کرونا جرثومہ ایک عذاب الہی - اس سے بچنے کا قرآنی نسخہ


کرونا کا جرثومہ مشیر رب جلیل کے عالمگیر منصوبہ کا ایک حصہ ھے ۔۔ جس کے تحت اس پاک ذات نے سورۂ فجر کی آیات کے مطابق ان اقوام پر بالخصوص مسلط کیا ھے جو فوجی مال اور دولت کے غرور میں قوم عاد اور ثمود کی طرح بڑی بڑی مضبوط اور بلند ستونوں والی عمارات یا فرعونوں کی طرح طاقتور فوجوں بر غرور اور تکبر کرتی تھیں اور ان سے انسانوں میں آپنا رعب اور دبدبہ پیدا کرتی تھیں ۔۔ الله رب العالمين نے ان پر اپنا عذاب مسلط کر دیا اور بے شک وہ اس موقع کی گھات لگائے بیٹھا تھا  


اور یہ حال اس وقت بھی ھے ۔۔ الله رب العالمين کا اس جرثومہ کو جو حکم یا اس کے ڈیٹا میں جس جس فرد اور قوم تک پہنچنا ھے یہ اس کی تکمیلُ تکُ پہنچے گا کسی بشر قوم یا افراد کی انفرادی یا اجتماعی دعا اس کے اس حکم کو ٹال نہیں سکتی ۔۔ کرن عنہ جرثومہ سے عذاب اس وقت تک مسلط رھے گا جب تک لله رب العالمين کا حکم ھو گا


اس ھی قرآنی سورہ میں الله رب العالمين نے انسان کی ناشکری کی علامات کا اظہار کرتے ھوئے اس کو اپنے انسانوں کو اپنے عذاب سے بچنے کے لئیے انسانوں کے 

ساتھ تین معاملات کی بات کی ھے جو خالصتا مالی ھیں اور انسانوں سے متعلق ہیں اس میں کسی نماز روزہ حج اور جہاد کی با ت نہیں کی گئی

 

وہ معاملات جن کا ذکر لله رب العالمين نےکیا ھےوہ یہ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

۱-تم یتیموں کی عزت نہیں کرتے

۲-تم مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے اور نہ ترغیب دیتے ھو

۳- اور وراثت کا سارا کا سارا مال خود ھڑپ کرنا چاھتے ھو 


اس عذاب سے وہ ھی اقوام اور انسان اس کرہ ارض پر بچیں گے جو انسانوں سے وابستہ اوپر بیان کئیے ھوئے معاملات پر عمل کرتے ہیں یا کریں گی۔  

کیونکہ الله رب العالمين کو نہ ھماری عبادات نہ ھماری دعاؤں نہ زبانی توبہ استغفار کی ضرورت ھے ۔۔ سب جعلی اور منافقت سے بھری ۔۔ الله رب العالمين کو نہ ھمارے عمرے نہ حج کی ضرورت ھے 

وہ ھمارے ان عمرے اور حج کی روح سے واقف ۔۔۔ اس نے تو اپنے گھر میں اس جرثومہ کے ذریعہ سب منافقین اور مشرکین کا داخلہ بند کر دیا ھے اور قرآن کے مطابق وہ ھماری ان تمام عبادات سے بے نیاز ھے ۔۔۔


Share: