روزہ کی فرضیت اور صحت ادا کی شرائط


بعض شرائط ایسی ھیں اگر کسی شخص میں پائی جائیں تو اس پر رمضان المبارک کا روزہ فرض ھوتا ھے اور بعض شرائط ایسی ھیں اگر کسی شخص میں پائی جائیں تو اس پر رمضان المبارک کا روزہ رکھنا درست ھوتا ھے ورنہ نہیں  پہلی قسم کی شرائط  کو “ شرائطِ فرضیت “ اور دوسری  قسم کی شرائط کو “ صحتِ ادا کی شرائط “ کہا جاتا ھے ذیل میں ان کی کچھ تفصیل بیان کی جاتی ھے :- 
 
  • فرضیتِ روزہ کی تین شرائط 
  • مسلمان ھونا : روزہ صرف مسلمان پر فرض ھوتا ھے ، غیر مسلم پر رمضان المبارک کاروزہ فرض نہیں۔

  • عاقل ھونا: روزے کے لئے عاقل ہونا شرط ہے، پاگل یا مجنون پر رمضان المبارک کا روزہ فرض نہیں۔
  • بالغ ھونا : بالغ ہونا بھی رمضان المبارک کے روزے کی شرط ہے، نابالغ بچوں پر رمضان المبارک کا روزہ فرض نہیں (البتہ تربیت کے لیے انہیں روزہ رکھوایا جائےتاکہ وہ بالغ ھونے تک روزے رکھنے کے عادی ھو جائیں ) 

  • صحتِ ادا کی تین شرائط
  • صحت مند و تندرست ھونا : تندرست ہونا روزہ کی فرضیت کی شرط ہے، شدید بیمار شخص کے لیے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔ اسی طرح حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو  اگر اس سے حمل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ھو یا دودھ پلانے والی عورتوں کو دودھ کی کمی کی وجہ سے بچے کی صحت کو نقصان ھونے کا خطرہ ھو اور دودھ پلانے کا کوئی متبادل انتظام بھی نہ ھو تو یہ یہ عورتیں اگر روزہ نہ رکھیں اور بعد میں قضا کر لیں  تو اس کی بھی آجازت ھےلیکن بعد میں قضا لازمی ھے ۔

  • مقیم ہونا : مسافر پر حالتِ سفر میں روزہ فرض نہیں ہوتا، وہ بعد میں قضا کر سکتا ھے لیکن یہ آجازت اس وقت ھے جب وہ سحری کے وقت میں حالتِ سفر میں ھو ۔ اگر دن میں سفر کا ارادہ ھو لیکن سحری کے وقت مقیم ھو تو روزہ رکھنا لازمی ھے ۔ مسافرِ شرعی کو اگر سفر میں روزہ رکھنے کی وجہ سے مشقت نہ ھو تو روزہ رکھ لینا بہتر ھے ۔ جو روزے سفر کی وجہ سے رہ جائیں تو رمضان المبارک کے بعد ان کی قضا کرنا واجب ہے۔

  • حیض و نفاس سے پاک ہونا: عورتوں کے لیے حیض (ماہواری) اور نفاس (ولادت کے بعد کا خون) کی حالت سے خالی ہونا شرط ہے، ان ایام میں روزہ نہ رکھنے کا حکم  ہے البتہ بعد میں قضا لازم ہوتی ہے
Share: