آمیرِ شريعت -خادم ختم نبوت حضرت مولانا عطاء الله شاه بخاري رحمة الله عليه کا مقام دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ آلہ وسلم میں


حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ ساہیوال نے ایک دفعہ فرمایا کہ جب حضرت شاہ جی بستر علالت پر تھے، ان دنوں تبلیغی جماعت کے حضرات کی ایک جماعت کویت گئی ہوئی تھی۔ امیر صاحب فرماتے ہیں کہ کویت میں ہمارا مرکز کویت کی مرکزی جامع مسجد میں تھا۔ ایک روز صبح کے وقت ایک سن رسیدہ بزرگ تشریف لائے جن کا نورانی چہرہ ہی ان کی بزرگی کی شہادت دیتا تھا۔ وہ مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ لوگ پاکستان سے آئے ہیں؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو پوچھا پاکستان میں کوئی عطا اللہ شاہ بخاری نام کے بزرگ ہیں؟ میں نے اقرار کرتے ہوئے شاہ جی کا مختصر تعارف کرایا اور تعجب سے دریافت کیا کہ آپ انھیں کیسے جانتے ہیں؟ اس پر انھوں نے بتایا کہ رات میں نے ایک عجیب خواب دیکھا کہ نبی کریمﷺ ایک وسیع میدان میں ایستادہ ایک سمت یوں دیکھ رہے ہیں جیسے کسی کا انتظار ہو۔ پھر میں نے دیکھا کہ بہت بڑا ہجوم حضورﷺ کی طرف آ رہا ہے۔ ہر شخص کا چہرہ نہایت نورانی، تابناک اور دل آویز ہے۔ وہ ہجوم حضورﷺ کے پاس آ کر دو حصوں میں دائیں بائیں بٹ گیا۔ کچھ وقفہ کے بعد ویسا ہی ایک اور ہجوم نمودار ہوا اور وہ بھی نہایت خوبرو اور درخشندہ پیشانیوں والے لوگ ہیں۔ حضورﷺ کے قریب آ کر وہ بھی دائیں بائیں تقسیم ہو گئے مگر حضورﷺ اب بھی اسی طرح اسی جانب دیکھ رہے ہیں جیسے اب بھی کسی کا انتظار ہو۔


اتنے میں صرف ایک شخص جو نہایت حسین و جمیل ہے، آتا دکھائی دیا۔ جب وہ قریب تر پہنچا تو حضورﷺ آگے بڑھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ اور حضرت عمر رضی اللہ بھی ساتھ ساتھ ہیں۔ نبی پاکﷺ نے اس شخص سے مصافحہ کیا، سینے سے لگایا اور اس کی پشت پر شفقت سے دست مبارک پھیرتے رہے۔ میں نے جی میں کہا یہ پہلا گروہ تو انبیا کرام علیہم السلام کا تھا، دوسرا صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مگر یہ شخص کون ہے جس کا حضورﷺ انتظار فرماتے رہے اور اتنی محبت و شفقت کا اظہار فرمایا۔ تو ایک آواز آئی کہ یہ خادم ختم نبوت عطاء اللہ شاہ بخاری پاکستانی ہے۔ خواب بیان کرنے کے بعد اس بزرگ نے فرمایا کہ آپ نے بتایا ہے کہ وہ بیمار تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی وفات ہو چکی ہے۔ امیر جماعت کہتے ہیں جب ہمیں شاہ جی کی وفات کا علم ہوا تو ہم نے حساب لگا کر دیکھا شاہ جی کی وفات بالکل اسی روز ہوئی تھی جس شب اس بزرگ نے یہ خواب دیکھا تھا۔


تاریخ میرے نام کی تعظیم کرے گی

تاریخ کے اوراق میں پائندہ رہوں گا

Share: