زکوٰة کا معنٰی و مفہوم
زکوة کے لغوی معنی پاکی کے ہیں، اور شریعت کی اصطلاح میں ”مخصوص مال میں مخصوص افراد کے لیے مال کی ایک متعین مقدار “کو زکوة کہتے ہی
زکوٰة کو زکوٰة کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان مال کے ساتھ مشغول ہوتا ہے، تو اس کا دل مال کی طرف مائل ہو جاتا ہے ، دل کے اس میلان کی وجہ سے مال کو مال کہا جاتا ہے، اورمال کے ساتھ اس مشغولیت کی وجہ سے انسان کئی روحانی و اخلاقی بیماریوں اور گناہوں میں مبتلاہو جاتا ہے، مثلا: مال کی بے جا محبت، حرص اور بخل و غیرہ۔ان گناہوں سے حفاظت اور نفس و مال کی پاکی کے لیے زکوٰة و صدقات کو مقرر کیا گیا ہے، اس کے علاوہ زکوٰة سے مال میں ظاہری یا معنوی بڑھوتری اور برکت بھی ہوتی ہے، اس وجہ سے بھی زکوٰة کا نام زکوٰة رکھا گیا۔
- پاک ہونا: مال کو گناہوں اور بخل کی آلودگی سے پاک کرنا۔
- بڑھنا اور نشوونما پانا: مال میں خیر و برکت اور اضافے کا ہونا۔
- مخصوص مال: صاحبِ نصاب شخص کا اپنے مال (سونا، چاندی، نقدی یا مالِ تجارت) کا ایک مخصوص حصہ (ڈھائی فیصد یا چالیسواں حصہ) نکالنا۔
- مستحق کا حق: اس مخصوص مال کو شرائط کے مطابق کسی مستحق، غریب یا نادار شخص کی ملکیت میں دینا۔
- اسلام کا رکن: یہ اسلام کی پانچ بنیادوں میں سے ایک اہم مالی عبادت ہے
زکوة کی اہمیت
زکوة کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآنِ حکیم میں نماز اور زکوة کا ذكر بیشتر مرتبہ ایک ساتھ آیا ہے۔
علاوہ ازیں زکوة دینے والا خوش نصیب دنیوی واُخری سعادتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔ زکوة کی فرضیت قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اللہ پاک قرآنِ حکیم میں ارشاد فرماتا ہے
وَمَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ رِّبًا لِّیَرۡبُوَا۠ فِیۡۤ اَمۡوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرۡبُوۡا عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ وَ مَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ زَکٰوۃٍ تُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُضۡعِفُوۡنَ ﴿۳۹﴾
اور جو مال تم سود پر (اس لئے) دیتے ہو تاکہ (تمہارا مال) لوگوں کے مال میں مل کر بڑھتا رہے تو وہ اللہ کے نزدیک بڑھتا نہیں ھے اور جو مال تم زکوٰۃ میں دیتے ہو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے تو وہی لوگ (اپنا مال عند اللہ) کثرت سے بڑھانے والے ہیںo. (الرُّوْم )
ذکوة کی اھمیت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں بہت سے صحابہ کرام بالخصوص حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جیسے اولوالعزم صحابی کے اختلاف کے باوجود منکرین ذکوة سے باقاعدہ جہاد کیا تھا بہت سی آحادیث مبارکہ میں ذکوة کی اھمیت کو اجاگر کیا گیا ھے چنانچہ حدیث مبارکہ ھے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛
بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ"
ترجمہ: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:
1- اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔
2نماز قائم کرنا۔
3زکوٰۃ ادا کرنا۔
4بیت اللہ کا حج کرنا۔
5رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔
ذكوة پانچ ارکانِ اسلام میں سے ایک ھے جیسا کہ حدیث بالا میں بھی اس کا ذکر ھے ۔ اس کا تارک گناہِ کبیرہ کا مرتکب ھوتا ھے اور اس کا منکر نماز کے منکر کی طرح دائرہ اسلام سے خارج ھو جاتا ھے