إهلِ ميت كا لوگوں كے لئے كهانا تيار كرنا

تعزيت - إهلِ ميت كے گهر إجتماع 
اور إهلِ ميت كا لوگوں كے لئے كهانا تيار كرنا

آحادیث مباركه اس پر شاهد هیں که جب کسی کی وفات هوجائے تو اس کے گهر والے چونکه صدمه میں مبتلا هوتے هیں اس لئے اهل محله اور رشته دار "اهلِ میت " کا کهانا تیار کریں اور جو نماز جنازه میں شریک نه هوسکا وه جاکر تعزیت بهی کرسکتا هے .
لیکن میت کے گهر اجتماع اور اهل میت کا لوگوں کے لئے کهانا تیار کرنا ایک بهت بڑا گناه هے اور بهت سے علاقوں ميں لوگ اس قبیح حرکت کا شکار هو کر مقروض بهي هوجاتے هیں اور بسا اوقات تو وه سود پر قرض لینے پر بهی مجبور هوجاتے هیں اس طرح سے وارثوں کا اور بطور خاص یتیموں کا مال برباد کیا جاتا هے.
1- حضرت جریر رضی الله تعالی عںه بن عبدالله " المتوفی51 هجری " فرماتے هیں:
" کنا نری الاجتماع الی اهل المیت وصنعته الطعام من النیاحته "
* ابن ماجه  ، مسند امام احمد  *
ترجمه: هم یعںی حضرات صحابه کرام رضوان الله اجمعین میت کے گهر جمع هونے کو اور میت کے گهر کهانا تیار کرنے کو نوحه سمجهتے تهے.

2- إيك مرفوع حدیث میں آیا هے که میت پر آواز کے ساتهـ رونا ، بین اور نوحه کرنا اهلِ جاهلیت کا کام هے اور نوحه کرنا جمهور سلف وخلف کے نزدیک حرام هے." امام نووی شرح مسلم  اسی طرح میت کے گهر سے کهانا كهانے كو بهی سمجها جائے یه روایت دو طریق سے مروی هے.
علامه هثیمی رحمه الله ایک سند کے متعلق لکهتے هیں که یه بخاری کی شرط پر صحیح هے اور دوسری کے بارے میں تحریر فرماتے هیں که مسلم کی شرط پر صحیح هے.
* کتاب ، مجمع الزوائد *

3- حضرت علامه ابن امیر الحاج المالکی رحمه الله " المتوفی 737 ه " لکهتے هیں که:
" اهل میت کا لوگوں كے لئے کهانا تیار کرنا اور لوگوں کا جمع هونا اس میں کوئی چیز منقول نهیں هے بلکه یه بدعت غیر مستحبه هے
بعض لوگوں نے یه بدعت بهي نکالی هے که میت کے تیجه پر طعام تیار کرتے هیں اور یه ان کے نزدیک معمول به کام بن گیا هے ." کتاب مدخل "

4- حضرت علامه محمد بن محمد مبنجی حنبلی رحمه الله " المتوفی 777هجری " تسلیته المصائب ص99 " میں اور حضرت امام شمس الدین بن قدامه حنبلی رحمه الله " المتوفی 682 هجری " شرح منقنع للکبیر میں اور امام موفق الدین بن قدامه حنبلی المتوفی 620هجری " لکهتے هیں:
که اهل میت جو لوگوں کے لئے کهانا تیار کرتے هیں وه مکروه هے کیونکه اس میں اهل میت کو مزید تکلیف اور شغل میں مبتلا کرنا هے نیز اس سے مشرکین اهل جاهلیت کے ساته مشابهت بهی پائی جاتی هے " * کتاب المغنی *

5- حضرت علامه ابن عابدین شامی رحمه الله لکهتے هیں:
مذهبنا ومذهب غیرنا کالشّافعیته والحنابلته ...... همارا اور حضرات شوافع اور حضرات حنابله رحمه الله کا یهی مذهب هے.

6- حضرت امام نووی رحمه الله شرح منهاج میں لکهتے هیں:
" الاجتماع علی مقبرته فی الیوم الثالث وتقسیم الورد والعود والطعام فی الایام المخصوصته کالثالث والخامس والتاسع والعاشر والعشرین والاربعین والشهر السادس والسنته بدعته ممنوعته "
قبر پر تیسرے دن اجمتاع کرنا اور گلاب اور اگرکی بتیاں تقسیم کرنا اور مخصوص دنوں کے اندر روٹی کهلانا ، مثلاََ " تیجه ، پانچواں ، نواں ، دسواں ، بیسواں اور چالیسواں " دن اور چهٹا مهینه اور سال کے بعد یه سب کے سب امور بدعت ممنوعه هے .
* بحواله انوار ساطعه ص105 *

7- اسی طرح سے حضرت ملا علی قاری رحمه الله نے لکهتے هیں
همارے مذهب " حنفی " کے حضرات فقهاء کرام نے اس بات کو ثابت کردیا هے که میت کے پهلے اور تیسرے دن اور اسی طرح هفته کے بعد طعام تیار کرنا مکروه هے.
 * مرقاته شریف ج5 ص482 *
Share: