مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سلام آنا


مولانا عبداللہ درخواستی رحمة اللہ علیہ حج کے لئے تشریف لےگئے

ان کا ارادہ تھا اب پاکستان واپس نہ جاؤں ، مدینے میں قیام کے دوران خواب میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت درخواستی رحمہ اللہ سے فرمایا!

یہاں دین کاکام خوب ہورہا ہے آپ پاکستان جائیں-

وہاں پہنچ کر میرے بیٹے عطاءاللہ شاہ بخاری کو میرا سلام کہنا ! اور کہنا ختم نبوت کے محاذ پر تمہارے کام سے میں گنبد خضرا میں خوش ہوں ،ڈٹے رہو -

اس کام کو خوب کرو تمہارے لیے دعا کرتا ہوں 

مولانا درخواستی حج سے فارغ ہوئے ، سیدھا ملتان پہنچے ،سید عطاءاللہ شاہ بخاری اس وقت بیمار تھے ،اور بستر پر لیٹے ہوئے تھے ،حضرت درخواستی نے اپنا خواب سنایا-

خواب سنتے ہی حضرت عطاءاللہ شاہ بخاری صاحب تڑپ اٹھے اور چارپائی سے نیچے گر کر بے ہوش ہو گئے،کافی دیر بعد ہوش آیا تو بار بار پوچھنے لگے -

درخواستی صاحب! میرے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میرا نام بھی لیا تھا-

مولانا درخواستی نے حضرت شاہ صاحب کے پوچھنے پر بتایا ، ہاں! آپ کا نام لیا تھا-

 حضرت شاہ صاحب پر وجد طاری ہوگیا،

حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمة اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے وفات کے بعد مجھے حضرت عطاء الله شاه بخاری صاحب کی زیارت ہوئی ، میں نے ان سے پوچھا-

شاہ صاحب!فرمائیے قبر کا معاملہ کیسا رہا؟ شاہ صاحب نے جواب میں فرمایا بھائی منزل بہت ہی مشکل ھے- بس آقائے نامدار صلی اللہ علیہ واله وسلم کی ختم نبوت کے صدقے معافی مل گئی -

ایک بار سید عطاءاللہ شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ نے فرمایا

اگر میری قبر پر کان لگا کر سننے کی كسي كو طاقت عطا ہوتو سن لینا۔۔۔۔۔ میری قبر کا ذرہ ذرہ پکار رہا ہوگا

لعنتي مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں !!!!

Share: