قرآن کریم کے بنیادی پانچ نام اور وجہ تسمیہ


 علماء کرام کے متفقہ اصولوں کے مطابق قرآن کریم کے اصل اور بنیادی نام پانچ ہیں جو خود قرآن مجید کی مختلف آیات میں مذکور ہیں:


1. اَلْقُرْآنُ:

(وجہ تسمیہ: حق اور باطل اور سب سے زیادہ پڑھی جانے والی  کتاب ) 

وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ0 


2. اَلْکِتَابُ: 

جیسے سورۃ البقرہ کے شروع میں ہے: 

"ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ"۔

 (وجہ تسمیہ: چونکہ یہ حروف اور برکات کو اپنے اندر لکھے ہوئے اور جمع کیے ہوئے ہے)۔


3. اَلْفُرْقَانُ:

 "تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ"۔

 (وجہ تسمیہ: حق اور باطل، حلال اور حرام کے درمیان واضح فرق کرنے والی کتاب)۔


4. اَلذِّکْرُ:

 "اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ"۔ 

(وجہ تسمیہ: یہ انسانوں کے لیے نصیحت، یاد دہانی اور شرف کا باعث ہے)۔


5. اَلتَّنْزِیْلُ:

 "وَاِنَّہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ"۔ 

(وجہ تسمیہ: یہ اللہ رب العزت کی طرف سے نازل کردہ وحی ہے)۔


نوٹ: ان پانچ ناموں کے علاوہ جتنے بھی نام قرآن مجید کے لیے استعمال ہوتے ہیں (جیسے ھدیٰ، نور، شِفاء، رحمة وغیرہ)، وہ دراصل قرآن کریم کے آصلی نام نہیں ھیں بلکہ صفاتی نام ہیں۔

Share: