جنت میں داخل ھونے والا آخری شخص

صحیح مسلم اور مسند احمد میں عبداللہ بن مسعود ،مغیرہ بن شعبہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب کی خدمت میں عرض کیا: اے میرت رب! جنت میں کم درجہ جس شخص کا ہوگا اس کا کیا حال ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے سب سے آخر میں جنت میں جانے والے شخص کا حال فرمایا کہ جب اسے جہنم سے نکالا جائے گا تو وہ اس کی طرف دیکھے گا اور کہے گا: ” بڑی عزت و برکت والی ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی نعمت سے نوازا ہے جیسی پہلے اور بعد کے لوگوں میں کسی کو نہیں دی۔” وہ اسی گمان میں جہنم کے کنارے بیٹھا رہے گا کہ اچانک دور سے ایک درخت نظر آئے گا۔ وہ درخت کو دیکھ کر کہے گا:” اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کے سائے میں بیٹھوں اور اس کا پانی پیوں۔”


اللہ فرمائیں گے:

” اے ابن آدم! اگر میں تجھے یہ سایہ نصیب کردوں تو تُو غالباً مجھ سے اس کے علاوہ کوئی دوسری چیز مانگے گا۔”

وہ پختہ وعدہ کرے گا:نہیں نہیں میرے رب! اور کچھ نہیں مانگتا۔ بس صرف اس درخت کے قریب کردے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کو اس درخت کے قریب کر دیں گے کہ اس کے سائے میں بیٹھے اس کے پھل کھائے،اس کا پانی پیے۔اسی حال میں ہو گا کہ پہلے درخت سے بہتر ایک اور درخت نظر آئے گا۔وہ کہے گا :اے میرے اللہ! مجھے اس درخت کے قریب کردے تا کہ میں اس کا پانی پیوں اس کے سائے میں بیٹھوں۔ تیری عزت و جلال کی قسم! بس یہ دے دےمزید کچھ نہیں مانگوں گا۔

اللہ فرمائیں گے : "اے ابن آدم! کیا تو نے مجھ سے پختہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ اس درخت کے بعد کچھ اور نہیں مانگوں گا؟”

وہ کہے گا: بس اللہ! یہ دے دے اور کچھ نہیں مانگوں گا۔چنانچہ اللہ اسے اس درخت کے قریب کردے گا۔ اسی حالت میں ہوگا کہ پہلے دونوں درختوں سے زیادہ بہتر اور خوبصورت جنت کے دروازے کے قریب ایک اور درخت نظر آئے گا، وہ صبر کی کوشش کرے گا مگر صبر کہاں! کہے گا: میرے رب! اس درخت کے قریب کردے تا کہ اس کا پانی پیوں،اس کے سائے تلے رہوں،اب اس کے بعد کچھ نہیں مانگوں گا۔

اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: اے ابن آدم! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ اس کے بعد کچھ نہیں مانگے گا؟ پھر اللہ اسے اس تیسرے درخت کے پاس کردے گا۔ جب اس تیسرے درخت کے نیچے جائے گا تو سامنے جنت  نظر آئے گی، اہل جنت کی آوازیں سنے گا،اس کی نعمتیں، اس کے محلات، اس کے باغات نظر آئیں گے،وہ ان کو دیکھتا رہے گا لیکن بالآخر صبر نہ کر سکے گا اور کہے گا: "میرے پروردگار! مجھے اس جنت میں داخل کر دے!”

اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: ” اے ابن آدم! مجھ سے تیرے تقاضے کو کون سی چیز روکے گی؟ کیا تو اس بات سے راضی ہے کہ پوری دنیا تجھے دُگنی کر کے دے دوں؟” بندہ کہے گا:  میرے پروردگار! کیا تو میرا مذاق اُڑا رہا ہے حالانکہ تو سارے جہاں کا پروردگار ہے؟” غرض اس بندے سے کہا جائے گا: جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ جب داخل ہونے کے لئے جائے گا تو اسے ایسا محسوس ہوگا کہ پوری جنت بھر چکی ہے۔ چنانچہ وہ کہے گا: "میرے پروردگار! یہ کیوں کر ممکن ہے؟ لوگ تو اپنی اپنی جگہ لے چکے ہیں اور اپنا اپنا حصّہ قبضے میں کر چکے ہیں؟” اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: تم پسند کرو گے کہ تمہاری ملکیت دنیا میں کسی بادشاہ کے ملک جتنی ہو۔ وہ کہے گا: ہاں میرے رب! اللہ تعاللہ فرمائیں گے: ہم نے تجھے اتنی بادشاہی بخش دی اور پانچ مرتبہ زیادہ بڑی سلطنت تمہیں عطاکردی۔ وہ کہے گا: میرے رب میں خوش ہو گیا۔

اللہ فرمائے گا: ” یہ تیرے لئے ہے، اور دس گنا زیادہ اور بھی ، اور تیرا دل جو چاہے اور تیری آنکھ کو جو کچھ بھلا لگے، سب ہم نے تجھے دیا۔” پھر جب وہ جنت میں داخل ہو گا تو وہاں حورعین میں سے اس کی دو بیویاں اس کا استقبال کریں گی اور کہیں گی: ” تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے تمہیں ہمارے لئے اور ہمیں تمہارے لئے بنایا۔”

پھر وہ کہے گا: ” جو کچھ مجھے ملا ہے ویسا کسی کو نہیں ملا ہوگا۔” یہ سب سے نچلے درجے والا جنتی ہو گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: یہ تو سب سے کم تر درجے کا جنتی ہوا۔ اور اعلیٰ منزل والے جنتی کی کیا شان ہو گی؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” وہ ایسے لوگ ہیں جن کو میں نے چُنا، اختیار کیا، ان کی عزت و بزرگی کو اپنے ہاتھ سے جمایا اور اس پر مہر ثبت کردی،( میں نے ان کے لئے جنت میں جو نعمتیں تیار کر رکھی ہیں انہیں) نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سُنا اور نہ ہے کسی دل میں ان کے متعلق تصور گزرا۔

مذکورہ آخری جنتی کے بارے میں صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:” جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہو جائے گا اور اپنی رحمت سے کچھ لوگوں کو جہنم کی آگ سے نکالنا چاہے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ وہ ان لوگوں کو جہنم سے نکال لائیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا ہو گا ۔جن پر اللہ تعالیٰ نے رحم کرنا پسند کیا اور وہ” لا الہ الا اللہ” کہتے رہے ۔فرشتے جہنم میں انہیں نکالنے جائیں گے تو انہیں سجدے کے نشان سے پہچانیں گے ،کیوں کہ آتش جہنم ابن آدم کو کھا جائے گی لیکن سجدے کے نشانات باقی رہیں گے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے سجدے کے نشانات کو جلانا جہنم کی آگ پر حرام کر دیا ہے۔ پھر وہ جہنم کی آگ سے جلے بھنے(کوئلہ کی طرح) نکالے جائیں گے۔ جب ان کے اوپر آبَ حیات چھڑکا جائے گا تووہ تازہ ہو کر ایسے جی اُٹھیں گے جیسے دانا کچرے کے بہاؤ میں اُگ جاتا ہے۔ (چونکہ پانی میں جہاں پر کوڑا کرکٹ اور مٹی بہا کر لاتا ہے وہاں دانا بہت جلدی اُگ جاتا ہے ۔ اور جلدی سے سرسبز و شاداب ہو جاتا ہے ۔اسی طرح جہنمی بھی آبِ حیات پڑتے ہی تازہ دم ہو جائیں گے)۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ بندوں کے فیصلے سے فارغ ہو گا تو ایک آدمی رہ جائے گا جس کا منہ جہنم کی طرف ہو گا اور جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہو گا۔وہ کہے گا اے میرے پروردگار! میرا چہرہ جہنم کی طرف سے پھیر دے اس کی بدبو نے مجھے بہت تکلیف پہنچائی ہے اور اس کی لپٹ نے مجھے جلا ڈالا ہے۔پھر جب تک اللہ کو منظور ہو گا وہ دعا کرتا رہے گا۔

اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ” اگر میں تیرا یہ سوال پورا کردوں تو مزید کوئی سوال تو نہیں کرے گا؟” بندہ کہے گا : میں پھر کوئی سوال نہیں کروں گا اور جیسے اللہ کو منظور ہے وہ قول و قرار کرے گا۔تب اللہ تعالیٰ اس کا چہرہ جہنم کی طرف سےپھیر دے گا۔ جب اس کا چہرہ جنت کی طرف ہو گا اور وہ جنت کو دیکھ لے گا تو جب تک اللہ کو منظور ہو گا وہ خاموش رہے گا اور پھر وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے جنت کے دروازے تک پہنچا دے ۔اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: کیا تو نے اپنا قول و قرار نہیں دیا تھا؟ کہ تو پھر کوئی دوسرا سوال نہیں کرے گا؟ تیرا بُرا ہو اے ابن آدم! تو کس قدر دغا باز ہے!”بندہ کہے گا : اے رب! اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کہے گا:اگر میں تیرا یہ سوال پورا کروں تو اس کے علاوہ مزید کوئی سوال تو نہیں کرے گا؟ بندہ کہے گا: تیری عزت کی قسم! میں دوسرا سوال نہیں کروں گا۔ پھر اللہ کو جو منظور ہوگا عہد و پیمان دے گا۔ تب اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے تک پہنچا دے گا۔

جب بندہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہوگا تو جنت اس کو دکھائی دے گی جس میں وہ خیر و بھلائی اور فرحت و شادمانی دیکھے گا۔ پھر جب تک اللہ کو منظور ہو گا وہ خاموش رہے گا، پھر کہے گا : اے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نے مجھے اپنا قول و قرار نہیں دیا تھا کہ تو پھر دوسرا کوئی سوال نہیں کرے گا،اے ابن آدم! تو کتنا مکار ہے۔بندہ کہے گا : اے میرے رب! میں تیری مخلوق میں بدنصیب نہیں ہوں گا۔پھر وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہے گا۔تا آنکہ اللہ تعالیٰ کو ہنسی آ جائے گی۔ جب اللہ تعالیٰ ہنس دے گا تو اس سے فرمائے گا: جنت میں داخل ہو جا۔ جب بندہ جنت میں داخل ہو گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اور کچھ تمنا کرو، وہ تمنا کرے گا اور اللہ تعالیٰ سے مانگے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اسے یاد دلائے گا کہ فلاں فلاں چیز مانگ۔جب اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ” یہ سب نعمتیں تیری ہیں اور اتنی ہی مزید ملیں گی۔”

 اس واقعہ کو بخاری  اور مسلم وغیرہ  سے یکجا کرکے ذکر  کیا گیا ھے 




Share: