رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كا إيك محبوب عمل - إعتكاف

رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كا 
إيك محبوب عمل - إعتكاف

اعتکاف وہ محبوب عمل ہے جس کو حضور آكرم صلى الله عليه وآله وسلم نے اپنی زندگی میں ہمیشہ کیا اور امت کو اس کے کرنے کی ترغیب دی اس عمل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خاص محبوبیت اور تعلق حاصل ہوتا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے کبھی یہ سعادت نصیب فرمائی ہو تو وہ اس کے انوار و برکات کو محسوس کر سکتا ہے۔
مگر ہر عمل کی مقبولیت کے لئے دو باتیں بہت اہم ہیں ایک اخلاص اور دوسرا سنت رسول صلى الله عليه وآله وسلم کی اتباع ۔ اگر کسی عمل میں حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم کا محبوب طریقہ نہ ہو تو وہ عمل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو ۔ اللہ کے ہاں اس کی قیمت ایک ذرہ کے برابر بھی نہیں ہوتی۔ آ ج زندگی کے ہر شعبے سے نبوی تعلیمات ختم ہوتی جا رہی ہیں ۔ یہاں تک کہ عبادات کے بارے میں بھی ہمارا وہ حال بن چکا ہے کہ حضور صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا تھا کہ ایسا وقت بھی آئے گا کہ بھری مسجد میں ایک شخص بھی خشوع سے نماز پڑھنے والا نہ ملے گا۔
اعتکاف بہت ہی اہم عبادت ہونے کے ساتھ ساتھ بہت نازک عبادت بھی ہے۔ کہ تھوڑی لغزش سے یہ فاسد ہو جاتی ہے ایک سیکنڈ کے لیے بھی شرعی ضرورت کے بغیر اعتکاف میں مسجد سے باہر نکل گیا تو اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔
عمومی طور پر اعتکاف میں جو حال دیکھا جاتا ہے اس کو دیکھا جائے تو اکثر لوگوں کا اعتکاف نہیں ہوتا۔ معمولی معمولی بہانے سے مسجد سے باہر آنا جانا لگا رہتا ہے۔ اور خاص طور پر نوجوان مسجد میں اعتکاف کے دوران زیادہ وقت دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں ہی گزارتے ہیں۔ اِلاَّ مَا شَآءَ اللّٰہُ
إعتكاف شروع كرنے سے پهلے إعتكاف كرنے والوں كيلئےموجودہ اعتکاف کی خامیوں اور صحیح اعتکاف کا طریقہ معلوم كرنا بهي بهت ضروري هے تا کہ اعتکاف میں بیٹھنے والے اپنا وقت قیمتی بنائیں۔ اور یہ اہم عبادت صحیح طریقے سے ادا ہو سکے۔
اس کے لیے علماء كرام سے مسائل معلوم كيے جائيں اگر يه ممكن نه هو تو اکابر کی کتابوں سے بهي مسائل اخذ كيے جاسكتے هيں ۔خاص کر محترم شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی کتاب"احکام اعتکاف" بهت هي مفيد كتاب هے إس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جاسكتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس حقیر سی کوشش کو قبول فرما کر میری ، میرے والدین، میرے أفراد خانه ، اساتذہ، مخلص دوستوں اور رشته دارونکی بخشش فرمائیں ۔ آمین۔


اعتکاف كي تعريف اور أقسام

تعريف 
اِعْتَکَفَ عربی زبان میں کسی مکان میں بند ہونے کو کہتے ہیں۔(مصباح اللغات ص ۵۷۰
اور شریعت کی اصطلاح میں اعتکاف کہتے ہیں: "مسجد میں ٹھہرنا روزے اور اعتکاف کی نیت کے ساتھ " (ہدایہ۱/۲۱۱

اعتکاف کی قسمیں
اعتکاف کی تین قسمیں ہیں۔
 واجب اعتکاف
 سنّت مؤکدہ اعتکاف
مستحب اور نفل اعتکاف

واجب اعتکاف
اگر کسی نے اعتکاف کی نذر مان لي هو تو وہ اعتکاف واجب ہو گیا هر صورت كرنا هوگا۔
نذر کی دو قسمیں ہیں۔

أ۔ نذر مطلق
مثلاً اس طرح نذر کرے کہ میں اللہ تعالیٰ کے لئے دس دن یا سات دن كا اعتکاف کروں گا۔

ب ۔ نذر معلّق
کوئی یہ شرط لگائے کہ اگر میر ا فلاں کام ہو گیا تو میں اللہ تعالیٰ کے لئے دس دن كا اعتکاف کروں گا۔
تو اب نذر کی دونوں صورتوں میں اعتکاف واجب ہو گیا ۔ اب اس اعتکاف کے ساتھ روزہ بھی لازم ہو گیا اگرچہ یہ نیت کرے کہ روزہ نہ رکھوں گا اسی وجہ سے فقہا ء نے مسئلہ لکھا ہے کہ:
کوئی شخص رات کے اعتکاف کی نیت کرے تو وہ لغو سمجھی جائے گی کیونکہ رات روزہ کا محل نہیں ہاں اگر رات دن دونوں کی نیت کرے یا صرف دن کی نیت کرے تو پھر رات ضمناً داخل ہو جائے گی اور رات کو بھی اعتکاف کرنا ضروری ہو گا۔

 سنّت مؤکدہ اعتکاف
رمضان کے آخری عشرة يعني 21ويں رمضان كي رات(غروب آفتاب ) سے آخر رمضان المبارك تك کا اعتکاف سنّت مؤکدہ علی الکفایہ ہے یعنی محلہ یا بستی میں بعض لوگوں کے کر لینے سے سب کے ذمہ سے ادا ہو جاتا ہے اور اگر کوئی بھی نہ کرے تو سب گناہگار ہوں گے۔ إس إعتكاف كے لئے روزه كا هونا بهي شرط هے اگر دوران إعتكاف كسي بهي وجه سے روزه ٹوٹ گيا تو إعتكاف بهي ختم هوجائے گا اور إس كي قضا ديني بهي ضروري هوگي

 مستحب اور نفل اعتکاف
مستحب اور نفل اعتکاف کے لئے کوئی مقدار اور وقت متعین نہیں جتنا جي چاهے كرلے ۔تھوڑی دیر کے لئے بھی نفل اعتکاف ہو سکتا ہے جب مسجد میں داخل ہو ساتھ ساتھ اعتکاف کی نیت بھی کر لے تو جب تک مسجد میں رہے گا اعتکاف کا ثواب بھی ملتا رہے گا۔ إس إعتكاف كے لئے روزه كا هونا بهي ضرورى نهيں
نیت دل میں ہوتی ہے۔ دل میں یہ عزم کر لے کہ جب تک میں مسجد کے اندر ہو ں اعتکاف کی نیت کرتا ہوں زبا ن سے نیت کرنا فرض اور ضروری نہیں اصل نیت دل کے ارادے کا نام ہے ۔ ہاں زبان سے بھی کہہ لے تو بہتر ہے۔ مسجد میں داخل ہوتے ہوئے اس طرح داخل ہو کہ دایاں پاؤں پہلے مسجد میں رکھے اور دعا پڑھے۔
بِسْمِ اللّٰہِ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ اَللّٰہُمَّ افْتَحْ لِیْ ٓ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ

اس کے ساتھ ساتھ اعتکاف کی بھی دعا پڑھ لے۔
نَوَیْتُ الْاِعْتِکَافَ مَا دُمْتُِ فیْ ھٰذَه الْمَسْجِدِ

اعتکاف کرنے کا طریقہ
جس کا اعتکاف کرنے کا ارادہ ہو وہ رمضان کی بیس (۲۰) تاریخ کا سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے اپنی ضروریات ، بستر ، کپڑوں وغیرہ کے ساتھ مسجد میں آ جائے اگر بیس تاریخ کا سورج غروب ہونے کے بعد کوئی آیا تو اس کا سنت اعتکاف ادا نہ ہو گا بلکہ وہ نفلی اعتکاف شمار ہو گا۔
عورت اگر اعتکاف کرتی ہے تو وہ بھی بیس تاریخ کا سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے اعتکاف کی جگہ میں چلی جائے۔ اگر بیس تاریخ کا سورج غروب ہونے کے بعد آئی تو اس کا سنت اعتکاف ادا نہ ہو گا بلکہ وہ نفلی اعتکاف شمار ہو گا۔

معتكف عورتوں کے لئے خاص ہدایت
عورت اگر اعتکاف کرتی ہے تو گھر کی مسجد میں کرے۔ یعنی اس جگہ جس کو گھر میں عبادت کے لئے خاص کیا گیا ہے۔ اگر کسی جگہ کو گھر میں عبادت کے لئے خاص نہیں کیا گیا تو پھر کسی جگہ بھی اعتکاف کر سکتی ہے ۔ مگر بہتر یہ هے کہ وہ پورے کمرے کو اعتکاف کے لئے خاص کرے۔اگر کمرے کا ایک حصہ اعتکاف کے لئے خاص کیا تو اس میں مشقت ہو گی۔ کیونکہ معتکف (اعتکاف کرنے والا ) اگر بغیر کسی شرعی اور طبعی حاجت کے ایک سیکنڈ کے لئے بھی اعتکاف کی جگہ سے نکلا تو اس کا اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے۔ اگر پورا کمرہ اعتکاف کے لئے خاص کر لے تو اس میں آسانی ہو گی۔ پو رے کمرے میں جہاں چا ہے ذکر و عبادت ، تلاوت وغیرہ کر سکے گی۔
مگر يهاں إيك مسئله ياد ركهنا ضروري هے كه عورت کے اعتکاف کے لئے شوہر سے اجازت لینا ضروی ہے ۔ اور اسی طرح عورت کا حیض و نفاس سے پاک ہونا بھی ضروری ہے البتہ استحاضہ کی حالت میں ہو تو عورت اعتکاف کر سکتی ہے ۔

إعتكاف كا فاسد هونا
اعتکاف کے لئے الگ کپڑا وغيره باندھنا ضروری تو نہیں البتہ بہتر ضرور ہے اور سنت سے ثابت بھی ہے۔ کہ اس میں یکسوئی نصیب ہوتی ہے۔ اور اپنی مرضی سے آدمی اعمال اور عبادات کر سکتا ہے۔
اعتکاف کا رکن اور فرض مسجد کے اندر ٹھہرنا ہے اس لئے وہی شخص اعتکاف میں بیٹھے جو مسجد میں بیٹھنے کی پابندی کر سکے اگر بغیر شرعی اور طبعی حاجت کے ایک سیکنڈ بھی مسجد سے باہر نکلا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اعتکاف کرنے والے نوجوان لڑکے ہوتے ہیں۔وہ اپنی مرضی سے مسجد میں آتے ہیں اور اپنی مرضی سے مسجد سے باہر نکلتے ہیں اور وضو کرنے کے بعد بھی دیر تک دوستوں سے گپ شپ لگاتے رہتے ہیں۔حالانکہ وضو سے فارغ ہونے کے بعد ایک سیکنڈ بھی ٹھہرا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ اس سے معلوم ہو ا کہ آج کل مسجدوں میں جو اعتکاف ہو رہا ہے ان میں اکثر لوگوں کا اعتکاف نہیں ہوتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اعتکاف میں ان لوگوں کو بٹھایا جائے جو مسجد میں ٹھہرنے کی پابندی کر سکیں۔اور عورتيں بهي وه مسنون إعتكاف كريں جو إعتكاف والي جگه پر بيٹهنے كي پابندي كرسكيں

إعتكاف ميں وقت كو قيمتي بنانا 
عورت گھر میں اگر اعتکاف بیٹھی ہے تو وہ بھی اس کی پابندی کرے کہ بغیر شرعی اور طبعی ضرورت کے اعتکاف کے کمرے اور اعتکاف کی جگہ سے نہ نکلے۔ اگر نکلی خواہ ایک سیکنڈ کے لئے ہی ہو اعتکاف فاسد ہو جائے گا- اعتکاف اصل میں اسی پابندی کا نام ہے۔۔
چوبیس گھنٹے عبادت کرنا کوئی ضروری نہیں، جتنی ہمت ہو عبادت کرے ،پھر آرام کرلے مگر یہ ضروری ہے کہ اعتکاف کے دوران فضول باتوں ، غیبت ، چغلی اور جھوٹ وغیرہ سے مكمل پرہیز کرے جتنا ہو سکے اپنا وقت نماز، تلاوت، ذکر و عبادت ، دینی کتابوں کے مطالعے اور دعاؤں میں گزارے۔لوگوں سے زیادہ اختلاط نہ کرے جب دوست اور ساتھی ساتھ بیٹھیں گے تو شروع میں تو جائز باتیں ہوں گی۔ مگر آہستہ آہستہ غیبت اور لایعنی باتوں میں مشغول ہو جائیں گے اور آج کل ویسے بھی ہماری مجالس غیبت اور فضول باتوں سے خالی نہیں ہوتیں اس لئے اگر کوئی دینی مجلس ہو ،سبق کا سیکھنا سکھانا ہو تو وہ بہت بہتر ہے ورنہ تنہائی اختیار کر کے اپنا وقت ذکروعبادت میں خرچ کیا جائے۔

دورانِ إعتكاف معمولات
اعتکاف کرنے والے کو تکبیر تحریمہ کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ تہجد، اشراق، چاشت، اوابین، صلوٰۃ التسبیح، تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد کا بھی خوب اہتمام کرے۔
جس شخص کے ذمه گزشتہ نمازیں قضا باقی ہیں وہ زیادہ نوافل پڑھنے کے بجائے اپنا وقت قضا نمازوں میں گزارے۔ تاکہ موت سے پہلے پہلے فرائض ، واجبات ذمےّ سے ساقط ہو جائیں۔
اخیر عشرہ سارے کا سارا ہی بہت قیمتی ہے مگر اس کی طاق راتوں کی فضیلت بہت زیادہ ہے لہٰذا طاق راتوں کو زیادہ سے زیادہ شب بيداري کرنے کی کوشش کرے۔ان میں عبادات اور دعا میں خوب کوشش کرے اور کثرت سے شب قدر کی یہ دعا پڑھتا رہے۔
اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ
"اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے معافی کو پسند کرتا ہے مجھے معاف فرما لے"
موقعہ ہو تو مسجد کی خدمت اور صفائی کرنے کو سعادت سمجھے مگر مسجد سے باہر قدم نہ رکھے اگر ایک سیکنڈ کے لئے بھی باہر نکل گیا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا اس لئے اندر اندر مسجد کی خدمت کر سکتا ہے۔
کوشش کرے کہ اس کے کسی عمل سے کسی نمازی کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ مثلاً اگر کوئی نمازی نماز پڑھ رہا ہو تو اونچی آواز میں دعا یا تلاوت نہ کرے۔ اپنی قیمتی اشیاء کو سامنے نہ چھوڑے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اعتکاف کرنے والے موبائل فون پر لوگوں سے مسجد کے اندر گپ شپ لگاتے رہتے ہیں یہ مسجد کے اندر گناہ ہے۔اسی طرح مسجد کے اندر موبائل فون پر گیم کھیلنا بھی گناہ ہے۔مسجد صر ف اللہ کی عبادت کے لئے ہے۔
البتہ سخت ضرورت ہو، کو ئی چیز منگوانی ہو ، گھر کے لئے کوئی چیز خریدنی ہو ،تو موبائل فون پر بتا سکتے ہیں۔اسی طرح کوئی عالمِ دین مسجد میں بیٹھ کر موبائل فون پر مسائل بتاتا ہے تو وہ بھی جائز ہے۔ مگر دنیاوی باتیں کرنا گناہ ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ مسجد میں بیٹھ کر دنیاوی باتیں کرنے سے نیکیاں اس طرح مٹ جاتی ہیں۔ جس طرح آگ خشک لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔

معتكف كا دورانِ إعتكاف سونا
اعتکاف کرنے والوں كے لئے سونا منع نهيں هے البته ان کو چاہیے کہ سونے کے لئے ایسے وقت کا انتخاب کریں کہ جو نمازیوں کے مسجد میں آنے کا وقت نہ ہو۔ ورنہ لوگ یہ بد گمانی کریں گے کہ اعتکاف والے ہر وقت مسجد میں سوئے رہتے ہیں۔ لہٰذا لوگوں کو یہ موقع بھی نہ دینا چائیے۔ مسجد میں سوئیں تو موٹا کپڑا بچھا کر سوئیں اور اپنی قیمتی اشیاء مثلاً موبائل فون ، پیسوں کی خود حفاظت کر کے سوئیں تا کہ آپ کی وجہ سے کوئی دوسرا شخص گناہگار نہ ہو جائے۔

دورانِ إعتكاف تعليم و تعلم كا عمل
مسجد میں اگر امام صاحب عالمِ دین ہوں تو اس کو اپنی سعادت سمجھیں۔اور ان سے روزانہ تھوڑا وقت لے کر دین سیکھیں۔ تاکہ ان دس دنوں میں کم از کم نماز ، کلمے وغیرہ تو ٹھیک ہو جائیں۔ اور اگر دین دار، سمجھ دار ساتھی ہوں تو جماعت کی ترتیب بنا کر روزانہ اجتماعی تعلیم فضائل اعمال ، فضائل صدقات اور حیات صحابہ سے ہو اور اس کے بعد کھانے پینے ، سونے جاگنے کی سنّتوں کے مذاکرے کریں ۔

مسجد کی حد اور معتكف كي إحتياط
مسجد وہ حصہ ہے جسے مسجد بنانے والوں نے مسجد قرار دے کر وقف کیا ہو۔ لہٰذا بعض مقامات کو ہم تو مسجد کہتے ہیں مگر وہ شرعاً مسجد كے حكم ميں نہیں ہوتے ۔ مثلاً وضو خانہ، غسل خانہ، استنجا خانہ ، امام کا حجرہ وغیرہ ان پر مسجد کے احکام جاری نہ ہو ں گے۔ لہٰذا اگر معتکِف ان جگہوں میں بغیر کسی شرعی حاجت کے چلا گیا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
عام طور پر مسجد کی سیڑھیاں بھی مسجد سے باہر ہوتی ہیں ۔ جن کے ذریعے اوپر منزل پر جاتے ہیں لہٰذاان سیڑھیوں پر بھی بغیر شرعی حاجت کے گیا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ ہاں وہ سیڑھیاں اگر مسجد کے اندر ہو ں تو پھر ان سیڑھیوں پر جانا اور ان کے ذریعے اوپر والی منزل پر بھی جانا جائز ہے۔
بعض مساجد میں امام کا حجرہ اور بچوں کے پڑھنے کی جگہ بھی مسجد سے باہر ہوتی ہے۔ وہاں جانے سے بھی اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ اسی طرح بعض مساجد میں سامان رکھنے کے سٹور اور گودام بھی مسجد سے باہر ہوتے ہیں وہاں جانے سے بھی اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
بعض مساجد کے صحن میں جو حوض بنا ہوتا ہے وہ بھی مسجد سے خارج ہوتا ہے وہاں جانے سے بھی اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔اسی طرح بعض مساجد میں کُلّی وغیرہ کرنے کے لئے جوتوں کی جگہوں پر واش بیسن لگے ہوتے ہیں ۔ وہ مسجد سے عموماً باہر ہوتے ہیں ۔ وہاں جاکر کُلّی کرنے سے بھی اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
اسی طرح معتکف نے افطاری کی، کھانا کھایا، تو صرف ہاتھ دھونے اور کُلّی کرنے کے لیے وضو خانے نہیں جا سکتا۔ گیا تو اعتکاف ٹو ٹ جائے گا۔ ہاں وضو کرنے جائے تو ساتھ میں ہاتھ بھی دهل جائیں گے اور کُلّی بھی ہو جائے گی ۔
حرمين شريفيں ميں بهي بعض مقامات إيسے هيں جو مسجد كے حكم ميں نهيں هيں ليكن عوام الناس أن كو مسجد سمجهـ كر وهاں بغير شرعي حاجت كے آتے جاتے رهتے هيں جس سے مسنون إعتكاف باقي نهيں رهتا جن لوگوں كو الله تعالى حرمين شريفين ميں إس سعادت كي توفيق عنايت فرمائے تو انهيں چاهيے كه نهايت باريك بيني سے إن تمام چيزوں كي جانكاري حاصل كرے اور پهر پوري إحتياط سے اپنا وقت وهاں گزارے حرمين شريفين ميں رش هونے كي وجه سے بعض لوگ لڑتے جهگڑتے اور إيك دوسرے كو جگت بازي كرتے بهي نظر آتے هيں إن تمام چيزوں سے معتكف كا اپنے آپ كو بچانا بهت ضروري هے
إسي طرح إعتكاف كرنے والي عورت پر بهي درج بالا سب پابندياں هوں گي مسجد كي طرح اس كي مقرر كرده جگه اس كا ٹهرنے كا مقام هے وه اس مقام كو اگر بغير شرعي يا طبيعي حالات كے إيك سيكنڈ كے لئے بهي چهوڑے گي تو إعتكاف فاسد هوجائے گا
لهذا إعتكاف كرنے والے خواتين حضرات كو بهت إحتياط سے يه عشره گزارنا چاهيے جب وقت فارغ كرليا هے تو پهر بے إحتياطي سے إس عظيم دولت كو ضائع هونے سے بچانا بهت ضروري هے إسي طرح معتكف كو اپني زبان كي بهي حفاظت كرني ضروري هے اگر كوئي خلاف طبيعت كچهـ كهه دے تو معتكف كو خاموشي أختيار كرليني چاهيے تاكه إعتكاف كے ثواب ميں كوئي كمي واافع نه هو الله تعالى سب كو عمل كي توفيق عنايت فرمائے - آمين يا رب العلمين

معتکف کو پیش آنے والی حاجتیں
ان حاجتوں کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔
 حاجت شرعیہ -  حاجت طبعیہ -  حاجت ضروریہ
 حاجت شرعیہ
جن اُمور کی ادائیگی شرعاً فرض و واجب ہو اور اعتکاف کی جگہ میں معتکِف انھیں ادا نہ کر سکتا ہو ان کو حاجتِ شرعیہ کہتے ہیں مثلاً جمعہ کی نماز۔
مسئلہ: معتکِف کی مسجد میں جمعہ کی نماز نہ ہوتی ہو تو اس کو جامع مسجد میں اتنی دیر پہلے جانا چاہے کہ خطبہ شروع ہونے سے پہلے وہاں دو رکعت نفل تحیۃ المسجد اور چار سنت اطمینان سے پڑھ لے پھر جمعہ کے فرضوں کے بعد چھ رکعت سنت اور نفل پڑھ کر اپنی اعتکاف والی مسجد آ جائے۔
مسئلہ: جمعہ کی سنتیں پڑھ کر اگر جامع مسجد میں کچھ دیر ٹھہر گیا تو جائز ہے لیکن بہتر نہیں۔ اسی طرح اگر جامع مسجد میں جانے کے بعد بقیہ اعتکاف وہیں پورا کر لے تو یہ بهي جائز تو ہے مگر بہتر نہیں بلکہ مکروہ ہے۔ (مسائل اعتکاف

معتکف کے لئے اذان
 اگر کوئی مؤذن اعتکاف میں بیٹھا ہو اور اسے اذان دینے کے لئے مسجد سے باہر جانا پڑے تو اس کے لئے بھی باہر نکلنا جائز ہے۔ مگر اذان کے بعد نہ ٹھہرے۔
 اگر کوئی مؤذن باقاعدہ مؤذن تو نہیں ہے لیکن کسی وقت کی اذان دینا چاہتا ہے تو اس کے لئے بھی اذان کی غرض سے باہر نکلنا جائز ہے۔
 مسجد کے مینارہ کا دروازہ اگر مسجد کے اندر ہو تو معتکِف کے لئے مینارہ پر چڑھنا مطلقاً جائز ہے کیونکہ وہ مسجد ہی کا حصہ ہے البتہ اگر دروازہ باہر ہو تو اذان کی ضرورت کے سوا اور كسي بهي ضرورت كے لئے اس پر چڑھنا معتکف کے لئے جائز نہیں۔ (احکامِ اعتکاف

 حاجتِ طبعیہ
ایسے اُمور جن کے کرنے کے لئے انسان مجبور ہے اور وہ مسجد میں نہیں ہو سکتے ان کو حاجت طبعیہ کہتے ہیں جیسے پیشاب ، پاخانہ ، استنجاء، غسلِ جنابت وغیرہ ۔
مسئلہ: طبعی ضرورت کے لئے جب معتکف مسجد سے باہر چلا جائے تو حتی الامکان ایسی جگہ رفع حاجت کرے جو قریب ہے یا خود معتکِف کا گھر دور ہے اورکسی بے تکلف دوست کا گھر قریب ہے یا خود معتکفِ کے دو گھر ہیں ایک قریب دوسرا دور ، یا مسجد کے قریب سرکاری بیت الخلاء ہے ،یا مسجد کے قریب بیت الخلاء بنا ہوا ہے تو ان میں سے جو بیت الخلاء بھی مسجد سے قریب ہو اس میں رفع حاجت کرنی ہوگی البتہ قریب والی جگہ سے طبیعت مانوس نہ ہو، جس کی وجہ سے رفع حاجت پوری نہ ہوتی ہو ، خواہ بتقاضائے طبیعت یا دوسرے آدمی کو تکلیف ہوتی ہو، پردہ کرانا پڑتا ہے یا کوئی اور دشواری ہے تو دور جگہ جہاں پر دشواری نہ ہو چلا جانا جائز ہے۔
مسئلہ:معتکف کو حاجتِ طبعیہ سے فارغ ہوتے ہی مسجد میں آ جانا چاہیے۔ بلا وجہ گھر میں رہنا جائز نہیں۔
مسئلہ:معتکف کی ریح (ہوا) خارج ہونے لگے اگر يه ممکن ہو سکے تو اس کو مسجد سے باہر جا کر خارج کرے تاكه دوسر لوگ پريشان نه هوں ۔ اگر بلا اختیار مسجد ہی میں خارج ہو جائے تو بھی مضائقہ نہیں معذور ہے۔
مسئلہ:جب معتکف حاجت شرعیہ اور حاجت طبعیہ کے لئے جائے تو اپنی عادت کے مطابق چال سے چلے، جلدی چلنا ضروری نہیں ، بلکہ ذرا ہلکی آہستہ چال سے چلنا اس کے لئے بہتر ہے تا کہ چلتے ہوئے سلام کرنے اور جواب دینے میں آسانی ہو ۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ جس کو اس کا معتکف ہونا معلوم نہیں وہ اس کو رُکانا چاہتا ہے، یا خود اس کو جواب دینا ہوتا ہے تو ایسی صورت میں ٹھہرے بغیر یہ کام ہو سکتے ہیں تیز چال میں ٹھہر جانے یا کسی کے روک لینے کا اندیشہ ہے اور ایک منٹ بھی ٹھہر جائے تو اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے۔ اس لئے ہلکی چال بہتر ہے۔ ورنہ ہر چال چلنا جائز ہے۔
مسئلہ:وضو کرنے کی ایک جگہ قریب ہے اور دوسری جگہ ذرا دور ہے تو قریب والی جگہ بہتر ہے اگر کوئی دشواری ہو تو دور بھی جا سکتا ہے اسی طرح پیشاب پاخانے، استنجاء خانے اور غسل خانے کا حکم ہے کہ جب تک قریب ترین جگہ پر ضرورت پوری ہوتی ہوتو بلا ضرورت دور نہ جائے۔ ( مسائلِ اعتکاف 
مسئلہ:وضو کرنے کے بعد اگر کوئی شخص کسی سے بات کرنے کے لئے رکا یا موبائل فون پر بات کرنے لگا یا نسوار ڈالنے ، سگریٹ پینے کے لئے رکا تو ایک لمحہ کے لئے رکنے سے بھی اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔

معتکف کا غسل
معتکف کو غسلِ جنابت کے لئے مسجد سے باہر جانا جائز ہے۔اور غسل جنابت کے سوا کسی اور غسل کے لئے مسجد سے نکلنا جائز نہیں۔جمعہ کے غسل یا ٹھنڈک کی غرض سے غسل کرنے کے لئے مسجد سے باہر جانا جائز نہیں۔اس غرض سے مسجد سے باہر نکلے گا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ ( احکامِ اعتکاف
وضو کے بعد معتکف مسواک، منجن وغیرہ کر سکتا ہے لیکن اگر صرف مسواک یا منجن کے لئے مسجد سے نکلا تو اعتکا ف ٹوٹ جائے گا۔ (شمائل کبرٰی ۸ /۲۰۰

 حاجتِ ضروریہ
معتکف کو اچانک کوئی ایسی شدید ضرورت پیش آ جائے جس کی وجہ سے اسے اعتکاف کی جگہ چھوڑنا پڑجائے تو ایسی باتوں کو حاجتِ ضروریہ کہتے ہیں۔
مثلاً مسجد گرنے لگے ۔ اور معتکف کو دب جانے کا خطرہ ہو جائے یا ظالم حاکم گرفتار کرنے آ جائے یا ایسی شہادت دینا ضروری ہو گیا ہو جو شرعاً معتکف کے ذمے واجب ہے کہ مدعی کا حق اسکی شہادت پر موقوف ہے دوسرا کوئی گواہ نہیں ہے اگر معتکف گواہی نہ دے تو مدعی کا حق فوت ہو جائے گا ۔ یا کوئی آدمی یا بچہ پانی میں ڈوب رہا ہے یا آگ میں گر پڑا ہے یا خطرہ ہے یا سخت بیمار ہو گیا یا گھر والوں میں سے کسی کی جان، مال ، آبرو کا خطرہ ہے یا جنازہ آ گیا ہے۔ اور جنازہ کی نماز کوئی بھی پڑھانے والا نہیں یا جہاد کا حکم ہو گیا، اور جہاد میں شریک ہونا فرض عین ہو گیا یا کسی نے زبردستی ہاتھ پکڑ کر مسجد سے نکال دیا یا جماعت کے نمازی سب چلے گے اب مسجد میں جماعت کا انتظام نہ رہا اس قسم کی سب حاجتیں حاجاتِ ضروریہ کہلاتی ہیں۔اکثر صورتوں میں اعتکاف ترک کرنا فرض اور واجب ہو جاتا ہے۔ اور اعتکاف چھوڑنے کا گناہ بھی نہیں ہوتا ۔ البته اعتکاف چھوڑ دینے کی قضا کرنا ہو گی۔

اعتکاف کے مکروہات و ممنوعات

اعتکاف کے مکروہات


 بالکل خاموشی اختیار کرنا
کیونکہ شریعت میں بلا وجه بالکل خاموش رہنا کوئی عبادت نہیں ، اگر خاموشی کو عبادت سمجھ کر کرے گا تو بدعت کا گناہ ہو گا۔ البتہ اگر اس کو عبادت نہ سمجھے، لیکن گناہ سے اجتناب کی خاطر حتی الامکا ن خاموشی کا اہتمام کرے تو اس میں کچھ حرج نہیں ہے۔

 فضول اور بلا ضرورت باتیں کرنا
فضول اور بلا ضرورت باتیں کرنا بھی مکروہ ہے۔ ضرورت کے مطابق تھوڑی بہت گفتگو تو جائز ہے، لیکن مسجد کو فضول گوئی کی جگہ بنانے سے پرہیز لازم ہے۔

سامانِ تجارت مسجد میں لا کر بیچنا
سامانِ تجارت مسجد میں لا کر بیچنا بھی مکروہ ہے۔

 اعتکاف کے لئے مسجد کی جگہ گھیر لینا
اعتکاف کے لئے مسجد کی اتنی جگہ گھیر لینا جس سے دوسرے معتکفین یا نمازیوں کو تکلیف پہنچے مکروہ ہے۔

 اٌجرت پر کتابت کرنا یا کپڑے سینا یا تعلیم دینا
اجرت پر کتابت کرنا یا کپڑے سینا یا تعلیم دینا بھی معتکف کے لئے فقہاء نے مکروہ لکھا ہے۔ البتہ جو شخص اس کے بغیر ایام اعتکاف کی روزی بھی کما نہ سکتا ہو اس کیلئے بیع پر قیاس کر کے گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ ( احکامِ اعتکاف 

اعتکاف کے ممنوعات
درج ذیل باتیں اعتکاف میں ممنوع اور حرام ہیں ۔

   بیوی سے تعلقات رکھنا
بیوی سے تعلقات رکھنا حرام هے بلكه شہوت سے اس کو چھونا بھی حرام ہے۔

  بلا ضرورت شرعي مسجد سے باهر جانا 
بلا ضرورت شرعي مسجد سے باهر جانا بهي ممنوع هے چاهے إيك سيكنڈ كيلئے هي كيوں نه هو (مسائلِ اعتکاف

متفرق ممنوعات 
بعض باتیں ویسے بھی حرام ہیں مگر مسجد میں اور اعتکاف کی حالت میں ان کو کرنا اور بھی سخت حرام ہے۔ مثلاً غیبت کرنا، چغلی کرنا، لڑنا اور لڑانا، جھوٹ بولنا اور جھوٹی قسمیں کھانا، بہتان لگانا، کسی مسلمان کو ناحق ایذا پہنچانا، کسی کے عیب تلاش کرنا ، کسی کو رسوا کرنا، تکبر اور غرور کی باتیں کرنا، ریا کاری کرنا وغیرہ۔

اعتکاف کے مباحات
بعض باتیں اعتکاف کی حالت میں مباح اور جائز ہیں لهذا أن كے كرنے ميں كوئي حرج نهيں هے

  أ- كھانا پینا

  ب - سونا اور آرام كرنا

 ج - ضروری خریدو فروخت کرنا بشرطیکہ سامان مسجد میں نہ لایا جائے يعني سامان تجارت باهر كهيں موجود هو مسجد ميں معتكف أسكا سودا كرسكتا هے اور خریدو فروخت ضروریاتِ زندگی کے لئے ہو لیکن مسجد کو باقاعدہ تجارت گاہ بنانا جائز نہیں۔

 د - حجامت کرانا بشرطیکہ بال مسجد میں بالكل نہ گریں 

 ه - بات چیت کرنا لیکن فضول گوئی سے پرہیز ضروری ہے۔

  و - نکاح یا کوئی عقد کرنا۔

  ز - مسجد ميں کپڑے بدلنا، خوشبو لگانا، سر میں تیل لگانا۔

  ح - مسجد میں کسی مریض کا معائنہ کرنا اور نسخہ لکھنا یا دوا بتا دینا۔

  ط - قرآن کریم یا دینی علوم کی تعلیم دینا۔

  ي - كپڑے دھونا اور کپڑے سینا البتہ کپڑے دهوتے وقت پانی مسجد سے باہر گرے اور خود مسجد میں رہیں۔ یہی حکم برتن دهونے کا بھی ہے - احکام اعتکاف 

  ك - ناخن کاٹنا، مونچھیں کاٹنا، خط بنانا جائز ہے لیکن يه إحتياط لازمي هے كه بال ، ناخن وغیرہ مسجد میں نہ گریں۔ (مسائلِ اعتکاف 

  ل - حسبِ ضرورت سامان مسجد میں رکھنا جائز ہے تاهم فضول سامان ركهنے سے گريز كيا 
جا ئے
۱۳ اگر مجبوري هو تو چارپائی بھی مسجد میں رکھ سکتا ہے۔ (شمائل کبرٰی

اعتکاف کے مفسدات يعنی اعتکاف کو فاسد کرنے والی چیزیں
بعض باتوں سے اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے۔
 أ- معتکف اگر مسجد سے یا عورت اپنی اعتکاف کی جگہ سے حاجتِ شرعیہ اور حاجتِِ طبعیہ کے بغیر نکلے تو اس سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔

  ب- اگر بھول کر نکل جائے تب بھی اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے

  ج- كسی نے زبردستی باہر نکا ل دیا تب بھی اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے مگر اس صورت میں گناہگار نہ ہو گا۔ بعد میں قضا کر لے۔


 د- اگر میت کے نہلانے، کفن دینے، جنازہ پڑھنے گیا تب بھی اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔
(مسائلِ اعتکاف 

  ه- مریض کی عیادت کے لئے نکلا خواہ بیٹا، بیوی کیوں نہ ہو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔

  و- كسی کے بارے میں گواہی دینا ضروری تھا اس کے لئے مجبورًا نکلا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔

  ز- اگر روزہ کسی وجہ سے فاسد ہو گیا تو اعتکاف بھی فاسد ہو جائے گا۔

  ح- اپنی بیماری کے علاج کے لئے ڈاکٹر کے پاس گیا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا

ط - پاخانہ، پیشاب کے لئے نکلا فارغ ہونے کے بعد ٹھہر گیا ،رک کر کسی سے باتیں کرنے لگا تو اعتکاف فاسد ہو گیا۔
 ي - بال اور حجامت بنوانے کے لئے نکلا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا

 ك - جمعہ کے غسل کے لئے جو مستحب ہے يا غسل تبريد کے لئے مسجد سے باہر غسل خانہ میں جانے سے اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔

 ل - منجن یا مسواک کرنے ( کلی کرنے) کے لئے مسجد سے باهر نکلا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔
م-  بیڑی ، سگریٹ پینے (اسی طرح نسوار ڈالنے) کے لئے مسجد سے باہر نکلا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔ اور مسجد میں ان چیزوں کا استعمال جائز نہیں۔

ن -  گاؤں میں جہاں جمعہ واجب نہیں اگر اس مسجد سے معتکف جمعہ پڑھنے کے لئے نکلا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔ (شمائلِ کبرٰی 

س-  اعتکاف کی حالت میں بیوی سے صحبت کی تو اس سے بھی اعتکاف فاسد ہو گیا۔
 بیوی سے صرف بوس و کنار بھی حالت اعتکاف میں ناجائز ہے۔ اگر اس سے اِنزال ہو گیا تو اعتکاف بھی ٹوٹ گیا۔

 ع - كوئی شخص احاطۂ مسجد کے کسی حصے کو مسجد سمجھ کر چلا گیا (مثلاً امام کے کمرہ میں گیا حالانکہ وہ تو عام طور پر مسجد سے باہر ہوتا ہے اس نے اس کو مسجد کا حصہ سمجھا اور اندر چلا گیا ) حالانکہ در حقیقت وہ حصہ مسجد میں شامل نہیں تھا تو اس سے بھی اعتکاف فاسد ہو گیا۔ (احکامِ اعتکاف)

 ف - کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کے لئے مسجد سے نکلا تو اعتکاف فاسد ہو گیا
(احسن الفتاوٰی )

 ص - اگر معتکف امام مسجد ہے اور نماز جنازہ پڑھانے کے لئے نکلا تو اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے
البتہ اگر ابتداء میں نماز جنازہ کے لئے نکلنے کی شرط رکھی جائے تو اس صورت میں نمازِ جنازہ کا پڑھنا یا پڑھانا مفسدِ اعتکاف نہیں لیکن بغیر شرط کے نمازِ جنازہ پڑھنے یا پڑھانے کے لیے نکلنا فسادِ اعتکاف کا ذریعہ ہے۔ (فتاوٰی حقانیہ
(مگر اس صورت میں یہ نذر اور واجب اعتکاف ہو گا سنّت إعتكاف نہ ہو گا)

ق - عورت کو اگر اعتکاف کے دوران حیض (ماہواری) آ جائے تو اعتکاف ختم ہو جائے گا پاک ہونے کے بعد روزہ رکھ کر ایک دن کی اعتکاف کی قضا کر لے۔
(خیر الفتاوٰی)

 ر - معتکف دوسری مسجد میں تراویح پڑھانے نہیں جا سکتا
مگر اعتکاف بیٹھتے وقت یوں نیت کر لے کہ ’’میں اللہ تعالیٰ کے لئے آخری عشرہ کے اعتکاف کی نذر مانتا ہوں البتہ تراویح میں قرآن سنانے کے لئے جایا کروں گا‘‘ پھر تراویح کے وقت کے بالکل قریب جائے اور فارغ ہوتے ہی اعتکاف والی مسجد میں آ جایا کرے راستہ میں آتے جاتے کسی جگہ کھڑا نہ ہو۔ (خیر الفتاوٰی
( مگر اس صورت میں یہ نذر اور واجب اعتکاف ہو گا سنّت إعتكاف نہ ہوگا)

 ش- اگر وضو سے قبل وضو خانہ پر بیٹھ کر صابن سے ہا تھ منہ دھوئے تو اس سے اعتکاف فاسد ہو جائے گا ۔

ت -  اسی طر ح اگر وضو کے بعد وضو خانہ پر کھڑ ے ہو کر رومال سے وضو کا پانی خشک کیا تو اعتکاف فاسد ہو جا ئے گا ۔ (احسن الفتا ویٰ 

ث - اگر عورت اعتکاف میں ہے اور درس دینے کیلئے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جائے تو اعتکاف ٹو ٹ جائے گا۔
ہاں اگر اعتکا ف بیٹھنے سے پہلے زبان سے نیت کی تصر یح کر لی جائے (کہ میں اللہ کے لئے اعتکاف کی نیت کر تی ہوں بشرطیکہ میں دوران اعتکاف درس دینے کے لئے جاؤں گی تو جانا جائز ہے ۔ (خیر الفتاویٰ
( مگر اس صورت میں یہ نذر اعتکا ف ہو گا سنّت إعتكاف نہ ہو گا )

خ - جو مسجد کئی منزلہ ہو اس کی اوپر والي منز ل میں بهي اعتکا ف ہو سکتا ہے اور کسی اور ایک منزل میں اعتکا ف کی غر ض سے بیٹھ جانے کے بعد اس کی دو سری منزل پر بھی معتکف جا سکتا ہے ، بشر طیکہ آنے جانے کا زینہ (سیٹرھی ) مسجد کے اندر ہی ہو ، حدود مسجد سے باہر نہ ہو ، اگر مسجد کی حدو د سے دو چا ر سیٹرھیا ں بھی باہر ہو جاتی ہوں تو بھی جائز نہیں ہے ۔
ہاں اگر زینہ مسجد سے باہر ہو کر جاتا ہو اوراوپر جانا ضروری ہو تو اس کی ایک صورت یہ ہے کہ اعتکاف میں بیٹھنے کے وقت جب اعتکاف کی نیت کرے اسی وقت نیت میں یہ شرط لگا لے کہ میں فلاں زینہ سے اوپر جایا کروں گا تو یہ شرط کر لینے سے زینہ سے اوپر جانا جا ئز ہو جائے گا  (مسائلِ اعتکاف
(مگر یہ نذر اعتکاف ہو گا سنت إعتكاف نہ ہو گا)

ذ- اعتکاف سے اگر بغیر شرعی وطبعی حاجت کے مسجد سے نکلا اور ایک پاؤں مسجد سے نکالا اور ایک پاؤں مسجد کے اندر ہے تو اعتکاف نہیں ٹوٹتا اگر دونوں پاؤں مسجد سے نکالے تو تب اعتکاف ٹوٹے گا ۔(فتاوٰی محمودیہ

   أأ - اگر مسجد میں پانی ٹھنڈا ہے اور سردی زیادہ ہے اور اگر پانی سے وضو کرنے کیلئے گھر جاتا ہے تو دیکھا جائے گا کہ
اگر سرد پانی سے وضو کرنے میں زیادہ دقّت ہوتی ہے اورمرض لاحق ہونے کا یا مرض بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو جا سکتا ہے ۔(فتاوٰی محمودیہ
اگر زیادہ مشقت نہیں مرض کا بھی اندیشہ نہیں پھر گیا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا ۔

أب - کوئی طالب علم اعتکاف میں بیٹھا تو علم حاصل کرنے مسجد سے باہر نہیں جا سکتا، گیا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔

أج - إعتکاف کے دوران کوئی ووٹ ڈالنے گیا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا
(فتاوٰی محمودیہ )
أد - کوئی ماسٹر صاحب اعتکاف میں بیٹھے اور ٹیوشن پڑھانے کے لئے مسجد سے نکلے تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا ۔(فتاوٰی محمودیہ



اعتکاف کے متفرق مسائل
 أ - عورت كا شوهر كي آجازت كے بغير إعتكاف كرنا درست نهيں ليكن اگر شوہر بیوی کو اعتکاف کی اجازت دے چکا تو پھر اس کے بعد اس کو منع کرنے کا اختیار نہیں اور اگر منع کرے تو ممانعت صحیح نہیں ۔( فتاوى عالمگیری 

 ب - عورت  اعتکاف کے دوران ضرورت کے وقت گھر کا کام کاج کر سکتی ہے، کھانا پکا سکتی ہے مگر اعتکاف کی جگہ سے باہر نہ نکلے  ۔اور بہتر یہ ہے کہ اس کو یکسو کر دیا جائے تا کہ وہ مكمل يكسوئي سے عبادت اور ذکر میں زیادہ سے زیادہ وقت گزار سکے ۔

 ج - ایک جگہ عورت نے جب اعتکاف کے  لئے متعیّن کر لی تو اب اس کو تبدیل نہیں کر سکتی
(جامع الفتاوٰی)

د - عورت نے اگر پورا کمرہ اعتکاف کیلئے متعیّن کر لیا تو کمرے میں جس جگہ چاہے ٹھہر سکتی ہے ۔اسی طرح مسجد کے اندر معتکف جہاں چا ہے ٹھہر سکتا ہے

ه - اعتکاف والی عورت کے ساتھ کمرے میں گھر کے دوسرے افراد رہ سکتے ہیں، کھانا کھا سکتے ہیں۔ مگر دنیاوی اور فضول باتوں سے پرہیز کریں ۔

 و - معتکف کو حالت اعتکاف میں مسجد کے اندر اجرت لیکر کوئی کام کرنا جائز نہیں 

ز - اسی طرح مسجد کے اندر اخبار بھی نہ پڑھا جائے کیونکہ عموماً اخبار تصاویر سے خالی نہیں ہوتے ۔(مسائلِ اعتکاف 

ح -  نابالغ لڑکا سمجھ دار ہو نماز کو سمجھتا ہو اور صحیح طریقہ سے پڑھتا ہو تو معتکف ہو سکتا ہے۔ نفل اعتکاف ہو گا ،مسنون نہ ہو گا اگر نا سمجھ ہو تو نہیں بیٹھ سکتا کہ مسجد کی بے ادبی کا اندیشہ ہے۔(فتاوٰی رحیمیہ 

ط - معتکف کیلئے اگر مسجد میں کھانے پینے کا انتظام ہو سکتا ہے تو اسے کھانے کیلئے گھر جانا جائز نہیں لیکن اگر کوئی شخص کھانا لانے والا نہ ہو تو کھانا لانے کیلئے معتکف باہر جا سکتا ہے لیکن کھانا مسجد میں لا کر ہی کھانا چاہئیے نیز ایسے شخص کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئیے کہ ایسے وقت مسجد سے نکلے جب اسے کھانا تیار مل جائے ،تاہم اگر کچھ دیر کھانے کے انتظار میں ٹھہرنا پڑے تو مضائقہ نہیں ۔(احکامِ اعتکاف

ي - بعض دیہاتوں میں تو یہ ظلم ہوتا ہے کہ کوئی شخص اعتکاف بیٹھنے کیلئے تیار نہیں ہوتا اس سے سارا محلہ گناہگار ہوتا ہے ۔اور بعض جگہوں پر کوئی نہ ملے تو کسی کو اجرت دے کر اعتکاف میں بٹھاتے ہیں اس طرح نہ معتکف کو کوئی ثواب ہوتا ہے نہ بٹھانے والوں کو ۔۔اور اگر اس کو اجرت مسجد کے فنڈ سے دی ہے تو جن لوگوں نے مسجد کے فنڈ سے وہ روپیہ دیا ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی جیب سے مسجد کے فنڈ میں وہ روپیہ جمع کریں ۔



شرائط اعتکاف
اعتکافِ مسنون کے صحیح ہونے کے لیے مندرجہ ذیل چیزیں ضروری ہیں

  أ - مسلمان ہونا

  ب - عاقل و بالغ ہونا
نابالغ مگر سمجھدار کا اعتکاف بهي درست ہے
علم الفقہ، حصہ سوم)

 ج - اعتکاف کی نیت کرنا
غروب آفتاب سے پهلے پهلے نيت كرنا ضروري هے

 د - مرد کا مسجد میں اعتکاف کرنا (جس مسجد میں اعتکاف کیا جائے اس میں پانچ وقتی نماز باجماعت بهي ہوتی ہو
 ه - مرد اور عورت کا جنابت یعنی غسل واجب ہونے والی حالت سے پاک ہونا
( اگر کوئی شخص حالت جنابت میں اعتکاف شروع کر دے تو اعتکاف تو صحیح ہو جائے گا لیکن یہ شخص گناہگار ہو گا)

  و - عورت کا حیض ونفاس سے خالی ہونا

  ز - روزے سے ہونا ( اگر اعتکاف کے دوران کوئی ایک روزہ نہ رکھ سکے یا کسی وجہ سے روزہ ٹوٹ جائے تو مسنون اعتکاف بھی ٹوٹ جائے گا۔

  ح - عورت كا گهر ميں كوئي جگه يا كوئي إيك كمره مخصوص كرنا

  ط - جس شخص کے بدن سے بدبو آتی ہو یا ایسا مرض ہو جس کی وجہ سے لوگ تنگ ہوتے ہوں تو ایسا شخص اعتکاف میں نہ بیٹھے البتہ اگر بدبو تھوڑی ہو جو خوشبو وغیرہ سے دور ہوجائے اور لوگوں کو تکلیف نہ ہو، تو جائز ہے۔

  ي - عورت كے لئے شوهر سے آجازت لينا بهي ضروري هے


اعتکاف کے فضائل
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتّٰى تَوَفَّاهُ اللّهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ(صحیح البخاری
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآله و سلم رمضان المبارك کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے
دی۔ پھر آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اعتکاف فرماتی رہیں۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ۔۔۔ مَنِ اعْتَكَفَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ تَعَالٰى جَعَلَ اللهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ ثَلَاثَ خَنَادِقَ کُلُّ خَنْدَقٍ أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ (المعجم الاوسط للطبرانی
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی رضا کیلیے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہےتو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کو آڑ بنا دیں گے، ایک خندق کی مسافت آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے۔
فائدہ: سبحان اللہ!ایک دن کے اعتکاف کی یہ فضیلت ہے تو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے اعتکاف کی کیا فضیلت ہو گی؟ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو رمضان کی مبارک گھڑیوں میں اعتکاف کرتے ہیں اور مذکورہ فضیلت کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمُعْتَكِفِ ہُوَ یَعْكِفُ الذُّنُوبَ، وَيَجْرِيْ لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ کَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا. (سنن ابن ماجۃ
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اعتکاف کرنے والا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کی تمام نیکیاں اسی طرح لکھی جاتی رہتی ہیں جیسے وہ ان کو خود کرتا رہا ہو۔
فائدہ: اس حدیث میں اعتکاف کے فوائد میں سے دو بیان کیے گئے ہیں
معتکف جتنے دن اعتکاف کرے گا اتنے دن گناہوں سے بچا رہے گا۔
جو نیکیاں وہ باہر کرتا تھا مثلاً مریض کی عیادت، جنازہ میں شرکت، غرباء کی امداد، علماء کی مجالس میں حاضری وغیرہ، اعتکاف کی حالت میں اگرچہ ان کاموں کو نہیں کر سکتا لیکن اس قسم کے اعمال کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔
ایک حدیث میں آتا ہے
مَنِ اعْتَکَفَ اِیْمَانًا وَ احْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ. (کنز العمال 
ترجمہ: جس نے اللہ کی رضا کے لیے ایمان و اخلاص کے ساتھ اعتکاف کیا تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے۔
فائدہ: اس حدیث میں اعتکاف کرنے پر جن گناہوں کی معافی کا وعدہ کیا گیا ہے ان سے مراد گناہ صغیرہ ہیں، کیونکہ گناہ کبیرہ کی معافی کے لئے توبہ شرط ہے۔ اعتکاف کرنے والا جب مبارک ساعات میں خدا تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتا ہے، آہ وبکا کرتا ہے اور اپنے سابقہ گناہوں سے سچی توبہ کرتے ہوئے آئندہ نہ کرنے کا عزم کرتا ہے تو یقینی بات ہے اس کے کبیرہ گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں، اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے ارشاد مبارک میں گناہوں سے مراد کبیرہ بھی ہو سکتے ہیں جن کی معافی اعتکاف میں ہوتی ہے۔ لہٰذا معتکف کو چاہیے کہ توبہ و استغفار کا ضرور اہتمام کیا کرے۔

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ وَيَقُولُ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ. (صحیح البخاری
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے کہ لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری راتوں میں تلاش کیا کرو۔
فائدہ: اعتکاف سے مقصود لیلۃ القدر کو پانا ہے جس کی فضیلت ہزار مہینوں سے زیادہ ہے۔ نیز اس حدیث میں لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کیلیے آخری عشرہ کا اہتمام بتایا گیا ہے جو دیگر احادیث کی رو سے اس عشرہ کی طاق راتیں ہیں۔ لہٰذا بہتر تو یہی ہے کہ اس آخری عشرہ کی ساری راتوں میں بیداری کا اہتمام کرنا چاہیے ورنہ کم از کم طاق راتوں کو تو ضرور عبادت میں گزارنا چاہیے۔

حضرت علی بن حسین ؓ اپنے والد (حضرت امام حسینؓ ) سے روایت کرتے ہیں كه أنهوں نے فرمايا کہ رسول اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا
مَنِ اعْتَکَفَ عَشْرًا فِی رَمَضَانَ کَانَ کَحَجَّتَيْنِ وَ عُمْرَتَيْنِ. (بيهقی، شعب الإيمان
جو کوئی رمضان میں دس دن اعتکاف بیٹھتا ہے تو وہ دو حج اور دو عمروں کی طرح ہے۔
احادیث بالا کی روشنی میں معلوم ہوگیا کہ اعتکاف کی فضیلت اور اس کی اہمیت کا مقام کتنا بلند و بالا ہے۔ اور اللہ رب العزت کس قدر اعتکاف کرنے والوں پر اپنا فضل وكرم فرماتے هيں اس لئے ہم سب مسلمان بھائیوں اور بهنوں کو چاہیے کہ اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو رمضان المبارك کے آخری عشرہ کے اعتکاف کی عظيم سعادت حاصل کرنے كي ضرور كوشش كریں اگر ہر سال نہ ہو سکے تو جب موقع ميسر هو تو إس سے فائده اٹهائيں يا پهر کم از کم زندگی میں ایک بار تو ضرور إس سعادت كو حاصل كريں الله تعالى هم سب كو هر سال إس كي توفيق عنايت فرمائے
 (آمين يا رب العلمين )
-------
Share: