رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں کی فضیلت

رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتیں (21، 23، 25، 27، 29) بے پناہ فضیلت کی حامل ہیں، جن میں شبِ قدر (ہزار مہینوں سے بہتر رات) پوشیدہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان راتوں میں عبادت (نماز، تلاوت، ذکر) کا خاص اہتمام کرنے اور شبِ قدر تلاش کرنے کی تاکید فرمائی ہے، جس میں سچے دل سے توبہ کرنے والوں کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔  شبِ قدر کا حصول کا امکان ان پانچ راتوں میں سے کسی ایک  رات میں  زیادہ ہایا جاتا ہے۔ اس رات کی عبادت  ہزار مہینوں یعنی  83 سال 4 مہینے کی عبادت سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ ان راتوں میں نوافل، تلاوتِ قرآن، اور خصوصی دعا (اللہم انک عفو...) کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس رات فرشتے اور روح القدس (حضرت جبرائیل علیہ السلام) اللہ کے حکم سے زمین پر اترتے ہیں۔ اس رات کی خاص علامات یہ ھیں  کہ یہ رات معتدل ہوتی ہے (نہ زیادہ گرم، نہ ٹھنڈی)، اور اس کی اگلی صبح سورج بغیر شعاعوں کے طلوع ہوتا ھے 

حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنه سے ہی مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے۔ جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے ان راتوں میں قیام کرے الله تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے (تمام) گناہ بخش دیتا ہے۔ یہ رات اکیسویں، تیئسویں، پچیسویں، ستائیسویں یا رمضان کی آخری رات ہوتی ہے۔ رسول الله ﷺ نے فرمایا: شبِ قدر کی علامات یہ ہیں کہ وہ رات صاف و شفاف اور پر سکون ہوتی ہے، نہ زیادہ ٹھنڈی اور نہ زیادہ گرم (بلکہ معتدل ہوتی ہے)۔ اس رات صبح تک کسی ستارے کے لیے مناسب نہیں کہ اُسے شیاطین کے پیچھے بھگایا جائے۔ اس کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد کی صبح کو آفتاب بالکل ہموار ٹکیہ کی طرح بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے جیسا کہ چودھویں رات کا چاند ہو۔ اس دن کے آفتاب کے ساتھ شیطان نہیں نکلتا۔ ( طبرانی و احمد)

شبِ قدر  کی تعیین  اٹھالی گئی ہے اس لئے وہ متعین طور پر معلوم نہیں ہے کونسی رات میں ہو! البتہ  رمضان المبارک اور پھر خاص کر آخری عشرہ اور پھر اس میں بھی طاق راتوں میں اس کے ملنے کا زیادہ امکان ہے، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے: '' تَحَرُّوْا لَــیْلَة الْقَدْرْ فِي الْوْتْرْ مِنَ الْعَشْرْ الْاَوَاخِرْ مِنْ رَمَضَانَ''۔  [مشکاۃ المصابیح عن البخاري] ’’حضور صلی اللہ علیہ و سلم  نے ارشاد فرمایا کہ لیلۃ القدر کو رمضان کے آخر عشرہ کی  طاق راتوں میں تلاش کرو۔‘‘ طاق راتوں سے مراد ، 21، 23، 25، 27، 29  کی راتیں ہیں، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ رمضان المبارک کے پورے مہینے میں  راتوں کو عبادت کی کوشش کرے ، اگر پوری رات مشکل ہوتو کچھ وقت ، ورنہ عشاء کی نماز جماعت سے پڑھ کر تراویح پڑھے اور اس کے بعد دو ، چار رکعت پڑھ کر سوجائے، یا سحری میں بیدار ہوکر دو چار رکعات تہجد پڑھ لے اورصبح فجر کی نماز جماعت سے پڑھ لے تو  اُمید ھے اسے بھی ان شاء اللہ شبِ قدر مل جائے گی۔

شب قدر کے  اعمال  کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم  سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! اگر مجھے شب قدر کا پتا چل جائے تو کیا دعا مانگوں؟ حضور صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا کہو : « اَللّٰهم إِنَّک عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ » [ترمذی ، مشکاۃ] ’’اے اللہ! تو بے شک معاف کرنے والا ہے اور پسند کرتا ہے معاف کرنے کو‘ پس معاف فرما دے مجھے بھی‘‘ یہ نہایت جامع دعا ہے کہ حق تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے آخرت کے مطالبہ سے معاف فر ما دیں تو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے.

شبِ قدر کی تعیین اٹھانے کی ایک حکمت علماء کرام  نے یہ لکھی ہے کہ مختلف راتوں میں زیادہ سے زیادہ اعمال کی ترغیب مقصود ہے، تاکہ امت مختلف طاق راتوں میں خوب عبادت کرے، ایسا نہ ہو کہ صرف ایک رات میں مخصوص وقت مخصوص عبادت کرلے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایاہے کہ آخری عشرہ داخل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اس کی راتیں جاگتے تھے اور اپنے گھروالوں کو بھی جگاتے تھے اور کمربند کس لیا کرتے تھے۔ نیز فرماتی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جتنی محنت فرماتے تھے اتنی محنت اور دنوں میں نہیں فرماتے تھے۔ لہٰذا ھر  امتی کو چاہیے وہ تمام طاق راتوں میں فرائض کی ادائیگی کے ساتھ  ، نفل نماز، تلاوت، درود شریف، دعاؤں اور دیگر اذکار کا خوب اہتمام کرے، اس رات کا کوئی خاص عمل نہیں ہے، بہتر یہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے سبھی اعمال کیے جائیں اس طرح ہر قسم کے اعمال کا ثواب بھی حاصل ہوجائے گا  اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ اسے شبِ قدر بھی حاصل ہوجائے گی۔

اللہ پاک ھم سب کو ان راتوں کو زیادہ  سے زیادہ عبادت میں گزارنے کی توفیق عنایت فرمائے

آمین یا رب العالمین

Share: