مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الۡاٰخِرَۃِ نَزِدۡ لَہٗ فِیۡ حَرۡثِہٖ ۚ وَ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الدُّنۡیَا نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا وَ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ نَّصِیۡبٍ ﴿۲۰﴾
جس کا ارادہ آخرت کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس میں سے کچھ دے دیں گے لیکن ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ (سورہ الشوری)
یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والے اعمال کرے اور ان اعمال سے صرف اپنے خالق و مالک کی رضا حاصل کرنے کی نیت کرے تو اسے اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی نوازتا ہے اور آخرت میں بھی اپنے لطف و کرم سے اسے ضرور نواز دے گا اور وہ شخص جو اپنی نماز، روزہ،حج ،زکوٰۃ، صدقہ و خیرات اور دیگر نیک اعمال سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت نہ کرے بلکہ ان اعمال کے ذریعے دنیا میں مال و دولت،عزت و شہرت چاہے تو دنیا میں اسے صرف اتنا ہی ملے گا جتنا اس کے نصیب میں لکھا ہے اور آخرت میں ان اعمال کے ثواب سے اسے محروم کر دیا جائے گا ۔ چنانچہ اس بارے میں رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں ا
حضرت زید بن ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ھے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص(صرف) دنیا کی فکر میں رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے معاملے کو پَراگندہ کر دیتے ھیں اور ا س کی تنگ دستی کو اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتے ھیں اور اسے دنیا سے صرف اتنا ہی حصہ ملتا ہے جتنا ا س کے لئے (پہلے سے) لکھ دیا گیا ہے اور جو شخص آخرت کا قصد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ا س کے معاملے کو اکٹھا کر دیتے ھیں اور ا س کی مالداری کو اس کے دل میں رکھ دیتے ھیں اور دنیا اس کے پاس خاک آلود ہو کر آتی ہے۔( ابن ماجہ)
حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ھے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے اپنی تمام فکروں کو صرف ایک فکر بنا دیا اور وہ آخرت کی فکر ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی دنیا کی فکر کے لئے کافی ہے اور جس کی فکریں دنیا کے اَحوال میں مشغول رہیں تو اللہ تعالیٰ کو اس کی پرواہ نہیں ہو گی کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہو رہا ہے۔( ابن ماجہ)
حضرت جارود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے آخرت کے عمل کے بدلے دنیا طلب کی تو اس کا چہرہ بگاڑ دیاجائے گا،اس کا ذکر مٹا دیا جائے گا اور جہنم میں اس کا نام لکھ دیا جائے گا۔ (معجم الکبیر)
یہ حقیقت ھے کہ یہ دنیا ایک مسافر خانہ ھے یہاں کا قیام بالکل عارضی ھے جب کہ آخرت کی زندگی دائمی ھے ۔ عقلمند شخص وھی ھے جو اس دنیا کی عارضی زندگی کے سفر کو سفر ھی سمجھے اور اپنے آپ کو اس دنیا کا مکین نہیں بلکہ مسافر سمجھے اور اپنی نظر اپنی آصل منزل یعنی آخرت پر رکھے یہی شخص صحیح معنوں میں کامیاب وکامران ھو گا چنانچہ حارثہ بن وہاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ: کیا میں تمهیں بتاوں کہ اہل جنت کے بادشاه کون لوگ ہیں- لوگوں نے کہا ہاں اے اللہ کے رسول (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) تو رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : وه جو کمزور هو اور جس کو کمزور سمجهہ لیا گیا هو- گرد آلود اور بکهرے هوئے بال- (متفق علیہ)
وه لوگ جو مصلحت پرستی کے بجائے اصول پسندی کو اپنا دین بناتے ہیں- جو دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دیتے ہیں- جو مفاد کو اہمیت دینے کے بجائے حق کو اہمیت دیتے ہیں- جو بندوں کے بجائے اللہ کو اپنی توجہات کا مرکز بناتے ہیں، ایسے لوگ اکثر اوقات دنیا میں بےحیثیت هو جاتے ہیں- وه بیچارے ان چیزوں میں سے کسی چیز کا ثبوت نہیں دے پاتے جن کی دنیوی زندگی میں اہمیت هو اور جو دنیاوی اعتبار سے آدمی کو باعزت بنانے والی هوں- ان کی اس حالت کی وجہ سے بعض اوقات ایسا هوتا ہے کہ لوگ ان کو بےحیثیت اور ناکام سمجهہ لیتے ہیں- دنیوی نقشوں میں ان کو کہیں عزت کے مقام پر نہیں بٹهایا جاتا- مگر حقیقت یہ ھے کہ جب بحکمِ اللہ موجوده دنیا کو ختم کرکے آخرت کا عالم بنایا جائے گا تو اُس عالم کے اندر یہی لوگ سب سے زیاده اونچا مقام حاصل کر لیں گے- وہی سب سے زیاده کامیاب انسان قرار پائیں گے- آج کی دنیا کے بادشاہوں سے کہیں زیادہ شان و شوکت والی زندگی گزاریں گے- مثلاً ڈیکٹیٹرانہ نظام میں ایک جمہوری لیڈر ذلت اور گم نامی کے قید خانہ مں ڈال دیا جاتا ہے- مگر جب جمہوری حالات پیدا هوتے ہیں اور عوامی رائے سے سیاسی مناصب کا فیصلہ هوتا ہے تو وہی شخص اقتدار کی بلند ترین کرسی پر بیٹها هوا نظر آتا ہے جو کل تک ایک معمولی سپاہی کے آگے بهی بے بس دکهائی دے رہا تها بعینہ یہی معاملہ اُس شخص کا ھے جس کا منتہائے نظر آخرت کی زندگی ھو دنیا میں تو وہ شاید گمنامی اور کسمپرسی کے ساتھ زندگی گزار لے گا لیکن مرنے کے بعد والی زندگی میں وہ ان شاء اللہ ضرور کامیاب وکامران ھوگا اور آعلی درجات پر فائز ھو جائے گا اس کے برعکس جو شخص دنیا ھی کو اپنا متمعِ نظر بنائے گا اور آخرت سے غفلت برتے گا وہ شاید دنیا میں تو کچھ اھمیت اختیار کر جائے لیکن آخرت کی ھمیشہ ھمیشہ والی زندگی میں وہ ناکام اور نامراد ھو جائے گا چنانچہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشاد ھے
“جو شخص اپنی تمام فکروں کو جمع کر کے ایک ہی فکر، یعنی آخرت کی فکر بنا لے، اللہ تعالیٰ اسے دنیاوی فکروں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ)
اس حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دُنیا و آخرت کی زندگی کی کامیابی کا ایک نہایت اہم رازِ بیان فرما دیا ہے۔ انسان کی پریشانیوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کی فکریں بکھری ہوتی ہیں؛ مال، مستقبل، لوگوں کی رائے اور دنیاوی مقابلہ۔ لیکن جب دل کی توجہ آخرت پر مرکوز ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ خود دنیا کے معاملات کو بھی سنوار دیتا ہے۔
یہ حدیث ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ جو شخص اپنی ترجیحات درست کر لیتا ہے، اس کے لیے اللہ تعالی آسانیاں پیدا فرما دیتے ھیں ۔ آخرت کی فکر انسان کو گناہوں سے بچاتی، نیک اعمال کی طرف راغب کرتی اور دل کو سکون عطا کرتی ہے، جبکہ دنیاوی فکریں خود بخود کم ہو جاتی ہیں۔
اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اصل کامیابی زیادہ سوچنے یا زیادہ جمع کرنے میں نہیں، بلکہ صحیح سمت میں سوچنے میں ہے۔ جو اللہ تعالی کی رضا کو اپنا مقصد بنا لے، اس کے لیے دنیا بوجھ نہیں رہتی بلکہ آزمائش بن کر آسان ہو جاتی ہے۔ یہ حدیث ہمیں سوچ کی اصلاح، ترجیحات کی درستگی اور اللہ پر کامل بھروسہ کی ترغیب دیتی ہے، اور یاد دلاتی ہے کہ آخرت کو مقدم رکھنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔
اللہ پاک ھمیں آخرت کی صحیح معنوں میں تیاری کرنے کی توفیق عنایت فرمائے
آمین یا رب العالمین