملے کو بیان کرنے سے اس کی غیر معمولی اہمیت کا پته چلتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم اور بالخصوص خلفائے راشدین رضوان الله عليهم نے مشاورت اورباہمی مشورے کو اپنا معمول بنایا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كو بھی مشورے کا حکم دیا، ارشاد فرمایا: اے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ! آپ معاملات اور متفرق امور میں صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم سے مشورہ کیا کیجیے۔ (سورۂ آل عمران) بظاہر رسولِ اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو مشورے کی حاجت نہیں تھی، کیوں کہ آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے لیے وحی کا دروازہ کھلا ہوا تھا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  چاہتے تو وحی کے ذریعے معلوم ہوسکتا تھا کہ کیا اور کس طرح کرنا چاہیے؟ حضرت قتادہؓ، ربیع اوردوسرے بعض مفسرین کا خیال ہے کہ صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم کے اطمینانِ قلب اورانہیں وقار بخشنے کے لیے یہ حکم دیا گیا تھا،اس لیے کہ عرب میں مشورہ اور رائے طلبی باعثِ عزت و افتخار سمجها جاتا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ وحی کے ذریعے اگرچہ بہت سے امور میں آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی رہنمائی کردی جاتی تھی، مگر حکمت اور مصلحتوں کے پیش نظر چند امور کو رسول كريم آ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كي رائے اور صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا، ان ہی مواقع میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کو صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم سے مشورےکا حکم دیا گیا، تا کہ امت میں مشورےکی سنت جاری ہوسکے اور لوگ یہ سمجھیں کہ جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کو مکمل فہم و بصیرت ہونے کے باوجود مشورے کا حکم دیا گیا تو پھر ہم اس کے زیادہ محتاج اور ضرورت مند ہیں،
چناںچہ فرمایا گیا: یاد رکھو! اللہ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  مشورے سے بالکل مستغنی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے امت کے لیے رحمت کا سبب بنایا ہے۔ (درمنثور) اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ذریعے مسلمانوں کو مشورے کی فضیلت کا درس دیا ہے، تاکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی امت اس کی پیروی کرے‘‘۔ (قرطبی)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کا بیان ہے کہ میں نےرسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے زیادہ مشورہ کرنے والا کسی کو نہیں پایا یعنی آپ ہر قابلِ غور معاملے میں اپنے صحابہؓ سے مشورہ کر کے ہی کوئی فیصلہ فرماتے، مثلاً :جنگ بدر سے فراغت ہوچکی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے اسیرانِ بدر کے بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ تَعَالٰی عَنْہُم سے مشورہ فرمایا کہ انہیں معاوضہ لے کر رہا کر دیا جائے یا قتل کیا جائے ۔ غزوہٴ اُحد کے بارے میں مشورہ کیا کہ کیا مدینہ شہر کے اندر رہ کر مدافعت کی جائے یا شہر سے باہر نکل کر۔ عام طور سے صحابہ کرام رضوان الله عليهم کی رائے باہر نکلنے کی تھی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے اسے قبو ل فرمایا۔ غزوہٴ خندق میں ایک خاص معاہدے پر صلح کرنے کا معاملہ درپیش ہوا تو حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  اورحضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اس معاملے کو مناسب نہیں سمجھا، اس لیے ان دونوں نے اختلاف کیا، آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ان دونوں کی رائے قبول کرلی، حدیبیہ کے ایک معاملے میں مشورہ لیا تو حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کی رائے پر فیصلہ فرمایا،واقعہٴ اِفک میں صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم سے مشورہ لیا، اسی طرح اذان کی بابت بھی صحابہ كرام رضوان الله عليهم سے مشورہ کیا کہ نماز کی اطلاع دینے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟ اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جن امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی حکمت کی بناء پر کسی خاص جانب رہنمائی نہ کی جاتی، ان میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم سے مشورہ فرماتے۔
قرآن و سنت کی تعلیمات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نہ صرف یہ کہ اہم امور اورمعاملات میں صحابۂ کرام رضوان الله عليهم سے مشورہ لیتے ،بلکہ ان پر عمل بھی فرماتے تھے۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کے بعد جب صحابۂ کرام رضوان الله عليهم کا دور آیا تو ان کے سامنے ایک طرف تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کا اسوہ ٔ حسنہ تھا اور دوسری طرف قرآن و حدیث۔ دونوں میں نہایت واضح ہدایات خود صحابہ كرام رضوان الله عليهم کو دی گئی تھیں کہ وہ کس اساس پر اپنا سیاسی نظام قائم کریں اور اس میں قانون سازی کا طریقہ کیا ہو۔ اس سلسلے میں قرآن مجید میں اصولی ہدایت یہ دی گئی ہے: اور ان کا نظام باہمی مشورے پر مبنی ہے۔(سورۂ شوریٰ)اس اصولی ہدایت کی وضاحت بھی نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے اس طرح فرمائی تھی: حضرت ابوسلمہ رضي الله تعالى عنه کا بیان ہےکہ میں نے نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  سے عرض کیا کہ اگر کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جس کا ذکر نہ تو کہیں قرآن میں ہو اور نہ سنت میں تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا کہ اس معاملے پر مسلمانوں کے صالح لوگ غور کرکے اس کا فیصلہ کریں گے۔ (سنن دارمی)
مشورہ ہمیشہ ایسے شخص سے کرنا چاہیے جسے متعلقہ معاملے میں پوری بصیرت اور تجربہ حاصل ہو، چناںچہ دینی معاملات میں ماہر اور صاحب ِ نظر عالم ِ دین سے مشورہ کرنا چاہیے اور کسی بیماری اور جسمانی صحت کے بارے میں کسی اچھے طبیب کا انتخاب ہی مفید ہوگا۔ غرض جس طرح کا معاملہ ہے، اسی فن کے ماہرین اور تجربہ کار کا انتخاب کیا جائے، کیوں کہ تجربہ کے بغیر صرف عقل کامیابی سے ہمکنار نہیں کرسکتی، گویا مشورہ لینے کے لیے عقل اور تجربہ دونوں کا بیک وقت موجود ہونا نہایت ضروری ہے۔ ایک دوسرے کے بغیر صحیح رہنمائی نہیں مل سکتی۔ رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: عقل مندوں سے مشورہ کرو، کامیابی ملے گی اور ان کی مخالفت نہ کرو، ورنہ شرمندگی ہوگی۔
رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : جس شخص سے مشورہ کیا جاتا ہے، وہ امانت دار ہوتا ہے ، اسے امانت داری کا پورا حق ادا کرنا چاہیے۔ ( جامع ترمذی )اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ باہمی امور میں مشاورت سے کام لیا جائے ،یہ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ہے اور سنت ِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   بھی۔ لہٰذا ہر موقع پر مشورے اور مشاورت کا اہتمام ایک ضروری امر ہے۔
مشورہ کن اُمور میں کرنا چاھیے
اور کن میں نہیں کرنا چاھیے
ایک سوال یہ ہے کہ مشورہ کہاں اور کن چیزوں میں کیا جائے؟ اس سلسلہ میں یاد رکھنا چاہیے کہ جن امور میں شریعت کا فیصلہ متعین ہے کہ یہ چیز فرض ہے یا واجب ہے یا حرام یا مکروہ ہے، ان امور میں مشورہ کی ضرورت نہیں؛ بلکہ جائز بھی نہیں ہے، جیسے کوئی شخص یہ مشورہ کرے کہ نماز پڑھے یا نہیں، زکوٰة دے یا نہیں، حج کرے یا نہیں، یہ چیزیں مشورہ کی نہیں ہیں، ان کے لیے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم متعین ہے کہ ان کا کرنا ہر حال میں ضروری ہے یا اسی طرح جن چیزوں کو شریعت نے منع کیا ہے، جیسے زناکاری، شراب نوشی، ڈاکہ زنی وغیرہ ان میں بھی مشورہ کی حاجت نہیں، ان سے تو بہرحال رکنا لازمی ہے؛ البتہ طریق کار کے بارے میں مشورہ کیا جاسکتا ہے، جیسے حج میں جانے کے لیے مختلف راستے ہیں، بعض پُراَمن ہیں اور بعض میں خطرہ ہے، تو اس موقع پر تجربہ کار افراد کی رائے معلوم کی جاسکتی ہے کہ ان مختلف راستوں میں اس کے لیے کون سا راستہ بہتر ہوگا، یا اسی طرح ایک شخص مریض ہے اس کو تردد ہے کہ مجھ کو اس حالت میں تیمم کی اجازت ہے یا نہیں، اس بارے میں اطباء یا تجربہ کاروں سے مشورہ کرسکتا ہے، اسی طرح وہ احکام ومسائل جن کے بارے میں قرآن و حدیث، اقوالِ صحابہ یا سلف کی کتابوں میں کوئی صراحت نہیں ہے، جدید اور نئے زمانہ سے ان کا تعلق ہے، ان میں مشورہ کرنا نہ صرف جائز؛ بلکہ اربابِ فقہ اور صاحب ِ نظر علمائے دین سے ان کے بارے میں پوچھنا اور حکم ِ شرعی معلوم کرنا واجب ہے۔ حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کا بیان ہے کہ میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  سے عرض کیا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے بعد اگر ہمیں کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جس کا حکم صراحتا ً قرآن میں نازل نہیں ہوا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  سے بھی اس کے متعلق کوئی ارشاد ہم نے نہ سنا ہو تو ہم کیا کریں؟ آنحضرت   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا کہ ایسے کام کے لیے اپنے لوگوں میں سے عبادت گزار فقہا کو جمع کرو اور ان کے مشورہ سے اس کا فیصلہ کرو، کسی کی تنہا رائے سے فیصلہ نہ کرو۔ (معارف القرآن)
دینی امور کے علاوہ معاشی، معاشرتی، سماجی، انفرادی اور اجتماعی زندگی میں پیش آنے والے معاملات میں بھی مشورہ کو اپنانا چاہیے، جہاں شریعت، عقل و عادت کے اعتبار سے کوئی جانب متعین ہو اور نہ ہی اس کا نافع ہونا یقینی ہو، امورِ طبعیہ جیسے بھوک اور پیاس کے وقت روٹی کھانا یا پانی پینا، اس میں مشورہ کرنے اور کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ مجھے بھوک لگی ہے کھانا کھانا چاہیے یا نہیں؟ عام حالات میں یہ سوال حماقت ہے، ہاں بیماری کے وقت یا اس کے ذرائع اور طرق یا مختلف اغذیہ اور اشربہ میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے میں اگر کسی کے اندر خطرہ کا احتمال ہو تو مشورہ کرنا مستحسن یا ضروری ہوگا۔ یہاں اس پہلو پر بھی نظر رہے کہ اللہ تعالیٰ نے مشورہ کی ترغیب اور ہدایت تو دی ہے؛ مگر اپنی رحمت ِ عامہ کی بناء پر چند مخصوص جگہوں کے علاوہ انسان کو مقید نہیں کیا کہ کوئی معاملہ بلامشورہ کر ہی نہ سکے، بسااوقات اہم معاملات پیش آتے ہیں اور ایک تجربہ کار انسان کو اس کے انتظام و انصرام اور حل کا طریقہ معلوم ہوتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ کسی صاحب ِ عقل و دانش سے مشورہ کرے گا تو اس کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں بتلا سکتا، اس حالت میں اگر وہ بلامشورہ کام کربیٹھے تو کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح معاملات کی نوعیت اور منافع و خطرات کی عظمت و وقعت اور قوت و ضعف کے اعتبار سے مشورہ کے حکم ِ استحسان میں فرق ہوجائے گا، بعض مواقع میں مشورہ نہایت اہم اور ضروری ہوگا اور بعض جگہ درجہٴ استحسان میں رہے گا۔ بہرحال وہ امور جن میں کوئی جانب شرعاً، عقلاً، عرفاً، عادتاً معین نہیں اور جن کے مختلف جوانب میں خطرات و منافع کا احتمال ہے، یعنی نتائج مبہم اور مخفی ہوں، ان میں مشورہ کو اپنا معمول بنانا چاہیے۔ اس میں اتباعِ سنتِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے علاوہ ہزاروں فوائد ہیں، اہلِ علم اور مشورہ کے پابند حضرات اس سے اچھی طرح واقف ہیں۔
اللہ پاک ھمیں رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی سنت کی اتباع کرنے کی توفیق عنایت فرمائے
آمین یا رب العالمین

Share: