عقیدۂ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* ( قسط: 15 )


*عقیدۂ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اور کذاب ودجال مدعیان نبوت *


*علی بن فضل یمنی*

یہ شخص یمن کے علاقے صنعا کے مضافات کا رھنے والا تھا ۔ ابتداء میں  اس کا تعلق اسماعیلی فرقے سے تھا  بعد  میں  یہ کذاب اس دعوے کے ساتھ ظاہر ہوا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ بہت عرصے تک  یہ اپنی جھوٹی نبوت کی دعوت  لوگوں کو دیتا رھا لیکن اتنا عرصہ دعوت دینے کے بعد بھی جب کسی نے اس کی تصدیق نہیں کی تو  پھر اس نے سوچا کہ کسی حیلے یا شعبدے کے ذریعے لوگوں کو اپنا عقیدت مند بنانا چاہیے چنانچہ بہت غور وفکر کے بعد اس نے ایک سفوف تیار کیا اور ایک مرتبہ رات کو ایک بلند مقام پر چڑھ گیا اور نیچے کوئلے جمع کرکے دھکادیے اوپر سے اس نے اپنا بنایا ہوا کیمائی سفوف ڈال دیا۔ اچانک آگ سے ایک سرخ رنگ کا دھواں اٹھنے لگا جو دیکھتے ہی دیکھتے آس پاس کی ساری فضا پر چھاگیا اور ایسا معلوم ہونے لگا کہ ساری فضا آگ سے بھری ہوئی ہے پھر اس نے کوئی ایسا عمل کیا یا منتر  وغیرہ پڑھا کہ دھویں میں بے شمار آگ کی مخلوق دکھائی دینے لگی۔ یہ وحشتناک منظر دیکھ کر لوگ خوفزدہ ہوگئے اور ان پر یہ وہم سوار ہوگیا کہ انہوں نے ایک اللہ کے نبی (نعوذ باللہ ) کی دعوت کو ٹھکرادیا تھا اس لیے خداکی طرف سے عذاب کا منظر دکھاکر ہمیں ڈرایا گیا ہے اور یوں اپنی قسمت اور دعویٰ نبوت کے ساتھ اسے کسی حد تک خدائی کا بھی دعویٰ تھا چنانچہ جب اپنے کسی اندھے عقیدت مند کے نام کوئی تحریر بھیجتا تو یوں لکھتا:

یہ تحریر زمین کے پھیلانے اور ہانکنے والے اور پہاڑوں کے ہلانے اور ٹھہرانے والے علی من فضل کی جانب سے اسکے بندے فلاں بن فلاں کے نام ہے۔

اس نے بھی اپنے مذہب میں تمام حرام چیزوں کو حلال کردیا تھا حتیٰ کہ سگی بیٹیوں سے عقد نکاح بھی جائز قرار دے دیا تھا۔ جب نوبت یہاں تک پہنچی تو بعض شرفائے بغداد غیرت ملی اور ناموس اسلامی سے مجبور ہوکر اس کی ہلاکت کے درپے ہوئے اور 303ھ میں اس کو زہر دے کر ہلاک کردیا گیا


*حامیم بن من اللہ*

اس شخص نے 1212ھ میں مغرب 

میں اپنی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنی فریب کاریوں کا جال پھیلاکر ہزاروں بھولے بھالے بربری عوام کو اپنا معتقد بنالیا


حامیم کی نئی شریعت

شریعت محمدیہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلے میں 

اس مرتد نے اپنی ایک خانہ ساز شریعت گھڑی تھی اس کی گھڑی  ھوئی شریعت کی خاص خاص باتیں یہ تھیں۔ اس نے صرف 2نمازوں کا حکم صادر کیا۔ رمضان کے روزوں کی جگہ رمضان کے آخری عشرہ کے 3، شوال کے 2اور ہر بدھ اور جمعرات کو دوپہر بارہ بجے تک کا روزہ متعین کیا۔ حج کو ساقط کردیا، زکوٰۃ کو ختم کردیا، نماز سے پہلے وضو کی شرط ختم کردی، خنزیر کو حلال کردیا۔ ایک کتاب بھی لکھی جسے کلام الٰہی کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔

حامیم 319ھ کو اھل حق کے ساتھ جنگ کا سامنا کرنا پڑا جنگ میں میں تبخیر کے مقام پر  یہ ملعون مارا گیا لیکن جو مذہب اور عقیدہ اس نے رائج کیا تھا  وہ ایک عرصے تک مخلوق خدا کی گمراہی کا سبب بنتا رہا۔ الحمدللہ آج اس کے ماننے والوں کا نام ونشان کہیں بھی نہیں ملتا۔

Share: