فَمَن يُرِدِ اللّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلاَمِ ۔
پس اللہ جس کی ھدایت کا ارادہ کرتاھے تو اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ھے ۔( الانعام )
قلب کا مرکز انسان کا سینہ ھے اور اسکا ذکر کلام الٰٰہی میں کئی مقامات پر کیا گیا ھے ۔حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعامانگی۔ رب اشرح لی صدری ''اے رب میرا سینہ کھول دے ( طہ )رسول للہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے بارے میں بیان کیا گیا۔الم نشرح لک صدرک ۔(النشرح) کیا ھم نے تمھارا سینہ کھول نہیں دیا؟''۔
قلب کا تعلق روح کے ساتھ ھے اور روح امرِ ربی ھے۔جب مرکز یعنی قلب کی معرفت اللہ تعالی کے ساتھ مضبوط ھو جاتی ھے توپھر یہ مرکز یعنی دل نورانی بن جاتا ھے ۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انسانوں کے دلوں کی مختلف اقسام بیان فرمائی ھیں جن میں سے تیراں قسم کے دلوں کا ذکر ذیل میں کیا جائے گا ۔ یہ تیراں قسم کے دل درآصل تیراں قسم کے لوگ ہیں۔ بے شک ہر علم اللہ تعالی کی ذات سے ھی پھوٹتا ہے اور علم کی ہر شاخ انسانی دماغ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے ۔ اور ھمیں اُس علیم اور خبیر ذات کا شکر ادا کرنا چاھیے کہ اس نے ہمیں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے نوازا ھے ۔ اللہ تعالی کی طرف سے تیراں قسم کے دلوں (لوگوں) کی تقسیم ملاحظہ ھو
*1. قلبِ سلیم
اللہ تعالیٰ کی نظر میں انتہائی پسندیدہ دل “قلب سلیم” ہے ' یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو کفر' نفاق اور گندگی سے پاک ہوتے ہیں' قلب سلیم کے مالک لوگ ذہنی اور جسمانی گندگی بھی نہیں پھیلاتے اور یہ خود بھی نفاق اور کفر سے پاک رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی ان سے بچا کر رکھنے کی کوشش کرتے رھتے ہیں' اللہ تعالیٰ کو یہ دل بہت اچھے لگتے ہیں۔ گویا قلبِ سلیم ﻭﻩ ﺧﺎﻟﺺ ﺩﻝ ﮨے ﺟﻮ ﻛﻔﺮ، ﻧﻔﺎﻕ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮨﻮﺗﺎ ھے ۔ ارشادِ باری تعالی ﮨﮯ
اِلَّا مَنْ اَتَى اللّـٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْـمٍ
مگر جو اللہ کے پاس پاک دل لے کر آیا۔ ﺳﻮﺭۂ ﺍﻟﺸﻌﺮﺍﺀ - 89)
*2. قلبِ منیب
ﯾﮧ دوسرا دل “قلب منیب “ ہوتا ہے 'یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو اللہ سے توبہ کرتے رہتے ہیں اور اس کی اطاعت میں مصروف رہتے ھیں ۔ یہ لوگ ھر وقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں گم رہتے ہیں' ان لوگوں کی سب سے بڑی نشانی توبہ ہوتی ہے' یہ اللہ سے ہر وقت معافی اور توبہ کے خواستگار رہتے ہیں' اللہ تعالیٰ منیب لوگوں کو بھی پسند کرتا ہے۔ یعنی یہ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﷲ ﺳﮯ ﺗﻮبہ ﻛﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﻣﻴﮟ ﻟﮕﺎ رھتا ھے ۔ چنانچہ ارشادِ ربانی ھے
مَّنْ خَشِىَ الرَّحْـمٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبٍ (33)
جو کوئی اللہ سے بن دیکھے ڈرا اور رجوع کرنے والا دل لے کر آیا۔
(ﺳﻮﺭۂ ق)
*3. قلبِ مخبت
ﯾﮧ تیسرا دل قلب مخبت ہے ' یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو جھکے ہوئے' مطمئن اور پرسکون ہوتے ہیں' یہ عاجز لوگ زندگی میں ھمیشہ مطمئن اور پرسکون رھتے ھیں گویا زندگی میں اگر سکون اور اطمینان چاہیے تو عاجزی اختیار کر لی جائے ۔ عاجزی وہ واحد عبادت ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا''جو کوئی بھی اللہ کے لیے جھکتا ہے (عاجزی اختیار کرتا ہے) اللہ اس کو بلند کر دیتا ہے ''چنانچہ اللہ تعالیٰ کو مخبت دل بھی پسند ہیں یعنی وہ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺟﻬﻜﺎ ﮨﻮﺍ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﻜﻮﻥ ﻭﺍﻻ ھوتا ھے۔ ارشادِ باری تعالی ﮨﮯ
وَلِيَعْلَمَ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَيُؤْمِنُـوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَـهٝ قُلُوْبُـهُـمْ ۗ وَاِنَّ اللّـٰهَ لَـهَادِ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْـمٍ (54)
اور تاکہ علم والے اسے تیرے رب کی طرف سے حق سمجھ کر ایمان لے آئیں پھر ان کے دل اس کے لیے جھک جائیں، اور بے شک اللہ ایمان داروں کو سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کرنے والا ہے۔ (ﺳﻮﺭۂ ﺍﻟﺤﺞ - 54)
*4. قلبِ وجل
ﯾﮧ چوتھا دل قلب وجل ہے' یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو نیکی کے بعد بھی یہ سوچ کر ڈرتے رہتے ہیں کہ معلوم نہیں اللہ تعالیٰ ہماری یہ نیکی قبول کرے یا نہ کرے' یہ لوگ ہر لمحہ اللہ کے عذاب سے بھی ڈرتے رہتے ہیں' یہ بنیادی طور پر تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں' یہ جانتے ہیں اللہ نے اپنے مقرب بندوں کو بھی غلطیوں کی سزا دی تھی' ہم کس کھیت کی مولی ہیں چنانچہ یہ اپنی بڑی سے بڑی نیکی کو بھی حقیر سمجھتے ہیں' اللہ کو یہ دل بھی پسند ھیں ۔ اللہ تعالی کا فرمان ھے
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ یَبۡتَغُوۡنَ اِلٰی رَبِّہِمُ الۡوَسِیۡلَۃَ اَیُّہُمۡ اَقۡرَبُ وَ یَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَہٗ وَ یَخَافُوۡنَ عَذَابَہٗ ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحۡذُوۡرًا ﴿۵۷﴾
جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں خود وہ اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ نزدیک ہو جائے وہ خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوف زدہ رہتے ہیں ، ( بات بھی یہی ہے ) کہ تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہی ہے ۔ (سورہ بنی اسرائیل)
*5. قلبِ تقی
پانچواں دل قلب تقی ہے' یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کرتے ہیں' ہم میں سے بے شمار ایسے لوگ ہیں جو شعائر خداوندی پر مکمل عمل نہیں کر پاتے تاہم یہ ان شعائر کی عبادت کی طرح تعظیم کرتے ہیں' یہ لوگ اگر کسی مجبوری سے عبادت نہ کر سکیں تو بھی یہ روزہ داروں کے سامنے کھاتے پیتے نہیں ہیں اور یہ نماز اور اذان کے وقت خاموشی اختیار کرتے ہیں' اللہ تعالیٰ کو یہ لوگ بھی پسند ہیں'
ذٰلِكَ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّـٰهِ فَاِنَّـهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ (32)
بات یہی ہے اور جو شخص اللہ کی نامزد چیزوں کی تعظیم کرتا ہے سو یہ دل کی پرہیزگاری ہے (ﺳﻮﺭۂ ﺍﻟﺤﺞ - 32)
*6. قلبِ مھدی
چھٹا دل “قلب مہدی” ہے'یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو اللہ کے فیصلوں پر بھی راضی رہتے ہیں اور یہ اللہ کے احکامات کو بھی بخوشی قبول کر لیتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ھیں جو ہر برے واقعے کے بعد کہتے ہیں جو اللہ کی مرضی' جو اللہ چاہے' اللہ تعالیٰ کو یہ لوگ بھی پسند ہیں' زندگی میں یہ لوگ کبھی خسارے میں نہیں رھتے ' اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کے لیے برائی کے اندر سے اچھائی نکالتا ہے' لوگ ان کے لیے شر کرتے ہیں لیکن اللہ اس شر سے خیر نکال دیتا ہے۔ فرمانِ الہی ھے
مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّـٰهِ ۗ وَمَنْ يُّؤْمِنْ بِاللّـٰهِ يَـهْدِ قَلْبَهٝ ۚ وَاللّـٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِـيْمٌ (11) *
اللہ کے حکم کے بغیر کوئی مصیبت بھی نہیں آتی، اور جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز جاننے والا ہے۔ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟو ﷲ ﻛﮯ ﻓﻴﺼﻠﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻛﮯ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﻛﻮ ﺑﻬﯽ ﺑﺨﻮﺷﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﻛﺮ ﻟﻴﺘﺎ ﮨﮯ(سورۂ تغابن - 11)
*7. قلبِ مطمئنہ
ساتواں دل “قلبِ مطمئنہ” ہے' یہ وہ دل (لوگ) ہوتے ہیں جن کو توحید ، رسالت اور اللہ کے ذکر سے سکون ملتا ہے' قلبِ مطمئنہ بنیادی طور پر صرف اور صرف اللہ تعالی پر یقین رکھتا ہے' یہ دن رات اللہ تعالی کا ذکر (تسبیحات) بھی کرتا رہتا ہے ۔ ذکر اللہ کی تسبیحات کرنے والے بے شمار لوگوں کا مشاھدہ کیا گیا ھے کہ یہ لوگ اپنی زندگی میں واقعی مطمئن اور خوش و خرم رہتے ہیں ۔ ملال اور حزن سے بچنے کے لئے استغفار ، درود شریف اور تیسرا کلمے کی تسبیحات اور روزانہ تلاوتِ قران پاک کا اھتمام اکثیر کا درجہ رکھتے ہیں ۔ اللہ تعالی کو یہ لوگ بھی پسند ہیں ، جیسا کہ قران پاک میں ارشادِ خداوندی ھے
اَلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُـهُـمْ بِذِكْرِ اللّـٰهِ ۗ اَلَا بِذِكْرِ اللّـٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (28)
وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے تسکین ہوتی ہے، خبردار! اللہ کی یاد ہی سے دل تسکین پاتے ہیں۔
(سورہ الرعد)
بہرحال قلبِ مطمئنہ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻛﻮ ﷲ پاک پسند فرماتے ھیں
*8. قلبِ حي
آٹھواں دل “قلبِ حی” ہے ' یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو اللہ تعالی کی نافرمان قوموں کا انجام سن کر ان سے عبرت اور نصیحت حاصل کرتے ہیں' جو لوگ کم تولنے' جھوٹ بولنے' شر پھیلانے' شرک' کفر اور تکبر کرنے' برائی کی ترویج کرنے اور بچوں' عورتوں اور جانوروں پر ظلم کرنے والوں کا انجام سن اور دیکھ کر توبہ کر لیتے ہیں اور اپنی زندگیوں کو ان گناہوں سے پاک کر لیتے ہیں اللہ تعالی کی نظر میں وہ لوگ “قلب حی “ والے ہوتے ہیں اور اللہ انھیں بھی پسند کرتا ہے۔چبانچہ ارشادِ ربانی ھے
اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَـذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَـهٝ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيْدٌ (37)
بے شک اس میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جس کے پاس (فہیم) دل ہو یا وہ متوجہ ہو کر (بات کی طرف) کان ہی لگا دیتا ہو۔ ﺳﻮﺭۂ ﻕ - 37)
*9. قلبِ مریض
نواں دل “قلبِ مریض” ہے یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو شک' نفاق' بداخلاقی' ہوس ، بددیانتی اور لالچ کا شکار ہوتے ہیں' یہ لوگ لالچ' ہوس' بداخلاقی' بددیانتی ، نفاق اور شک کو اپنی عادتیں بنا لیتے ہیں اس طرح یہ اپنے آپ کو بہت بڑی روحانی اور دماغی بیماریاں چمٹا لیتے ہیں اور بدقسمتی سے جو لوگ ان بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں وہ بہت اذیت ناک زندگی گزارتے ہیں ۔ یہ لوگ اگر اربوں بلکہ کھربوں کے بھی مالک بن جائیں تب بھی دلی سکون کی دولت سے محروم ھی رھتے ھیں ۔ اللہ تعالی کے نزدیک یہ لوگ روحانی طور پر ھدایت کی روشنی سے محروم اور دلوں کے مریض ھوتے ھیں ۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ھے کہ جو لوگ اپنی زندگی میں شک و نفاق وغیرہ کا مرض پال لیتے ھیں وہ کھبی بھی اپنی زندگی کو خوشگوار نہیں بنا سکتے ۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالی ھے
مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَا يُبْصِرُونَ
ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے (شب تاریک میں) آگ جلائی، جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان لوگوں کی روشنی زائل کر دی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا (سورہ البقرہ)
بہرحال “ قلبِ مریض “ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺷﮏ، ﻧﻔﺎﻕ، ﺑﺪﺍﺧﻼﻗﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺱ ﻭ ﻻﻟﭻ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ رھتا ھے اور خود اپنی زندگی تو اذیت سے گزارتا ھی ھے اور یہ دوسروں کے لئے بلکہ بعض اوقات اپنے ھی اھلِ خانہ کے لئے بھی اذیت کا باعث بنا رھتا ھے
*10. قلبِ اعمی
دسواں دل “قلب الاعمی “ ہے' یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں' ان لوگوں میں انتہا درجہ کی بے حسی پائی جاتی ھے ۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ اندھے اور بہرے لوگ ھیں اسی لئے مومنوں کو حکم یہ ھے کہ تم بس انھیں سلام کرو اور آگے نکل جاؤ ۔ تو “قلبِ الاعمی” ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ نہ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ بلکہ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺳﮯ بالکل ﻋﺎﺭﯼ ﮨﮯ، ﺣﺘٰﯽ ﮐﮧ روحانی طور پر ﺍﻧﺪﮬﺎ ﮨﮯ۔ قران پاک نے اس کا نقشہ کچھ یوں کھینچا ھے
اَفَلَمْ يَسِيْـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَتَكُـوْنَ لَـهُـمْ قُلُوْبٌ يَّعْقِلُوْنَ بِهَآ اَوْ اٰذَانٌ يَّسْـمَعُوْنَ بِـهَا ۖ فَاِنَّـهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِىْ فِى الصُّدُوْرِ (46)
کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی پھر ان کے اَیسے دل ہوجاتے جن سے سمجھتے یا ایسے کان ہو جاتے جن سے سنتے، پس تحقیق بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں اندھے ہو جاتے ھیں ۔ ( سورہ الحج )
*11. قلبِ ﺍﻟﻼﻫﻰ
گیارہواں دل “قلب اللاھی “ ہے' یہ وہ دل ہے جو ھر وقت قرآن پاک سے غافل رھتا ھے اور بس دنیا کو ھی سب کچھ سمجھتا ھے دین کی باتیں یا قران پاک سیکھنے کے لئے اس کے پاس وقت ھی نہیں ھے کیونکہ دین کی اس کے نزدیک (نعوذ باللہ) کوئی حیثیت نہیں ھے اور یہ بس دن رات دنیا کے پیچھے بھاگتا رھتا ھے اور دنیا کی رنگینیوں ھی میں مگن رھتا ہے ۔ اللہ تعالی اس طرح کے غافل لوگوں کو بھی پسند نہیں فرماتے اور یہ بھی بالآخر عبرت کا نشان بن جاتے ہیں ۔ ارشادِ باری تعالی ھے
لَاهِيَةً قُلُوْبُـهُـمْ ۗ وَاَسَرُّوا النَّجْوَى الَّـذِيْنَ ظَلَمُوْا هَلْ هٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۖ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُـمْ تُبْصِرُوْنَ (3)
ان کے دل کھیل میں لگے ہوئے ہیں، اور ظالم پوشیدہ سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ تمہاری طرح ایک انسان ہی تو ہے، پھر کیا تم دیدہ دانستہ جادو کی باتیں سنتے جاتے ہو۔
(ﺳﻮﺭۂ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎﺀ - 3)
*12. قلبِ ﺍﻵﺛﻢ
بارہواں دل “قلب ا لآثم “ہے یہ وہ (دل) لوگ ہیں جو حق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ھیں اور گواہی کو جان بوجھ کر چھپاتے ہیں۔ اگر ھم تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ھوتا ھے کہ ماضی میں گواہی چھپانے اور حق پر پردہ ڈالنے والے معاشرے اور لوگ تباہ و برباد ھو گئے ۔ اللہ کو یہ لوگ بھی پسند نہیں ھیں ۔ چنانچہ ارشاد ربانی ھے
ۗ وَلَا تَكْـتُمُوا الشَّهَادَةَ ۚ وَمَنْ يَّكْـتُمْهَا فَاِنَّهٝٓ اٰثِـمٌ قَـلْبُهٝ ۗ وَاللّـٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِـيْمٌ (283)
اور گواہی کو نہ چھپاؤ، اور جو شخص اسے چھپائے گا تو بے شک اس کا دل گناہگار ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ خوب جانتا ہے۔ (سورہ البقرہ)
سو “ قلب الآثم “ ﻭﮦ مبغوض ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺣﻖ ﭘﺮ ﭘﺮﺩﮦ ﮈﺍﻝ کر ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ کو ﭼﮭﭙﺎﺗﺎ ﮨﮯ
*13. قلبِ متکبر
ﯾﮧ تیرہواں دل “ متکبر” ھوتا ہے' اس دل کے لوگ تکبر اور سرکشی میں مبتلا رھتے ہیں یہاں تک کہ یہ اپنی دین داری کو بھی گھمنڈ بنا لیتے ہیں یوں یہ ظلم اور جارحیت کا شکار ہو جاتے ہیں' کبر اللہ کا وصف ہے' اللہ یہ وصف کسی انسان کے پاس برداشت نہیں کرتا چنانچہ معاشرہ ہو' ملک ہو یا پھر لوگ ہوں تاریخ گواہ ہے یہ فرعون اور نمرود کی طرح عبرت کا نشان بن جاتے ہیں' دنیا میں آج تک کسی مغرور شخص کو کھبی عزت نصیب نہیں ہوئی' وہ آخرکار رسوائی اور ذلت تک پہنچ کر ھی رہا' اللہ کو یہ دل بالکل پسند نہیں۔ یہﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ جو ﻇﻠﻢ ﻭ ﺟﺎﺭﺣﯿﺖ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﮨﻮﮐﺮ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ھے۔ ارشاِ باری تعالی ھے
اَلَّـذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِىٓ اٰيَاتِ اللّـٰهِ بِغَيْـرِ سُلْطَانٍ اَتَاهُـمْ ۖ كَبُـرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّـٰهِ وَعِنْدَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا ۚ كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّـٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَـبِّـرٍ جَبَّارٍ (35)
جو لوگ اللہ کی آیتوں میں کسی دلیل کے سوا جو ان کے پاس پہنچی ہو جھگڑتے ہیں، اللہ اور ایمان والوں کے نزدیک (یہ) بڑی نازیبا بات ہے، اللہ ہر ایک متکبر سرکش کے دل پر اسی طرح مہر کر دیا کرتا ہے (ﺳﻮﺭۂ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ - 35)
ھمیں ان تیرہ دلوں کو سامنے رکھ کر اپنے سینے کو ٹٹول کر دیکھنا چاھیے کہ ھمارا دل کس کٹیگری میں ھے صورت حال خود بخود کھل کر سامنے آجائے گی ۔ اگر خدانخواستہ ھمارا دل اُن کٹیگریز میں ہے جنہیں اللہ پاک ناپسند فرماتے ھیں تو ھمیں فوری طور پر سچی توبہ کرنی چاھیے اور اچھے دل کی طرف لوٹ جانا چاھیے ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ اپنے کرم اور فضل کے دروازے کھول دے گا' یہ یقینی بات ھے کہ اللہ کے سوا اس دنیا میں کوئی طاقت نہیں۔ یہ طاقت اگر ھمارے ساتھ ہے تو پھر ھمارا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اگر خدانخواستہ اس عظیم طاقت کاساتھ نصیب نہیں ھے تو پھر ھمیں کوئی بھی نہیں بچا سکتا' ۔