زکوٰۃ کی صحیح ادائیگی کی شرائط


مالدار (صاحبِ نصاب) ہونے کے بعد جب زکوٰۃ ادا کی جائے، تو اس کی آدائیگی کی صحت کے لیے درج ذیل شرائط  کا ھونا ضروری ھے :- 


پہلی شرط : نیت کا ہونا

 زکوٰۃ کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے نیت کرنا فرض ہے، نیت کے بغیر دیا گیا مال زکوٰۃ نہیں بلکہ عام صدقہ شمار ہوگا۔ نیت کے لیے زبان سے کہنا ضروری نہیں ھوتا بلکہ دل کا ارادہ کافی ہے۔ نیت کا درج ذیل دو اوقات میں سے کسی ایک وقت موجود ہونا لازمی ہے:

۱- اپنے مال سے زکوٰۃ کی رقم علیحدہ (الگ) کرتے وقت۔

۲- مستحق/ وکیل کو زکوٰۃ کی رقم دیتے وقت۔

اگر کسی مستحق کو نیت کے بغیر پیسے دے دیے اور رقم الگ کرتے وقت بھی نیت نہیں کی تھی، تو جب تک مستحق نے وہ رقم خرچ نہ کی ہو، دل میں زکوٰۃ کی نیت کر لینے سے بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔

اگر کسی مستحق کو زکوة کی نیت کے بغیر پیسے دے دیے اور رقم الگ کرتے وقت بھی زکوة کی نیت نہیں کی تھی، تو اگر مستحق نے وہ رقم خرچ کر لی ھو تو اب نیت کرنا معتبر نہیں ھو گا  زکوة ادا نہیں ھوئی لہذا دوبارہ زکوة  ادا  کرنا ھو گی ۔ 

کسی کو قرض یا کسی اور مد میں رقم  دی ھوئی ھو اور بعد میں زکوة کی نیت کر لی یا زکوة كی مد میں کٹوتی کر لی تو یہ بھی جائز نہیں ھے اس صورت میں زکوة ادا نہیں ھوئی لہذا زکوة دوبارہ ادا کرنی پڑے گی۔ 


دوسری شرط : تملیک (مالک بنانا)

زکوٰۃ کی ادائیگی کے صحیح ھونے کے لیے مستحق کو مال کا بلا شرکتِ غیرے مالک بنانا بھی شرط ہے۔ یعنی زکوٰۃ کی رقم یا اشیاء مستحق کے ہاتھ میں اس طرح دی جائیں کہ وہ اس کا تنہا مالک بن جائے اور جیسے چاہے استعمال کرے۔اس شرط کی وجہ سے زکوٰۃ کے پیسے مساجد، مدارس کی تعمیر، سڑکوں، یا کسی فلاحی ادارے کی عمارت بنانے میں براہِ راست استعمال نہیں کیے جا سکتے (جب تک کہ وہاں تملیک کا شرعی طریقہ نہ اپنایا جائے)۔

زکوٰۃ کے پیسوں سے کسی غریب کو کھانا پکا کر کھلانے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، بلکہ اناج یا رقم اس کے ہاتھ میں دینا ضروری ہے تاکہ تملیک (مالک بنانا) پایا جائے۔

Share: