دَآبَّةً الْاَرْضِ
قیامت کی بڑی علامتوں میں سے ایک بڑی علامت دابة الارض کا صفا پہاڑی سے نکلنا ہے، اس کا ذکر قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں موجود ہے۔ مغرب سے سورج طلوع ہونے کے واقعے کے کچھ ہی روز بعد مکہ مکرمہ میں واقع پہاڑ صفا پھٹے گا اور اس سے ایک عجیب و غریب جانور نکلے گا جو لوگوں سے باتیں کرے گا، اور بڑی تیزی کے ساتھ ساری زمین میں پھر جائے گا اس کے پاس حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی انگوٹھی اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عصا ہوگا، ایمان والوں کی پیشانی پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عصا سے ایک نورانی لکیر کھینچ دے گا، جس سے ان کا سارا چہرہ روشن ہوجائے گا، اور کافروں کی ناک یا گردن پر حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی انگوٹھی سے سیاہ مہر لگادے گا، جس سے اس کا سارا چہرہ میلا ہوجائے گا، لوگوں کے مجمع میں ایمان والوں کو کہے گا: یہ ایمان دار ہے، اور کافر کے بارے میں کہے گا کہ: یہ کافر ہے، اس کے بعد وہ غائب ہوجائے گا۔
چنانچہ قران پاک میں اللہ پاک کا فرمان ھے
وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْۙ-اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ (82)
اور جب قیامت کا وعدہ پورا کرنے کا وقت قریب الوقوع ہو جائے گا تو اس وقت ہم لوگوں کی عبرت کے لئے زمین سے ایک عجیب و غریب جانور نکالیں گے جو لوگوں سے باتیں کرے گا ( یہ جانور ہم زمین سے اس لئے نکالیں گے ) کہ لوگ ہماری نشانیوں کا یقین نہیں کرتے تھے۔ (سورہ النمل)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:”تین باتیں جب ظاہر ہو جائیں تو اس وقت کسی کو ایمان لانے کا کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ الا یہ کہ وہ پہلے ایمان لا چکا ہو اور نیک اعمال کرتا رہا ہو۔ ایک سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دوسرے دجال کا نکلنا اور تیسرے دابۃ الارض کا خروج“
[مسلم۔ کتاب الایمان]
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: دابة الارض نکلے گا تو اس کے پاس حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مہر اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عصا ہو گا۔ پھر وہ (عصائے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے) مومن کے منہ پر لکیر کھینچ دے گا جس سے وہ چمک اٹھے گا اور کافر کی ناک پر حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی انگوٹھی سے مہر لگا دے گا۔ یہاں تک اگر سب لوگ ایک خوان پر جمع ہوں گے تو وہ یہ کہے گا کہ یہ مومن ہے اور یہ کافر ہے۔ (یعنی مومن اور کافر ممتاز ہو جائیں گے) [ترمذي۔ ابواب التفسير]
حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہم پر برآمد ہوئے جبکہ ہم گفتگو میں مشغول تھے۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پوچھا: ”کیا باتیں کر رہے تھے؟“ ہم نے عرض کیا: قیامت کا ذکر کرتے تھے: آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی۔ جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ نشانیاں بتلائیں۔ دھواں، دجال، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے نکلنا، نزول حضرت عیسی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، یاجوج ماجوج کا خروج۔ تین مقامات پر زمین کا خسف مشرق میں، مغرب میں، جزیرہ عرب میں۔ اور ان نشانیوں کے بعد ایک آگ پیدا ہو گی جو لوگوں کو یمن سے نکال کر ہانکتی ہوئی ان کے محشر (سر زمین شام) کی طرف لے جائے گی“ [مسلم]
اس جانور کو ’’دَآبَّةُ الْاَرْض‘‘ کہتے ہیں ۔اس جانورکے بارے میں صرف اتنا جان لینا کافی ہے کہ یہ عجیب و غریب شکل کا جانور ہوگا ۔ کوہ ِصفا سے برآمد ہو کر تمام شہروں میں بہت جلد پھرے گا ۔ فصاحت کے ساتھ کلام کرے گا۔ ہر شخص کی پیشانی پر ایک نشان لگائے گا ،ایمانداروں کی پیشانی پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عصاسے نورانی خط کھینچے گا اورکافر کی پیشانی پر حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی انگوٹھی سے سیاہ مہر لگائے گا۔