کی بات بالکل درست ہے۔ اسلام میں نہ صرف گناہ کرنا جرم ہے، بلکہ گناہ کا چرچا کرنا، فحاشی کو پھیلانا اور دل میں اس کی خواہش رکھنا بھی شدید پسندیدہ اور گناہِ کبیرہ کے زمرے میں آتا ہے۔

قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ میں اس حوالے سے واضح احکامات موجود ہیں:
  • قرآن پاک کی گواہی: سورہ النور میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں میں فحاشی (بے حیائی) پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے" (سورہ النور: 19)۔
  • گناہ کو چھپانا: رسول اللہ ﷺ نے گناہ کو چھپانے اور اس پر نادم ہونے کی تلقین فرمائی ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: "میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوائے مجاہرین (علانیہ گناہ کرنے والوں اور اس کا چرچا کرنے والوں) کے" (صحیح بخاری)۔
بے حیائی کا انتظار کرنا یا اسے دیکھ کر خوش ہونا انسان کے دل سے ایمان کی مٹھاس کو ختم کر دیتا ہے اور معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔
کیا آپ اس موضوع پر قرآنی آیات اور احادیث کے تفصیلی حوالے جاننا چاہتے ہیں، یا دل کو ایسی خواہشات سے پاک رکھنے کے طریقے (روحانی علاج
Share: