روزہ دار کے لئے ضروري إحتياطيں اور پرہیز


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ: “جس شخص نے (روزے کی حالت میں) بیہودہ باتیں (مثلاً: غیبت، بہتان، تہمت، گالی گلوچ، لعن طعن، غلط بیانی وغیرہ) اور گناہ کا کام نہیں چھوڑا، تو اللہ تعالیٰ کو کچھ حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔” 

(بخاری، مشکوٰة)


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ: “کتنے ہی روزہ دار ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے سوائے (بھوک) پیاس کے کچھ حاصل نہیں (کیونکہ وہ روزے میں بھی بدگوئی، بدنظری اور بدعملی نہیں چھوڑتے)، اور کتنے ہی (رات کے تہجد میں) قیام کرنے والے ہیں، جن کو اپنے قیام سے ماسوا جاگنے کے کچھ حاصل نہیں۔” (دارمی، مشکوٰة)


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ: “روزہ ڈھال ہے (کہ نفس و شیطان کے حملے سے بھی بچاتا ہے، اور گناہوں سے بھی باز رکھتا ہے، اور قیامت میں دوزخ کی آگ سے بھی بچائے گا)، پس جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو نہ تو ناشائستہ بات کرے، نہ شور مچائے، پس اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے یا لڑائی جھگڑا کرے تو (دِل میں کہے یا زبان سے اس کو) کہہ دے کہ: میں روزے سے ہوں! (اس لئے تجھ کو جواب نہیں دے سکتا کہ روزہ اس سے مانع ہے)۔” 

(بخاری و مسلم، مشکوٰة)


حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ: “روزہ ڈھال ہے، جب تک کہ اس کو پھاڑے نہیں۔”

(نسائی، ابنِ خزیمہ، بیہقی، ترغیب)


اور ایک روایت میں ہے کہ: عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم ! یہ ڈھال کس چیز سے پھٹ جاتی ہے؟ فرمایا: “جھوٹ اور غیبت سے!(طبرانی الاوسط )


 حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآله  وسلم نے فرمایا: “جس نے رمضان کا روزہ رکھا، اور اس کی حدود کو پہچانا، اور جن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہئے ان سے پرہیز کیا، تو یہ روزہ اس کے گزشتہ گناہوں کا کفاره ہوگا۔” (صحیح ابنِ حبان، بیہقی، ترغیب)


دو عورتوں کا قصہ:

حضرت عبید رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله  وسلم کے آزاد شدہ غلام، کہتے ہیں کہ: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم سے عرض کیا کہ: یہاں دو عورتوں نے روزہ رکھا ہوا ہے، اور وہ پیاس کی شدّت سے مرنے کے قریب پہنچ گئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے سکوت اور اِعراض فرمایا، اس نے دوبارہ عرض کیا (غالباً دوپہر کا وقت تھا) کہ: یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآله وسلم ! بخدا! وہ تو مرچکی ہوں گی یا مرنے کے قریب ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے ایک بڑا پیالہ منگوایا، اور ایک سے فرمایا کہ اس میں قے کرے، اس نے خون، پیپ اور تازہ گوشت وغیرہ کی قے کی، جس سے آدھا پیالہ بھر گیا، پھر دُوسری کو قے کرنے کا حکم فرمایا، اس کی قے میں بھی خون، پیپ اور گوشت نکلا، جس سے پیالہ بھر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ: “انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیزوں سے تو روزہ رکھا، اور حرام کی ہوئی چیز سے روزہ خراب کرلیا کہ ایک دُوسری کے پاس بیٹھ کر لوگوں کا گوشت کھانے لگیں (یعنی غیبت کرنے لگیں)۔” (مسندِ احمد - مجمع الزوائد)


روزے کے درجات:


حجة الاسلام امام غزالی رحمة الله عليه  فرماتے ہیں کہ: روزے کے تین درجے ہیں

 ۱:عام۔ 

۲:خاص۔ 

۳:خاص الخاص۔ 


عام روزہ

عام روزہ تو یہی ہے کہ شکم اور شرم گاہ کے تقاضوں سے پرہیز کرے، جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے۔ 


خاص روزہ

 خاص روزہ یہ ہے کہ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ، پاوٴں اور دیگر اعضاء کو گناہوں سے بچائے، یہ صالحین کا روزہ ہے، اور اس میں چھ باتوں کا اہتمام لازم ہے:

اوّل : آنکھ کی حفاظت

آنکھ کو ہر مذموم و مکروہ اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کرنے والی چیز سے بچائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآله وسلم کا ارشاد ہے کہ: “نظر، شیطان کے تیروں میں سے ایک زہر میں بجھا ہوا تیر ہے، پس جس نے اللہ تعالیٰ کے خوف سے نظرِبد کو ترک کردیا، اللہ تعالیٰ اس کو ایسا ایمان نصیب فرمائیں گے کہ اس کی حلاوت (شیرینی) اپنے دِل میں محسوس کرے گا۔”

 (الحاکم ، مجمع الزوائد )


دوم:  زبان کی حفاظت، 

بیہودہ گوئی، جھوٹ، غیبت، چغلی، جھوٹی قسم اور لڑائی جھگڑے سے اسے محفوظ رکھے، اسے خاموشی کا پابند بنائے اور ذکر و تلاوت میں مشغول رکھے، یہ زبان کا روزہ ہے۔ حضرت سفیان ثوری رحمہ الله عليه کا قول ہے کہ: غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، مجاہد  کہتے ہیں کہ: غیبت اور جھوٹ سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآله وسلم کا ارشاد ہے کہ: “روزہ ڈھال ہے، پس جب تم میں کسی کا روزہ ہو تو نہ کوئی بیہودہ بات کرے، نہ جہالت کا کوئی کام کرے، اور اگر اس سے کوئی شخص لڑے جھگڑے یا اسے گالی دے تو کہہ دے کہ میرا روزہ ہے۔” (صحاح)


سوم: کان کی حفاظت

 حرام اور مکروہ چیزوں کے سننے سے پرہیز رکھے، کیونکہ جو بات زبان سے کہنا حرام ہے، اس کا سننا بھی حرام ہے۔


چہارم : بقیہ اعضاء کی حفاظت

ہاتھ پاوٴں اور دیگر اعضاء کو حرام اور مکروہ کاموں سے محفوظ رکھے، اور اِفطار کے وقت پیٹ میں کوئی مشتبہ چیز نہ ڈالے، کیونکہ اس کے کوئی معنی نہیں کہ دن بھر تو حلال سے روزہ رکھا اور شام کو حرام چیز سے روزہ کھولا۔


پنجم: قلیل الطعام 

 اِفطار کے وقت حلال کھانا بھی اس قدر نہ کھائے کہ ناک تک آجائے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآله وسلم کا ارشاد ہے کہ: “پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں، جس کو آدمی بھرے۔” ( احمد والترمذی وابن ماجہ والحاکم ) 

يعني  جب شام کو دن بھر کی ساری کسر پوری کرلی تو روزہ سے شیطان کو مغلوب کرنے اور نفس کی شہوانی قوّت توڑنے کا مقصد کیونکر حاصل ہوگا؟


ششم: خوفِ خدا

 اِفطار کے وقت روزہ دار کی حالت خوف و رجا کے درمیان مضطرب رہے کہ نہ معلوم اس کا روزہ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہوا یا مردُود؟ پہلی صورت میں یہ شخص مقرّبِ بارگاہ بن گیا، اور دُوسری صورت میں مطرود و مردُود ہوا، یہی کیفیت ہر عبادت کے بعد ہونی چاہئے۔


خاص الخاص روزہ 

اور خاص الخاص روزہ یہ ہے  کہ دُنیوی افکار سے قلب کا روزہ ہو، اور ماسوا اللہ سے اس کو بالکل ہی روک دیا جائے، البتہ جو دُنیا کہ دین کے لئے مقصود ہو وہ تو دُنیا ہی نہیں، بلکہ توشہٴ آخرت ہے۔ بہرحال ذکرِ الٰہی اور فکرِ آخرت کو چھوڑ کر دیگر اُمور میں قلب کے مشغول ہونے سے یہ روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اربابِ قلوب کا قول ہے کہ دن کے وقت کاروبار کی اس واسطے فکر کرنا کہ شام کو اِفطاری مہیا ہوجائے، یہ بھی ایک درجے کی خطا ہے، گویا اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رزقِ موعود پر اس شخص کو وثوق اور اعتماد نہیں، یہ انبیاء، صدیقین اور مقربین کا روزہ ہے۔ (احیاء العلوم ً)

---------

Share: