میرا ماضی - پہلی قسط

کافی دنوں سے دماغ میں یہ بات آرھی تھی کہ اپنے ماضی کے بارے میں کچھ لکھوں ۔ لیکن پھر اسے ایک فضول سی پریکٹس سمجھ کر خاموش ھو جاتا رھا ، لیکن اب پھر دماغ میں یہ بات آئی کہ کچھ نہ کچھ ضرور لکھاجائے ۔  اب  جب کہ زندگی کے تقریباٍ تمام مراحل گزار چکا ھوں اور آخری مرحلے بڑھاپے کی ابتداء بھی کسی حد تک ھو ھی چکی ھے اور اب سب باتیں بھی زھن میں نہیں رھیں۔  انتہائی سخت حالات اور پردیس کے مسلسل تھپیروں  نے اب یاد داشت بھی وہ نہیں رھنے دی جس پر کسی زمانہ میں خود مجھے بھی  فخر ھوا کرتا  تھا ۔ بہرحال  پھر بھی کچھ نہ کچھ لکھنے کی پوری کوشش کروں گا۔ 


پیدائش

میری پیدائش کے وقت میرے والدین لاھور کے موچی دروازہ کےمحلہ گیلانیاں میں قیام پذیر تھے۔  وھیں پر میری پیدائش ھوئی۔  والدہ  صاحبہ کے مطابق  مجھ سے پہلے میری ایک بہن دو ڈھائی سال کی عمر میں ھندوستان سے پاکستان ھجرت  کرتے وقت  فوت ھو چکی تھی پھر اُس کے دو تین  سال بعد میرے بڑے بھائی نصیر آحمد مرحوم ھمارے آبائی گاؤں بدورتہ میں پیدا ھوئے تھے ۔ اُن کے چھ یا سات سال کے بعد میری پیدائش ھوئی ۔ پہلے میرا نام “سعید آحمد” رکھا گیا بعد میں میرے والدین ماڈرن نام کی طرف متوجہ ھوئے اور میرا نام  “سعید آحمد” سے تبدیل کرکے “نسیم آحمد” رکھ دیا گیا جو کہ میرے بڑے بھائی کے نام سے بھی میچ کرتا تھا 


لاھور سے ڈوگرانوالہ منتقلی

والدہ صاحبہ مرحومہ چونکہ دیہات کے کھلے ماحول کی عادی تھیں ۔ اس لئے اُن کی طبیعت شہر کے تنگ ماحول میں اکثر خراب رھتی تھی ۔ جس میں میری پیدائش کے بعد اور بھی آضافہ ھو گیا تھا ۔ ڈاکٹروں نے والد صاحب مرحوم کو اُنہیں چند ماہ کے لئے کھلی فضا میں بیجھنے کا مشورہ دیا ۔ ھمارے اکلوتے ماموں جان  مرحوم اور نانی جان مرحومہ گوجرانوالہ کے ایک گاؤں ڈوگرانوالہ میں رھتے تھے ۔ والد صاحب مرحوم نے ھمیں چند ماہ کے لئے وھاں بیجھ دیا ۔ 


ڈوگرانوالہ میں مکان کی خریداری

 ھم  یہاں  آکر تین  چار ماہ رھے تو والدہ صاحبہ مرحومہ کی صحت پر بہت ھی خوشگوار اثرات مرتب ھوئے ۔ والد صاحب مرحوم ھمیں لینے کے لئے آئے تو اتفاق سے اس وقت ماموں جان مرحوم کے گھر کے قریب ھی ایک گھر فروخت ھو رھا تھا ماموں  جان مرحوم نے والد صاحب مرحوم کو مشورہ دیا کہ یہ مکان خرید لیں اور بچوں کو لاھور رکھنے کی بجائے یہاں پر ھی رکھ لیں تاکہ والدہ صاحبہ مرحومہ کی صحت کا کوئی مسئلہ نہ ھو گو ھمارا آبائی گاؤں بدورتہ تھا جہاں ھماری زمین اور باقی خاندان آباد تھا لیکن ماموں جان مرحوم کی وجہ سے والد صاحب مرحوم نے والدہ صاحبہ مرحومہ  سے مشورہ کے بعد یہ مکان خریدنے کا فیصلہ کر لیا اور ھم لاھور والد صاحب مرحوم کے پاس رھنے  کی بجائے ڈوگرانوالہ اپنے گھر میں رھنے لگے ۔  لیکن آنے والے کئی سالوں میں اس فیصلے کی وجہ سے ھمیں بہت ھی مسائل کا سامنا کرنا پڑا 


والد صاحب مرحوم معاشی دباؤ میں 

مکان خرید کر والد صاحب مرحوم الگ معاشی دباؤ میں آ گئےکیونکہ اُس وقت ان کی تنخوٰہ صرف چالیس روپے ماھوار  تھی اور یہ مکان ۵۰۰ روپے کا خریدا گیا تھا  یہ رقم والد صاحب مرحوم نے کسی سے اُدھار مانگنے کی بجائے سود پر دینے والی ایک پارٹی سے لے لی تھی ۔والد صاحب اس کے نتائج سے اگاہ نہیں تھے ۔  لہذا وہ قرض  میں بُری طرح پھنس گئے اور سود کی وجہ سے قرضہ بھی بڑھتا رھا جو اگلے کئی سالوں تک  مکمل ادا نہ ھو سکا جس کی وجہ سے گھریلو معاملات بُری طرح متاثر ھوئے اور ھمیں سکول کی فیس تک کے لالے پڑے رھتے تھے ۔ روزانہ کا جیب خرچ کا تو اُس وقت ھم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے اور بیچارے والد صاحب مرحوم کو بھی کئی سالوں تک بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔  بہرحال یہاں آکر میرے بعد یکے بعد دیگرے دو بہنیں پیدا ھوئیں جو بچپن میں ھی انتقال کر گئیں اور ایک بھائی سلیم آحمد پیدا ھوئے جو مجھ سے چھ سال چھوٹے ھیں 


گھر پر میری تعلیم کی ابتداء

بڑے بھائی جان  نے سکول جانا شروع کردیا ھوا تھا  ۔ وہ مجھے بھی پہلی جماعت کا نصاب گھر پر تھوڑا تھوڑا کرکے پڑھاتے رھتے تھے اس طرح میں نے پہلی جماعت کا نصاب گھر پر ھی مکمل کر لیا تھا 


سکول میں داخلہ اور چھ آنے انعام 

سالانہ امتحان میں ایک یا ڈیڑھ ماہ باقی رہ گیا تھا اور مجھے امتحانوں کے بعد داخل کروانے کا پروگرام تھا ، لیکن والدہ صاحبہ مرحومہ نے ماموں صاحب مرحوم کو کہا کہ اسے پہلی جماعت میں بٹھانے کا کیا فائدہ ھو گا  ۔ وہ سب کچھ تو اس نے گھر پر پڑھ لیا ھوا ھے ۔ آپ اس کو سکول  لے جائیں اور ماسٹر صاحب سے کہیں کہ وہ اب اس کو داخل کر لیں ۔ امتحان پاس کرنے کے بعد یہ دوسری جماعت میں ھو جائے گا

پہلے تو ماموں صاحب نے انکار کیا کہ ایک مہینہ صبر کر لیں پھر اس کو داخل کروا دیں گے ۔لیکن والدہ صاحبہ مرحومہ کے زیادہ زور دینے پر وہ مجھے لے کر سکول چلے گئے اور اساتذہ سے بات کی ۔ اساتذہ نے بھی اُنہیں یہی کہا کہ ایک ماہ بعد آجانا پھر داخلہ ھو جائے گا ۔ ماموں صاحب نے کہا کہ آپ پہلے بچے کا امتحان تو لے لیں  پھر فیصلہ کر لینا ۔ اُس وقت سکول میں ایک ماسٹر شبیر صاحب ھوا کرتے تھے ۔ انہوں نے میرا امتحان لیا تو بہت خوش ھوئے اور مجھے چھ آنے انعام دیا اور کہنے لگے اس وقت میری جیب میں یہی ھے ورنہ زیادہ دے دیتا ۔ماسٹر شبیر صاحب نے دیگر اساتذہ سے مشورہ کرکے اس شرط پر مجھے داخل کر لیا کہ فیسیں شروع سال سے دینی پڑیں گیں اور داخلہ فیس بھی دینی ھو گی ۔لیٹ فیس بھی دینی ھوگی۔  اس وقت ہرائمری کی ماھوار فیس غالباً چار آنے ھوا کرتی تھی اور داخلہ فیس غالباً پانچ روپے تھی۔  تو گویا لیٹ فیس جمع کرکے یکمشت لگ بھگ گیارہ روپے ادا کرکے میرا داخلہ ھو گیا اور میں کلاس میں بیٹھ گیا ۔ ایک ماہ بعد امتحان پاس کرکے دوسری جماعت میں ھو گیا ۔ گیارہ روپے کا انتظام کیسے ھوا یہ ایک الگ کہانی ھے۔ دوسری جماعت  ماسٹر شبیر صاحب کے پاس ھی تھی۔   میں چونکہ پڑھائی میں کافی آچھا تھا اس لئے استاد کی نظروں میں  رھتا تھا 


مسجد میں ناظرہ قرآن پاک کی ابتداء

سکول کے ساتھ ھی مجھے ناظرہ قرآن پاک پڑھنے کے لئے مسجد میں داخل کروا دیا گیا ۔ جہاں میں دوسرے بچوں کی طرح صبح سکول جانے سے پہلے میں مسجد جایا کرتا تھا جہاں مولوی عبدالحق صاحب  مرحوم ھمیں قرآن پاک پڑھایا کرتے تھے۔ ابتدائی قاعدہ میں نے گھر پر والدہ صاحبہ سے ھی پڑھ لیا ھوا تھا اس لئے قرآن پاک شروع کرنے میں کافی آسانی ھو گئی


ماسٹر حمید صاحب کی آمد اور میری عمر کی کمی کا مسئلہ

سال ختم ھونے سے پہلے ھی ماسٹر شبیر صاحب کی ٹرانسفر ھو گئی اور اُن کی جگہ ماسٹر حمید صاحب آگئے ۔ میری ایک تو عمر کم تھی،  دوسرا میں کافی ھلکا پھلکا تھا جس کی وجہ سے اپنی عمر سے بھی چھوٹا نظر آتا تھا۔  انہوں نے جب مجھے دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ اتنا چھوٹا بچہ دوسری کلاس میں کیسے آگیا۔  انہوں نے سکول کا ریکارڈ چیک کیا تو اُس میں بھی میری عمر مطلوبہ عمر سے کم نکلی۔  تو وہ کہنے لگے کہ اس بچے کو ھم دوسری جماعت میں نہیں بٹھا سکتے کیونکہ اس کی عمر کم ھے ۔ لہذا اس کو پہلی جماعت میں بیجھا جائے

دوسرے اساتذہ نے میری صورت حال  اُن کو بتائی تو کہنے لگے کہ پھر اس کی عمر کا کیا کریں؟  اگر کھبی بھی ریکارڈ چیک ھو گیا تو پھر کافی مسئلہ بن جائے گا ۔ لیکن جب انہوں نے میرا تعلیمی ریکارڈ دیکھا تو میں ٹاپر بچوں میں تھا ۔ اپنی تسلی کے لئے اُنہوں نے اگلے دن تمام کلاس کا ٹیسٹ لیا تو میں اُن دو بچوں میں شامل تھا جنہوں نے ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی

ماسٹر حمید صاحب نے مجھے بلایا اور بہت پیار کیا کہنے لگے بیٹا !میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاھتا۔  آپ کل اپنے ابو کو لے کر آئیں تاکہ مسئلہ کا کوئی حل تلاش کیا جائے۔ میں نے عرض کیا کہ میرے ابو تو لاھور میں ھوتے ھیں ۔ البتہ یہاں میرے ماموں ھیں،  وہ آسکتے ھیں ۔ کہنے لگے ٹھیک ھے اُن کو لے آؤ ۔ سکول میں شور مچ گیا تھا کہ مجھے پہلی کلاس میں بیجھا جا رھا ھے اور میں رو رھا تھا

میں روتا ھوا گھر گیا اور تمام صورت حال سے والدہ صاحبہ کو اگاہ کیا۔  انہوں نے مجھے تسلی دی اور کہا رات کو آپ کے ماموں آئیں گے تو اُن سے بات کرتی ھوں  ۔ اُس زمانے میں ھمارے تمام معاملات ھمارے ماموں جان ھی دیکھتے تھے۔  وہ ھر روز بلاناغہ عشاء سے پہلے یا پھر عشاء  کے بعد ھمارے گھر آیا کرتے تھے ۔ ھمیں آنبیاء کرام کے واقعات اور قصے کہانیاں  سناتے اور اپنی  بہن سے خوب گپ شپ لگاتے اور چلے جاتے ۔ بہن بھائی کا پیار نہایت مثالی تھا ۔ اُس رات آئے تو والدہ صاحبہ نے اُن کو میرے بارے میں بتایا اور اگلے دن سکول جانے کے لئے کہا

ماموں اگلے دن سکول گئے تو ماسٹر حمید صاحب نے اُن کو بتایا کہ بچے کی عمر کم ھے اس لئے اس کو دوسری جماعت میں نہیں رکھ سکتے ۔ ماموں صاحب  شدید غصے میں آگئے اور ماسٹر حمید صاحب سے لڑ پڑے اور اُن کو خوب سنائیں کہ اب جب سال ختم ھونے والا ھے تو اب تمہیں عمر نظر آئی ھے ۔ پہلے آپ کہاں مرے ھوئے تھے؟  وغیرہ وغیرہ ۔ ماسٹر حمید صاحب بھی غصے میں آگئے اور کہنے لگے آپ نے جو کرنا ھے کرلو میں اس بچے کو دوسری جماعت میں نہیں بیٹھنے دوں گا ۔ دوسرے اساتذہ نے آ کر بیچ بچاؤ کرکے معاملے کو ٹھنڈا کیا اور کہا کہ لڑنے جھگڑنے کی بجائے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ ماسٹر حمید صاحب نے بتایا کہ عمر کی جو کم از کم حد ھے اُس سے بھی اس بچے کی عمر چھ ماہ کم ھے۔ ماموں صاحب جب ذرا ٹھنڈے ھوئے تو انہیں احساس ھوا کہ اُستاد پر اتنی چڑھائی نہیں کرنی چاھیے تھی ۔ دوسری طرف ماسٹر حمید صاحب کو بھی معاملے کی نزاکت کا احساس ھو گیا ۔ بہرحال سکول ریکارڈ میں میری عمر چھ ماہ زیادہ کر دی گئی ۔ اس طرح میں دوسری جماعت میں ھی رہ گیا اور دو ماہ بعد امتحان دے کر تیسری جماعت میں منتقل ھو گیا


ناظرہ قرآن پاک کی تکمیل

تیسری جماعت مکمل ھوتے ھی میرا ناظرہ قرآن پاک بھی مکمل ھو گیا تھا  ۔ میں اس میں اپنے آپ کو بہت پھنے خان سمجھا کرتا تھا اور مسجد میں جو بوڑھےبوڑھے لوگ قرآن مجید اونچی آواز میں پڑھ رھے ھوتے تھے،  میں اُن کی غلطیاں نکالا کرتا تھا ۔ یہ بابے بھی مجھے بہت پیار کیا کرتے تھے اور اپنے پاس بٹھا لیتے کہ بیٹا ! میری غلطیاں نکالو ۔ یہ تو مجھے حفظ شروع کرتے وقت پتہ چلا کہ ھمیں تو سرے سے  قرآن پاک ھی غلط پڑھا دیا گیا ھے ۔ ھمیں قرآن  پاک مجہول طریقہ سے پڑھا دیا گیا تھا جیسا کہ اکثر دیہات میں اسی طریقہ سے پڑھانے کا رواج تھا ۔ اس کے علاوہ بھی اور بھی بہت سی غلطیاں تھیں جنہیں  بعد میں قاری صاحب مرحوم نے تھوڑا تھوڑا کر کے ٹھیک کروایا


مسجد میں امام مسجد کا استعفی 

ھماری مسجد میں شروع سے مولوی عبدالعزیز صاحب امام تھے کیونکہ وھی مسجد کے بانی بھی تھے۔ مولوی صاحب حافظ یا عالم تو نہیں تھے لیکن انتھائی نیک شخص تھے۔  لوگ اُن کا بہت احترام کرتے تھے۔  اُن کا دم وغیرہ بھی بہت چلتا تھا اور لوگوں کا اُن پر یقین بھی بہت تھا ۔ بدقسمتی سے اُن کے اکلوتے بیٹے کے کردار پر اُنگلیاں اُٹھنی شروع ھو گئیں جس کی وجہ سے نمازیوں نے مولوی صاحب کے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی ۔ والدہ صاحبہ کی تربیت کی وجہ سے میں چونکہ بچپن سے مسجد جا کر نماز پڑھا کرتا تھا اس لئے مجھے معلوم ھے کہ اُس زمانے میں نماز کی جماعت میں دو یا تین بوڑھے بوڑھے  لوگ ھی نماز پڑھتے تھے باقی نمازی یا تو اپنی اپنی نماز پڑھ کر چلے جاتے تھے یا پھر آتے ھی نہیں تھے۔ مولوی صاحب ایک نیک سیرت انسان تھے انہوں نے صورت حال کو سامنے رکھتے ھوئے اپنا استعفی پیش کردیا اور کوئی دوسرا امام لانے  کی آجازت دے دی ۔ 


امامت کے لئے ایک حافظ صاحب کی تقرری

 مولوی صاحب کے آجازت کے بعد ایک حافظ صاحب کو امام  مسجد مقرر کیا گیا ۔ یہ حافظ صاحب ھمارے گاؤں سے تقریبا دو ڈھائی میل دور ایک گاؤں ٹھکرکے کے رھنے والے تھے۔  انتھائی سادہ طبیعت لیکن بارعب اور آچھے صحتمند شخص تھے ۔ تاھم ایک آنکھ سے معذور تھے ۔ لیکن ھر فن مولا  قسم  کے شخص تھے اور لوگوں کے کام  بلا معاوضہ کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے تھے ۔  لوگوں  کی چارپائیاں  بُن دیتے اور اسی طرح کے دوسرے کام کر دیتے ۔ کام اتنی تیزی سے کردیتے تھے کہ لوگ حیران رہ جاتے تھے ۔ چلنے ہھرنے میں بھی بہت تیز تھے، اس لئے کھبی گاؤں کے ایک کونے میں نظر آتے تو کھبی دوسرے کونے میں ۔ میں اُس وقت چوتھی جماعت میں آگیا تھا


حافظ صاحب کی قرآنی منزل اور میرے دل میں حفظِ قرآن کا شوق

حافظ صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اُن کی منزل بہت زیادہ پختہ تھی ۔ نماز میں  یا ترویح میں اُنہیں لقمہ دینے والے کو بہت سوچ سمجھ کر لقمہ دینا پڑتا تھا ۔ اس کے علاوہ وہ چلتے پھرتے قرآن مجید کی تلاوت  کرتے رھتے تھے۔ بھولنا یا آٹکنا  وغیرہ تو شاید اُن کی ڈکشنری سے خارج تھے ۔ میں جب اور جہاں اُن کو دیکھتا اُنہیں قرآن مجید ھی پڑھتے پاتا 

ھمارے گھر میں بھی چونکہ دینی ماحول ھی تھا والدہ صاحبہ کے پاس  لڑکیاں پڑھنے کے لئے آتی تھیں  ۔ گھر میں دین کے تذکرے ھوتے تھے ۔ ھمارے ماموں ھمیں آنبیاء کرام اور صحابہ کرام کے واقعات سنایا کرتے تھے۔ قرآن مجید کی تلاوت ھمارے  گھر میں ھر فرد کے لئے روزانہ لازمی ھوا  کرتی تھی ۔ تو ھمارا ذھن بھی بڑی حد تک مولویانہ ھی تھا۔ اب میں جب بھی حافظ صآحب کو قرآن پاک پڑھتے دیکھتا تو بہت حسرت سے انہیں دیکھتا ۔ اُنہیں دیکھ کر میرے اندر یہ خواھش پیدا ھوتی کہ کاش میں بھی حافظِ قرآن بن جاؤں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ میرے اندر حفظ قرآن کی  خواھش شدید سے شدید ھوتی چلی گئی  لیکن اس کا اظہار میں نے کسی سے نہیں کیا ۔ بس دل ھی دل میں خود اس کی پلاننگ کرتا رھتا تھا ۔ کھبی کھبی جب یہ خواھش زیادہ شدید ھوتی تو میں اپنی مسجد کے ایک کونے میں پیٹھ کو سورتیں یاد کرنے کی کوشش کرتا رھتا تھا ۔ حافظ صاحب سے بات کرنے کی مجھ میں کھبی ھمت نہیں ھوئی 

حفظِ قرآن کی خواھش ھر وقت میرے اندر کروٹیں لیتی رھتی تھی آخر مجبور ھو کر میں نے اپنی خواھش کا اظہار  والدہ صاحبہ سے کر دیا اور بتا دیا کہ چوتھی جماعت پاس کرنے کے بعد میں نے سکول نہیں جانا بلکہ قرآن پاک حفظ کرنا ھے ۔ گو ھمارا گھرانہ دینی تھا لیکن  پھر بھی حفظِ قرآن کے لئے سکول کی قربانی دینے کے لئے تیار نہیں تھا اُس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آس پاس حفظِ قرآن کا کوئی ماحول سرے سے موجود نہیں تھا ۔ مجھے خاصا مذاق کا نشانہ بنایا گیا ۔ لیکن میں نے بھی اپنا مطالبہ جاری رکھا ۔ 


چوتھی جماعت کی تکمیل اور میرا سکول جانے سے انکار

چوتھی جماعت کے امتحان ھوئے اور میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے کامیاب ھوگیا ۔ رزلٹ  لے کر گھر آیا  رزلٹ کے متعلق والدہ صاحبہ کو بتایا اور ساتھ ھی ساتھ اپنا مطالبہ شدت سے سامنے رکھا اور والدہ صاحبہ کو صاف صاف بتا دیا کہ میں نے اب سکول نہیں جانا بلکہ قرآن پاک حفظ  کرنا ھے ۔ نئی کلاسیں لگ چکی تھیں لیکن میں سکول جانے سے مسلسل انکاری تھا ۔ سکول سے پیغام آ رھے تھے کہ بچے کو سکول بیجھو لیکن میں اس کے لئے تیار ھی نہیں تھا 


پانچویں جماعت میں تعلیم کا سلسلہ شروع

میرے سکول جانے کے انکار پر والد صاحب لاھور سے تشریف لائے۔   مجھے والد صاحب سے پیار بہت زیادہ تھا ۔ یہی صورت حال ان کی طرف سے بھی تھی ۔ اُنہوں  نے مجھے پیار سے سمجھایا اور آخرکار یہ کہہ کر مجھے رضامند کر لیا کہ پانچویں  جماعت مکمل کر لو پھر قرآن پاک  حفظ کر لینا اور پھر وہ مجھے لے جا کر سکول  چھوڑ آئے ۔  تاھم میرے نھنے سے دل پر بہت چوٹ لگی اور مجھے بہت مایوسی ھوئی 

پانچویں جماعت میں بھی میری کارکردگی بہت آچھی رھی اور میں سکول کے اُن تین بچوں میں شامل تھا جنہیں وظیفہ کے امتحان کے لئے سیلیکٹ کیا گیا تھا ۔ پھر سالانہ امتحان ھوا ۔ میں اس امتحان میں امتحانی سنٹر کے تمام سکولوں میں دوسری پوزیشن اور اپنے سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے کامیاب ھو گیا تھا ۔ 

پانچویں کلاس مکمل ھونے پر میں نے ایک دفعہ پھر گھر والوں سے حفظِ قرآن شروع کرنے کا مطالبہ دھرایا ۔ تاھم اب میرا جذبہ  قدرے نرم پڑ چکا تھا اس لئے مطالبے میں پہلے والی شدت بھی نہیں تھی اور شاید مجھے اس کی اُمید بھی نہیں تھی کہ میری بات مانی  جائے گی۔ اور ھوا بھی یہی کہ گھر والوں نے کہا کہ پہلے میٹرک کر لو پھر حفظ کر لینا۔ اس طرح مجھے گوندلانوالہ میں مڈل  سکول میں چھٹی جماعت میں داخلہ دلوا دیا گیا


پانچویں کلاس میں لفظ “صحابی” کی تشریح پر انعام 

پانچویں کلاس کی ایک بات ابھی تک مجھے یاد ھے کہ ایک مرتبہ انسپیکٹر صاحب ھمارے سکول آئے تو اُنہوں نے پانچویں کلاس کے بچوں سے گپ شپ کی ۔ اس دوران اُنہوں نے ایک سوال کیا کہ یہ بتاؤ کہ “صحابی” کسے کہتے ھیں ۔ جسے جواب آتا ھو وہ ھاتھ کھڑا کرے ۔ یہ سوال سکول کے نصاب سے بالکل ھٹ کر تھا لیکن ھمارے گھر میں چونکہ اس طرح کے تذکرے ھوتے رھتے تھے اس لئے مجھے اس کا جواب  آتا تھا ۔ لہذا میں نے ھاتھ کھڑا کر دیا ۔ میرے علاوہ کلاس کے کسی بچے نے ھاتھ کھڑا نہ کیا انسپیکٹر صاحب یہ سمجھے کہ شاید میں نے سوال کو آچھی طرح سمجھا نہیں ، اس لئے ھاتھ کھڑا کر دیا ھے ۔ اُنہوں نے دوبارہ پھر اپنا سوال دھرایا ۔ دوبارہ پھر صرف میں نے ھی ھاتھ کھڑا  کیا ۔  اُنہوں نے مجھے جواب دینے کا حکم دیا تو میں نے لفظ “صحابی “ کی تشریح واضح الفاظ میں بیان کر دی ۔ انسپیکٹر صاحب نے کلاس کے دوسرے بچوں کو پوچھا کہ تمہیں اس سوال کا جواب کیوں نہیں آتا۔ بچوں نے جواب دیا کہ ھم نے یہ سوال ابھی تک پڑھا ھی نہیں ۔ پھر مجھے پوچھا کہ تمہیں یہ سب کیسے معلوم ھوا ۔ میں نے عرض کر دیا کہ ھمارے گھر میں اکثر اس طرح کی باتیں ھوتی ھیں اس لئے مجھے اس کا علم  ھے ۔ تو انسپیکٹر صاحب بہت خوش ھوئے اور میری بہت تعریف کی اور مجھے نقد انعام  سے بھی نوازا ، تاھم اب مجھے یہ یاد نہیں کہ اُنہوں نے کتنا انعام دیا تھا ۔ بہرحال  اس واقعہ نے پورے سکول میں میری دھوم مچا دی 

جاری ھے




Share: