ماہِ رمضان اور قرآن کریم

ماہِ رمضان اور قرآن کریم
ماہِ رمضان کے روزے رکھنا ہر مسلمان، بالغ، عاقل، صحت مند، مقیم، مردوعورت پر فرض ہے، جس کی ادائیگی کے ذریعہ خواہشات کو قابو میں رکھنے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے اور وہی تقویٰ کی بنیاد ہے، جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ (سورۃ البقرۃ )
لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ میں اشارہ ہے کہ زندگی میں تقویٰ پیدا کرنے کے لئے روزہ کا بڑا اثر ہے۔
اسی ماہِ مبارک کی ایک بابرکت رات میں قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم أسمان دنیا پر نازل ہوئی، جس سے استفادہ کی بنیادی شرط بھی تقویٰ ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد قرآن کریم میں ہے
ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ
یہ کتاب ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں، یہ ہدایت ہے متقیوں یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈر نے والوں کے لئے۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق قرآن کریم سے ہر شخص کو ہدایت نہیں ملتی بلکہ قرآن کریم سے استفادہ کی بنیادی شرط تقویٰ ہے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں روزوں کی فرضیت کا مقصد بتاتے ہوئے فرمایا: لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ یعنی تم پر روزے فرض کئے گئے تاکہ تم متقی بن جاؤ، غرض رمضان اور روزہ کے بنیادی مقاصد میں تقویٰ مشترک ہے۔
اس ماہ مبارک میں ایک رات ہے جس میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ افضل ہے۔یہ ماہِ مبارک اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور جہنم سے چھٹکارے کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مبارک میں سرکش شیاطین قید کردئے جاتے ہیں۔ جہنم کے دروازے بند کرکے جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے،ہر نیکی کا اجروثواب بڑھا دیا جاتا ہے۔ غرضیکہ یہ مہینہ اللہ کی عبادت، اطاعت اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی وغمگساری اور قرآن کریم کا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں روزہ رکھنا فرض ہے اور روزہ ایسا عظیم الشان عمل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر عمل کا دنیامیں ہی اجر بتا دیا کہ کس عمل پر کیاملے گا مگر روزہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا یا فرمایا کہ میں خود ہی روزہ کا بدلہ ہوں۔

رمضان المبارک کی فضیلت و اہمیت
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ​
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
(البقرہ، آیت 183)
"اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے ان پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ۔"
عربی زبان میں روزے کے لئے صوم کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی رک جانا کے ہیں یعنی انسانی خواہشات اور کھانے پینے سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک رک جاتا ہے اور اپنے جسم کے تمام اعضاءکو برائیوں سے روکے رکھتا ہے۔
رمضان کا لفظ ”رمضا“ سے نکلا ہے اور رمضا اس بارش کو کہتے ہیں جو کہ موسم خریف سے پہلے برس کر زمین کو گردوغبار سے پاک کر دیتی ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کی بارش کا ہے جس کے برسنے سے مومنوں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔
رمضان المبارک کی فضیلت و عظمت اور فیوض و برکات کے باب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چند احادیث مبارکہ درج ذیل ہیں 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالى عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِيْنُ.(بخاری
’’جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو پابہ زنجیر کر دیا جاتا ہے۔‘‘
رمضان المبارک کے روزوں کو جو امتیازی شرف اور فضیلت حاصل ہے اس کا اندازہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث مبارک سے لگایا جا سکتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَّإِحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّم مِنْ ذَنْبِهِ. (بخاری
’’جو شخص بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘
رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت اس قدر برکتوں اور سعادتوں کی حامل ہے کہ باقی گیارہ ماہ مل کر بھی اس کی برابری و ہم سری نہیں کر سکتے۔
ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا
(الصوم جنۃ یسجن بھا العبد من النار) (صحیح الجامع)
’’روزہ ایک ڈھال ہے جس کے ذریعے سے بندہ جہنم کی آگ سے بچتا ہے۔‘‘
ایک دوسری روایت کے الفاظ اس طرح ہیں
(الصوم جنة من عذاب الله ) (صحیح الجامع)
’’روزہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے (بچاؤ کی ) ڈھال ہے۔‘‘
ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ آله وسلم نے فرمایا
من صام يوما في سبيل الله، بعد الله وجهه عن النار سبعين خريف
(صحیح البخاری وصحیح مسلم)
’’جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا، تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال (کی مسافت کے قریب) دور کر دیتا ہے۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا
إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَقُومُونَ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ فَلَمْ .(صحیح البخاری وصحیح مسلم)
’’جنت (کے آٹھ دروازوں میں سے) ایک دروازے کا نام ’’ رَیّان‘‘ ہے، جس سے قیامت کے دن صرف روزے دار داخل ہوں گے، ان کے علاوہ اس دروازے سے کوئی داخل نہیں ہوگا، کہا جائے گا روزے دار کہاں ہیں؟ تو وہ کھڑے ہو جائیں گے اور (جنت میں داخل ہوں گے) ان کے علاوہ کوئی اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا۔ جب وہ داخل ہو جائیں گے، تو وہ دروازہ بند کر دیا جائے گا اور کوئی اس سے داخل نہیں ہوگا۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا
الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ الصِّيَامُ أَيْ رَبِّ مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ وَيَقُولُ الْقُرْآنُ مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ قَالَ فَيُشَفَّعَانِ هل يصح هذا ... (صحیح الجامع، مسند احمد، طبرانی کبیر، مستدرک حاکم وشعب الایمان)’’روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا : اے میرے رب! میں نے اس بندے کو دن کے وقت کھانے (پینے) سے اور جنسی خواہش پوری کرنے سے روک دیا تھا، پس تو اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما۔ قرآن کہے گا: میں نے اس کو رات کے وقت سونے سے روک دیا تھا، پس تو اس کے بارے میں سفارش قبول فرما۔ چنانچہ ان دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا:
(فتنة الرجل فی اھلہ ومالہ۔۔۔۔۔۔والصدقة) (صحیح البخاری وصحیح مسلم)
’’آدمی کی آزمائش ہوتی ہے اس کے بال بچوں کے بارے میں، اس کے مال میں اور اس کے
پڑوسی کے سلسلے میں۔ ان آزمائشوں کا کفارہ نماز روزہ اور صدقہ ہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ ﴾ (ھود:۱۱۴)’’نیکیاں برائيوں کو دور کر دیتی ہیں۔‘‘ اس حدیث و آیت سے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان کو نماز، روزہ اور صدقہ و خیرات اور دیگر نیکیوں کا اہتمام کرتے رہنا چاہیے، تاکہ یہ نیکیاں اس کی کوتاہیوں اور گناہوں کا کفارہ بنتی رہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا
لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا؛ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ, وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ
(صحیح البخاری وصحیح مسلم)
’’روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے۔ ایک جب وہ روزہ کھولتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور (دوسری خوشی) جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے سے خوش ہوگا۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا
(لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا؛ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ, وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ
(صحیح البخاری وصحیح مسلم)
’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، روزے دار کے منہ کی بدلی ہوئی بو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ (صحیح البخاری وصحیح مسلم
’’روزہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا۔‘‘
یعنی دیگر نیکیوں کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے یہ ضابطہ بیان فرمایا ہے کہ ﴿الحسنة بعشر امثالھا﴾(حوالہ ہائے مذکورہ) نیکی کم از کم دس گنا اور زیادہ سے زیادہ سات سو گناہ تک ملے گا۔ لیکن روزے کو اللہ تعالیٰ نے اس عام ضابطے اور کلیے سے مستثنیٰ فرما دیا اور یہ فرمایا کہ قیامت والے دن اس کی وہ ایسی خصوصی جزاء عطا فرمائے گا، جس کا علم صرف اسی کو ہے اور وہ عام ضابطوں سے ہٹ کر خصوصی نوعیت کی ہوگی۔
خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جن کی زندگی میں یہ مہینہ آئے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں حاصل کرنے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر ديں۔

ماہِ رمضان کا قرآن کریم سے خاص تعلق
قرآن کریم کو رمضان المبارک سے خاص تعلق اور گہری خصوصیت حاصل ہے۔ چنانچہ رمضان المبارک میں اس کا نازل ہونا، حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم کا رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن زیادہ كرنا، حضرت جبرئیل علیہ السلام کا رمضان المبارک میں نبی اکرم صلى الله عليه وآله وسلم کو قرآن کریم کا دور کرانا، تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کرنا، صحابۂ کرام اور بزرگان دین کا رمضان میں تلاوت کا خاص اہتمام کرنا، یہ سب اُمور اس خصوصیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ لہذا اس ماہ میں کثرت سے تلاوتِ قرآن میں مشغول رہنا چاہئے۔
ماہِ رمضان کا قرآن کریم سے خاص تعلق ہونے کی سب سے بڑی دلیل قرآن کریم کا ماہ ِرمضان میں نازل ہونا ہے۔ اس مبارک ماہ کی ایک بابرکت رات میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اس کے بعد حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا تقریباً ۲۳ سال کے عرصہ میں قرآن مکمل نازل ہوا۔ قرآن کریم کے علاوہ تمام صحیفے بھی رمضان میں نازل ہوئے جیساکہ مسند احمد میں ہے کہ حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مصحف ابراہیمی اور تورات وانجیل سب کا نزول رمضان میں ہی ہوا ہے۔ نزول قرآن اور دیگر مقدس کتب وصحائف کے نزول میں فرق یہ ہے کہ دیگر کتابیں جس رسول ونبی پر نازل ہوئیں ایک ساتھ ایک ہی مرتبہ میں، جبکہ قرآن کریم لوح محفوظ سے پہلے آسمان پر رمضان کی مبارک رات یعنی لیلۃ القدر میں ایک بار نازل ہوا اور پھر تھوڑا تھوڑا حسب ضرورت نازل ہوتا رہا۔ جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:
اِنَّآاَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْر ۔
بے شک ہم نے قرآن کریم کو شب قدر میں اتارا ہے۔
سورۂ العلق کی ابتدائی چند آیات (اِقْرَاْ بِسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق....) سے قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد آنے والی سورۂ القدر میں بیان کیا کہ قرآن کریم رمضان کی بابرکت رات میں اترا ہے، جیساکہ سورۂ الدخان کی آیت ۳ اِنَّا اَنْزَلْنَاہٗ فِیْ ليْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ ہم نے اس کتاب کو ایک مبارک رات میں اتارا ہے) اور سورۂ البقرہ کی آیت ۱۸۵ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فیہ القرآن يعني رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا) میں یہ مضمون صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ غرض قرآن وحدیث میں واضح دلائل ہونے کی وجہ سے امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قرآن کریم لوح محفوظ سے سماء دنیا پر رمضان کی مبارک رات میں ہی نازل ہوا، اس طرح رمضان اور قرآن کریم کا خاص تعلق روز روشن کی طرح واضح ہوجاتا ہے۔
رمضان المبارک کا قرآن کریم کے ساتھ خاص تعلق کا مظہر نماز تراویح بھی ہے۔ احادیث میں وارد ہے کہ ہر سال ماہ رمضان میں آپ صلى الله عليه وآله وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصوں کا دور کرتے تھے۔ جس سال آپ صلى الله عليه وآله وسلم کا انتقال ہوا اس سال آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے دوبار قرآن کریم کا دور فرمایا۔ (بخاری ومسلم)

قرآن كريم اور رمضان المبارك کے درمیان 
چند مشترک خصوصیات
قرآن اور رمضان کی پہلی اہم مشترک خصوصیت تقویٰ ہے، جیساکہ قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں ذکر کیا گیا۔
دوسری مشترک خصوصیت شفاعت ہے۔حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ روزہ اور قرآن کریم دونوں بندہ کے لئے شفاعت کرتے ہیں۔ روزہ عرض کرتا ہے کہ یا اللہ میں نے اس کو دن میں کھانے پینے سے روکے رکھا ، میری شفاعت قبول کرلیجئے، اور قرآن کہتا ہے کہ یا اللہ میں نے رات کو اس کو سونے سے روکا ، میری شفاعت قبول کرلیجئے، پس دونوں کی شفاعت قبول کرلی جائے گی۔ ( احمد والطبرانی والحاکم)
تیسری خصوصیت جو رمضان اور قرآن دونوں میں مشترک طور پر پائی جاتی ہے وہ قرب الہی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کے وقت اللہ تعالیٰ سے خاص قرب حاصل ہوتا ہے، ایسے ہی روزہ دار کو بھی اللہ تعالیٰ کا خاص قرب حاصل ہوتا ہے کہ روزہ کے متعلق حدیث قدسی میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں خود ہی روزہ کا بدلہ ہوں۔

اسلاف کا ماہِ رمضان میں تلاوتِ قرآن کا خاص اہتمام
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ وتابعین وتبع تابعین رمضان المبارک میں قرآن کریم کے ساتھ خصوصی شغف رکھتے تھے۔ بعض اسلاف واکابرین کے متعلق کتابوں میں تحریر ہے کہ وہ رمضان المبارک میں دیگر مصروفیات چھوڑ کر صرف اور صرف تلاوت قرآن میں دن ورات کا وافر حصہ صرف کرتے تھے۔ امام مالکؒ رمضان شروع ہونے پر حدیث پڑھنے پڑھانے کے سلسلہ کو بند کرکے دن ورات کا اکثر حصہ تلاوتِ قرآن میں لگاتے تھے۔ اسلاف سے منقول ہے کہ وہ ماہ رمضان اور خاص کر آخری عشرہ میں تین دن یا ایک دن میں قرآن کریم مکمل فرماتے تھے۔ ریاض الصالحین کے مؤلف نے اپنی کتاب "الاذکار" ص ۱۰۲ میں ایسے شیوخ کا ذکر فرمایا ہے جو ایک رکعت میں قرآن کریم ختم فرماتے تھے۔ رمضان کے مبارک مہینہ میں ختم قرآن کریم کے اتنے واقعات کتابوں میں مذکور ہیں کہ ان کااحاطہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لہذا اس مبارک مہینہ میں زیادہ سے زیادہ اپنا وقت قرآن کریم کی تلاوت میں لگائیں۔ نماز تراویح کے پڑھنے کا اہتمام کریں اور تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کیا جائے
ماہِ رمضان کے بعد بھی تلاوتِ قرآن کا روزانہ اہتمام کریں خواہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو، نیز علماءِ کرام کی سرپرستی میں قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں۔ قرآن کریم میں وارد احکام ومسائل کو سمجھ کر اُن پر عمل کریں اور دوسروں تک پہونچائیں۔ اگر ہم قرآن کریم کے معنی ومفہوم نہیں سمجھ پا رہے ہیں تب بھی ہمیں تلاوت کرنا چاہئے کیونکہ قرآن کی تلاوت بھی مطلوب ہے۔ حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایک حرف قرآن کریم کا پڑھے اس کے لئے اس حرف کے عوض ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجردس نیکی کے برابر ملتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ آلم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف،لام ایک حرف اور میم ایک حرف۔ (ترمذی)
تلاوت قرآن کے کچھ آداب ہیں جن کا تلاوت کے وقت خاص خیال رکھا جائے تاکہ ہم عند اللہ اجر عظیم کے مستحق بنیں۔ تلاوت چونکہ ایک عبادت ہے لہذا ریا وشہرت کے بجائے اس سے صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ومقصود ہو، نیز وضو وطہارت کی حالت میں ادب واحترام کے ساتھ اللہ کے کلام کی تلاوت کریں۔ تیسرا اہم ادب یہ ہے کہ اطمینان کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر اور اچھی آواز میں تجوید کے قواعد کے مطابق تلاوت کریں۔ تلاوت قرآن کے وقت اگر آیتوں کے معانی پر غور وفکر کرکے پڑھیں تو بہت ہی بہتر ہے۔ قرآن کریم کے احکام ومسائل پر خود بھی عمل کریں اور اس کے پیغام کو دوسروں تک پہونچانے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو روزہ اور تلاوت قرآن کی برکت سے تقویٰ والی زندگی گزارنے والا بنائے اور ہمیں دونوں جہاں میں کامیابی وکامرانی عطا فرمائے۔
آمین يا رب العلمين

روزے میں کوتاہیاں
حضرت حکیم الاُمت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه نے اپني كتاب “اصلاح انقلاب” میں تفصیل سے ان کوتاہیوں کا بھی ذکر فرمایا ہے جو روزے کے بارے میں کی جاتی ہیں، اس کتاب کا مطالعہ کرکے ان تمام کوتاہیوں کی اصلاح کرنی چاہئے، یہاں اس کے چند اقتباس نقل کئے جاتے ہیں
“بہت سے لوگ بلا کسی قوی عذر کے روزہ نہیں رکھتے، ان میں سے بعض تو محض کم ہمتی کی وجہ سے نہیں رکھتے، ایسے ہی ایک شخص کو، جس نے عمر بھر روزہ نہ رکھا تھا اور سمجھتا تھا کہ پورا نہ کرسکے گا، کہا گیا کہ تم بطور امتحان ہی رکھ کر دیکھ لو، چنانچہ رکھا اور پورا ہوگیا، پھر اس کی ہمت بندھ گئی اور رکھنے لگا۔ کیسے افسوس کی بات ہے کہ رکھ کر بھی نہ دیکھا تھا اور پختہ یقین کر بیٹھا تھا کہ کبھی رکھا ہی نہ جاوے گا۔ یہ لوگ سوچ کر دیکھیں کہ اگر طبیب کہہ دے کہ آج دن بھر نہ کچھ کھاوٴ نہ پیئو، ورنہ فلاں مہلک مرض ہوجائے گا، تو اس نے ایک ہی دن کے لئے کہا، یہ دو دن نہ کھاوے گا، کہ احتیاط اسی میں ہے۔ افسوس! خدا تعالیٰ صرف دن دن کا کھانا چھڑاویں اور کھانے پینے سے عذابِ مہلک کی وعید فرمائیں اور ان کے قول کی طبیب کے برابر بھی وقعت نہ ہو؟
انا لله وإنا إليه راجعون
“بعضوں کی یہ بے وقعتی اس بدعقیدگی تک پہنچ جاتی ہے کہ روزہ کی ضرورت ہی کا طرح طرح سے انکار کرنے لگتے ہیں، مثلاً: روزہ قوّتِ بہیمیہ کے توڑنے یا تہذیبِ نفس کے لئے ہے، اور ہم علم کی بدولت یہ تہذیب حاصل کرچکے ہیں 
“اور بعض تہذیب سے بھی گزر کر گستاخی اور تمسخر کے کلمات کہتے ہیں، مثلاً: “روزہ وہ شخص رکھے جس کے گھر کھانے کو نہ ہو” یا “بھائی ہم سے بھوکا نہیں مرا جاتا” سو یہ دونوں فریق بوجہ انکارِ فرضیتِ صوم، زُمرہٴ کفار میں داخل ہیں، اور پہلے فریق کا قول محض “ایمان شکن” ہے، اور دُوسرے کا “ایمان شکن” بھی اور “دِل شکن” بھی 
“اور بعض بلا عذر تو روزہ ترک نہیں کرتے، مگر اس کی تمیز نہیں کرتے کہ یہ عذر شرعاً معتبر ہے یا نہیں؟ ادنیٰ بہانے سے اِفطار کردیتے ہیں، مثلاً: خواہ ایک ہی منزل کا سفر ہو، روزہ اِفطار کردیا، کچھ محنت مزدوری کا کام ہوا، روزہ چھوڑ دیا۔ ایک طرح سے یہ بلا عذر روزہ توڑنے والوں سے بھی زیادہ قابلِ مذمت ہیں، کیونکہ یہ لوگ اپنے کو معذور جان کر بے گناہ سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ شرعاً معذور نہیں اس لئے گناہگار ہوں گے۔”
“بعض لوگوں کا اِفطار تو عذرِ شرعی سے ہوتا ہے، مگر ان سے یہ کوتاہی ہوتی ہے کہ بعض اوقات اس عذر کے رفع ہونے کے وقت کسی قدر دن باقی ہوتا ہے، اور شرعاً بقیہ دن میں اِمساک، یعنی کھانے پینے سے بند رہنا واجب ہوتا ہے، مگر وہ اس کی پرواه نہیں کرتے، مثلاً: سفرِ شرعی سے ظہر کے وقت واپس آگیا، یا عورت حیض سے ظہر کے وقت پاک ہوگئی، تو ان کو شام تک کھانا پینا نہ چاہئے۔ علاج اس کا مسائل و اَحکام کی تعلیم و تعلّم ہے۔”
“بعض لوگ خود تو روزہ رکھتے ہیں، لیکن بچوں سے (باوجود ان کے روزہ رکھنے کے قابل ہونے کے) نہیں رکھواتے۔ خوب سمجھ لینا چاہئے کہ عدمِ بلوغ میں بچوں پر روزہ رکھنا تو واجب نہیں، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کے اولیاء پر بھی رکھوانا واجب نہ ہو، جس طرح نماز کے لئے باوجود عدمِ بلوغ کے ان کو تاکید کرنا بلکہ مارنا ضروری ہے، اسی طرح روزے کے لئے بھی يه إهتمام ضروري هے اتنا فرق ہے کہ نماز میں عمر کی قید ہے اور روزہ میں تحمل پر مدار ہے (کہ بچہ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو)، اور راز اس میں یہ ہے کہ کسی کام کا دفعةً پابند ہونا دُشوار ہوتا ہے، تو اگر بالغ ہونے کے بعد ہی تمام اَحکام شروع ہوں تو ایک بارگی زیادہ بوجھ پڑ جائے گا، اس لئے شریعت کی رحمت ہے کہ پہلے ہی سے آہستہ آہستہ سب اَحکام کا خوگر بنانے کا قانون مقرّر کیا۔”
“بعض لوگ نفسِ روزہ میں تو اِفراط و تفریط نہیں کرتے، لیکن روزہ محض صورت کا نام سمجھ کر صبح سے شام تک صرف جوفین (پیٹ اور شرم گاہ) کو بند رکھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ حالانکہ روزے کی نفسِ صورت کے مقصود ہونے کے ساتھ اور بھی حکمتیں ہیں، جن کی طرف قرآن مجید میں اشارہ بلکہ صراحت ہے کہ: “لعلکم تتقون” ان سب کو نظرانداز کرکے اپنے صوم کو “جسدِ بے رُوح” بنالیتے ہیں۔ خلاصہ ان حکمتوں کا معاصی و منہیات سے بچنا ہے، سو ظاہر ہے کہ اکثر لوگ روزہ میں بھی معاصی سے نہیں بچتے، اگر غیبت کی عادت تھی، تو وہ بدستور رہتی ہے، اگر بدنگاہی کے خوگر تھے، وہ نہیں چھوڑتے، اگر حقوق العباد کی کوتاہیوں میں مبتلا تھے، ان کی صفائی نہیں کرتے، بلکہ بعض کے معاصی تو غالباً بڑھ جاتے ہیں، کہیں دوستوں میں جا بیٹھے کہ روزہ بہلے گا، اور باتیں شروع کیں، جن میں زیادہ حصہ غیبت کا ہوگا، یا چوسر، گنجفہ، تاش، ہارمونیم، گراموفون لے بیٹھے اور دن پورا کردیا۔ بھلا اس روزے کا کوئی معتد بہ حاصل کیا؟ اتنی بات عقل سے سمجھ میں نہیں آتی کہ کھانا پینا، جو فی نفسہ مباح ہے، جب روزے میں وہ حرام ہوگیا، تو غیبت وغیرہ دُوسرے معاصی، جو فی نفسہ بھی حرام ہیں، وہ روزے میں کس قدر سخت حرام ہوں گے! حدیث میں ہے کہ: “جو شخص بدگفتاری و بدکرداری نہ چھوڑے، خدا تعالیٰ کو اس کی کچھ پرواه نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔” اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ بالکل روزہ ہی نہ ہوگا، لہٰذا رکھنے ہی سے کیا فائدہ؟ روزہ تو ہوجائے گا، لیکن ادنیٰ درجے کا۔ جیسے اندھا، لنگڑا، کانا، گنجا، اپاہج آدمی، آدمی تو ہوتا ہے، مگر ناقص۔ لہٰذا روزہ نہ رکھنا اس سے بھی اشد ہے، کیونکہ ذات کا سلب، صفات کے سلب سے سخت تر ہے۔”
پھر حضرت مولانا أشرف علي تهانوي رحمة الله عليه نے روزے کو خراب کرنے والے گناہوں (غیبت وغیرہ) سے بچنے کی تدبیر بھی بتلائی جو صرف تین باتوں پر مشتمل ہے، اور ان پر عمل کرنا بہت ہی آسان ہے:
“خلق سے بلاضرورت تنہا اور یکسو رہنا، کسی اچھے شغل مثلاً: تلاوت وغیرہ میں لگے رہنا اور نفس کو سمجھانا، یعنی وقتاً فوقتاً یہ دھیان کرتے رہنا کہ ذرا سی لذّت کے لئے صبح سے شام تک کی مشقت کو کیوں ضائع کیا جائے؟ اور تجربہ ہے کہ نفس پھسلانے سے بہت کام کرتا ہے، سو نفس کو یوں پھسلاوے کہ ایک مہینے کے لئے تو ان باتوں کی پابندی کرلے، پھر دیکھا جائے گا۔ پھر یہ بھی تجربہ ہے کہ جس طرز پر آدمی ایک مدّت رہ چکا ہو، وہ آسان ہوجاتا ہے، بالخصوص اہلِ باطن کو رمضان میں یہ حالت زیادہ مدرک ہوتی ہے کہ اس مہینے میں جو اعمالِ صالحہ کئے ہوتے ہیں سال بھر ان کی توفیق رہتی ہے۔

روزہ دار کے لئے ضروري إحتياطيں اور پرہيز
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ: “جس شخص نے (روزے کی حالت میں) بیہودہ باتیں (مثلاً: غیبت، بہتان، تہمت، گالی گلوچ، لعن طعن، غلط بیانی وغیرہ) اور گناہ کا کام نہیں چھوڑا، تو اللہ تعالیٰ کو کچھ حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔”
(بخاری، مشکوٰة)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ: “کتنے ہی روزہ دار ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے سوائے (بھوک) پیاس کے کچھ حاصل نہیں (کیونکہ وہ روزے میں بھی بدگوئی، بدنظری اور بدعملی نہیں چھوڑتے)، اور کتنے ہی (رات کے تہجد میں) قیام کرنے والے ہیں، جن کو اپنے قیام سے ماسوا جاگنے کے کچھ حاصل نہیں۔” (دارمی، مشکوٰة)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ: “روزہ ڈھال ہے (کہ نفس و شیطان کے حملے سے بھی بچاتا ہے، اور گناہوں سے بھی باز رکھتا ہے، اور قیامت میں دوزخ کی آگ سے بھی بچائے گا)، پس جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو نہ تو ناشائستہ بات کرے، نہ شور مچائے، پس اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے یا لڑائی جھگڑا کرے تو (دِل میں کہے یا زبان سے اس کو) کہہ دے کہ: میں روزے سے ہوں! (اس لئے تجھ کو جواب نہیں دے سکتا کہ روزہ اس سے مانع ہے)۔”
(بخاری و مسلم، مشکوٰة)
حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ: “روزہ ڈھال ہے، جب تک کہ اس کو پھاڑے نہیں۔”
(نسائی، ابنِ خزیمہ، بیہقی، ترغیب)
اور ایک روایت میں ہے کہ: عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم ! یہ ڈھال کس چیز سے پھٹ جاتی ہے؟ فرمایا: “جھوٹ اور غیبت سے!(طبرانی الاوسط )
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا: “جس نے رمضان کا روزہ رکھا، اور اس کی حدود کو پہچانا، اور جن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہئے ان سے پرہیز کیا، تو یہ روزہ اس کے گزشتہ گناہوں کا کفاره ہوگا۔”
(صحیح ابنِ حبان، بیہقی، ترغیب)

دو عورتوں کا قصہ
حضرت عبید رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے آزاد شدہ غلام، کہتے ہیں کہ: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم سے عرض کیا کہ: یہاں دو عورتوں نے روزہ رکھا ہوا ہے، اور وہ پیاس کی شدّت سے مرنے کے قریب پہنچ گئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے سکوت اور اِعراض فرمایا، اس نے دوبارہ عرض کیا (غالباً دوپہر کا وقت تھا) کہ: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم ! بخدا! وہ تو مرچکی ہوں گی یا مرنے کے قریب ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے ایک بڑا پیالہ منگوایا، اور ایک سے فرمایا کہ اس میں قے کرے، اس نے خون، پیپ اور تازہ گوشت وغیرہ کی قے کی، جس سے آدھا پیالہ بھر گیا، پھر دُوسری کو قے کرنے کا حکم فرمایا، اس کی قے میں بھی خون، پیپ اور گوشت نکلا، جس سے پیالہ بھر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ: “انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیزوں سے تو روزہ رکھا، اور حرام کی ہوئی چیز سے روزہ خراب کرلیا کہ ایک دُوسری کے پاس بیٹھ کر لوگوں کا گوشت کھانے لگیں (یعنی غیبت کرنے لگیں)۔” (مسندِ احمد - مجمع الزوائد)

روزے کے درجات
حجة الاسلام امام غزالی رحمة الله عليه فرماتے ہیں کہ: روزے کے تین درجے ہیں۔
   أول : عام   
دوئم : خاص
سوئم : اص الخاص
عام روزہ تو یہی ہے کہ شکم اور شرم گاہ کے تقاضوں سے پرہیز کرے، جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے۔
خاص روزہ یہ ہے کہ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ، پاوٴں اور دیگر اعضاء کو گناہوں سے بچائے، یہ صالحین کا روزہ ہے، اور اس میں چھ باتوں کا اہتمام لازم ہے:
اوّل:… آنکھ کی حفاظت، کہ آنکھ کو ہر مذموم و مکروہ اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کرنے والی چیز سے بچائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآله وسلم کا ارشاد ہے کہ: “نظر، شیطان کے تیروں میں سے ایک زہر میں بجھا ہوا تیر ہے، پس جس نے اللہ تعالیٰ کے خوف سے نظرِبد کو ترک کردیا، اللہ تعالیٰ اس کو ایسا ایمان نصیب فرمائیں گے کہ اس کی حلاوت (شیرینی) اپنے دِل میں محسوس کرے گا۔”
(الحاکم ، مجمع الزوائد )
دوم:  زبان کی حفاظت، کہ بیہودہ گوئی، جھوٹ، غیبت، چغلی، جھوٹی قسم اور لڑائی جھگڑے سے اسے محفوظ رکھے، اسے خاموشی کا پابند بنائے اور ذکر و تلاوت میں مشغول رکھے، یہ زبان کا روزہ ہے۔ حضرت سفیان ثوریرحمة الله عليه کا قول ہے کہ: غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، مجاہد کہتے ہیں کہ: غیبت اور جھوٹ سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآله وسلم کا ارشاد ہے کہ: “روزہ ڈھال ہے، پس جب تم میں کسی کا روزہ ہو تو نہ کوئی بیہودہ بات کرے، نہ جہالت کا کوئی کام کرے، اور اگر اس سے کوئی شخص لڑے جھگڑے یا اسے گالی دے تو کہہ دے کہ میرا روزہ ہے۔” (صحاح)
سوم: کان کی حفاظت، کہ حرام اور مکروہ چیزوں کے سننے سے پرہیز رکھے، کیونکہ جو بات زبان سے کہنا حرام ہے، اس کا سننا بھی حرام ہے۔
چہارم: بقیہ اعضاء کی حفاظت، کہ ہاتھ پاوٴں اور دیگر اعضاء کو حرام اور مکروہ کاموں سے محفوظ رکھے، اور اِفطار کے وقت پیٹ میں کوئی مشتبہ چیز نہ ڈالے، کیونکہ اس کے کوئی معنی نہیں کہ دن بھر تو حلال سے روزہ رکھا اور شام کو حرام چیز سے روزہ کھولا۔
پنجم: اِفطار کے وقت حلال کھانا بھی اس قدر نہ کھائے کہ ناک تک آجائے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآله وسلم کا ارشاد ہے کہ: “پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں، جس کو آدمی بھرے۔” ( احمد والترمذی وابن ماجہ والحاکم )
يعني جب شام کو دن بھر کی ساری کسر پوری کرلی تو روزہ سے شیطان کو مغلوب کرنے اور نفس کی شہوانی قوّت توڑنے کا مقصد کیونکر حاصل ہوگا؟
ششم: اِفطار کے وقت اس کی حالت خوف و رجا کے درمیان مضطرب رہے کہ نہ معلوم اس کا روزہ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہوا یا مردُود؟ پہلی صورت میں یہ شخص مقرّبِ بارگاہ بن گیا، اور دُوسری صورت میں مطرود و مردُود ہوا، یہی کیفیت ہر عبادت کے بعد ہونی چاہئے۔
اور خاص الخاص روزہ یہ ہے کہ دُنیوی افکار سے قلب کا روزہ ہو، اور ماسوا اللہ سے اس کو بالکل ہی روک دیا جائے، البتہ جو دُنیا کہ دین کے لئے مقصود ہو وہ تو دُنیا ہی نہیں، بلکہ توشہٴ آخرت ہے۔ بہرحال ذکرِ الٰہی اور فکرِ آخرت کو چھوڑ کر دیگر اُمور میں قلب کے مشغول ہونے سے یہ روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اربابِ قلوب کا قول ہے کہ دن کے وقت کاروبار کی اس واسطے فکر کرنا کہ شام کو اِفطاری مہیا ہوجائے، یہ بھی ایک درجے کی خطا ہے، گویا اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رزقِ موعود پر اس شخص کو وثوق اور اعتماد نہیں، یہ انبیاء، صدیقین اور مقربین کا روزہ ہے۔ (احیاء العلوم ً

روزه آفطار كروانے كي فضيلت
رمضان المبارک عبادت و ریاضت، ایثار و ہمدردی، رب کی رضا کی تلاش اور اس کے قرب کا مہینہ ہے،اس میں بندۂ مومن کے ہر نیک عمل اور ہر نیکی کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے
رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم نے رمضان المبارک کی عظمت و اہمیت کو اجاگر فرمايا اور اس میں نیکیوں پر بے شمار اجر و ثواب کی نوید سنائي اور روزے داروں کو روزہ افطار کرانے کی فضیلت اور اس پر ملنے والے اجر و ثواب سے آگاہ فرمایا ہے۔ روزہ افطار کرانے میں ہر فرد کی حیثیت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ صحابہ کرام رضوان الله عليهم کے عرض کرنے پر کہ یا رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم! ہم میں سے ہر ایک تو اس کی استطاعت اور قدرت نہیں رکھتا کہ وہ روزے دار کو روزہ افطار کرا سکے؟ اس پر آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا؟ اللہ تعالیٰ یہ اجر و ثواب اسے بھی عطا فرمائے گا،جو روزے دار تھوڑی لسی (شربت وغیرہ) یا پانی پلا دے (کیوں کہ اللہ کے یہاں نیت کا اجر ہے) رمضان المبارک میں روزہ افطار کرانے کا یہ عمل اور یہ روایت مسلم دنیا کے بیش تر علاقوں میں پوری شان و شوکت سے نظر آتی ہے، بالخصوص عرب دنیا اور خاص طور پر حرمین شریفین کے مقدس مقامات پر سحر و افطار کے بابرکت لمحات اور پرنور ساعتوں میں یہ مناظر عام دیکھنے میں آتے ہیں۔وہاں اس کارخیر اور باعثِ اجر و ثواب عمل میں مسابقت کے مناظر عام نظر آتے ہیں۔ خوش قسمتی سے روزہ افطار کرانے کی یہ اسلامی روایت اب وطن عزيز ميں بھی عام ہوتی جارہی ہے۔ صاحب خیر اور اہل ثروت حضرات اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں
روزہ افطار کرانا انفاق فی سیبل اللہ کا ایک اہم شعبہ ہے،اس میں لوگوں کو کھانا کھلانے اور پیاسوں کو سیراب کرنے کا عمل اور اس کا اجر و ثواب بھی شامل ہوجاتا ہے۔ غربت و افلاس،مہنگائی، بے روزگاری، معاشی بدحالی اور کئی دیگر عوامل کے باعث ہمارے معاشرے میں خود داری،عزت نفس، سفید پوشی اور اپنا بھرم قائم رکھنے کے اعلیٰ اخلاقی وصف کے حامل یہ افراد نہ دست سوال دراز کرتے ہیں اور نہ کسی سے امید لگاتے ہیں۔ انہیں اپنا مہمان بنانا اور انہیں افطار میں شریک کرنا باعثِ اجر و ثواب عمل اور ایک عظیم نیکی ہے۔ تاہم ایسے میں بندگان خدا کی عزت نفس اور خودداری کا پورا لحاظ رکھنا چاہیے، نیک کام اور نیکی تب ہی بارگاہ الہٰی میں مقبول ہے، جب وہ نام نمود، شہرت و ناموری اور ریاکاری جیسی بری صفات سے پاک ہو۔اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور نیت کا اخلاص اور ارادے کا پرخلوص ہونا نیک اعمال اور نیکیوں کی قبولیت کی بنیادی شرط ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے كه جو لوگ اپنا مال راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اور جو کچھ انہوں نے خرچ کیا ہو،اس پر کوئی احسان نہیں جتاتے اور اذیت نہیں پہنچاتے،ان کی جزا ان کے پروردگار کے پاس محفوظ ہے، اور انہیں نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم نے ’’انفاق فی سبیل اللہ‘‘ کے اہم شعبے ’’بھوکوں کو کھانا کھلانا اور پیاسوں کو سیراب کرنے کے بے شمار فضائل بیان فرمائے ہیں۔محسن انسانیت صلى الله عليه وآله وسلم کا ارشاد ہے: ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے فرمائے گا، اے ابن آدم! میں بیمار ہوا، تو نے میری عیادت نہیں کی، وہ گھبرا کر عرض کرے گا، اے میرے رب! تو تو سارے جہاں کا پروردگار ہے،تو کب بیمار تھا! اور میں تیری عیادت کیسے کرتا! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہے، اس کے باوجود تو نے اس کی مزاج پُرسی نہیں کی، اگر تو عیادت کے لیے اس کے پاس جاتا تو مجھے وہاں پاتا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا! ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا، لیکن تو نے مجھے کھانا نہیں دیا۔‘‘ بندہ عرض کرے گا، اے رب العالمین! تو کب بھوکا تھا اور میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا! اللہ تعالیٰ فرمائے گا! کیا تجھے یاد نہیں، میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا،لیکن تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا،اگر تو نے اس کا سوال پورا کیا ہوتا تو آج اس کا ثواب یہاں پاتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا، لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا، بندہ عرض کرے گا، اے دونوں جہانوں کے پروردگار! تو کب پیاسا تھا، اور میں کیسے تجھے پانی پلاتا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی طلب کیا تھا،تو نے اس کی پیاس بجھانے سے انکار کردیا تھا۔ اگر تو نے اس کی پیاس بجھائی ہوتی تو آج اس کا اجر و ثواب یہاں پاتا۔‘‘(صحیح مسلم)
حضرت ابو سعید خدری رضي الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس جس مسلمان نے (اپنے) مسلمان بھائی کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلایا تو قیامت کے دن اللہ عزوجل اسے جنت کے پھل کھلائے گا، جس مسلمان نے کسی مسلمان کو پیاس کی حالت میں پانی پلایا تو اللہ اسے روز قیامت مہر بند شراب (یعنی نشے سے پاک جنت کا مشروب) پلائے گا، جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کپڑا پہنایا برہنہ جسم ہونے کی حالت میں تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن جنتی پوشاک پہنائے گا۔ (ترمذی)
حضرت عبداللہ بن عمر رضي الله تعالى عنه کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنے مسلمان بھائی کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا اور پانی سے اس کی پیاس بجھائی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے جہنم سے سات خندقوں کے فاصلے پر رکھے گا،اور ہر دو خندقوں کے درمیان پانچ سو سال کے سفر کا فاصلہ ہے۔ (الترغیب و الترہیب)
رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم کے ان ارشادات سے بھوکوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب،اس کی عظمت و اہمیت اور اس عمل خیر پر اجر و ثواب کا پتا چلتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضي الله تعالى عنه کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلى الله عليه وآله وسلم سے عرض کیا کونسا اسلام افضل ہے؟ آپ صلى الله عليه وآله وسلمنے فرمایا! تم (بھوکوں کو) کھانا کھلائو اور سلام کرو ہر اس شخص کو جسے تم پہچانتے ہو یا نہیں پہچانتے۔ (بخاری)
حضرت عبداللہ بن سلام رضي الله تعالى عنه کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلى الله عليه وآله وسلم جب مدینۂ منورہ تشریف لائے تو میں آپ صلى الله عليه وآله وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جوں ہی میری نگاہ آپ صلى الله عليه وآله وسلم کے چہرۂ انور پر پڑی، میں سمجھ گیا کہ یہ کسی راست گو اور سچے انسان کا چہرہ ہے، پہلی بات جو اس وقت آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمائی وہ یہ تھی!
’’لوگو! سلام کو رواج دے کر اسے پھیلاؤ (بھوکوں کو) کھانا کھلاؤ،رشتے داروں سے جُڑو،رات میں جب لوگ سو رہے ہوں، تو تم نماز پڑھو، اور سلامتی کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاؤ۔‘‘ (جامع ترمذی)
اسلام دین رحمت،نظام فطرت اور مذہب انسانیت ہے،اس کی تعلیمات بنی نوع آدم کی فلاح اور نجات کی حقیقی ضامن ہیں۔ قرآن کریم اور تعلیماتِ نبوی صلى الله عليه وآله وسلم میں ایثار و سخاوت، انفاق فی سبیل اللہ، خدمتِ خلق، سماجی بہبود اور رفاہ عامہ کو اعلیٰ درجے کی نیکی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسلام میں ضرورت مندوں کی حاجت روائی کو دین کا ایک اہم شعبہ قرار دیا گیا ہے۔انفاق فی سبیل اللہ میں ’’بھوکوں کو کھانا کھلانا اور پیاسوں کو پانی پلانا‘‘۔ ایک عظیم کارخیر اور باعثِ اجر و ثواب عمل ہے۔ پیغمبر رحمت، محسن انسانیت حضرت محمد صلى الله عليه وآله وسلم کے اسوۂ حسنہ اور آپ صلى الله عليه وآله وسلم کی سیرتِ طیبہ کا امتیازی اور روشن پہلو مظلوموں کی داد رسی،حاجت مندوں کی حاجت روائی، خدمتِ خلق اور معاشرے کے مفلوک الحال طبقے کی مدد و اعانت ہے۔
رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم پر نازل ہونے والی آخری الہامی کتاب،صحیفۂ ہدایت، نسخۂ کیمیاء قرآن کریم فرقان حمید جو اسلامی تعلیمات کا دستور اور مثالی منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔اس کتاب مبین میں اللہ عزوجل نے اپنے مقرب اور نیک بندوں کی صفات و علامات بیان کرتے ہوئے ایک مقام پر ارشاد فرمایا:’’وہ کھانے کی خواہش اور ضرورت کے باوجود اسے مسکین، یتیم اور قیدی کو کھلا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اللہ کی (رضا اور) خوشنودی کے لیے تمہیں کھلا رہے ہیں۔ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ، ہمیں تو اپنے رب سے اس دن کا ڈر ہے جو بہت سخت اور غصے سے بھرا ہوا ہوگا۔(سورۃ الدھر)
انفاق فی سبیل اللہ کے قرآن کریم اور احادیث نبوی صلى الله عليه وآله وسلم میں بے شمار فضائل بیان کیے گئے ہیں،راہِ خدا میں مال خرچ کرنا ایک ایسا عمل ہے جس کی فضیلت میں قرآن مبارك ميں فرمایا گیا:
’’مثال ان لوگوں کی جو اپنا مال راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں، جیسے ایک دانہ، جس سے سات بالیاں اگیں، ہر بالی میں سو دانے ہیں اور اللہ جس کا چاہتا ہے،اجر دوگنا کردیتا ہے،اللہ وسعت والا اور باخبر ہے۔‘‘
رمضان المبارک‘‘ عبادت و ریاضت، ایثار و ہمدردی، غمگساری، رب کی رضا کی تلاش اور اس کے قرب کا مہینہ ہے۔اس میں بندۂ مومن کے ہر نیک عمل اور ہر نیکی کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے۔ یہ اہل ایمان کے انعام و اکرام کا مہینہ ہے۔ اس ماہِ مبارک میں آدمی کے ہر عمل کا اجر دس سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضي الله تعالى عنه فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم قیدی کو رہا فرما دیتے اور ہر سائل کی داد رسی فرماتے تھے۔‘‘ (مشکٰوۃ)
حديث شريف ميں هے كه شعبان المعظّم کی آخری تاریخ کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خطبہ دیا۔اس میں آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا:’’لوگو! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے،جو شخص اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی غیر فرض عبادت (یعنی سُنّت،یا نفل) ادا کرے گا،تو اسے دوسرے زمانے کے فرضوں کے برابر اس کا اجر ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستّر فرضوں کے برابر ملے گا۔یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنّت ہے،یہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے،اور یہی وہ مہینہ ہے، جس میں مومن بندوں کے رزق میں فراخی اور اضافہ کیا جاتا ہے۔ جس نے اس مہینے میں کسی روزے دار کو (اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لیے) افطار کرایا،تو یہ اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور آتشِ دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا،اسے اس روزے دار کے برابر ثواب دیا جائے گا، بغیر اس کے کہ روزے دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔
حضرت زید بن خالد رضي الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی روزے دار کو افطار کروائے یاکسی مجاہد کا سامان سفر تیار کروائے تو اسے بھی اس کے مثل اجر ملے گا۔(بیہقی/ شعب الایمان)
حضرت زید بن خالد جہنی رضي الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص کسی روزے دار کو افطار کرائے تو روزے دار کے ثواب میں سے کچھ کمی کیے بغیر افطار کرانے والے کو اتنا ہی اجر وثواب ملے گا،جتنا روزے دار کو ملے گا۔(ترمذی،ابن ماجہ)
الله تعالى هميں إخلاص كے ساتهـ إس كا إهتمام كرنے كي توفيق عنايت فرمائے اور همارے تمام أعمال كو شرف قبوليت بخشے - آمين يا رب العلمين

