روزے کے مکروھات


روزه مكروه ہونے سے مراد   روزہ کے ثواب میں کمی آجانا ھے۔مثلاً روزہ کی حالت میں غیبت ، جھوٹ اور فحش گوئی وغیرہ کرنے سے اس کے ثواب میں کمی آجاتی ہے

 کچھ باتیں روزے میں مکروہ ھیں جن میں چند درج ذیل ہیں :


 بلا عذر کوئی چیز چکھنا یا چبانا:

بلا عذر زبان سے کوئی چیز چکھنا یا منہ میں رکھ کر چبانا (جبکہ حلق سے نہ اُتارے، ورنہ روزہ ٹوٹ جائے گا) روزہ دار کے لیے مکروہ ہے، اگر عذر سے چکھے مثلاً کسی عورت کا خاوند بد مزاج ہے اور عورت کو ڈر ہے کہ اگر سالن میں نمک کم و بیش ہوگیا تو خاوند بگڑ جائے گا تو زبان سے چکھنے میں کراہت نہیں۔

اسی طرح عورت کا چھوٹے بچے کو بلا عذر کوئی چیز چبا کر کھلانا بھی مکروہ ہے، لیکن عذر سے کھلائے کہ بچہ کے لیے دوسری نرم غذا موجود نہ ہو، نہ ہی بغیر روزہ کے کوئی دوسرا آدمی موجود ہو جو بچے کو غذا چبا کر دے تو ایسی صورت میں کراہت نہیں، اسی طرح روزہ دار اگر کھانے کی چیز خریدتے وقت زبان سے چکھ لے تو کراہت نہیں، بشرطیکہ اس چیز کی طرف اسے سخت احتیاج ہو اور بغیر چکھے خریدنے میں نقصان کا اندیشہ ہو۔

 ان تمام صورتوں میں کراہت کا حکم فرض و واجب روزہ سے متعلق تھا، نفلی روزہ ہو تو کراہت نہیں۔



 2 :۔قصداً تھوک جمع کر کے نگلنا:

منہ میں قصداً تھوک جمع کر کے نگل جانا مکروہ ہے لیکن بلا قصد جمع ہو جائے تو نگلنا مکروہ نہیں۔



 3 :۔ منجن یا پیسٹ: 

کوئلے، منجن اور ٹوتھ پیسٹ سے دانت صاف کرنا اور عورتوں کا مسی یا دنداسہ لگانامکروہ ہے، اگر ان کا کوئی جز ء حلق سے نیچے اتر گیا تو روزہ فاسد ہو جائے گا۔ 


 4 :۔بلا ضرورت دانت نکلوانا:       

روزہ میں ڈاکٹر سے دانت یا ڈاڑھ نکلوانا اور اس جگہ دواء لگانا بوقت ِضرورت ِشدیدہ جائز ہے اور بلا ضرورت مکروہ ہے، اگر دواء یا خون پیٹ کے اندر جائے اور تھوک پر غالب ہو جائے یا اس کے برابر ہو یا اس کا مزہ محسوس ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔


 5 :۔ غیبت ،جھوٹ ، چغلی اور فحش گوئی  وغیرہ کرنا 

غیبت، چغلی، جھوٹ، بہتان تراشی، بیہودہ گوئی، گالی گلوچ، ایذا رسانی اور گناہ کے تمام کام یوں تو ہر وقت ہر حال میں حرام و نا جائزہیں مگر روزہ دار آدمی کے لیے ان کی حرمت و شناعت دو چند ہو جاتی ہے اور ان کے سبب روزہ سخت مکروہ ہو جاتا ہے بلکہ حدیث کے مطابق ان گناہوں کی نحوست سے روزہ کا اجر و ثواب ہی غارت ہو جاتا ہے۔

Share: