مرد و عورت کی نماز میں فرق

مرد و عورت کی نماز میں فرق 


مرد و عورت ہاتھ کہاں تک اٹھائیں
دلیل نمبر1
عَنْ وَاِئلِ بْنِ حُجْرٍقَالَ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ! اِذَا صَلَّیْتَ فَاجْعَلْ یَدَیْکَ حِذَائَ اُذُنَیْکَ وَالْمَرْاَۃُ تَجْعَلُ یَدَیْھَا حِذَائَ ثَدْیَیْھَا۔
(المعجم الکبیر للطبرانی  )
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے وائل بن حجر!جب تو نماز پڑھے تو اپنے ہاتھ اپنے کانوں کے برابر اٹھا اور عورت کے لیے فرمایا کہ وہ اپنی چھاتیوں کے برابر ہاتھ اٹھائے۔‘‘

حضرت وائل بن حجر رضی الله تعالی عنه کی مرفوع حدیث هے.
عن وائل بن حجر قال رایت النبی صلی الله علیه وسلم یضع یمینه علی شمالته تحت السرته.
ترجمه: حضرت وائل فرماتے هیں که میں نے نبی کریم صلی الله علیه وسلم کو دیکها که آپ نے نماز میں اپنے دائیں هاته کو بائیں پر زیر ناف رکها اس کی سند نهایت صحیح هے.
* کتاب آثار السنن ج1 ص69 *
علامه سیوطی رح: نے بهی " التنویر " میں طبرانی کے حواله سے یه حدیث بیان کی هے اوجزالمسالک شرح موطا امام مالک ص202 ج1 "

حضرت ام درداء رضی الله عنه ، عطاء تابعی رح ، امام زهری رح ، حضرت امام حماد رح وغیره سے منقول هے که .
" ان المراته ترفع یدیها الی ثدییها "..... مصنف ابن ابی شیبته ج۱ ص239 ، وبنایه شرح هدایه للمحدث العینی رح ج1 ص602 "
ترجمه... بیشک عورت اپنے دونوں هاته اپنی چهاتیوں کے برابر اٹهائے.

* عورت اپنے هاته سینے پر رکهے *
استاذ العلماء حضرت مولانا عبدالحئی لکهنوی تحریر فرماتے هیں:
" واما فی حق النساء فاتفقوا علی ان السنته لهن وضع الیدین علی الصدر "
ترجمه: عورتوں کے متعلق سب کا اتفاق هے که ان کے لئے سنت سینے پر هاته رکهنا هے "
* السعایه ج2 ص156 *

مرد و عورت کے طریقہ رکوع میں فرق
دلیل نمبر2
عَنْ سَالِمِ الْبَرَّادِ قَالَ: اَتیْنَا عُقْبَۃَ بْنَ عَمْروٍ الْاَنْصَارِی اَبَا مَسْعُوْدٍ فَقُلْنَا لَہٗ حَدِّثْناَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَامَ بَیْنَ اَیْدِیْنَا فِی الْمَسْجِدِ فَکَبَّرَ فَلَمَّارَکَعَ وَضَعَ یَدَیْہِ عَلٰی رُکْبَتَیْہِ وَجَعَلَ اَصَابِعَہٗ اَسْفَلَ مِنْ ذٰلِکَ وَ جَافٰی بَیْنَ مِرْفَقَیْہِ
(سنن ابی داود ج1 ص 133 باب صلوۃ من لا یقیم صلبہ فی الرکوع والسجود )
ترجمہ: حضرت سالم البراد رحمہ اللہ (تابعی) کہتے ہیں کہ ہم ابو مسعود عقبۃ بن عمرو الانصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ ہم نے کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیں؟ تو وہ مسجد میں ہمارے سامنے کھڑے ہو گئے، پس تکبیر کہی۔ پھر جب رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا اور اپنی انگلیوں کو اس سے نیچے کیا اور اپنی کہنیوں کو اپنے پہلو سے دور رکھا۔

دلیل نمبر3
غیر مقلد عالم ابو محمد عبد الحق ہاشمی نے رکوع‘ سجود‘ قعود میں مرد و عورت کے فرق پر ایک رسالہ بنام : ''نصب العمود فی مسئلۃ تجافی المرأۃ فی الرکوع و السجود و القعود.‘‘ تصنیف کیا۔ اس میں ابن حزم ظاہری اور جمہور علماء کے موقف کو نقل کر کے فرماتے ہیں:
''عِنْدِیْ بِالْاِخْتِیَارِ قَوْلُ مَنْ قَالَ:اِنَّ الْمَرْأۃَ لَاَ تُجَافِیْ فِی الرُّکُوْعِ… لِاَنَّ ذٰلِکَ اَسْتَرُ لَھَا‘‘
(ص52)
ترجمہ: میرے نزدیک ان لوگوں کا مذہب راجح ہے جو یہ کہتے ہیں کہ عورت رکوع میں اعضاء کو کشادہ نہ کرے…… کیونکہ یہ کیفیت اس کے جسم کو زیادہ چھپانے والی ہے۔
مردوں کو رکوع میں اچهی طرح جهک جانا چاهیے که سر اور سرین اور پشت برابر هوجائیں.
اور عورتوں کو اس قدر نه جهکنا چاهے بلکه صرف اس قدر که ان کے هاته گهٹنوں تک پهنچ جائیں.
اس میں بهی ستر کا زیاده اهتمام هے اور اس کے خلاف بهی کسی سے منقول نهیں.
مردوں کو رکوع میں انگلیاں کشاده کرکے گهٹنوں پر رکهنا چاهیے اور عورتوں کو بغیر کشاده کئے هوئے بلکه ملا کر.
مردوں کو حالت رکوع میں کهنیاں پهلو سے علیحده رکهنی چاهیں اور عورتوں کو ملی هوئی.
* عالمگیری *

مرد و عورت کے طریقہ سجدہ میں فرق
دلیل نمبر4
عَنْ اَبِیْ حُمَیْدٍ فِیْ صِفَۃِ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:وَاِذَ ا سَجَدَ فَرَّجَ بَیْنَ فَخِذَیْہِ غَیْرَ حَامِلٍ بَطَنَہٗ عَلٰی شَیْ ئٍ مِّنْ فَخِذَیْہِ۔
(السنن الکبریٰ للبیہقی ج 2ص115 )
ترجمہ: حضرت ابو حمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو پیٹ کو رانوں سے بالکل نہیں ملاتے تھے۔

دلیل نمبر5
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاِذَا سَجَدَتْ اَلْصَقَتْ بَطْنَھَا فِیْ فَخْذِھَاکَاَسْتَرِ مَا یَکُوْنُ لَھَافَاِنَّ اللّٰہَ یَنْظُرُ اِلَیْھَا وَ یَقُوْلُ: یَا مَلَائِکَتِیْ! اُشْھِدُکُمْ اَنِّیْ قَدْ غَفَرْتُ لَھَا۔
(الکامل لابن عدی ج 2 ص631 , و سنن بیهقی ج2 ص223 )
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب عورت سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں کے ساتھ ملا دے کیونکہ یہ کیفیت اس کے جسم کو زیادہ چھپانے والی ہے اور اللہ تعالی عورت کی اس حالت کو دیکھ کر فرماتے ہیں اے میرے فرشتو! میں تمھیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس کو بخش دیا ہے۔‘‘

دلیل نمبر 6
عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " إِذَا سَجَدَتِ الْمَرْأَةُ فَلْتَحْتَفِزْ وَلْتَضُمَّ فَخِذَيْهَا " .
[مصنف ابن أبي شيبة » كتاب الصلاة » أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلاةِ » الْمَرْأَةُ كَيْفَ تَكُونُ فِي سُجُودِهَا ؟ رقم الحديث: 2701]
حضرت حارث رحمہ اﷲ فرماتے ہیں کہ حضرت علی کرم اﷲ تعالی نے فرمایا کہ جب عورت سجدہ کرے تو خوب سمٹ کر کرے اور اپنی دونوں رانوں کو ملائے رکھے۔

دلیل نمبر7
عنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى امْرَأَتَيْنِ تُصَلِّيَانِ ، فَقَالَ : " إِذَا سَجَدْتُمَا فَضُمَّا بَعْضَ اللَّحْمِ إِلَى الأَرْضِ ، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَيْسَتْ فِي ذَلِكَ كَالرَّجُلِ "


[مراسیل ابی داؤد: ص103، باب : مِنَ الصَّلاةِ, رقم الحديث: 77(87); سنن کبری بیہقی ج2ص223, جُمَّاعُ أَبْوَابِ الاسْتِطَابَةِ، 2/232، رقم الحديث: 2938]

دلیل نمبر8
عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ " كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ بَطْنَهُ عَلَى فَخِذَيْهِ إِذَا سَجَدَ كَمَا تَصْنَعُ الْمَرْأَةُ " .
[مصنف ابن ابی شیبہ ج1ص270, كتاب الصلاة » أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلاةِ » الْمَرْأَةُ كَيْفَ تَكُونُ فِي سُجُودِهَا؟ رقم الحديث: 2704]
حضرت مجاہد رحمہ ﷲ اس بات کو مکروہ جانتے تھے کہ مرد جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں پر رکھے جیسا کہ عورت رکھتی ہے۔

دلیل نمبر9
عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : " إِذَا سَجَدَتِ الْمَرْأَةُ فَلْتَضُمَّ فَخِذَيْهَا وَلْتَضَعْ بَطْنَهَا عَلَيْهِمَا " .
[ مصنف ابن ابی شیبہ ج1ص270, كتاب الصلاة » أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلاةِ » الْمَرْأَةُ كَيْفَ تَكُونُ فِي سُجُودِهَا؟ رقم الحديث: 2703]
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اﷲ فرماتے ہیں کہ عورت جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی رانوں سے چپکا لے اور اپنی سرین کو اوپر نہ اٹھائے اور اعضاء کو اس طرح دور نہ رکھے جیسے مرد دور رکھتا ہے۔
رسول الله صلی الله علیه وسلم دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑه رهی تهیں آپ علیه السلام نے فرمایا .
جب تم سجده کرو تم اپنے جسم کا کچه حصه زمین کی طرف سمیٹ لیا کرو کیونکه عورت کا حکم اس میں مرد کی طرح نهیں هے .
غور کیجیئے اس ارشاد نبوی علیه السلام میں عورت کے پرده کا تذکره کتنے صاف طور پر آگیا هے گویا که اصل بنیاد یهی هے.
مردوں کو سجدے میں پیٹ رانوں سے اور بازو بغل سے جدا رکهنے چائیں اور عورتوں کو ملاکر رکهنے چاهیں.
مردوں کو سجدے میں کهنیاں زمین سے اٹهی هوئی رکهنا چائیں اور عورتوں کو زمین پر بچهی هوئی.
مردوں کو سجدوں میں دونوں پاوں انگلیوں کے بل کهڑے رکهنے چائیں عورتوں کو نهیں.
* عالمگیری *
حضرت مجاهد رحمه الله اس بات کو مکروه جانتے تهے که مرد جب سجده کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں پر رکهے جیسا که عورت رکهتی هے.
* مصنف ابن ابی شیبه ج1 ص270 *
کوفه میں حضرت امام ابراهیم نخعی رحمه یهی فتوی دیتے تهے که عورت مرد کی طرح کهل کر سجده نه کرے بلکه خوب سمٹ کر سجده کرے ، مدینه منوره میں حضرت مجاهد رحمه الله اور بصره میں امام حسن بصری رحمه الله یهی فتوی دیتے تهے.
* ابن ابی شیبه ج1 ص302 *
ائمه اربعه یعںی حنفی ، مالکی ، شافعی اور حنبلی چاروں ائمه کرام کا اس پر اجماع هے.

مرد و عورت کے بیٹھنے میں فرق
دلیل نمبر10
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ … وَ قَالَ: اِنَّمَا سُنَّۃُ الصَّلَاۃِ اَنْ تَنْصَبَ رِجْلَکَ الْیُمْنٰی وَ تَثْنِی الْیُسْریٰ۔
(الصحیح للبخاری ج 1 ص 114 باب سنۃ الجلوس فی التشھد)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:''نماز میں بیٹھنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ آپ دائیں پاؤں کو کھڑا رکھیں اوربائیں پاؤں کو بچھا دیں۔‘‘

دلیل نمبر11
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْمَرْأَةِ ، فَقَالَ : " تَجْتَمِعُ وَتَحْتَفِزُ " .
[مصنف ابن أبي شيبة » كتاب الصلاة » أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلاةِ » الْمَرْأَةُ كَيْفَ تَكُونُ فِي سُجُودِهَا ؟
رقم الحديث: 2702]
حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے عورت کی نماز کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا کہ وہ اکٹھی ہو کر اور خوب سمٹ کر نماز پڑھے۔
دلیل نمبر12
عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَفْرِشُ رِجْلَہٗ الْیُسْریٰ وَ یَنْصِبُ رِجْلَہٗ الْیُمْنٰی۔
(الصحیح لمسلم ج1 ص195 باب صفۃ الجلوس بین السجدتین و فی التشھد الاول)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بائیں پاؤں کو بچھاتے اور اپنے دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے۔

دلیل نمبر13
عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ سُئِلَ : " كَيْفَ كُنَّ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ كُنَّ يَتَرَبَّعْنَ ، ثُمَّ أُمِرْنَ أَنْ يَحْتَفِزْنَ " .
[جامع المسانید ج1ص400؛ مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي: رقم الحديث: 114]
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے سوال ہوا کہ رسول ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں کیسے نماز پڑھتی تھیں آپ نے فرمایا چہار زانوں بیٹھ کر پھر انہیں حکم دیا گیا کہ وہ خوب سمت کر بیٹھا کریں۔

دلیل نمبر14
عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ سُئِلَ کَیْفَ کَانَ النِّسَائُ یُصَلِّیْنَ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: کُنَّ یَتَرَبَّعْنَ ثُمَّ اُمِرْنَ اَنْ یَّحْتَفِزْنَ۔
(جامع المسانید ج 1 ص400 )
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں کیسے نماز پڑھتی تھیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیاکہ وہ پہلے قعدہ میں آلتی پالتی مار کر بیٹھتی تھیں‘ پھر ان کو حکم دیا گیا کہ اپنی سرینوں پر بیٹھا کریں۔
حضرت ابوسعید خدری رضی الله عنه فرماتے هیں که آنحضرت صلی الله علیه وسلم مردوں کو حکم دیا کرتے تهے که تشهد میں دایاں پاوں کهڑا رکهیں اور بایاں پاوں بچها کر اس پر بیٹها کریں اور عورتوں کو حکم دیا کرتے تهے که سمٹ کر بیٹهیں.
* سنن بیهقی ج2 ص222 *
المغنی لابن قدامه میں هے.
قال علی رضی الله عنه اذا صلت المراته فلتحفز و لتضم فخذیها .
* ج1 ص562 *
ترجمه... حضرت علی رضی الله عنه نے فرمایا جب عورت نماز پڑهے تو سرین کے بل بیٹهے اور اپنی دونوں رانوں کو ملائے رکهے.
اور لکهتے هیں علامه ابن قدامه رح...... عورت سدل کرے یعنی دونوں پیروں کو دائیں جانب نکال دے اور یهی طریقه امام احمد رح نے بهی پسند فرمایا هے.

* گهر اور مسجد میں نماز کا حکم *
نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے فرمایا " اگر گهروں میں عورتیں اور بچے نه هوتے تو میں ان گهروں کو جلانے کا حکم دیتا جن کے مرد مسجد میں نهیں آتے .
* مشکوته شریف *
اور حضرت ام سلمه رضی الله عنها سے روایت هے که آنحصرت صلی الله علیه وسلم نے فرمایا که عورتوں کے لئے ان کے نماز پڑهنے کی جگهوں میں سب سے بهتر جگه ان کے گهروں کے اندرونی حصے هیں.
* مستدرک الحاکم ج1 ص209 *

مرد و عورت کے نماز میں چند اور فرق 
عن عائشه رض قالت قال رسول الله صلی الله علیه وسلم لا تقبل صلوته الحائض الابخمار....
ترمزی ج1 ص86 ، ابوداود ج1 ص94 .
حضرت عائشه رض عنها فرماتی هیں که رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا بالغه عورت کی نماز اوڑهنی کے بغیر قبول نهیں هوتی.
جبکه مردوں کے لئے یه حکم نهیں هے.
مرد كي اکثر کهنیاں اور نصف پنڈلیاں نماز میں ننگی رهتی هیں .
مرد اور عورت کے ستر میں بهی فرق هے.

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
[صحيح البخاري » كِتَاب الْجُمُعَةِ » أَبْوَابُ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ » بَاب التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ رقم الحديث: 1134]؛
حضرت ابو ہریرة رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا تسبیح مردوں کے لئے ہے اور تصفیق (ايک ہاتھ کی پشت دوسرے ہاتھ کے پشت سے مارنا) عورتوں کےلئے۔
نماز جمعه مردوں پر واجب هے عورتوں پر نهیں.... اسی طرح سے پانچ وقت کا باجماعت
نماز ادا کرنا مردوں پر لازم هے عورتوں پر نهیں.
مرد جماعت کراسکتا هے عورت نهیں........ مرد آگے کهڑا هوگا صف میں جبکه عورت پیچهے.



Share: