رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعات (نفل) ادا کرے اور ان کے درمیان کوئی بری (دنیاوی) بات نہ کرے تو یہ بارہ سال کی عبادت کے برابر شمار ہوں گی.
(جامع ترمذی:435)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے مغرب اور عشاء کے درمیان بیس رکعت نماز ادا کی اللہ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔
(جامع ترمذی:435)
مغرب کے فرض اور سنتوں کے بعد جو نوافل پڑھے جاتے ہیں، انہیں ’’صلاۃ الاوابین‘‘ کہتے ہیں، ان کی کم از کم تعداد چھ اور زیادہ سے زیادہ بیس ہے.
مفتی بہ قول کے مطابق یہ چھ رکعات مغرب کے بعد کی دو رکعات سنتِ مؤکدہ کے علاوہ ہیں.
البتہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ سنتِ مؤکدہ کو ملا کر چھ رکعات ادا کرنے سے بھی یہ فضیلت حاصل ہوجائے گی.
بعض صحیح احادیث میں چاشت کی نماز کو جو سورج چڑھنے کے بعد یعنی جب سورج میں تمازت آجائے اس وقت، پڑھنے کو بھی "اوابین کی نماز" کہا گیا ہے، اور احادیث میں چاشت کے بہت فضائل وارد ہوئے ہیں، مثلًا ایک حدیث میں ہے جو چاشت کے وقت بارہ رکعت ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اسے سونے کا محل عطا فرمائیں گے،