رمضان المبارک كا أصل مقصد حصول تقوى
رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بڑی عظیم نعمت ہے، اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انوار وبرکات کا سیلاب آتا ہے اور اس کی رحمتیں موسلادھار بارش کی طرح برستی ہیں، مگر ہم لوگ اس مبارک مہینے کی قدرومنزلت سے واقف نہیں، کیونکہ ہماری ساری فکر اور جدوجہد مادّیت اور دنیاوی کاروبار کے لیے ہے، اس مبارک مہینے کی قدردانی وہ لوگ کرتے ہیں جن کی فکر آخرت کے لیے اور جن کا محور ما بعد الموت ہو۔ ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ آتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وبَلِّغْنَا رَمَضَانَ، (شعب الایمان
ترجمہ: اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینے میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا دیجیے، (یعنی ہماری عمر اتنی دراز کردیجیے کہ ہمیں رمضان کا مہینہ نصیب ہوجائے۔)
آپ غور فرمائیں کہ رمضان المبارک آنے سے دو ماہ پہلے ہی رمضان المبارك کا انتظار اوراشتیاق ہورہا ہے، اوراس کے حاصل ہونے کی دعا کی جارہی ہے، یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے جس کے دل میں رمضان کی صحیح قدروقیمت ہو۔

رمضان المبارك رحمت کا خاص مہینہ
اللہ تعالیٰ نے یہ مبارک مہینہ اس لیے عطا فرمایا کہ گیارہ مہینے انسان دنیا کے دھندوں میں منہمک رہتا ہے جس کی وجہ سے دلوں میں غفلت پیدا ہوجاتی ہے، روحانیت اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں کمی واقع ہوجاتی ہے، تو رمضان المبارک میں
مسلمان اللہ کی عبادت کرکے اس کمی کو دور کرسکتا ہے، دلوں کی غفلت اور زنگ کو ختم کرسکتا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرکے زندگی کا ایک نیادور شروع ہوجائے، جس طرح کسی مشین کو کچھ عرصہ استعمال کرنے کے بعد اس کی سروس اور صفائی کرانی پڑتی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کی صفائی اور سروس کے لیے یہ مبارک مہینہ مقرر فرمایا۔

روزے کا مقصد
روزے کی ریاضت کا بھی خاص مقصد اور موضوع یہی ہے کہ اس کے ذریعے انسان کی حیوانیت اور بہیمیت کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی اورایمانی وروحانی تقاضوں کی تابعداری وفرماں برداری کا خوگر بنایاجائے اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں نفس کی خواہشات اور پیٹ اور شہوتوں کے تقاضوں کو دبانے کی عادت ڈالی جائے اور چوں کہ یہ چیز نبوت اور شریعت کے خاص مقاصد میں سے ہے اس لیے پہلی تمام شریعتوں میں بھی روزے کا حکم رہا ہے، اگرچہ روزوں کی مدت اور بعض دوسرے تفصیلی احکام میں ان امتوں کے خاص حالات اور ضروریات کے لحاظ سے کچھ فرق بھی تھا، قرآنِ کریم میں اس امت کو روزے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایاگیا ہے:
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ (سورة البقرہ  ) ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کیے گئے تھے (روزوں کا یہ حکم تم کو اس لیے دیا گیا ہے) تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔
یہ بات یقینی ہے کہ نفس انسانی انسان کو گناہ، نافرمانی اور حیوانی تقاضوں میں اسی وقت مبتلا کرتا ہے جب کہ وہ سیر ہوا ہو، اس کے برخلاف اگر بھوکا ہوتو وہ مضمحل پڑا رہتا ہے اور پھر اس کو معصیت کی نہیں سوجھتی، روزے کا مقصد یہی ہے کہ نفس کو بھوکا رکھ کر مادّی وشہوانی تقاضوں کو بروئے کار لانے سے اس کو روکا جائے تاکہ گناہ پر اقدام کرنے کا داعیہ اور جذبہ سُسْت پڑجائے اور یہی ”تقویٰ“ ہے۔
اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ عالم بالا کی پاکیزہ مخلوق (فرشتے) نہ کھاتے ہیں، نہ پیتے ہیں اورنہ بیوی رکھتے ہیں، جبکہ روزہ (صبح صادق سے غروب آفتاب تک) انہی تین چیزوں (کھانا، پینا اور جماع) سے رکنے کا نام ہے، تو گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو روزے کا حکم دے کر ارشاد فرمایا ہے کہ اے میرے بندو! اگر تم ان تینوں چیزوں سے پرہیز کرکے ہماری پاکیزہ مخلوق کی مشابہت اختیار کروگے تو ہماری اس پاکیزہ مخلوق کی پاکیزہ صفت بھی تمہارے اندر پیدا ہوجائے گی اور وہ صفت ہے: لاَیَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَا اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُوٴْمَرُوْنَ۔ (سورئہ تحریم) ترجمہ: وہ (فرشتے) خداکی نافرمانی نہیں کرتے کسی بات میں جو ان کو حکم دیتا ہے اور جو کچھ ان کو حکم دیاجاتا ہے اس کو فوراً بجالاتے ہیں۔ (بیان القرآن) اور اسی کاحاصل ”تقویٰ“ ہے۔
چنانچه حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا:
لِکُلِّ شَیْءٍ زَکوٰةٌ وَزَکوٰةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ۔ (ابن ماجہ 
ہر چیز کے لیے کوئی نہ کوئی صفائی ستھرائی کا ذریعہ ہے اور بدن کی صفائی ستھرائی کا ذریعہ ”روزہ“ ہے۔
بہرحال روزے کا مقصد تقویٰ ہے، اسی تقویٰ کے حصول کے لیے اس آخری امت پر سال میں ایک مہینے کے روزے فرض کیے گئے اور روزے کا وقت طلوع صبح صادق سے غروب آفتاب تک رکھا گیا اور یہ زمانہ اِس دور کے عام انسانوں کے حالات کے لحاظ سے ریاضت وتربیت کے مقصد کے لیے بالکل مناسب اورنہایت معتدل مدت اور وقت ہے۔ پھر اس کے لیے مہینہ وہ مقرر کیا گیا جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا اور جس میں بے حساب برکتوں اور رحمتوں والی رات (شبِ قدر) ہوتی ہے، ظاہر ہے کہ یہی مبارک مہینہ اس کے لیے سب سے زیادہ مناسب اور موزوں زمانہ ہوسکتا تھا، اسی کے ساتھ ساتھ اس مہینے میں دن کے روزوں کے علاوہ رات میں بھی ایک خاص عبادت کا عمومی اور اجتماعی نظام قائم کیاگیا جس کو ”تراویح“ کہا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس مبارک مہینے کی نورانیت اور تاثیر میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور ان دونوں عبادتوں کے احادیث شریفہ میں بہت زیادہ فضائل ارشاد فرمائے گئے ہیں،
تقویٰ کے حصول میں معاون چیزیں
لیکن صرف روزہ رکھنے اور تراویح پڑھنے کی حد تک بات ختم نہیں ہوتی بلکہ اس ماہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ غفلت کے پردوں کو دل سے دور کیا جائے، اصل مقصدِ تخلیق کی طرف رجوع کیاجائے، گزشتہ گیارہ مہینوں میں جو گناہ ہوئے ان کو معاف کراکر آئندہ گیارہ مہینوں میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کے استحضار اور آخرت میں جواب دہی کے احساس کے ساتھ گناہ نہ کرنے کا داعیہ اور جذبہ دل میں پیدا کیا جائے، جس کو ”تقویٰ“ کہا جاتا ہے۔ اس طرح رمضان المبارک کی صحیح روح اوراس کے انوار وبرکات حاصل ہوں گے، ورنہ یہ ہوگا کہ رمضان المبارک آئے گا اور چلا جائے گا اور اس سے صحیح طور پر ہم فائدہ نہیں اٹھا پائیں گے، بلکہ جس طرح ہم پہلے خالی تھے ویسے ہی خالی رہ جائیں گے، چند ایسے أعمال هيں رمضان المبارك مين جن كوأختيار كركے روزے کا مقصد (تقویٰ) اور رمضان المبارک کے انوار وبرکات حاصل ہونے كي قوي أميد هے ، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

 عبادت کی مقدار میں اضافہ
رمضان المبارک کی برکتوں کو حاصل کرنے کے لیے اپنی عبادت کی مقدار میں اضافہ کرنا ہے، دوسرے ایام میں جن نوافل کو پڑھنے کی توفیق نہیں ہوتی ان کو اس مبارک ماہ میں پڑھنے کی کوشش کریں، مثلاً: مغرب کے بعد سنتوں سے الگ یا کم از کم سنتوں کے ساتھ چھ (6) رکعت اوّابین پڑھیں۔ (جب کہ ہمارا حال یہ ہے کہ اوّابین افطار کی نذر ہوجاتی ہیں) عشاء کی نماز سے چند منٹ پہلے آکر چار رکعت یا دو رکعت نفل پڑھیں۔ سحری کھانے کے لیے اٹھنا ہی ہے تو چند منٹ پہلے اٹھ کر کم از کم چار رکعت تہجد پڑھ لیں۔ اسی طرح اشراق کی نماز اور اگراشراق کے وقت نیند کا غلبہ ہوتو چاشت کی چند رکعتیں تو پڑھ ہی لیں۔ ظہر کے بعد دو سنتوں کے ساتھ دو رکعت نفل اور عصر سے پہلے چار رکعت نفل پڑھ لیں۔ کیوں کہ نماز کا خاصہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان کا رشتہ جوڑتی ہے اوراس کے ساتھ تعلق قائم کراتی ہے، جس کے نتیجے میں انسان کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے، جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضي الله تعالى عنه سے مروی حدیث شریف میں ہے:
اَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَّبِّہ وَہُوَ سَاجِدٌ (مسلم شریف
یعنی بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتاہے، تو گویا نماز کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک عظیم تحفہ عطا کیاہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے، آمین!

 تلاوتِ قرآنِ کریم کی کثرت
دوسرا کام یہ ہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت کا خاص اہتمام کرنا ہے، کیوں کہ رمضان المبارک کے مہینے کو قرآن کریم کے ساتھ خاص مناسبت اور تعلق ہے، اسی مہینے میں قرآن کریم نازل ہوا، ارشادِ مبارک ہے: شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ، (سورئہ بقرہ ) خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رمضان المبارک میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن مجید کا دور فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری) تمام بزرگانِ دین کی زندگیوں میں یوں تو قرآنِ کریم میں اشتغال بہت زیادہ نظر آتا ہے، لیکن رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی تلاوت کے معمول میں غیرمعمولی اضافہ ہوجاتا ، چنانچہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اس مبارک مہینے میں ایک قرآنِ کریم دن میں، ایک رات میں اور ایک تراویح میں، اس طرح اکسٹھ (61) قرآن کریم ختم فرماتے تھے۔ ماضی کے ہمارے تمام اکابر (حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمه الله ، مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمه الله ،مولانا رشید احمد گنگوہی رحمه الله، مولانا شاہ عبدالرحیم رائپوریرحمه الله ، شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندی رحمه الله، مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمه الله ، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله ، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمه الله ، مولانا یحییٰ کاندھلوی رحمه الله ، مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمه الله ، شاہ عبدالقادر رائپوری رحمه الله، شیخ الحدیث مولانا زکریا مہاجر مدنی رحمه الله، فقیہ الامت مولانا مفتی محمودحسن گنگوہی رحمه الله، مولانا قاری سید صدیق احمد باندوی رحمه الله، مولانا شاہ ابرارالحق ہردوئی رحمه الله، فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی رحمه الله وغیرہم) کا رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن کریم کا معمول دیدنی ہوتا تھا۔ لہٰذا ہم کو بھی اس مبارک ماہ میں عام دنوں کے مقابلے میں تلاوت کی مقدار زیادہ کرنی ہے، عام آدمی کو بھی روزانہ کم از کم تین پارے پڑھنے چاہئیں، تاکہ پورے مہینے میں کم از کم تین قرآنِ کریم ختم ہوجائیں۔

 تراویح میں قرآنِ کریم صحیح پڑھنے اور سننے کا اہتمام
اس مبارک مہینے میں ہرموٴمن کو اس بات کی بھی فکر کرنی ضروری ہے کہ تراویح میں قرآنِ مجید صحیح اور صاف صاف پڑھا جائے، جلدی جلدی اور حروف کو کاٹ کاٹ کر پڑھنے سے پرہیز کیا جائے، کیوں کہ اس طرح قرآنِ کریم پڑھنا اللہ کے کلام کی عظمت کے خلاف ہے، نیز پڑھنے والے کو خود قرآنِ کریم بددعا دیتا ہے۔ (احیاء العلوم ) اس طرح قرآن کریم پڑھنے والا اور سننے والے سب گنہگار ہوتے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ حافظ صاحب نہایت تیزگامی کے ساتھ حروف کو کاٹ کاٹ کر پڑھتے چلے جارہے ہیں، ایک سانس میں سورئہ فاتحہ کو ختم کردیا جاتا ہے ، صحیح طریقے سے رکوع، سجدہ اور تشہد ادا نہیں ہورہا ہے، چالیس پینتالیس منٹ میں پوری نماز ختم، اب گھنٹوں مجلسوں میں بیٹھ کر گپ شپ ہورہا ہے اورحافظ صاحب وسامعین میں سے کسی کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم نے قرآنِ کریم کی توہین میں کتنا حصہ لیا اور رمضان المبارك کی مبارک ساعتوں میں کتنی بے برکتی اور قرآن کریم کی کتنی بددعا لی؟ خدا را اس صورتِ حال سے بچئے اور اس مبارک مہینے میں برکتوں اور رحمتوں کے دروازے کو اپنے اوپر بند نہ کیجیے اور صاف صحیح قرآن کریم پڑھنے اور سننے کا اہتمام کرکے دارین کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔

 استغفار کی کثرت
چوتھا کام یہ کرنا ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنی ہے، حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالى عنہ سے مروی مشہور حدیث شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے منبر کی پہلی، دوسری اور تیسری سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے ”آمین“ فرمایا، صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جبرئیل امین علیہ الصلاة والسلام میرے سامنے آئے تھے اورجب میں نے منبر کے پہلے زینے پر قدم رکھا تو انھوں نے کہا: ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی، میں نے کہا آمین، الیٰ آخر الحدیث (مستدرک حاکم )
ظاہر ہے کہ اس شخص کی ہلاکت میں کیا شبہ ہے جس کے لیے حضرت جبرئیل علیہ السلام بددعا کریں اورحضور اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم آمین کہیں، اس لیے اس مبارک مہینے میں نہایت کثرت کے ساتھ گڑگڑا کر اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کرے۔

 دعا کا اہتمام
رمضان المبارک کی برکات کو حاصل کرنے کے لیے دعاؤں کا اہتمام بھی لازم ہے، بہت سی روایات میں روزے دار کی دعا کے قبول ہونے کی بشارت دی گئی ہے، حضرت ابوہریرہ رضي الله تعالى عنه سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا كه تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی (ضرور قبول ہوتی ہے) ایک روزے دار کی افظار کے وقت، دوسرے عادل بادشاہ کی، تیسرے مظلوم کی بددعاء، اس کو اللہ تعالیٰ بادلوں سے اوپر اٹھالیتے ہیں اورآسمان کے دروازے اس کے لیے کھول دیے جاتے ہیں اورارشاد ہوتا ہے کہ میں تیری ضرور مدد کروں گا گو(کسی مصلحت سے) کچھ دیر ہوجائے۔
بہرحال یہ مانگنے کا مہینہ ہے، اس لیے جتنا ہوسکے دعا کا اہتمام کیا جائے، اپنے لیے، اپنے اعزہ واحباب اور رشتے داروں کے لیے، اپنے متعلقین کے لیے، ملک وملت کے لیے اور عالم اسلام کے لیے خوب دعائیں مانگنی چاہئیں، اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرمائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

 صدقات کی کثرت
رمضان المبارک میں نفلی صدقات بھی زیادہ سے زیادہ دینے کی کوشش کرنی چاہیے، حدیث شریف میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم کی سخاوت کا دریا پورے سال ہی موجزن رہتا تھا، لیکن ماہِ رمضان المبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم کی سخاوت ایسی ہوتی تھی جیسے جھونکے مارتی ہوئی ہوائیں چلتی ہیں (بخاری شریف) جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا اس کو ضرور نوازتے۔ لہٰذا ہم کو بھی اس بابرکت مہینے میں اس سنت پر عمل کرتے ہوئے صدقات کی کثرت کرنی چاہیے۔

 کھانے کی مقدار میں کمی
ساتویں چیز جس کا لحاظ رمضان المبارک کے مقصد کو حاصل کرنے میں معاون ہے ”کھانے کی مقدار میں کمی کرنا“ ہے، کیوں کہ روزے کا مقصد قوتِ شہوانیہ وبہیمیہ کا کم کرنا اور قوتِ ملکیہ ونورانیہ کا بڑھانا ہے، جب کہ زیادہ کھانے سے یہ غرض فوت ہوجاتی ہے، بقول شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب رحمه الله ہم لوگوں کا حال یہ ہے کہ افظار کے وقت تلافیٴ مافات میں (کہ پورے دن بھوکا رہا)اور سحر کے وقت حفظ ماتقدم میں (کہ پورے دن بھوکا رہنا ہے) اتنی زیادہ مقدار میں کھا لیتے ہیں کہ بغیر رمضان کے بھی اتنی مقدار کھانے کی نوبت نہیں آتی جس کی وجہ سے کھٹی ڈکاریں آنے لگتی ہیں، حقیقتاً ہم لوگ صرف کھانے کے اوقات بدلتے ہیں یعنی افظار میں، تراویح کے بعد اور پھر سحری میں، اس کے علاوہ کچھ بھی کمی نہیں کرتے، بلکہ مختلف قسم کی زیادتی ہی ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے قوتِ شہوانیہ و بہیمیہ کم ہونے کے بجائے اور بڑھ جاتی ہے اورمقصد کے خلاف ہوجاتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے ارشاد فرمایا
مَا مَلَأ اٰدَمِیٌّ وِعَاءً شَرَّا مِنْ بَطْنٍ بِحَسْبِ ابْنِ اٰدَمَ اُکُلَاتٌ یُقِمْنَ صُلْبَہ فَاِنْ کَانَ لاَ مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِہ 
وَثُلُثٌ لِشَرَابِہ وَثُلُثٌ لِنَفسِہ۔ (ترمذی شریف
یعنی اللہ تعالیٰ کو کسی برتن کا بھرنا اتنا ناپسند نہیں جتنا پیٹ کا بھرنا ناپسند ہے،ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جن سے کمرسیدھی رہے، اگر زیادہ ہی کھانا ہے تو ایک تہائی پیٹ کھانے کے لیے رکھے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے رکھے۔ البتہ اتنا کم نہ کھائے کہ عبادات کے انجام دینے میں اور دوسرے دینی کاموں میں خلل واقع ہو۔

 گناہوں سے پرہیز
رمضان المبارک میں خاص طور پر گناہوں سے پرہیز کرنا نہایت ضروری ہے، ہر موٴمن کو یہ طے کرلینا چاہیے کہ اس برکت ورحمت اورمغفرت کے مہینے میں آنکھ، کان اور زبان غلط استعمال نہیں ہوگی، جھوٹ، غیبت، چغل خوری اور فضول باتوں سے مکمل پرہیز کرے، یہ کیا روزہ ہوا کہ روزہ رکھ کر ٹیلی ویژن کھول کر بیٹھ گئے اور فحش وگندی فلموں سے وقت گزاری ہورہی ہے، کھانا، پینا اورجماع جو حلال تھیں ان سے تو اجتناب کرلیا لیکن مجلسوں میں بیٹھ کر کسی کی غیبت ہورہی ہے، چغل خوری ہورہی ہے، جھوٹے لطیفے بیان ہورہے ہیں، اس طرح روزے کی برکات جاتی رہتی ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضي الله تعالى سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ لَمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِہ فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَةٌ فِیْ اَن یَّدَعَ طَعَامَہ وَشَرَابَہ
ترجمہ: جو آدمی روزہ رکھتے ہوئے باطل کام اور باطل کلام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ (صحیح بخاری )۔
یعنی روزے کے مقبول ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کھانا پینا چھوڑنے کے علاوہ معصیات ومنکرات سے بھی زبان ودہن اور دوسرے اعضاء کی حفاظت کرے، اگر کوئی شخص روزہ رکھے اور گناہ کی باتیں اور گناہ والے اعمال کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے روزے کی کوئی پرواه نہیں۔ (معارف الحدیث)
ایک اور حدیث شریف میں حضرت ابوہریرہ رضي الله تعالى عنه سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے ارشاد فرمایا:
رُبَّ صَائِمٍ لَیْسَ لَہ مِنْ صِیَامِہ اِلَّا الْجُوْعُ وَرُبَّ قَائِمٍ لَیْسَ لَہ مِنْ قِیَامِہ اِلَّا السَّہْرُ۔
(سنن ابن ماجہ ۔ سنن نسائی )
ترجمہ: بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو روزے کے ثمرات میں سے بھوکا رہنے کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، اور بہت سے شب بیدار ایسے ہیں کہ ان کو رات کے جاگنے (کی مشقت) کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی اگر گناہوں (غیبت وریا وغیرہ) سے نہ بچے تو روزہ، تراویح اور تہجد وغیرہ سب بیکار ہے۔
حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالى عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ مَالَمْ یَخْرِقْہَا۔ (نسائی شریف ، مسند احمد 
ترجمہ: روزہ آدمی کے لیے ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔ یعنی روزہ آدمی کے لیے شیطان سے، جہنم سے اور اللہ کے عذاب سے حفاظت کا ذریعہ ہے، جب تک گناہوں (جھوٹ وغیبت وغیرہ) کا ارتکاب کرکے روزے کو خراب نہ کرے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله تعالى عنه سے مروی ایک حدیث شریف میں ہے کہ اگر روزے دار سے کوئی شخص بدکلامی اور جھگڑا وغیرہ کرنے کی کوشش کرے تو روزے دار کہہ دے کہ میرا روزہ ہے۔ یعنی میں ایسی لغویات میں پڑکر روزے کی برکات سے محروم ہونا نہیں چاہتا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ان تمام احادیث شریفہ کا مدعا یہ ہے کہ روزے کے مقصد (تقویٰ) اور رمضان المبارک کی برکتوں اور رحمتوں کے حصول کے لیے معصیات ومنکرات سے پرہیز نہایت ضروری ہے، اس کے بغیر تقوے کی سعادت سے متمتع نہیں ہوا جا سکتا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رحمت سے ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، رمضان المبارک کی قدردانی کی توفیق بخشے اور اس بابرکت مہینے کے اوقات کو صحیح طور پر خرچ کرنے کی توفیق نصیب فرمائے،
آمین ثم آمین یا رب العالمین!
---

Share: