*اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ O*

بیشک ہم نے ہی قرآن نازل کیا ہے اور بیشک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں

قرآن حکیم کے اعجاز کا ایک پہلو یہ ہے "کہ یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جس کے حروف سے لے کر کتابت تک ایک ایک چیز کو محفوظ کرنے اور محفوظ رکھنے میں مستقل جماعتوں نے کام کیا ۔ کاتبوں نے رسم الخط کی حفاظت کی ۔ قاری حضرات نے طرز ادا اور طرز تلاوت کی حفاظت کی " حافظوں نے الفاظ اور عبارت کی حفاظت کی۔ اسی طرح اعداد و شمار کے حوالے سے بھی لوگوں نے بڑی خدمت کی اور ایک ایک لفظ " ایک ایک حرف کو حتیٰ کہ بعض نے زیرزبر تک کو شمار کیا ہے۔رے تقریباً مکیات پر مشتمل ہیں‘ آخر میں صرف دوسورتیں ’’ معوذتین‘‘ مدنی ہیں. یعنی یہاں نسبت بالکل عکسی ہے. لیکن دوسرا گروپ بھی متوازن ہے‘ یعنی دو سورتیں مکی‘ دو مدنی اور چھٹا گروپ بھی متوازن ہے کہ اس میں سات

یہ وہ چیزیں ہیں جو معلومات کے درجے میں سامنے رہیں اور ذہن میں موجود رہیں تو انسان جب غور کرتا ہے تو ان کے حوالے سے بعض اوقات حکمت کے بڑے قیمتی موتی ہاتھ لگتے ہیں.


 


Share: