قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں) اور حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کا ظہور

 اسلامی تعلیمات کے مطابق قیامت کے آنے کا قطعی وقت صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے، لیکن احادیثِ نبوی ﷺ میں اس کی بے شمار نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ ان نشانیوں کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: 

علاماتِ صغریٰ (چھوٹی نشانیاں) 

 علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)


 علاماتِ صغریٰ (چھوٹی نشانیاں) : 

یہ وہ نشانیاں ہیں جو رسول کریم ﷺ کی ولادت سے ظاہر ہو رہی ہیں اور امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور تک رونما ہوں گی۔ ان میں درج ذیل  نشانیاں شامل ہیں:

دین اور علمِ دین کا اٹھ جانا اور جہالت کا عام ہونا۔ نااہل لوگوں کو اہم عہدے سونپے جانا۔ قتل و غارت گری کی کثرت۔ زنا، جوا اور شراب نوشی کا کھلے عام رواج۔ عورتوں کی تعداد کا مردوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو جانا۔ مال کی فراوانی، سود کا عام ہونا اور وقت میں برکت کا نہ رہنا۔اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں لوگوں کا مقابلہ کرنا۔ والدین کی نافرمانی اور اولاد کا اپنے ماں باپ کے ساتھ نوکروں جیسا برتاؤ کرنا  وغیرہ


علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں) ؛ 

یہ وہ دس بڑی اور غیر معمولی نشانیاں ہیں جو حضرت امام مہدی علیہ الرضوان  کا ظہور سے شروع ھوں گی اور ایک تسلسل کے ساتھ  ظاہر ہوں گی اور ان کے بعد فوراً قیامت واقع ہو جائے گی۔

حضرت امام مہدی  علیہ الرضوان کا ظہور

قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سب سے پہلی علامت حضرت امام مہدی علیہ الرضوان  کا ظہور ہے، احادیث مبارکہ میں حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کا ذکر بڑی تفصیل سے آیا ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان ، حضرت سیّدہ فاطمة الزھراء رضی اللہ عنہا کی اولاد میں  سے ہوں گے، ان کا  اسم گرامی محمد، والد گرامی کا نام عبداللہ ہوگا،  ان کا تعلق قبیلۂ قریش سے ھو گا ۔ رسول کریم   ﷺ سے بہت مشابہت رکھتے ھوں گے ، پیشانی کھلی اور ناک بلند ہوگی، زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں گے، پہلے ان کی حکومت عرب میں ہوگی پھر ساری دنیا میں پھیل جائے گی، سات سال حکومت کریں گے۔ مہدی لغتِ عربی  میں ہدایت یافتہ کو کہتے ہیں، ہر صحیح الاعتقاد اور باعمل عالم دین کو مہدی کہا جاسکتا ہے، بلکہ ہر راسخ العقیدہ نیک مسلمان کو بھی مہدی کہا جاسکتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی ہادی اور مہدی ہونے کی دُعا دی تھی اس سے بھی یہی لغوی معنی مراد ہے لیکن  یہاں مہدی سے مراد عظیم شخصیت حضرت امام مہدی علیہ الرضوان ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے۔ 

 امام مہدی علیہ الرضوان مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے، آخری زمانے میں جب مسلمان ہر طرف سے مغلوب ہوجائیں گے، مسلسل جنگیں ہوں گی، شام میں بھی عیسائیوں کی حکومت قائم ہوجائے گی، ہر جگہ کفار کے مظالم بڑھ جائیں گے، عرب میں بھی مسلمانوں کی باقاعدہ پُرشوکت حکومت نہیں رہے گی، خبیر کے قریب تک عیسائی پہنچ جائیں گے، اور اس جگہ تک ان کی حکومت قائم ہوجائے گی، بچے کھچے مسلمان مدینہ منورہ پہنچ جائیں گے، اس وقت حضرت امام مہدی علیہ الرضوان مدینہ منورہ میں ہوں گے، لوگوں کے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوگا کہ اب امام مہدی علیہ الرضوان کو تلاش کرنا چاہئے، ان کے ہاتھ پر بیعت کرکے ان کو امام بنالینا چاہئے، اس زمانے کے علماء کرام ، نیک لوگ، اولیاء اللہ اور اَبدال سب ہی امام مہدی علیہ الرضوان کی تلاش میں ہوں گے، بعض جھوٹے مہدی بھی پیدا ہوجائیں گے، امام مہدی علیہ الرضوان اس ڈر سے کہ لوگ انہیں حاکم اور امام نہ بنالیں، مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ آجائیں گے، اور بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے ہوں گے کہ حجر اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان علماء کی ایک جماعت انہیں پہچان لے گی اور لوگ ان سے حاکم اور امام ہونے کی بیعت کرلیں گے، اسی بیعت کے دوران ایک آواز آسمان سے آئے گی جس کو تمام لوگ جو وہاں موجود ہوں گے سنیں گے، وہ آواز یہ ہوگی: ”یہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ اور حاکم بنائے ہوئے امام مہدی علیہ الرضوان ہیں“ جب آپ کی بیعت کی شہرت ہوگی تو مدینہ منورہ کی فوجیں مکہ مکرمہ میں جمع ہوجائیں گی، شام، عراق اور یمن کے اہل اللہ سب آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور بیعت کریں گے۔ 

ان کی بیعت کے بعد مخالفین کی ایک فوج حضرت امام مہدی علیہ الرضوان سے لڑنے کے لئے آئے گی، جب وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان(  مقام بیداء  ) ایک جنگل میں پہنچے گی اور ایک پہاڑ کے نیچے ٹھہرے گی تو سوائے دو آدمیوں کے سب کے سب زمین میں دھنس جائیں گے، امام مہدی علیہ الرضوان مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئیں گے، رسول اللہ  کے روضہٴ مبارک کی زیارت کریں گے، پھر شام روانہ ہوں گے، دمشق پہنچ کر عیسائیوں سے ایک خونریز جنگ ہوگی جس میں بہت سے مسلمان شہید ہوجائیں گے، بالآخر مسلمانوں کو فتح ہوگی، امام مہدی علیہ الرضوان ملک کا انتظام سنبھال کر قسطنطنیہ فتح کرنے کے لئے عازمِ سفر ہوں گے۔ قسطنطنیہ فتح کرکے امام مہدی علیہ الرضوان شام کے لئے روانہ ہوں گے، شام پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد دجال نکل پڑے گا، دجال شام اور عراق کے درمیان میں سے نکلے گا اور گھومتا گھماتا دمشق کے قریب پہنچ جائے گا، عصر کی نماز کے وقت لوگ نماز کی تیاری میں مصروف ہوں گے کہ اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمان سے اُترتے ہوئے نظر آئیں گے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے اور پھر دجال کے قتل کے لئے خروج کریں گے ۔  دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر بھاگے گا، بالآخر بابِ لُدّ پر پہنچ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کا کام تمام کردیں گے، 

مسلمان کافروں کو چن چن کر قتل کریں گے یہاں تک کہ اس وقت رُوئے زمین پر کوئی کافر نہیں رہے گا، سب مسلمان ہوں گے، حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کی عمر پینتالیس، اڑتالیس یا انچاس برس ہوگی کہ آپ کا انتقال ہوجائے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی نماز جنازہ پڑھائیں گے، آپ کا انتقال بیت المقدس میں  ہوگا اور وہیں آپ دفن ہوں گے۔

Share: