خانہ کعبہ کا حبشیوں کے ھاتھوں منہدم ھونا
قیامت کی علاماتِ کبری میں سے ایک بڑی نشانی خانہ کعبہ کا حبشیوں کے ھاتھوں منہدم ھونا ھے جو بالکل قیامت کے قریب ھو گا
کعبۃُ اللہ ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیوں میں سے ایک عظیمُ الشَّان نشانی ہے ۔ جب تک یہ قائم ہے دنیا باقی ہے جب اس کو گرا دیا جائے گا تو دنیا تباہ و برباد ہو جائے گی اور قیامت بَرپا ہو جائے گی ۔ قربِ قیامت میں ایک بدبخت حبشی خانۂ کعبہ کوگرادے گاجس کے فورًا بعدقیامت قائم ہوجائے گی ۔ اسے آخری زمانے میں ایک کالا حبشی شخص منہدم کرے گا جس کا نام ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ (دو چھوٹی پنڈلیوں والا) ہوگا ۔ اس کا یہ نام اس کی پنڈلیوں کے چھوٹے اور باریک ہونے کی وجہ سے ہوگا ۔ وہ کعبہ کے ایک ایک پتھر کو گرا دے گا ، اس کے غلاف کو اتار دے گا اور اس کے زیورات کو لوٹ لے گا ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کعبہ کو دو پتلی پنڈلیوں والا حبشی خراب کرے گا۔“ [صحيح البخاری
جو جانور اکڑتا ہوا چلے یا چلتے میں اس کے دونوں پنجے تو نزدیک رہیں اور دونوں ایڑیوں میں فاصلہ رہے۔اسے افحج کہا جاتا ھے وہ حبشی مردود جو قیامت کے قریب کعبہ ڈھائے گا وہ اسی شکل کا ہوگا۔ دوسری روایت میں ہے اس کی آنکھیں نیلی، ناک پھیلی ہوئی ہوگی، پیٹ بڑا ہوگا۔ اس کے ساتھ اور لوگ بھی ہوں گے وہ کعبہ کا ایک ایک پتھر اکھاڑ ڈالیں گے اور سمندر میں لے جاکر پھینک دیں گے۔ یہ قیامت کے بالکل نزدیک ہوگا۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اہل حبشہ کو چھوڑے رہو جب تک وہ تمہیں چھوڑے ہوئے ہیں، کیونکہ کعبہ کے خزانے کو سوائے ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ حبشی کے کوئی اور نہیں نکالے گا ۔
(سنن أبي داود)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گویا میری نظروں کے سامنے وہ پتلی ٹانگوں والا سیاہ آدمی ہے جو خانہ کعبہ کے ایک ایک پتھر کو اکھاڑ پھینکے گا۔ ( صحیح بخاری)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک حبشی تم سے تعرض نہ کریں تم بھی ان سے تعرض نہ کرو، کیونکہ کعبہ کا خزانہ باریک پنڈلیوں والا حبشی ہی نکالے گا۔
(رواہ ابوداؤد۔ )