عدن سے نکلنے والی آگ ۔ قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)


 علاماتِ کبری کی آخری نشانی

قربِ قیامت میں یمن سے ایک بہت بڑی آگ نکلے گی ۔ عدن سے نکلنے والی آگ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے احادیث مبارکہ  کے مطابق، یمن کے شہر عدن کی گہرائیوں سے ایک عظیم الشان آگ نمودار ہوگی جو لوگوں کو ہانک کر حشر کے میدان کی طرف (ملکِ شام) لے جائے گی۔ اس آگ کی نمایاں تفصیلات اسلامی روایات میں یوں ملتی ہیں کہ  یہ آگ لوگوں کے ساتھ ساتھ چلے گی۔ دن کو آرام (قیلولہ) کرنے کی جگہ پر یہ بھی رکے گی اور رات کو قیام کرنے کی جگہ پر بھی ان کے ساتھ ٹھہرے گی ۔ یہ آگ دنیاوی نظام کے اختتام اور آخرت کی ابتدا کا گویا ایک مقدمہ ھو گا ۔ یہ وہ آگ ہے جو عدن سے نکلے گی اور لوگوں کو ھانک کر محشر کی طرف لے جائے گی؛ یعنی لوگوں کو مجبور کرے گی کہ وہ بلادِ شام کی طرف، جو ارضِ محشر ہے، روانہ ہوں۔ یہ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سب سے آخری نشانی ھو گی گویا  یہ دنیا کے اختتام اور آخرت کی ابتدا کا اعلان  ھو گا 

یہ واضح رھے کہ یہ آگ لوگوں کو جلانے کے لیے نہیں ہوگی، بلکہ جہاں لوگ ٹھہریں گے یہ آگ بھی وھاں رک جائے گی اور جب وہ چلیں گے تو یہ بھی ان کے پیچھے چلے گی۔  یہ آگ لوگوں کے عذاب کے لئے نہیں، بلکہ صرف لوگوں کو ارضِ محشر تک پہنچانے کے لیے ہوگی۔

حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں: "نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: تم کیا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے کہا: ہم قیامت کا ذکر کرتے ہیں۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: وہ اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو: دھواں ، دجال ، دابۃ الارض ، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ، عیسیٰ ابن مریم کا نزول ، یاجوج ماجوج اور تین خسوف: ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۂ عرب میں اور ان سب کے آخر میں ایک آگ عدن کی طرف سے نکلے گی جو لوگوں کو ان کے محشر کی طرف ہانک دے گی۔"

حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُما بیان کرتے ہیں: "نبی  کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: قیامت سے پہلے حضرموت کے سمندر یا حضرموت سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو جمع کر کے لے جائے گی۔ صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ ہمیں کس جگہ جانے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرمایا: شام کی طرف۔

نبی  کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: "ایک آگ اہلِ مشرق پر مسلط کی جائے گی جو انھیں مغرب کی طرف ہانک لے جائے گی۔ وہ ان کے ساتھ رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے، دن میں ان کے ساتھ قیام کرے گی جہاں وہ قیام کریں گے، جو چیز ان سے گر جائے گی وہ اسے اٹھا لے گی اور انھیں ایسے ہانکے گی جیسے ٹوٹا ہوا اونٹ ہانکا جاتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: "لوگ تین طرح پر جمع کیے جائیں گے: کچھ لوگ خوش دلی اور شوق سے، کچھ لوگ خوف اور دباؤ سے، دو آدمی ایک اونٹ پر، تین ایک اونٹ پر، چار ایک اونٹ پر اور دس ایک اونٹ پر اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی، وہ جہاں قیام کریں گے آگ بھی قیام کرے گی، جہاں رات گزاریں گے آگ بھی ان کے ساتھ رات گزارے گی، جہاں صبح کریں گے آگ بھی صبح کرے گی اور جہاں شام کریں گے آگ بھی ان کے ساتھ شام کرے گی۔

حضرت ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں: "مجھے صادق و مصدوق نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بتایا کہ لوگ تین گروہوں میں جمع کیے جائیں گے: ایک گروہ جو کھاتا پیتا، لباس پہنے اور سواری پر ہوگا؛ دوسرا گروہ جو پیدل چلے گا اور دوڑے گا؛ اور تیسرا گروہ جسے فرشتے گھسیٹ کر ان کے چہروں کے بل آگ کی طرف لے جائیں گے۔ ہم نے کہا: اے ابو زر! ان میں سے پہلے دو گروہوں کو تو ہم نے سمجھ لیا، لیکن جو لوگ پیدل چلیں گے اور دوڑیں گے ان کا حال کیا ہوگا؟ ابو زر نے کہا: اللہ تعالیٰ زمین کے جانوروں پر آفت نازل کرے گا یہاں تک کہ سواری کے لیے کوئی جانور باقی نہ رہے۔

سر زمین حجاز سے  654 ہجری میں ایک آگ نکلی تھی جس کا آغاز ایک زلزلے سے ہوا تھا۔ اس آگ کے شعلے بلند ہوئے تھے اور پھر وہ خود بخود ختم ہوگئی تھی ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ وہی آگ تھی جو حشر کے لیے لوگوں کو ہانک لے جائے گی لیکن یہ بات درست نہیں ھے کیونکہ حدیث سے ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہوتی کہ یہ حشر کی آگ ہے بلکہ یہ ایک الگ سے آگ تھی جس کا ذکر بھی روایات میں آیا ھے ۔ رھی یمن سے نکلنے والی آگ تو  اس آگ  سے مراد قیامت کی ایک بڑی نشانی ہے جو قرب قیامت میں نمودار ھو گی اور یہ آگ لوگوں کو ہانک کر محشر کی طرف لےجائے گی، اس کے فوراً بعد قیامت آجائے گی جیسا کہ دوسری احادیث مبارکہ میں اس کا ذکر ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نےفرمایا: ”لوگوں کو آگ ھانک کر لے جائے گی اور وہ دن رات ان کے ساتھ رہے گی۔ “  (صحیح البخاري )

روایات کے مطابق  قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے آخری علامت  یمن سے آگ کا نکلنا ہے، اس وقت دنیا میں حالات کچھ اس طرح ھوں گے کہ  قیامت کا صور پھونکے جانے سے پہلے زمین پر بت پرستی اور کفر پھیل جائے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے شام میں جمع ہونے کے اسباب پیدا ہوں گے، شام میں حالات اچھے ہوں گے، لوگ وہاں کا رخ کریں گے، پھر یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ارضِ محشر یعنی شام کی طرف ہانکے گی، جب سب لوگ ملک شام میں پہنچ جائیں گے تو یہ آگ غائب ہوجائے گی، اس کے بعد عیش و آرام کا زمانہ آئے گا، لوگ مزے سے زندگی بسر کر رہے ہوں گے، کچھ عرصہ اسی حالت میں گزرے گا کہ اچانک صور پھونکا جائے گا اور قیامت قائم ہوجائے گی


Share: