گائے کی زکوة کا نصاب


فقہ حنفی جس کی بہترین ترجمانی مولانا محمد الیاس گھمن صاحب حفظہ اللہ  بھی اپنے بیانات اور کتب جیسے "زکوٰۃ کورس" میں کرتے ہیں) کے مطابق چرنے والے (سائمہ) جانوروں میں گائے اور بھینس ایک ہی جنس شمار ہوتے ہیں اور ان کا نصاب درج ذیل ہے: 

بنیادی اصول
  • بغیر نصاب کے معافی: 30 گائے یا بھینسوں سے کم تعداد پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔
  • جنس کی یکسانی: گائے اور بھینس دونوں کا حکم ایک ہی ہے، لہذا اگر دونوں مِلا کر نصاب بنتا ہو تو دونوں کو ملا لیا جائے گا۔
  • شرطِ سائمہ: یہ زکوٰۃ اس صورت میں ہے جب جانور سال کا بیشتر حصہ جنگل یا چراگاہ میں خود چرتے ہوں (سائمہ ہوں)۔ اگر وہ گھر پر پالے گئے ہوں اور ان کا چارہ مالک خود ڈالتا ہو یا وہ تجارت کے لیے ہوں، تو ان کی زکوٰۃ کا طریقہ مختلف ہوتا ہے (تجارت کی صورت میں ان کی قیمت کا ڈھائی فیصد دیا جاتا ہے)۔ [
گائے اور بھینس (نر و مادہ) ایک ہی جنس شمار ہوتے ہیں۔ ان کی زکوٰۃ کا آغاز 30 گائے سے ہوتا ہے۔ 30 سے کم پر زکوٰۃ نہیں۔ 

گائے کی زکوٰۃ کا تفصیلی نصاب (نقشہ)
  • 30 سے 39 تک: ایک سال کا بچھڑا یا بچھیا (مادہ) واجب ہے۔
  • 40 سے 59 تک: پورے دو سال کا بچھڑا یا بچھیا واجب ہے۔
  • 60 سے 69 تک: ایک ایک سال کے دو بچھڑے یا بچھیاں واجب ہیں۔
  • 70 سے 79 تک: ایک سال کا ایک بچھڑا اور دو سال کا ایک بچھڑا واجب ہے۔
  • 80 سے 89 تک: پورے دو سال کے دو بچھڑے واجب ہیں۔
  • 90 سے 99 تک: ایک ایک سال کے تین بچھڑے واجب ہیں۔
  • 100 سے 109 تک: دو سال کا ایک اور ایک سال کے دو بچھڑے واجب ہیں۔ 
  • اس کے بعد ہر دسویں اور چالیسویں عدد کے فرق سے قاعدے کے مطابق زکوٰۃ کی شرح بڑھتی جاتی ہے)۔ 
Share: