شادی کی تقریب اور عورت ومرد كا إختلاط

شادی کی تقریب اور عورت ومرد كا إختلاط
پہلے دور میں شادی کی تقریبات میں دو شامیانے لگائے جاتے تھے۔ ایک مردوں کے لئے دوسرا عورتوں کے لئے۔ مرد اپنے خيمه ميں اور عورتيں اپنے خيمه ميں رهتي تهيں كوئي مرد عورتوں كے خيمه ميں اور كوئي عورت مردوں كي خيمه ميں داخل نهيں هوتي تهي - روشن دور ترقی کرتا گیا بلكه یوں سمجھ لیجئے کہ هم بربادی کی طرف بڑھتے گئے۔ اس کے بعد ایک شامیانہ باندھا جانے لگا اور درمیان میں ایک قنات لگادی گئی، یہاں تک بھی خیر بات قابل برداشت تهي مگر دور مزید ترقی کرتا گیا۔ ہم تیزی سے تباہی کی طرف بڑھتے گئے۔ اب ایک شامیانہ لگایا جانے لگا، درمیان سے قنات ہٹا دی گئی گويا يهاں سے هماري بربادي كي إبتداء هوئي- پهر وه وقت آيا كه بڑے بڑے شادی لانز ہم بک کروانے لگے۔ اس میں بھی پہلے دو پورشن هي ہوتے تھے۔ اب نام نهاد أشرافيه كے هاں یہ بھی ختم ہوگئے۔ شرم و حیاء کا جنازہ اس طرح نکل چکا ہے کہ اب کوئی رکاوٹ نہیں۔ مرد جہاں چاہے بیٹھے، عورت جہاں چاہے بیٹھے۔ آپ کھانا کھا رہے ہیں۔ آپ کے برابر میں آکر عورت بیٹھ جائے، کوئی کہنے والا نہیں۔ آپ شرما جائیں مگر عورت نہیں شرماتی، کیونکہ وہ اس کو عیب ہی نہیں سمجھتی۔
ایسی تقریب منعقد کرنے والوں کو سوچنا چاہئے اور اپنے رسولﷺ کے اس ارشاد پر غور کرنا چاہئے۔ نبی پاکﷺ نے فرمایا۔ تین شخص ہیں جن پر اﷲ تعالیٰ نے جنت حرام فرما دی ہے۔ ایک تو وہ شخص جو ہمیشہ شراب پئے، دوسرا وہ شخص جو اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرے اور تیسرا وہ دَیُّوث (یعنی بے حیا) کہ جو اپنے گھر والوں میں بے غیرتی کے کاموں کو برقرار رکھے مسند احمد
علماء نے دَیُّوث كي تعريف إس طرح بيان كي هے كه جو اپنی بیوی بچوں کو زنا یا بے حیائی، بے پردگی، اجنبی مردوں سے اختلاط، بازاروں میں زینت سے پھرنا، بے حیائی کے گانے ناچ وغیرہ دیکھ کر باوجود قدرت کے نہ روکے، وہ بے حیاء دَیُّوث ہے
اب آئيے أن كي طرف جو شادي كي إن تقريبات كے لئے جو شادي هال بك كرواتے هيں اس ميں يقيني طور پر دو پورشن كا إهتمام هوتا هے ايك مردوں كے لئے اور ايك عورتوں كے لئے.  عام طور پر دونوں پورشن الگ الگ هوتے هيں ليكن يهاں كيا هو رها هے كه جونهي كهانے سے فراغت هوتي هے (يا شايد اس سے پهلے بهي) مرد حضرات كي إيك آّچهي خاصي تعداد عورتوں والے پورشن ميں وارد هو جاتي هے خاص كر جب دولها كو سلاميوں كے لئے عورتوں والے پورشن ميں بلا كر دلهن كے ساته بٹهايا جاتا هے جسكا بظاهر مقصد تو عورتوں كو يه سهولت فراهم كرنا هوتا هے كه وه سهولت كے ساتهـ نئى جوڑي كو مباركباد اور سلامي پيش كر سكيں ليكن اف الله :  يهاں كيا منظر هوتا هے كه إس نئى جوڑي كے اردگرد عورتيں كم اور مرد زياده هوتے هيں اورعورتيں بهي مكمل ميك آپ كيے هوئے هوتي هيں بهت سے مرد بلكه عورتيں بهي موبائل سے تصويريں بهي بنا رهے هوتے هيں كسي پرده دار عورت كا تو وهاں تك جانا هي ممكن نهيں هوتا اور دلهن كي رخصتي كے وقت بهي تقريباً يهي منظرنامه هوتا هے اب سوال يهاں يه پيدا هوتا هے كه اگر مخلوط تقريب هي برپا كرنا تهي تو پهر دو الگ الگ پورشن كا إهتمام كرنے كي كيا ضروت تهي دو الگ پورشنز كا بظاهر مطلب تو يهي هوتا هے كه عورتيں مكمل طور پر مردوں سے الگ تهلگ رهيں اور آزادي سے دوسري عورتوں كو مل جل سكيں اور پرده كو بهي برقرار ركهـ سكيں
پردے کے بارے میں خواتین کو جو حکم دیا گیا، وہ انہیں کے فائدے کے لئے ہے۔ اگر وہ سوچیں اور غور وفکر کریں۔ قرآن مجيد ميں سورۂ نور اور سورۂ احزاب میں خواتین کے پردے سے متعلق جن احکام کا ذکر کیا گیا ہے، وہ ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔ 
وَقَرْنَ فِی بُیُوتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّةِ الْأُولَی 
تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہٴ جہالت کے دستور کے موافق مت پھرو (جس میں بے پردگی رائج تھی گو بلا فحش ہی کیوں نہ ہو) 

یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِینَ یُدْنِینَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیبِہِنَّ 
اے پیغمبر اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور دوسرے مسلمانوں کی عورتوں سے بھی 
کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادریں اپنے (منھ کے اوپر) جھکا لیا کریں۔

وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْـهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ
بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ ۖ
اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں، اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں
الله تعالى هم سب كي حفاظت فرمائے اور إس مصيبت سے محفوظ فرمائے - آمين يا رب العالين
Share: