روضہ رسول اللهﷺ پے حاضری کے آداب !
حضرت ملا علی قاری رحمہ الله نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر حاضری کے آداب، درود و سلام پیش کرنے کے الفاظ اور طریقے بڑی تفصیل سے اپنی کتاب “ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری” میں ذکر فرمائے ہیں۔ مختصراً چند آداب اور درود و سلام کے صیغے ذکر کیے جاتے ہیں۔
جب آدمی مدینہ منورہ کی طرف چلے تو درود شریف کثرت سے پڑھتا رہے اور جوں جوں قریب ہوتا جائے اور زیادہ کثرت کرتا جائے، جب مدینہ منورہ کی عمارتوں پر نظر پڑے تو یہ دعا پڑھے:
“ اللھم ھذا حرم نبیک فاجعلہ وقایة لی من النارو أماناً من العذاب وسوء الحساب“۔
مستحب ہے کہ مدینہ منور میں داخل ہونے سے پہلے غسل کرے، پاک صاف عمدہ لباس جو پاس موجود ہو پہنے، اگر نئے کپڑے ہوں تو بہتر ہے۔ خوشبو لگائے شہر میں داخل ہونے سے پہلے پیادہ چلے۔ اور اس شہر کی عظمت کا خیال کرتے ہوئے نہایت خوش وخضوع ، تواضع، ادب اور حضور قلب کے ساتھ درود شریف پڑھتا ہوا داخل ہو اور یہ پیش نظر رکھے کہ یہ وہ زمین ہے جس پر جابجا رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے قدم مبارک لگے ہوئے ہیں۔
جب مسجد نبوی میں داخل ہونے لگے تو باب جبرئیل سے داخل ہو اور پہلے دائیں پاؤں رکھے اور درود شریف پڑھ کر
” اللھم افتح لی ابواب رحمتک“ پڑھے،
پھرپہلے ریاض الجنة میں آکر دو رکعت تحیة المسجد کی پڑھے، یہ وہ جگہ ہے جو قبر شریف اور منبر شریف کے درمیان ہے، حدیث شریف میں آتا ہے:
ریاض الجنة جنت کا ٹکڑا ہے، ا
س سے فارغ ہو کر الله تعالیٰ کا اپنی اس حاضری کی توفیق اور سعادت بخشی پر شکر ادا کرے، اور اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کرے۔ اس کے بعد روضہٴ اقدس کے پاس حاضر ہو اور سرہانے کی دیوار کے کونے میں جو ستون ہے اس سے تین چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو ،نہ بالکل جالیوں کے پاس جائے اور نہ ہی زیادہ دور بلاضرورت کھڑا ہو، اس طرح کہ رخ روضہٴ اقدس کی طرف اور پشت قبلہ کی طرف ہو اور یہ تصور کرے کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم لحد شریف میں قبلہ کی طرف چہرہ مبارک کیے ہوئے لیٹے ہیں اور پھر نہایت ادب کے ساتھ درمیانہ آواز سے نہ بہت پکار کر اور نہ بالکل آہستہ، سلام کرے۔ یہاں چند الفاظ درودوسلام لکھے جاتے ہیں۔
” السلام علیک أیھا النبی ورحمة الله وبرکاتہ،
السلام علیک یا رسول الله،
السلام علیک یا حبیب الله،
السلام علیک باخیر خلق الله،
السلام علیک یا صفوة الله،
السلام علیک یا سید المرسلین،
یا رسول الله إني أشھدأن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، وأشھد أنک عبدہ ورسولہ۔
أشھد انک بلغت الرسالة، وأدیت الامانة، ونصحت الامة، وکشفت الغمة فجزاک الله خیراً،
جزاک الله عنا أفضل ماجازیٰ نبباً عن أمتہ۔
السلام علیک یا من ارسلہ الله رحمة للعالمین،
السلام علیک یا مبشر المحسنین
(ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری ص338)۔
جب روضہ اقدس (علی صاحبھا الف الف صلاۃ و سلام) کی طرف جائے تو راستہ میں درود شریف کثرت سے پڑھے، اور خوب ذوق و شوق پیدا کرے اور اظہار محبت میں کوئی کمی نہ چھوڑے۔ اگر خود یہ حالات پیدا نہ ہوں تو بتکلف پیدا کرے اور عاشقوں کی سی صورت ہی بنا لے۔نہایت ادب کے ساتھ روضہ اقدس پر حاضر ہواور دل کو تمام دنیاوی خیالات سے فارغ کردے ، پھر روضہ اقدس کی طرف رخ کر کے قبلہ کی طرف پشت کر کے مواجھہ شریف کے سامنے آ جائے۔ ادھر ادھرمت دیکھے، نظر نیچی رکھے اور کوئی حرکت خلاف ادب نہ کرے۔ زیادہ قریب بھی نہ کھڑے ہو اور جالی کو ہاتھ بھی نہ لگائے، نہ بوسہ دے، نہ سجدہ کرے، کہ اس قسم کی با تیں خلاف ادب و احترام اور نا جائز ہیں اور سجدہ کرنا شرک ہے۔ اور یہ خیال کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر شریف میں قبلہ کی طرف منہ کئے ہوئے آرام فرما ہیں اور سلام و کلام کو سنتے ہیں اور سلام کا جواب دیتے ہیں اور عظمت و جلال کا لحاظ کرتے ہوئے متوسط آواز سے سلام پڑھے۔ زیادہ زور سے مت بولے اور بالکل آہستہ سے بھی مت پڑھے ، سلام اس طرح پڑھے :
السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حَبِيبَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَيْرَ خَلْقِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَيْرَةَ اللَّهِ مِنْ جَمِيعِ خَلْقِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدِ وُلْدِ آدَمَ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ، وَأَدَّيْتَ الْأَمَانَةَ، وَنَصَحْتَ الْأُمَّةَ وَ كَشَفْتَ الْغُمَّةَ، فَجَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا خَيْرًا، جَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا أَفْضَلَ وَ أَكْمَلَ مَا جَزَى بِهِ نَبِيًّا عَنْ أُمَّتِهِ. اللَّهُمَّ آتِهِ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيعَةَ وَابْعَثُهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ الَّذِي وَعَدْتَهُ ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ، وَأَنْزَلُهُ الْمَنْزِلَ الْمَقَرَّبَ عِندَكَ إِنَّكَ سُبْحَانَكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ.
ان الفاظ میں کمی زیادتی بھی کرسکتے ہیں۔(مستفاد: معلم الحجاج)
البتہ احادیث مبارکہ میں ایسے مخصوص کلمات ہمیں نہیں مل سکے جوخود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قبر مبارک پر حاضری کے وقت صلاۃ و سلام پیش کرنے کے لیے سکھائے ہوں۔
۲)حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام پڑھنے کے بعد ایک ہاتھ داہنی طرف کو ہٹ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کی قبر کی جالی کے سامنے کھڑے ہو کر اس طرح سلام پڑھے:
السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولَ اللَّهِ وِثَانِيهِ فِي الْغَارِ وَرَفِيقَه فِي الْأَسْفَارِ وَأَمِيْنِهِ عَلَى الْأَسْرَارِ أَبَا بَكْرِ الصِّدِّيقِ، جَزَاكَ اللَّهُ عَنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ خَيْرًا.
پھر ایک ہاتھ اور داہنی طرف کو ہٹ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کی قبر کی جالی کے سامنے کھڑے ہو کران الفاظ سے سلام پڑھے:
السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ الْفَارُوقِ الَّذِي أَعَزَّ اللَّهُ بِهِ الإسلامَ إِمَامَ الْمُسْلِمِينَ مَرْضِيًّا حَيًّا وَ مَيْتًا جَزَاكَ اللَّهُ عَنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ خَيْرًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ان دونوں حضرات پر سلام کے الفاظ میں بھی کمی زیادتی کا اختیار ہے۔
۳) روضہ اقدس کی پشت سے بھی اسی طرح مخاطب کے الفاظ کے ساتھ صلاۃ و سلام پیش کر سکتے ہیں جس طرح مواجھہ شریف سے کر سکتے ہیں۔
۴)واضح رہے کہ روضہ اقدس پر حاضری نہایت ہی ادب کا مقام ہے، اور عشق و محبت کا بھی۔لہٰذا آداب کی رعایت رکھتے ہوئے اگر کوئی مسلمان فرط محبت میں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اشعار کے انداز میں عرض و گزارش کرے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔بلکہ اسلاف سے ثابت بھی ہے۔ البتہ اس بات کا خیال رہے کہ آج کل رش کی وجہ سے وہاں انتظامیہ زیادہ دیر کھڑے ہونے سے منع کرے یا لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہو، تو مواجھہ شریف پر زیادہ دیر نہ ٹھہرا جائے بلکہ روضہ رسول کے آس پاس جہاں باآسانی جگہ ملے، وہاں اطمینان سےبارگاہِ رسالت میں جو عرض کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔
الأذکار للنووی میں ہے:
١٠٦٩- وعن العتبي، قال: كنت جالسا عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم، فجاء أعرابي، فقال: السلام عليك يا رسول الله! سمعت الله تعالى يقول: {ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاءوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيما} [النساء: ٦٤] وقد جئتك مستغفرا من ذنبي، مستشفعا بك إلى ربي؛ ثم أنشد يقول من البسيط:
يا خير من دفنت بالقاع أعظمه ... فطاب من طيبهن القاع والأكم
نفسي الفداء لقبر أنت ساكنه ... فيه العفاف وفيه الجود والكرم
قال: ثم انصرف، فحملتني عيناي، فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم في النوم، فقال لي: "يا عتبي! الحق الأعرابي، فبشره بأن الله تعالى قد غفر له". والله عز وجل أعلم.
(كتاب الأذكار للنووي، أذكار الحج فصل في زيارة قبر رسول الله صلى الله عليه وسلم وأذكارها، ص: 352، ط: دار ابن حزم)
۵) روضہ اقدس پر حاضری کے موقع پر کوئی مخصوص دعا احادیث میں وارد نہیں ہوئی، اس لیے صلاۃ و سلام پیش کرنے کے قبلہ رو ہو کر جو چاہیں دعا منگیں، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے بھی جو مانگنا چاہیں اور جس زبان میں چاہیں مانگ سکتے ہیں۔
ذریعۃ الوصول میں شیخ مخدوم ہاشم ٹھٹھوی رحمہ اللہ، علامہ سخاوی ؒ کے حوالے سےروضہ اقدس پر حاضری کے وقت کیا کلمات کہنے چاہئیں، ان کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
"بعد ازاں اپنے لئے اور اہل ایمان مردوں اور عورتوں کے لئے دُعا کرے، اس کے بعد حضرت ابوبکر، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں سلام عرض کرے، اور بارگاہ الہی میں دُعا کرے۔"
(ذریعۃ الوصول الی جناب الرسول، روایت نمبر: 94، ص: 134، مکتبہ لدھیانوی)
غنية الناسك في علم المناسك میں ہے:
"و ينبغي أن ينوي مع زيارته صلى الله عليه وسلم التقرب إلى الله تعالى بالمسافرة إلى مسجده صلى الله عليه وسلم للصلاة فيه، و يستحب أن يغتسل قبل دخوله ويلبس أنظف ثيابه. إذا وصل باب المسجد، قدم اليمنى دخولا، واليسرى خروجا و فعل ما يفعل في سائر المساجد من الصلاة علي النبي صلي الله عليه وسلم، والسلام عليه، و يقول: "اللهم افتح لي ابواب رحمتك"، ثم يقصد الروضة الكريمة وهي ما بين المنبر والقبر فيصلي تحية المسجد بجنب المنبر، ان تيسر و الا حيث كان من المسجد.... قال محي الدين النووي - رحمه الله تعالي- : فإذا صلى التحية في الروضة أو غيرها من المسجد شكر الله تعالى على هذه النعمة ويسأله إتمام ما قصده وقبول زيارته، ثم يأتي القبر الكريم فيستدبر القبلة ويستقبل جدار القبر، ويبعد من رأس القبر نحو أربعة أذرع. و في احياء علوم الدين: أنه يستقبل جدار القبر على نحو أربعة أَذرع من السارية التي عند رأس القبر في زاوية جداره ويجعل القنديل الذي في القبلة عند القبر على رأسه ويقف ناظرًا إلى أسفل ما يستقبله من جدار القبر غاض الطرف في مقام الهيبة والإجلال فارغ القلب من علائق الدنيا مستحضرًا في قلبه جلالة موقفه ومنزلة من هو بحضرته، ثم يسلم ولا يرفع صوته بل يقتصد فيقول: "السلامُ عليك يا رسول الله، السلامُ عليك يا نبي الله، السلامُ عليك يا خِيرة الله، السلامُ عليك يا خَيْر خلقِ الله، السلامُ عليك يا حبيبَ الله، السلامُ عليك يا نذير، السلامُ عليك يا بشير، السلامُ عليك يا طاهر، السلامُ عليك يا نبيَّ الرحمة، السلامُ عليك يا نبيَّ الأمة، السلامُ عليك يا أبا القاسم، السلامُ عليك يا رسولَ ربّ العالمين، السلامُ عليكَ يا سيدَ المرسلين وخاتمَ النبيين، السلامُ عليك يا خَيْرَ الخلائق أجمعين، السلامُ عليك يا قائد الغُرّ المُحَجَّلِينَ، السلامُ عليك وعلى ءالك وأهلِ بيتك وأزواجِك وذريتِك وأصحابِك أجمعين، السلامُ عليك وعلى سائر الأنبياءِ وجميع عبادِ الله الصالحين، جزاك الله يا رسولَ الله عنا أفضلَ ما جزى نبيًّا ورسولا عن أمتهِ وصلى الله عليكَ كلما ذكركَ ذاكر وغفلَ عن ذكرك غافلٌ أفضلَ وأكملَ وأطيبَ ما صلى على أحد من الخلق أجمعين، أشهد أن لا إله إِلا الله وحده لا شريك له وأشهد أنك عبده ورسولُهُ وخِيرتُهُ من خلقهِ، وأشهدُ أنك قد بلّغتَ الرسالةَ وأدّيتَ الأمانةَ ونصحتَ الأمةَ وجاهدتَ في الله حقَّ جهاده، اللهم وءاته الوسيلةَ والفضيلةَ وابعثْه مقامًا محمودًا الذي وعدته" ثم يقول: "اللهمَّ صلّ على محمّد عبدِك ورسولِك النبيّ الأُمّي وعلى ءال محمد وأزواجِه وذريته كما صليتَ على إبراهيمَ وعلى ءال إبراهيم، وباركْ على محمد النبيّ الأُمي وعلى ءال محمد وأزواجِه وذريتِهِ كما باركت على إبراهيمَ وعلى ءال إبراهيمَ في العالمين إنكَ حميدٌ مجيد"، ... قال الشيخ محي الدين النووي: ومن عجز عن حفظ هذا أو ضاق وقته عنه اقتصر على بعضه، وأقله السلام عليك يا رسول الله صلى الله عليه وسلم".
( الفصل الثالث في حكم زيارة النبي صلي الله عليه وسلم، و آدابها و ما يتعلق بها، ص: 365-368، ط: دار ابن حزم)
فقط واللہ اعلم