قسط نمبر (32) سیرتِ اِمام الآنبیاء صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وآصحابہ وسلم

حضرت علی ابن ابی  طالب رضی اللہ تعالی عنہ 

خلیفہ چہارم، خلیفہ راشد، داماد رسول ﷺ، صحابی رسول ابو الحسن علی بن ابی طالب رسول کریم  کے چچا زاد اور داماد تھے۔ عثمان بن عفان کے بعد چوتھے خلیفہ راشد کے طور پر سنہ 656ء سے 661ء تک  تختِ خلافت پر رونق افروز رھے 


ولادت 

حضرت علی بن ابی طالب  رضی اللہ تعالی عنہ فاطمہ بنت اسد کے بطن سے ایک روایت کے مطابق اندرون خانہ کعبہ چھٹی صدی عیسوی میں پیدا ہوئے۔ صغرسنی میں بعض وجوہ کی بنا پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت میں آگئے اور دربار نبوت سے آخر تک جڑے رہے۔ 


نام ، نسب اور خاندان 

آپ کا نام  مبارک علی ، ابوالحسن اورابوتراب کنیت، حیدر (شیر)لقب،  والد کا نام ابوطالب اوروالدہ کا نام فاطمہ تھا، پوراسلسلہ نسب یہ ہے، علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مروہ بن کعب بن لوی، چونکہ ابوطالب کی شادی اپنے چچا کی لڑکی سے ہوئی تھی اس لیے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ  نجیب الطرفین ہاشمی اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچازاد بھائی تھے۔ خاندانِ ہاشم کو عرب اورقبیلہ قریش میں جو وقعت وعظمت حاصل تھی وہ محتاجِ اظہار نہیں، خانہ کعبہ کی خدمت اوراس کا اہتمام بنوہاشم کا مخصوص طغرائے امتیاز تھا اوراس شرف کے باعث ان کو تمام عرب میں مذہبی سیادت حاصل تھی۔ حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کے والد ابو طالب مکہ کے ذی اثر سردار تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کی آغوش شفقت میں پرورش پائی تھی اوربعثت کے بعد ان ہی کے زیر حمایت مکہ کے کفرستان میں دعوتِ حق کا اعلان کیا تھا، ابو طالب ہر موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے رہے اور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے پنجہ ظلم ستم سے محفوظ رکھا، مشرکین قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پناہی اورحمایت کے باعث ابوطالب اوران کے خاندان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں، ایک گھاٹی میں ان کو محصور کر دیا، کاروبار اورلین دین بند کر دیا، شادی بیاہ کے تعلقات منقطع کرلئے، کھانا پینا تک بند کر دیا، غرض ہر طرح پریشان کیا، مگر اس  شفیق چچا نے آخری لمحہ حیات تک اپنے عزیز بھتیجے کے سر سے دستِ شفقت نہ اُٹھایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی آرزو تھی کہ ابو طالب کا دل نورِ ایمان سے منور ہوجائے اور انہوں نے اپنی ذات سے دنیا میں مہبط وحی(صلی اللہ علیہ وسلم )کی جو خدمت وحمایت کی ہے اس کے معاوضہ میں ان کو  جنت الفردوس کی ابدی اورلامتناہی دولت حاصل ہو، اس لیے ابو طالب کی وفات کے وقت نہایت اصرار کے ساتھ کلمہ توحید کی دعوت دی، ابوطالب نے کہا عزیز بھتیجے! اگر مجھے قریش کی طعنہ زنی کاخوف نہ ہوتا تو نہایت خوشی سے تمہاری دعوت قبول کرلیتا سیرت ابن ہشام میں حضرت عباس ؓ سے یہ بھی ایک روایت  نقل کی گئی ہے کہ نزع کی حالت میں کلمۂ توحید ان کی زبان پر تھا، مگر یہ روایت  سند کے اعتبار سے بہت ھی کمزور ہے، بہر حال ابو طالب  نے حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی جس طرح پرورش وپرداخت کی اورکفار کے مقابلہ میں جس ثبات اور استقلال کے ساتھ آپ کی نصرت وحمایت کا فرض انجام دیا، اس کے لحاظ سے اسلام کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ شکر گزاری اوراحسان مندی کے ساتھ لیا جائے گا۔ حضرت علی  رضی اللہ تعالی عنہ  کی والدہ حضرت فاطمہ  رضی اللہ تعالی عنہا بنت اسد نے بھی حضرت آمنہ  کے اس یتیم معصوم کی ماں کی طرح شفقت ومحبت سے پرورش کی، مستند روایات کے مطابق وہ مسلمان ہوئیں اورہجرت کرکے مدینہ گئیں، ان کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفن میں اپنی قمیص مبارک پہنائی اور قبر میں لیٹ کر اس کو متبرک کیا، لوگوں نے اس عنایت کی وجہ دریافت کی تو فرمایا کہ ابو طالب کے بعد سب سے زیادہ اسی نیک سیرت خاتون کاممنونِ احسان ہوں۔ حضرت علی   رضی اللہ تعالی عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے دس برس پہلے پیدا ہوئے تھے، ابو طالب نہایت کثر العیال اورمعاش کی تنگی سے نہایت پریشان تھے، قحط وخشک سالی نے اس مصیبت میں اور بھی اضافہ کر دیا، اس لیے رحمۃاللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے محبوب چچا کی عسرت سے متاثر ہوکر حضرت عباس  رضی اللہ تعالی عنہ  سے فرمایا کہ ہم کو اس مصیبت وپریشان حالی میں چچا کا ہاتھ بٹانا چاہیے؛چنانچہ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے حسب ارشاد جعفر  رضی اللہ تعالی عنہ کی کفالت اپنے ذمہ لی اور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہِ انتخاب نے علی  رضی اللہ تعالی عنہ  کو پسند کیا؛چنانچہ وہ اس وقت سے برابر حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔


قبولِ اسلام

حضرت علی  رضی اللہ تعالی عنہ نے دس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ بچوں میں سب سے پہلے آپ نے اسلام قبول کیا خود فرمایا کرتے تھے کہ میں نے بتوں کی پوجا کبھی نہیں کی، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مجھ سے پہلے کسی نے خدا کی عبادت نہیں کی۔ابتدائی عمر سے ہی حضور اکرم  سے از حد زیادہ محبت کرتے تھے۔ جب کوہ صفا پر چڑھ کر حضور نے اعلان نبوت کیاتو آپکی آواز پر کسی نے بھی کان نہیں دھرا، مگر حضرت علی  رضی اللہ تعالی عنہ جو اس وقت عمر میں صرف ۱۵/ سال کے تھے، کہا: ”گوکہ میں عمر میں چھوٹا ہوں اور مجھے آشوب چشم کا عارضہ ہے، اورمیری ٹانگیں پتلی ہیں، تاہم آپ کا باور دست و بازو بنوں گا۔ جس وقت آپ کی عمر ۲۲ سال کی تھی آپ اپنی جان کی بازی لگاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر پوری رات لیٹے رہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے لیے نکل گئے۔ اس کے تین دن بعد خود بھی حضور سے جاملے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مظاہرہ کیا اور جو کارہائے نمایاں انجام دئیے وہ آپ کی زندگی کا اہم باب ہے۔ سوائے ایک جنگ کے آپ نے ہر جنگ میں شرکت کی اور داد شجاعت دیا۔ غزوئہ تبوک کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنگ میں شرکت سے روک دیا اور اہل بیت کی حفاظت ونگرانی کے لیے مدینہ ہی میں رہنے کا حکم دیا تو اس کا آپ کو بہت قلق ہوا، مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر ان کے اعزاز کو بلند کیا کہ ”علی تم اسے پسندکرتے کہ میرے نزدیک تمہارا وہ مقام اور درجہ ہو جو درجہ حضرت موسی کے نزدیک ھارون کا تھا۔ حضرت علی کی اہمیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کتنی تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بالعموم اہم اور مشکل ترین امور کی انجام دہی کے لیے حضرت علی کو مامور فرماتے۔ جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہے، دامے، درمے، قدمے، سخنے ہر لحاظ سے حضور کی فرماں برداری اور اطاعت کرتے رہے۔ اسی جاں نثاری کو دیکھ کر حضور نے غدیر خم کے خطبہ میں فرمایا کہ: ”جو علی کا دشمن ہے وہ میرا بھی دشمن ہے اور جو علی کا دوست ہے وہ میرا بھی دوست ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلیفہ سوم کے زمانے تک میں بھی اہم کارنامے اور خدمات انجام دیں اور جنگی معرکے سرکیے۔ اور جب خود خلیفہ بنے تو باوجود پورے ملک میں بدامنی اور خلفشاری کے حالات پر قابوپائے، مگر دشمنوں نے آپ کو زیادہ دن حکومت کرنے نہیں دیا اور آپ  کو شہید کردیا۔ آپ کا انتقال ۴۰ھء میں ہوا۔   آپ کی تعلیمات، خطبات، وصایا، انشاپردازی اور اخلاقی اقدارکا شاہکار مجموعہ نہج البلاغہ ہے، جسے شریف رضی نے جمع کیا ہے۔ پیش نظر مضمون میں حضرت علی کے بعض اہم اخلاقی قدروں پر روشنی ڈالی گئی ہے جو انسانوں کے لیے مینارئہ نور ہیں۔


ہجرت

بعثت کے بعد تقریباً تیرہ برس تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی گھاٹیوں میں اسلام کی صدا بلند کرتے رہے؛لیکن مشرکین قریش نے اس کا جواب محض بغض وعناد سے دیا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائیوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے، رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جاں نثاروں کو اسیر پنجۂ ستم دیکھ کر آہستہ آہستہ ان سب کو مدینہ چلے جانے کا حکم دیا؛چنانچہ چند نفوسِ قدسیہ کے علاوہ مکہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا، اس ہجرت سے مشرکین کو اندیشہ ہوا کہ اب مسلمان ہمارے قبضہ اقتدار سے باہر ہو گئے ہیں اس لیے بہت ممکن ہے کہ وہ اپنی قوت مضبوط کرکے ہم سے انتقام لیں، اس خطرہ نےان کو خود رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کا دشمن بنادیا؛چنانچہ ایک روز مشورہ کرکے وہ رات کے وقت کاشانۂ نبوت کی طرف چلے کہ مکہ چھوڑنے سے پہلے ذات اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا سے رخصت کر دیں؛لیکن مشیت الہی تو یہ تھی کہ ایک دفعہ تمام عالم حقانیت کے نور سے پرنور اورتوحید کی روشنی سے شرک کی ظلمت کا فورہوجائے، اس مقصد کی تکمیل سے پہلے آفتاب رسالت کس طرح غروب ہوسکتا ہے، اس لیے وحی الہی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کے ارادوں کی اطلاع دیدی اورہجرتِ مدینہ کا حکم ہوا، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال سے کہ مشرکین کو شبہ نہ ہو، حضرت علی ؓ مرتضیٰ کو اپنے فرشِ اطہر پر استراحت کا حکم دیا اورخود حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔


حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نکاح

2ھ میں حضرت سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دامادی کا شرف بخشا یعنی اپنی محبوب ترین صاحبزادی سیدۃ النساء حضرت فاطمہ زہرا ء سے نکاح کر دیا۔ حضرت فاطمہ ؓ سے عقد کی درخواست سب سے پہلے حضرت ابوبکر ؓ اوران کے بعد حضرت عمر ؓ نے کی تھی اس کے بعد حضرت علی ؓ نے خواہش ظاھر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، تمہارے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کچھ ہے؟ حضرت علی نے عرض کیا کہ  ایک گھوڑے اورایک ذرہ کے سوا کچھ نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑا تو لڑائی کے لیے ہے البتہ ذرہ کو فروخت کردو، حضرت علی ؓ نے اس کو حضرت عثمان ؓ کے ہاتھ چارسو اسی درہم میں بیچا اور قیمت لاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا کہ بازار سے عطر اورخوشبو خرید لائیں اور خود نکاح پڑھایا اوردونوں میاں بیوی پر وضو کا پانی چھڑک کر خیر وبرکت کی دعادی۔


نبی کے اخلاق کا اثر

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ آپ خلق خدا کو ادب و احترام اور اخلاقی اقدار و تہذیب کی تعلیم دیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا: ”انا بعثت لاتمم مکارم الاخلاق“ (میں اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں) اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی اس خوبی کو قرآن کریم میں اس انداز میں بیان کیا ہے: ”انک لعلی خلق عظیم“ (اے نبی ! آپ اخلاق کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہیں) جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس دارفانی سے رخصت فرماگئے، تو کچھ لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ معلوم کرنا چاہا کہ آپ کا اخلاق کیساتھا، تو انھوں نے جواب دیا : ”کان خلقہ القرآن“ یعنی جو کچھ قرآن میں بیان کیاگیا ہے وہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق تھا۔ اسی پس منظر میں حضرت علی کرم اللہ وجہ کے اخلاق و کردار اور ان کی تعلیمات کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے۔ چوں کہ آپ درِ رسالت سے ابتدائی عمر سے آخر تک جڑے رہے، اس لیے ان کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے جو طرز عمل اور اخلاق و کردار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اسی کو حضرت علی نے اپنی زندگی میں نافذ کیا۔ چنانچہ علامہ سید ا ندوی اس نکتہ پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ:

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خاندانی اورنسبی تعلق، ایک عمر کی رفاقت اور روز مرہ کی زندگی کو قریب سے دیکھنے کی وجہ سے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو آپ کے مزاج افتاد طبع سے اور ذات نبوی کی خاص صفات و کمالات سے گہری مناسبت ہوگئی تھی، جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کو نوازا تھا، وہ آپ کے میلان طبع اور مزاج کے رخ کو بہت باریک بینی اور چھوٹی بڑی باتوں کی نزاکتوں کو سمجھتے تھے، جن کا آپ کے رجحان پر اثر پڑتا ہے، یہی نہیں بلکہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو ان کے بیان کرنے اور ایک ایک گوشہ کواجاگر کرکے بتانے میں مہارت تھی، آپ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و رجحان اور طریق تامّل کو بہت ہی بلیغ پیرایہ میں بیان کیا ہے۔“


اخلاق فاضلانہ کی اعلیٰ مثال

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اخلاق اور ان کی تعلیمات کا مطالعہ کرتے وقت ان عوامل کو بھی اذہان و قلوب میں مستحضر کرنا چاہئے کہ جن کی وجہ سے آپ اپنے اصحاب میں ممتاز و منفرد نظر آتے ہیں۔ باوجود خانگی ذمہ داریوں کے حب نبی میں سرشار اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی راحت رسانی کے لیے ہر وقت بے چین اور مضطرب نظر آتے ہیں۔ اپنے گھر فاقہ ہے مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھنا ایک پل کے لیے گوارہ نہیں۔ یہاں تک کہ محنت و مشقت اور مزدوری کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی راحت رسانی کا انتظام فرماتے۔ ابن عساکر کی روایت ہے کہ:

”ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں فاقہ تھا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو معلوم ہوا تو وہ مزدوری کی تلاش میں نکل گئے، تاکہ اتنی مزدوری مل جائے کہ رسول خدا کی ضرورت پوری ہوجائے۔ اس تلاش میں ایک یہودی کے باغ میں پہنچے اور اس کے باغ کی سینچائی کا کام اپنے ذمہ لیا، مزدوری یہ تھی کہ ایک ڈول پانی کھینچنے کی اجرت ایک کھجور، حضرت علی نے سترہ ڈول کھینچے۔ یہودی نے انہیں اختیار دیا کہ جس نوع کی کھجور چاہیں لے لیں،حضرت علی نے سترہ عجوہ لیے اور رسول خدا کی خدمت میں پیش کردیا۔ فرمایا: یہ کہاں سے لائے؟، عرض کیا: یا نبی اللہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آج گھر میں فاقہ ہے اس لیے مزدوری کے لیے نکل گیا تاکہ کچھ کھانے کا سامان کرسکوں۔ رسول نے فرمایا: تم کو اللہ اور اس کے رسول کی محبت نے اس پر آمادہ کیا تھا۔ عرض کیا ہاں یا رسول اللہ! رسول نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والا ایسا کوئی نہیں جس پر افلاس اس تیزی سے آیا ہو جیسے سیلاب کا پانی اپنے رخ پر تیزی سے بہتا ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرے اس کو چاہیے کہ مصائب کے روک کیلئے ایک چھتری بنالے، یعنی حفاظت کا سامان کرلے۔“


اندرون خانہ اخلاق وکردار کا مظاہرہ

ازدواجی زندگی میں شوہر اور بیوی کی مثال گاڑی کے اس پہیے کی طرح ہے کہ اگر ان میں سے کوئی ایک اپنا کام کرنا چھوڑ دے تو تھوڑی دیر کے لیے اسے گھسیٹا تو جاسکتا ہے مگر چلایا نہیں جاسکتا۔ ازدواجی زندگی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں میں تال میل ہو، دونوں ایک دوسرے کی محبت میں سرشار ہوں اور دونوں ایک دوسرے کی ضروریات و حقوق کا پاس کرتے ہوں۔ تب ہی دونوں کی زندگی آرام و سکون سے بسر ہوسکتی ہے۔ آج کے معاشرہ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں کتنی بے چینی اور خلفشاری ہے، بالخصوص موڈرن طبقہ میں تو دونوں ایک دوسرے کو کسی خاطر میں نہیں لاتے اور مغرب میں تو یہ چیز فیشن بن گئی ہے، جس کے نتیجہ میں خرابیاں ہی خرابیاں نظر آتی ہیں۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ حضرت علی کے اخلاق و کردار کا مطالعہ کریں اور اس پر عمل کریں، جو مشعل راہ ہیں۔ روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت علی باوجود غربت و افلاس کے اپنی زوجہ محترمہ خاتون جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی راحت رسانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، خود بھوکے رہ جاتے مگر اپنی اہلیہ کے خورد و نوش کا انتظام فرماتے۔ یہاں تک ان کی راحت رسانی کے لیے اپنے دونوں بیٹے حضرت حسن اور حسین کو بھی ان سے دن بھر کے لیے جدا کردیتے تاکہ بچے کی محبت سے ماں کی ممتا متاثر نہ ہوسکے۔ طبرانی کی روایت ہے کہ:

”حضرت فاطمہ نے بتایا کہ ایک روز رسول خدا ان کے گھر آئے اور فرمایا میرے بچے کہاں ہیں؟ (یعنی حسن اور حسین) فاطمہ نے کہا: آج ہم لوگ صبح اٹھے تو گھر میں ایک چیز بھی ایسی نہ تھی جس کو کوئی چکھ سکے۔ ان کے والد نے کہا: میں ان دونوں کو لیکر باہر جاتا ہوں اگر گھر پر رہیں گے تو تمہارے سامنے روئیں گے اور تمہارے پاس کچھ ہے نہیں کہ کھلاکر خاموش کرو۔ چنانچہ وہ فلاں یہودی کی طرف گئے ہیں۔ رسول وہاں تشریف لے گئے، دیکھا یہ دونوں بچے ایک صراحی سے کھیل رہے ہیں اور ان کے سامنے بچا کھچا ادھ کٹا قسم کا کھجور ہے۔ رسول نے فرمایا: علی اب بچوں کو گھر لے چلو، دھوپ بڑھ رہی ہے۔ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ آج صبح سے گھر میں ایک دانہ نہیں ہے، تو اگر آپ یا رسول اللہ تھوڑی دیر تشریف رکھیں تو میں فاطمہ کے لیے کچھ بچے کھچے کھجور جمع کرلوں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے، یہاں تک کہ فاطمہ کے لیے کچھ بچے کھچے کھجور جمع ہوگئے۔ حضرت علی نے کھجور ایک کپڑے میں باندھ لیے۔“


بڑے اور چھوٹے کا دائرہ کار

ایک صالح معاشرہ کی تشکیل میں بڑے اور چھوٹے کا ادب و احترام اور شفقت و ہمدردی ازحد ضروری ہے۔ ایک باپ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اپنے بچوں کے ساتھ ہی اچھا برتاؤ کرے اور ان کے ساتھ شفقت و ہمدردی سے پیش آئے اس کی دلجوئی اوراس کے کھیل کود، سیر و تفریح کے مواقع بھی فراہم کرے بلکہ سماج کے اور دوسرے بچوں کے بھی اس کے دل میں محبت و ہمدردی ہونی چاہیے۔ اوراس کے برعکس چھوٹوں کو چاہیے کہ وہ ادب و احترام کا مظاہرہ کریں۔ دراصل ایک گونہ ذمہ داری بڑوں کی ہے کہ وہ اپنے چھوٹوں کی زندگی بنانے اور سنوارنے پر متوجہ ہوں۔ اس کو اچھی تعلیم دیں اوراس کی عمدہ سے عمدہ تربیت کریں لغویات سے بچائے رکھیں اور یہ تمام خوبیاں جو سراسر اخلاق پر مبنی ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ میں بدرجہ اتم موجود تھی، جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے حق میں بہت شفیق تھے، ان سے ہنسی کھیل کرتے،اور ان کی دل جوئی کرتے، ٹھیک یہی طرز عمل آپ کا تھا۔ اور ایسے لوگوں کو پسند کرتے جو بچوں کی دلجوئی اور دل بستگی کی باتیں کرتے تھے، اور ان کے سامنے وہی بات اور کام کرتے جس کا مثبت اثر بچوں کی ذات پر پڑے۔ یہاں تک کہ اپنے اقوال حکیمانہ سے اس امر کی بھی وضاحت کی ہے کہ:

”باپ کا بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر حق ہے۔ باپ کا حق یہ ہے کہ بیٹا ہر حال میں اس کی اطاعت کرے، الا یہ کہ باپ کسی معصیت کی بات کا حکم دے، اس میں اس کا اتباع نہ کیا جائے، اور باپ پر بیٹے کا یہ حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے، اچھی تربیت کرے اور قرآن پڑھائے۔“

آج ہمارے معاشرہ میں باپ اور بیٹے دونوں کو ایک دوسرے سے شکایت ہے، اور دونوں ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں اور بعضے وقت صورت حال بہت خراب ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ سوائے اس کے اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہم نے اس اخلاقی تعلیمات کو سرے سے بھلارکھا ہے۔ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور باغبان درخت کو بنانے اور سنورانے میں کتنی محنت اور جاں فشانی کرتا ہے ہم اور آپ سبھی جانتے ہیں۔ آج ہم بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے رجوع کرتے ہیں مغربی طریقہٴ تعلیم کی طرف اور قرآن جو سراپا ہدایت ہے اسے پس پشت ڈال رکھا ہے۔


حقوق النساء 

عصر حاضر میں یہ پروپیگنڈہ بڑے پیمانے پر پھیلایا جارہا ہے اور خاص کر مغربی ذہن رکھنے والے حضرات کہتے ہیں کہ اسلام میں عورتوں کو کسی قسم کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، اسلام نے عورتوں کے ساتھ سختی کرنے اور انہیں ستانے کا حکم دیا ہے۔ ہم اس سلسلے میں تفصیل میں نہ جاکر صرف یہ کہتے ہیں کہ دنیا کے جتنے بھی مذاہب ہیں اور اس میں عورتوں کو جس قدر حقوق اورآزادی حاصل ہے وہ اسلام کا رہین منت ہے، اگر اسلام نہ آتا تو آج بھی عورت ذلیل و خوار ہی رہتی اور مغرب نے عورت کو جو آزادی دے رکھی ہے اس سے کہاں اس کی تحسین ہوتی ہے بلکہ تحقیر ہوتی ہے۔ اسلام نے ہرحال میں عورتوں کے حقوق کی حفاظت کی ہے۔ جنگ ہو یا امن کی حالت میں، گھر میں ہو یا کسی دینی محفل میں اس کے ساتھ اچھا برتاؤکرنے کا حکم دیاگیا ہے، جس کے شواہد قرآن و حدیث میں موجود و محفوظ ہیں۔ یہاں تک کہ ”نہج البلاغہ“ جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تعلیمات اور خطبات کا مجموعہ ہے اس میں بھی کئی مقامات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ بلکہ حضرت علی نے جنگ صفین کے موقع پر اپنے لشکروں کو رموز جنگ و حرب بتائے اس میں بھی اس بات پر زور دیا کہ ہر حال میں عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے۔ آپ نے فرمایا:

”لڑائی میں تم پہل نہ کرو، دشمن کو پہل کرنے دو، اس لیے کہ تم بحمداللہ حق و حمایت پر استوار ہو، ان کے حملے سے پہلے تمہارا حملہ نہ کرنا ان پر تمہاری طرف سے ایک اور حجت ہوجائے گا، اگر بحکم خدا دشمن کو شکست ہو تو نہ بھاگنے والے کوقتل کرنا، نہ ہتھیار ڈال دینے والے کو، نہ کسی زخمی کو مارنا، نہ کسی عورت کو ستانا اگرچہ وہ تمہیں گالیاں دیں اور تمہارے افسروں کو کوسیں، عورتیں کمزور ہوتی ہیں اپنے جسم میں بھی نفس میں بھی۔ ہمیں عورتوں سے تعرض نہ کرنے کا حکم دیا جاتا تھا، حالاں کہ وہ مشرکین تھیں۔ جاہلیت میں بھی اگر کوئی آدمی عورت کو پتھر یا لاٹھی سے ماردیتا تھا تو خود بھی رسوا ہوجاتا تھا اور اس کی نسلوں کو بھی نام دھرا جاتا تھا۔“


احترامِ مسلم

آپ نے زمام حکومت سنبھالتے ہی اس بات پر زور دیا کہ ہر حال میں مسلمانوں کا احترام کیا جائے اور ان کے خون کا ضیاع نہ ہو۔ حالاں کہ جس خلفشاری اور بے چینی کے عالم میں آپ مسند خلافت پر آراستہ ہوئے اس کا تقاضا تھا کہ ہر طرف جنگ و جدال کا بازار گرم ہوجائے، مگر آپ نے بڑے ہی دور اندیشی اور خیر اندیشی سے کام لیکر حالت پر کسی حد تک قابو پایا اور اخلاق و کردار کا جو مظاہرہ آپ نے اس حالت میں کیا وہ سنہرے حروف سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ آپ نے اپنے ابتدائی خطبہ میں جمعہ کے دن منبر پر چڑھ کر لوگوں کو خطاب کیا اس میں اخلاقی قدروں کی جلوہ نمائی ہے جو دل کی زبانی ہے۔ فرمایا:

”اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کو ہادی بناکر بھیجا ہے، جو خیر و شر کو وضاحت کے ساتھ بتاتی ہے، لہٰذا خیر کو اختیار کیجئے اور شر سے کنارہ کش رہیے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزوں کو حرمت کا درجہ دیا ہے، ان میں سب سے فائق حرمت مسلمان کی ہے۔ توحید و اخلاص کے ذریعہ مسلمانوں کے حقوق کو اللہ نے مضبوطی سے مربوط کردیا ہے۔ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے تمام مسلمان محفوظ رہیں، الا یہ کہ دین و احکام شریعت ہی کا تقاضا ہو کہ مسلمان کا احتساب کیا جائے اوراس پر قانون شرعی جاری کیا جائے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی مسلمان کو ایذا پہنچائے، الا یہ کہ ایسا کرنا واجب ہو، عوام و خواص دونوں کے حقوق ادا کرنے میں عجلت سے کام لیجیے، لوگ آپ کے سامنے ہیں اور پیچھے قیامت ہے جو آگے بڑھ رہی ہے، اپنے آپ کو ہلکا پھلکا رکھیے کہ منزل تک پہنچ سکیں، آخرت کی زندگی لوگوں کی منتظر ہے، خدا کے بندوں اور ان کی سرزمین کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلہ میں اللہ سے ڈرتے رہیے، بہائم اور زمین کے بارے میں بھی (قیامت میں) آپ سے سوال ہوگا، پھر میں کہتا ہوں کہ اللہ کی اطاعت کیجیے اور اس کی معصیت و نافرمانی سے بچئے، اگر آپ خیر کا کام دیکھیں اس کو اختیار کریں اور اگر شر دیکھیں تواس کو چھوڑ دیں: ”وَاذْکُرُوْا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُسْتَضْعَفُوْن فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰکُمْ وَاَیَّدَکُمْ بِنَصْرِہ وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ“ (اور یاد کرو جس وقت تم تھوڑے تھے مغلوب پڑے ہوئے ملک میں ڈرتے کہ اچک لیں تم کو لوگ پھر اس نے تم کو ٹھکانا دیا اور قوت دی تم کو اپنی مدد سے اور روزی دی تم کو ستھری چیزیں تاکہ تم شکر کرو۔ ”انفال“)


خلافت

حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد تین دن تک مسند خلافت خالی رہی، اس عرصہ میں لوگوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہ سے اس منصب کے قبول کرنے کے لیے سخت اصرار کیا، انہوں نے پہلے اس بارِ گراں کے اٹھانے سے انکار کر دیا ؛لیکن آخر میں مہاجرین وانصار کے اصرار سے مجبور ہوکر اٹھانا پڑا، اور اس واقعہ کے تیسرے دن 21/ذی الحجہ دوشنبہ کے دن مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جناب علی مرتضی ٰ کے دست اقدس پر بیعت ہوئی۔ مسند نشین خلافت ہونے کے بعد سب سے پہلے کام حضرت عثمان ؓ کے قاتلوں کا پتہ چلانا اور ان کو سزا دیناتھا؛لیکن دقت یہ تھی کہ شہادت کے وقت صرف ان کی بیوی نائلہ بنت الفرافصہ موجود تھیں جو قاتلوں  کو پہچان نہ سکیں 

غرض تحقیق وتفتیش کے باوجود قاتلوں تک پہنچنا ممکن نہ ھوا 

تاریخ کی کتابوں میں قاتلوں کے مختلف نام مذکور ہیں، لیکن شہادت کی قانونی حیثیت سے وہ مجرم ثابت نہیں ہوتے اس لیے مجرموں کا کوئی پتہ نہ چلا اورحضرت علی ؓ اس وقت کوئی کارروائی نہ کر سکے حضرت علی ؓ کے نزدیک اس فتنہ کا اصلی سبب عمال کی بے اعتدالیاں تھیں اور بڑی حد تک یہ صحیح بھی ہے اس لیے آپ نے تمام عثمانی عمال کو معزول کرکے عثمان بن حنیف کو بصرہ کا عامل مقرر کیا، عمارہ بن حسان کو کوفہ کی حکومت سپرد کی، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کو یمن کی ولایت پر مامور کیا اورسہل کو حکومت شام کافرمان دے کر روانہ کیا، سہل تبوک کے قریب پہنچے تو امیر معاویہ ؓ کے سوار مزاحم ہوئے اوران کو مدینہ جانے پر مجبور کیا، اس وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو معلوم ہوا کہ ان کی خلافت جھگڑوں سے پاک نہیں ہے۔ حضرت علی ؓ نے امیر معاویہ ؓ کو لکھا کہ مہاجرین وانصار نے اتفاق عام کے ساتھ میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے اس لیے یا تو میر ی اطاعت کرویا جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ، 


امیر معاویہ ؓ نے  اس وقت تک بیعت سے انکار کر دیا جب تک عثمانکے قاتل کیفر کردار تک نہ پہنچ جائیں 

دوسری طرف  حضرت عائشہ ؓ مکہ سے مدینہ واپس ہورہی تھیں، راستہ میں ان کے ایک عزیز ملے ان سے حالات دریافت کیے تو معلوم ہوا کہ عثمان ؓ شہید کر دیے گئے اور علی ؓ خلیفہ منتخب ہوئے ؛لیکن ہنوز فتنہ کی گرم بازاری ہے، یہ خبر سن کر پھر مکہ واپس ہوگئیں، لوگوں نےواپسی کا سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ عثمان ؓ مظلوم شہید کر دیے گئے اورفتنہ دبتا ہوا نظر نہیں آتا، اس لیے تم لوگ خلیفہ مظلوم کا خون رائیگاں نہ جانے دو اور قاتلوں سے قصاص لیکر اسلام کی عزت بچاؤ۔ حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد مدینہ میں فتنہ و فساد کے آثار دیکھ کر حضرت طلحہ ؓ اور زبیر بھی حضرت علی ؓ سے اجازت لے کر مکہ چلے گئے تھے، حضرت عائشہ ؓ نے ان سے بھی وہاں کے حالات دریافت کیے، انہوں نے بھی شوروغوغہ کی داستان سنائی، ان کے بیان سے حضرت عائشہ ؓکے ارادوں میں اور تقویت ہوئی اورانہوں نے خلیفہ مظلوم کے قصاص کی دعوت شروع کردی۔


ارکان سلطنت کی حکم عدولی

حضرت علی نے ارکان سلطنت اور رعایا کی ان کمزوریوں اور حکم عدولیوں کا بھی احتساب کیا ہے جو اولی الامر کی آواز پر کان نہیں دھرتے اور مسلسل حکم عدولی کے مرتکب ہوتے ہیں جس سے سلطنت کے نظام میں خلل واقع ہوتا ہے۔ مگر آپ یہاں بھی اخلاقی اقدار کو ملحوظ رکھتے ہیں اور مشیران سلطنت کو بڑے ہی لطیف پیرائے میں نصیحت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال و افعال سے سلطنت کے لیے مسائل و مشکلات پیدا ہورہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی حکومت میں جو خلفشار پیدا ہوا وہ آپ کا حد سے زیادہ امرا اور ارکان سلطنت کے ساتھ نرمی و ملاطفت کا معاملہ رہا۔ اور اپنے دشمنوں اور مخالفوں کو ہمیشہ معاف اور نظر انداز کرتے رہے، مگر آپ نے اسے بھی اپنے لیے ایک آزمائش ہی سمجھا۔ آپ نے ایک موقع پر فرمایا:

”میری ان لوگوں کے ذریعہ آزمائش ہورہی ہے جو اطاعت نہیں کرتے؛ جب انہیں حکم دیتاہوں اور جواب نہیں دیتے جب پکارتاہوں، تمہارا باپ مرجائے تمہیں اپنے پروردگار کی مدد کرنے میں کس بات کا انتظار ہے؟ کیا دین تمہیں اکٹھا نہیں کرتا اور کیا حمیت تمہیں نہیں کھینچتی؟ میں تمہارے اندر کھڑے ہوکر پکارتا ہوں اور تمہیں مدد کے لیے بلاتا ہوں مگر تم میری بات نہیں سنتے اور نہ میرا حکم مانتے ہو۔“


دنیا سے بے رغبتی

آپ کی زندگی کا یہ پہلو بھی بڑا ہی تابناک ہے کہ ان کے اندر دنیا سے بے رغبتی اور خشیت الٰہی کی موجیں ہر وقت ٹھاٹھیں مارتا رہتا تھا۔ انھوں نے پوری زندگی اس سادگی سے گزاری اور بسر کی کہ دیکھنے والوں کو تعجب ہوتا تھا۔ آپ کی سادگی، نفس کشی اور دنیا سے بے رغبتی کا اندازہ کرنے کے لیے زید بن وہب کی مندرجہ ذیل روایت ملاحظہ فرمائیں، وہ کہتے ہیں کہ:

”ایک بار حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے اس حال میں نکلے کہ ایک تہہ بند باندھے ہوئے تھے اور ایک چادر سے جسم ڈھکے ہوئے تھے، تہ بند کو کپڑے کے ایک چیتھڑے سے (کمربند کی جگہ) باندھ رکھا تھا، ان سے کہا گیا آپ اس لباس میں کس طرح رہتے ہیں، تو فرمایا: یہ لباس اس لیے پسند کرتاہوں کہ یہ نمائش سے بہت دور اور نماز میں عافیت دہ ہے اور مومن کی سنت ہے۔“

ایک دوسری روایت میں ہے جسے ابوعبیدہ نے عنترہ سے سنا ہے:

”میں خورنق میں علی ابن ابی طالب کے پاس گیا، وہ ایک چادر اوڑھے ہوئے سردی سے کانپ رہے تھے، میں نے کہا امیرالمومنین! اللہ نے آپ اورآپ کے افراد خانہ کے لیے اس مال میں حصہ رکھا ہے اور آپ سردی سے کانپ رہے ہیں۔ فرمایا: میں تمہارے مال میں سے کچھ نہیں لیتا، میری یہی چادر ہے جس کو میں اپنے گھر سے لیکر نکلا تھا۔“

بیت المال کی رقم سے احتراز

دنیا کی تاریخ اٹھاکر دیکھی جائے کہ حاکم وقت اپنی ذات پراور اہل و عیال پر کس قدر بے جا روپیہ خرچ کرتے ہیں اور اپنی رعیت کا بالکل ہی خیال نہیں کرتے اور گویا کہ پوری زندگی عیش کوشی اور لہو ولعب میں بسر ہوتی ہے۔ بس آخری کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح اعلیٰ منصب کو حاصل کیا جائے اور جب اس میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو خوف خدا ان کے دل سے نکل جاتا اور وہ ہر طرح کے اخلاقی جرائم اور گناہ میں ملوث ہوجاتے۔ ایسے افراد کے لیے یہ کہا جائے کہ وہ حضرت علی کا اخلاق و کردار اپنے اندر نافذ کریں اور ان کے طریقہ حکومت پر عمل کریں۔حضرت علی نے اپنے پورے دور خلافت میں ایک حبہ بھی بیت المال کا اپنی ذات پر خرچ نہیں کیا، بلکہ بعض لوگوں نے ان کو ہدایا دئیے اسے بھی خلق خدا کی امانت سمجھ کر بیت المال میں جمع کردیا۔ آپ نے بیت المال کی رقم کی اس طرح حفاظت کی کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔ آپ کو ایک صاحب نے ہدیہ دیا اور وہ ہدیہ کیاتھا وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی زبانی ملاحظہ فرمائیں مگر اس کو بھی بیت المال میں پہنچادیا۔ آپ نے ایک خطبہ میں صراحت کی ہے:

”لوگو! اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے تمہارے مال سے نہ تھوڑا لیا، نہ بہت سوائے اس شے کے، اور جیب سے ایک چھوٹی سی شیشی نکال کر دکھائی، جس میں عطریا کوئی خوشبو تھی، حضرت علی نے کہا مجھے ایک دہقان نے یہ ہدیہ دیا ہے۔ پھر وہ بیت المال تشریف لے گئے اور کہا یہ لو۔ (وہ شیشی بیت المال میں جمع کردی) اور یہ شعر پڑھنے لگے:

”افلح من کانت لہ قوصرة     یأکل منہا کل یوم تمرة“

حضرت عائشہ اور علی جنگ جمل میں

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ابتدائی عہد میں ہی جنگ جمل کا وہ اہم واقعہ پیش آیا جو تاریخ اسلامی کا ایک اہم باب ہے۔ اس جنگ کی قیادت ایک طرف سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کررہی تھیں تواس کی دوسری طرف حضرت علی تھے۔ اس جنگ کے جو بھی اسباب و نتائج رہے ہوں اس سے صرف نظر کرتے ہوئے یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ حضرت علی حق پر تھے۔ اور یہ بھی یاد آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی بھی فرمائی تھی کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ حضرت عائشہ علی سے ناحق جنگ کریں گی، جو اس جنگ میں ظاہر ہوئی، اس جنگ کے ایک خوش کن نتائج یہ برآمد ہوئے کہ بقول امام ابوحنیفہ:

”حضرت علی حق پر تھے اوراگر حضرت علی ان سے اس طرح کا معاملہ نہ کرتے تو کسی کو معلوم نہ ہوتا کہ مسلمانوں کے درمیان آپس میں جب اختلاف ہو تو کیا طرز عمل اختیار کیا جائے۔“

اس جنگ میں حضرت علی نے حضرت عائشہ کے ساتھ جو اخلاق و کردار کا مظاہرہ کیا اس کو دیکھ کر حضرت عائشہ ندامت کا اظہار کرتی تھیں اور کہا کرتی تھیں کہ ”کاش میں یوم جمل سے پہلے دنیا سے رخصت ہوگئی ہوتی“ وہ جب بھی اس دن کو یاد کرتیں تو اس قدر روتیں کہ ان کا دوپٹہ تر ہوجاتا۔


قاضی شریح کی عدالت  میں

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی زرہ اسی جنگ میں گم ہوگئی اوراسے ایک یہودی کے ہاتھ میں دیکھی گئی، یہاں تک کہ یہ معاملہ قاضی شریح کی عدالت میں پہنچا، قاضی نے امیر المومنین سے گواہ طلب کیا، علی نے حضرت حسن اور غلام قنبر کو گواہی کے لیے پیش کیا مگر قاضی نے دونوں کی گواہی کو رد کردتے ہوئے فیصلہ یہودی کے حق میں کردیا۔

اس واقعہ سے جو درس ملتا ہے وہ اسلامی تعلیم کا شاہکار ہے جو حضرت علی کے ذریعہ ظہور ہوا۔ وہ خود قاضی کے پاس آئے اور ان کے فیصلہ پر عمل کیا جو اخلاق و کردار کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ اس سے متاثر ہوکر یہودی نے نہ صرف زرہ واپس کردی بلکہ کلمہ شہادت پڑھ کر حلقہ اسلام میں داخل ہوگیا، مگر پھر حضرت علی نے زرہ اسے واپس کردی اور یہ شخص ہمیشہ آپ کے ساتھ رہا اور صفین کے موقع پر شہید ہوا۔


اشاعت دین میں اخلاقی تعلیمات کی جلوہ گری

 علی شیر خدا  خلیفة المسلمین ہیں، رعایا کی خبرگیری اور ان کی راحت رسانی میں ہمہ وقت مصروف ہیں، مگر ان کا دل ہر وقت اس کے لیے مضطرب ہے کہ کسی طرح سے ادع الیٰ سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسنة اور کنتم خیر امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنہون عن المنکر وتوٴمنون باللّٰہ کی تعلیمات پر عمل ہوسکے۔ آپ نے اس فریضہ کی انجام دہی میں تلوار اور قتل و خوں ریزی کو جائز و بہتر نہیں سمجھا بلکہ آپ نے اپنے اخلاق اور مواعظ حسنہ کو ہی اولیت کا مقام دیا، جس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے۔ آپ کے اس عمل کی وضاحت کرتے ہوئے علی میاں ندوی لکھتے ہیں کہ:

”حضرت  علی کوئی انتظامی امور کے حاکم اعلیٰ یا عرفی خلیفہ نہیں تھے، جیسے اموی و عباسی خلیفہ تھے، بلکہ وہ شیخین (حضرت ابوبکر و عمررضی اللہ عنہما) کے انداز و نہج کے خلیفة المسلمین تھے۔ مسلمانوں کے حقیقی معنوں میں ولی الامر، معلم، مربی اور عملی مثال قائم کرنے والے اخلاقی و دینی امور کی نگرانی اور احتساب کرنے والے تھے، لوگوں کے رجحانات و خیالات و تصرفات پر نظر رکھتے کہ وہ کس حد تک اسلامی تعلیمات اور رسو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق ہیں،اور کہاں تک اس اسوہ سے دور اور منحرف اور کس حد تک انھوں نے مغلوب اقوام اور مفتوحہ علاقوں کی تہذیب و تمدن کا اثر قبول کیا ہے، آپ لوگوں کو نماز پڑھاتے۔ ان کو نصیحتیں فرماتے، دین کے مسائل بتاتے اور دین کا فہم ان کے اندر پیدا کرتے۔ ان کو بتاتے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے کیا چاہتا ہے، اور کن باتوں کو پسند فرماتا ہے۔ آپ مسجد میں بیٹھتے، لوگ آپ کے پاس آیا کرتے، اپنے معاملات میں مشورہ لیتے ، کوئی دینی مسئلہ پوچھتا تو اس کو بتاتے، دنیاوی امور میں صلاح و مشورہ دیتے، بازاروں میں چلتے پھرتے کاروباری لوگوں کی نگرانی کرتے کہ کس طرح خرید و فروخت کرتے ہیں، انکو نصیحت فرماتے اور کہتے: ”اللہ سے ڈرو اور ناپ تول کا پورا لحاظ رکھو، لوگوں کا حق نہ مارو۔“


حضرت علی کے اخلاق و کردار کے مختلف پہلو اور اس کا اثر

اس سے پہلے کہ ہم نہج البلاغہ کے اقتباس کی روشنی میں حضرت علی کے افعال و کردار اور ان کے اعلیٰ اخلاقی اقدار کو پیش کریں ضروری ہے کہ حضرت علی کے معاصر ضرار بن مضمر نے حضرت ابوسفیان کے اصرار پر مندرجہ ذیل تاثر بیان کیا اور ان کے انتقال کو مسلمانوں کے لیے ایک خطرہ قرار دیا اور ان کی حیات مسلمانوں کے لیے نعمت عظمی بتاتے ہوئے ان کے اخلاق و کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے بیان کیا کہ:

”ان کی نظر انتہائی دور رس تھی، ان کے قویٰ انتہائی مضبوط تھے، بات دو ٹوک اور صاف کہتے اور فیصلے پورے عدل و انصاف کے ساتھ کرتے، ان کی شخصیت سے علم کے چشمے ابلتے تھے، دنیا اور دنیا کی دل آویزیوں سے متوحش رہتے، رات اوراس کی تاریکی سے دل لگاتے تھے، خدا گواہ ہے کہ (راتوں کو عبادت میں) ان کے آنسو تھمتے نہ تھے، دیر دیر تک فکرمند اور سوچتے رہتے، اپنے کف دست کو الٹتے پلٹتے اور اپنے آپ باتیں کرتے، موٹا جھوٹا پہنتے، روکا سوکھا کھاتے، بخدا بالکل اپنے ہی ساتھیوں اور بے تکلف لوگوں کی طرح رہتے، جب کچھ پوچھا جاتا جواب دیتے، جب ان کے پاس جاتے تو خود بڑھ کر باتیں شروع کرتے، جب بلاتے تو حسب وعدہ آجاتے، لیکن ہم لوگوں کو (باوجود اس قربت اور رفاقت اور ان کی سادگی کے ان کا رعب ایسا تھا کہ) ان کے سامنے بولنے کی ہمت نہ ہوتی اور نہ کوئی گفتگو چھیڑتے،اگر وہ مسکراتے تو آپ کے دندان ایسے نظر آتے جیسے سفید موتیوں کی لڑی ہو، دینداروں کی توقیر کرتے، مساکین سے محبت کرتے کسی طاقتور انسان کی یہ جراء ت نہ تھی کہ ان سے باطل کی تائید میں توقع رکھتا اور کوئی کمزور ان کے عدل و انصاف سے مایوس نہ ہوتا۔ اور میں اللہ کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ میں نے ان کی راتوں کے چند مناظر دیکھے ہیں کہ رات نے اپنی سیاہ چادر پھیلادی ہے، تارے ڈوبنے لگے ہیں اور علی محراب مسجد میں اپنی داڑھی ہاتھ سے پکڑے درد بھرے شخص کی طرح رورہے ہیں اوراس طرح تڑپ رہے ہیں جیسے کوئی ایسا شخص تڑپے جس کو کسی زہریلے سانپ یا بچھو نے ڈس لیاہو، مجھے ایسا لگتا ہے کہ ان کی آواز اب بھی سنائی دے رہی ہے، اور وہ کہہ رہے ہیں:

”اے دنیا کیاتو مجھ سے چھیڑ چھاڑ کررہی ہے یا مجھ سے کوئی امید رکھتی ہے؟ مجھ سے کچھ امید نہ رکھ، میرے علاوہ کسی اور کو فریب دے، میں تو تجھے تین طلاقیں دے چکا ہوں، جس کے بعد تیری طرف رجعت کی گنجائش ہی نہیں، تیری عمر کوتاہ، تیری دی ہوئی کامرانی حقیر، تیرے خطرات بھیانک اور بڑے آلودہ، آہ! زاد راہ کتناکم ہے، سفر کتنا طویل ہے اور راستہ کس درجہ سنسان ہے۔“

اس تاثر کو روایت کرنے والے ابوصالح ہیں کہتے ہیں کہ:

”یہ سن کر معاویہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اوراس کے قطرے ان کی داڑھی پر گرنے لگے، اپنی آستین سے وہ آنسو پونچھتے، اور رونے سے آواز حلق میں گھٹنے لگی، پھر معاویہ نے کہا: اللہ ابوالحسن پر رحم فرمائے، واقعی ان کا یہی حال تھا، ضرار تم اپنا حال کہو ان کی جدائی سے کیا محسوس کرتے ہو؟ کہا: مجھے ایسا غم ہے جیسا اس عورت کو ہوگا جس کا بچہ اس کی گود میں ذبح کردیاگیا ہو، اور نہ اس کے آنسو تھمتے ہوں، نہ غم ہلکاہوتا ھو


شہادت اور قاتل کے ساتھ آعلی اخلاق کا برتاؤ

حضرت علی کرم اللہ وجہہ دشمن کے زد سے محفوظ نہ رہ سکے، یہاں تک کہ ابن ملجم نے زہرپلائی ہوئی تلوار سے آپ پر ایسی ضرب لگائی کہ آپ کا انتقال ہوگیا۔ مگر مرنے سے قبل ہی ملجم کو گرفتار کرلیاگیا، اور آپ کے سامنے حاضر کیاگیا، اس کی شکل و صورت کو دیکھتے ہی آپ نے حکم دیا کہ مقتول سے پہلے قاتل کی پیاس بجھائی جائے۔ اس جملے میں کتنی معنویت اور اخلاقی تعلیمات مضمر ہیں۔ یعنی کہ آپ کو بھی پیاس کی شدت تڑپارہی ہے مگر حکم دیتے ہیں کہ پہلے میرے قاتل کی پیاس بجھائی جائے، آپ کے اس اخلاق سے ملجم بہت شرمندہ ہوا، اس کے بعد ابن ملجم کے حق میں اپنے بیٹے کو وصیت کی وہ حضرت علی کے اخلاق کی اعلیٰ سے اعلیٰ مثال ہے اور یہ صرف ان ہی کے لیے زیب دیتا ہے کہ آپ اپنے فرزند کو وصیت کرتے ہیں کہ:

”اے عبدالمطلب کے فرزندو! مسلمانوں کا بے تکلف خون نہ بہانا، تم کہوگے کہ امیرالمومنین قتل کردئیے گئے، مگر خبردار سوائے میرے قاتل کے کسی کو قتل نہ کرنا، دیکھو اگر میں اس وار سے مرجاتاہوں تواس پر بھی ایک ہی وار کرنا، اس کا مثلہ نہ کرنا، کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے: خبردار کسی ذی روح کو مارکر اس کا مثلہ نہ کیا جائے خواہ وہ کٹہا کتا ہی کیوں نہ ہو۔“

بلکہ آپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ:

”اس کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کیا جائے، اگر زندہ رہاتو سوچوں گا، معاف کروں یا قصاص لوں اور اگر مرجاؤں تو ایک جان کا بدلہ ایک ہی جان لیاجائے، اس کا مثلہ ہرگز نہ کیا جائے۔“


ازواج واولاد

سیدہ جنت حضرت فاطمہ زہرا ؓ کے بعد جناب علی مرتضیٰ ؓ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں اور ان سے نہایت کثرت کے ساتھ اولاد ہوئیں، تفصیل حسب ذیل ہے:


حضرت فاطمہ ؓ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں، ان سے ذکور میں حسن، حسین، محسن اور لڑکیوں میں زینب کبریٰ اورام کلثوم کبری ٰپیدا ہوئیں، محسن ؓ نےبچپن ہی میں وفات پائی۔


ام النبین بن حزام

ان سے عباس، جعفر، عبد اللہ اورعثمان پیدا ہوئے، ان میں سے عباس کے علاوہ سب حضرت امام حسین کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے۔ لیلیٰ بن مسعود: انہوں نے عبید اللہ اورابوبکر کو یادگارچھوڑا؛لیکن ایک روایت کے مطابق یہ دونوں بھی حضرت امام حسین ؓ کے ساتھ شہید ہوئے۔


اسماء بنت عمیس

ان سے یحییٰ اورمحمد اصغر پیدا ہوئے


صہبا یاام حبیب بنت ربیعہ

یہ ام ولد تھیں، ان سے عمر اوررقیہ پیداہوئیں، عمر نے نہایت طویل عمر پائی اور تقریباً پچاس برس کے سن میں ینبوع میں وفات پائی۔ امامہ بنت ابی العاص:یہ حضرت زینب ؓ کی صاحبزادی اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی تھیں، ان سے محمد اوسط تولد ہوئے۔


خولہ بنت جعفر

محمد بن علی، جو محمد بن حنفیہ کے نام سے مشہور ہیں، ان ہی کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔


ام سعید بنت عروہ

ان سے ام الحسن اوررملۂ کبریٰ پیدا ہوئیں۔


محیاۃ بنت امرء القیس

ان سے ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی، مگر بچپن ہی میں قضا کر گئی۔


لونڈیوں سے دیگر اولاد

متذکرہ بالا بیویوں  کے علاوہ متعدد لونڈیاں بھی تھیں اوران سے حسب ذیل لڑکیاں تولد ہوئیں: ام ہانی، میمونہ، زینب صغریٰ، رملہ صغریٰ، ام کلثوم صغریٰ، فاطمہ، امامہ، خدیجہ ام الکرام، ام سلمہ، ام جعفر، جمانہ، نفیسہ۔ غرض حضرت علی ؓ کے سترہ لڑکیاں اورچودہ لڑکے تھے، جن سے سلسلہ نسل جاری رہا، ان کے نام یہ ہیں: امام حسن، امام حسین، محمد بن حنفیہ، عمر (رضی اللہ عنہم)۔


جاری ھے


Share: